ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

بدھ، 11 مئی، 2016

آج اردو نظم کے رحجان ساز شاعرمجید امجد کی بیالیسویں برسی ہے


اردو نظم کا رحجان ساز شاعر۔ مجید امجد


مجید امجد جدید اردو نظم کے اہم ترین شاعر ہیں جنہوں نے اردو نظم کو نیا آہنگ عطا کیا ہے۔ ان کا اسلوب اپنی تمام تر معنوی، علامتی اور استعاراتی وسعتوں کے باوجود لفظ کی اکائی سے شروع ہوتا ہے اور اپنے اظہارسے معنوی وجود رکھتا ہے۔
مجید امجد کے اظہار کے انداز میں ایک تحریک نمایاں ہے۔ اس تحرک سے  لفظ کی تصویر ساکن تصور سے متحرک تصویر میں تبدیل ہوتی جاتی ہے۔ مجید امجد کا اسلوب انہیں کیفیات کی تفصیلی تصویر کشی اور اس کی شدت کے اظہاریہ پر مجبور کرتا ہے۔



مجید امجد کی نظم ”جن لفظوں میں“ ایک جانب ان کے اسلوب کا نمونہ ہے تو دوسری جانب بے حس معاشرے کی تصویر کشی ہے۔
مجید امجد کو دنیا کی بے ثباتی، لوگوں خاص طور پر اپنے اردگرد پھیلے علم و فن کے داعی حضرات کی بے حسی کا بڑی شدت سے احساس تھا۔ وہ خود کہتے ہیں:
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گذروں گا، کون دیکھے گا
مجیدامجد کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف دنیا نے اب کرنا شروع کیا ہے جبکہ مجید امجد نے خود کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب یہ دنیا میرے خیالات کو پوجے گی۔
 وہ کہتے ہیں۔
اور اب، یہ اک سنبھلا سنبھلا، تھکا تھکا سا شخص
اب بھی جس کے جھریوں والے چہرے پر اک
پیلی سوچ کا بچپن ہے
ساری عمر اس کی
ابھی اس اک دھن کو بڑھاوا دینے میں گذری
مگن مگن بیٹھیں 
چاندنی کی چھت کے نیچے
اس قرنوں کے بچھونوں پر
مگن مگن بیٹھیں 
چنیں خود اپنے خیالوں کے کنکر
یہ کنکر مل کر بن جائیں گے لوحیں 
لوحیں، جن کو دنیا اک دن پوجے گی
اور پھر اک دن امڈپڑے گا زمانہ ہماری طرف
اور پھر مجید امجد نے اپنے خیال کے جو کنکر چنے ان سے واقعی لوحیں رقم ہوئیں جنہیں آج دنیا پوج رہی ہے اور زمانہ ان کی جانب امڈ پڑا ہے اور اب جبکہ وہ ہم میں نہیں ہیں ان کی شاعرانہ عظمت کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔
شاعر کے باطن کی دنیا خارج کے مظاہر سے منسلک اور ہم آہنگ ہے مگر یہ ہم آہنگی عافیت کوشی یا فراق کے مثل نہیں بلکہ شدید جذبے کی پیدا وار ہیں جو جزو کو کل سے مربوط کرتا ہے جس کے دباؤ تلے شاعر اپنی انا کی دیواروں کو عبور کرکے وسیع تر زندگی سے ہمکنار ہو جاتا ہے اور اس ربطِ باہم کودریافت کر لیتا ہے جو کائنات میں جاری و ساری ہے۔
مجید امجد کی نظموں کا بڑا حصہ ایک مدہم اور زیریں آہنگ سے عبارت ہے اور اس میں رجز کی بجائے رزمیہ کیفیات نمایاں ہیں مگر افعال، تشبہات، علامات اور کیفیات کی تکرار کے سبب ان کی نظموں میں ایک ایسا صوتی شکوہ پیدا ہو جاتا ہے جو ان کے تخلیقی عمل کے تحرک کی علامت ہے یہ رنگِ خاص ان کی نظموں ہی سے متعلق نہیں، کہیں کہیں غزل کے انداز میں لکھی گئی نظموں میں بھی یہ کیفیت اپنی تاثیر کا جادو جگاتی نظر آتی ہے۔
سلام ان پہ  تہِ تیغ بھی جنہوں نے کہا
جو تیرا حکم، جو تیری رضا، جو تو چاہے
مجید امجد کے ہاں یہ تکرارِ معنی آفرینی کی مختلف سطحوں کو اظہار میں لانے کا ذریعہ ہے  تکرار محض نہیں۔
مجموعی طور پر پوری اردو شاعری خصوصاََ ہیسویں صدی کے شعراء میں مجید امجد کا تخلیقی تحرک ایک یک فعلی اور یک صورتی کیفیت پر مکمل انحصار کرتا ہے ان کے تحت الشعورمیں کسی صورت یا کیفیت کے بارے میں اس ساعتِ تخلیق میں جتنی ممکن حد تک صوتی تصویریں جمع ہوچکی ہوتی ہیں وہ ان کو اظہار کی تخلیقی گرفت میں لانے سے نہیں جھجکتے یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں ناقدین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ وہ نظم لکھنے کے بعد بھی اس میں مسلسل قطع و برید یا اضافہ کرتے رہتے ہیں یہ دراصل اظہارِ فن میں تکمیل کی تلاش ہے جو اکثر فن کاروں کو مستقل بے چین اور مضطرب رکھتی ہے۔ ان کا یہ عمل خوب سے خوب تر کی تلاش کا عمل ہے۔اسی کیفیت کے بارے میں مجید امجد خود کہتے ہیں۔
”میرا خیال اگر نظم کی طرف ہو اور وہ نظم مکمل ہو جاہے تو بھی مجھے تشفی نہیں ہوتی اور پھر میں دوسرے خیال میں اور دوسری نظم کے خیال میں یا پہلی نظم  کے مضمون کے دوسرے پہلو کی جانب متوجہ ہو جاتا ہوں“۔
مجید امجدفیض احمد فیض، ناصر کاظمی اور ن  م راشد جیسے لب  و لہجے کے شعراء کے ہم عصر ہیں لیکن ان کے ہاں عرب و عجم کے شعری رچاؤ کی بجائے مقامی رنگ نمایاں ہے۔ مجید امجد نے اردو زبان کو مقامی رنگ دیا یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں زمین کی مہک نمایاں ہے یا شاید دبستانِ ساھیوال کا یہی خاصہ ہے۔ مجید امجد کی غزل کا بھی اگرچہ کوئی مقابل نہیں ہے لیکن ان کی اصل شناخت نظم ہے اپنی نئی شکل اور نئی معنوی صورت کے ساتھ۔ مثال کے طور پر وطن کے حوالے سے وہ کہتے ہیں۔
وطن چمکتے  ہوئے کنکروں  کا نام نہیں 
یہ ترے جسم،تری روح سے عبارت ہے
لیکن وطن کو نظم میں انہوں نے نئے مفاہیم سے روشناس کرایا ہے۔
وطن ڈھیراک ان منجھے برتنوں کا
جسے زندگی کے پسینوں میں ڈوبی محنتیں دربدر
ڈھونڈھتی ہیں 
وطن و مسافر اندھیرا
جو اونچے پہاڑوں سے گذرتی ہوئی ندیوں کے
کناروں پہ شاداب شہروں میں رک کر
کسی آہنی چھت سے اٹھتا دھواں بن گیا ہے
وہ شخص جس کی شاعری کا ہر رنگ انگ معنی کا ہشت پہلو لئے ہوئے تھا اپنی حقیقی زندگی کے اکہرے پن کے ساتھ سوچ کا ایک سمندر چھوڑ گیا۔
کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
میری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول
https://www.youtube.com/watch?v=wGlkeq-vqAQ&list=PLT7MtAN0-U1aJwKn2mfPsLYa-8_gpAk6a&index=2

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں