ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعرات، 28 جنوری، 2016

یہ خامشی تو مری ذات کا حوالہ ہے ۔۔ شہناز مزمل

شہناز مزمل
میں کھو گئی ہوں مگر اب گمان بولے گا
مکیں بغیر یہ خالی مکان بولے گا
یہ خامشی تو مری ذات کا حوالہ ہے
میں گم ہوں عشق میں میرا گیان بولے گا
تمازتوں سے بچاتا جو ماں ہے ممتا ہے
یقیں دلانے کو ہر سائبان بولے گا
سفینہ لانے کو ساحل پہ جاں سے کھیلا ہوں
ہر ایک ٹوٹا ہوا بادبان بولے گا
زمانے بھر کی سمیٹی ہے تیرگی شب نے
ملے گی جب بھی زباں آسمان بولے گا
جو میری روح مرے جسم و جاں میں بستا ہے
وہ آج تیرے میرے درمیان بولے گا
اگرچہ میرا جنوں مجھ کو بے خبر کردے
زمین بولے گی سارا زمان بولے گا

منگل، 19 جنوری، 2016

نصیر کوٹی کا مجموعہِ نعت ،، صفاتِ سرورِ عالم،،

صفاتِ سرورِ عالم


تجلی پاش ہے ہر ایک کوچہ
مدنیہ روشنی ہی روشنی ہے

اسی روشنی نے دنیا کی ظلمتوں کو صبحِ درخشاں کا جمال بخشا۔ اسی روشنی  سے مہروماہ نے اکتساب کیا۔اسی روشنی نے آئینہِ کائنات کو آب بخشی،اسی روشی سے تخلیق کے عمل کا آغاز ہوا۔اسی روشنی نے انسان کو زمین پر معجزات اور آسمان پر تجلیات دیکھنے کے قابل بنایا۔اسی روشنی میں خلقں خدا کو ذات اور صفات کے مظاہر نظر آئے۔
نصیر کوٹی، کراچی میں مقیم نہایت سینئر شاعر ہیں۔،،صفاتِ سرورِعالم،، ان کا تازہ نعتیہ مجموعہِ کلام ہے۔اس سے پہلے ان کے دو شعری مجموعے ان کے استادانہ پختگی کی صورت دادِ ٹحسین حاصل کر چکے ہیں۔ان کا موجودہ  نعتیہ مجموعہ،نا صرف فکری اجتہاد اور لسانی تشکیلات کے میدان 

میں فنی جہاد ہے بلکہ یہ مجموعہ ندرتوں اور جدتوں کی دولت سے مالا مال ہے۔
،،صفاتِ سرورِعالم،، کے خالق نے فکر اور جذبے کے درمیان توازن کا اہتمام کیا ہے۔ جنابِ رسالت مآب کے جمال کی لفظی مصوری کوئی آسان کام نہیں ہے۔
جمالِ صورت ہو یا جمالِ سیرت،اسے آئینہِ شعر سے منعکس کر کے قاری کے دل میں اتارنا کمالِ فن کا مطالبہ کرتا ہے۔نصیر کوٹی نے بڑے محتاط انداز اور دل پذیر اسلوب میں اسے بطریقِ احسن پورا کیا ہے۔
ہے ستاروں میں نہ وہ شمعِ ضیا بار میں ہے
ضو فشانی جو رخِ احمدِ مختار میں ہے
یہ تابشِ چہرہ ِ مقدس،کہ جیسے ہو کوئی تارا
اسے کہیں عکسِ ماہ و اختر،درود تم پر سلام تم پر
یہ دلیل رفعتِ ذات کی،یہ ثبوت اوجِ صفات کا
جسے لوگ کہتے ہیں کہکشاں، وہ تو نقشِ پائے رسول ہے
صدقہ بتا کے چہرہِ انوار کا دوستو
پھولوں پہ رنگ و نور لٹاتی رہی بہار
کیا شان تھی نصیر رسالت مآب کی
حاضر ہوئے سلام کو جبریل بار بار
ہے یہ اثرِ چہرہِ  زیبائے محمد
بیگانہِ عالم ہے شناسائے محمد
تنویر کوئی جادۂ فردوس کی دیکھے
روشن ہیں جہانِ نقشِ کفِ پائے محمد

