ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


منگل، 19 جنوری، 2016

نصیر کوٹی کا مجموعہِ نعت ،، صفاتِ سرورِ عالم،،

صفاتِ سرورِ عالم


تجلی پاش ہے ہر ایک کوچہ
مدنیہ روشنی ہی روشنی ہے

اسی روشنی نے دنیا کی ظلمتوں کو صبحِ درخشاں کا جمال بخشا۔ اسی روشنی  سے مہروماہ نے اکتساب کیا۔اسی روشنی نے آئینہِ کائنات کو آب بخشی،اسی روشی سے تخلیق کے عمل کا آغاز ہوا۔اسی روشنی نے انسان کو زمین پر معجزات اور آسمان پر تجلیات دیکھنے کے قابل بنایا۔اسی روشنی میں خلقں خدا کو ذات اور صفات کے مظاہر نظر آئے۔
نصیر کوٹی، کراچی میں مقیم نہایت سینئر شاعر ہیں۔،،صفاتِ سرورِعالم،، ان کا تازہ نعتیہ مجموعہِ کلام ہے۔اس سے پہلے ان کے دو شعری مجموعے ان کے استادانہ پختگی کی صورت دادِ ٹحسین حاصل کر چکے ہیں۔ان کا موجودہ  نعتیہ مجموعہ،نا صرف فکری اجتہاد اور لسانی تشکیلات کے میدان 

میں فنی جہاد ہے بلکہ یہ مجموعہ ندرتوں اور جدتوں کی دولت سے مالا مال ہے۔
،،صفاتِ سرورِعالم،، کے خالق نے فکر اور جذبے کے درمیان توازن کا اہتمام کیا ہے۔ جنابِ رسالت مآب کے جمال کی لفظی مصوری کوئی آسان کام نہیں ہے۔
جمالِ صورت ہو یا جمالِ سیرت،اسے آئینہِ شعر سے منعکس کر کے قاری کے دل میں اتارنا کمالِ فن کا مطالبہ کرتا ہے۔نصیر کوٹی نے بڑے محتاط انداز اور دل پذیر اسلوب میں اسے بطریقِ احسن پورا کیا ہے۔
ہے ستاروں میں نہ وہ شمعِ ضیا بار میں ہے
ضو فشانی جو رخِ احمدِ مختار میں ہے
یہ تابشِ چہرہ ِ مقدس،کہ جیسے ہو کوئی تارا
اسے کہیں عکسِ ماہ و اختر،درود تم پر سلام تم پر
یہ دلیل رفعتِ ذات کی،یہ ثبوت اوجِ صفات کا
جسے لوگ کہتے ہیں کہکشاں، وہ تو نقشِ پائے رسول ہے
صدقہ بتا کے چہرہِ انوار کا دوستو
پھولوں پہ رنگ و نور لٹاتی رہی بہار
کیا شان تھی نصیر رسالت مآب کی
حاضر ہوئے سلام کو جبریل بار بار
ہے یہ اثرِ چہرہِ  زیبائے محمد
بیگانہِ عالم ہے شناسائے محمد
تنویر کوئی جادۂ فردوس کی دیکھے
روشن ہیں جہانِ نقشِ کفِ پائے محمد

،،صفاتِ سرورِ عالم،، کی شاعری دراصل عقیدے اور محبت کی شاعری ہے۔ شاعر ایمان،یقین اور پختہ عقیدے کو دینِ مبین کی اساس سمجھتے ہیں۔
نصیر کوٹی کو اپنی عقیدے اور اپنی محبت پر پورا اعتماد ہے۔اس لئے وہ پوری سچائی کے ساتھ عقیدے اور محبت کی شاعری کرتے اور اس شاعری کو دنیا میں فضیلت اور آخر میں شفاعت کا وسیلہ گردانتے ہیں۔ ان کی نعت کا مطالعہ کریں تو یہی فضا قائم رہتی ہے۔ ایک  طرف عشقِ رسول میں جذبات کا وفور اور سیرت کا گہرا مطالعہ نصیر کوٹی سے ادبیت،علم و عرفان اور عقیدے سے معمور شعر کہلواتا ہے۔
ہے شہپرِ جبریل کی پرواز سے باہر
وہ عرش کا حصہ جو ابھی زیرِ قدم ہے
ہو نعت مکمل تو جبیں اپنی اٹھائے
مصروفِ عبادت میں ابھی میرا قلم ہے
فرمانِ محمد پہ عمل کرکے تو دیکھو
بیتاب برسنے کے لئے ابرِ کرم ہے
کچھ اس کے سوا اور سبب ہو نہیں سکتا
سرکار کی نسبت سے نصیر اپنا بھرم ہے
دوسری طرف نعتوں کی مدحت بھری فضاؤں  میں اپنی ذات اور شاعری کو سمونے سے ان کی نعتیں حسنِ توازن اور حسنِ توازن کی عکاس نظر آتی ہیں۔
خدا توفیق بخشے نعت گوئی کی نصیر ایسی
ہمارا نام بھی ہو درج فہرستِ ثناء گر میں 
تم مانگ رہے ہو طرب و عیشِ جہاں میں 
میں نعت نویسی کا ہنر مانگ رہا ہوں 
جو بزمِ نعت کی زینت بنی ہوئی ہے نصیر
یہ روشنی تو اسی روشنی سے آئی ہے
اظہار کی قوت، جذبات کی شدت اور عقیدے کی پختگی نصیر کوٹی کی نعت کا وصفِ خاص ہے۔انہوں نے نعت کی سر زمین میں بڑی احتیاط سے قدم رکھا ہے۔جس نے ان کی شاعری کو پراثر سادگی کا جوہر عطا کیا ہے جو دیگر شعرا میں خال خال 
نظر آتا ہے۔

صفاتِ سرورِ عالم،مشتاع مطبوعات کی پیش کش ہے،قیمت350روپے ہے۔ حروف بینی انور جاوید ہاشمی کی ہے۔خریدنے کے لئے نور سہارن پوری سے فون نمبر0321.2990244پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
صفاتِ سرورِ عالم

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں