ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

منگل، 31 مئی، 2016

معروف شاعرہ صبیحہ صبا اکادمی ادبیات پاکستان کی محفلِ مشاعرہ میں

اردو منزل ڈاٹ کام کی مدیراعلیٰ معروف شاعرہ صبیحہ صبا اکادمی ادبیات کے کراچی دفتر میں منعقدہ محفلِ مشاعرہ میں کلام پیش کر رہی ہیں

بدھ، 25 مئی، 2016

جو بے اسباب تھے تکتے ہیں مُنہ اک دوسرے کا / جو با اسباب تھے آگے گزرتے جا رہے ہیں / اعجاز گل

اعجاز گل
تماشا ایک سا ہر روز کرتے جا رہے ہیں
غبارہ عمر کا سانسوں سے بھرتے جا رہے ہیں
ضروری کام ٹلتا جا رہا ہے آج کل پر
کفِ افسوس مَلتے دن گزرتے جا رہے ہیں
بسائیں گے نگر پانی پہ نو زائیدگاں کل
علاقے خاک کے انساں سے بھرتے جا رہے ہیں
مقدّر ساعتِ نا سعد سے ٹکرا رہا ہے
ستارے اپنے گردش سے بکھرتے جا رہے ہیں
کھڑے ہیں آئینے سے دُور بے نقش و نگاراں
جنہیں حاصل قد و قامت سنورتے جا رہے ہیں
جو چہرے تھے عزیز از جان سب دوری کے باعث
نگاہ و دل کے منظر سے اترتے جا رہے ہیں
میں اونچائی پہ چڑھتا جا رہا ہوں بے خبر سا
کہ زینے واپسی سے اب مکرتے جا رہے ہیں
کئے جاتا ہے سایا روشنی کا بھی ہراساں 
مسافر اپنی آہٹ سے بھی ڈرتے جا رہے ہیں
جو بے اسباب تھے تکتے ہیں مُنہ اک دوسرے کا
جو با اسباب تھے آگے گزرتے جا رہے ہیں

لہجے کی تیز دھار سے الفاظ ہی نہیں / وہ گفتگو ہوئی کہ سخن ساز کٹ گئے / سحرتاب رومانی

سحر تاب رومانی
تحریریں مٹ گئیں، مرے الفاظ کٹ گئے 
اک دن کھلا یہ راز کہ سب راز کٹ گئے
لہجے کی تیز دھار سے الفاظ ہی نہیں 
وہ گفتگو ہوئی کہ سخن ساز کٹ گئے
آندھی کی آریوں سے توازن بگڑ گیا 
طائر تمام مائلِ پرواز کٹ گئے
انجامِ کائنات کی دھن ہی بدل گئی 
جتنے بھی تھے وہ نغمہِ آغاز کٹ گئے
جدّت طرازیوں کا تماشا ھے رات دن 
لکھنے لکھانے کے سحر انداز کٹ گئے

منگل، 24 مئی، 2016

سعد! یہ حسن بھی کیا شے ہے کہ جب جی چاہے /عشقِ بے نام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ / سعداللہ شاہ

سعداللہ شاہ
چاند جب بام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ!
دل بھی ہر کام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ!
گونجتے رہتے ہیں الفاظ مرے کانوں میں 
تو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ!
کھینچتا رہتا ہے فنکار لکیریں اور پھر 
صورتِ خام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ!
کیا خبر تجھ کو گزرتی ہے مری شب کیسے 
دل تو بس شام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ!
کیا کہے کوئی کسی سے کہ اذیت کیا ہے 
صید جب دام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ!
سعد! یہ حسن بھی کیا شے ہے کہ جب جی چاہے 
عشقِ بے نام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ!
(سعداللہ شاہ)

سوموار، 23 مئی، 2016

جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام بانی و صدر اردو تحریک عالمی، لندن ڈاکٹر عبد الغفار عزم کی یا د میں تعزیتی ریفرنس

 جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام لیجنڈ شاعر،ادیب، محقق ،نقاد،ماہرِ لسانیات ،قانون دان ، پی ایچ ڈی(کانسٹی ٹیوشن لاء) ، بانی و صدر اردو تحریک عالمی، لندن ڈاکٹر عبد الغفار عزم کی یا د میں تعزیتی ریفرنس کا اہتمام پاک ٹی ہاؤس،لاہور میں کیا گیا۔نظامت چیف ایگزیکٹو تنظیم معروف شاعرہ و ادیبہ ،ایم زیڈکنولؔ نے کی۔یہ تقریب اُس شخصیت کی یاد میں تھی جو حال ہی میں اپنی محبتوں کی خوشبو سے بزم کو مہکا کر ، امیدوں کے چراغ اور یادوں کے اُجالے ہمارے مَن میں بسا کرہمیشہ کے لئے رخصت ہو گیا۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا جس کی سعادت قاری نورِ مصطفیٰ ہاشمی کو حاصل ہوئی۔بعد ازاں عاصم خواجہ نے نعتِ رسولِ مقبولﷺ پیش کی۔ایم زیڈ کنول ؔ نے تعارفی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈ اکٹر عبد الغفار عزم ایک انسان نہیں ایک تحریک تھے۔آپ اردو زبان و دب کے بے لوث خدمت گزارتھے اور سالارِ ادب کی حیثیت سے اردو زبان و ادب کی ترویج و فروغ میں سر گرمِ عمل تھے۔آپ نے تقریباََ پانچ عشروں تک اردو تحریک عالمی کے نام سے ادبی دنیا کی ایک مقبول اور جانی پہچانی انجمن کے بانی کی حیثیت سے اس کی خشتِ اول سے لے کر تزئین تک ، خود ایک معمار کی طرح عرق ریزی کی ۔ ان کے جذبوں کی سچائیوں نے انہیں محبتوں اور ریاضتوں کا تاج محل بنا دیا ۔ اس سیادت نے انہیں ایسا پارس بنا دیا کہ جو اِن کے قریب سے بھی گزرگیا وہ سونا بن گیا۔آج کی نفسانفسی اور ادبی طوائف الملوکی کے دور میں ڈاکٹر عبد الغفار عزم نہ صرف خود چمنِ ادب کو اپنے لہو سے سینچتے رہے بلکہ اس کی بہار کو سدا بہار کرنے کے لئے،، دیارِ مغرب ،،میں مشرقی روایتوں کے فروغ کے لئے ساری دنیا سے گوہرِ نایاب چُن چُن کر جغرافیائی سرحدوں سے بے نیاز ایک ایسی منفرد بستی بسا ڈالی جس کا نہ کوئی رنگ ہے ، نہ نسل، نہ مذہبی قد غن ہے نہ جغرافیائی حدود،جہاں گاگر اور ساگر میں کوئی تفریق نہیں۔ اِس کی بنیاد رکھنے سے لے کر آخر دم تک سخنورانِ ادب کے لئے آپ ایک شجرِ سایہ دار بن کر سایہ بھی دیتے رہے اور ٹھنڈک بھی، خوشبو بھی اور طراوت بھی،ا ور پھر قطب ستارے کی طرح میرِ کارواں بن کر سرگرمِ عمل رہے۔غزل اور رباعی میںآپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔ادب آپ کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اس ضمن میں اپنی صحت کی پروا بھی نہیں کرتے تھے۔آپ چمنِ ادب کی آبیاری میں آخر دم تک مصروف رہے۔ بیماری کی حالت میں9۔اپریل2016کو منعقد ہونے والی علمی،ادبی،سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم، جگنو انٹر نیشنل کی دوسری تقریبِ ایوارڈو مشاعرہ میں شرکت کی غرض سے بطور خاص لندن سے لاہور،پاکستان تشریف لائے اوربطور صدرشرکت فرما کرتقریب کو وقار اور عزت بخشی۔اس موقع پرآپ کے شہرہ آفاق مجموعہ کلام ’’نقشِ اول‘‘ کی تقریبِ اجراء کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایک بھر پور تقریب تھی جس میں ڈاکٹر صاحب نے بھر پور دلچسپی لی اور پاکستان بھر اور بیرونِ پاکستان سے آئے احباب کی حوصلہ افزائی فرمائی۔26۔اپریل کو لندن واپسی کا سفر کیا۔اور پھر یکم مئی 2016ایک ایسے سفر پر عازم ہوئے جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آتا۔ شگفتہ غزل ہاشمی،صدر جگنو انٹر نیشنل نے آپ کی ادبی خدمات کا سیر حاصل احاطہ کرتے ہوئے ان کی اچانک وفات کو ایک بہت بڑا سانحہ قرار دیا۔پروفیسر عاشق رحیل نے کہا کہ وہ ڈاکٹر عزم سے ادبی حوالے سے 1974 سے منسلک تھے۔ انھوں نے لندن میں ہونے والی ادبی تقریبات اور ڈاکٹر صاحب کی فروغِ ادب کے سلسلے میں بے لوث خدمات کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔ممتاز راشد لاہوری اوراختر ہاشمی نے بھی اردو تحریک عالمی کی سرگرمیوں کا ذکر کر کے اُنہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔، پروفیسرنذر بھنڈر، میاں صلاح الدین،ندا سرگودھوی، اعجاز اللہ ناز،ڈاکٹر ایم ابرار،،مظہر جعفری، مقصود چغتائی،تسنیم کوثر اور دیگرمقررین نے کہا کہ آپ یورپ میں 50 سال سے اردو زبان و ادب کی ترویج کے لئے کام کر رہے تھے۔آپ کی وفات سے ایک عہد ختم ہو گیا۔ ڈاکٹر فاخرہ شجاع نے منظوم کلام پیش کیا۔آخرمیں مرحوم کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی۔

بدھ، 18 مئی، 2016

تُمہارے عشق کا اب تک خُمار اُترا نہیں ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
ابھی سرُور ہے باقی غُبار اُترا نہیں
تُمہارے عشق کا اب تک خُمار اُترا نہیں
خزاں بہار بنی اور فصل گُل پت جھڑ
مگر رُتوں کا ابھی تک شُمار اُترا نہیں
عجیب کیفیت ہے بے کلی کہیں جس کو
خیال تیری پناہ میں حصار اُترا نہیں
تمام رات رہا حبس وہ قیامت کا
ہوا چلی 'نہ زمیں نم ' بخار اُترا نہیں
میں بے قرار رہا عمر بھر تڑپنے کو
کہ جیسے ایک سمندر قرار اُترا نہیں
دیا سا جلتا رہا گھر میں آخر شب تک
تھا انتظار وہ جس کا کنار اُترا نہیں
بہت حکائیتیں ہیں بیتے دنوں کی انور
بہت سی یاد رہیں پر نکھار اُترا نہیں
انور زاہدی

ہفتہ، 14 مئی، 2016

ادا نہ کر سکا اوصاف عمر بھر جس کو /میں ایسا لفظ ہوں اور اپنی ہی زبان میں ہوں/اوصاف شیخ

اوصاف شیخ
کوئی خبر نہیں کچھ دن سے کس جہان میں ہوں
ہوں خاکدان سے باہر کہ خاکدان میں ہوں
کبھی کبھی میں تجھے سوچتا ہوں فرصت میں
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے تیرے دھیان میں ہوں
یہ جھوٹ ہے کہ مجھے اب بھی تیری عادت ہے
یہ سچ نہیں ہے کہ میں اب بھی امتحان میں ہوں
میں جانتا ہوں کہ تو اب بھی مجھ کو سوچتا ہے
میں جانتا ہوں میں اب بھی ترے گمان میں ہوں
وہ تیرے ہجر کے کچھ پہلے دن خدا کی پناہ
یوں مجھ کو لگتا تھا جلتے ہوئے مکان میں ہوں
جہاں تو چاہے چلا دے اب ایسی بات نہیں
نہیں میں تیر نہ تیری کسی کمان میں ہوں
ادا نہ کر سکا اوصاف عمر بھر جس کو
میں ایسا لفظ ہوں اور اپنی ہی زبان میں ہوں

بدھ، 11 مئی، 2016

آج اردو نظم کے رحجان ساز شاعرمجید امجد کی بیالیسویں برسی ہے


اردو نظم کا رحجان ساز شاعر۔ مجید امجد


مجید امجد جدید اردو نظم کے اہم ترین شاعر ہیں جنہوں نے اردو نظم کو نیا آہنگ عطا کیا ہے۔ ان کا اسلوب اپنی تمام تر معنوی، علامتی اور استعاراتی وسعتوں کے باوجود لفظ کی اکائی سے شروع ہوتا ہے اور اپنے اظہارسے معنوی وجود رکھتا ہے۔
مجید امجد کے اظہار کے انداز میں ایک تحریک نمایاں ہے۔ اس تحرک سے  لفظ کی تصویر ساکن تصور سے متحرک تصویر میں تبدیل ہوتی جاتی ہے۔ مجید امجد کا اسلوب انہیں کیفیات کی تفصیلی تصویر کشی اور اس کی شدت کے اظہاریہ پر مجبور کرتا ہے۔

ہفتہ، 7 مئی، 2016

مرے ہاتھوں میں پھول تھے شہزاد /جب عدو میرا گھر جلانے لگا / قمر رضا شہزاد

قمر رضا شہزاد
پانیوں پر قدم جمانے لگا
میں نیا راستہ بنانے لگا
چاند اُترا مرے دریچے میں
اور پھر میں بھی جگمگانے لگا
عشق تو کب کا ہو چکا متروک
تُو یہ سِکہ کہاں چلانے لگا
میں بھی ہوں کوئی فالتو سامان
تُو مجھے بھی کہیں ٹھکانے لگا
مرے ہاتھوں میں پھول تھے شہزاد
جب عدو میرا گھر جلانے لگا