ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

بدھ، 28 دسمبر، 2016

شاعری حرف سے خفا ٹھہری / خواب آنکھوں سے دور جا بیٹھے / حامد یزدانی

حامد یزدانی
شاعری حرف سے خفا ٹھہری
خواب آنکھوں سے دور جا بیٹھے
چاندنی چاند سے گریزاں ہے
باغ کیا ہے نِرا بیاباں ہے
اک مگر جگمگا رہا ہے کوئی
گوشۂ ضبط کی نمی سے پرے
گہری خاموشیوں کی وادی میں
جانے کیوں یاد آ رہا ہے کوئی
دل میں غم ہے نہ کوئی ارماں ہے
رنج کے آخری پڑاؤ پر
ہجر آمادہ اک مہک کے تلے
پتّی پتّی بکھرتا پیماں ہے

سوموار، 19 دسمبر، 2016

مٹی کی مہک بلا رہی ہے / کس دیس کی یاد آ رہی ہے / واصف سجاد

واصف سجاد
مٹی کی مہک بلا رہی ہے
کس دیس کی یاد آ رہی ہے
اچھا تھا بہت سلوک اپنا 
دنیا ہمیں کیوں بھلا رہی ہے 
کیوں جانے چراغ گاؤں والے 
شہروں کی ہوا بجھا رہی ہے
کیسی ہے فضائے بے یقینی 
جو دل کے افق پہ چھا رہی ہے
میں دیکھ رہا ہوں اپنا انجام
پتوں کو ہوا اڑا رہی ہے

سوموار، 12 دسمبر، 2016

انور زاہدی کا افسانہ ،، کچے شہتوت،،


آج کی داستان بھی انور / عشق میں تیرے نام ہوجائے / انور زاہدی

اک فسوں بس تمام ہو جائے 
خبر بیشک صلائے عام ہو جائے
قصہ غم کا کیا رہے نہ رہے 
یہ کہانی بھی التزام ہو جائے
دن ڈھلے روز کی طرح لیکن 
وقت سے پہلے شام ہو جائے
شہر میں شور اک مچے ایسا
دن چڑہے قتل عام ہو جائے
آج کی داستان بھی انور 
عشق میں تیرے نام ہوجائے

ہفتہ، 10 دسمبر، 2016

دیکھا تیرا امریکا (آٹھویں قسط)۔ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ امریکہ


وائلن بجاتی، سر بکھیرتی، وہ لڑکی


میری لینڈ کے اوشن سٹی کا ساحل سمندر گوروں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ شہروں کی رونقیں دیکھتے دیکھتے اچانک اوشن سٹی کے تفریحی مقام پر چند روز گزارنے کا پروگرام بنا، اچانک تو یہ ہمارے لئے تھا لیکن عدیل اور رابعہ نے ہمارے پاکستان سے آنے سے پہلے ہی ہمیں گھمانے کا پورا پروگرام مرتب کررکھا تھا، یہی نہیں عدیل نے اپنی سالانہ چھٹیوں میں سے دو ہفتے اسی سلسلے کے لئے بچا رکھے تھے۔

اوشن سٹی، میری لینڈ ریاست کا ایک جزیرہ ہے اور امریکہ میں اسے مِڈ اٹلانٹک ریجن اور تعطیلات کے لئے اہم مقام گردانا جاتا ہے۔ جہاں ہر سال 80 لاکھ افراد تفریح کے لئے آتے ہیں۔ جسے ایک طویل پل نے باقی علاقوں سے جوڑا ہوا ہے۔ اوشن سٹی جس جگہ آباد ہے اسے ایک مقامی امریکی سے ایک انگریز تھامس فنوک نے حاصل کیا۔ سن 1869ء میں ایک بزنس مین اساک کوفن نے ساحلِ سمندر پر پہلے فرنٹ بیچ کاٹیج تعمیر کئے۔ یہاں سیاہ فام تو کم ہی آتے ہیں لیکن گوروں کی بہتات ہے۔ گورے یہاں یا تو ساحلِ سمندر پر اوندھے پڑے سن باتھ لے رہے ہوتے ہیں یا پھر ساحل کے ساتھ ساتھ بورڈ واک کررہے ہوتے ہیں۔
ساحلِ سمندر کے ریتیلے حصے کے ساتھ ساتھ لکڑی کا میلوں لمبا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے جسے بورڈ واک کہتے ہیں، جسے 1902ء میں تعمیر کیا گیا۔ اِس پلیٹ فارم کے آگے دکانوں کی ایک لمبی قطار ہے، اس سے پیچھے ہوٹل ہیں، کھانے پینے کی، کھیلوں کے سامان کی دکانیں بھی ہیں، جن میں کیچرز لگے ہوئے ہیں۔ ان میں بہت قیمتی چیزیں پڑی ہیں، کیمرے اور آئی پوڈز سے لیکر بہت اعلیٰ قسم کے اسٹفڈ ٹوائز تک سب کچھ موجود ہے۔ آپ ایک یا دو ڈالر ان مشینوں میں ڈال کر قسمت آزما سکتے ہیں۔ یہ دکانیں کیسینو سے مختلف ہیں۔ بورڈ واک کے آخری حصے میں طویل القامت فیری ویل نصب ہے جس میں ہنڈولے لگے ہوئے تھے، بچوں نے ہمیں بھی اپنے ساتھ ہنڈولے میں بٹھالیا۔ جب ویل میں ڈولتا ہوا ہنڈولا ہمیں لے کر بلندی پر پہنچا تو چاروں طرف عجیب منظر تھا، دور دور تک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر، ایک جانب ایک پل جس پر گاڑیاں اس جزیرے پر مسافروں کو لاتی لے جاتی کھلونا گاڑیوں کی مانند نظر آرہی تھیں۔
مجھے بلندی سے خوف آتا ہے لیکن اب جب بچوں نے ساتھ بیٹھا ہی لیا تھا تو میں ان پر اپنا خوف ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ چہرے پر مسکراہٹ اور ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرتی خوف کی سرسراہٹ کے ساتھ میں جبر کرکے بیٹھا ہوا تھا۔ چار، پانچ چکروں کے بعد ویل رک گیا تو میری ریڑھ کی ہڈی میں سرسراتی خوف کی لہر بھی تھم گئی۔ خوف کا ایسا ہی احساس مجھے اس وقت محسوس ہوا تھا جب پاکستان میں واپڈا ایک ہی تھا اور مجھے واپڈا کی سالانہ رپورٹ کے لئے تصاویر درکار تھیں اور مجھے پاور اسٹیشنوں کی تصاویر بنوانے فوٹوگرافرز کے ساتھ کوٹ ادو اور مظفرگڑھ میں فوٹوگرافی کرانی تھی۔
پاور ہاؤس کی 100 فٹ اونچی چمنی کی فلمبندی کے لئے ایک کرین مہیا کی گئی جس کے ساتھ پنڈولم کی طرح ایک پلیٹ فارم جھول رہا تھا۔ ایسا پلیٹ فارم جس کی کوئی دیوار نہ تھی، اللہ بخشے مسعود ذوالفقار کو، وہ پلیٹ فارم پر چڑھا، کرین آپریٹر نے پلیٹ فارم کو اوپر اٹھانا شروع کیا۔ ابھی پلیٹ فارم پندرہ، بیس فٹ ہی اوپر گیا تھا کہ مسعود ذوالفقار نے اوپر سے کچھ کہا، میں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اس نے بھی ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ کرین کو نیچے کروائیں، میں سمجھا اسے ڈر لگ رہا ہے، کرین نیچے آئی تو مسعود ذوالفقار نے مجھے کہا، سر آپ بھی ساتھ آئیں، میں تصاویر اکیلا بنالوں لیکن رضی صاحب کی ڈانٹ سے آپ ہی بچا سکتے ہیں کہ تصاویر آپ کی دی گئی ہدایت پر بنائی گئی ہیں۔ مجبوراََ مجھے اس کے ساتھ پلیٹ فارم پر کھڑا ہونا پڑا۔ ویل کے ہنڈولے میں خوف کی یہ کیفیت تو نا تھی لیکن اس سے اتر کر میں نے بچوں سے کہا کہ ایسے کسی اور کھیل میں مجھے حصہ نہیں لینا، بس تم ہی بیٹھنا۔ اپنی فطری کمزوری سے انسان زندگی میں دو بار سے زیادہ کیا کھیلے؟
امریکہ کا کوئی بھی علاقہ ہو، اس کے ہر شہر میں کسی نا کسی سڑک پر موسیقی کا مظاہرہ کرتے گروپس یا تنہا ڈرم، گٹار، وائلن، ٹرمپٹ بجاتا کوئی نا کوئی فرد نظر آہی جاتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ گروپ جسے، بچے بینڈ کہتے ہیں کی چیختی چنگھاڑتی انگلش موسیقی مجھے کبھی پسند نہیں رہی۔ بچے پاکستان میں بھی اپنی دیسی موسیقی کے ساتھ اسے بھی سنتے ہیں لیکن میرے من کو یہ کبھی نہیں بھائی۔ ویسے بھی انگریزی کے حوالے سے میرا ہاتھ ہمیشہ ہولا رہا ہے، موسیقی کی چونکہ کوئی زبان نہیں ہوتی، ناں اردو اور ناں انگریزی اس لئے دھیمے سر بکھیرتی موسیقی روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ موسیقی اگر کھلی فضا میں ہو تو سننے کا یہ تجربہ روح کی بالیدگی کا باعث ہوتی ہے، جس طرح صحرا میں دور سے ابھرتی ڈوبتی کسی چرواہے کی صدا۔
اوشن سٹی کے اس بورڈ واک پر سیر کرتے کرتے وائلن کی دھیمی سی، مدھر سی، ابھرتی ہوئی آواز مجھے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ ساحلِ سمندر کے کنارے کھلی فضاء میں وائلن کی اس آواز میں سمندر کی لہروں کا شور بھی شامل تھا۔ بورڈ پر واک کرتے آپس میں باتیں کرتے افراد کی باتوں کا شور بھی تھا، اس معاشرہ میں اظہارِ محبت کے طور پر سرِعام بوسہ لینے کی دھیمی سی آواز بھی اس کھلی فضا میں سنی جانے والی وائلن کی آواز میں ہم آھنگ ہو کر زندگی سے قریب تر محسوس ہو رہی تھی۔
ہم دھیرے دھیرے قدموں سے چل رہے تھے اور آہتہ آہستہ وائلن کی آواز بلند ہوکر دوسری آوازوں کو دبا رہی تھی پھر یوں ہوا کہ ایک موڑ پر وائلن نواز سامنے آگیا۔ یہ وائلن بجاتی ایک لڑکی تھی، اپنی دھن میں مگن وائلن کے تاروں سے دل کو موہ لینے والی موسیقی تخلیق کررہی تھی، آنکھیں بند کئے، سر کو جھکائے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں اتنی مگن تھی کہ شاید اسے اندازہ ہی نہ تھا کہ ایک خلقت نصف دائرے کی شکل میں اس کے فن سے نہ صرف محظوظ ہورہی تھی بلکہ اس پر سِکوں اور ڈالروں کی بارش کر رہی تھی۔
امریکہ میں یہ کھیل تماشے ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ آگے ایک اور لڑکی اپنے لچکیلے، تھرکتے بدن کے گرد روشنی سے جگمگ کرتا رنگ گھمانے کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ وائلن بجاتی تنہا لڑکی تو اردگرد سے بے پرواہ تھی اور لوگ اس کے فن پر بھی سِکوں اور ڈالروں کی بارش کررہے تھے لیکن رِنگ گھماتی لڑکی کے سامنے پڑے ہیٹ میں ابھی چند ہی سکے نظر آرہے تھے شاید اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ لچکنا، تھرکنا ان کے معمولات اور ماحول کا حصہ ہے اور وہ اپنے روز مرہ کے محاورے میں اس کھیل تماشے کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے۔ یہ چند سِکے بھی اس کے بدن کے گرد گھومتے روشنی کے جگمگاتے رِنگ کی بدولت تھے۔ اس لڑکی کے منہ پر مسکراہٹ سجی تھی لیکن اُس کے چہرے پر آتے جاتے رنگ بتا رہے تھے کہ وہ خاصی مایوس ہے۔ ہم تھوڑی دیر وہاں رُکے، اُس کی نظر چند لمحوں کے لئے ہم پر رُکی اور پھر وہ دوسری جانب دیکھتے ہوئے تھرکنے لگی۔ عدیل نے ایک سِکہ عنایہ کو دیا کہ جاؤ اس ہیٹ میں ڈال آؤ، عنایہ کچھ جھجکی، پھر آگے بڑھی اور ہیٹ میں سِکہ ڈال دیا۔
رات کی تاریکی گہری ہوتی جارہی تھی لیکن روشنی سے منور بورڈ واک پر بھیڑ بڑھنے لگی تھی، سمندر کی سفید ریت پر دوپہر کو جسموں پر سن بلاک لوشن کا بھرپور اسپرے کئے اوندھے پڑے سن باتھ لیتے گورے بھی اپنے ہوٹلوں میں شاور لے کر اب بورڈ واک پر آ گئے تھے۔ یہاں کھانے کی بہت سی دکانیں تھیں لیکن یہاں ہمارے لئے کھانے کو کچھ نہیں تھا کیونکہ یہاں کچھ بھی حلال نہ تھا۔ ہاں آلو کے فرائز تھے یا پاپ کورنز۔ ہم نے پہلے فرائز لئے جو عنایہ بھی کھا سکتی تھی پھر پاپ کارنز لئے اور چلتے چلتے کھانے لگے۔
کیچ اینڈ وِن (Catch and Win) والی بہت سی دکانیں تھیں، وہاں کیچرز میں بیش قیمت چیزوں کو دیکھ کر میں کئی بار ان کے نزدیک گیا لیکن پھر واپس بچوں کے پاس آگیا۔ وہاں کھڑے ہوکر مجھے لاہور میں گلبرگ کا سٹی 2000 یاد آگیا جہاں عدیل کی ضد پر اکثر جانا ہوتا تھا۔ عدیل جی بھر کر رائیڈز کے مزے لیتا اور میں وہاں نصب کیچرز سے کھیلتا تھا اور ہر بار کوئی نا کوئی کھلونا نکال کر عدیل کی خوشی دوبالا کر دیتا تھا۔ اب جب میں چوتھی بار اس دکان پر جاکر کھڑا ہوا تو عدیل بھی میرے پاس آگیا اور کہنے لگا، بچپن میں تو آپ بڑے ایکسپرٹ تھے کھلونے نکالنے میں، یہاں بھی کوشش کرکے دیکھ لیں عنایہ خوش ہوجائے گی۔ میں نے پچیس (25) سال بعد کوشش کی لیکن کھلونا کیچر سے اس وقت گرگیا جب اس کے ڈراپ بکس میں گرنے کی منزل دوگام رہ گئی تھی۔اوشن سٹی، میری لینڈ ریاست کا ایک جزیرہ ہے اور امریکہ میں اسے مِڈ اٹلانٹک ریجن اور تعطیلات کے لئے اہم مقام گردانا جاتا ہے۔ جہاں ہر سال 80 لاکھ افراد تفریح کے لئے آتے ہیں۔ جسے ایک طویل پل نے باقی علاقوں سے جوڑا ہوا ہے۔ اوشن سٹی جس جگہ آباد ہے اسے ایک مقامی امریکی سے ایک انگریز تھامس فنوک نے حاصل کیا۔ سن 1869ء میں ایک بزنس مین اساک کوفن نے ساحلِ سمندر پر پہلے فرنٹ بیچ کاٹیج تعمیر کئے۔ یہاں سیاہ فام تو کم ہی آتے ہیں لیکن گوروں کی بہتات ہے۔ گورے یہاں یا تو ساحلِ سمندر پر اوندھے پڑے سن باتھ لے رہے ہوتے ہیں یا پھر ساحل کے ساتھ ساتھ بورڈ واک کررہے ہوتے ہیں۔
ساحلِ سمندر کے ریتیلے حصے کے ساتھ ساتھ لکڑی کا میلوں لمبا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے جسے بورڈ واک کہتے ہیں، جسے 1902ء میں تعمیر کیا گیا۔ اِس پلیٹ فارم کے آگے دکانوں کی ایک لمبی قطار ہے، اس سے پیچھے ہوٹل ہیں، کھانے پینے کی، کھیلوں کے سامان کی دکانیں بھی ہیں، جن میں کیچرز لگے ہوئے ہیں۔ ان میں بہت قیمتی چیزیں پڑی ہیں، کیمرے اور آئی پوڈز سے لیکر بہت اعلیٰ قسم کے اسٹفڈ ٹوائز تک سب کچھ موجود ہے۔ آپ ایک یا دو ڈالر ان مشینوں میں ڈال کر قسمت آزما سکتے ہیں۔ یہ دکانیں کیسینو سے مختلف ہیں۔ بورڈ واک کے آخری حصے میں طویل القامت فیری ویل نصب ہے جس میں ہنڈولے لگے ہوئے تھے، بچوں نے ہمیں بھی اپنے ساتھ ہنڈولے میں بٹھالیا۔ جب ویل میں ڈولتا ہوا ہنڈولا ہمیں لے کر بلندی پر پہنچا تو چاروں طرف عجیب منظر تھا، دور دور تک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر، ایک جانب ایک پل جس پر گاڑیاں اس جزیرے پر مسافروں کو لاتی لے جاتی کھلونا گاڑیوں کی مانند نظر آرہی تھیں۔
مجھے بلندی سے خوف آتا ہے لیکن اب جب بچوں نے ساتھ بیٹھا ہی لیا تھا تو میں ان پر اپنا خوف ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ چہرے پر مسکراہٹ اور ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرتی خوف کی سرسراہٹ کے ساتھ میں جبر کرکے بیٹھا ہوا تھا۔ چار، پانچ چکروں کے بعد ویل رک گیا تو میری ریڑھ کی ہڈی میں سرسراتی خوف کی لہر بھی تھم گئی۔ خوف کا ایسا ہی احساس مجھے اس وقت محسوس ہوا تھا جب پاکستان میں واپڈا ایک ہی تھا اور مجھے واپڈا کی سالانہ رپورٹ کے لئے تصاویر درکار تھیں اور مجھے پاور اسٹیشنوں کی تصاویر بنوانے فوٹوگرافرز کے ساتھ کوٹ ادو اور مظفرگڑھ میں فوٹوگرافی کرانی تھی۔
پاور ہاؤس کی 100 فٹ اونچی چمنی کی فلمبندی کے لئے ایک کرین مہیا کی گئی جس کے ساتھ پنڈولم کی طرح ایک پلیٹ فارم جھول رہا تھا۔ ایسا پلیٹ فارم جس کی کوئی دیوار نہ تھی، اللہ بخشے مسعود ذوالفقار کو، وہ پلیٹ فارم پر چڑھا، کرین آپریٹر نے پلیٹ فارم کو اوپر اٹھانا شروع کیا۔ ابھی پلیٹ فارم پندرہ، بیس فٹ ہی اوپر گیا تھا کہ مسعود ذوالفقار نے اوپر سے کچھ کہا، میں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اس نے بھی ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ کرین کو نیچے کروائیں، میں سمجھا اسے ڈر لگ رہا ہے، کرین نیچے آئی تو مسعود ذوالفقار نے مجھے کہا، سر آپ بھی ساتھ آئیں، میں تصاویر اکیلا بنالوں لیکن رضی صاحب کی ڈانٹ سے آپ ہی بچا سکتے ہیں کہ تصاویر آپ کی دی گئی ہدایت پر بنائی گئی ہیں۔ مجبوراََ مجھے اس کے ساتھ پلیٹ فارم پر کھڑا ہونا پڑا۔ ویل کے ہنڈولے میں خوف کی یہ کیفیت تو نا تھی لیکن اس سے اتر کر میں نے بچوں سے کہا کہ ایسے کسی اور کھیل میں مجھے حصہ نہیں لینا، بس تم ہی بیٹھنا۔ اپنی فطری کمزوری سے انسان زندگی میں دو بار سے زیادہ کیا کھیلے؟
امریکہ کا کوئی بھی علاقہ ہو، اس کے ہر شہر میں کسی نا کسی سڑک پر موسیقی کا مظاہرہ کرتے گروپس یا تنہا ڈرم، گٹار، وائلن، ٹرمپٹ بجاتا کوئی نا کوئی فرد نظر آہی جاتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ گروپ جسے، بچے بینڈ کہتے ہیں کی چیختی چنگھاڑتی انگلش موسیقی مجھے کبھی پسند نہیں رہی۔ بچے پاکستان میں بھی اپنی دیسی موسیقی کے ساتھ اسے بھی سنتے ہیں لیکن میرے من کو یہ کبھی نہیں بھائی۔ ویسے بھی انگریزی کے حوالے سے میرا ہاتھ ہمیشہ ہولا رہا ہے، موسیقی کی چونکہ کوئی زبان نہیں ہوتی، ناں اردو اور ناں انگریزی اس لئے دھیمے سر بکھیرتی موسیقی روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ موسیقی اگر کھلی فضا میں ہو تو سننے کا یہ تجربہ روح کی بالیدگی کا باعث ہوتی ہے، جس طرح صحرا میں دور سے ابھرتی ڈوبتی کسی چرواہے کی صدا۔
اوشن سٹی کے اس بورڈ واک پر سیر کرتے کرتے وائلن کی دھیمی سی، مدھر سی، ابھرتی ہوئی آواز مجھے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ ساحلِ سمندر کے کنارے کھلی فضاء میں وائلن کی اس آواز میں سمندر کی لہروں کا شور بھی شامل تھا۔ بورڈ پر واک کرتے آپس میں باتیں کرتے افراد کی باتوں کا شور بھی تھا، اس معاشرہ میں اظہارِ محبت کے طور پر سرِعام بوسہ لینے کی دھیمی سی آواز بھی اس کھلی فضا میں سنی جانے والی وائلن کی آواز میں ہم آھنگ ہو کر زندگی سے قریب تر محسوس ہو رہی تھی۔
ہم دھیرے دھیرے قدموں سے چل رہے تھے اور آہتہ آہستہ وائلن کی آواز بلند ہوکر دوسری آوازوں کو دبا رہی تھی پھر یوں ہوا کہ ایک موڑ پر وائلن نواز سامنے آگیا۔ یہ وائلن بجاتی ایک لڑکی تھی، اپنی دھن میں مگن وائلن کے تاروں سے دل کو موہ لینے والی موسیقی تخلیق کررہی تھی، آنکھیں بند کئے، سر کو جھکائے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں اتنی مگن تھی کہ شاید اسے اندازہ ہی نہ تھا کہ ایک خلقت نصف دائرے کی شکل میں اس کے فن سے نہ صرف محظوظ ہورہی تھی بلکہ اس پر سِکوں اور ڈالروں کی بارش کر رہی تھی۔
امریکہ میں یہ کھیل تماشے ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ آگے ایک اور لڑکی اپنے لچکیلے، تھرکتے بدن کے گرد روشنی سے جگمگ کرتا رنگ گھمانے کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ وائلن بجاتی تنہا لڑکی تو اردگرد سے بے پرواہ تھی اور لوگ اس کے فن پر بھی سِکوں اور ڈالروں کی بارش کررہے تھے لیکن رِنگ گھماتی لڑکی کے سامنے پڑے ہیٹ میں ابھی چند ہی سکے نظر آرہے تھے شاید اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ لچکنا، تھرکنا ان کے معمولات اور ماحول کا حصہ ہے اور وہ اپنے روز مرہ کے محاورے میں اس کھیل تماشے کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے۔ یہ چند سِکے بھی اس کے بدن کے گرد گھومتے روشنی کے جگمگاتے رِنگ کی بدولت تھے۔ اس لڑکی کے منہ پر مسکراہٹ سجی تھی لیکن اُس کے چہرے پر آتے جاتے رنگ بتا رہے تھے کہ وہ خاصی مایوس ہے۔ ہم تھوڑی دیر وہاں رُکے، اُس کی نظر چند لمحوں کے لئے ہم پر رُکی اور پھر وہ دوسری جانب دیکھتے ہوئے تھرکنے لگی۔ عدیل نے ایک سِکہ عنایہ کو دیا کہ جاؤ اس ہیٹ میں ڈال آؤ، عنایہ کچھ جھجکی، پھر آگے بڑھی اور ہیٹ میں سِکہ ڈال دیا۔
رات کی تاریکی گہری ہوتی جارہی تھی لیکن روشنی سے منور بورڈ واک پر بھیڑ بڑھنے لگی تھی، سمندر کی سفید ریت پر دوپہر کو جسموں پر سن بلاک لوشن کا بھرپور اسپرے کئے اوندھے پڑے سن باتھ لیتے گورے بھی اپنے ہوٹلوں میں شاور لے کر اب بورڈ واک پر آ گئے تھے۔ یہاں کھانے کی بہت سی دکانیں تھیں لیکن یہاں ہمارے لئے کھانے کو کچھ نہیں تھا کیونکہ یہاں کچھ بھی حلال نہ تھا۔ ہاں آلو کے فرائز تھے یا پاپ کورنز۔ ہم نے پہلے فرائز لئے جو عنایہ بھی کھا سکتی تھی پھر پاپ کارنز لئے اور چلتے چلتے کھانے لگے۔
کیچ اینڈ وِن (Catch and Win) والی بہت سی دکانیں تھیں، وہاں کیچرز میں بیش قیمت چیزوں کو دیکھ کر میں کئی بار ان کے نزدیک گیا لیکن پھر واپس بچوں کے پاس آگیا۔ وہاں کھڑے ہوکر مجھے لاہور میں گلبرگ کا سٹی 2000 یاد آگیا جہاں عدیل کی ضد پر اکثر جانا ہوتا تھا۔ عدیل جی بھر کر رائیڈز کے مزے لیتا اور میں وہاں نصب کیچرز سے کھیلتا تھا اور ہر بار کوئی نا کوئی کھلونا نکال کر عدیل کی خوشی دوبالا کر دیتا تھا۔ اب جب میں چوتھی بار اس دکان پر جاکر کھڑا ہوا تو عدیل بھی میرے پاس آگیا اور کہنے لگا، بچپن میں تو آپ بڑے ایکسپرٹ تھے کھلونے نکالنے میں، یہاں بھی کوشش کرکے دیکھ لیں عنایہ خوش ہوجائے گی۔ میں نے پچیس (25) سال بعد کوشش کی لیکن کھلونا کیچر سے اس وقت گرگیا جب اس کے ڈراپ بکس میں گرنے کی منزل دوگام رہ گئی تھی۔

جمعرات، 1 دسمبر، 2016

ہے یاد مجھ کو آج بھی وہ شام جب کہ ہم / بیٹھے تھے زیرِ سایۃ اشجار دیر تک / ریحانہ قمر

ریحانہ قمر
بیٹھے رہے ہیں سامنے سرکار دیر تک
ہوتا رہا ہے خواب میں دیدار دیر تک
ہے یاد مجھ کو آج بھی وہ شام جب کہ ہم
بیٹھے تھے زیرِ سایۃ اشجار دیر تک
اک بار ہاتھ میرا چُھوا اُس کے ہاتھ سے
بجتے رہے ہیں دل کے مرے تار دیر تک
کہنے کو گرچہ ایک ذرا سی وہ بات تھی
کرتی رہی ہوں خود سے میں تکرار دیر تک
تا دیر میری سانسیں مہکتی رہیں قمر 
آتی رہی ہے پھول کی مہکار دیر تک

دیکھا تیرا امریکا (ساتویں قسط) رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ امریکہ

بروک سائیڈ بوٹینیکل پارک


قدرت کے مناظر مجھے بہت متاثر کرتے ہیں، میری لینڈ، ورجینیا اور واشنگٹن قدرتی سرسبز اور خوبصورتی سے مالا مال ہیں۔ یہ علاقے سیاہ فام رہائشیوں کے ہیں جبکہ یہاں میکسیکنز بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ امریکہ میں ورجینا نام کی دو ریاستیں ہیں۔ ایک ساؤتھ اور دوسری نارتھ۔ ایک میں غالب اکثریت سیاہ فاموں کی ہے اور دوسری میں گورے۔ میری لینڈ میں سیاہ فام زیادہ نظر آتے ہیں، یہاں مساجد تو نہیں ہیں لیکن کیمونٹی سینٹر کے ایک ہال میں جمعہ کی نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جہاں نماز کے لئے آنے والوں کی زیادہ تعداد سیاہ فام باشندوں کی ہوتی ہے۔
میں جب سے آیا ہوں، جہاں بھی گیا، اکیلا نہیں تھا۔ میرے ساتھ میری نصف بہتر چل رہی ہوتی تھیں، ہم دونوں کے درمیان میری جان عنایہ ہوتی تھی، ہمارے آگے دنیا کا خوبصورت ترین جوڑا یعنی عدیل اور رابعہ چل رہے ہوتے تھے۔ عدیل اور رابعہ ہمارے ساتھ بہت فرینک ہیں لیکن ہماری موجودگی میں یہاں کے ماحول میں بھی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر نہیں چل رہے تھے حالانکہ ان کے درمیان جو رشتہ تھا وہ ان کی مسکراہٹوں اور ایک دوسرے کی قربت کے احساس سے پھولوں پر شبنم کے قطروں کی مانند ظاہر ہورہا تھا۔ عدیل نیلی پولو ٹی شرٹ اور جینز میں مجھے میری لینڈ کا سب سے وجیہہ لڑکا لگ رہا تھا جب کہ رابعہ سرخ مرچ جیسی رنگ کے کرتے میں سب سے پیاری لڑکی لگ رہی تھی۔
اس وقت ہم بروک سائیڈ بوٹینیکل پارک جارہے تھے، اس پارک میں درختوں کے خوبصورت پتوں کے ساتھ ساتھ پھولوں کی مسرور کن فضا انسان کو خود میں سمولیتی ہے۔ رنگ برنگے پھول جو برصغیر کی فضا میں نظر نہیں آتے اور اس سے بڑھ کر یہاں درختوں کے پتوں کے رنگ ہیں۔ ستمبر کے بعد جب خزاں اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے تو یہاں درخت خوبصورتی کا نیا راگ الاپتے ہیں۔ موسمِ بہار کے بعد خزاں آنے سے پہلے دور دور تک خوبصورتی اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے۔
پارک کے درمیان پگڈنڈی پر چلتے چلتے عدیل نے پیچھے مڑ کر بتایا کہ منٹیگمری کاؤنٹی میں موجود یہ پارک 50 ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، امریکہ میں یہ ایوارڈ یافتہ ہیں۔ یہ ایوارڈ ان پارکوں کو نہیں ملا ہوگا بلکہ یہ ایوارڈ شاید ان افراد کے لئے ہوگا جو ان کی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوں گے۔ عدیل کے بتانے پر میرے دل میں ایسا خیال آیا کہ پارک تو اس سب سے بڑے مصور کی تخلیق ہیں جس نے لینڈ اسکیپ کے طور پر دنیا بنائی اس پر پہاڑ جمائے، درخت و پھول بوٹے اگائے، ان پارکوں کے یہ حسین مناظراس کی ثناء کر رہے ہیں۔
درختوں کا سایہ سورج کے مغرب کی جانب ڈھلنے کی بناء پر لمبا ہوتا جارہا تھا۔ اِس کے ساتھ ایک چھوٹا سا سایہ میرے بڑھتے سائے کو پکڑنے کی سعیِ لاحاصل میں سبزے کے قالینوں پر بھاگا پھر رہا تھا اور وہ عنایہ تھی میری ننھی پوتی۔
ہاں میں سب سے بڑے مصور کی اس تخلیق میں دور تک اندر جاچکا تھا۔ یہ ایک سحر کا سفر تھا جو میرے اندر جاری تھا۔ ڈھلتے سائے، ہر سو خاموشی، آج پرندے بھی نجانے کیوں خاموش تھے، ہلکے ہلکے بادلوں میں سے در کر آتی سورج کی روشنی میں اس پارک کے سرو قد پودے زمین کو آسمان سے ملا رہے تھے۔
کچھ آگے موجود جھیل کے پانیوں میں قطار اندر قطار کھڑے درختوں کا عکس عجیب منظر پیش کررہا تھا۔ بروک سائیڈ پارک کے روشنی میں چمکتے سرسبز درخت، جھیل کے ساکت پانی میں دائرے بناتے چھوٹے چھوٹے کیچوے، اس ہٹ سے بہت خوش نما لگ رہے تھے جہاں اس وقت ہم موجود تھے۔ اس جیسے منظر نامے میں داخل ہونے والا ہر شخص خود بھی منظر بن جاتا ہے۔
مجھے ہر طرف خاموشی محسوس ہورہی تھی۔ نہ شہر میں سنائی دینے والا شور تھا اور نہ کسی پتے کے ہلنے کی صدا تھی، نہ شہر میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے ہمہ وقت ہارن کی کوئی آواز، یہاں کا منظر بالکل ایک ساکت تصویر کی مانند تھا۔ یہ پارک اتنا بڑا تھا کہ ہمارے ساتھ پارک میں داخل ہونے والے افراد نجانے پیچھے کس سمت مڑگئے تھے۔
اچانک سامنے ایک خوبصورت ہٹ نظر آیا جہاں ایک چینی یا شاید جاپانی جوڑا اپنی محبت کو امر کرنے میں مصروف تھا اور ایک تیسرا فرد ان کے اس محبت نامے کو کیمرے میں محفوظ کر رہا تھا۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن بچے اس منظرنامے سے پہلو تہی کرتے ہوئے ایک دوسرے راستے کی جانب مڑ کر آگے جاچکے تھے، میں اپنے پیر میں موجود ویری کوز وینز (varicose veins) میں کھنچاؤ کی بناء پر پیچھے رہ گیا تھا۔ میں نے ایک اچٹتی سی نظر اس جوڑے پر ڈالی اور اسی راہ پر چل دیا جس پر میرے بچے گئے تھے۔
جھیل کا پانی ایک تنگ سے راستے سے ہو کر دوسری جانب جا رہا تھا اس رستے میں انتظامیہ نے زگ زیگ کی شکل میں پتھر رکھے ہوئے تھے جن پر پیر رکھ کر دوسری جانب اسی پگڈنڈی کا تسلسل تھا جس سے گزر کر ہمیں آگے جانا تھا۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے مصطفی زیدی کا شعر یاد آ گیا۔
انہی پتھروں پر چل کر اگر آسکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
بعض اوقات ایسی باتیں ذہن میں در آتی ہیں جو پوری طرح منظر میں فٹ نہیں آتیں لیکن کوئی ایک چیز انسانی ذہن کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔ جھیل کے اس تنگ سے راستے کے دونوں جانب میموریل پتھر ایستادہ تھے یا یوں کہہ لیجئے کہ کتبے آویزاں تھے، بچے بھی وہیں موجود تھے۔ اس سے پہلے ایک وسیع و عریض سا ڈھلوانی لان تھا جہاں عنایہ ڈھلوان پر نیچے کو بھاگی چلی جارہی تھی اور عدیل اس کے تعاقب میں تھا۔
خاموشی کے سحر میں ڈوبی اس شام میں، میں نے ان میموریل پتھروں پر نظر ڈالی۔ یہ پتھر بولنے لگے کہ سن 2002ء میں دو جنونی افراد کی تخریب کاری نے تیرہ معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ان میں سے 10 مرد و زن کو اسنائپرز نے واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں موت کی نیند سلا دیا۔ دوسرا پتھر بتانے لگا کہ مجھ پر اِن دس افراد کے نام کنندہ ہیں جو اس حادثے میں مارے گئے۔ یہاں یہ پتھر اس بات کی گواہی کے لئے لگائے گئے ہیں کہ یہ افراد ہم میں سے تھے اور ہمارے ساتھ کام کرتے تھے اور ان کے لواحقین تنہا نہیں ہیں، یہ پتھر اُن کے خاندانوں کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کرنے والوں کی محبت کا اظہار بھی ہے۔
میرے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا، جنونیت اور وحشی پن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی کوئی مذہب نہیں ہوتا، یہ ہر ملک و قوم میں موجود ہوتا ہے۔ یہاں ایک محبت بھرا پتھر شاید لواحقین کے لئے کافی ہوتا ہوگا کہ کچھ مہربان ان کی کفالت کردیتے ہیں لیکن کیا کیجئے کہ ہمارے ہاں محبت بھرے پتھروں سے کام نہیں چلتا اور کتنے پتھر لگائے جائیں گے اور کون ان کے لواحقین کی اشک شوئی کرے گا۔ جب تک بچے اور بیگم آگے چلنے کے لئے تیار نہیں ہوگئے میں نے ان پتھروں پر کنندہ اور ان ہی کی مانند اپنے وطن کے بے نشان افراد کے احترام میں خاموشی اختیار کئے رکھی۔

بدھ، 30 نومبر، 2016

کہاں گئے ہیں مرے منتظر مرے ہم خواب / میں چُپ ہُوا تو عدم نے یہ دی صدا ، ہمیں مل / الیاس بابر اعوان

الیاس بابر اعوان
سکوت ِقریہ ء بغداد میں ذرا ہمیں مل
ہماری خاک سے پیکر بنا ، قضا ہمیں مل
شعاع ِمہر کبھی دیکھ تو چراغ ِ دیار
شکوہ ِ خواب کبھی بر سر ِ فنا ہمیں مل
پڑے ہوئے ہیں تہہِ آب و گل تہی صورت
ستارہ لوگ ہیں اے دست ِ ارتقا ہمیں مل
ہم اور کتنی نگاہوں کا کشٹ کاٹیں گے
ہمارے خواب کسی روز برملا ہمیں مل
کبھی اے حسن ِ فسوں گر کلام کر خود سے
تُو آئنے کو کبھی دیکھنے کو آ ہمیں مل
یہ باغ ، باغ نہیں ہے حصار خانہ ہے
نجانے کس نے ہمیں دی تھی یہ صدا ہمیں مل
کہاں گئے ہیں مرے منتظر مرے ہم خواب
میں چُپ ہُوا تو عدم نے یہ دی صدا ، ہمیں مل

جمعرات، 24 نومبر، 2016

دیکھا تیرا امریکا (چھٹی قسط)


منٹگمری کاؤنٹی: وڈ سائیڈ پارک


شام کو عنایہ پارک جانے کی ضد کرتی تو ہم سب پیدل ہی اسے اسٹولر میں بٹھا کر قریب کے پارک لے جاتے، یہ کوئی زیادہ بڑا پارک نہیں ہے لیکن اس تک جانے میں میرا بھی سیر کا کچھ شوق پورا ہوجاتا۔ مجھے ابھی تک اس پارک کا نام معلوم نہیں تھا کیونکہ کئی بار پارک جانے کے باوجود کبھی پارک کے بورڈ پر نظر ڈالنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اس روز بھی عنایہ پارک جانے کے لئے بضد ہوئی تو ہم عنایہ کو لے کر پارک لے آئے۔ ننھی عنایہ ایک جھولے سے دوسرے جھولے تک بھاگنے لگی۔ ماں، باپ اور دادی بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ پارک میں ہر رنگ و نسل کے بچے اور ان کے پیچھے بھاگتی مائیں۔۔۔ میں اکیلا ہی ایک قدیم سی لکڑی کے بینچ پر بیٹھ گیا۔ میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو آج پہلی بار اُس پارک کے نام کے پر نظر پڑی جو وہاں سڑک کے کنارے استادہ تھا۔ وڈ سائیڈ پارک، پارک کے نام سے ہوتی ہوئی میری نظر منٹگمری کاؤنٹی پر ٹک کر رہ گئی۔
بچوں کے لئے تو شاید اس لفظ ’’منٹگمری‘‘ میں کوئی خاص کشش نا تھی لیکن میں لمحوں میں اپنے ماضی میں پہنچ گیا۔ منٹگمری (ساہیوال) میری جنم بھومی جس سے میری یادیں جڑی ہیں، ماہی شاہ کے قبرستان میں میرے ماں باپ محو خواب ہیں۔ جہاں میں نے اپنے بابا جی سرکار، اپنے والد سے پہلا لفظ بولنا سیکھنے سے قلم کی حرمت تک کا درس لیا، دوستوں کی صحبت میں کیفے ڈی روز کے شب و روز، مجلسِ فکرِ نو میں بیتا ایک ایک لمحہ، اسٹیڈیم ہوٹل پر مجید امجد کی صحبت میں گزرا ہوا وقت، شہر کے بیچوں بیچ بہتی نہر جو ہمیں دریائے ٹیمز لگتی تھی، کے کنارے ٹہلنا، اُسی نہر کے کنارے لگے ہرے بھرے چتناروں پر چلتے تیشوں پرمجید امجد کے قلم سے نکلی ایک کرب ناک چیخ جس نے ان کی حساسیت کو دنیا پر آشکار کردیا۔
بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر، بانکے پہرے دار
کھنے، سہانے، چھاؤں چھڑکتے، بور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار
کٹتے ہیکل، جھڑتے پنجر، چھٹتے برگ و بار
سہمی دھوپ کے رد و کفن میں لاشوں کے انبار
آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پہ بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل
یہ درخت جن کے کٹنے پر مجید امجد کے اندر ایک حساس انسان چیخ اٹھا تھا، یہاں امریکہ میں کسی شاعر کو چیخنے کا موقع نہیں ملتا کیونکہ یہ فطرت سے پیار کرنے والی قوم ہے۔ یہاں ہر طرف ہریالی بکھری ہے، درختوں کی بہتات ہے لیکن یہاں کوئی ٹمبر مافیا نہیں ہے۔
یہاں تو ہر طرف گھنے جنگل نما پارک ہیں جہاں قدرتی طور پر عمر رسیدہ ہوکر اگر کوئی درخت گر جائے تو یہاں کی انتظامیہ اسے گرا ہی رہنے دیتی ہے۔ ماسوائے اس درخت کے جو سٹرک پر گر کر سڑک کو بلاک کردے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔
منٹگمری (ساہیوال) کی نہر کے کنارے واقع کنعان پارک میں داخل ہوتے ہی ہمارے کانوں میں مجید امجد کی نظم توسیع شہر کی گونج لاشعوری طور پر سنائی دیتی ہے۔ کیفے ڈی روز پر منعقد ہونے والی مجلس فکرنو کی محفلیں، کنور شفیق، نعیم نقوی، زاہد حکیم، ارشد رضوی، رانا زاہد، کامران، راغب شاہ،وارث انصاری، ارشد چوہدری، عبدالمجید، ایزد عزیز، اعجاز شیرازی، دین محمد درد، آئیون راجکمار، جاوید کنول، ایم اے اشرف، وقاص بٹ، سلیم شاہ، اسحاق خان، انوار سیف اور بہت سے دوست، سینئرز میں حاجی بشیر احمد بشیر، گوہر ہوشیار پوری، جعفر شیرازی، محمود علی محمود، ناصر شہزاد، یٰسین قدرت، اکرم کلیم، غلام فرید کاٹھیہ، پروفیسر راجہ عبدالقادر اور جانے کتنے لوگ تھے جو وہاں رونق افروز ہوتے تھے۔ منٹگمری (ساہیوال) میری یادوں کا مرکز و محور ہے۔ یادوں کا ایک سلسلہ تھا جو بہتا چلا آرہا تھا۔
اچانک بھاگتی ہوئی ننھی عنایہ زور سے مجھ سے ٹکرائی اور ’ابو‘ کی آواز مجھے پھر پارک کے اس بینچ پر لے آئی جہاں میں بیٹھا تھا، میں نے عنایہ کی جانب دیکھا تو چڑھی ہوئی سانس کے ساتھ اس کے چہرے پر مسرت کے دھنک رنگ جھلملا رہے تھے۔ بچوں کی یہ عادت مجھے بہت پسند ہے کہ سیر حاصل کھیل کود کے باوجود ان کا دل نہیں بھرتا۔
عنایہ کی یہ عادت اپنے باپ کی طرح ہے، میں اور میری بیگم دونوں اپنے کام سے واپس آتے تو سارا دن کی تھکن چاہتی تھی کہ تھوڑا آرام کیا جائے لیکن عدیل کہیں نا کہیں جانے کے لئے تیار بیٹھا ہوتا تھا، حالانکہ وہ بھی اسکول سے آیا ہوتا تھا لیکن بچوں میں انرجی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے، ہمارے آتے ہی جوائے لینڈ یا کسی اور جگہ جانے کا تقاضا شروع ہوجاتا اور ہم اسے لے کر نکل جاتے۔ جوائے لینڈ کی ساری رائیڈز پر دو، دو بار بیٹھنے کے باوجود اس کا دل نہیں بھرتا تھا، عنایہ بھی عدیل کی طرح دبلی پتلی اور ویسی ہی پھرتیلی اور چاق و چوبند ہے۔
پارک سے واپسی کے لئے عدیل نے بڑی مشکل سے اسے اسٹولر میں بٹھایا اور ہم واپسی کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں چلتے چلتے میں نے عدیل سے پوچھا، یہ منٹگمری کاؤنٹی ہے؟ جی پاپا! میری لینڈ میں تین کاؤنٹیز ہیں۔ منٹگمری واحد کاؤنٹی ہے جہاں انگریزوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ورنہ دوسری کاؤنٹیز میں میکسیکنز نیگرو بھرے ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر کاؤنٹی کو اگر پاکستان کے نظام میں دیکھا جائے تو یہ ڈویژن کی حیثیت رکھتا ہے۔

سوموار، 21 نومبر، 2016

ناز بٹ کی نظم،سوال

ناز بٹ
 خُداوندا ! تری مرضی ۔۔
تُو جب چاہے ۔۔ جسے چاہے
اُسے صحرا کی جلتی ریت پر لا کر کھڑا کر دے
لب ِ دریا کسی کی پیاس کا تُو امتحاں لےلے
کہیں پتھر کا سینہ چیر کر چشمے نکالے تو کسی کی پیاس کی خاطر زمیں دریا بہا ڈالے
کئی میلوں مسافت پر یہ پھیلی بستیاں اپنی
زمانے لگ گئے جن کو بسانے میں۔۔ سجانے میں
وہ اِک پل میں مٹا ڈالے
خداوندا! تری مرضی!
تو قرنوں بعد بھی ملبے تلے سوئی ہوئی بے جان سانسوں کو رواں کر دے
انہیں زندہ نشاں کر دے
بپھر جائیں اگر موجیں
سمندر بُرد ہوجائیں سفینوں پر سفینے 
۔۔۔۔۔۔پانیوں میں جب اُچھال آئے
جسے چاہے بچانا تُو
اُسے ساحل پہ صدیوں بعد اِک مچھلی اُگل جائے !
کبھی چھوٹی سی چنگاری کو شعلوں میں بدل کر تُو جلا ڈالے سبھی آنگن!
جو تو چاہے تو شعلوں کو گُل و گلزار بھی کر دے!
کسی کا چاک ہو سینہ ، کلیجہ چیر کر دانتوں سے وحشت رقص میں آئے
خُدا ونداتری مرضی !
جسے تونے بچانا ہو ،اسے صحرا سے نخلستان کے سائے میں لے آئے
خداوندا ! دُھائی ہے ۔۔۔!!
بدن اب بھی اُدھڑتے ہیں۔۔۔۔ سسکتے ہیں۔۔۔۔! بلکتے ہیں!
سُلگتی بے کفن لاشیں فضا میں بین کرتی ہیں
کلیجہ منہ کو آتا ہے۔۔۔
یہ خُون آلود منظر آنکھ سے دیکھے نہیں جاتے
مرے مالک۔۔۔مرے داتا! نہیں شکوہ مجھے تجھ سے
مگر اتنا تو بتلا دے
تنے میں اب درختوں کے پناھیں کیوں نہیں ملتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟
سہارا دینے والی نرم بانہیں کیوں نہیں ملتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ "
( ناز بٹ 

جمعرات، 17 نومبر، 2016

دریائے محبت کی روانی کی طرح ماں / صبیحہ صبا


تو آنے والے دن کی ضمانت نہ دے مجھے / بہتر یہی ہے ، وعدہِ فردا پہ ، ٹال دے / محمد سلیم طاہر


سلیم طاہر
توفیق ہو تو کچھ ، مرے کاسے میں ڈال دے
ورنہ ، تری رضا ہے ، ہوا میں اچھال دے
تو آنے والے دن کی ضمانت نہ دے مجھے
بہتر یہی ہے ، وعدہِ فردا پہ ، ٹال دے
میرے جواب سے تو ، اگر مطمئن نہیں
جو پوچھنا ہے پوچھ مجھے  لا سوال دے
جو ، آج ہم کو ، بیٹھنے دیتا نہیں کہیں
کل کیا عجب ہے وہ ہمیں دل سے نکال دے
تیری طرح کا دوسرا کوئی نہیں ، مگر
میری طرح کا بھی کوئی ہے تو مثال دے
اک بار پھر سے لوگ مجھے ، دیکھنے لگیں
اک بار پھر سے کوئی ہنر دے ، کمال دے
میں خود حساب دوں گا ، دل ِ بد گمان کا
پہلے تو میرے گزرے ہوئے ماہ و سال دے

منگل، 15 نومبر، 2016

آو پھر مل کے خواب ہو جائیں / دشت میں اک سراب ہو جائیں / انور زاہدی (اسلام آباد)

انور زاہدی


آو پھر مل کے خواب ہو جائیں 
دشت میں اک سراب ہو جائیں
جیسے بہتی تھی آگ پانی میں 
ایسے مثل حباب ہو جائیں
پھر ہوا ڈھونڈتی پھرے ہم کو 
پا سکے نہ حجاب ہو جائیں
آو تحریر عشق کو کر دیں 
ایک انمٹ نصاب ہو جائیں
پھر لکھیں نظم 'غزل ہم انور 
پیار کی اک کتاب ہو جائیں 

گیا نہیں وہاں آنکھیں بچھڑ رہی ہوں گی / کسی کے گھر مجھے آوازیں پڑ رہی ہوں گی/ نوید افضال(کینڈا)

نوید افض
گیا نہیں وہاں آنکھیں بچھڑ رہی ہوں گی
کسی کے گھر مجھے آوازیں پڑ رہی ہوں گی
کوئی درختوں کے سائے سے چل دیا ہو گا
سحر کے ساتھ ہی چڑیاں جھگڑ رہی ہوں گی
سلیقے سے اُنہیں پہنانے والا ہو گا کہاں
اب اُس کی بالیاں کانوں سے اَڑ رہی ہوں گی
حنا بھی پھیکی پڑی ہو گی اور وہ گھبرا کر
گذشتہ مونگے انگوٹھی میں جڑ رہی ہوں گی
دلوں میں بستیوں کے ہو گی رنج کی دیمک
برُوں جُڑی ہُوئی اندر اُدھڑ رہی ہوں گی
ملال ہو گا کسی اور بات کا اُن کو
سہیلیاں وہاں بے بات لڑ رہی ہوں گی
چپاتی دھرتے ہُونے شام کی اداسی میں
نگاہیں خالی سی ڈیوڑھی پہ گڑ رہی ہوں گی
فلک سے جُڑتا ہُوا رشتہ ٹوٹتا ہو گا
نوید ! شاخیں صنوبر کی جھڑ رہی ہوں گی

ہفتہ، 12 نومبر، 2016

پہاڑ کاٹ کے رستہ بنا لیا ہم نے / یہ نیلے پانی کا دریا مگر بہا ہے خود / علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
یہ عشق پیڑ اُگایا نہیں اُگا ہے خود
چراغ ہم نے جلایا نہیں جلا ہے خود
وہ ایک بُت جو نہایت ہی خوبصورت ہے
خدا کسی نے بنایا نہیں، بنا ہے خود
گماں کی اور جو ادراک کا احاطہ ہے
اسی کی سمت یہ وجدانِ در کھلا ہے خود
پہاڑ کاٹ کے رستہ بنا لیا ہم نے
یہ نیلے پانی کا دریا مگر بہا ہے خود
اکیلا اور بھی تنہا سا ہوگیا ہوں دوست
خلا زمین کی حد سے نکل گیا ہے خود
موئن جو ڈیرو کے اطراف گھوم آیا ہوں
ہڑپہ، ٹیکسلا سے مختلف ہوا ہے خود
کمال خیز تحیر جو اشک زار میں ہے
ہمارے درد کی تکلیف میں ملا ہے خود
یہ طبلِ جنگ نہیں کوچ کا نقارہ ہے
روانہ ہونے کے اوقات میں بجا ہے خود
یہ گنجِ زیست بہت قیمتی خزانہ ہے
ہمارے ہاتھ مقدر سے ہی لگا ہے خود

اتوار، 6 نومبر، 2016

مبشر سعید کی کتاب ’’خواب گاہ میں ریت‘‘ اپنی معنویت میں معرفت اور رومانیت کی منفرد آواز ہے

کل میں نے چاند سے کہا آہستگی کے ساتھ
تم فرد لگ رہے ہو محبت قبیل کے
(مبشر سعید)
اردو غزل میں اکثر شعراء نے انسانی محبت کے زمینی جذبے کو آسمانی بنا کر اور معاملات عشق کو جزدان میں لپٹ کر پیش کیا ہے۔ وہاں عاشق اتنا معذور ہے کہ اس کا ہاتھ خود سر محبوب کے دامن تک کبھی نہیں پہنچتا۔ اتنا مظلوم کہ ستم سہنے کے بعد بھی شعلہ خو، پری زاد کو دعائیں دیتا ہے۔ اتنا نیک کہ محبوب کے فراق میں رات بھر آہیں بھرتا ہے اور جب وہی محبوب مائل بہ کرم سامنے آجائے تو وصال کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ مبشر سعید کی خواب گاہ میں ریت، میں ہمیں عشق و محبت کی یہ سماوی تفسیر اور عاشق کی ایسی معصوم تصویر نہیں ملتی۔

اس کی غزل کاعاشق ایسا مرد ہے جو جسم رکھتا ہے اور جسم کی آواز بھی سنتا ہے۔ جو مٹی سے پیدا ہوا ہے اور مٹی کی خوشبو پوری طرح محسوس بھی کرتا ہے۔ اس کے شعروں میں وصل و ہجر کی کیفیتوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ ہر طرف کھلے موسموں کی نکھری فضائیں اور ہر جانب نیلے آسمان کی روشن وسعتیں دکھائی دیتی ہیں۔
مجھ کو یہ میر تقی میر بتاتے ہیں سعید
عشق کرنا ہے مگر جان سے جانے کا نہیں
وصل کی روشنی آنکھوں میں بسانے کے لئے
تم بھی سو جاؤ مرے خواب میں آنے کے لئے
زندگی ہجر ہے اور ہجر بھی ایسا کہ نہ پوچھ
سانس تک ہار چکا، وصل کماتا ہوا میں
غزل کے شعر کو وہی شاعر بات کے روپ میں پیش کرسکتا ہے جو ہر طرح کی بات کہنے کی قدرت رکھتا ہو۔ جس نے عزم کرلیا ہو کہ بات کو قاری تک بہرحال پہچانا ہے۔ مبشر سعید نے بات کہنے کا یہی دل پذیر انداز اختیار کیا ہے۔ اسی لئے اس کے شعروں کی تفہیم کے لئے کسی شرح کی ضرورت نہیں اور لفظوں کی روح تک پہنچنے کے لئے کوئی فرہنگ درکار نہیں۔ سارا کلام پڑھ جائیے کہیں کوئی ادق لفظ نہیں۔ مبشر سعید نے جو شعر کہا، بات کے انداز میں اور جو کچھ کہا سادہ اور دلکش انداز میں۔ وہ جانتا ہے کہ قائم و دائم رہنے والی بات مکمل ابلاغ ہے اور ابلاغ کی منزل اس وقت تک ہاتھ نہیں آتی جب تک شعر کو سادگی، روانی اور بے ساختگی کے زیور سے آراستہ نہ کیا جائے۔
مبشر سعید کی شعری باتوں میں برجستگی اور بے ساختگی ہے اور ان باتوں میں ابلاغ مکمل ہے۔
ہم محبت بھی عبادت کی طرح کرتے ہیں
واعظو! ہم کو عبادت نہ سکھاؤ، جاؤ
مبشر سعید نے اپنی باتوں کو مختلف جہتوں میں تقسیم کیا ہے۔ کبھی وہ اپنے وجود کے اندر کے شخص سے اور کبھی محبوب سے باتیں کرتا ہے۔ کبھی ماحول سے اور کبھی ماحول میں رچی بسی ہمہ تن گوش فضاؤں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ بات کہنے کے اس رنگ نے اس کی شاعری کو دھنک رنگ بنا دیا ہے۔
چل رہا تھا تو سبھی لوگ مرے بازو تھے
گر پڑا ہوں تو کوئی ہاتھ بڑھانے کا نہیں
مجھے سعید، اداسی نے خاموشی سے کہا
سفر طویل ہے تو چل، کلام کرتے ہیں
گوئٹے کا کہنا ہے کہ دراصل محبت ایک آدرش کی شکل میں خود میرے اندر موجود تھی، یہی آدرش مبشر سعید کا سرمایہ ہے اور اسی آدرش کے زیر اثر مبشر سعید نے محبت کا اظہار یوں کیا ہے۔
تیری یادوں کو ہم اشکوں میں بھگوئے ہوئے ہیں
غور سے سن تو سہی قہقہے روئے ہوئے ہیں
عالمِ وجد سے اظہار میں آتا ہوا میں
یعنی، خود خواب ہوا، خواب سناتا ہوا میں
حلقہ شعر سے گزروں گا محبت میں سعید
اپنے جذبات کو الفاظ میں لاتا ہوا میں
سپردگی، غزل کی جان ہے اور محویت غزل کا ایمان۔ اس امر کا اعلان فراق گورکھ پوری نے 1954ء میں اردو کی عشقیہ شاعری میں کیا جس سے محبت کا تصور بدل کر ایک نیا ارفع تصور سامنے آیا۔ مبشر سعید نے دیکھیئے اس تصور کو کس طرح باندھا ہے۔
میں اگر پھول کی پتی پہ تیرا نام لکھوں
تتلیاں اڑ کے ترے نام پہ آنے لگ جائیں
یہ تری یاد کا، آواز کا، احساس کا لمس
وصلِ ضوریز کے جذبات جگائے مجھ میں
اپنے کلام کی جامعیت پر مبشر سعید کو کامل یقین ہے۔ وہ کہتے ہیں،
یہ کیا دیوان غالب کے حوالے؟
ہمارا شعر کچھ تازہ نہیں کیا؟
یہ کہا جاسکتا ہے کہ مبشر سعید کی کتاب ’’خواب گاہ میں ریت‘‘ اپنی معنویت میں معرفت، رومانیت کی منفرد آواز ہے۔

منگل، 1 نومبر، 2016

دیکھا تیرا امریکا (چوتھی قسط) / رضاالحق صدیقی

تاریخ اور سائنس کی دنیا میں


واشنگٹن ڈی سی میں سے گزر کر ورجینیا جانا کئی بار ہوچکا تھا اور ایسا شام کے وقت عدیل کے آفس سے آنے پر ہوتا تھا۔ رات کے وقت جگمگاتی روشنیوں میں امریکہ کا دارالحکومت بڑا خوش رنگ نظر آتا لیکن کوئی قابل دید چیز اندر سے نہیں دیکھی جاسکتی تھی۔ عدیل ہمیں وہاں کے بہت سے مقامات کی سیر کراچکا تھا۔ عید کے روز ہمیں نماز کی ادائیگی کے لئے پھر ورجینیا جانا تھا۔ وہاں سارا امریکہ کھلا ہوتا ہے کہ عید ان کا تہوار نہیں ہے لیکن مسلمان ملازمین اپنے تہواروں پر چھٹی کرسکتے ہیں۔ عید کے لئے عدیل نے بھی چھٹی کی ہوئی تھی۔ چاند رات کو بھی ہم واشنگٹن گئے تھے، بہت سے مقامات اس روز دیکھ لئے تھے۔ اب پروگرام یہ بنا کہ ورجینیا میں نماز پڑھنے اور دوپہر کا کھانا وہیں کھانے کے بعد واپسی پر واشنگٹن کے باقی ماندہ مقامات کی سیر کرلی جائے۔
نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم تاریخی ایئر کرافٹ اینڈ اسپیس کرافٹ کا دنیا بھر میں سب سے بڑا اور نادر نمونہ ہے۔ اسے ہسٹری اور سائنس آف ایوی ایشن اور اسپیس فلائیٹ کے علاوہ پلینٹری سائنس کی تحقیق کے مرکز کی اہمیت بھی حاصل ہے۔ اسے سن 1946ء میں قائم کیا گیا اور اس کی مرکزی بلڈنگ کو 30 سال بعد سن 1976ء میں عوام کے لئے کھولا گیا۔ سن 2014ء میں اس میوزیم کو 67 لاکھ افراد نے دیکھا جس نے اسے دنیا میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پانچواں میوزیم بنا دیا ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے تاریخ اور سائنس میں کبھی دلچسپی نہیں رہی اور ناں میں سائنس کا طالب علم رہا ہوں۔ مجھے آثار قدیمہ اور عجائب گھروں میں بھی دلچسپی نہیں رہی۔ عدم دلچسپی کی وجہ تو شاید نوعمری میں ہڑپہ کے تاریخ ساز کھنڈرات سے کھدائی کے دوران برآمد ہونے والی اشیاء پر مشتمل میوزیم کی بے ثباتی دیکھ کر ہوئی۔ اس میوزیم میں کھدائی کے وقت جو کچھ دریافت ہوا، وہ موجود رہا ہوگا لیکن جب ہم نے اسے دیکھا تو وہ اجڑی ہوئی دلی کی مانند نظر آیا۔
یہ امریکہ ہے، یہاں کے لوگ اپنی تاریخ بنانا بھی جانتے ہیں اور سنبھالنا بھی، اسی چیز نے مجھے نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم دیکھنے پر اکسایا۔ میوزیم کے باہر میں نے عدیل سے کہا بھی کہ کہیں اور چلتے ہیں، یہاں کیا دھرا ہوگا؟ لیکن وہ کہنے لگا آپ چلیں تو سہی اور ہم میوزیم میں داخل ہوگئے۔ اندر کی دنیا ہی عجیب تھی، ایک جانب چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان اور چاند پر جانے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تاریخ مجسم کی گئی تھی اور ایک حصہ آسمان پر چمکنے والے سیاروں اور ستاروں کے بارے میں تھا۔
ارے یہ کیا؟ سائیکل کی ایجاد اور اس کے موجد کی سائیکل کمپنی کا حصہ؟ ہمیں ہنسی آگئی کہ بھلا اس کا حصہ بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ عدیل کہنے لگا یہی تو اس میوزیم کی خاص چیز ہے۔ رائیٹ برادران کی سائیکل کمپنی۔ جس نے انسانی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ رائیٹ برادران؟
وہی جنہوں نے جہاز بنایا لیکن سائیکل کمپنی؟
میں نے خود سے با آواز بلند سوال کیا؟
یہ شاید زمانہِ طالب علمی میں سطحی طور پڑھی ہوئی باتوں کا لاشعور سے شعور میں آنے کا عمل تھا جس نے مجھے سوال کرنے پر اکسایا۔
جی پاپا، وہی رائیٹ برادران، عدیل کا تازہ علم میرے لاشعور کی تائید کرگیا۔
اورول رائیٹ اور ولبر رائیٹ کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے پہلی بار زمین کی بیڑیوں کو اتار پھینکا اور ستاروں کی جانب چھلانگ لگائی تھی۔ انہوں نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا تھا، تہذیب انسانی اس کارنامے کے بعد ایک انقلاب سے گزری۔
وہ تاریخ کا ایک عظیم دن تھا جب اورول رائیٹ نے اوہائیو کے شہر ڈیٹن میں واقع ایک لائبریری میں قدم رکھا۔ کتابوں کی الماری کی جانب بڑھا اور ایک کتاب اٹھائی۔ یہ کتاب ایک جرمن باشندے لیلیئن تھل کی داستان حیات تھی جس نے ایک بڑی پتنگ کے ذریعے اڑنے کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ میں شیشے کے فریم میں لکھی یہ داستاں عظیم پڑھ رہا تھا جس میں آگے ان بھائیوں کے کارنامے کی مزید تفصیلات درج تھیں۔
عدیل کہنے لگا، پہلے اندر آنہیں رہے تھے اب یہاں سے ہل نہیں رہے ہیں۔ آپ آرام سے پڑھیں ساری چیزوں کو دیکھیں۔ ہم یہیں میوزیم میں ہی ہیں لیکن اتنی دیر بھی نہ لگا دینا کہ باقی چیزیں دیکھنے سے رہ جائیں۔ میوزیم 6 بجے بند ہوجاتا ہے۔
میں ہنس دیا اور پھر پڑھنے لگا، مجھے پھر پتہ نہیں لگا کہ وہ کس وقت وہاں سے چلے گئے۔ اس داستانِ عظیم میں درج تھا کہ اس جرمن باشندے نے انجن استعمال نہیں کیا تھا لیکن اُڑا ضرور تھا۔ وہ ایک تاریخ ساز رات تھی جس میں اورول رائیٹ، لیلیئن تھل کی داستان میں کھویا اس بات پر غور کرتا رہا کہ وہ اُڑا کیسے تھا۔ اُس رات کے غور و فکر نے تہذیبِ انسانی میں ایک انقلاب پیدا کردیا۔ اورول نے اپنے بھائی ولبر رائٹ کے دل میں بھی شوق کی چنگاری جگا دی تھی اور پھر رائیٹ برادران ایک ایسے کام میں جت گئے جو ہوائی جہاز کی ایجاد پر منتج ہوا اور ان کا نام لافانی کرگیا۔
اوہائیو میں اُس وقت اِسے ایک چھوٹا سا کام سمجھا گیا، بلکہ اُن کی کوششوں کو ناممکن بتایا گیا لیکن ساتھ ہی ساتھ لوگوں میں یہ بات گردش کرتی رہی کہ رائیٹ برادران نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان اُڑ سکتا ہے۔ پھر وہ دن آگیا۔ لوگ اُن کے دعویٰ کو ناممکن ہوتا دیکھنے اور پھر اُن کا مذاق اڑانے کے لئے جمع ہوچکے تھے لیکن یہ کچھ زیادہ لوگ نہیں تھے۔ صرف پانچ افراد تھے جن میں ایک فوٹو گرافر بھی تھا جس نے انسان کی پہلی اُڑان کی تصویر بنائی تھی۔ یہ واقعہ 17 دسمبر 1903ء کی صبح کے 10 بج کر 35 منٹ پر اورول رائیٹ گرجتے جہاز پر سوار ہوا اور پیٹ کے بل لیٹ گیا اور تار کھیچ کر اس نے اپنے فلائر کی بریکیں اٹھا دیں۔ اُن کی یہ فلائنگ مشین غرائی اور کھانستی ہوئی ہوا میں بلند ہوئی۔ انجن کے ایگزاسٹ سے شعلے لپک رہے تھے، مشین صرف بارہ سیکنڈ کے لئے نیچے، اوپر ہچکولے کھاتے آگے بڑھی اور 120 فٹ تک اڑنے کے بعد زمیں پر گرگئی۔ اِس پرواز کی رفتار صرف 6.8 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ اس تجربے کے بعد اگلی دو پروازوں میں فاصلہ بالترتیب 175 فٹ اور200 فٹ رہا اور ان کی سطح زمین سے بلندی 10 فٹ رہی۔ اُن کی چوتھی پرواز 852 فٹ تک گئی اور یہ 59 سیکنڈز تک اڑتی رہی۔
سن 1903ء کی پہلی کامیاب پرواز کے بعد رائیٹ برادران کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے اور ان کی جدوجہد جاری رہی۔ سن 1905ء میں وہ ایسا جہاز بنانے میں کامیاب ہوئے جو ایک وقت میں آدھے گھنٹے تک اڑسکتا تھا۔ سن 1908ء میں اورول رائیٹ نے دنیا کی پہلی پرواز ورجینیا کے فورٹ میئر میں امریکن آرمی کو دکھانے کے لئے کی۔ امریکن آرمی نے رائیٹ برادران کے جہاز کو دنیا کا پہلا فوجی جہاز قرار دے دیا۔ اُسی سال رائیٹ برادران نے لی منز، فرانس کے نزدیک سو پروازیں کیں جس میں سب سے لمبی پرواز نے 31 دسمبر کو اڑان بھری جس کا دورانیہ 2 گھنٹے اور19منٹ تھا۔
ابھی میں نوٹس لے ہی رہا تھا کہ عدیل نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے اس محویت سے نکالا اور کہنے لگا، آپ نے ابھی تک میوزیم کا یہ حصہ بھی مکمل نہیں دکھا ہم پورا میوزیم گھوم آئے۔ میں نے انہیں کہا بس تھوڑی دیر اور۔۔۔
میں پلٹ تو گیا ہی تھا، میں نے دیکھا کہ اس جہاز کا ریپلیکا سامنے رکھا ہوا تھا اس میں اورول رائیٹ اسی طرح لیٹا دکھایا گیا تھا جیسا کہ تاریخ میں بتایا جاتا ہے۔ میں جہاز کے ریپلیکا کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اب اورول رائیٹ میرے سامنے تھا، میں نے اسے اُس کے کارنامے پر سیلیوٹ کیا۔ اگر اس نے جہاز ایجاد نہ کیا ہوتا تو میں پاکستان سے 8 ہزار میل کا سفر طے کرکے امریکہ کیسے پہنچتا؟
وہاں سے نکلے تو ساتھ ہی سیاروں اور ستاروں کی دنیا آباد تھی۔ اِس دنیا میں داخل ہوئے تو ایک گلیکسی ہمارے سامنے تھی۔ ہر سیارے کو اِس کی جسامت کے مطابق دکھایا گیا تھا۔ ان سیاروں کی ترتیب میں ہماری چھوٹی سی دنیا بھی نظر آرہی تھی جو غالباََ اپنی جسامت کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ہے۔ یہاں بھی چاند پر جانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ریکارڈ بتایا گیا تھا۔ خلا بازوں کے لباس بھی سجے ہوئے تھے۔ میں میوزیم کے اس حصے میں آکر سوچ رہا تھا کہ اس حصے کا مطالعہ تو مریم کو کرنا چاہیئے تھا۔
مریم سلطانہ ہماری بھانجی ہے۔ کراچی میں اردو یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔ ابھی گزشتہ سال ہی اُس نے ایڈوانس اسٹرو فزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل ہے اور وہ پہلی خاتون ہے جس نے یہ ڈگری حاصل کی۔ میوزیم کا یہ حصہ اس کے بڑے کام کا تھا۔ ہمیں اسٹرو فزکس کا تو کوئی اتنا خاص علم نہیں ہے، ہاں اسٹرالوجی میں کچھ شدبد کی وجہ سے یہ حصہ بھی ہماری دلچسپی کا مرکز تھا۔ کبھی کبھی ستاروں کی چال دیکھ کر ملکی سیاست کا جائزہ ضرور لے لیا کرتے ہیں۔ 2013ء کے انتخابات سے پہلے ہمارا اسی حوالے سے جائزہ تھا جو ایک کالم کی شکل میں ایک اخبار میں شائع بھی ہوا تھا کہ تحریک انصاف اور عمران خان کے ستارے جون 2017ء کے بعد عروج پر ہوں گے۔ اس سے پہلے ان کی تمام کوششیں سعی لاحاصل ثابت ہوں گی اور وقت نے ہماری بات کو درست ثابت کیا ہے۔
وہاں سے نکلے تو سامنے ہی شہرہ آفاق ڈرون کا سامنا ہوگیا۔ ڈرون طیارہ اِس وقت بڑی معصومیت سے لٹکا ہوا تھا۔ اُسے دیکھتے ہوئے ہم نے دل ہی دل میں کہا اچھا یہ ہے وہ ڈرون جس نے ہر طرف تباہی مچائی ہوئی ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اس ڈرون نے جو تباہی مچائی اس سے پاکستانی قوم شدید نالاں رہی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2004ء سے اب تک پاکستان میں 330 ڈرون حملے کئے گئے جن میں 2200ء سے زائد افراد جان بحق ہوئے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کا آغاز سن 2004ء میں ہوا۔ اُس سال صرف ایک حملہ ہوا جس میں 8 افراد ہلاک ہوئے۔ سن 2005ء میں تین حملے، 13 افراد ہلاک، سن 2006ء میں چار حملے 7 جاں بحق، سن 2007ء میں چار حملے ہوئے جن میں 48 افراد، سن 2008ء میں ڈرون حملوں میں اضافہ ہوگیا اور 36 حملوں میں 219 افراد جاں بحق ہوئے۔ 2009ء میں54 حملوں میں 350 افراد جبکہ سن 2010ء میں سب سے زیادہ یعنی 122 ڈرون حملے ہوئے جس کے نتیجے میں 608 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ سن 2011ء میں 72 حملوں میں 256 افراد، سن 2012ء میں 48 حملے 222 ہلاکتیں ہوئیں۔ صدر بش کے زمانے میں پاکستان میں 52 ڈرون حملے ہوئے جبکہ اوباما کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد 314 ڈرون حملے ہوئے۔
اب تو ہم خود ڈرون کے معاملے میں خود کفیل ہوچکے ہیں۔ فوج دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں مصروف ہے جس میں پاکستانی ڈرون بھی استعمال کئے جارہے ہیں۔ ہم نے ابھی کچھ دیر پہلے رائیٹ برادران کو سیلیوٹ پیش کیا تھا کہ اگر انہوں نے جہاز ایجاد نہ کیا ہوتا تو ہم تاریخ میں آج کس مقام پر کھڑے ہوتے۔ لیکن ڈرون بھی تو ایک طیارہ ہی ہے، اگر طیارہ مسافروں اور سامان کو اِدھر سے اُدھر لے جانے کے لئے استعمال ہو تو یہ طیارے کا مثبت استعمال ہے اور اگر ہیروشیما اور ناگا ساکی پر اٹیم بم گرانے کے لئے استعمال ہو تو یہ طیارے کا منفی استعمال ہے۔ ڈرون دیکھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کیا طیارے کو ڈرون کی شکل دینے پر رائیٹ برادران کو کیا جانے والا سیلیوٹ واپس لے لینا چاہیئے؟

ہفتہ، 29 اکتوبر، 2016

مرا سادہ سخن! سلجھا ہوا بے ساختہ لہجہ/ تمہاری گفتگو کی ساری تہہ داری سے بہتر ہے/ انجم عثمان

انجم عثمان
قطع کر لیں تعلق! اتنی بیزاری سے بہتر ہے 
محبت میں بھی خودداری، رواداری سے بہتر ہے
بساطِ شوق پہ خود رد کیا اپنے ہی خوابوں کو
کنارا شوق سے تیرے! تری یاری سے بہتر ہے
فسون_آرزو رعنائی اپنی کھو چکا جاناں
تو یہ اقرار کر لینا ریاکاری سے بہتر ہے
زرا ٹھہرو! تم اپنی ساری قسمیں ساتھ لے جاؤ 
جو دل کو چیر دے! یادوں کی اس آری سے بہتر ہے
جو عجز و انکساری! خاکساری ہو طبیعت میں 
تو پھر یہ بندگی میری! تو اوتاری سے بہتر ہے
مرا سادہ سخن! سلجھا ہوا بے ساختہ لہجہ
تمہاری گفتگو کی ساری تہہ داری سے بہتر ہے
نہیں کچھ "ماسوا"! اک پردہ داری کے سوا انجم 
جنوں خیزی! خرد کی ہر فسوں کاری سے بہتر ہے

تا رے شمار کر تی ہو ں شب بھر فراق میں / تم دور مجھ سے جاں مری جایا نہیں کرو/ سبیلہ انعام صدیقی

سبیلہ انعام صدیقی
تم دل کی دل میں رکّھو بتایا نہیں کرو
یوں کہہ کے داستان رلایا نہیں کرو
مجھ سے بچھڑ کےرہتا ہے دلشاد ایک شخص
یہ من گھڑت کہانی سنایا نہیں کرو
آنکھوں کے گرد حلقے پڑے جاگ جاگ کر
نیندوں کو میری ایسے اڑایا نہیں کرو
میری غزل کا طول تمھا رے سبب سے ہے
تم سوچ بن کے شعر میں آیا نہیں کرو
تا رے شمار کر تی ہو ں شب بھر فراق میں
تم دور مجھ سے جاں مری جایا نہیں کرو
مظلوم کی صدا سے نہ آ جا ئےانقلا ب
اتنا زیا دہ ظلم بھی ڈھا یا نہیں کرو
کوشش کرو سبیلہ کےسب تم سے خوش ر ہیں
ناحق کسی کے دل کو دکھایا نہیں کرو

و ہ شِعر تَعلُق کی علا مَت کہا جِن کو / سِینے میں مِر ے یَا ر اُ تَر کیو ں نہیں جاتے / سید انور جاوید ہاشمی،کراچی

سید انور جاوید ہاشمی،کراچی
دِ ل چا ہتا ہے جا نا جِد ھَر کیو ں نہیں جا تے
د یتی ہے صدَ ا ر ا ہ گُزَ ر کیو ں نہیں جا تے
جُز بُغض و حَسد ملتا نہ ہو جس کی گلی سے
سب جا ن گئے با ر ِ د گَر کیو ں نہیں جا تے
و ہ جا ن ِ جِگَر، شو خ نظَر آ ج جِدھر پہے
اُ س سَمت سبھی ا ہلِ نظَر کیو ں نہیں جا تے
و ہ شِعر تَعلُق کی علا مَت کہا جِن کو
سِینے میں مِر ے یَا ر اُ تَر کیو ں نہیں جاتے
عا شق ہو تو پھر جا ں سے گزرجانے کا غم کیا!،
اِ س رَ ا ہ میں سَر جا تے ہیں،سر کیوں نہیں جاتے

وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے /عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے / بسمل صابری

بسمل صابری
وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
وہی ستارہ شب غم کا اک ستارہ ہے
وہ اک ستارہ جو چشم سحر میں رہتا ہے
جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اسے
وہ شعر بن کے بیاض نظر میں رہتا ہے
گزرتا وقت مرا غم گسار کیا ہوگا
یہ خود تعاقب شام و سحر میں رہتا ہے
مرا ہی روپ ہے تو غور سے اگر دیکھے
بگولہ سا جو تری رہ گزر میں رہتا ہے
نہ جانے کون ہے جس کی تلاش میں بسملؔ
ہر ایک سانس مرا اب سفر میں رہتا ہے







جمعہ، 28 اکتوبر، 2016

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیرِاہتمام اخترحسین رائے پوری کی یاد میں مشاعرہ

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِاہتمام اخترحسین رائے پوری کی یاد میں منعقدہ
مشاعرے کے بعد شعراء و شاعرات کا گروپ فوٹو

بدھ، 26 اکتوبر، 2016

سحرتاب رومانی زندگی کے چاک پر ۔۔۔ رضاالحق صدیقی کا بولتا کالم

غارِ سخن میں بیٹھ کے لکھتا ہوں میں غزل
یہ فن یونہی نہیں ملا لہجوں کے شہر میں 
ہوں دوسروں سے مختلف اپنے مزاج میں 
پہچان میری ہے جدا لہجوں کے شہر میں 
،،زندگی کے چاک پر،، کو میں نے انہی اشعار کے حوالے سے دیکھا ہے۔میں نے اس شعری مجمموعے  میں سحرتاب رومانی کو نہیں صرف شخص کی تلاش کی ہے۔زندگی کے چاک پرکی غزلیں سحرتاب رومانی کی فنی پختگی اور منفرد اسلوب کا منہ بولتا ثبوتہیں۔یہ غزلیں عصرِ حاضر کے شعری اسلوب سے قدم ملا کر چلنے کی تاب رکھتی ہیں۔
سحرتاب رومانی کی شاعری پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ شاعری انسان کے داخلی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔انہوں نے غزل کو  روایت سے ہٹ کرنئے مضامین دئیے ہیں۔ سحرتاب رومانی کے کلام میں خیال اور جذبہ الگ الگ قالب کے طور پر دکھائی نہیں دیتے بلکہ شیر و شکر ہو کر ایک خوبصورت شعر میں ڈھل جاتے ہیں۔

رسا چغتائی کہتے ہیں کہ میں میر و غالب  اور حسرت و فیض سے خوف نہیں کھاتا ہوں کہ ان شعراء کو جو کچھ کہنا تھا اور موضوعات کو جو رخ دینا تھا دے چکے لیکن میں نئے شعراء سے خوف کھاتا ہوں کہ نجانے کون کس وقت کیا لکھ دے اور زندگی کو نجانے کس رخ سے دیکھ لے،اکثر شعراء کے حوالے سے یہ کہہ چکا ہوں  کہ یہ کسی شمارو قطار میں ضرور آ جائیں گے،لیکن یہ کہہ سکتا ہوں کہ گذشتہ دو دہائیوں سے سحرتاب رومانی کی شاعری مجھے نہ صرف غور و فکر پر آمادہ کرتی رہی ہے بلکہ ان کے  کئی اشعار پر میں نے بے اختیار داد دی ہے۔سحرتاب رومانی اپنے ہم عصروں میں اعتبار کی منزل پر فائز ہیں۔
دیوار و در سے وحشتیں جاتی نہیں سحر
اک دشت ہے مکاں سے میرے ملا ہوا
زندگی کے چاک پر کا دیباچہ لکھتے ہوئے رفیع اللہ میاں لکھتے ہیں،،سحرتاب رومانی میرے لئے اب بھی ایک ایسے شاعر ہیں جو اشعار کی مشق کے دوران بہت سارے ایسے شعر کہہ جاتے ہیں جنہیں کہنے اور لکھنے کے بعد حذف کر دینا چاہیئے لیکن وہ انہیں اپنی غزلوں میں شامل کر دیتے ہیں۔یہ ایسے اشعار ہوتے ہیں جو الفاظ کے معمولی ردوبدل کے ساتھ بہ کثرت نوآموز اور بے نام شاعروں کے ہاں بطور مشق ملتے ہیں۔اگرچہ رفیع اللہ میاں نے اپنی اس بات کے ثبوت میں کوئی ایسا شعر درج نہیں کیا جو ان کی اس بات کو ثابت کرتا۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے ابتدا میں ایسا پیرا لکھ کرخود کو سکہ بند نقاد ثابت کرنے کی کوشش ہو لیکن بعد میں انہیں خیال آیا کہ وہ تو دیباچہ لکھ رہے ہیں  سو انہوں نے پینترا بدلا اور رطب اللسان ہو گئے۔
میں نے سحرتاب رومانی کی گذشتہ کتاب،، گفتگو ہونے تک،، پر اپنا کالم لکھتے ہوئے لکھا تھا کہ سحر تاب رومانی ایک جمال پسندشاعرہیں حسن ان کے نزدیک دعوت نگاہ ہی نہیں ایک نغمہ جمال فروز بھی ہے، ان کا مذاق جمال پسندی رفیع اور شدید ہی نہیں جمال انگیز اور ترانہ ریز بھی ہے۔ سحر تاب رومانی نے حسن کو لالہ و گل کے پردوں میں چنگ و رباب کے آئینوں میں دیکھا ہے کہ ان کے مذاق عشق میں بھی سو طرح کی رنگینیاں اور رعنائیاں ابھر آئی ہیں۔ ان کی فنی قدریں تصور جمال سے تخلیق ہوئی ہیں۔ ان کے فکروفن میں حسن محبوب کی شوخیاں سما گئی ہیں۔ان کے اشعار میں جو خوبصورتی ہے وہ کسی کے لطفِ فن کا فیض ہے۔ حسن ان کے قلب و روح میں اس طرح نفوذ کر گیا ہے کہ ان کی آواز خود حسن کی آواز بن گئی ہے۔
،،زندگی کے چاک پر،، کا مطالعہ کرتے ہوئے میرا تاثر ہے کہ اگرچہ شاعری کا سفر تیزی سے آگے بڑھا ہے۔پختہ خیالی میں اضافہ ہوا ہے لیکن سحر تاب رومانی کا رومانی ابھی باقی ہے۔
چاہت کی یہ بارش زندہ رکھتی ہے
دل کو تیری خواہش زندہ رکھتی ہے
تمہاری آرزو جاتی نہیں ہے
فلک پر اک شفق ہے اور میں ہوں 
دشت ہوتی زندگی کے چاک پر
خواب لکھتا، شاعری کرتا ہے کون
میں نے اک روز ترا نام لکھا پانی پر
جس کی برکت سے حسیں پھول کھلا پانی پر
زندہ شاعری کی تخلیق کے لئے صرف موزوں طبع ہونا ہی کافی نہیں ہوا کرتاجب تک کہ شعری ہنروری کے مطالبات سے آگہی حاصل کرتے ہوئے ریاضت کا وطیرہ اختیار نہ کر لیا جائے، درحقیقت ریاضت ہی فکری مواد کی رواں ترسیل کے لئے با سلیقہ طریق اظہار متعین کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔اور ریاضت ہی کی بنیاد پر تخلیق کار اپنے فکری نتائج پر منحصر مضامین سہولت کے ساتھ پیش کرنے کا شعری میکنزم ترتیب دے کراس کا ثمر حاصل کرتا ہے۔اپنے اسلوب کے اعتبارات قائم کرنے کے لئے شاعر کو بہر طور اپنے احساسات و جذبات کے اظہاری توازن کے معیارات مقرر کرنے ہوتے ہیں۔
تھا خدا سے بہت ضروری کام
اس لئے دیر تک عبادت کی
تیری نگاہ میں رہے بجھتا ہوا دیا
ورنہ تو کائنات میں ہم آفتاب تھے
سحر تاب رومانی کی غزلیں ان کی شخصیت کی آن بان رکھتی ہیں اور ان کے طرز حیات کا پتہ دیتی ہیں۔ ان کے جذبات میں، ان کے فکر و تخیل میں ایک دھیمی معتدل کیفیت اور ان کے تجربات کی صداقت کا عنصر نظر آتا ہے۔

سوموار، 24 اکتوبر، 2016

دیکھا تیرا امریکا (تیسری قسط) / رضاالحق صدیقی




اجنبی شہر میں عید


پاکستان سے ہم 22 روزے گزار کر چلے تھے۔ باقی روزے یہاں بچوں کے ساتھ رکھے لیکن یہ روزے بڑے پھیکے پھیکے تھے، ناں اذان کی آواز، ناں نزدیک کوئی مسجد، بس فون پر سیٹ کی ہوئی واشنگٹن کے وقتِ سحر و افطار پر ابھرنے والی اذان سحری اور افطاری کے اوقات کا پتہ دیتی تھی۔ سچ مانیں اپنا پاکستان بہت یاد آیا، یوں ایک ہفتہ اسی حالت میں گزرا اور پھر عید کا دن آپہنچا۔
پاکستان میں تو عید بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے لیکن یہاں وہ نظارے کہاں۔ چاند رات کو دو آپشن تھے ایک تو یہ کہ چاند رات میلے میں چلے جاتے، جہاں کھانے پینے کے اسٹال لگے ہوتے اور پاکستان یا ہندوستان کا کوئی تھکا ہوا گلوکار آپ کو بوریت کی انتہا کو پہنچا دیتا۔ دوسرا آپشن عدیل نے ہمارے سامنے رکھا کہ چلیں واشگٹن ڈی سی چلتے ہیں جہاں امریکہ کے کچھ مقامات دیکھ لیں گے، ہمیں چاند رات میلے میں تو کوئی دلچسپی نہیں تھی سو فیصلہ یہ طے پایا کہ واشنگٹن کی سیر کی جائے۔
واشنگٹن ڈی سی میں عدیل نے مونومنٹ کے نزدیک پارکنگ ایریا تلاش کرکے گاڑی پارک کی۔ امریکہ کا کوئی بھی شہر ہو پارکنگ تلاش کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ سڑک سے مونومنٹ تک خاصی چڑھائی ہے۔ وہاں پہنچ کر عدیل نے ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ امریکہ کے پہلے صدر کی ’سمادی‘ ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا وہ یہاں دفن ہے؟ اس نے بتایا کہ نہیں دفن تو وہ کسی قبرستان میں ہی ہوگا یہاں صرف اس کا دیوقامت مجسمہ رکھا ہوا ہے، یہ اس کی یادگار ہے۔ موونومنٹ سے چاروں جانب ایک ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر یادگاریں ہیں۔ ابراہم لنکن میموریل کے بالمقابل یو ایس کیپٹل ہے جسے عموماََ وائٹ ہاؤس سمجھا جاتا ہے لیکن یہ امریکی حکومت کے قانون ساز ادارے کانگریس کی اسمبلی ہے۔ یہ عمارت 215 سال پرانی ہے۔ اس عمارت کی تعمیر 1793 میں شروع ہوئی اورسن 1800 میں اسے استعمال کے لئے کھول دیا گیا۔
اسے روسل سینٹ آفس بلڈنگ بھی کہا جاتا ہے۔ سن 1800ء میں جب یہ عمارت مکمل ہوئی تو اس وقت اس عمارت کے اوپر نظر آنے والا گنبد تعمیر نہیں ہوا تھا، بعد میں اس کے توسیعی منصوبے کے تحت اس میں ایک بڑے گنبد کا اضافہ کیا گیا، اس عمارت کو نیو کلاسیکل اسٹائل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس عمارت کے اگرچہ دو فرنٹ ہیں لیکن اس کا مشرقی فرنٹ ہی وفود کے استقبال کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ عمارت گزشتہ 2 سو سال میں کئی بار تباہ ہوئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ مرمت اور تزئین و آرائش کا کام جاری رہتا ہے۔ اب بھی ایسا ہی کچھ کام ہورہا تھا جس کے لئے اس کے گنبد کے ارد گرد اسٹیل کے مچان اور سہارے لگائے گئے ہیں۔ سن 2014ء سے شروع ہونے والا یہ کام سن 2017ء کے اوائل میں مکمل ہوسکے گا۔
عدیل کو یہاں آئے چار سے پانچ سال ہوگئے ہیں اس لئے اسے اب یہاں کے بارے میں کافی معلومات ہیں۔ جب وہ یہ سب کچھ مجھے بتاچکا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اگر یہ وائٹ ہاؤس نہیں ہے تو وائٹ ہاؤس کہاں ہے؟ مونومنٹ پر کھڑے کھڑے اس نے کہا کہ دو اطراف کا تو میں نے آپ کو بتا دیا اب وہ تیسری جانب دیکھیے وہ رہا وائٹ ہاؤس۔ درختوں کی اوٹ سے ایک سادہ سی عمارت اپنی ہلکی سی جھلک دکھا رہی تھی اور چوتھی طرف امریکہ کے تیسرے صدر جیفرسن کی سمادی نظر آرہی تھی۔ مجھے وائٹ ہاؤس دیکھنے کا شوق تھا لیکن رات کافی ہوگئی تھی اور اگلے روز عید تھی اس لئے ہم نے واپسی کی راہ لی۔
گھر پہنچ کر ہمارا چائے کا مطالبہ زور پکڑگیا اس لئے خواتین آتے ہی کچن میں چلی گئیں، اور عدیل بتانے لگا کہ یہاں عید کی نماز کے 3 ٹائم ہیں۔ ایک صبح سات بجے، دوسرا ساڑھے دس بجے اور تیسرا ساڑھے گیارہ بجے۔ اب ایسا ہے پاپا کہ آفس سے آنے کے بعد ابھی ہم واشنگٹن کا چکر لگا کر آئے ہیں، اور میں بہت تھک گیا ہوں سات بجے والی نماز کے لئے پانچ بجے اٹھنا پڑے گا جو میرے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے ساڑھے دس بجے والی جماعت میں نماز ادا کرلیں گے۔ ٹھیک ہے، کہاں ہوتی ہے نماز؟ مسجد کدھر ہے یہاں؟ مسجد تو نہیں ہے، مسلم کیمونٹی کوئی ہال کرایہ پر لے لیتی ہے اور وہاں نماز کی ادائیگی ہوتی ہے۔ یہاں سے ایک گھنٹہ کی مسافت پر ورجینیا میں مسلم کیمونٹی والوں نے عید کی نماز کا انتظام کیا ہے، اور بھی ایک دو جگہ ہے لیکن ہم وہیں پڑھیں گے۔
میری لینڈ، واشنگٹن اور ورجینیا، راولپنڈی اسلام آباد کی مانند جڑواں ریاستیں ہیں۔ عدیل میری لینڈ کے شہر سلور اسپرنگ میں واشنگٹن کے سرحدی علاقے میں رہتا ہے۔ وہاں سے پہلے واشگٹن میں داخل ہوتے ہیں اسے کراس کرتے ہوئے ورجینیا پہنچ جاتے ہیں اور انٹراسٹیٹ ہائی وے نمبر 495 ان اسٹیٹس کو ملانے والی شاہراہ ہے۔ عید کے روز ہم تقریباََ ساڑے نو بجے گھر سے نکلے اور اس ہال میں پہنچ گئے جہاں نماز کا اہتمام تھا۔ وہاں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا جس سے لگ رہا تھا کہ واقعی عید ہے، ایک بات جو میں نے محسوس کی کہ لوگ پکنک منانے کے انداز میں وہاں آئے ہوئے تھے۔ مرد، خواتین، بچے سبھی وہاں تھے۔ زیادہ تر لوگ مغربی لباس میں ہی تھے لیکن بہت سی فیملیز پاکستان کے قومی لباس میں بھی تھیں جن میں ہم بھی شامل تھے۔ آٹھ دس دن کے بعد شلوار قمیض میں امریکہ میں پھرنا اچھا لگ رہا تھا۔
ہال کے اگلے حصے میں مردوں کا انتظام تھا، درمیان میں ایسے افراد کے لئے جو بیٹھ کر نماز ادا نہیں کرسکتے، کرسیوں کا انتظام تھا۔ پیچھے خواتین نماز کے لئے موجود تھیں۔ سب کچھ اپنی جگہ تھا لیکن عید کی نماز پڑھنے کا مزا اپنے پاکستان میں ہی آتا ہے یا ہمیں پاکستان میں ادا کی جانے والی نماز کا انداز پسند ہے۔ یہاں جماعت کھڑی ہونے سے پہلے خطبے کے بجائے مسلم کیمونٹی کے لئے کام کرنے والے خواتین و حضرات کے تعارف کا ایک سلسلہ ہوا، جو صفوں کے سامنے قطار میں کھڑے تھے، پھر مختلف اعلانات کئے گئے اور باجماعت نماز ادا کر دی گئی۔
پاکستان سے امریکہ آبسنے والی اداکارہ ’ریما‘ بھی خواتین والے حصے میں موجود تھیں۔ جب ہم نماز کے بعد وہیں ایک حلال ریستوران میں لنچ کرنے جا رہے تھے تو ہماری بہو نے ہمیں بتایا کہ بڑی سادہ سی لیکن اچھی لگ رہی تھیں ریما۔ کھانے کے بعد سیلفیوں کا ایک دور چلا، یہ سیلفی کلچر نجانے ہم میں کہاں سے آن ٹپکا ہے لیکن جو بھی اچھا ہے، یادگار ہے

