ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

بدھ، 25 مئی، 2016

جو بے اسباب تھے تکتے ہیں مُنہ اک دوسرے کا / جو با اسباب تھے آگے گزرتے جا رہے ہیں / اعجاز گل

اعجاز گل
تماشا ایک سا ہر روز کرتے جا رہے ہیں
غبارہ عمر کا سانسوں سے بھرتے جا رہے ہیں
ضروری کام ٹلتا جا رہا ہے آج کل پر
کفِ افسوس مَلتے دن گزرتے جا رہے ہیں
بسائیں گے نگر پانی پہ نو زائیدگاں کل
علاقے خاک کے انساں سے بھرتے جا رہے ہیں
مقدّر ساعتِ نا سعد سے ٹکرا رہا ہے
ستارے اپنے گردش سے بکھرتے جا رہے ہیں
کھڑے ہیں آئینے سے دُور بے نقش و نگاراں
جنہیں حاصل قد و قامت سنورتے جا رہے ہیں
جو چہرے تھے عزیز از جان سب دوری کے باعث
نگاہ و دل کے منظر سے اترتے جا رہے ہیں
میں اونچائی پہ چڑھتا جا رہا ہوں بے خبر سا
کہ زینے واپسی سے اب مکرتے جا رہے ہیں
کئے جاتا ہے سایا روشنی کا بھی ہراساں 
مسافر اپنی آہٹ سے بھی ڈرتے جا رہے ہیں
جو بے اسباب تھے تکتے ہیں مُنہ اک دوسرے کا
جو با اسباب تھے آگے گزرتے جا رہے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں