ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


سوموار، 11 اپریل، 2016

گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ساہیوال کی ادبی، علمی اور تہذیبی مجلس "اکادمیکا" کے اجلاس میں صغیر احمد جعفری اور صبیحہ صبا صاحبہ کے اعزاز میں محفلِ مشاعرہ

 ابوظہبی میں مقیم معروف شاعر صغیر احمد جعفری اور  صبیحہ صبا
ان دنوں پاکستان کے ادبی دورے پر ہیں اور ملک کے مختلف شہروں میں اُن کے اعزاز میں تقریبات منعقد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ صبیحہ صبا کا تعلق شہرِ مجید امجد ساہیوال سے ہے۔ اُن کے ہمسفرِ گرامی صغیر احمد جعفری پیشے کے اعتبار سے ایک انجینئر ہیں۔ دونوں میاں بیوی شعر و سخن کے ساتھ کمال کی وابستگی رکھتے ہیں۔ محترمہ صبیحہ صبا کے شعری مجموعے "دل درد آشنا، لفظوں کا شہر، تری صدا آئی، لفظ بنے تصویر اور تخیل" شائع ہو کر ادبی حلقوں سے پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔

گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ساہیوال کی ادبی، علمی اور 

تہذیبی مجلس "اکادمیکا" کے چوتھے اجلاس میں محترم صغیر احمد جعفری اور محترمہ صبیحہ صبا صاحبہ کے اعزاز میں محفلِ مشاعرہ منعقد کی گئی۔ جس کی صدارت ڈاکٹر محمد افتخار شفیع نے کی جبکہ صغیر احمد جعفری اور صبیحہ صبا مہمانانِ خصوصی تھے۔ اکادمیکا کے روحِ رواں پروفیسر عمران جعفر اور پروفیسر حنا جمشید صاحبہ بھی اجلاس میں موجود تھے۔ محفلِ مشاعرہ کی نظامت کے فرائض نوجوان شاعر محمد بلال اعظم نے بطریقِ احسن 

انجام دیے۔ اس محفلِ مشاعرہ میں گورنمنٹ کالج ساہیوال کے جن طلباء و طالبات نے اپنی شاعری پیش کی، اُن میں اجالا عیش، ثوبیہ ، فاطمہ بتول، عائشہ سلیم، فرح خان، مبشر شفیق اور محمد بلال اعظم کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ اِس تقریب میں مہمانانِ گرامی سے جی کھول کر اُن کا کلام سنا گیا۔

ڈاکٹر محمد افتخار شفیع نے اپنی گفتگو میں محترمہ صبیحہ صبا کی شخصیت اور شاعری کا مختصر اور جامع تعارف کروایا۔ آخر میں پروفیسر عمران جعفر نے بطور کنوینئر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے باقاعدہ اختتام کے بعد مہمانوں نے نوجوان شعراء اور شاعرات کو اپنی اپنی کتابیں بطور تحفہ پیش کیں۔ یہ ایک یادگار تقریب تھی، جو دیر تک ہماری یادوں کا 

حصہ رہے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں