ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعہ، 27 نومبر، 2015

جگنو انٹر نیشنل لاہور کے زیرِ اہتمام ممتاز شاعر،ماہرِ علمِ عروض نسیم شیخ کی تصنیف ,,موجِ سخن“کی تقریبِ اجراء

جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام  شائع  ہونے والی نسیم شیخ کی  تصنیف ”موجِ سخن“ کی تقریبِ اجراء کے سلسلے میں  ایک بہت خوبصورت اور پُر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں شعراء، ادباء اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ صدارت کے منصب پراستاد شاعر باقی احمد پوری فائز تھے جبکہ مہمانانِ خصوصی کی حیثیت میں بھی استاد شعراء گلزار بخاری اور ناصر بشیر سٹیج پر رونق افروز تھے۔
خلیجی ممالک میں اردو زبان کی ترویج میں سر گرمِ عمل نوجوان لکھاری حسیب اعجاز عاشر مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے جلوہ گر تھے۔
 تقریب کا آغاز حسبِ روایت تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کی سعادت نوجوان صحافی نایاب علی کو حا صل ہوئی۔ بعد ازاں سید فراست بخاری نے انتہائی خوبصورت انداز میں نعت ِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔مقصود چغتائی میڈیا سیکرٹری جگنو انٹر نیشنل نے پروگرام کی رپورٹ پیش کی۔پروگرام کی نظامت  راقم الحروف (ایم زیڈ کنول ؔ)نے کی.
 ”موجِ سخن“ کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ نسیم شیخ ایک جدید لہجے کے خوبصورت شاعر ہیں۔شعر گوئی ان کا جنون ہے۔ فیس بک پر نو آموز شعرا ء کی مشق ِ سخن کے لئے ایک گروپ موجِ سخن کے نام سے تشکیل دیا ہے،جہاں ان کی سرپرستی میں ہر ہفتے فی البدیہہ مشاعرے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔یوں موج موج سفر نے نسیم شیخ کے ذوقِ جنوں کو ایسا دو آشتہ کردیاجو ”موجِ سخن“ کی تصنیف کا باعث بنا۔
  مظہر جعفری،شگفتہ غزل ہاشمی، مظہر قریشی،جاوید قاسم، آفتاب خان اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نسیم شیخ نے یہ کتاب لکھ کر خود کو امر کر لیا ہے۔ نسیم شیخ نے اس کتاب میں صرف مواد ہی مہیا نہیں کیا بلکہ اپنے اشعار  کے حوالوں سے تقطیع بھی کی ہے۔ یوں تقطیع کی مشق کے ساتھ ساتھ موصوف کی اپنی شاعری کا تجزیہ بھی ہو گیا ہے۔ حسیب اعجاز عاشر، بشریٰ سحرین  او ر شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیرنے نسیم شیخ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کتاب کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔پروفیسر ناصر بشیر نے عروض کے حوالے سے  ایسی جامع گفتگو کی، یوں لگتا تھاگویا کوئی ریسرچ تھیسس پیش کر رہے ہیں جس کے حوالہئ کتابیات  کے لئے وہ 30سالہ ریاضتوں کا اثاثہ ساتھ لائے ہیں۔ان کے اس اثاثہ کے لئے راقم نے ”تبرکات“ کی اصطلاح استعمال کی۔ جس پر تمام احباب بہت محظوظ ہوئے۔ صاحب ِ کتاب نسیم شیخ صاحب جو اس تقریب کے لئے خاص طور  پر تشریف لائے تھے انھوں نے تمام احباب اور  جگنو انٹر نیشنل کی تمام ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ گلزار بخاری، اختر ہاشمی اور باقی احمد پوری نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فنِ عروض کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے اپنی ذاتی یادداشتوں کو بھی دہرایا اور نسیم شیخ کو موجِ سخن سے بحرِ سخن تک کامیابی سے اُترنے پر مبارکباد دی۔ نسیم شیخ کی یہ کتاب جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہے۔ پنج ریڈیو یو ایس اے،سے جگنو انٹرنیشل کے زیرِ اہتمام اس کی آن لائن تقریبِ رونمائی کاانعقاد اس سے قبل ہو چکا ہے۔  جہاں ساری دنیاکے احباب سے سندِپذیرائی حاصل کر چکی ہے اور اتنا خیر مقدم ہوا کہ مبلغ  1000/ قیمت کے باوجود اس کو خریدنے میں مسرت محسوس کی ہے۔ناصر باغ، چوپال،لاہور میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں بھی نسیم شیخ کی بھر پور پذیرائی کی گئی۔ تمام احباب نے جگنو انٹر نیشنل کی ادب کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو بھی سراہا اور مبارکباد پیش کی۔تقریب میں شاعروں، ادیبوں، طلبہ، اور ممتاز ادبی و سماجی شخصیات نے شرکت کی جن میں مظہر سلیم مجوکہ، سعید اللہ قریشی (ٹیکسلا) سید محمود گیلانی  (میاں چنوں)،صفدر حسین صفی، علامہ عبدالستار عاصم،وارث علی رانا، عرفان گوہر وریاہ اور دیگر شامل تھے۔

اتوار، 22 نومبر، 2015

آزادی کی دیوی ٹارچ سے راستہ دکھا رہی تھی کہ میں تو اپنی مسند پر بیٹھی ہوں اگر میرا جلوہ دیکھنا ہے تو آ جاؤ۔۔دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط ۔16


آزادی کی یادگاراور امریکہ کا گیٹ وے


چھٹی کیا ہوتی ہے،اسے سے لطف اندوز کیسے ہوا جاتا ہے یہ کوئی امریکیوں سے پوچھے،میں نے کہیں ذکر کیا تھا کہ یہ لوگ پانچ روز سر جھکا کر کام کرتے ہیں لیکن ہفتہ،اتوار اس طرح گذارتے ہیں کہ ان سے عیاش شاید ہی کوئی قوم ہو۔
عدیل کو امریکہ میں رہتے ہوئے پانچ سال ہو گئے ہیں اور وہ بھی عادتوں کے اعتبار سے آدھا امریکی ہو چکا ہے۔آج کل ہمیں سیر کرانے کے لئے اس نے پوری ایک ہفتہ کی چھٹیاں لی تھیں تاکہ نیویارک کو اچھی طرح دیکھ لیا جائے۔اب وہ سات دن خود بھی گھومنا چاہتاتھا اور ہمیں بھی گھومانا چاہتا تھا،اپنے ایک ایک لمحے  کا پورا پورا استعمال کرنا چاہتا تھا۔
شعیب پیرزادہ،جو ہماری بیگم کے کزن ہیں اور برکلین میں  برائیٹن بیچ کے قریب رہائش پذیر ہیں،کے گھر پہنچے، ابھی کچھ ہی دیر گذری تھی کہ عدیل کہنے لگا ٹائم ضائع نہیں کرنا ہے،تیار ہو جائیں آج ہم  مجسمہِ آزادی دیکھنے چلیں گے۔
،،یار دم تو لے لینے دو،چلتے ہیں،،
میں نے جواب دیا
اور اب ہم مین ہاٹن جا رہے تھے،نجانے نیویارک کہاں تھا،یہاں مین ہاٹن تھا،برکلین تھا،کوئینز تھا،بروکس اور سٹیٹن تھا،نہیں تھا تو نیویارک نام کا کوئی شہر نہیں تھا،نیویارک ریاست انہی پانچ شہروں پر مشتمل ہے۔ امریکہ میں جب نیویارک سٹی کا ذکر ہوتا ہے تو مین ہاٹن کو ہی نیویارک کہا جاتا ہے۔

ہم باتیں کرتے ہوئے ایک سر سبز علاقے میں پہنچ گئے تھے عدیل نے بتایا کہ یہ بیٹری پارک ہے جو ایک وسیع و  عریض سیر گاہ ہے،یہاں سے دور سمندری جزیرے پر کھڑا مجسمہ آزادی نظر آتا ہے۔درمیان میں سمندر کا پتن حائل تھا اس لئے  فیری سے جانا ضروری ہو گیا تھااور اس لئے بھی کہ اپنے ہاتھ میں مشعل لئے کھڑی  خاتون  نا تو میری محبوبہ تھی کہ کچے گھڑے پر سوار ہو کر پتن کراس کرتی،وہ تو ٹارچ سے مجھے راستہ دکھا رہی تھی کہ میں تو اپنی مسند پر بیٹھی ہوں اگر میرا جلوہ دیکھنا ہے تو آ جاؤ۔
ہم اس وقت بحرا وقیانوس کے ساحل پر کھڑے تھے،یہاں لوگوں کا جمِ غفیر تھا،فیریاں آ اور جا رہی تھیں،لیکن ہمارے اور فیری کے درمیاں امریکی سماج حائل تھا،ایک طویل قطار ہمارے آگے موجود تھی جو دھیرے دھیرے آگے کھسک رہی تھی اور ساحل کے ساتھ بنی ایک عمارت میں داخل ہو رہی تھی،جب ہم اس عمارت میں داخل ہوئے تو ایسا لگاکہ ہم  ابوظہبی کے ہوائی اڈے کے پری کلیرنس  روم میں داخل ہو گئے ہوں،وہاں تو اتنی تلاشی نہیں لی گئی تھی جو یہاں لی گئی،جامہ تلاشی ہوئی،بیگ تلاشی اور پھر جیب تلاشی ہوئی،پینٹ کی بیلٹ اتروئی گئی،بوٹ اتروالئے گئے،سکینر سے گذارا گیابس کتوں سے سنگھوانا رہ گیا تھا،
آزادی کے مجسمے کو قریب سے دیکھنے کے چکر میں اپنی آزادی کا بینڈ بج گیا۔


وقت اچانک میرے کانوں میں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کے الفاظ گونجنے لگے جو انہوں نیاپنے شہرہ آفاق خطاب میں کہے تھے
،،میرا ایک خواب ہے کہ ایک دن آئے گا جب یہ قوم اٹھ کھڑی ہو گی اور اپنے عقائد کے حقیقی معنی سے باہر زندہ رہے گی کہ ہم تمام انسان ایک جیسے ہیں کی سچائی کو خود پر واضح کرنا ہے۔
میرا ایک خواب ہے کہ ایک دن آئے گا جب جارجیا کی سرخ پہاڑیوں پر غلام کسانوں کے بیٹے اور غلاموں کے آقاؤں کے بیٹے بھائی چارے کی فضا میں ایک میز پر بیٹھنے کے قابل ہو جائیں گے
میرا ایک خواب ہے کہ ایک دن آزادی اور انصاف کے لئے ترسی ہوئی مسیسپی جیسی صحرایی ریاست بھی آزادی اور انصاف کے نخلستان میں تبدیل ہو جائے گی۔
میرا ایک خواب ہے کہ میرے چار بچے ایک د ن ایک ایسی قوم میں زندگی بسر کریں گے جہاں انہیں رنگ و نسل کی بجائے ان کے کردار کی بنا پر پرکھا جائے گا،
I have a dream today
ڈاکٹر لوتھر کنگ نے امریکہ کی آزادی اور مجسمہِ آزادی کی تنصیب کے بہت بعد جب واشگٹن ڈی سی میں  ایک مارچ کے درمیان جب یہ خطاب کیا تھا تو شاید آزادی ملنے کے باوجود کالوں سے ایسا ہی ہتک آمیز سلوک روا رکھا جاتا ہو گا جیسا صرف آزادی کے مجسمے کو دیکھنے کے لئے جانے والے میرے جسے تمام افراد سے روا رکھا گیا تھا۔
یہ آزادی کا کون سا رخ تھا میں نہیں سمجھ پایا،شاید ڈاکٹر لوتھر سمجھ گئے تھے،میں فیری میں بیٹھا،مجسمہ ِآزادی کو قریب آتا محسوس کرکے یہی سوچ رہا تھا۔
فیری میں داخلے کے بعد ہم اوپری منزل عرشے پر پہنچ کر ریلنگ کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو گئے چاروں طرف پانی،ٹھاٹھیں مارتا غراتا لہراتا بحر اقیانوس اور دوسری جانب نیویارک کی اونچی اونچی پر شکو ہ عمارتیں کا نظارہ قابلِ دید تھا۔
فیری ایک جھٹکے سے آئرلینڈ کے بنے ہوئے ڈیک کے ساتھ لگا دی گئی اور ہم آزادی کے مجسمے کی ملکیت جزیرے کی سرزمین پر اتر گئے۔یعنی ہم نے بالآخر پتن کراس کر ہی لیا تھا۔
یہ مجسمہ ساز فیڈرک آگسٹی بر تھولڈی کا سوچا ہوا خیال،فرانس کی طرف سے دوستی کا تحفہ اور دو قوموں کے درمیان آزادی کیلئے کمٹمنٹ کا نشان ہے۔یہ ایک پر شکوہ وجود ہے جو نیلے آسمان میں بلندہوتا چلاگیا ہے اور اس کے شاندار ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔یہ مجسمہ ایک عورت کا ہے۔اسے شروع میں دنیا کی آزادی کی روشنی کا مجسمہ کہا جاتا تھا۔سن1924میں اس جزیرے اور مجسمہِ آزادی کو قومی یادگار بنا دیا گیا۔اس کا لباس لہراتے چوغے اور چادروں سے مشابہ ہے اس کے سر پرتاج ہے۔دائیں ہاتھ میں مشعل اور بائیں ہاتھ میں کتاب ہے جس پر 4جولائی 1776لکھا ہوا ہے جو امریکہ کا یومِ آزادی۔مجسمے کے پیروں میں پڑی زنجیریں ٹوٹی ہوئی ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ ظلم اور جھوٹ کو روند ڈالا گیا ہے۔
اس مجسمے کی اونچائی نچلے پیڈسٹل سے اوپر ٹارچ تک تقریباََ305فٹ ایک انچ ہے لیکن مجسمے کی بذاتِ خود پاؤں سے لیکر سر کی چوٹی تک اونچائی151فٹ ایک انچ ہے۔جبکہ جس  پیڈسٹل پر یہ استادہ ہے اس کی اونچائی 89فٹ ہے۔فرانس نے اس دیوقامت مجسمے کے لئے چار لاکھ ڈالر مہیا کئے  جبکہ89فٹ اونچے پیڈسٹل پر خرچ ہونے والی تقریباََ دو لاکھ ستر ہزار ڈالر کی رقم کے لئے ایک مہم چلائی گئی۔امریکی یہودی شاعرہ ایما لیزارس نے مجسمہ آزادی کو دنیا کے لئے راہبر مینارہِ نور قرار دیا۔ایک نظم جو اس نے پیڈسٹل کی تعمیر میں رقم اکھٹی کرنے کے لئے تخلیق کی تھی،وہ آج بھی مجسمہِ آزادی کے پیڈسٹل پر کندہ ہے۔
The New Colossus”،،
by Emma Lazarus
Not like the brazen giant of Greek fame,
With conquering limbs astride from land to land;
Here at our sea-washed, sunset gates shall stand
A mighty woman with a torch,
whose flame
Is the imprisoned lightning, and 
her name Mother of Exiles.
From her beacon-hand
Glows world-wide welcome; her mild eyes command
The air-bridged harbor that twin cities frame.
“"Keep, ancient lands, your storied pomp!"”cries she
With silent lips.“Give me your tired, your poor,
Your huddled masses yearning to breathe free,
The wretched refuse of your teeming shore.
Send these, the homeless, tempest-tost to me,
I lift my lamp beside the golden door!”
اس نظم میں اس نے مجسمے کے معنی کو بھی سمویا ہے۔
مشہوراور دیوقامت تو کئی اور مجسمے بھی ہیں جیسے روم میں نیرو کا دیوقامت مجسمہ،بدھا کا مجسمہ عقیدت اوربلندی کے لحاظ سے قابلِ ذکر ہے۔ شہرت کے اعتبار سے تو ابوالہول کا مجسمہ بھی کسی سے کم نہیں ہے،خوف اور ڈر کا نشان،لیکن عورت کی شباہت کے اس مجسمے کو کیا کہوں،اگر یہ آزادی کا مجسمہ ہے تو ڈاکٹر لوتھر کو 1963میں رنگ و نسل کے تعصب سے آزادی کے خواب کیوں دیکھنے پڑے۔
فیری سے اتر کر جب ہم  آزادی کی تلاش میں آگے کو چلے تو سامنے ایک ریسٹورنٹ نظر آگیا،عنایہ کو اب بھوک ستا رہی تھیاس لئے وہ کچھ کھانے کے لئے شور مچانے لگی،عدیل ریسٹورنٹ سے کچھ لینے چلا گیا،میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئیٹوائلٹ کا رخ کیا،کیا کروں شوگر کی بنا پر بار بار حاجت ہوتی ہے۔اتنی بارونق جگہ پر میرا خیال تھا کہ مشکل ہے کہ ٹوائلٹ صاف ملیں۔
لیکن
کمال کی  بات ہے، ٹوائلٹ اتنے صاف و شفاف تھے بلکہ چمک رہے تھے ایسے  جیسے کبھی استعماک ہی نہ ہوئے ہوں۔ٹشو پیپرکے سیٹ کورز ایک طرف لٹک رہے تھے۔رول دوسری طرف،ہاتھ دھونے کیلئے بیسن تھے،آٹومیٹک ٹیگ جن کو دبانے سے لیکوڈ سوپ نکل آتا ہے۔اوپر ہوا سے ہاتھ سکھانے والی مشین۔۔۔کیا انتظام تھا اور وہ بھی پبلک مقام پر۔
میں باہر آیا تو عنایہ آلو کے فرائز کھا رہی تھی،ایک آلو کا چپس اس نے میری جانب بھی بڑھا دیا۔ساتھ ہی عدیل نے لیموں پانی کا ایک کنگ سائزگلاس یہ کہتے ہوئے پکڑا دیا کہ یہاں کھانے کو تو بہت کچھ ہے لیکن شاید ہم نا کھا سکیں۔یہ لیموں پانی بہرطور حلال ہے۔
یہ دنیا کا مشہور ترین دیوقامت مجسمہ ہے لیکن کسی بے جان بت کوئی کتنی دیر دیکھ سکتا ہے اور اس کے سحر میں کتنی دیر اسیر رہ سکتا ہے۔آپ یہاں آتے ہیں کچھ سیر کرتے ہیں،تھوڑی دیر مجسمے کو سر اٹھا کر دیکھتے ہیں،اس کے گرد حیرت زدہ آنکھوں کے ساتھ پھرتے ہیں،لیموں پانی کا گلاس ختم کرتے ہیں،دوچار سلفیاں بناتے ہیں اور اگر کوئی ساتھ ہے تو اسے تصویر کھینچنے کے لئے کہتے ہیں،پھر واپسی کے لئے فیری میں آ بیٹھتے ہیں۔ اور بس، اتنا سا ہے مجسمہِ آزادی کے جزیرے کا سفر۔
اب دل یہ چاہ رہا تھا کہ فیری بس چل پڑے اور ہمیں نیویارک پہنچا دے تاکہ کچھ پیٹ پوجا کی جا سکے لیکن شاید ابھی کچھ اور دیر ہمیں بھوک برداشت کرنی تھی۔
فیری لبرٹی آئی لینڈ سے تو ہمیں لے کر رخصت ہو گئی تھی لیکن سیدھی مین ہاٹن نہیں گئی تھی بلکہ ذرا رخ بدل کر ایک اور جزیرے پر جا رکی۔یہ ایلس آئی لینڈ ہے،وہ جزیرہ جہاں کسی زمانے میں امریکہ میں مستقل ر ہائش کے لئے آنے والوں کا پہلا پڑاؤ ہوتا تھا  یعنی اسے گیٹ وے ٹو امریکہ کہا جا سکتا ہے۔تارکین وطن کی کشتیاں اور بحری جہاز یہیں لنگر انداز ہوتے تھے۔مہینوں کا دشوار گذرا سفر اسی ایلس آئی لینڈ پر ہوتا تھا لیکن یہ ان کا عارضی پڑاؤ ہوتا تھا۔کہتے ہیں سن 1820اور سن1920کے درمیان اندازاََ 34ملین افراد امریکہ میں داخل ہوئے جس میں سے تین چوتھائی وہاں مستقل رہائش کے لئے آئے۔ان نئے آنے والوں کے لئے امریکہ کی پہلی جھلک یہی مجسمہِ آزادی تھا۔
فیری اسی جزیرے پر دس منٹ کے لئے رکی تھی۔سامنے ہی ایک معمولی سی عمارت تھی جس میں فیری سے اترنے والے سیاح ذوق و شوق سے جا رہے تھے مجھے یہ عمارت پسند نہیں آئی تھی بالکل اسی طرح جیسے مجھے وائیٹ ہاوس کی معمولی سی عمارت پسند نہیں آئی تھی جس میں دنیا کا طاقت ور ترین شخص رہتا تھا اس کی اس رہائش گاہ سے تو مجھے باغِ جناح کی جناح لائبریری زیادہ پسند ہے۔
میرے پسند یا نا پسند کرنے سے کیا ہوتا ہے،یہ وہ عمارت تھی جہاں تارکینِ وطن کی شناخت ہوتی تھی،امریکہ میں داخلے اور قیام کے سرکاری کاغذات تیار کئے جاتے تھے اور ان کی تیاری میں جتنا وقت لگتا تھا اتنے وقت کے لئے یہ تارکینِ وطن کا عارضی پڑاؤ ہوتا تھا۔فیری میں بھی اور یہاں بھی عہدِ رفتہ کی بلیک اینڈ وائیٹ فلمیں دکھائی جا رہی تھیں۔دنیا بھر سے آزاد زندگی گذارنے کے نام پر غلاموں کی تازہ دم دستے یہاں ہر وقت پہنچتے رہتے ہیں،میں امریکہ کے اس گیٹ وے پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر واپس فیری پر آ گیا جہاں بچے میرا انتظار کر رہے تھے۔   

بدھ، 18 نومبر، 2015

نیاگرا آبشار سے گرنے والا پانی ایک مسخر کر دینے والا سحر رکھتا ہے ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط ۔ 15

نیاگرا آبشار


نیویارک جاتے ہوئے یہ خیال تھا کہ پہلے کینیڈا اور نیویارک کے سرحدی شہر بفیلو میں واقع دنیا کی خوبصورت ترین آبشار،،نیاگرا،، دیکھ لی جائے پھر راستے ہی میں ارادہ بد ل گیا کہ سفر زیادہ لمبا ہو جائے گا اور عدیل کا کہنا تھا کہ اتنی لمبی ڈرائیو کر کے تھکن ہو جائے گی۔نیویارک کی رونقیں دیکھ کر جس روز واپسی کے لئے

چلیں گے وہاں سے پہلے بفیلو چلیں گے،وہاں نیاگرا آبشار دیکھ کر واپسی کی راہ لیں گے۔واپسی کا سفر اگرچہ بہت لمبا ہو جانا تھا لیکن طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم عازمِ سفر ہوئے۔
آج ہم صبح جلدی تیار ہوئے،شعیب بھائی کو خدا حافظ کہا اور بفیلو کی طرف چل دئیے۔ بفیلو شہر ریاست نیویارک کا ایک شہر ہے،ہمیں شہر کا نام سن کر ہنسی آ گئی کہ یار یہ کیسا ملک ہے جنہوں نے اپنے شہر کا نام بھینس رکھا ہوا ہے،خیر جی ہمیں کیا وہ چاہے بھینس رکھیں یا مجھ،ویسے انگریزی میں بے وقعت چیز بھی بارعب لگتی ہے،بفیلو پہنچ کر پتہ چلا کہ ابھی سفر ختم نہیں ہوا ابھی 15 میل کا سفر باقی ہے سو ہم نے گاڑی نیاگرا شہر کی طرف موڑ لی۔
نیاگرا،ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی آبادی صرف پچاس ہزار کے قریب ہے،نیاگرا آبشار کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔


نیاگرا آبشار،براعظم شمالی امریکہ میں کینیڈا اورریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سرحد پر واقع دنیا کی یہ مشہور ترین آبشار حسنِ فطرت کا عظیم شاہکار اور دنیا کے قدرتی عجائبات میں سے ایک سمجھی جاتی ہے اوردنیا میں سیاحوں کی پسندیدہ ترین مقامات میں شامل ہے۔یہ آبشار کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو اور امریکہ کی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے۔اسے پہلی بار سن 1678میں فادر لوئس بپی پن نے دریافت کیا۔سن1759میں سیورڈی لاسالی نے یہاں ایک قلعہ،، فورٹ کاونٹی،، تعمیر کیا جس کا نام بعد ازاں،،فورٹ نیاگرا،، ہوگیا۔
دریائے نیاگرا کو سن1819میں امریکہ اور کینیڈا کے درمیان سرحد تسلیم کیا گیا۔سن 1848میں نیاگرا کو قصبے کا درجہ دیا گیا اوریہی قصبہ تقریباََ پچاس سال کے بعد سن1892میں شہر کا درجہ پا گیا۔
امریکہ اور کینیڈا سے نیاگرا تک ہوائی جہاز،ریل گاڑی یا سڑک کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان بذریعہ نیاگرا رابطہ ریل سے ہی ہے جہاں دریائے نیاگرا پر دو پل تعمیر کئے گئے ہیں جن میں سے،، قوس و قزح پل،، بہت مقبول ہے،یہ پل سن 1941میں قائم ہوا اور اس کا تعمیراتی حسن آج بھی برقرار ہے۔یہ پل امریکہ اور کینیڈا کے درمیان مصروف ترین گذرگاہ ہے۔
نیاگرا آبشار کا  بڑا اور زیادہ حسین حصہ کینیڈا کی سمت ہے جسے دیکھنے کے لئے قوس وقزح پل سے گاڑی یا پیدل کینیڈا میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔امریکہ اور کینیڈا کے لئے سرحد عبور کرنے کے لئے وزے کی ضرورت نہیں ہوتی،ہاں ہمارے جیسے غیر ملکیوں کے لئے ویزہ لازمی ہے۔
دریائے نیاگرا براعظم شمالی امریکہ کی دو عظیم جھیلوں،، ایری،، اور،،اونٹاریو،، کو ملاتا ہے۔اس دریا میں واقع جزیرہ،،گوٹ،، دریائے نیاگرا کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔جس سے نیاگرا کی عظیم آبشاریں جنم لیتی ہیں۔
نیاگرا آبشار کے تین حصے ہیں،سب سے بڑا اور متاثر کن حصہ کینیڈا کی طرف ہے اس کی شکل چونکہ گھوڑے کی نعل جیسی ہے  اس لئے اسے ہارس شوکا نام دیا گیا ہے۔اس آبشاری حصے کی چوڑائی 2600فٹ ہے۔
امریکہ کی جانب بہنے والی آبشار کو امریکی آبشار کہتے ہیں جس کی چوڑائی 1060فٹ ہے۔تیسرا حصہ یا تیسری آبشار نسبتاََ چھوٹی ہے جسے برائڈل ویل کا نام دیا گیا ہے۔یہ تیسری آبشار بھی امریکہ کی جانب واقع ہے۔
ان تینوں آبشاروں سے انتہائی سیزن میں فی سیکنڈ 225,000مکعب فٹ پانی نیچے گرتا ہے۔یعنی ایک منٹ میں تقریباََ ساٹھ لاکھ فٹ پانی کینیڈین سائیڈ پر 180فٹ کی بلندی سے گرتا  ہے۔جبکہ امریکن سائیڈ پر جہاں ہم موجود تھے تقریبا  100فٹ کی بلندی؎؎؎ سے گرتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال 40 لاکھ سیاح نیاگرا کا رخ کرتے ہیں۔
سیاح کروز کے ذریعے نیاگرا آبشار کا بہر قریب سے نظارہ کر سکتے ہیں۔آبشار کے پانی سے بننے والی قوس و قزح کا فضائی نظارہ کرانے کا بھی انتظام یہاں موجود ہے جس کے لئے ہیلی کاپٹر استعمال ہوتے ہیں،اس کے علاوہ ہیلیم غباروں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

نیاگرا آبشار کا علاقہ دونوں ممالک میں قومی پارک کا درجہ رکھتا ہے۔امریکہ میں نیاگرا ریزرویشن اسٹیٹ پارک کہلاتا ہے۔یہ پارک امریکہ کے قدیم ترین پارکوں میں سے ایک ہے جسے سن1885میں امریکی حکومت نے اپنے زیرِ انتظام لیا۔یہ پارک 107ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
اپنی خوبصورتی،اپنے حسن کی بدولت نیا آبشار دنیا بھر کے اہم ترین سیاحتی مقام کے علاوہ یہ پن بجلی کے بڑے وسیلے کا باعث بھی ہے۔
نیاگرا کے پانیوں کو پن بجلی  کے لئے استعمال کرنے کا پہلی بار سن1759میں سوچا گیا۔آج۔نیاگرا،ریاست بیویارک میں سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنی ہے جو2.4گیگاواٹس(ملین کلوواٹس) پیداواری صلاحیت کی حامل ہے۔
نیاگرا آبشار سے گرنے والا پانی ایک مسخر کر دینے والا سحر رکھتا ہے جس کے زیرِ اثر انسان گھنٹوں وہاں بیٹھ سکتا ہے۔ہمیں چونکہ واپسی کا لمبا سفر کرنا تھا اس لئے دو تین گھنٹے وہاں صرف کر کے ہماری واپسی کا سفر شروع ہوا،عدیل نے اگلے روز دفتر جانا تھا ورنہ دل چاہتا تھا کہ کم از کم ایک رات تو وہاں ٹہرا جاتا۔
راستے میں یہی گفتگو جاری تھی جس پر عدیل نے کہا کہ اگلی دفعہ دو ایک دن کے لئے صرف یہی علاقہ دیکھنے آئیں گے۔
میں نے کہا
،،یار عدیل اس کی خوبصورتی بلا شبہ بے مثال ہے لیکن تمہیں تربیلا ڈیم کی سیاحت یاد ہے،جب ہمارے سامنے ڈیم کا سپل 
تربیلا سپل وے

وے گھولا گیا تھااور پانی نے زمین سے ٹکرا کر جو اچھال پیدا کی تھی،اس کے سامنے نیاگرا کی یہ آبشار کچھ بھی نہیں ہے۔،،
عدیل کہنے لگا
ِِ،،پاپا، پاکستان میں بھی دیکھنے کے لئے بے شمار چیزیں ہیں،ہمارے پہاڑی علاقوں میں بھی بڑے بڑے گلیشیر ہیں خوبصورت آبشاریں ہیں،جھیلیں ہیں،تندوتیز دریا ہیں،اور یہ سب اتنے قدیم اور تاریخی ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی 
سجی کوٹ (ایبٹآباد) پاکستان واٹرفال

لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ منظم نہیں ہیں، ٹورسٹ کو کوئی سہولت مہیا نہیں ہے یہاں امریکہ میں معمولی سی چیز کو بھی اس طرح پیش کیا جاتا ہے اور اس طرح اس کا انتظام کیا جاتا ہے کہ ٹورسٹ کھنچا چلا آتا ہے۔نیاگرا فال تو پھر بھی ورلڈ فیم ہے۔،،
میں سوچ رہا تھا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کے قدرتی حس کو دیکھنے کے لئے سیاحوں کی لائنیں لگی ہوتی تھیں،اگرچہ سڑکوں کا سیاحتی علاقوں میں جال نہیں بچھا ہوا تھالیکن اس ملک کے حسن کا ہر سیاح شیدائی تھا،لیکن  سیاحوں کی آمد و رفت شاید ہم نے خود بند کر دی، کاش جنرل ضیاالحق نے امیرالمومینین بننے کا نا سوچا ہوتا اور طالبانی فتنہ نا پیدا کیا ہوتا تو سیاحت کی انڈسٹری ہی اتنی زیادہ ہوتی کہ ہم آئی ایم ایف کو کبھی کا دیس نکالا دے چکے ہوتے۔خیر میرے جیسے غیر سیاسی لوگوں کو سیاسی باتیں نہیں کرنی چاہیں۔

اتوار، 15 نومبر، 2015

اسلام آباد میں مظہر ترمذی کے پانچویں پنجابی شعری مجموعے،، ادھ ،، کی تقریبِ رونمائی، صدارت نامور ادیب اور نقاد یوسف حسن نے کی جبکہ میر تنہا یوسفی مہمانِ خصوصی تھے

عالمی سطح پر جانے پہچانے جانے والے شاعر مظہر ترمذی کے پانچویں پنجابی شعری مجموعے،، ادھ ،، کی تقریبِ رونمائی اسلام آباد میں اکادمی ادبیات پاکستان کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔تقریب کا اہتمام پنجابی ادبی پرچار اور پہلا پیر تے پراگا نے کیا تھا۔اس تقریب کی صدارت نامور ادیب اور نقاد یوسف حسن نے کی جبکہ میر تنہا یوسفی مہمانِ خصوصی تھے،جبکہمہمانِ اعزاز کی کرسی پراحمد سلیم پوری براجمان تھے۔جناب صفدر حسین وامق، جناب اکمل شہزاد گھمن اور پروفیسر سعیداحمدہوری مقالے پڑھنے والوں میں شامل تھے۔نیہا صابر،صائمہ بتول اورصابر گل نے مظہر ترمذی کا کلام تحت اللفظ میں پڑھا۔صاحبِ شام کا عالمی شہرت یافتہ مشہور گیت ،،عمراں لنگھیاں پباں بھار،،اظہر ضیا نے ساز و آواز کے ساتھ سامعین کی نظر کیا۔تقریب کی نظامت پنجابی تنظیم ،،پراگا،، کےطارق بھٹی نے کی۔

جمعہ، 13 نومبر، 2015

واٹر گیٹ کمپلیکس ،اس عمارت سے ایک سکینڈل نے جنم لیا جس نے امریکہ کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔۔۔دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسظ۔14

واٹر گیٹ کمپلیکس

واٹر گیٹ کمپلیکس


امریکہ میں حلال کھانا اگر گھر کے باہر کھانا ہو تو نیویارک میں تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے،وہاں کھانوں کے لئے کئی علاقے مشہور ہیں ہم چونکہ میری لینڈ میں ٹھہرے ہوئے تھے اس لئے وہاں  جب لاہوری سٹائل کے کھانے کھانے کی چاہت ہوتی تھی تواس کے لئے ایک ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کرنی پڑتی تھی۔
فاصلوں کی پیمائش اگرچہ کلومیٹروں اور میلوں میں ہوتی ہے،لیکن امریکہ میں اگر کسی سے پوچھو کہ فلاں علاقہ کتنے فاصلے پر تو جواب ملتا ہے آدھ گھنٹے،پون گھنٹے کی ڈرائیو پر۔

اس روز پروگرام بنا کہ کھانا باہر کھایا جائے۔عدیل کی رہائش کے اردگرد حلال کھانے کا کوئی مرکز موجود نہیں تھا،سوائے پیزا کے۔پیزا میں بھی یہ قباحت ہے کہ اس میں جو چکن استعمال ہوتا ہے وہ حلال نہیں ہوتا،جھٹکے کا ہوتا ہے۔امریکیوں کا تووہاں جھمگھٹا لگا ہوتا ہے،لیکن ہم سے جانتے بوجھتے مکھی نہیں نگلی جاتی،ہاں اگر کبھی پیزا کھایا بھی تو ویجیٹیبل۔
اس روز بچوں سے کہا کہ آج کا کھانا میری طرف سے ہوگا۔لیکن چلو وہاں جہاں دیسی لاہوری سٹائل کا کھانا مل سکے۔

راوی، ورجینیا میں لاہوری سٹائل کے کھانوں کے لئے مشہور ہے۔اردگرد کی ریاستوں سے یہاں کھانا کھانے آتے ہیں۔عدیل اور رابعہ بتارہے تھے کہ فہیم بھائی چار گھنٹے کی ڈرائیو کر کے یہاں کی کڑہائی کھانے آتے ہیں، میں نے کہا کہ چلو وہیں چلتے ہیں۔

ورجینیا جاتے ہوئے جب ہم واشنگٹن ڈی سی میں سے گذر رہے تھے تو ایک
 بلڈنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عدیل نے بتایا کہ اس عمارت میں شازیہ باجی اور احرار بھائی رہتے ہیں اس سے تھوڑا آگے ایک وسیع وعریض عمارت نظر آئی،امریکہ میں سرکاری عمارتیں علیحدٰہ اور دور سے پہچانی جاتی ہیں۔میں نے عدیل سے کہا یہ بھی کوئی سرکاری عمارت لگتی ہے۔
،،ہاں جی،یہ ہے ہی زبردست اور اہم،،
عدیل نے کہا
،،وہ کیسے،،
میں نے پوچھا
،،یہ عمارت واٹر گیٹ کمپلیکس ہے،اس عمارت سے ایک سکینڈل نے جنم لیا تھا جس نے امریکہ کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا تھا اور ایک امریکی صدر کو اس سکینڈل کی بنا پر اقتدار چھوڑنا  پڑا تھا،،
عدیل نے جواب دیا
یہ کوئی 35،36سال پرانا واقعہ ہے،میں تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوا تھا،اور شاید آپ بھی ابھی پڑھتے ہی ہوں گے؟
عدیل نے مزید کہا
اتنی دیر میں گاڑی تو آگے بڑھ گئی  لیکن واٹر گیٹ کمپلیکس مجھے کالج کے دور میں پہنچا گیا،گھر پر اخبار اور ریڈیو ہی اطلاعات کا ذریعہ تھے اگرچہ پاکستان میں ٹیلی ویژن شروع ہوئے چھ سات سال ہو گئے تھے،لیکن اس کی نشریات کا احاطہ زیادہ دور تک نہیں تھا،ساھیوال میں اس کی نشریات زیادہ صاف نہیں تھیں اور شہر میں ٹیلی ویژن سیٹ بھی زیادہ نہیں تھے،والد صاحب چند دن پہلے بلیک اینڈ وائیٹ آرجی اے کا سلائڈنگ ڈور والا ٹی وی لائے تھے،پاکستان  تازہ تازہ سن 71کی جنگ سے فارغ ہوا تھا،اس جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تھا،اب مغربی پاکستان ہی پاکستان تھا،سن70 میں ہونے والے الیکشن میں مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلزپارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری تھی  اور اسی نے یہاں حکومت بنائی تھی کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کو دولخت کرنے کی سازش امریکہ نے کی تھی اور اس کا بحری بیڑا امریکی ساحلوں سے پاکستان کے ساحلوں تک نا پہنچ پایا۔
یادیں تھیں کہ امنڈی چلی  آ رہی تھیں 
غالباََ سن1972کا کوئی مہینہ تھا جب حکومت نے پہلی بار پاکستانیوں کو پاکستانی ہونے کی شناخت،شناختی کارڈ کا اجراء کیا تھا،اسی زمانے میں جب اخبارات میں شناختی کارڈ کے اجراء کی خبریں چھپیں تو ساتھ ہی بین الاقوامی خبروں میں امریکہ میں واٹر گیٹ سکینڈل کے بارے میں خبریں آنی شروع ہوئیں،دن میں اخبارات سے معلومات اکھٹی کرنا اور رات کو کیفے ڈی روز پر بیٹھ کر دوستوں سے ان پر گفتگو کرنا روز کا معمول تھا۔ہمارے دوستوں میں یوں تو بہت سارے دوست ہوتے تھے لیکن ان میں سے راؤ شفیق اور نعیم نقوی خبروں پر گرماگرم تبصرے کیا کرتے تھے،راؤ چونکہ کالج میں ہم سے دوسال اگلی جماعت میں تھا اس لئیاس کی معلومات مجھ سے بہرطور زیادہ تھیں،اس نے واٹر گیٹ والی خبر پر امریکہ کی سیاست اور اس کے پاکستانی سیاست پر اثرات کے حوالے سے اس تیقن کے ساتھ بات کی کہ ہمیں لگتا تھا کہ یار یہ درست کہہ رہا ہے۔
،، پاپا کہاں کھوگئے،،
عدیل نے مجھے خاموش دیکھ کر پوچھا
،، ارے کچھ نہیں یار،واٹر گیٹ کمپلیکس دیکھ کر وہ زمانہ یاد آ گیا جب یہ واقعہ ہوا تھا،اخبارات میں بڑا چرچا ہوا تھا۔ہمارا طالب علمی کا زمانہ تھا اور ابھی ہم شادی کے جھمیلے میں بھی نہیں پھنسے تھے،آزادی کے دن تھے،واہ کیا دن تھے۔،، ہم نے ہنس کر جواب دیا۔
ہماری بیگم ایسے موقع پر کہاں چوکنے والی تھیں،بولیں 
،،اچھا تو ہم جھمیلا ہیں، کیوں کی تھی شادی،،
،،ارے بابا تمہیں نہیں کہا،تم تو ایسے ہی لڑنے لگیں،،
ہماری بات سن کر بچے ہنسنے لگے کہ اب ماما کو منائیں،ہم سبھی ہنس دئیے۔
واٹر گیٹ  سکینڈل کا آغاز اسی کمپلیکس سے ہوا تھا۔یہ17جون 1972کا واقعہ ہے کہ ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے اس کمپلیکس میں واقع دفتر میں چوروں کے ایک گروہ کو گرفتار کیا گیا،یہ کوئی عام چوری کا واقعہ نا تھا۔یہ کوچہ گرد جو گرفتار ہوئے تھے
صدر رچرڈ نکسن کی ری الیکشن کمپیئن سے منسلک تھے اور یہ اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑے گئے جب یہ ٹیلی فون کے تاروں کے ساتھ فون کال ٹیپ کرنے کے آلات منسلک کر رہے تھیاور خفیہ دستاویزات چرا رہے تھے۔
تاریخ دانوں کا کہنا تھا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ صدر رچرڈ نکسن کو واٹر گیٹ جاسوسی مشن کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کا علم تھا یا نہیں۔کہا یہ جاتا ہے کہ صدر رچرڈ نکسن نے واقہ کے وقوع پذیر ہونے کے بعد چوری کے واقعہ کو دبانے کے لئے کثیر رقم خرچ کی،ایف بی آئی کو جرم کی تحقیقات سے روکنے کے لئے سی آئی اے کو استعمال کرنے کے علاؤہ شہادتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔اس کے علاؤہ ان تمام سٹاف ممبروں کو عہدوں سے فارغ کر دیاجو تعاون پر تیار نہیں تھے۔آخر کار اگست1974میں واٹر گیٹ سازش میں صدر نکسن کے کردار کے سامنے آنے پر صدر نے استعفیٰ دے دیا۔ان کے جانشین جیرالڈ فورڈ نے صدر کا عہدہ سنبھالتے ہی نکسن کو بطور صدر تمام جرائم جو تسلیم کئے گئے اور جو کئے جانے تھے میں معافی دینے کا اپنا صدارتی حق استعمال کرتے ہوئیمعاف کر دیا۔اگرچہ صدرنکسن کو اس کیس میں عدالت کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا لیکن واٹر گیٹ سکینڈل نے امریکہ کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے تبدیک کر دیا اب امریکہ کے عوام صدارتی محل اور اپنے لیڈروں کے لئے زیادہ تنقیدی ہو گئے ہیں،خاص طور پر صدر کے عہدے کی جانب سے کئے گئے اقدامات پر زیادہ ہی تنقیدی نگاہ رکھی جاتی ہے۔یہی ویہ ہے کہ سن1976کے الیکشن میں اگرچہ صدر فورڈ نے نکسن اورواٹر گیٹ سکینڈل کو نظر انداز کر دیا لیکن ان کے ڈیموکریٹک حریف جمی کارٹر نے واٹر گیٹ سکینڈل کو اس طرح استعمال کیا کہ صدر فورڈ صدارتی دوڑ میں دو فئصد ووٹوں سے شکست کھا گئے کیونکہ عوام واٹر گیٹ سکینڈل میں نکسن کی حمایتکرتے ہوئے صدر فورڈ کے معافی کے اعلان کو نہیں بھولے تھے۔
آج جب میں پاکستان میں بیٹھا اپنی یادداشتوں کو ضبطِ تحریر میں لارہا ہوں،تو مجھے واٹر گیٹ سکینڈل کے حوالے سے امریکی ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی(NSA) کے ایک منحرف جاسوس ایڈورڈ سنوڈن کے برطانوی نشریاتی ادارے گارڈین میں چھپنے والا انٹر ویو یاد آ گیا جس کے مطابق ایجنسی کو اختیارات حاصل ہیں کہ وہ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں افراد کے حوالے سے تمام معلومات حاصل کرنے میں آزاد ہے جس میں ہر فرد کی ای میلز، آن لائن چیٹ اور نیٹ پر کی گئی تمام کی تمام ریسرچ شامل ہے۔نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے جس سسٹم کے ذریعے جاسوسی شروع کر رکھی ہے اس نیٹ ورک کا نام،،ایکس کی سکور(x key score) رکھا ہے۔یہ نیٹ ورک انٹر نیٹ پر جاسوسی کا سب سے بڑا سسٹم ہے۔سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ سنوڈن نے جب برطانوی نشریاتی ادارے،، گارڈین،، کو پہلا انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ،، میں یہاں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں اگر مجھے آپ کایعنی میزبان کا یا آپ کے اکاونٹینٹ کا ای میل پتہ ہو تو انٹرنیٹ پر میں آپ کی تمام کی تمام سرگرمیوں کا پتہ لگا سکتا ہوں،،ایڈورڈ سنوڈن  کے اس انکشاف نے نہ صرف  انٹرنیٹ صارفین بلکہ دنیا بھر کی حکومتوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ایڈورڈ سنوڈن کے اس بیان  کی امریکی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجر نے تردید کر دی کہ ایسا کرنا نا ممکن ہے اور امریکہ کے پاس ایسی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے  ایڈورڈ سنوڈن  جھوٹ بول رہا ہے۔لیکن ایکس کی سکور ٹیکنالوجی کے وسیع نیٹ ورک کی سٹڈی سے ایڈورڈ سنوڈن  کا انکشاف ثابت ہوتا ہے کیونکہ ایکس کی سکور نیٹ  ورک کی مدد سے ہر  شخص کے ای میل اور اس کی تمام تر سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے اس نیٹ ورک کے ذریعے امریکی خفیہ ادارے  جاسوسی کر رہے ہیں اس نیٹ ورک کو خفیہ اداروں نے ڈیجیٹل نیٹ ورک انٹیلی جنس کا نام دے رکھا ہے۔ایکس کی سکور کی مدد سے کمپیوٹر صارفین کے اوقات تک کا پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ فلاں وقت پر وہ کیا کر رہا تھا۔امریکی قانون کے مطابق امریکی شہری کی نگرانی یا جاسوسی کرنا غیرقانونی ہے مگر ایکس کی سکور کی مدد سے آج  امریکہ میں مقیم کوئی شہری بھی محفوظ نہیں ہے ان کی نجی زندگی کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔ایکس کی سکور کی مدد سے خفیہ اداروں کے اہلکار کمپیؤٹر کے ذریعے  ہونیوالی فون کالز ریکارڈ کرسکتے ہیں۔حتی کے کمپیوٹرمیں موجود تمام ہسٹری بھی حاصل کی جا سکتی ہے کہ فلاں بندے نے اتنے دنوں انٹرنیٹ پر کیا کیا کام کیا اور کن سے رابطہ کیا۔ حیران کن امر یہ بھی ہے کہ خفیہ حکام کمپئیوٹر استعمال کرنے والے کا نام، اس کے کمپیؤٹر کا آ پی نمبر، کی ورڈز،وہ زبان جس میں وہ کمپیؤٹر استعمال کر رہا ہے اور وہ
 نیٹ ورک جس کے ذریعے وہ انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے حاصل کر چکے ہیں اور یہ سب سپر ایکس کی سکور نیٹ ورک سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہوا ہے۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے مطابق انہوں نے سن2008میں ایکس کی سکور کی مدد سے 300 دہشت گردوں کو پکڑا تھا۔سن2012میں  نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے فیصلہ کیا کہ ہر ای میل آئی ڈی اور اس ای میل کو استعمال کرنے والے کا نام،فون نمبر اور فون کرنے والے کی نگرانی کی جائے گی اور ریکارڈ رکھا جائے گا اور رکھا جا رہا ہے۔  ایڈورڈ سنوڈن  نے جون2013   میں گارڈین کو دوسرا انٹرویو دیا جس  میں ایکس کی سکور کے فنگشن کے بارے میں بتایا   ایڈورڈ سنوڈن   کے مطابق ای میلز تلاش کرنے کے لئے خفیہ اہلکار  ایکس کی سکور  سادہ طریقے سے آن لائن سرچ فارم میں رکھتے ہیں جس کے بعد ای میلز کا ریکارڈ تاریخ اور وقت کے حساب سے کمپؤٹر سکرین پر آنا شروع ہو جاتا ہے اس سافٹ ویئر (ایکس کی سکور) کی مدد سے ای میلز کے جوابات بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ ای میلز کے علاوہ ایکس کی سکور سافٹ ویئر کی مدد سے سوشل میڈیا کی بھی نگرانی کی جا سکتی ہے۔فیس بک چیٹ اور پرائیویٹ پیغامات بھی اب امریکہ کے خفیہ اداروں کی پہنچ سے دور نہیں ہے۔ ایکس کی سکور سافٹ ویئر کی مدد سے ہر اس شخص کے کمپیؤٹر کا  آئی پی نمبر حاصل کیا جا سکتا ہے جس نے انٹرنیٹ پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی پیج وزٹ کیا ہو یا کھولا ہو۔ سن 2007کی امریکی نیشنل سکیورٹی ادارے کی اپنی رپورٹ کے مطابق اس وقت تک انہوں نے 8کھرب50 ارب کالز کا ڈیٹا سٹور کیا ہے۔سن2012 میں امریکی ادارے کے ڈیٹا ریکارڈ کے مطابق 20کھرب کالز کی معلومات موجود تھیں یہ فون کالز اور ای میلز کا ریکارڈ تھا۔ واشگٹن پوسٹ کے مطابق ایکس کی سکور سافٹ ویئر کی مدد سے امریکہ خفیہ ادارہ(NSA)روزانہ کی بنیاد پر ایک ارب 70کروڑ ای میلز اور فون کالز کی نگرانی کرتا ہے اور ان کا ڈیٹا سٹور کرتا ہے ایکس کی سکور سافٹ ویئر کی مدد سے انٹرنیٹ کا ڈیٹا قلیل عرصے تین سے پانچ دن تک سٹور کیا جا سکتا ہے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے اس ادارے نے(Multi-liesed system)  بنایا ہے جس کا نام پن وایل) Pin wale) رکھا گیا ہے جس کی معلومات کو پانچ سال تک سٹور کیا جا سکتا ہے۔نیشنل سکیورٹی  ایجنسی نے امریکی شہریوں کا ریکارڈ الگ اور دوسرے ممالک کا ریکارڈ الگ محفوظ کر رکھا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے گارڈین نے یہ رپورٹ بھی شائع کر رکھی ہے کہ مائیکرو سافٹ کمپنی نے بھی سی آئی اے اور ایف بی آئی کو اپنے سافٹ وئیر تک رسائی دے رکھی ہے۔امریکی اداروں نے جاسوسی کے لئے اور ڈیٹا سٹور کرنے کیلئے بڑی بڑی سافٹ وئیر کمپنیوں سے معاہدے کر لئے ہیں جن میں گوگل، مائیکرو سافٹ، فیس بک اور ایپل شامل ہیں۔مائیکرو سافٹ نے گزشتہ سال  skype متعاف کرایا جو آج کل بہت مقبول ہے سکائیپ کے مارکیٹ میں آنے  کے ٹھیک نو ماہ بعد امریکی اداروں نے اس کی بھی ریکارڈنگ شروع کر دی تھی۔
واٹر گیٹ سکینڈل کے 1972میں وقوع پذیر ہونے اوراس کے نتیجے میں اپنے صدر کواستعفیٰ دینے پر مجبور کرنے والے امریکی معاشرے نے اپنے اس سبق کو یاد  رکھنے کی بجائے35سال کے بعدجاسوسی کے غلط استعمال کواپنے ہر شعبہ میں رائج کر لیا ہے۔
راؤ شفیق نے 1972میں ٹھیک ہی کہا تھا ہمارے ہاں امریکہ کی سیاست کے گہرے اثرات پڑتے ہیں،اخبارات اور سوشل میڈیاپر دو خبریں اہم نظر آئیں ایک فوڈ اتھارٹی کی ڈائریکٹر کی انہار دودھ فیکٹری  پر چھاپے،اس کے او ایس ڈی بنائے جانے اور پھر اس سے تردید کرانے کی خبر،دوسری پی ٹی آئی کے سربراہ کی پریس کانفرنس جس میں انہوں نے 28ہزار ووٹوں کی حلقہ 122میں درآمد برآمد کا ذکر کیا ہے۔اگر یہ بات درست ہے تو یہ بھی واٹر گیٹ سکینڈل سے کم نہیں ہے 

منگل، 3 نومبر، 2015

کلون میں شاید اس کے جسم کی مہک بھی شامل تھی ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔ قسط۔13




ڈسکوری چینل


یہ دن بغیر کسی کام کے گذر رہے تھے دن بھر یا تو لیپ ٹاپ پر پاکستان میں دوستوں،عزیزواقارب سے گپ شپ یا پھر شام کو جب دھوپ کھو بیٹھتی،گھر سے نکل کر ڈاؤن ٹاون کا ایک چکر،جہاں سپلیش کے گرد پتھر کی منڈیر پر بیٹھ کر عنایہ کو پانی کے فواروں سے اٹھکیلیاں کرتے دیکھنا۔سپلیشن،ڈاؤن ٹاون میں وہ جگہ ہے جہاں ز مین کو دائرے کی شکل میں پینٹ کیا گیا ہے،اس دائرے میں وقفے وقفے سے سوراخ کئے گئے ہیں جن سے ایک خاص مکین ازم کے تحت باری باری پانی  کا فوارہ پھوٹتا ہے،بچے ایک فوارے سے دوسرے فوارے کی جانب بھاگتے ہیں،نہاتے ہیں مزے کرتے ہیں،گھر جانے کا کہو تو انکار کرتے ہیں،یہاں حفظانِ صحت کا خاص خیال کیا جاتا ہے،یہاں بچوں کوعام کپڑوں میں لانا منع ہے۔بچوں کے والدین کو کہا جاتا ہے کہ بچوں کو سویمنگ کاسٹیوم میں لائیں۔


سپلیشن میں ایک مقررہ وقت تک فوارے چلائے جاتے ہیں پھر اس جگہ پر تعنات عملہ اس جگہ کی اچھی طرح صفائی کرتا ہے اور اس جگہ کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا جاتا ہے۔ عنایہ کو وہاں بڑا مزا آتا ہے۔اپنے باپ کی طرح گھنٹوں پانی سے کھیلنے کے باوجود جب گھر چلنے کا کہو چلنے سے انکار کر دیتی تھی۔ہم اسے  اس وقت لے کر جاتے تھے جب سپلیشن کے بند ہونے میں ایک گھنٹہ باقی رہ گیا ہوتا تھا۔واپسی پر ہمفروزن یوگرٹ ضرور کھاتے تھے،یہ جما ہوا دھی ہوتا تھا یا نہیں لیکن آئس کریم کی مانند لذیز ضرور ہوتا تھا۔فروزن یوگرٹ مختلف فلیورز میں ملتا تھا جس پر ٹاپنگ(اخروٹ،کاجو وغیرہ)ایسا مزا دیتی تھی کہ دل بھر کر کھانے کے باوجود دل نہیں بھرتا تھا۔اب تو لاھور میں بھی ایک دو دکانیں فروزن یوگرٹ کی کھل گئی ہیں لیکن ان میں ہلکی سی کھٹاس بتاتی ہے کہ یہ نقل تو ہے وہاں کی مگر مطابق اصل نہیں ہے۔
اس روزصبح ناشتے کے لئے ڈبل روٹی گھر موجود  نہیں تھی اور مجھے اکیلے کو نزدیکی سیون الیون سے ڈبل روٹی لانے جانا پڑا،میں جب سے امریکہ آیا تھا یہ پہلا موقع تھاکہ میں اکیلا باہر نکلا تھا۔عدیل کے فلیٹ والی بلڈنگ ٹوون ٹاورز سے نکل کر اگر ڈاؤن ٹاؤن کی طرف چلیں تو ٹوون ٹاور کی عمارت ختم ہوتے ہی کارنر پر پٹرول پمپ ہے۔دائیں جانب مڑیں تو کچھ دور جا کر سیون الیون سٹور ہے۔یہ امریکہ کی مشہور چین ہے جس کی شاخیں ہر جگہ موجود ہیں اور یہ سٹورز کھلے بھی دیر تک رہتے ہیں۔پٹرول پمپ پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو سڑک کے دسری جانب ایک وسیع و عریض سفید عمارت دکھائی دیتی ہے جس کی ہر منزل  دن رات روشن نظر آتی ہے،یہ ڈسکوری چینل کی عمارت ہے۔یہ چینل کا ہیڈکوارٹر  ہے۔اس روز میں نے سوچا اس عمارت کو قریب سے دیکھا جائے۔میں نے پٹرول پمپ سے پیدل چلنے کا اشارہ روشن ہوتے ہی سڑک پار کی اور اب میں عمارت کی دیوار کے ساتھ پہنچ گیا تھا۔ایک نظر اندر کی طرف ڈالی ایل طویل القامت ڈائنا سار کا مکمل ڈھانچہ اس انداز میں کھڑا تھاکہ جیسے ابھی چل پڑے گا۔ہم نے سوچا کہ چینل کو اندر سے دیکھا جائے،کچھ ملازمین سے ملاقات کی جائے،جس کے لئے ہم نے پاکستانی صحافیانہ انداز اپنایا۔ہم نے نے استقبالیہ پر پہنچ کر اپنا تعارف کرایا،چینل کو اندر سے دیکھنے اور ساتھ ہی چینل کے سی ای اوسے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ہمیں کہا گیا کہ اپنا مقصد ایک چیٹ پر لکھ دیں اجازت کے لئے اور انتظار کرنے کا کہا،ریسپشن پر کاونٹر کے سامنے ہی صوفے پڑے تھے،میں وہاں بیٹھ گیا۔وہیں 

ریسپشن پر ایک گوارا سے نین نقش والی لڑکی ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئی غالباََ انتظامیہ سے تعلق رکھتی تھی،ہمارے اتنے قریب کہ اس کے سانس لینے سے ایک خاص قسم کی بو محسوس ہوئی،ویسے تو ایک خاص قسم کی مہک بھی آ رہی تھی جو غالباََ کسی مہنگے سے کلون کی تھی،ہمیں تو کوئی اتنا زیادہ اندازہ نہیں ہے کلون ولون کا لیکن اس کلون میں شاید اس کے جسم کی مہک بھی شامل تھی۔ ہمیں اس قسم کی خوشبوں کا کوئی اندازہ نہیں ہے اس لئے ہم دم ساد کر بیٹھ گئے جب برداشت سے باہر ہو گیا معاملہ اور ہم نے وہاں سے اٹھنا چاہا تو اس نے اپنا تعارف ریٹا کے نام سے کرایا اور بتایا کہ وہ انتظامیہ سے ہے اور پریس اور پروٹوکول کے معاملات دیکھتی ہے، ہمارے استفسار پر اس نے ہمیں چینل کے بارے میں تھوڑی سی معلومات فراہم کیں جس کے مطابق جون ہیڈرکس نے اس چینل اور اس کی مالک کمپنی کیبل ایجوکیشنل نٹ ورکس کی بنیاد1982میں رکھی۔ڈسکوری چینل نے اپنی نشریات کا  آغاز1985میں کیا۔اپنے ابتدائی دور میں ایجوکیشنل پروگرامنگ کے تحت اس چینل سے کلچرل اور وائلڈ لائف ڈاکومنٹریز پیش کی گئیں۔بنیادی طور پر یہ سائینس،ٹیکنالوجی اور ہسٹری پر مرکوز ڈاکومنٹری ٹیلیوژن ہے۔امریکہ میں یہ رئیلیٹی ٹیلی وژن کے طور پر کام کرتا ہے۔اس کے نمایاں پروگراموں میں متھ بسٹرز،اَن سالوڈ ہسٹری اور بسٹ ایویڈنس ہیں۔اس چینل کا ایک سالانہ فیچر شارک ویک ہے۔جو موسمَِ گرما میں منایا جاتا ہے۔اس نے یہ بھی بتایا کہ فروری 2015 تک یہ چینل امریکہ میں 83فیصد گھروں میں دیکھا جانے والا چینل بن گیا ہے۔
چیٹ لے کر اندر کہیں غائب ہو جانے والا شخص آتا ہوا نظر آیا۔ریسپشن پر آ کر اس نے کچھ کہا اور پھر عمارت کے کسی کونے  میں کہیں گم ہو گیا،ریسپشنسٹ نے ہمارے ساتھ بیٹھی ریٹا کو بلایا اور وہ اٹھ کر اس کے پاس گئی،اس کے اٹھتے ہی تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہمیں اپنی جانب بڑھتا محسوس ہوا،بڑی دیر سے دم سادھے بیٹھے تھے،کھل کر ایک لمبا سانس لیا،ابھی ایک سانس ہی لے پائے تھے کہ ریٹا واپس آ گئی اور بڑے مہذب انداز میں ہم سے معذرت کی اور سی ای اوصاحب کی عدمِ دستیابی کا بتا کر ہمیں رخصت کر دیا۔
باہر آ کر گھڑی دیکھی تو اندازہ ہوا کہ یہاں ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت یہاں صرف ہو گیا تھا،میں تو ڈبل روٹی لینے نکلا تھا،ہمیں تشویش شروعوگئی کہ سب انتظار کر رہے ہوں گے کہ میں آؤں تو ناشتہ کریں،کچھ بچوں کو خیال آ رہا ہو گا کہ میں پہلی بار اکیلا نکلا ہوں،کہیں راستہ تو نہیں بھٹک گیا۔اب میں تیزی سے  سیون الیون سے ڈبل روٹی لے کر گھر کی طرف چلا کہ مجھے بھی بھوک لگنے لگی تھی۔ 


سوموار، 2 نومبر، 2015

لکڑی کے دیوار و د ر ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط ۔12

لکڑی کے دیوار و در

ایک روز ہم گھر پر ہی موجود تھے،رابعہ کہنے لگی
،، ابو آپ کو پتہ ہے ہمارا یہ فلیٹ  لکڑی کا بنا ہوا ہے۔اس کی دیواریں،فرش اور چھتیں سب کچھ،،
میں بڑا حیران ہوا،میں  نے کہا 
،،وڈ فلورنگ تو میں نے دیکھی ہے،اگرچہ یہاں تمہارے سارے فلیٹ میں موٹا سا قالین بجھا ہوا ہے لیکن بعض جگہ ٹھک کی سی آوازآتی ہے جیسے لکڑی کا فرش ہو،لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دس،گیارہ منزلہ عمارت ہو اور تمام کی تمام لکڑی کی بنی ہوئی ہو۔ایسا ہو نہیں سکتا،،
،،آپ کو میری بات کا یقین نہیں ہے نا،عدیل سے پوچھ لیں جب شام کو وہ آئیں گے تو،،
رابعہ نے کہا
،،ٹھیک ہے،اس سے بھی پوچھ لیں گے،ویسے  یہ بات ہضم نہیں ہوئی،کم از کم بنیادیں ہی کنکریٹ کی کہہ دیتیں،بنیاد ہی مضبوط نا ہو تو عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی،،
میں نے بے یقینی کے سے انداز میں جواب دیا۔
رابعہ کو عنایہ نے بلا لیا اور وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی۔
شام کو جب عدیل آیا تو چائے کا دور چلا،عدیل پھر اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔اس کا کام ہی ایسا ہے،میں صوفے پر نیم دراز تھا،اتنے میں رابعہ کچن میں چائے کے برتن رکھ کر آ گئی۔میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی 
،،ابو، اب عدیل سے پوچھ لیں میری بات پر تو آپ کو یقین نہیں تھا،،
عدیل نے میری اور رابعہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
،، کیا ہو گیا، آپ نے رابعہ کی کس بات کا بقین نہیں کیا،،
،،ارے یار کوئی خاص بات نہیں ہے،رابعہ کہہ رہی تھی امریکہ میں یہ  جو کئی کئی منزلہ عمارتیں ہیں سب لکڑی کی بنی ہوئی ہیں جبکہ میں کہہ رہا تھا کہ ایک یا دو منزلہ تو لکڑی کی ہو سکتی ہیں لیکن یہ کئی کئی منزلہ نہیں ہو سکتیں،،
بس اتنی سی بات تھی میں نے کہا
ہم دونوں کی  گفتگو سن کرعدیل کہنے لگا
،، آپ دونوں ہی ٹھیک کہہ رہے ہیں،دراصل امریکہ میں سارے گھر لکڑی کے بنے ہوتے ہیں،بیسمنٹ کی دیواریں اور عمارتوں کی ایک دو منزلوں کی چاروں دیواریں پتھر بھر کر مضبوط کی جاتی ہیں،باقی ساری عمارت،اندرونی دیواریں،چھت،سیڑھیاں اور فرش لکڑی کے ہوتے ہیں۔دیواروں کی موٹائی دونوں طرف کی لکڑی کی شیٹوں میں فوم بھر کر کی جاتی ہے۔یہ بنی بنائی بھی مل جاتی ہیں۔آپ نے ہر وقت یہاں فائر بریگیڈ کی آوازیں سنی ہیں،لکڑی کی عمارتوں میں آگ لگنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے،یہاں عمارتوں میں سموک آلار م لگے ہوتے ہیں،آگ نا بھی لگے عمارت میں صرف زیادہ دھواں بھر جائے تو بھی یہ الارم بج اٹھتے ہیں۔کمال یہ ہے کہ فائر بریگیڈ چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ جاتا ہے۔،،
میرے لئے یہ حیرت کی بات اور اطلاع تھی کہ سارے کا سارامکان ہی لکڑی کا بنا ہوتا ہے لیکن کسی جانب سے لکڑی کا نہیں لگتا۔
میرے لئے یہ بھی حیرت کی بات تھی کہ امریکہ میں باؤنڈری وال یا آہنی گیٹ لگانے کا کوئی تصور نہیں ہے،نہ ہی گرل یا جالی لگائی جاتی ہے۔کھڑکیاں چوڑی اور شیشے کی ہوتی ہیں،خطرے کا آلارم بڑے گھروں میں ہوتا ہے،ہر گھر میں نہیں ہوتا۔سنگل یا ڈبل بیڈ روم اپارٹمنٹس کی کھڑکیوں پر صرف شیشہ لگا ہوتا ہے،یہاں چوری کا خطرہ نہیں ہوتا۔نہ کسہ دھشت گرد کے گھس آنے کا خطرہ ہوتا ہے۔لوگ پر امن فضا میں جیتے ہیں۔چھوٹی موٹی وارداتیں ہوتی ہوں گی لیکن ہمارے ہاں کی طرح نہیں۔یہاں ہمارے ہاں کی طرح اخبارات جرائم کی خبروں سے بھرے ہوئے نہیں ہوتے۔
اس لئے کہ
گرل اور آہنی جالی کے اندر ہماے پنجرہ گھروں میں بھی ہم محفوظ نہیں ہیں۔گرل کاٹ لینا،گھر کے اندر گھس آنا۔منٹوں میں گھر میں مزاحمت کرنے والوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دینا،مال و متاع لوٹ کر کھلے بندوں نکل جانا ہمارے ہاں معمول کی باتیں ہیں۔ہم ایسا کرنے پر مجبور ہیں کہ انتظامیہ ہمارا تحفظ کرنے سے قاصر ہے۔
ہم انسان سے حیوان کیوں بنتے جا رہے ہیں؟ تحفظ کی خاطر گھروں کی موٹی موٹی گرلوں اور جالیوں سے پنجرے بنا کر بھی ہم غیر محفوظ ہی رہتے ہیں۔
میں،امریکہ میں جہاں بھی گیا،بڑے بڑے شیشوں والی کھڑکیا ں دیکھیں،ان گھروں کے مکینوں کو ان خالی شیشوں کی وجہ سے پریشان ہوتے نہیں دیکھا۔وہاں لوگ پرسکون اور محفوظ ہیں۔انہیں اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ شیشے کی کھڑکی توڑ کر کوئی اندر آ جائے گا،گلہ گھونٹ دے گا اور لوٹ مار کرے گا۔
وہاں بھی جرائم ہوتے ہیں لیکن ہماری طرح کے نہیں۔
وہاں یا تو نفسیاتی مجرم ہوتے ہیں یا زیادہ تر کالے پسے ہوئے لوگ، کچھ بگڑے ہوئے نشہ باز نوجوان گورے۔
عام آدمی وہاں ہر طرح سے محفوظ ہے،امن و امان سے رہ رہا ہے۔زندگی کی آسائشوں اور ممکنہ سہولتوں سے بغیر کسی دھڑکے اور خدشے کے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
عدیل نے بتایا کہ دو سال پہلے ڈسکوری چینل میں ایک نفسیاتی مریض نے اندر داخل ہو کر عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔پولیس 36گھنٹے تک اسے سمجھاتی رہی،اس سے مذاکرات کرتی رہی لیکن وہ باز نہیں آیا بلکہ یرغمالیوں کو مارنے کا ارادہ ظاہر کیاجس پر پولیس نے سامنے والی بلڈنگ پر موجود سنائپر کو اشارہ کیا اور عملے کے تحفظ کے لئے اسے گولی مار دی۔یہ رویہ بعض کی نظر میں بے رحمانہ ہو سکتا ہیلیکن اگر دیکھا جائے تو وہاں کا نظامِ زندگی ان کے ایسے ہی اقدامات کی بنا پر پر سکون ہے۔
ہم اپنے ہاں خلفائے راشدین کے عہد  کی مثالیں دیتے ہیں کہ شیر بکری ان کے دور میں ایک گھاٹ پانی پیتے تھے،امن وامان تھا،جرائم کا تصور بھی نہ تھا،ایسا نظر تو پاکستان میں ہونا چاہیئے تھا لیکن اس کی عملی شکل ہم نے امریکہ میں دیکھی۔
ہماری بیگم کی ایک سکول کے زمانے کی دوست تھیں جب یہ کراچی میں رہتی تھیں،اس بار ہم امریکہ آئے توہماری بیگم نے 42سال انہیں تلاش کر لیا،ہم ان کے گھر گئے۔ان کا گھر کوئی چار ایکڑ میں پھیلا ہوا تھا،ہماری بیگم  کی اپنی سہیلی  کے ساتھ باتیں تھیں کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہی تھیں،دورانِ گفتگو انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں،وہ ان کے پاس چار،چار ماہ کے لئے چلی جاتی ہیں۔پیچھے گھر خالی ہوتا ہے،مزے کی بات یہ ہے کہ وہ گھر کو لاک کر کے نہیں جاتیں۔ان کے گھر کی کوئی چار دیواری نہیں ہے،کوئی گیٹ نہیں ہے،سڑک سے ڈرائیو وے ان کے گھر کے مین دروازے تک جاتا ہے۔
کس  قدر فرق ہے ہمارے اور امریکی معاشرے میں۔
میں  جب پاکستان اور امریکہ میں رویوں کے فرق کودیکھتا ہوں،وہاں کی اچھائیوں اور انسانی حقوق اور وہاں مساوات پر نظر ڈالتاہوں تو دل محسوس کر رہ جاتا ہے۔کاش مساوات کا جو درس ہماری میراث تھااور اب غیر اس پر عمل پیرا ہیں،ہم اسی میراث کوواقعی اپنی میراث بنا سکیں۔