ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

سوموار، 21 مارچ، 2016

محبت کر کے دیکهتے ہیں ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
محبت پھر سے کر کے د یکھتے ہیں ہم
جہا ں چھو ڑا تھا تم نے
ر خصتی کے سرد مو سم میں
و ہیں چلتے ہیں پھر ا ک بار
ا و ر عہد و فا کو ہا تھ تھا مے یا د کر تے ہیں
چلو پھر سے
محبت کر کے د و نو ں د یکھتے ہیں ہم
تمہیں خو شبو پسند تھی
میں بہا ر و ں کے سبھی پھو لو ں کو
ا پنے سا تھ لا یا ہو ں

شاعری کا عالمی دن ہے یہ آج/ ہے جو فکروفن کا دلکش امتزاج ۔۔ احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی
شاعری کا عالمی دن ہے یہ آج
ہے جو فکروفن کا دلکش امتزاج
شاعری ہی ہر ادب کی جان ہے
جو بدل ڈالے زمانے کا مزاج
ہے یہ یونسکو کی اک دریا دلی
دے رہا ہے آج جو اس کو خراج
شعر تھا پہلے ”حدیثِ دلبری“
آج ہے یہ آئینہ دارِ سماج
میرؔ و غالبؔ کا تغزل آج تک
لے رہا ہے اہلِ دانش سے خراج

جمعرات، 17 مارچ، 2016

اشک آتا ہے آنکھ میں جو بھی / عشق کی داستان ہوتا ہے ..درخشاں صدیقی

وہ جو اہلِ زبان ہوتا ہے
اہلِ اردو کی شان ہوتا ہے
آپ کا مائلِ کرم ہونا
ایسا کب میری جان ہوتا ہے
اشک آتا ہے آنکھ میں جو بھی
عشق کی داستان ہوتا ہے
دلِ بے آرزو ہے یوں اپنا
جیسے خالی مکان ہوتا ہے
دوست دشمن میں فرق کرنا بھی
اک عجب امتحان ہوتا ہے
خوف آتا ہے ہم کو اس لمحے
جب کوئ مہربان ہوتا ہے
پھول نازک جو ہے درخشاں وہی
خار کے درمیان ہوتا ہے

بدھ، 16 مارچ، 2016

دُزدیدہ نگاہی میں کھو جا تا تھا دل جن کی / اُن جھیل سی آنکھوں کی یاد آتی ہے گہرائی ۔۔ احمد علی برقی اعظمیٰ

احمد علی برقی اعظمیٰ
وہ بھول گیا مجھ سے برسوں کی شناسائی
”لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی“
حالات کا اب میں ہوں خاموش تماشائی
بھائی سے تڑپتا ہے ملنے کے لئے بھائی
تصویرِ تصور ہی بس ایک سہارا ہے
فرقت نے بنا ڈالا اُس کی مجھے سودائی
جذبات تھے بے قابو کرتا بھی تو کیا کرتا
اس رشکِ گُلِ تر کی جب یاد مجھے آئی
یادوں کے جھروکوں سے حسرت ہے اسے دیکھوں 
پہلے تھا جو آنکھوں کی میری کبھی بینائی
وہ دیکھنا مُر مُڑ کر اس کا مجھے حسرت سے
باقی نہ رہی میری جب قوتِ گویائی
جو تارِ رگِ جاں پر ہر وقت غزلخواں تھی
رس گھولتی ہے اب بھی کانوں میں وہ شہنائی
دُزدیدہ نگاہی میں کھو جا تا تھا دل جن کی
اُن جھیل سی آنکھوں کی یاد آتی ہے گہرائی
دیتا ہے کوئی دستک آ آ کے درِ دل پر
کاٹے نہیں کٹتی ہے برقیؔ شبِ تنہائی

دل زدہ ۔ ممتاز راشد لاہوری اپنی ساری کہانیاں دو خاموشیوں کے درمیانی وقفے یعنی مختصر اور نا پائیدار زندگی سے اخذ کرتے ہیں


خاموشی بہت بڑی حقیقت ہے،خاموشی ہی زندگی کا سرچشمہ ہے اور زندگی کا دریا خاموشی کے سمندر میں جا گرتا ہے۔درمیان کا مختصر سا وقفہ۔۔۔ مختصر سا یہ سفر چھوٹی چھوٹی خوشیوں، بڑے بڑے حادثوں، احمقانہ خواہشوں اور لا علاج پریشانیوں سے اٹا پڑا ہے۔
زندگی کے بارے میں ممتاز راشد لاہوری کا فلسفہ بھی شاید یہی ہے  کہ وہ اپنی ساری کہانیاں انہی دو خاموشیوں کے درمیانی وقفے یعنی مختصر اور نا پائیدار زندگی سے اخذ کرتے ہیں۔ان کی کہانیاں نا تو سوئے افلاک کی اس قدسی فضا کے حامل ہیں جہاں تک پڑھنے والے کا ذھن پرواز کر سکے اور نہ زمینی اتفاقات اور قیاسات کی بیساکھیوں پر چلتے ہیں کہ باشعور قارئین کی نازک سوچ پر گراں گذریں۔ ان کہانیاں،ان کے افسانے ہماری  روز مرہ حقیقی زندگی کی خوشیوں،حادثوں،خواہشوں اور پریشانیوں کی سچی تصویریں ہیں۔ان کا تعلق ہماری اپنی زمین سے ہے،ہمارے سماج سے ہے،ہمارے دور سے ہے جس میں ہم آپ سانس لے رہے ہیں۔
دھرتی سے جڑے ممتاز راشد لاہوری کی کہانیوں کے کردار ہمارے چار سو بکھرے ہوئے ہیں۔
ممتاز راشد لاہوری بنیادی طور پر شاعری کے میدان کے مسافر ہیں۔درجن بھر شعری مجموعے ان کے کریڈٹ پر ہیں،حفیظ جالندھری مرحوم نے ایک بار کہا تھا کہ کسی ادیب کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ شاعر بھی ہو لیکن ہر شاعر لازمی طور پر ادیب بھی ہوتا ہے۔مرحوم کا یہ قول ممتاز لاہوری پر مکمل طور پر پورا اترتا ہے۔شاعری میں اپنا سکہ منواتے ہوئے انہوں نے نثر کی دو کتابیں،، لاہور کے نئے پرانے رنگ،، اور پاکستانی  نغمہ نگاران،، بھی قارئین کی نظر کی ہیں۔،،بات کا بتنگڑ،،بھی نیم افسانوی مجموعہ تھی جس میں ممتاز راشد نے اپنی نثری اسلوب کی جھلک  دکھائی تھی کہ اس میں بھی چند افسانے شامل تھے۔دل زدہ ان کا مکمل افسانوی مجموعہ ہے۔ان کے اس افسانوی مجموعے میں پنتالیس(45) افسانے ہیں۔ان کے یہ افسانے چھوٹے چھوٹے واقعات پر مبنی ہیں۔
گونگا اور کالو، بلاشبہ ان کا دیہی ماحول میں جاگیردارانہ نظام میں جنم لینے والا کامیاب تریں افسانہ ہے۔ممتاز راشد لاہوری نے اپنا زیادہ دقت غیر ممالک میں گذارا ہے لیکن اس افسانے میں چند اس افسانے میں چند الفاظ میں جاگیردارانہ غلام گردشوں میں جنم لینے والی کہانیوں کو کچھ اس انداز میں بیان کیا ہے گویا اسی دھرتی کے جاگیردارانہ نظام کے وہ خود حصہ رہے ہوں اور کہانی کہنے کا یہ انداز انہی کا خاصا ہے۔
مختصر سے بیانئے سیتمان صورتحال پورے جذبات کے ساتھ ابھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ کہانی کا کردار نمبردار مہر شیرا حویلی کے اندر موجود خواتین میں سے کسی کے ساتھ رات کو گھر کی دیوار پھلانگ کر مراسم بڑھانے پر اپنے ایک ملازم کالو کو قتل کرکے قتل کا الزام دوسرے گونگے ملازم پر اس امید پر لگوا دیتا ہے کہ اسے ہر قیمت پر بچا لیا جائے گا۔ایک پیرا دیکھیئے۔
،،پولیس کے سپاہی گونگے کو گرفتار کرکے اسے ہتھکڑی لگا کر ابھی مہر شیرا کی حویلی کے باہر بیٹھے تھے،گونگا خاموش اور پر سکون تھا۔ مہر شیرا  لسی پانی سے سپاہیوں کی ٹہل سیوا کر چکا تو سپاہی گونگے کو لے کر تھانے کی طرف چل دئیے۔ تھوڑی دور تک مہر شیرا بھی ساتھ گیاواپس مڑتے ہوئے اس نے رک کر گونگے کے شانے پر ہاتھ رکھا۔ مہر شیرا کی آنکھوں میں جھانکنے کے بعد گونگے کے چہرے پر اطمینان کا تاثر نزید گہرا ہو گیا تھا۔اسی شام مہر شیرا گاؤں کے دو معماروں کو بلا کر حویلی کی چاردیواری کو مزید اونچا کرنے کا تخمینہ لگوا رہا تھا۔،،
ممتاز راشد لاہوری نے مکالمے کی بجائے بیانئے میں اپنی کہانی کو معنی عطا کئے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ انہوں نے مکالمے کا استعمال نہیں کیا۔ جس افسانے  کو انہوں نے کتاب کا نام دیا ہے وہ،،دل زدہ،، ہے جو سراپا مکالمہ ہے۔
ان کے افسانے،بندصندوق، دلیر لڑکی ڈرپوک ماں،ڈھلتی عمر کا میک اپ  اور چوبیسویں صدی کے معدوم رشتے، ایسے افسانے ہیں جنہیں ممتاز راشد لاہوری نے خوشگوار موڑ دے کر ختم کر دیا ہے۔ان کے اختتام پڑھتے ہوئے ایک دھیمی سی مسکراہٹ لبوں پر پھیل جاتی ہے۔ ان افسانوں میں،دلیر لڑکی ڈرپوک ماں، اچھی کرافٹ کا افسانہ ہے اور بقول ڈاکٹر سلیم اختر افسانہ ختم کرنے کا یہ انداز کسی حد تک بین الاقوامی  قرار دیا جا سکتا ہے۔
ممتاز راشد لاہوری نے اپنے افسانوی مجموعے کا انتساب تاجدارِ افسانہ سعادت حسن منٹو کے نام کیا ہے اور یقیناََ درست ہی کیا ہے کہ انہی کی اختصار نویسی کی تقلید کی ہے۔ممتاز راشدلاہوری نے۔ان کے افسانوں میں پاکستانی معاشرت کی جھلک جا بجا بکھری پڑی ہے۔افسانے،گونگا اور کالو،گدلا پانی، شہرِ تصور،ایک محرومی کا ازالہ،روٹھی ہوئی بیوی، نئے گھر کا نامکمل نقشہ،پھیکی چائے،پڑھتے ہوئے ممتاز لاہوری کی انسانی نفسیات پر گہری نظر کی داد دینی پڑتی ہے۔
،،بند صندوق،، اس افسانوی مجموعے کا ایک اور اہم افسانہ ہے جو عصمت چغتائی  کی خالہ بی کا صندوق یاد دلا دیتا ہے،فرق ہے تو کردار سازی اور لکھنے کے انداز میں جو مختلف ٹریٹ منٹ لئے ہوئے ہے۔
ممتاز لاہوری نے پنتالیس افسانوں میں پنتالیس ذائقے قاری کو چکھا دئیے ہیں،وہ اختصار نویسی میں ماہر ہیں شاید ایسا اس لئے ہے کہ وہ شاعر ہیں جہاں دو مصروں میں پورا جہان باندھنا پڑتا ہے،کہانی کا حسن اسے بنائے رکھنے میں ہے لیکن کہیں طوالت کے چکر میں کہانی میں مضمون کی لذت آگئی ہے جیسا کہ ان کی کہانی، مست قلندر، ہے ہاں تصوف کے سلسلوں کا بیان اسے افسانے کی حدود سے باہر لے جاتا محسوس ہوتا ہے۔ممتاز راشد لاہوری کو افسانوں کی بنت میں توازن کو برقرار رکھنا چاہیئے۔
کہانی کے دلدادہ افراد کے لئے دل زدہ  ایک اچھا اضافہ ہے۔رحمانیہ کتاب مرکز،298الحمرا ٹاؤن، رائے ونڈ روڈ لاور کی شائع کردہ اس کتاب کی قیمت 250 روپے ہے۔کتاب کے حصول کے لئے میاں عدیل ممتاز،119۔آصف بلاک علامہ اقبال ٹائعن لاہور سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
 

اتوار، 13 مارچ، 2016

ادب سرائے انٹرنیشنل کی اسلام آباد میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب ، مقامی شعرا میں گولڈ میڈل کی تقسیم اور خواتین کا مشاعرہ

ادب سرائے انٹرنیشنل نے اسلام آباد کلب میں ڈاکٹر قاسم بگھیو کی زیر۔صدارت خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں مقامی شعرا میں گولڈ 
میڈل تقسیم کیے گئے خواتین کا مشاعرہ بھی ہوا۔ 
 مارچ 11 کو ظفربختاروی وائس پر پریزیڈنٹ چیمبر آف 

کامرس چئیرمین پاکستان کلچرل کونسل کے تعاون سے ہونے والے اس اجلاس میں ادب سرائے انٹرنیشنل کے اسلام آباد  چیپٹر کے آغاز کا اعلان بھی کیا گیا ۔احمد فاروق خان اور ایمان فاروق  کو چئیرمین مقرر کیا گیا جبکہ منتظم اعلی کی  ذمہداری نعمانہ فاروق کے سپرد کی گئی

ادب سرائے کی چیر پرسن ڈاکٹر شہناز مزمل نے سب کا شکریہ ادا کیا

اکادمیکا لٹریری سوسائٹی گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ساہیوال کی تنقیدی نشست،ابرار حسین نے "بے حسی" اور شہلا نورین نے "کاش! میں تیری بیٹی نہ ہوتی" کے عنوان سے اپنے افسانے تنقید کے لئے پیش کئے

 
گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ساہیوال کی ادبی، علمی اور تہذیبی مجلس "اکادمیکا" کا دوسرا تنقیدی اجلاس ملک محمد انور لائبریری کے ہال میں منعقد ہوا۔ تنقیدی نشست کی صدارت شعبۂ اردو کے استاد پروفیسر محمد رفیق ظہیر نے کی جبکہ پرنسپل پروفیسر اخلاق حسین عارف مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض محمد افتخار شفیع نے ادا کئے۔ 

اس تقریب میں علم و ادب سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کی کثیر تعداد کے علاوہ مختلف شعبہ جات سے اساتذہ کرام نے شرکت کی، جن کے اسمائے گرامی پروفیسر ڈاکٹر مرزا معین الدین، پرفیسر شفیق خلیل بٹ، پروفیسر ریحان احمد، پروفیسر بلال اشرف، پروفیسر حنا جمشید صاحبہ اور پروفیسر بشریٰ امین صاحبہ ہیں۔ اکادمیکا کے روحِ رواں پروفیسر عمران جعفر بھی موجود تھے۔ باقاعدہ آغاز تلاوت سے ہوا، جو ثوبیہ ریاض نے کی۔ 

آج کا اجلاس اردو کی ایک اہم صنف افسانہ کے لئے تھا۔ کالج کے طلباء میں سے ابرار حسین نے "بے حسی" اور شہلا نورین نے "کاش! میں تیری بیٹی نہ ہوتی" کے عنوان سے اپنے افسانے تنقید کے لئے پیش کئے۔ شرکاء نے دونوں افسانوں پر بھرپور بحث کی۔ کرداروں، اسلوب اور کہانی کے تناظر میں دونوں افسانوں پر نہایت خوبصورت بحث کی۔



جمعرات، 10 مارچ، 2016

نیچے کون جائے ۔۔خالد علیم


کچھ تو ہم بھی کسی گمان میں تھے / اور کچھ یاد بھی نہ آئے تم ۔۔ افتخار شفیع

افتخار شفیع
اتنے برسوں کے بعد آئے تم
اب بھی لگتے نہیں پرائے تم
ایک ملبوس کے بدلنے سے
کتنے رنگوں میں جھلملائے تم
بنسری بج رہی تھی دور کہیں
رات کس درجہ یاد آئے تم

بدھ، 9 مارچ، 2016

عورت!!! تیرے کتنے روپ -- انجم عثمان

عورت!!! تیرے کتنے روپ...! 
ایک سے بڑھ کے ایک..! 
ماں! بہن! بیوی! اور بیٹی! 
سارے دوپ سروپ....!!!!
ماں کا آنچل! 
ٹھنڈی چھایا! 
کاہے کی پھر دھوپ....!!!!
بہنا واری واری جاےء! 
اس کا پیار انوکھا بھیا!