ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

سوموار، 2 نومبر، 2015

لکڑی کے دیوار و د ر ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط ۔12

لکڑی کے دیوار و در

ایک روز ہم گھر پر ہی موجود تھے،رابعہ کہنے لگی
،، ابو آپ کو پتہ ہے ہمارا یہ فلیٹ  لکڑی کا بنا ہوا ہے۔اس کی دیواریں،فرش اور چھتیں سب کچھ،،
میں بڑا حیران ہوا،میں  نے کہا 
،،وڈ فلورنگ تو میں نے دیکھی ہے،اگرچہ یہاں تمہارے سارے فلیٹ میں موٹا سا قالین بجھا ہوا ہے لیکن بعض جگہ ٹھک کی سی آوازآتی ہے جیسے لکڑی کا فرش ہو،لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دس،گیارہ منزلہ عمارت ہو اور تمام کی تمام لکڑی کی بنی ہوئی ہو۔ایسا ہو نہیں سکتا،،
،،آپ کو میری بات کا یقین نہیں ہے نا،عدیل سے پوچھ لیں جب شام کو وہ آئیں گے تو،،
رابعہ نے کہا
،،ٹھیک ہے،اس سے بھی پوچھ لیں گے،ویسے  یہ بات ہضم نہیں ہوئی،کم از کم بنیادیں ہی کنکریٹ کی کہہ دیتیں،بنیاد ہی مضبوط نا ہو تو عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی،،
میں نے بے یقینی کے سے انداز میں جواب دیا۔
رابعہ کو عنایہ نے بلا لیا اور وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی۔
شام کو جب عدیل آیا تو چائے کا دور چلا،عدیل پھر اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔اس کا کام ہی ایسا ہے،میں صوفے پر نیم دراز تھا،اتنے میں رابعہ کچن میں چائے کے برتن رکھ کر آ گئی۔میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی 
،،ابو، اب عدیل سے پوچھ لیں میری بات پر تو آپ کو یقین نہیں تھا،،
عدیل نے میری اور رابعہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
،، کیا ہو گیا، آپ نے رابعہ کی کس بات کا بقین نہیں کیا،،
،،ارے یار کوئی خاص بات نہیں ہے،رابعہ کہہ رہی تھی امریکہ میں یہ  جو کئی کئی منزلہ عمارتیں ہیں سب لکڑی کی بنی ہوئی ہیں جبکہ میں کہہ رہا تھا کہ ایک یا دو منزلہ تو لکڑی کی ہو سکتی ہیں لیکن یہ کئی کئی منزلہ نہیں ہو سکتیں،،
بس اتنی سی بات تھی میں نے کہا
ہم دونوں کی  گفتگو سن کرعدیل کہنے لگا
،، آپ دونوں ہی ٹھیک کہہ رہے ہیں،دراصل امریکہ میں سارے گھر لکڑی کے بنے ہوتے ہیں،بیسمنٹ کی دیواریں اور عمارتوں کی ایک دو منزلوں کی چاروں دیواریں پتھر بھر کر مضبوط کی جاتی ہیں،باقی ساری عمارت،اندرونی دیواریں،چھت،سیڑھیاں اور فرش لکڑی کے ہوتے ہیں۔دیواروں کی موٹائی دونوں طرف کی لکڑی کی شیٹوں میں فوم بھر کر کی جاتی ہے۔یہ بنی بنائی بھی مل جاتی ہیں۔آپ نے ہر وقت یہاں فائر بریگیڈ کی آوازیں سنی ہیں،لکڑی کی عمارتوں میں آگ لگنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے،یہاں عمارتوں میں سموک آلار م لگے ہوتے ہیں،آگ نا بھی لگے عمارت میں صرف زیادہ دھواں بھر جائے تو بھی یہ الارم بج اٹھتے ہیں۔کمال یہ ہے کہ فائر بریگیڈ چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ جاتا ہے۔،،
میرے لئے یہ حیرت کی بات اور اطلاع تھی کہ سارے کا سارامکان ہی لکڑی کا بنا ہوتا ہے لیکن کسی جانب سے لکڑی کا نہیں لگتا۔
میرے لئے یہ بھی حیرت کی بات تھی کہ امریکہ میں باؤنڈری وال یا آہنی گیٹ لگانے کا کوئی تصور نہیں ہے،نہ ہی گرل یا جالی لگائی جاتی ہے۔کھڑکیاں چوڑی اور شیشے کی ہوتی ہیں،خطرے کا آلارم بڑے گھروں میں ہوتا ہے،ہر گھر میں نہیں ہوتا۔سنگل یا ڈبل بیڈ روم اپارٹمنٹس کی کھڑکیوں پر صرف شیشہ لگا ہوتا ہے،یہاں چوری کا خطرہ نہیں ہوتا۔نہ کسہ دھشت گرد کے گھس آنے کا خطرہ ہوتا ہے۔لوگ پر امن فضا میں جیتے ہیں۔چھوٹی موٹی وارداتیں ہوتی ہوں گی لیکن ہمارے ہاں کی طرح نہیں۔یہاں ہمارے ہاں کی طرح اخبارات جرائم کی خبروں سے بھرے ہوئے نہیں ہوتے۔
