ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


اتوار، 13 مارچ، 2016

اکادمیکا لٹریری سوسائٹی گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ساہیوال کی تنقیدی نشست،ابرار حسین نے "بے حسی" اور شہلا نورین نے "کاش! میں تیری بیٹی نہ ہوتی" کے عنوان سے اپنے افسانے تنقید کے لئے پیش کئے

 
گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ساہیوال کی ادبی، علمی اور تہذیبی مجلس "اکادمیکا" کا دوسرا تنقیدی اجلاس ملک محمد انور لائبریری کے ہال میں منعقد ہوا۔ تنقیدی نشست کی صدارت شعبۂ اردو کے استاد پروفیسر محمد رفیق ظہیر نے کی جبکہ پرنسپل پروفیسر اخلاق حسین عارف مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض محمد افتخار شفیع نے ادا کئے۔ 

اس تقریب میں علم و ادب سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کی کثیر تعداد کے علاوہ مختلف شعبہ جات سے اساتذہ کرام نے شرکت کی، جن کے اسمائے گرامی پروفیسر ڈاکٹر مرزا معین الدین، پرفیسر شفیق خلیل بٹ، پروفیسر ریحان احمد، پروفیسر بلال اشرف، پروفیسر حنا جمشید صاحبہ اور پروفیسر بشریٰ امین صاحبہ ہیں۔ اکادمیکا کے روحِ رواں پروفیسر عمران جعفر بھی موجود تھے۔ باقاعدہ آغاز تلاوت سے ہوا، جو ثوبیہ ریاض نے کی۔ 

آج کا اجلاس اردو کی ایک اہم صنف افسانہ کے لئے تھا۔ کالج کے طلباء میں سے ابرار حسین نے "بے حسی" اور شہلا نورین نے "کاش! میں تیری بیٹی نہ ہوتی" کے عنوان سے اپنے افسانے تنقید کے لئے پیش کئے۔ شرکاء نے دونوں افسانوں پر بھرپور بحث کی۔ کرداروں، اسلوب اور کہانی کے تناظر میں دونوں افسانوں پر نہایت خوبصورت بحث کی۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں