ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


منگل، 26 اپریل، 2016

ساہیوال میں رضاالحق صدیقی کی دو کتابوں کی تقریبِ رونمائی


مجید امجد اکیڈمی اور ادب سوجھ پاکستان کے زیرِ اہتمام معروف ادیب رضاالحق صدیقی کی دو کتابوں کی تقریبِ رونمائی پریس کلب ساہیوال میں منعقد ہوئی،
صدارت سابق وفاقی وزیرِ مملکت اور معروف افسانہ نگار غلام فرید کاٹھیہ نے کی ۔گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج ساہیوال کے پرنسپل پروفیسر اخلاق حسین عارف مہمانِ خصوصی تھے۔لاہور سے تشریف لائے ہوئے نامور ادیب ،نقاد پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید  کے علاوۃ نامور ادیب اور سہ ماہی نمود کے مدیر قائم نقوی مہمانانِ اعزاز تھے۔۔
تقریب میں راو شفیق احمد،واصف سجاد،علی وارث انصاری،پروفیسر محمد اکرم ناصر،پروفیسر ندیم عباس اشرف،ایزد عزیز،ڈاکٹر سعادت سعید،قائم نقوی،پروفیسر اخلاق حسین عارف اور غلام فرید کاٹھیہ نے کتابوں اور ان کے مصنف کے حوالے سے اپنے مقالات اور منظوم خراج پیش کیا۔ 

