،،صفاتِ سرورِ عالم،، کی شاعری دراصل عقیدے اور محبت کی شاعری ہے۔ شاعر ایمان،یقین اور پختہ عقیدے کو دینِ مبین کی اساس سمجھتے ہیں۔
نصیر کوٹی کو اپنی عقیدے اور اپنی محبت پر پورا اعتماد ہے۔اس لئے وہ پوری سچائی کے ساتھ عقیدے اور محبت کی شاعری کرتے اور اس شاعری کو دنیا میں فضیلت اور آخر میں شفاعت کا وسیلہ گردانتے ہیں۔ ان کی نعت کا مطالعہ کریں تو یہی فضا قائم رہتی ہے۔ ایک  طرف عشقِ رسول میں جذبات کا وفور اور سیرت کا گہرا مطالعہ نصیر کوٹی سے ادبیت،علم و عرفان اور عقیدے سے معمور شعر کہلواتا ہے۔
ہے شہپرِ جبریل کی پرواز سے باہر
وہ عرش کا حصہ جو ابھی زیرِ قدم ہے
ہو نعت مکمل تو جبیں اپنی اٹھائے
مصروفِ عبادت میں ابھی میرا قلم ہے
فرمانِ محمد پہ عمل کرکے تو دیکھو
بیتاب برسنے کے لئے ابرِ کرم ہے
کچھ اس کے سوا اور سبب ہو نہیں سکتا
سرکار کی نسبت سے نصیر اپنا بھرم ہے
دوسری طرف نعتوں کی مدحت بھری فضاؤں  میں اپنی ذات اور شاعری کو سمونے سے ان کی نعتیں حسنِ توازن اور حسنِ توازن کی عکاس نظر آتی ہیں۔
خدا توفیق بخشے نعت گوئی کی نصیر ایسی
ہمارا نام بھی ہو درج فہرستِ ثناء گر میں 
تم مانگ رہے ہو طرب و عیشِ جہاں میں 
میں نعت نویسی کا ہنر مانگ رہا ہوں 
جو بزمِ نعت کی زینت بنی ہوئی ہے نصیر
یہ روشنی تو اسی روشنی سے آئی ہے
اظہار کی قوت، جذبات کی شدت اور عقیدے کی پختگی نصیر کوٹی کی نعت کا وصفِ خاص ہے۔انہوں نے نعت کی سر زمین میں بڑی احتیاط سے قدم رکھا ہے۔جس نے ان کی شاعری کو پراثر سادگی کا جوہر عطا کیا ہے جو دیگر شعرا میں خال خال 
نظر آتا ہے۔

صفاتِ سرورِ عالم،مشتاع مطبوعات کی پیش کش ہے،قیمت350روپے ہے۔ حروف بینی انور جاوید ہاشمی کی ہے۔خریدنے کے لئے نور سہارن پوری سے فون نمبر0321.2990244پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
صفاتِ سرورِ عالم

سوموار، 11 جنوری، 2016

پانی کے نیچے سفر ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط ۔23

پانی کے نیچے سفر


رات کا سماں ہو،سمندر کا کنارہ ہو،لکڑی کا فرش ہو،جس کے  باہم جڑے ہوئے تختوں کی باریک باریک درزوں سے سمندر کا پانی اپنی جھلک دکھا رہا ہوسمندر کے پانی کے اس پار آسمان سے باتیں کرتی عمارتوں کی کھڑکیوں سے باہر جھانکتی روشنیاں سمندر کے ہلورے کھاتے پانیوں میں اٹکھیلیاں کر رہی ہوں اور اس بورڈواک پر بنے سٹیج پر سیر کے لئے آنے والے فنکار سازوآواز کی محفل سجائے ہوئے ہوں تو اس سحر انگیز ماحول میں کھو جانے کو دل کرتا ہے۔
نیو جرسی اور نیویارک ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ریاستیں ہیں بالکل اسی طرح جیسے میری لینڈ،واشنگٹن اور ورجینیا ہیں،وہاں فاصلوں کو چونکہ وقت کے پیمانے پر ماپا جاتا ہے اس لئے نیویارک سے نیوجرسی پون سے ایک گھنٹہ کی دوری پر ہیں۔

نیو جرسی میں رابعہ کے بھائی سلمان کے دوست کی رہائش ہے۔عدیل اور رابعہ اس سے فون پر رابطے میں رہتے ہیں۔نیویارک میں آنے کیبعد عدیل نے عمر سے کئی بار بات کی اور مختلف قابلِ دید مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں، وہ چونکہ یہاں کافی عرصے سے ہے اس لئے اس کی معلومات بڑی وسیع ہیں۔ٹائمز سکوئر کی بتیاں اور پرشور ہجوم سے دل گھبرایا تو عدیل کے پوچھنے پر عمر نے نیو جرسی میں سمندر کے کنارے اس پر سکون جگہ پر کچھ وقت گذارنے کا مشورہ دیا۔
اب ہم نیویارک سے نیو جرسی جا رہے تھے،عنایہ کو دلچسپی یہ تھی کہ رستے میں ہم ٹنل سے گذریں گے۔وہ ہر دو  منٹ کے  بعد پوچھ لیتی تھی،،ویئر از ٹنل،،۔عدیل ہر بار اسے کہتا تھا بس ابھی آتی ہے ایک بگ بگ ٹنل اور عنایہ گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگتی تھی۔ہم اسی طرح باتیں کرتے ہنستے  ہنساتے چلے جا رہے تھے کی سامنے لنکن ٹنل آ گئی۔عدیل نے عنایہ سے کہا،، لک عنایہ ووئی آر انٹرنگ ان آ بگ بگ ٹنل،،۔عنایہ آنکھیں پھاڑ کر سامنے دیکھنے لگی کیونکہ ٹنل میں سے گذرنے کا اس کا تو پہلا تجربہ تھا۔
عدیل نے بتانا شروع کیا کہ اس ٹنل کے اوپر سے دریا گزرتا ہے اب ہم پانی کے نیچے سے گذر رہے ہیں۔ٹنل مکمل روشن تھی،یہ ٹنل تین راستوں پر مشتمل ہے۔ہر سڑک کی چوڑائی 21.6فٹ ہے۔بیرونی ڈایا میٹر31فٹ اور سڑک سے دریا کی اونچائی97فٹ ہے۔یہ تقریباََ ڈیڑھ میل لمبی تین سرنگیں ہیں۔ان تینوں کی لمبائی کچھ مختلف ہے کیونکہ یہ اونچے نیچے پہاڑی علاقوں سے گذرتی ہیں۔سنٹرل ٹیوب جس میں سے ہم اس وقت گذر رہے ہیں 8,216فٹ لمبی ہے اور اسے سن 1937میں تعمیر کیا گیا۔اس کے بعد نارتھ ٹنل ہے جس کی لمبائی7,482فٹ ہے اور اسے سن1945میں تعمیر کیا گیا۔اور تیسری ہے ساؤتھ ٹیوب جسے سن1957مین ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔اس کی لمبائی8,006فٹ ہے۔

دریائے ہڈسن کے نیچے سے اس لنکن ٹنل کے علاؤہ ایک اور ٹنل بھی نکالی گئی ہے جسے ہولینڈ ٹنل کہتے ہیں۔
عدیل ذرا چپ ہوا تو میں نے ہنستے ہوئے اسے کہا کہ تم نیویارک پہلے تو کبھی آئے نہیں لیکن بتا ایسے رہے ہو جیسے نیویارک میں ہی رہتے ہو اور روز یہیں سے گذرتے ہو۔
عدیل شوخ سے لہجے میں بولا،،گوگل بابا زندہ باد،جو پوچھو سب بتاتا ہے،راستہ بتانے کے لئے،،ماسیاں،، رکھی ہوئی ہیں جو گٹ پٹ کرتے ہوئے راستہ بتاتی رہتی ہیں اور پھر میرا تو فیلڈ ہی یہ ہے،،
،،تو اگر تیرا یہ گوگل بابا سب کچھ بتاتا ہے تو عنر سے کیوں پوچھ رہے تھے،،میں بھی پوچھ لیا۔
،،وہ۔۔وہ تو جگہ کا نام پتہ پوچھا تھا،اب میں نے جگہ کا نام پتہ گوگل بابا کو دے کر معلومات مانگیں تو گوگل بابا نے سب کچھ اگل دیا میرے سامنے،ایک سٹروک کی مار ہے گوگل بابا،سب کچھ اگل دیا،،عدیل بولا
،، اچھا  ٹھیک ہے،بڑا گنی ہے تمہارا یہ گوگل بابا۔اور کیا بتایا اس نے میں نے پوچھا
،،اس کا کہنا ہے کہ نیویارک کی آبادی بڑھتی جا رہی تھی اسی رفتار سے ٹریفک بھی بڑھ کر مسئلہ بن رہی تھی اس لئے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے یہ ٹنل بنائی گئی۔اس ٹنل کے ذریعے نیویارک اور نیو جرسی کی ٹریفک کو کنٹرول کیا گیا۔یہ ٹنل مین ہاٹن اور نیو جرسی کے درمیان بڑا اہم رابطہ ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس ٹنل سے روزانہ ایک لاکھ گاڑیاں گذرتی ہیں،، عدیل نے جواب دیا
میں سوچ میں پڑ گیا کہ ان سرنگوں کو بنے ستر اسی سال ہو گئے ہیں اور یہ ویسی کی ویسی ہیں،ایک ہمارے ہاں بنائے جانے والے پل اور سڑکیں ہیں جو اتنی جلدی ختم ہوتی ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا،ابھی یہی کوئی تیس سال پہلے کی بات ہے پتوکی کا برج بن رہا تھا اور دس بارہ سال بعد ہی اس میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی تھی اور گذشتہ تین سالوں میں یہ پل آثارِ قدیمہ کا نقشہ پیش کرنے لگا اور اس کی جگہ نیا پل بنایا گیا جو پہلے سی سال ایک جانب سے بیٹھ گیا،
خیر
باتوں ہی باتوں میں ہم لنکن ٹنل سے نکل کر نیو جرسی میں پہنچ گئے،وہاں جا کر عمر کے بتائے ہوئے پاکستانی ہوٹل میں کھانا کھانے جانے کے لئے ہوٹل کے سامنے پبلک پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے سڑک کراس کی اور دوسری جانب واقع ہوٹل میں جا کر بیٹھ گئے،شاید کھانا ہی بہت لذیز تھا یا ہمیں بہت بھوک لگی تھی اس لئے سیر ہو کر کھانا کھایا۔
ٹائمز سکوئر کی روشنیوں اور وہاں کے اودھم سے نکل کر یہاں ایک سکون کا احساس ہو رہا تھا،اب کھانا بھی کھا لیا تھا اس لئے اس مقام کی طرف چلے جہاں سے مین ہاٹن رات کی تاریکی میں کچھ زیادہ ہی خوبصورت نظر آتا ہے۔اس جگہ پہنچنے سے پہلے ہمیں رکنا پڑا کہ وہاں ٹرین ٹریک تھا اور دور سے ٹرین سیٹی بجاتی آ رہی تھی۔ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی گذر کر پلیٹ فارم پر جا کر کھڑی ہو گئی۔اور ہم نے بھیریلوے لائن کراس کر کے سامنے نظر آنے والے بورڈ واک کی جانب  قدم بڑھا دئیے۔وہاں بالکل ویسا ہی سماں تھا جیسا عمر نے فون پر بتایا۔ 
رات کا سماں تھا،سمندر کا کنارہ تھا،لکڑی کے باہم جڑے ہوئے تختوں کا بورڈ واک تھا جس کی باریک باریک درزوں سے سمندر کا پانی اپنی جھلک دکھا رہا تھاچلتے چلتے عدیل نے اپنی ماں کو درزوں سے جھلکتے پانی سے ڈرایا کہ ہم سمندر پر چل رہے ہیں۔وہاں ایک جانب سٹیج پر پہلے سے آئے ہوئے لوگوں کا قبضہ تھا جو موسیقی کے مختلف آلات کے ساتھ دھیمی دھیمی موسیقی بکھیرنے کی کوشش کر رہے تھے جو گٹار کی تاروں پر زوردار انگلی لگنے سے بے سری ہو جاتی تھی۔ان فنکاروں کے سامنے لکڑی کے وسیع میدآن میں بچے کھیل رہے تھے۔عنایہ بھی دادی کا ہاتھ چھڑا کر ان میں شامل ہو گئی،دادی بھی پیچھے بھاگنا چاہ رہی تھیں کہ عدیل نے روک دیا۔ہم سامنے سمندر کے کنارے جا بیٹھے کہ زیادہ سے زیادہ عنایہ یہیں آئے گیتو ہم پکڑ لیں گے۔
سامنے مین ہاٹن کی عمارتوں کی کھڑکیوں سے باہر جھانکتی روشنیاں سمندر کے ہلورے کھاتے پانیوں میں اٹکھیلیاں کر رہی تھیں،یہ بڑا دلکش نظارہ تھا۔دائیں جانب دور بہت دور مجسمہِ آزادی کی دھندلی سی جھلک نظر آ رہی تھی۔ کیا سحر انگیز منظر تھا۔کوئی کوئی جگہ ایسی ہوتی ہے جس کا سحر انسان کو جکڑ لیتا ہے اور یہ بھی کچھ ایسی ہی جگہ تھی۔

بدھ، 6 جنوری، 2016

گیارہ ستمبر کے آنجہانی لوگوں کی یادگار ۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔ قسظ ۔ 22

 گیارہ ستمبر کے آنجہانی لوگوں کی یادگار


ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے بارے میں سن رکھا تھا کہ اپنے زمانے میں دنیا کی بلند ترین عمارت تھی۔ایک ہزار تین سو فٹ بلند،ایک سو دس منزلہ عمارت تصاویر میں آسمان سے باتیں کرتی محسوس ہوتی تھی۔ایسا کوئی وسیلہ نا تھا کہ ایسی شان و شوکت والی شاندار عمارت دیکھ سکیں۔کچھ کارِ روزگار کی مجبوری اور کچھ قلتِ زر ہمیشہ ایسے معاملات میں آڑے آتی رہی،وہ تو اللہ بھلا کرے عدیل کا کہ ہمیں اس نے دنیا کے بہت سے ممالک کی سیر کرا دی۔
ون ورلڈ ٹریڈ سنٹر ، نیویارک

ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت یا عمارتوں کا مجموعہ کہتے ہیں کہ 16ایکڑ پر بنی ہوئی تھیں،اسے امریکی آرکیٹیکٹ Miniru Yamasakiنے ڈیزائین کیا تھا اور اس کے تخلیق کار کا دعویٰ تھا کہ یہ عمارت اتنی مضبوط ہے کہ اسے توڑنے یا گرانے کا سوال ہی پیدا نہیں  ہوتا۔
تخلیق کار کا دعویٰ کچھ غلط بھی نا تھا کیوں کے اس نے اپنے وقت کی بلند ترین اور آٹھویں عجوبے،، ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ سے سن 1945میں ایک سپر سانک جیٹ طیارے کے ٹکرانے اور اس سے ہونے والے اوپری تین منزلوں کے نقصان کو بھی مدِ نظر رکھا تھا۔لیکن نیویارک کے لوگوں نے تخلیق کار کے دعویٰ کو غلط ہوتے اور قیامتِ صغرا ء بپا ہوتے دیکھی۔یہ گیارہ ستمبر 2001کی صبح پونے نو بجے کا وقت تھا جب ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں کام کرتے لوگوں نے جیٹ طیاروں کو اپنی جانب بڑھتے اور ٹاوروں سے ٹکراتے دیکھاور دونوں ٹاور دیکھتے ہی دیکھتے زمیں بوس ہو گئے۔
سرکاری اعلانیے کے مطابق،چار جیٹ طیارے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ہائی جیکروں نے اغوا کئے دو طیارے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹاوروں سے ٹکرا دئیے،ایک طیارہ پینٹاگون پر گرا دیا اور ایک کو امریکی حکام نے مار گرایا۔اس حملے میں اس کمپلیکس کی دوسری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا،اسی حادثے میں تکلیف دہ عمل یہ تھا کہ2763افراد لقمہِ اجل بن گئے۔
اس واقعہ کو14برس بیت گئے تھے جب ہمیں امریکہ یاترا کا موقع ملا،ہمیں اس وقت بھی اور آج بھی اس سانحہ پر افسوس ہے اس لئے نہیں کہ ایسی عظیم الشان عمارتیں تباہ ہو گئیں بلکہ اس لئے کہ ہزاروں افراد لقمہِ اجل بن گئے اور انسانی جان کی تلافی ممکن نہیں ہے،یہ ہمارا احساس ہے کہ انسانی جان  کا زیاں کہیں بھی نہیں ہونا چاہیئے،لیکن انسان کیا سے کیا بن جاتا ہے وہ خود بھی مر جاتا ہے اور ہزاروں افراد کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے،یہ واقعہ چاہے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر رونما ہو یا چشم زدن میں ہیرو شیما ناگاساکی میں لاکھوں افراد کے لقمہِ اجل بن جانے کا ہو یاافغانستان میں وقوع پذیر ہوا ہو۔بے گناہ افراد کو  موت کے گھاٹ اتارنے والوں کو تو شاید اس بات کا احساس بھی نا ہو کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔
یہ بات یا شاید اسے جذبات کا اظہار کہنا چاہیئے جو صفدر صدیق رضی نے اکتوبر 2001میں  ماہنامہ تخلیق میں شائع ہونے والی اپنی تخلیق میں کیا۔صفدر صدیق رضی نے اس واقعہ کو جس طرح محسو س کیاوہ شاید دنیا بھر میں جنگ کے سیاہ بادلوں کے نتیجے میں مرنے والوں کے لواحقین  کے جذبات کی ترجمانی ہے۔
ورلڈ ٹریڈ سنٹر
زمانے کی قیادت کرنے والو
خلق سے بیوپار
انسانوں سے کاروبار کر کے
تم نے دیکھا ہی نہیں انسانیت سے پیار کرکے
ساری دنیا کو تضارت گہ بنا کر
حرص کیلالچ گہ بنا کر
آؤ اور دیکھو
کہ دنیا کی تجارت گاہ شعلوں میں گھری ہے
آدمی جو آرزو ہے،پیار ہے
مدت سے جنسِ قریہ و بازار ہے
آخر اسے بے قدروپائمال کر کے
نذرِ استحصال کر کے
بھول بیٹھے ہو کہ سیلِ ظلم جب حد سے گزرتا ہے
تو صبرواستقامت کی چٹانوں سے وہ ٹکرا کر پلٹتا ہے
انہی سفاک آنکھوں اور ہاتھوں کی طرف
مانندِ سیل آتش و آہن جھلساتا ہے
ہیروشیما کے ایک تباہ شدہ حصے کو جاپان نے آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر لیا ہوا ہے کیونکہ یہ ایک مفتوح قوم تھی لیکن امرکہ ایک فاتح اور دنیا پر حکمرانی کرنے والی قوم بن کر رہنا چاہتی ہے،وہ اس  سانحہ سے اپنی جگ ہنسائی نہیں چاہتی جتنا ماتم انہوں نے کرنا تھا وہ کر لیا اب  وہ ماتم کروانے کے در پہ ہے۔اس تباہ شدہ حصے پر اب  امریکی نہیں آتے صرف سیاح آتے ہیں۔
اس نے اس جگہ کو جاپانیوں کی طرح محفوظ نہیں کیا بلکہ اسی مقام پر ایک نیا ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تعمیرِ نو کا کام شروع کر دیا ہے بلکہ اس کا بیشتر حصہ تعمیر بھی کر لیا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یہ کمپلیکس دو ٹوئن ٹاوروں سمیت 7عمارتوں پر مشتمل تھا،اب یہ پانچ آسمان سے باتیں کرتے ٹاوروں کے ساتھ ایک میموریل پارک اور میوزیم پر مشتمل ہے۔
اس روز جب ہم نے مجسمہِ آزادی  جانا تھا تو ہم صبح ہی صبح برکلین سے نکل آئے تھے۔مجسمہِ آزادی کے  جزیرے پر کرنے کو کچھ بھی نہیں ہے،آپ یہاں آتے ہیں کچھ سیر کرتے ہیں،تھوڑی دیر مجسمے کو سر اٹھا کر دیکھتے ہیں،اس کے گرد حیرت زدہ آنکھوں کے ساتھ پھرتے ہیں،لیموں پانی کا گلاس ختم کرتے ہیں،دوچار سلفیاں بناتے ہیں اور اگر کوئی ساتھ ہے تو اسے تصویر کھینچنے کے لئے کہتے ہیں،پھر واپسی کے لئے فیری میں آ بیٹھتے ہیں۔ اور بس، اتنا سا ہے مجسمہِ آزادی کے جزیرے کا سفر۔اس  لئے وہاں اتنا وقت بھی نہیں لگا جتنا وہ تک پہنچنے اورجامہ تلاشی میں صرف ہوا تھا،اس لئے ابھی دوپہر ہی تھی چبھنے والی دھوپ کے ساتھ،آپ کو پسینہ تو نہیں آتا لیکن دھوپ اپنا احساس بہرحال کرا دیتی ہے۔واپسی ہماری بیٹری پارک میں ہی ہوئی جو بذاتِ خود ایک سیر گاہ ہے،اس لئے وہاں تھوڑا وقت گذارنا ضروری تھا کیونکہ عنایہ کے لئے مجسمہِ آزادی پر کچھ نہیں تھا اس لئے ہم نے تھوڑی دیر کے لئے اسے وہاں بھاگنے دوڑنے دیا،وہاں ایک بینچ پر بیٹھے بیٹھے میں نے عدیل سے کہا 
،، ورلڈ ٹریڈ سنٹر بھی تو بیٹری پارک کے گردو نواح میں کہیں ہے وہاں چلتے ہیں،،
،، جی پاپا واپسی پر گراونڈ زیرو پر تھوڑی دیر رکتے ہوئے جائیں گے،،عدیل نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا لفظ اپنے آئی فون میں گوگل میپ کے حوالے کرتے ہوئے کہا،
،،یار میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی بات کر رہا ہوں،تم،،گراونڈ زیرو،، کئے جا رہے ہو،، 
میں نے کہا
،،پاپا، ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جگہ کو اب گراؤنڈ زیرو ہی کہتے ہیں،وہاں اب میموریل پارک اور میوزیم بنا دیا گیا ہے،، عدیل نے جواب دیا
،،اچھا،لیکن میں نے تو سنا تھا کہ وہاں دوبارہ ٹریڈ سنٹر تعمیر کر دیا گیا ہے،، میں نے اپنی معلومات کے مطابق کہا۔
،، جی سنا تو میں نے بھی ہے کہ وہاں تباہ ہونے والی عمارتیں دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہیں ایک نیا ٹاور بھی بنا ہے جسے فریڈم ٹاور کہتے ہیں لیکن جہاں ورلڈ ٹریڈ ٹاور تھا وہاں میموریل بنا دیا گیا ہے،،عدیل نے کہا
پھر کہنے لگا مجھے اتنا عرصہ ہو گیا امریکہ آئے لیکن نیویارک پہلی بار آیا ہوں اتنی فرصت  سے آپ لوگوں کے ساتھ،ورنہ کام سے فرصت ہی نہیں ملتی کہ نکل سکوں۔چلیں چل کر دیکھ لیتے ہیں کہ وہاں کیا کیا تھا اور کیا کیا دوبارہ بن گیا ہے۔کیونکہ میرے لئے بھی سب کچھ نیا ہے،،عدیل نے کہا
گاڑی کے پاس پہنچ کر عدیل نے آئی فون میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا پتہ فیڈ کیا تو حیرانی سے بولا،،ارے یہ تو یہاں سے بہت ہی قریب ہے،گاڑی یہیں پارک رہنے دیتے ہیں،پیدل ہی چلتے ہیں۔بیچ بیچ میں سے جلدی پہنچ جائیں گے،ویسے آپ تھکیں گے تو نہیں پیدل چل کر،،
،،ارے نہیں تھکنا کیسا،چلو دیر کس بات کی ہے،، میں نے کہا
ورلڈ ٹریڈ سنٹر جو پہلی بار سن 1973میں لوئر مین ہاٹن میں تعمیر ہوا 7عمارتوں پر مشتمل ایک کمپلیکس تھا جس کی نمایاں خصوصیت اس کے آسمان سے باتیں کرتے ہوئے دو شاھکار ٹوئن ٹاور تھے۔اپنی تعمیر کے وقت ٹاور نمبر ایک،1368فٹ جبکہ ٹاور نمبر دو کی اونچائی1362فٹ تھی۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی یہ ٹوئن ٹاور بلڈنگ سن1973میں دنیا کی بلند ترین عمارت تھی۔نیویارک کے فنانسل ڈسٹرکٹ میں واقع یہ کمپلیکس 13,400,000مربع فٹ آفس جگہ کا حامل تھا۔گیارہ ستمبر 2001میں یہ کاروباری شاھکار تخریب کاری کے نتیجے میں زمین بوس ہو گیا تھا اب یہی شاھکار دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔لیکن اس بار یہ سات عمارتوں کی بجائے پانچ بلندقامت عمارتوں پر مشتمل ہے جس میں نمایاں 104 منزلہ ون ورلڈ ٹریڈسنٹر کی عمارت ہے جو اب امریکہ کی بلند ترین جبکہ دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں چھٹے نمبر پر ہے۔سن 2014میں اس کی تعمیر اگرچہ مکمل ہو گئی تھی لیکن اسے گذشتہ سال کھولا گیا ہے۔ اسے سابقہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے شمالی ٹاور کی جگہ تعمیر کیا گیا ہے،اسے فریڈم ٹاور کا نام دیا گیا تھا لیکن سن 2009میں ہی جب یہ ابھی زیرِ تعمیر ہی تھا اسے ون ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا نام لوٹا دیا گیا۔اس ٹاور کی بلندی اس کے انٹینا کی اونچائی سمیت 1776فٹ ہے اتنی بلندی جان بوجھ کر رکھی گئی ہے کیونکہ 1776وہ سن ہے جب امریکہ کی آزادی کی قرارداد پر دستخط ہوئے تھے،یہی سن مجسمہِ آزادی کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب پر بھی درج ہے۔
عدیل نے ہمیں اس میموریل پارک کے پاس لا کھڑا کیا جہاں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے عظیم الشان آسمان سے باتیں کرتے دو ٹاور اپنی عظمت کی کہانی دنیا بھر کے سیاحوں کو سنایا کرتے تھے،آج وہ جگہ ایک میدآن کی شکل اختیار کر چکی ہے،یہ وہی جگہ ہے جہاں ہزاروں افراد زندگی سے بھرپور جدوجہد میں ہمہ تن مڈروف رہتے تھے،یہیں وہ عمارت تھی جس کی ایک سو چھ اور ایکسو ساتویں منزل پر وہ ریسٹوران تھا جو،،ونڈو آف دی ورلڈ،، کہلاتا تھا،وہاں روزانہ  دو؛اکھ سیاحوں کی آمدورفت رہتی تھی۔میں اس مقام پر اپنا سر آسمان کی جانب کئے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی اونچائی کو اپنے تصور میں لانے کی کوشش کر رہا تھا کہ عدیل نے میرے قریب آتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو آپ کچھ بھی محسوس نہیں کر پائیں گے۔جو چیز موجود ہی نہیں اس کی بلندی کا اندازہ ممکن ہی نہیں ہے۔میں نے اپنی سعیِ لاحاصل ترک کر دی اور جنگلے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا شاید یہ میرا خاموش خراج تھا ان آنجہانی افرد کے لئے جو اس دھشت گردی کی جنگ میں ناحق روئی کے گا لوں کی طرح اڑ گئے تھے۔ 

سوموار، 4 جنوری، 2016

آسماں سے جو بھی اترا تو فرشتہ نہ رہا ۔۔ ستیا پال آنند

ستیا پال آنند
لِمَنِ اُلمُلک؟
کس کا یہ ملک ہے، وہ پوچھتا تھا
کون مالک ہے زمیں کا، مجھے بتلائیں تو
کہتے تھے ملک کا مالک ہے خدا
اب وہ کہتے ہیں کہ ہے ذاتی املاک
ذاتی املاک؟ مگرکس کی ہے؟
آپ کی؟ میری؟ کسی فرد کی یا طائفہ کی؟
کوئی املاک کا مالک بھی تو ہو!
پوچھنے والاکروُبی تھا، مگر
آسماں سے جو بھی اترا تو فرشتہ نہ رہا
صرف انسان .... فقط ایسی دو آنکھوں والا
تھیں فرشتے کی' نہ انسان کی تھیں
اور باہر کی طرف کھلتی تھیں
غور سے دیکھا
میں نے پھر غور سے دیکھا اس کو
خضر؟ الیاس؟ یا ابدال و مقربیں سے کوئی؟
جی نہیں!
ہاڈ اور مانس کا پُتلا ہی تو تھا
میری ہی طرح کا فانی بندہ!
جی ... کہا میں نے ذرا رُک رُک کر
ساری املاک کا مالک تو یقناً ہے، مگر
ہم اسے دیکھ نہیں سکتے ' وہ نادیدہ ہے
تیئس، چوبیس گریڈوں سے کہیں دُور اُوپر
اپنے کتمان میں مخفی ہے، (مگر ظاہر ہے
ان گریڈوں کے توسّط سے تو پہچانتے ہیں )
مالکِ کل ہے وہ اور ناصیہ فرسا ہیں ہم
التجا کرتے ہیں ، سجدوں میں پڑے رہتے ہیں
تیئس چوبیس گریڈوں سے کہیں دُور اوپر
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنی عرض داشت اگر!
(گِر نہ جائے کسی سیڑھی سے پھسل کر نیچے)
اُس تلک پہنچے تو پھر اپنی بھی شنوائی ہو!
ایک لمحے کا توقّف ہی تھا' جس میں ۔۔ مَیں نے
اس کو اقطاب کی صورت میں بدلتا پایا
نور کا بقعہ مگر اب بھی اک انسان ہی تھا
دھیمے لہجے میں کہا اس نے.بہت دیکھ لیا
یہ جہاں رہنے کے قابل ہی کہاں تھا پہلے
اب توارواحِ خبیثہ کے لیے ہے موزوں!
میں تو اس ہستیِ  مطلق کی اماں میں ہوں کہ جو
حاضر و ناظرو موجود سمٰوات میں ہے
اور اُس داور و رازق سے تو میرا رشتہ
تیئس چوبیس گریڈوں پہ نہیں ہے موقوف
راست ہے، سیدھا ہے،ہر وقت روا رہتا ہے
یہ کہا نور کے بقعے نے .....
اورپھر لَوٹ گیا!
( ستیا پال آنند )

جمعہ، 1 جنوری، 2016

سال نو پر۔۔۔۔۔۔ہیپّی نیو ٹیئرز ۔۔ سید انور جاوید ہاشمی

سید انور جاوید ہاشمی
گز شتہ  بر س  کی  وہ  رفتہ سی  شام
آخرش گم ہوئی
بہت سے عزیز و اقارب کو
اس دار ِ فانی سے رخصت ملی
نونہالوں کی آمد رہی
صحن ِ اُمید میں اک طرف
آرزوئوں کی کلیاں کھِلیں
اک طرف ماتمی صف بچھاتے رہے
روز وشب
رات بھی اک جنازے کے ہمراہ تھا
اپنی سانسوں کی گنتی کو پورا کیا
اس عزیزہ نے لبّیک اجل کو کہا
سال ِ نو آگیا
فائرنگ چار جانب سے ہوتی رہی
خلق سوتی رہی
آمد ِ سال ِ نو پر جوانوں کے جذبات
اُمڈا کیے۔۔۔۔۔۔
سال رفتہ بھی ایسا ہی ہوتا رہا
اور آیندہ بھی اس کا امکان ہے۔۔۔
وقت بد لا نہیں۔۔۔۔
صرف دیوار پر اک عدد بڑھ گیا
سال ِ نو آگیا۔
سیّد  انور  جاوید  ہاشمی  یکم جنوری ٢٠١٦ء