ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعہ، 24 جون، 2016

ہوا کو کیا کبھی تم نے سرگوشیاں کرتے سُنا ہے / انور زاہدی

انور زاہدی
ہوا کو کیا کبھی تم نے
اگر گالوں یا زُلفوں کو 
وہ چھیڑے
کبھی سرگوشیاں کرتے سُنا ہے
ہوا نے کیا کبھی تم سے کہا ہے
تُمہیں میں کیسی لگتی ہون ؟
یا تم نے اس ہوا کو 
بازووں میں کب لیا ہے ؟
کبھی خُوشبو تمہارے سانس 
بس کر یہ بولی
مجھے بتلاو میں لگتی ہوں کیسی ؟
یا تم نے اس مہک کو 
چُوم کے دیکھا خوشی سے
اور کہا پھر پیارسے اُس سے
میں تم سے پیار کرتی ہوں
کبھی کمرے میں در آ تی
صبحدم اطلسی سورج کی کرنوں
نے تمہارے خوابگیں چہرے کو
ہلکے سے جگا کے تم سے پوچھا
یا کہا تم سے
ہمیں تم چاہتی ہو ؟
کبھی بارش کے جھونکے نے 
بھگو کے تم کو چُپکے سے 
بھلا یہ کب کہا تم سے 
ہمیں تم اچھی لگتی ہو
ہوا' خُوشبو' کرن 
بارش کی بوندیں
کبھی دن میں 
کبھی شب میں
ہمیں اکثر ہی ملتی ہیں
مگر چُپ چاپ رہتی ہیں
بسس اپنا راگ گاتی ہیں
محبت کی طرح'
گُونگے کا گُڑ ہے جو
نہیں طوفان سے کچھ کم
بہت سرشار کرتا ہے
درون جسم اک ہلچل مچاتا ہے 
دھڑکتا ہے یہ دل بن کے
لہو کی شکل میں یہ 
نوک پا سے سر تلک 
بس موجزن رہتا ہے
مگر یہ کہہ نہیں سکتا
کہ گُڑ میٹھا ہے کتنا۔۔۔۔ ؟
ذائقہ کیا ہے ۔۔۔؟
انور زاہدی

سوزنِ عشق مرے دل میں چبھی ہے اصغر /معرفت اوجِ ثریا کی بلندی پر ہے /علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
خامہ کش کون یہاں وقت کی تختی پر ہے
ہر نوشتہ ہی ابھر آتا ہتھیلی پر ہے
دست کش ہوکے رہا رات سے سورج دن بھر
شام ہوتے ہی شبِ تار کی سولی پر ہے
کون دریوزہ گرِ حسن کا کشکول بھرے
درد نے دل ہے دھرا دستِ سوالی پر ہے
زود رنجی میں چلا آیا ہے بارش لے کر
ایک بادل جو فلک پوش پہاڑی پر ہے
بارِ تبریکِ صبا مشتِ حنا رنگ کھلی
اور اب قوسِ قزح آنکھ کی پتلی پر ہے
ایک نظارہ تہہ آبِ رواں دید طلب
اک پرے باندھے سمندر ،کہ جوانی پر ہے
خود پرستی میں گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا
کوئی اک دیپ بہانے کھڑا ندی پر ہے
کون زنجیرِ جنوں باندھ کے ہے رقص کناں
دشت پورا ہی نظر آتا جو مستی پر ہے
سوزنِ عشق مرے دل میں چبھی ہے اصغر
معرفت اوجِ ثریا کی بلندی پر ہے
علی اصغر عباس

بدھ، 22 جون، 2016

بارشوں کے موسم میں / ڈاکٹر سعادت سعید

ڈاکٹر سعادت سعید
بارشوں کے موسم میں 
دل کے مرغزاروں میں 
ناگہاں مسرت کی کوکتی ہے خاموشی 
پُرہجوم رستوں کی بھیگی ابتری مجھ کو 
مشکبار لمحوں کی داستاں سناتی ہے 
کوہسار دھلتے ہیں 
سبزہ زار دھلتے ہیں 
آبشار گاتے ہیں اختلاط کے نغمے 
بے لباس پیڑوں کی کپکپاتی بانہوں میں 
ابر پوش مدہوشی سرسراتی رہتی ہے 
شاخسار دھلتے ہیں 
پا کے بند میخانے بادہ خوار رُلتے ہیں 
جب مجھے بھگوتی ہیں 
آئینہ صفت بوندیں 
میری سوئی رعنائی 
جاگ جاگ اٹھتی ہے 
بے نظیر فطرت کے خوشنما گہر ہر سو 
جگمگاتے رہتے ہیں 
حاسدوں کے سب ٹولے 
میری مسکراہٹ پر عرق ریز ہوتے ہیں!
بارشوں کے موسم میں 
چائے خانوں میں اکثر 
دھوم دھام ہوتی ہے 
الجھنوں کے افسوں گر 
نفسیاتی حربوں سے 
بے کلی جگاتے ہیں 
عیش کام پریوں کو 
آئینے دکھاتے ہیں 
خوفِ عاقبت کے دیو 
خوش خرام گھڑیوں کو 
انتباہ کرتے ہیں 
انبساط ِپیہم کو 
داد خواہ کرتے ہیں

منگل، 21 جون، 2016

غاروں سے اٹھ کے آگئے پتھر مزاج لوگ /جنگل اگا رہے ہیں وہ بنجر مزاج لوگ/احمد رضا راجا

احمد رضا راجا
غاروں سے اٹھ کے آگئے پتھر مزاج لوگ
جنگل اگا رہے ہیں وہ بنجر مزاج لوگ
ہر سو اڑے گی ریگ ِ فنا رنگ شہر میں
بھیجے ہیں دشت ِ ظلم نے صر صر مزاج لوگ
جو بھی چٹان سجدے میں ان کو دکھائی دی
اس پر خدا تراشیں گے آذر مزاج لوگ
کب سے جمی ہے برف سی قسمت پہ وقت کی
ہم سرد بخت لوگ دسمبر مزاج لوگ
اب تو بجھے پڑے ہیں کسی خاک دان میں
دمکے تھے شہر ِ دل میں جو اختر مزاج لوگ
راجا مرے وطن میں سیاست کے نام پر
کرتب دکھانے لگتے ہیں جوکر مزاج لوگ

منگل، 14 جون، 2016

یہاں پھر کون ، کس کو یاد رکھتا ہے سدا ،حامدؔ /جدا ہوتے ہی لہروں کو کنارے بھول جاتے ہیں/ حامد یزدانی

حامد یزدانی
ذرا سے پر نکلتے ہی پرندے بھول جاتے ہیں
انہیں کس ماں نے پالا تھا یہ بچے بھول جاتے ہیں
فقط بوڑھی ہَوا کو یاد رکھنے کی ہے عادت سی
یہاں سے کون گزرا تھا؟ یہ رستے بھول جاتے ہیں
یہ چہرے ہیں کہ ہیں کچے سبق پہلی جماعت کے!
ذرا سی دیر میں سارے کے سارے بھول جاتے ہیں
نہ گزرے گا کوئی بھی قافلہ اس دشت سے لیکن
دِیا سا دل کے کونے میں جلا کے بھول جاتے ہیں
یہاں پھر کون ، کس کو یاد رکھتا ہے سدا ،حامدؔ
جدا ہوتے ہی لہروں کو کنارے بھول جاتے ہیں

ہفتہ، 4 جون، 2016

رب نے یہ حرف و ظرف کیے تھے تمہیں عطا /اِ ترَا گئے غز ل سر ِ ا خبا ر د یکھ کر/ سید انور جاوید ہاشمی

سید انور جاوید ہاشمی
یہ کیا ہو ا کہ فن کے خر ید ا ر د یکھ کر
تم بھی اِ د ھر کو آ گئے با ز ا ر د یکھ کر
رب نے یہ حرف و ظرف کیے تھے تمہیں عطا
اِ ترَا گئے غز ل سر ِ ا خبا ر د یکھ کر
ا ب د و ستو ں کی سمت اُ ٹھا تے نہیں نظَر
سینہ کُشا د ہ کر تے تھے ا غیا ر د یکھ کر
کیا کَج کُلا ہیو ں پہ نہیں نا ز ا ب تمھیں
سَر کج کرو گے بز م میں د ستا ر د یکھ کر
گو شہ نشینی بن گئی ا لز ا م کس لیے
مسنَد نشین بن گئے د ر با ر د یکھ کر

.....................................................
سیؔد انور جاوید ہاشمی،گلشن معمار کراچی

بدھ، 1 جون، 2016

خالی ہُوا گلاس نشہ سَر میں آگیا / دریا اُتر گیا تو سمندر میں آگیا/ افضال نوید

افضال نوید

خالی ہُوا گلاس نشہ سَر میں آگیا 
دریا اُتر گیا تو سمندر میں آگیا
یکجائی کا طلِسم رہا طاری ٹُوٹ کر
وہ سامنے سے ہٹ کے برابر میں آگیا
جا کر جہاں پہ رکھّا تھا ہونا کِیا درُست
اِتنا سا کام کر کے مَیں پل بھر میں آگیا
لیکن بڑائی کا کوئی احساس کب رہا
چکر تھا دنیاداری کا چکر میں آ گیا
آ جا کے مُنحصِر رہا نِگرانی پر تمام
اکثر سے جا رہا کبھی اکثر میں آگیا
یک گوشۂِ وجُود میں رکھّا قیام کُچھ 
باہر بڑا فساد تھا سو گھر میں آگیا
ٹُوٹا کہیں سے اور گِرا صِحن میں مِرے 
سارا پرِندہ یُوں لگا اُس پر میں آگیا 
آواز دُوں گا ساتھ مِرے آ سکو تو آؤ 
تھوڑا جو اور حالتِ بہتر میں آگیا 
دُنیا کے خواب دیکھتے گُذرا تمام روز
اُٹھتے ہی خوابِ اصل سے دفتر میں آگیا 
جاگُوں گا جب صدائے اَلُوہی سُنُوں گا کُچھ 
جانُوں گا جب پرندہ صنوبر میں آگیا 
شاید نظارے کی یہی بے ہیئتی رہی
منظر سے جانے پر کوئی منظر میں آگیا 
ہِلنا پڑے نہ تاکہ کسی رنج پر مجھے
سارے کا سارا میں کسی پتھر میں آ گیا
خود کو قیام کرنے پہ ترغیب دوں گا مَیں
کوئی جو اسمِ کُل مرے منتر میں آ گیا
بے مرتبہ بھی سانس کا لینا گراں نہ تھا
تقدیس کا خیال مقدّر میں آ گیا
بازار میں نگاہ نہ دل پر پڑی تری
نایاب جنسِ دہر تھا وافر میں آ گیا
سیّارگاں تو اپنی روِش پر تھے گامزن
لیکِن نوید تُو کہاں چکّر میں آگیا