جمعرات، 21 اپریل، 2016

بچوں کی تربیت میں کہانی کا کردار کیوں اہم ہے؟


’’عادی! اٹس اسٹوری ٹائم‘‘ دوسرے کمرے سے میری ساڑھے تین سال کی پوتی کی آواز آئی۔ ہم دوسرے کمرے میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے، تھوڑی دیر پہلے کھانا کھا کر عدیل نے عنایہ کو سونے کے لئے بیڈ روم میں لٹا دیا تھا۔ آج کے اس کمپیوٹر کے دور میں جب کہ بچے نانیوں اور دادیوں کی کہانیوں بھری گود سے نکل چکے ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کی نفسیانی تربیت کے لئے ڈاکٹر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ رات کو سونے سے پہلے بچوں کے ساتھ اسٹوری ٹائم سیشن ضرور کیا جائے۔
کہانی ہر دور میں اہم رہی ہے اور بچوں میں کہانیوں کو سمجھنے اور اس سے اثر لینے کی صلاحیت بڑوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ بچوں کے لئے لکھنا اسی لئے سب سے مشکل کام ہے، یہ نانیاں دادیاں بڑی چالاک ہوتی تھیں، کہانی کہانی میں کوئی نا کوئی نصحیت کر جاتی تھیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں ریسرچ نے کہانی کی اہمیت کو دماغی سطح پر اثر پذیری کی بنا پر تسلیم کیا اور نئے ماں باپ کو اسٹوری ٹائم سیشن کرنے کی تجویز پیش کی، کیونکہ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب بچے کے لاشعور میں جو چیز راسخ ہوجائے وہ شعوری زندگی میں بھی اسی پر گامزن رہتا ہے۔
ابتداء میں جو منظر میں نے کھینچا ہے وہ امریکہ کی ریاست میری لینڈ میں میرے بیٹے عدیل کے گھر کا ہے، جہاں ڈاکٹر کی ہدایت پر رات سونے سے پہلے میری پوتی اسٹوری ٹائم کی عادی ہوگئی ہے۔ کہانی سنتے سنتے عنایہ نیند کی وادی میں اتر گئی، یقیناََ خواب میں سنی ہوئی کہانی کا تلازمہ خیال ہوا ہوگا۔
بچوں کی تعلیم وتربیت ایک معاشرتی ذمہ داری ہے، ادیب معاشرے کا ایک اہم جزو ہونے کی حیثیت میں اس ذمہ داری میں حصہ دار ہوتے ہیں۔ آج کی زیرِ تبصرہ کتاب ’’مٹی کا قرض‘‘ کے مصنف محمد مزمل صدیقی نے اپنے ذمے اس قرض کو کمال دانشمندی اور فہم و فراست سے ادا کیا ہے۔
مزمل کو کہانی کہنے کا فن قدرت کی ودیعت ہے۔ جس طرح دنیا کے مشہور قلم کاروں نے بچوں کے لئے اچھا ادب تخلیق کیا ہے، جس کا مقصد بچوں کے کردار کی مثبت تعمیر ہے، بالکل اسی طرح مزمل صدیقی نے بچوں کے لئے معیاری ادب تخلیق کیا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ مزمل کی شکل میں بچوں کو ایک اچھا ادیب مل گیا ہے۔
’’مٹی کے قرض‘‘ میں مزمل نے اپنی 16 کہانیوں کا انتخاب کیا ہے۔ جن میں، آؤ دیا جلائیں، دستک، نیکی کی طاقت، سیلاب کی کہانی، کمشنر صاحب، قلفی فروش، مٹی کا قرض، میرے پاپا، معانی، روزے کی خوشبو، عمرو و عیار خطرناک مہم پر، گھر پیارا گھر، وہ وقت، ضمیر کی آواز، یادِ ایام، استاد صاحب شامل ہیں۔
اپنی کہانیوں کے مضبوط بیانیے، واقعات میں ربط اور کرداروں کی تشکیل میں مزمل صدیقی کسی پختہ کار قلمکار سے کسی طور کم نہیں ہے۔ پلاٹ سازی ہو یا کردار سازی مزمل نے اپنی کہانیوں کی بنت میں بڑی محنت سے کام لیا ہے۔
سیلاب کی کہانی، ایک بچے کے جذباتی ردعمل کی بہتریں عکاس ہے۔ کہانی کو حقیقت سے قریب رکھنے میں مزمل نے پاک فوج کے کردار کو پوری طرح نمایاں کیا ہے۔ دستک نامی کہانی میں ماں سے ازلی محبت پوری طرح جلوہ گر نظر آتی ہے، اس کہانی کا اختتام انتہائی غیر متوقع نظر آیا جو اس کہانی کے تاثر کو بہت متاثر کن بناتا ہے۔
مٹی کا قرض کی کہانیاں مزمل صدیقی نے روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے بڑے مسائل کو فکری اور جمالیانی وسعت دیتے ہوئے سبق آمیز انداز میں بڑی آسانی سے پیش کیا ہے، کہانیوں کے عنوانات بھی کہانیوں کی زبان و بیان کی طرح سادگی لئے ہوئے ہیں۔ سبق آموز نتائج کے حامل موضوعات جس جذباتی انداز میں لکھے گئے ہیں، وہ قابل ستائش ہیں۔
کتاب کا عنوان کتاب میں موجود کہانی مٹی کا قرض سے اخذ کیا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ مزمل مٹی کی محبت اور وطن کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہے۔
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں، کہ واجب بھی نہیں تھے
مزمل کی کہانیاں اللہ تعالیٰ، والدین، وطن اور اپنے آپ سے محبت کا درس دیتی محسوس ہوتی ہیں، وہیں ضمیر کی خلش، محنت میں عظمت، اساتذہ کا ادب، وقت کی قدر، نیکی کا صلہ کی اہمیت کو اجاگر کرتی نظر آتی ہیں۔
کمپیوٹر کی دنیا میں کھونے کے باوجود انسان کے ذہن میں موجود تجسس کا مادہ ختم ہونے کی بجائے اور بڑھ گیا ہے۔ صدیوں پرانی الف لیلیٰ کی کہانیاں ہوں یا نانیوں، دادیوں کی سنائی ہوئی شاہ جنات اور پریوں کی کہانیاں اور پھر ہر رات ابھرنے والا سوال کہ آگے کیا ہوا، یہ سوال کمپیوٹر کی دنیا میں کھونے کے باوجود بچوں کے علاوہ ہم بوڑھے بچوں میں بھی زندگی بھر ابھرتا رہے گا اور جب جب یہ سوال ابھرے گا تب تب مزمل صدیقی جیسے افراد مٹی کا اور ادب کا قرض اتارتے رہیں گے۔
مٹی کے قرض میں شامل مزمل صدیقی کی کہانیاں بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی پڑھ سکتے ہیں۔ 

ہفتہ، 16 اپریل، 2016

بجا کہ مشق سخن خوب هاشمی ہے تری / غز ل کے با ب میں تحر یر خام رہتی ہے ۔۔ سید انور جاوید ہاشمی

کتاب عشق مری نا تمام ر ہتی ہے
اسی گلی میں ابهی تک وہ شام رہتی ہے
بدن بدن کی تمنا میں شاد ہو تو ہو
سنا ہے ر و ح سدا زیف-دام رہتی ہے
شہید عشق بهی راہ حیات کهو بیٹهے 
نجا نے زیست کہا ں پر د و ا م رہتی ہے
بس ان کی یادکے هالے سے حرف گیری ملی
و ہ چا ند نی نہیں جو ہم کلام ر ہتی ہے
گزر یہا ں نہیں ہوتا خواص کا اے د ل
یہ شاہ راہ ہمیشہ سے عام ر ہتی ہے
بجا کہ مشق سخن خوب هاشمی ہے تری
غز ل کے با ب میں تحر یر خام رہتی ہے 

سوموار، 11 اپریل، 2016

گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ساہیوال کی ادبی، علمی اور تہذیبی مجلس "اکادمیکا" کے اجلاس میں صغیر احمد جعفری اور صبیحہ صبا صاحبہ کے اعزاز میں محفلِ مشاعرہ

 ابوظہبی میں مقیم معروف شاعر صغیر احمد جعفری اور  صبیحہ صبا
ان دنوں پاکستان کے ادبی دورے پر ہیں اور ملک کے مختلف شہروں میں اُن کے اعزاز میں تقریبات منعقد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ صبیحہ صبا کا تعلق شہرِ مجید امجد ساہیوال سے ہے۔ اُن کے ہمسفرِ گرامی صغیر احمد جعفری پیشے کے اعتبار سے ایک انجینئر ہیں۔ دونوں میاں بیوی شعر و سخن کے ساتھ کمال کی وابستگی رکھتے ہیں۔ محترمہ صبیحہ صبا کے شعری مجموعے "دل درد آشنا، لفظوں کا شہر، تری صدا آئی، لفظ بنے تصویر اور تخیل" شائع ہو کر ادبی حلقوں سے پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔

گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ساہیوال کی ادبی، علمی اور 

تہذیبی مجلس "اکادمیکا" کے چوتھے اجلاس میں محترم صغیر احمد جعفری اور محترمہ صبیحہ صبا صاحبہ کے اعزاز میں محفلِ مشاعرہ منعقد کی گئی۔ جس کی صدارت ڈاکٹر محمد افتخار شفیع نے کی جبکہ صغیر احمد جعفری اور صبیحہ صبا مہمانانِ خصوصی تھے۔ اکادمیکا کے روحِ رواں پروفیسر عمران جعفر اور پروفیسر حنا جمشید صاحبہ بھی اجلاس میں موجود تھے۔ محفلِ مشاعرہ کی نظامت کے فرائض نوجوان شاعر محمد بلال اعظم نے بطریقِ احسن 

انجام دیے۔ اس محفلِ مشاعرہ میں گورنمنٹ کالج ساہیوال کے جن طلباء و طالبات نے اپنی شاعری پیش کی، اُن میں اجالا عیش، ثوبیہ ، فاطمہ بتول، عائشہ سلیم، فرح خان، مبشر شفیق اور محمد بلال اعظم کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ اِس تقریب میں مہمانانِ گرامی سے جی کھول کر اُن کا کلام سنا گیا۔

ڈاکٹر محمد افتخار شفیع نے اپنی گفتگو میں محترمہ صبیحہ صبا کی شخصیت اور شاعری کا مختصر اور جامع تعارف کروایا۔ آخر میں پروفیسر عمران جعفر نے بطور کنوینئر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے باقاعدہ اختتام کے بعد مہمانوں نے نوجوان شعراء اور شاعرات کو اپنی اپنی کتابیں بطور تحفہ پیش کیں۔ یہ ایک یادگار تقریب تھی، جو دیر تک ہماری یادوں کا 

حصہ رہے گی۔

جمعرات، 7 اپریل، 2016

ساہیوال میں ممتاز شاعرہ ، مدیر اعلیٰ اردو منزل صبیحہ صبا کے اعزاز میں تقریب پذیرائی


گورنمنٹ کالج ساہیوال کے شعبہء اردو کے زیر اہتمام ممتاز شاعرہ ، مدیر اعلیٰ اردو منزل محترمہ صبیحہ صبا کے اعزاز میں تقریب پذیرائی منعقد ہوئی ۔ طلباء و طالبات نے محترمہ کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا اور انکے کلام کو دلچسپی سے سنا۔ ساہیوال صبیحہ صبا کا اپنا شہر ہے ان کی جائے پیدائش ہے کراچی اور بعد میں ابوظبی منتقل ہونے سے قبل ساہیوال میں ان کا طویل قیام رہا ۔ ساہیوال کو شہرِ مجید امجد اور شہرِ غزل کہا جاتا ہے۔
صبیحہ صبا کی ویب سائٹ اردومنزل بھی دنیا بھر میں مشہور ہوئی۔

گورنمنٹ کالج ساہیوال کے پروفیسر ندیم عباس اشرف نے ممتاز شاعرہ صبیحہ صبا کا تعارف کرایا اور انہوں نے کہا کہ صبیحہ صبا نے ساہیوال میں ہی دورانِ تعلیم شاعری کا آغاز کیا اور ان کے پہلے شعری مجموعہ کی رونمائی بھی ۱۹۷۹ میں ساہیوال میں ہوئی جس میں پاکستان کے ممتاز اہلِ قلم نے شرکت کی ۔ صبیحہ صبا پانچ شعری مجموعوں کی مصنفہ ہیں جن کے نام یہ ہیں : ۔۔۔ لفظوں کا شہر ، لفظ بنے تصویر ، تری صدا آئی ، تخیل ، دل دردآشنا ۔ ان کتابوں کی رونمائیاں ساہیوال ، لاھور ، کراچی ، ابوظبی ، دبئی ، شارجہ ، فجیرہ وغیرہ میں ہوئی ہیں اور ، صبیحہ صبا نے متعدد عالمی مشاعروں میں شرکت کی صغیرا حمد جعفری ادبی جشن و اردو منزل ادبی ایوارڈز کے منتظم اعلیٰ ہیں ۔ ۱۹۷۳ سے ۲۰۱۴ تک دنیا کے سینکڑوں اردو و دیگر زبانوں کے ممتاز شاعر ، ادیب ، مصنف ، صحافی ، دانشور ان کی ادبی تقریبات میں شامل رہے ان کی ادب کے فروغ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو خوب سراہا گیا۔
تعارف کے دوران ، پروفیسر ندیم نے فرمایا کہ ادبی خدمات کے اعتراف میں ، صبیحہ صبا کو پاکستانی سفارتخانہ کے پبلک ریلیشنز ، پبلک ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے ، پاکستانی ادبی تنظیموں نے ، پاکستانی مرکز وغیرہ نے گولڈ میڈلز ، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز سے نوازا اور ، مشہور نوائے وقت گروپ نے ادبی خدمات کے اعتراف میں دبئی کے انٹرکونٹینینٹل ہوٹل میں خصوصی تقریبات میں قائداعظم ادبی ایوارڈز اور علامہ اقبال ادبی ایواردز صبیحہ صبا اور سید صغیر احمد جعفری کو عطا کئے ۔ اس موقع پر ، پروفیسر ودود طارق نوید نے بھی صبیحہ صبا کی علمی و ادبی خدمات کو سراہا اور خوشی کا اظہار کیا کہ شہر مجید امجد سے تعلق رکھنے والی شاعرہ صبیحہ صبا نے ادبی دنیا میں جتنی پہچان بنائی وہ ہمارے لئے باعث فخر ہے، اردو منزل ادبی ایوارڈز ، عالمی مشاعرے ، شام، افسانہ و غزل کی شاندار تقریبات برسوں منعقد کرکے دیارِ غیر میں بہتریں ادبی و ثقافتی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ، خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ ادبی جوڑا اپنی منفرد حیثیت منوانے میں کامیاب ہوا 

پروفیسر ندیم عباس اشرف ، پروفیسر ودود طارق نوید ، پروفیسر محمد رفیق ، کالج کے دیگر اساتذ ہ اور طلباء و طالبات کی موجودگی میں ندیم عباس اشفرف ، سید صغیر احمد جعفری نے اپنا کلام پیش کیا اور آخر میں مہمان شاعرہ صبیحہ صبا نے اپنی کئی غزلیں پیش کیں جنہیں اساتذہ ، طلباء وطالبات نے بھرپور انداز سے نوازا ۔
آخر میں مہمان شاعرہ سے ایم اے اردو کے طلباء و طالبات نے ادب کے حوالے سے سوالات کئے  


منگل، 5 اپریل، 2016

چلو باتیں کریں اتنی----- عارفه شهزاد

عارفہ شہزاد
چلو باتیں کریں اتنی
فلک کی گود میں سمٹے ستارے تھک کے سو جائیں
زمیں پر بکھرے منظر سب کے سب حیران هو جائیں
اترتی آبشاریں شور کرنا هی بھلا بیٹھیں
ٹھٹک جائیں سمندر کی تلاطم خیز موجیں
پرندے جه چ هے بھولیں
هوا حیرت سے تھم جاۓ!
بنا مقصد،بنا مطلب
چلو نا بولتے جائیں
بہت سے ان کهے لفظوں کے در هم کھولتے جائیں
هماری راه میں
جتنے بھی خاموشی کے پتھر هے
انھیں لفظوں کے قدموں کے تلے
هم روندتے جائیں
کریں هر چند هم بے ربط باتیں هی
مگر ساتھی!
چلو باتیں کریں اتنی
که اک لمحه ذرا رک کر
تمهیں کچھ سوچنا دشوار هو جاۓ
اور ایسے میں اچانک هی
تمهارے سرخ هونٹوں پر
وه دل کی بات آ جاۓ
سماعت منتظر هے جس کی
جانے کتنی صدیوں سے!