اتوار، 23 اکتوبر، 2016

احمد رضا راجا ۔۔ ایک تعارف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر :ارشد محمود راشد

مجھ پہ تحقیق مرے بعد کرے گی دنیا
مجھ کو سمجھیں گے مرے بعد زمانے والے
.احمد رضا راجا منفرد شاعر ہیں جو قاری کے دل میں اترنے کا فن جانتے ہیں.ان  کا اولین شعری مجموعہ ،،محبت ہمسفر میری ، 2004ء میں منصہ شہود پر نمودار ہوا۔ایک شعری انتخاب ،، بھلے دنوں کی بات ہے ،، 2007ء میں شائع ہوا۔
.احمدرضا راجا25دسمبر1977ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور دھمیال گاؤں ،راولپنڈی میں ہی سکونت پزیر ہیں
شاعری کا آغاز 1997ء سے کیا
راجا ہاؤس کو پنڈی کی ادبی سرگرمیوں میں مرکز کی حیثیت حاصل ہے شہر بھر کی ادبی تنظیمیں یہاں مشاعروں کے اہتمام کو اعزاز سمجھتی ہیں وہ کئی ادبی تنظیموں سے منسلک ہیں سابق جنرل سیکرٹری حلقۂ ارباب ِ ذوق راولپنڈی ،سابق وائس چیرمین ملک گیر ادبی تنظیم سخنور ،سابق جنرل سیکرٹری حرف اکادمی پاکستان،
چیئرمین ادبی تنظیم شغف ،راولپنڈی،جنرل سیکرٹری عالمی ادبی تنظیم ارتقا،پاکستان 
آئیے ان کے کلام سے کچھ اشعار دیکھتے ہیں
مجھ پہ تحقیق مرے بعد کرے گی دنیا
مجھ کو سمجھیں گے مرے بعد زمانے والے
مصلوب کر دیا گیا اس جرم پر مجھے
انسانیت پہ جبر نہیں تھا قبول بس
نجانے شوق ہے کیوں ہر کسی کو کج کلاہی کا
بھلا دستار کے اندر بھی کوئی سر بدلتا ہے
لوگوں نے اس کو میری محبت سمجھ لیا
راجا وہ مجھ کو جان سے پیارا تھا اور بس
کیا ہے جو ایک شخص ہمارا نہیں ہوا
ایسا جنوں میں کس کو خسارا نہیں ہوا 
جو چھوڑ گیا دیدۂِ پرنم میں اندھیرے
وہ شخص کبھی آنکھ کا تارا تھا ہمارا
تم اپنی پیار کہانی کو عام مت کرنا
زمانہ ایسے فسانے بہت اچھالتا ہے
جب اس کی یاد رگ و پے میں دوڑتی ہے میاں
فشارِ خون سے دل پر دباؤ آتا ہے
بس اتنا جانتا ہوں کہ آواز اس کی تھی
اتنا پتہ ہے اس نے پکارا تھا اور بس
جدا ہو کر بھی دونوں جی رہے ہیں
کوئی تو ایک مرنا چاہئیے تھا
وہی مجھے بھی وسیلے حیات کے دے گا
جو پتھروں میں چھپی زندگی کو پالتا ہے
ستم سرشت میں اس کی شدید رکھا ہے
سو نام ہجر کا ہم نے یذید رکھا ہے
مجھ سے اب پوچھتی ہے روز مری بینائی
کوئی تعبیر بھی ہے خواب دکھانے والے 
یہ کون آیا ہے دل کے مدینے میں،احمد
درود پڑھتے ہیں پتھر ، درخت جھومتے ہیں
کسی دلیل سے قائل وہ ہو نہیں سکتا
کسی نتیجے پہ وہ نکتہ چیں نہیں آتا
عشق کے امتحان میں سب نے
نقل کی ، نقل بھی ہماری کی
جسے ہوا کے مخالف اڑان بھرنی ہو
وہ پنچھی اڑتے ہوئے پر کہاں سنبھالتا ہے
عشق بھی رنگ بدل لیتا ہے جانِ احمد
ٹھنڈی ہو جائے تو پڑ جاتی ہے کالی چائے
میری طرف سے خیر ہے لیکن دعا کرو
تم کو معاف کر دے مرا ذوالجلال بھی
طلب جو کرتے مسلسل مراد بر آتی
چٹان میں بھی تو آخر کٹاؤ آتا ہے

ہفتہ، 22 اکتوبر، 2016

شہر میں کسے انور ڈھونڈتے پھرو گے تم / ہیں نقاب میں سب ہی کس سے کیا گلہ ہونا / انور زاہدی

انور زاہدی
خوف کی علامت ہے رات کا سوا ہونا
اس لئے تو لازم ہے ہاتھ میں دیا ہونا
تیری یاد سے غافل کس طرح بھلا ممکن
جب تلک ہے تن پہ سر سانس کا روا ہونا
حاجتیں ضروری ہیں زندگی کے دامن میں
زندگی میں لازم ہے زندہ و بقا ہونا
شہر کے مکاں کہنہ گلیوں کی زباں ساکت
رسم اک پرانی ہے مر کے ہی جلا ہونا
شہر میں کسے انور ڈھونڈتے پھرو گے تم
ہیں نقاب میں سب ہی کس سے کیا گلہ ہونا

بدھ، 12 اکتوبر، 2016

عارفہ شہزاد کی ،،عورت ہوں نا،، ۔ تشکیکی رویے کی شاعری ہے ۔ رضاالحق صدیقی

کچھ دیکھا کچھ ان دیکھا سا۔۔۔ دھندلا ایک ہیولیٰ
کون ہے؟ کیا میں؟یا پھر تو ہے؟
بات یہ کون بتائے
دیواروں پرگھٹتے بڑھتے،کالے پیلے سائے
روزن سے چپکی آنکھوں نے راز انوکھے پائے
دور کہیں در ہیں کچھ روشن
آنکھ وہیں جم جائے
انسان اپنی ہجرتِ زمینی کے بعد سے اسی قسم کے گماں میں مبتلا ہے۔سوالات کا ایک انبوہ ہے، ربِ عظیم نے اگرچہ سب کچھ انسان کو سکھایا لیکن پھر بھی سوچ میں ڈوبا رہا یہ انسان۔ اس زمین پر اتارے جانے کے بعد جب مشرق سے سورج نے سر اٹھایا تو اس نے سمجھاکہ یہی میرا رب ہے اور اس نے اس کے سامنے سر جھکا دیا لیکن جب رات کے سیاہ بادل اسے مغرب میں ڈبو گئے تو انسان نے کہا یہ میرا رب نہیں ہو سکتا  کیونکہ میرے رب کو فنا نہیں ہے۔

یہی سوچ ازل سے انسان کے ساتھ ہے۔ایسا بہت کم ہے کہ ادب میں تشکیک کو شاعروں نے اپنا موضوع بنایا ہو۔عورت ہوں نا، پڑھتے ہوئے میرا گمان ہے کہ عارفہ شہزاد بھی انسانی نفسیات میں پیدا ہونے والے تشکیکی رویے کو اپنی شاعری میں استعمال کرتی ہیں۔
خیال آفرینی ایک پیٹرن کا نام ہے،ایک ایسا پیٹرن جو ہمہ وقت تغیر پذیر رہتا ہے  مگر اس تغیر پذیر پیٹرن کے اندر ایسا اتار چڑہاؤ ہے جو تغیرات کے باوجود پیڑن کی ساخت کو قائم رکھتاہے۔
خیال آفرینی کا ایک امتیازی وصف یہ ہے کہ یہ دوئی پر استوار ہوتا ہے ”ایک“ کی کوئی ساخت نہیں ہوتی لیکن جب ایک دو میں تقسیم ہوتا ہے اور دونوں حصے ایک دوسرے کے روبرو آجاتے ہیں تو ایک ایسا رشتہ ابھرتا ہے جس سے لاتعداد نئے رشتے پھوٹ پڑتے ہیں۔
مثال کے طور پر جب ایک آئینے کے مقابلے میں دوسرا آئینہ رکھ دیا جائے تو عکسوں کا ایک لا متناہی سلسلہ جنم لیتا ہے اور اس طرح ایک کے اندر دوئی کے جنم اور پھر اس کے دائرہ در دائرہ پھیلاو سے رشتوں کی ایک پوری دنیا آباد ہو جاتی ہے جسے ہم پیٹرن کہتے ہیں۔
چکھ آئی ہوں ممنوعہ پھل
کون سا رب ہے جو دیکھے گا
طاق عدد میں طاق ملایا
جفت کا جوڑا آپ بنایا
کون اتارے گا جنت سے
رکھ آئی ہوں آپ زمیں پر
تن من اپنا
ٹی ایس ایلیٹ کا کہنا ہے کہ ہر نئی تخلیق کے وقت شاعر کو ہر نظم میں لفظوں کو نئے انداز میں استعمال کرنا ہوتا ہے اور نئی نظم کا پیرایہ اس کی دوسری نظموں کے پیرایہ سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ موجودہ کیفیات نئے احساس اور نئے مطالب کی متقاضی ہیں۔
عارفہ شہزاد کی نظم اس حوالے سے منفرد ہے کہ اس کی ہرنظم اپنا پیرایہ خود لے کر آتی ہے۔ان کی نظم کا بین السطور جس ہیت کا متقاضی ہوتا ہے عارفہ شہزاد کا مزاج اس بین السطور کے مطابق  زبان اور ہیت عطا کرتا ہے۔
عارفہ جذبوں کی شاعر ہے اور اس کے جذبے سچے ہیں جنہیں اس نے ادبی دیا نت داری کے ساتھ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔وہ وقارِ فکر کی قائل ہیں۔وہ تطہیرِ فن کی بات کرتی ہیں۔لوح و قلم کی حرمت ان کا مسلک اور انسان دوستی ان کا مذہب ہے۔انہوں نے نظم کے وسیلے سیمثبت انسانی اقدار کو پورے ادبی حسن اور فنی رچاو کے ساتھ قاری تک پہنچایا ہے۔
یہ ہے فخرِ آدم
کہ بس ابنِ آدم
امینِ خدا ہے،قرینِ خدا ہے
یہ ہستی مری
کیا فقط واسطہ ہے؟
یہ تسلیم ہے
میں صحیفوں میں تو
عابدہ،مومنہ،صالحہ کے لقب سے پکاری گئی تھی
مگر جب فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا تھا
تو حوا کہاں تھی؟
یہ گیانی پرواز ہے جس سے سوالوں کے سیکڑوں نغمے پھوٹ رہے ہیں جو سننے والوں کے دل میں اتر کر اثر پذیر ہے۔یقیناََ عارفہ ان شاعروں میں سے ہیں جن کے وجود سے عروسِ نظم کا باکپن باقی ہے۔عارفہ نے لفظ و بیان کی جو قندیل روشن کی ہے۔
اس گیانی پرواز کے بعد ایک بار پھر شکوہ کناں ہیں۔
صحیفے تم پہ اترے ہیں 
تمہارا نام ہے نامی
مرے حصے میں ہے پس پیروی یا ایک ناکامی
تمہاری مہر ہے سکہ تمہارا
لفظ بھی سارے  تمہارے ہیں 
تمہارا نام ہے تاریخ کے سارے ہی خانوں میں 
مری تو سوچ  تک محبوس ہے
بس گھر کے کاموں میں 
عارفہ شہزاد اپنے شعری سفر میں اپنی آنکھ کے ہفت آئینے میں وجود،دنیا،کائنات اور اس کے مظاہرات کے کتنے ہی عکس ابھارتی ہیں جو ایک دوسرے سے جدا بھی ہیں اور آپس میں جڑے ہوئے بھی ہیں۔ہر عکس میں شاعرہ کے انتہائی ذاتی مشاہدے اور تجربے کا رنگ نمایاں ہے جو بڑی بے ساختگی سے آشکار کی گئی ہیں۔
مجھے چاہیئے ہیں 
تمہاری آنکھیں 
زمیں کی کوکھ سے پھوٹتی
سرَ خوشی کے رنگ دیکھنے کے لئے
اور تمہاری سماعت
بارش میں 
قطرۂ ِ نسیاں کی آہٹ سننے کے لئے
اور تمہارے ہونٹ
سورج کی تمازت کا لمس
جذب کرنے کے لئے
اور تمہارے ہاتھ
ہوا کی ہتھیلی پر
حیرت کی داستاں لکھنے کے لئے
اور مجھے چاہیئے ہے
تمہاری ساری محبت
تم سے محبت کرنے کے لئے
عارفہ شہزاد کی،،عورت ہوں نا،،فیمنسٹ کا نہیں تشکیک کا استعارہ ہے۔
۔