اس لئے کہ
گرل اور آہنی جالی کے اندر ہماے پنجرہ گھروں میں بھی ہم محفوظ نہیں ہیں۔گرل کاٹ لینا،گھر کے اندر گھس آنا۔منٹوں میں گھر میں مزاحمت کرنے والوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دینا،مال و متاع لوٹ کر کھلے بندوں نکل جانا ہمارے ہاں معمول کی باتیں ہیں۔ہم ایسا کرنے پر مجبور ہیں کہ انتظامیہ ہمارا تحفظ کرنے سے قاصر ہے۔
ہم انسان سے حیوان کیوں بنتے جا رہے ہیں؟ تحفظ کی خاطر گھروں کی موٹی موٹی گرلوں اور جالیوں سے پنجرے بنا کر بھی ہم غیر محفوظ ہی رہتے ہیں۔
میں،امریکہ میں جہاں بھی گیا،بڑے بڑے شیشوں والی کھڑکیا ں دیکھیں،ان گھروں کے مکینوں کو ان خالی شیشوں کی وجہ سے پریشان ہوتے نہیں دیکھا۔وہاں لوگ پرسکون اور محفوظ ہیں۔انہیں اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ شیشے کی کھڑکی توڑ کر کوئی اندر آ جائے گا،گلہ گھونٹ دے گا اور لوٹ مار کرے گا۔
وہاں بھی جرائم ہوتے ہیں لیکن ہماری طرح کے نہیں۔
وہاں یا تو نفسیاتی مجرم ہوتے ہیں یا زیادہ تر کالے پسے ہوئے لوگ، کچھ بگڑے ہوئے نشہ باز نوجوان گورے۔
عام آدمی وہاں ہر طرح سے محفوظ ہے،امن و امان سے رہ رہا ہے۔زندگی کی آسائشوں اور ممکنہ سہولتوں سے بغیر کسی دھڑکے اور خدشے کے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
عدیل نے بتایا کہ دو سال پہلے ڈسکوری چینل میں ایک نفسیاتی مریض نے اندر داخل ہو کر عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔پولیس 36گھنٹے تک اسے سمجھاتی رہی،اس سے مذاکرات کرتی رہی لیکن وہ باز نہیں آیا بلکہ یرغمالیوں کو مارنے کا ارادہ ظاہر کیاجس پر پولیس نے سامنے والی بلڈنگ پر موجود سنائپر کو اشارہ کیا اور عملے کے تحفظ کے لئے اسے گولی مار دی۔یہ رویہ بعض کی نظر میں بے رحمانہ ہو سکتا ہیلیکن اگر دیکھا جائے تو وہاں کا نظامِ زندگی ان کے ایسے ہی اقدامات کی بنا پر پر سکون ہے۔
ہم اپنے ہاں خلفائے راشدین کے عہد  کی مثالیں دیتے ہیں کہ شیر بکری ان کے دور میں ایک گھاٹ پانی پیتے تھے،امن وامان تھا،جرائم کا تصور بھی نہ تھا،ایسا نظر تو پاکستان میں ہونا چاہیئے تھا لیکن اس کی عملی شکل ہم نے امریکہ میں دیکھی۔
ہماری بیگم کی ایک سکول کے زمانے کی دوست تھیں جب یہ کراچی میں رہتی تھیں،اس بار ہم امریکہ آئے توہماری بیگم نے 42سال انہیں تلاش کر لیا،ہم ان کے گھر گئے۔ان کا گھر کوئی چار ایکڑ میں پھیلا ہوا تھا،ہماری بیگم  کی اپنی سہیلی  کے ساتھ باتیں تھیں کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہی تھیں،دورانِ گفتگو انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں،وہ ان کے پاس چار،چار ماہ کے لئے چلی جاتی ہیں۔پیچھے گھر خالی ہوتا ہے،مزے کی بات یہ ہے کہ وہ گھر کو لاک کر کے نہیں جاتیں۔ان کے گھر کی کوئی چار دیواری نہیں ہے،کوئی گیٹ نہیں ہے،سڑک سے ڈرائیو وے ان کے گھر کے مین دروازے تک جاتا ہے۔
کس  قدر فرق ہے ہمارے اور امریکی معاشرے میں۔
میں  جب پاکستان اور امریکہ میں رویوں کے فرق کودیکھتا ہوں،وہاں کی اچھائیوں اور انسانی حقوق اور وہاں مساوات پر نظر ڈالتاہوں تو دل محسوس کر رہ جاتا ہے۔کاش مساوات کا جو درس ہماری میراث تھااور اب غیر اس پر عمل پیرا ہیں،ہم اسی میراث کوواقعی اپنی میراث بنا سکیں۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں