ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعہ، 30 اکتوبر، 2015

امریکی پاک ٹی ہاوس ۔۔دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط ۔11



امریکی پاک ٹی ہاوس


ہمیں شینن ڈوا سے واپس آئے تین چار روز ہو گئے تھے۔اب اگلا پروگرام نیویارک جانے کا تھا۔اس پروگرام پر عملدرآمد میں ابھی آٹھ دس دن باقی تھے۔اگرچہ امریکہ کا دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی ہے لیکن اس کا دل نیویارک ہے۔وہ کہاوت پا کستان میں مشہور ہے نا،،جنے لہور نئی دیکھیا او جمیا ای نئیں،،یعنی جس نے لاھور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔نیویارک دیکھنا اس لئے بھی ضروری ہو گیا تھا کہ جو امریکہ آئے اور نیویارک نا جائے وہ سیاح ہی نہیں۔نیویارک میں دیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔
نیویارک جانے سے پہلے اب ہمارا زیادہ تر وقت ڈاؤن ٹاون کی گلیوں کی گرد چھانتے گذر رہی تھی،گرد چھاننا تو محاورہ کے طور پر لکھا گیا ورنہ گرد کا تو وہاں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ڈاؤن ٹاون میں  چھوٹے بڑے سٹورزایسے ہی تھے جیسے لاھور میں ماڈل ٹاؤن میں لنک روڈ پر ہیں،کھانے پینے کی دکانیں ہیں،فلم دیکھنا ہو تو سنیما بھی موجود ہے،معیار کے اعتبار سے اچھے سٹور بھی ہیں اور ون ڈالر شاپ بھی ہیں۔ایک روز گزرتے ہوئے میری نظر ایک شاپ پر پڑی۔میں نے دیکھا کہ شاپ کے اندر اور باہربچھی ہوئی میز کرسیوں پر براجمان خواتین وحضرات نہایت یکسوئی سے یا تو کچھ لکھ پڑھ رہے تھے یا ان کے آگے لیپ ٹاپ کھلے ہوئے تھیجن پر یہ لوگ کام کر رہے تھے۔میں نے چلتے چلتے رابعہ سے پوچھا 
،،یہ کوئی دفتر ہے کیا؟،،
اس نے کہا
،،نہیں ابو،یہ دفتر نہیں ہے،یہ ایک مشہور کافی شاپ کی ایک چین ہے،ایسے کافی شاپ ہر جگہ ہیں یہاں انٹرنیٹ وائی فائی کی سہولت دستیاب ہے۔آپ کافی کا ایک کپ  خریدیں اور پھر بے شک سارا دن یہاں کے آرام دہ ماحول میں بیٹھ کر پڑھیں،لکھیں،لیپ ٹاپ استعمال کریں کوئی بھی شخص ان سے نہیں پوچھتا کہ آپ آٹھ دس گھنٹے سے ایک کپ کافی خرید کر یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہکافی شاپ کے مالکان خوش ہوتے ہیں کہ ان کی کافی شاپ پڑھے لکھے افراد کا گڑھ ہے۔مجھے بے ساختہ برسوں پہلے کا پاک ٹی ہاوس یاد آ گیاجس کی ہر ٹیبل پر کوئی نا کوئی نامور ادیب،نواردانِ ادب کو لئے بیٹھا نظر آتا تھا۔ایک میز پر اسرار زیدی مرحوم بیٹھے نظر آتے تھے،دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی تنہا کرسی پر زاہد حسین ہمیشہ کتاب پڑھتے نظر آتے تھے،بخش الہی وقفے وقفے سے،یا کسی نئے آنے والے کی تواضح کے لئے چائے مہیا کر رہا ہوتا تھا،پاک ٹی ہاوس کا روزانہ کا منظرنامہ کچھ ایسا ہی ہوتا تھا وہاں بھی کوئی کسی سے نہیں پوچھتا تھا کہ میاں گھنٹوں سے یہاں کس سلسلے میں بیٹھے ہو۔خالد احمد مرحوم سے بھی ہماری پہلی ملاقات بھی یہیں ہوئی تھی جب ایک تقریب کے لئے ہم ادیبوں کو ساھیوال کی اس تقریب کے لئے مدعو کرنے آئے تھے،بعد میں تو خالد احمد سے روزانہ ملاقات ہونے لگی کیوں کہ وہ واپڈا  کے شعبہ تعلقاتِ عامہ میں  ملازم تھے اور ہماری بھی وہیں تعیناتی ہوئی تھی۔پاک ٹی ہاوس کی ٹیبل،چائے کا ایک ہاف سیٹ اور بیٹھنے کا وقت مقر نہیں۔
عدیل کے فلیٹ سے سڑک کی دوسری جانب واقع پارکنگ لاٹ کے ساتھ بنے ہوئے ہال سے ہفتہ اور اتوار  کو کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی،اتنا ہنگامہ ہوتا تھا کہ سونا حرام ہو جاتا تھا،ہفتے کی دوپہر سے ہی یہاں لڑکے لڑکیوں کی لائینیں لگ جاتی تھیں اور یہ لائینیں حدِ نظر تک نظر آ رہی ہوتی تھیں،یہاں موسیقی کا خاصا کریز ہے،چھٹی کا  دن ہو اور پسندیدہ فنکار کا کنسرٹ بھی تو لائینوں میں لگنا بنتا ہی ہے۔
اس روز بھی ہفتہ ہی تھا لائنیں بھی ویسے ہی لگی ہوئیں تھیں،میں فلیٹ کی کھڑکی سے باہر کا نظارہ کر رہا تھاآج لائنیں کچھ زیادہ ہی بڑی تھیں شاید کوئی بڑا فنکار آ رہا تھا،ان لائینوں میں ستواں سی ناک والی وہ امریکی لڑکی جو اپنے خدوخال سے امریکی نہیں لگتی تھی،آنکھوں میں خمار لئے تنگ سی شاٹ اور اس سے بھی شارٹ بلاؤز میں اپنے آپ کو چھلکاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیاور ساتھ کھڑے لڑکوں پر گری گری پڑ رہی تھی۔
ہمارے ہاں پیسے ہوں بھی تو سوچ سمجھ کر خرچ کئے جاتے ہیں،وہاں بچت کرنے کا کوئی اتنا خاص خیال نہیں کیا جاتا۔یہاں چھٹی کے دو دن دل کھول کر تفریح کی جاتی ہے اور پھرجب یہ کام کرتے ہیں تو انہیں اس کے سوا کچھ ہوش نہیں ہوتا۔
وہ امریکن لڑکی جو ہفتے کی رات خمار میں خود کو چھلکا رہی تھی آج ڈاؤن ٹاؤن کے اس کافی ہاوس کے باہر لگی ہوئی ایک کرسی میز پر اپنا لیپ ٹاپ ٹکائے اپنے کام میں ایسی مصروف تھی کہ پہچانی نہیں جا رہی تھی،سنجیدگی اس کے چہرے پر طاری تھی۔لیپ ٹاپ کے ساتھ کتابوں کا ڈھیر تھا اور ایک کافی کا مگ بھی نظر آ رہا تھا،ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کتابوں میں دفن ہو گئی ہو۔
ہم وہاں سے گذرتے چلے گئے،کیمونٹی ہال اور آئی میکس(سنیما) کی درمیانی سڑک سے ہم دائیں ہاتھ مڑ کر ہم ہول مارٹ چلے گئے۔رابعہ نے کچھ پھل،سبزی لینی تھی۔وہ وہاں ضرورت کی چیزیں دیکھنے لگی،عنایہ دادی کے ساتھ ہرچیز کے سٹال پر رکتی ہوئی آگے جا رہی تھی،وہاں جو چیز مجھے پسند آئی وہ وہاں لگی ہوئی فریش اورنج جوس کی مشین تھی جس کے اوپر والے حصے میں اورنج بھرے ہوئے تھے،اس مشین کے نیچے کی جانب نوزل لگی ہوئی تھی،ساتھ میں مختلف اوزان کی خالی پلاسٹک کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں جن پر اس میں جتنا جوس آ سکتا تھا اس کے مطابق قیمت درج تھی نوزل کے اوپرلگے بٹن کو دبائیں توبوتل تازہ پانی کی ملاوٹ سے پاک خالص جوس سے بھر جاتی ہے۔نا اورنج چھیلنے کی زحمت،نا جراثیم لگنے کا خوف،ناہیپاٹیٹس پھلنے کا خطرہ،ایکدم حفظانِ صحت کے مطابق خالص جوس۔مجھے تو اس کاایسا چسکا پڑا کہ ہر روز سیر کے لئے ڈاؤن ٹاؤن چلے جاتے تھے اور واپسی پر جوس کی لارج سائز بوتل ہمارے ساتھ ہوتی تھی۔




بدھ، 28 اکتوبر، 2015

دست دعا دیکھے [ایک نظم] انور زاہدی

انور زاہدی
کبھی تتلی کے پر 
شمع کی لو میں 
خاکستر دیکھے
جنُون عشق میں 
کیا طائر شب کو 
کبھی دم توڑتے دیکھا
کسی درگاہ کے در پہ
چھلکتے آنسووں کو آنکھ میں 
اور کانپتے دست دعا دیکھے
سڑک پر گُم کبھی 
جیسے بگُولہ ہو
کسی پاگل کو اپنی دھُن میں
محو رقص بھی دیکھا
برستے مینہ کی بوچھار میں
بارش کے قطرے کو
زمیں کی خاک میں پیوند ہوتے
زندگی درگور بھی دیکھی
کبھی ساون میں 

ہفتہ، 24 اکتوبر، 2015

رائیٹ برادران، جنہوں نے پہلی بار زمین کی بیڑیوں کو اتار پھینکا اور ستاروں کی جانب چھلانگ لگائی ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط۔10

تاریخ اور سائنس کی دنیا  میں
نیشنل ایئر اینڈ سپیس میوزیم 


واشنگٹن ڈی سی میں سے گذر کر ورجینیا جانا کئی بار ہو چکا تھااور ایسا شام کے وقت عدیل کے آفس سے آنے پر ہوتا تھا،رات کے وقت جگمگاتی روشنیوں میں امریکہ کا دارالحکومت  بڑا خوش رنگ نظر آتا تھالیکن کوئی قابلِ دید چیز اندر سے نہیں دیکھی جا سکتی تھی،عدیل ہمیں وہاں کی بہت سے مقامات کی سیر کرا چکا تھا۔عید کے روز ہمیں نماز کی ادائی کے لئے پھر ورجینیا جانا تھا۔وہاں سارا امریکہ کھلا ہوتا ہے کہ عید ان کا تہوار نہیں ہے لیکن مسلمان ملازمین اپنے تہواروں پر چھٹی کر سکتے ہیں۔عید کے لئے عدیل نے بھی چھٹی کی ہوئی تھی۔چاند رات کو بھی ہم واشنگٹن گئے تھے،بہت سے مقامات اس روز دیکھ لئے تھے،اب پروگرام یہ بنا کہ ورجینیا میں نماز پڑھنے اور دوپہر کا کھانا وہیں کھانے کے بعد واپسی پر واشنگٹن کے باقی ماندہ مقامات کی سیر کر لی جائے۔
نیشنل ایئر اینڈ سپیس میوزیم تاریخی ایئر کرافٹ اینڈ سپیس کرافٹ کا دنیا بھر میں سب سے بڑا اور نادر نمونہ ہے۔اسے

ہسٹری
اور سائینس آف ایوی ایشن اور سپیس فلائیٹ کے علاؤہ پلینٹری سائینس کی تحقیق کے مرکز کی اہمیت بھی حاصل ہے۔اسے سن 1946میں قائم کیا گیا اور اس کی مین بلڈنگ کو تیس سال بعد سن 1976میں عوام کے لئے کھولا گیا۔سن2014میں اس میوزیم کو67لاکھ افراد نے دیکھا جس نے اسے دنیا میں سب سے دیکھا جانے والا پانچواں میوزیم بنا دیا ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے ہسٹری اور سائنس میں کبھی دلچسپی نہیں رہی اور نا میں سائنس کا طالب علم رہا ہوں،مجھے آثارِ قدیمہ اور عجائب گھروں میں بھی دلچسپی نہیں رہی۔عدمِ دلچسپی کی وجہ تو شاید نوعمری میں ہڑپہ کے تاریخ ساز کھنڈرات سے
 کھدائی کے دوران پرآمد ہونے والی اشیاء پر مشتمل میوزیم کی بے ثباتی دیکھ کر ہوئی،اس میوزیم میں کھدائی کے وقت جو کچھ دریافت ہوا،وہ موجود رہا ہو گا لیکن جب ہم نے اسے دیکھا تو وہ اجڑی ہوئی دلی کی مانند نظر آیا۔
یہ امریکہ ہے،یہاں کے لوگ اپنی تاریخ بنانا بھی جانتے ہیں اور سنبھالنا بھی،اسی چیز نے مجھے نیشنل ایئر اینڈ سپیس میوزیم دیکھنے پر اکسایا۔میوزیم کے باہر میں نے عدیل سے کہا بھی کہ کہیں اور چلتے ہیں یہاں کیا دھرا ہو گا،لیکن وہ کہنے لگا آپ چلیں تو سہی اور ہم  میوزیم میں داخل ہو گئے۔اندر کی دنیا ہی عجیب تھی،ایک جانب چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان  اور چاند پر جانے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تاریخ مجسم کی گئی تھی،ایک حصہ آسمان پر چمکنے والے سیاروں اور ستاروں کے بارے میں تھا۔
ارے یہ کیا؟ سائیکل کی ایجاد اور اس کے موجد کی سائیکل کمپنی کا حصہ،ہمیں ہنسی آ گئی کہ بھلا اس کا حصہ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔عدیل کہنے لگا یہی تو اس میوزیم کی خاص چیز ہے۔رائیٹ برادران کی سائیکل کمپنی،جس نے انسانی تاریخ بدل کر رکھ دی۔
رائیٹ برادران؟وہی جنہوں نے جہاز بنایا لیکن سائیکل کمپنی؟
میں نے خود سے با آوازِ بلند سوال کیا؟
یہ شاید زمانہِ طالب علمی میں سطحی طور پڑھی ہوئی باتوں کا لاشعور سے شعور میں آنے کا عمل تھا جس نے مجھ سے سوال کرا دیا۔
جی پاپا،وہی رائیٹ برادران،عدیل کا تازہ علم میرے لاشعور کی تائید کر گیا۔
اورول رائیٹ اور ولبر رائیٹ کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے پہلی بار زمین کی بیڑیوں کو اتار پھینکا اور ستاروں کی جانب چھلانگ لگائی تھی۔انہوں نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا تھا،تہذیبِ انسانی اس کار نامے کے بعد ایک انقلاب سے گذر چکی تھی۔

وہ تاریخ کا ایک عظیم دن تھا جب اورول رائیٹ نے اوہائیو کے شہر ڈیٹن میں واقع
ایک لائبریری  میں قدم رکھا،کتابوں کی الماری کی جانب بڑھا اور ایک کتاب اٹھائی۔یہ کتاب ایک جرمن باشندے لیلیئن تھل کی داستانِ حیات تھی جس نے ایک بڑی پتنگ کے ذریعے اڑنے کا کامیاب تجربہ کیا تھا،
میں شیشے کے فریم میں لکھی یہ داستاں ِ عظیم پڑھ رہا تھاجس میں آگے ان بھائیوں کے کارنامے کی مزید تفصیلات درج تھیں،
عدیل نے کہا پہلے اندر آ نہیں رہے تھے اب یہاں سے پل نہیں رہے ہیں،آپ
آرام سے پڑھیں ساری چیزوں کو دیکھیں ہم یہیں میوزیم میں ہی ہیں۔لیکن اتنی دیر بھی نا لگا دینا کہ باقی چیزیں دیکھنے سے رہ جائیں،میوزیم چھ بجے بند ہو جاتا ہے۔
میں ہنس دیا اور پھر پڑھنے لگا،مجھے پھر پتہ نہیں لگا کہ وہ کس وقت وہاں سے چلے گئے۔
اس داستانِ عظیم میں درج تھا کہ اس جرمن باشندے نے انجن استعمال نہیں کیا تھا لیکن اڑا ضرور تھا۔وہ ایک تاریخ ساز رات تھی جس میں اورول رائیٹ،لیلیئن تھل کی داستان میں کھویا اس بات پر غور کرتا رہا کہ وہ اڑا کیسے تھا۔اس رات کے غور و فکر نے تہذیبِ انسانی میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔اورول نے اپنے بھائی ولبر رایٹ کے دل میں بھی شوق کی چنگاری  جگا دی تھی اور پھر رائیٹ برادران ایک ایسے کام میں جت گئے جو ہوائی جہاز کی ایجاد پر منتج ہوا اور ان کا نام لافانی کر گیا۔
اوہائیو میں اس وقت اسے ایک چھوٹا سا کام سمجھا گیابلکہ ان کی کوشیشوں کو ناممکن بتایا گیا،لیکن ساتھ ہی ساتھ لوگوں میں یہ بات گردش  کر رہی تھی کہ رائیٹ برادران نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان اڑ سکتا ہے۔
پھر وہ دن آ گیا،لوگ ان کے دعویٰ کوناممکن ہوتا دیکھنے اور پھر ان کا مذاق اڑانے کے لئے جمع ہو چکے تھے لیکن یہ

کچھ زیادہ لوگ نہیں تھے،صرف پانچ افراد تھے جن میں ایک فوٹو گرافر بھی تھا جس نیانسان کی پہلی اڑان کی تصویر بنائی تھی۔اور یہ واقعہ تھا 17دسمبر1903کا۔صبح کے دس بج کر پینتیس منٹ پر اورول رائیٹ گرجتے جہاز پر سوار ہوا اور پیٹ کے بل لیٹ گیا اور تار کھیچ کر اس نے اپنے فلائر کی بریکیں اٹھا دیں۔ان کی یہ فلائنگ مشین ضرائی اور کھانستی ہوئی ہوا میں بلند ہوئی۔انجن کے ایگزاسٹ سے شعلے لپک رہے تھے،مشین سد باری سیکنڈ کے لئے نیچے،اوپر ہچکولے کھاتے ہوئے آگے بڑھی اور120فٹ تک اڑنے کے بعد زمیں پر گر گئی۔اس پرواز کی رفتار صرف 6.8 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد اگلی دو پروازوں میں فاصلہ 175فٹ اور200فٹ رہااور ان کی سطح زمین سے بلندی 10 فٹ رہی۔ان کی چوتھی پرواز852فٹ تک گئی اور یہ 59سیکنڈز تک اڑتی رہی۔
سن1903کی پہلی کامیاب پرواز کے بعدرائیٹ برادران کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے لسی لئے ان کی جدوجہد  جاری رہی۔سن1905میں وہ ایسا جہاز بنانے میں کامیاب ہوئے جو ایک وقت میں آدھ کھنٹے تک اڑ سکتا تھا۔سن1908میں اورول رائیٹ نے دنیا کی پہلی پرواز ورجینیا کے فورٹ میئر میں امریکن آرمی کو دکھانے کے لئے کی۔امریکن آرمی نے رائیٹ برادران کے جہاز کو دنیا کا پہلا فوجی جہاز قرار دے دیا۔اسی سال رائیٹ برادران نے لی منز،فرانس کے نزدیک سو پروازیں کیں جس میں سب سے لمبی پرواز نے31 دسمبر کو اڑان بھری جس کا دورانیہ 2گھنٹے اور19منٹ تھا۔
ابھی میں نوٹس لے ہی رہا تھا کہ عدیل نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے اس محویت سے نکالا اور کہنے لگا،آپ نے ابھی تک میوزیم کا یہ حصہ بھی مکمل نہیں دکھا ہم پورا میوزیم گھوم آئے،میں نے انہیں کہا بس تھوڑی دیر اور۔۔۔
میں پلٹ تو گیا ہی تھا،میں نے دیکھا کہ اس جہاز کا ریپلیکا سامنے رکھا ہوا تھا اس میں اورول رائیٹ اسی طرح لیٹا دکھایا گیا تھا جیسا کہ تاریخ میں بتایا جاتا ہے،میں جہاز کے ریپلیکا کے سامنے جا کھڑا ہوا،اب اورول رائیٹ میرے سامنے تھا،میں نے اسے سلیوٹ کیا اس کے کارنامے پر،اگر اس نے جہاز ایجاد نہ کیا ہوتا تو میں 
پاکستان سے8ہزار میل کا سفر طے کر کے امریکہ کیسے پہنچتا۔
وہاں سے نکلے تو ساتھ ہے سیاروں اور ستاروں کی دنیا آباد تھی،اس دنیا میں داخل ہوئے تو ایک گلیکسی ہمارے سامنے تھی۔ہر سیارے کو اس کی جسامت کے مطابق دکھایا گیا تھا۔ان سیاروں کی ترتیب میں ہماری  چھوٹی سی دنیا بھی نظر آ رہی تھی جو غالباََ اپنی جسامت کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ہے۔یہاں بھی چاند پر جانے  کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ریکارڈ بتایا گیا تھا۔ خلا بازوں کے لباس بھی سجے ہوئے تھے۔میں میوزیم کے اس حصے میں آ کر سوچ رہا تھا کہ اس حصے کا مطالعہ تو مریم کو کرنا چاہیئے تھا۔
مریم سلطانہ ہماری بھانجی ہے۔کراچی میں اردو یونیورسٹی میں پروفیسر ہے ابھی گذشتہ سال ہے ہی اس نے ایڈوانس اسٹروفزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل ہے اور وہ پہلی  خاتون ہے جس نے یہ ڈگری حاصل کی ہے۔میوزیم کا یہ حصہ اس کے بڑے کام کا تھا۔ہمیں اسٹرو فزکس کا تو کوئی اتنا خاص علم نہیں ہے، ہاں اسٹرالوجی میں کچھ شدبد کی وجہ سے یہ حصہ بھی ہماری دلچسپی کا مرکز تھا،کبھی کبھی ستاروں کی چال دیکھ کر ملکی سیاست کا جائزہ ضرور لے لیا کرتے ہیں،2013کے انتخابات سے پہلے ہمارا اسی حوالے سے جائزہ تھا جو ایک کالم کی شکل میں ایک اخبار میں شائع بھی ہوا تھا کہ تحریک انصاف اور عمران  خان کے ستارے جون 2017کے بعد عروج پر ہوں گے اس سے پہلے ان کی تمام کوششیں سعیِ لا حاصل ثابت ہوں گی اور وقت  نے ہماری  بات کو درست ثابت کیا ہے۔ 
وہاں سے نکلے تو سامنے ہی شہرہ آفاق ڈرون کا سامنا ہو گیا۔ڈرون طیارہ اس وقت  بڑی معصومیت سے لٹکا ہوا تھا۔اسے دیکھتے ہوئے ہم نے دل ہی دل میں کہا اچھا یہ ہے وہ ڈرون جس نے ہر طرف تباہی مچائی ہوئی ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اس ڈرون نے جو تباہی مچائی اس سے پاکستانی قوم شدید نالاں رہی ہے۔پاکستانی دفترِ خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2004سے اب تک پاکستان میں 330 ڈرون حملے کئے گئے جن میں 2200 سے زائد افراد جان بحق ہوئے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کا آغاز  سن 2004میں ہوا اس سال صرف ایک حملہ ہوا جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔سن2005 میں تین حملے،13افرادہلاک،سن2006 میں چار حملے 7جاں بحق،سن 2007 میں چار حملے ہوئے جن میں 48افراد،سن2008 میں ڈرون حملوں میں اضافہ ہو گیا اور36حملوں میں 219افراد جاں بحق ہوئے،2009میں 54حملے350افراد جبکہ سن2010میں سب سے زیادی یعنی122ڈرون حملے ہوئے جس سے608افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ سن2011میں 72حملوں میں 256افراد،سن2012میں 48حملے۔222ہلاکتیں،جبکہ رواں سال کے ماہ اپریل تک بارہ ڈرون حملے ہوئے جن میں 62افراد لقمہِ اجل بنے۔صدر بش کے زمانے میں پاکستان میں 52ڈرون حملے جبکہ اوباما کے برسرِاقتدار آنے کے بعد314ڈرون حملے ہوئے۔
اب تو ہم خود ڈرون کے معاملے میں خود کفیل ہو چکے ہیں،فوج دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں مصروف ہے جس میں پاکستانی ڈرون بھی استعمال کئے جا رہے ہیں۔ہم نے ابھی کچھ دیر پہلے رائیٹ برادران کو سلیوٹ پیش کیا تھاکہ اگر انہوں نے جہاز ایجاد نہ کیا ہوتا تو ہم تاریخ میں آج کس مقام پر کھڑے ہوتے۔لیکن ڈرون بھی تو ایک طیارہ ہے،اگر طیارہ مسافروں اور سامان کوادھر سے ادھر لے جانے کے لئے استعمال ہو تو یہ طیارے کا مثبت استعما ل ہے اور اگر ہیرو شیما اور ناگا ساقی پر اٹیم بم مارنے کے لئے استعمال ہو تو یہ طیارے کا نفی استعمال ہے۔میں ڈرون کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھاکہ کیا طیارے کو ڈرون کی شکل دینے پر رائیٹ برادران کو کیا جانے والا سلیوٹ واپس لے لینا چاہیئے؟

جمعہ، 23 اکتوبر، 2015

کتے تیتھوں اتے ..دیکھا تیرا امریکہ۔قسط ۔9

کتے تیتھوں اتے

شینن ڈوا کے ہیڈکوارٹر شہر لیورے میں جس موٹل میں ہم ٹھہرے،اس کی پچھلی جانب ایک وسیع وعریض لان تھا،ہمیں کمرے بھی اسی  طرف ملے۔ کمروں کی چابیاں تھما کر موٹل کا مالک کم منیجر وہاں سے جا چکا تھا۔ہم نے سامان کمروں میں رکھا۔ابھی دوپہر کے تین بجے تھے،عدیل کہنے لگا ابھی کچھ دیر ریسٹ کرتے ہیں۔پھر کچھ دیر باہر لان میں بیٹھیں گے،چائے پیئیں گے۔آج کا دن تو یہیں لیورے شہر کی سیر کریں گے۔کل صبح لیورے کیونز دیکھنے چلیں گے سنا ہے بہت خوبصورت جگہ ہے۔ہمارے کمرے ساتھ ساتھ  اور ایک دوسرے سے منسلک تھے۔عدیل اور رابعہ ساتھ والے کمرے میں چلے گئے۔دونوں کمروں کے درمیان دروازہ ہونے کی سب سے زیادہ خوشی عنایہ کو تھی کہ کبھی وہ ایک کمرے میں آ رہی تھی تو کبھی دوسرے میں۔اس کے اس آنے جانے نے عدیل اور رابعہ کو  ریسٹ نہیں کرنے دیا۔تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے ہمارے کمرے میں جھانکا اور کہنے لگے،آئیں کچھ دیر لان میں بیٹھتے ہیں،ہم تو پہلے ہی تیار بیٹھے تھے۔باہر لان میں اس وقت کوئی اور نہیں تھا،شایددوسرے کمروں والے صبح ہی صبح اپنے پروگرام کے لئے سیر اور گردونواح میں واقع تفریح گاہیں دیکھنے نکل گئے ہوں گے۔ابھی ہم لان میں آ کر بیٹھے ہی تھے کہ ہمارے کمروں سے دو کمرے چھوڑ کر جو کمرہ تھا اس میں رہائش پذیرفیملی واپس آ گئی۔تین چار افراد کی یہ فیملی گاڑی سے اتری تو ساتھ ہی ایک کتا بھی اتر کر ان کے ساتھ کمرے میں چلا گیا۔کچھ دیر بعد وہ ساری فیملی اپنے کتے سمیت لان میں آ گئی۔لان میں آ کرانہوں نے کتے کی زنجیر کھول دی۔کتے کی مالکن نے ایک گیند دور پھینکی،کتا بھاگتا ہوا گیا اور گیند کو منہ میں دبائے واپس آ گیا۔وہ فیملی اپنے کتے کے ساتھ دور بیٹھی کھیلنے میں مصروف تھی۔لان کے درمیان باربی کیو کے لئے ایک ہٹ بنا ہوا تھا۔عنایہ بھاگتی ہوئی جاتی۔خیالی چائے دادا ابو اور دادی کے لئے بنا کر لاتی،کچھ دیر کے بعد پیالیاں واپس ہٹ  کی طرف لے جاتی۔کچھ دیر یہ آنکھ مچولی جاری رہی پھر اس کی دادی بھی اٹھ کر اس کے پاس ہٹ میں چلی گئیں۔اتنے میں اس فیملی نے جو گیند گھمائی تو وہ سیدھی ہٹ کی جانب آئی،کتا بھاگتا ہوا گیند کی طرف لپکا،عنایہ اور اس کی دادی سہم گئیں کہ کتا ان پر حملہ آور ہو رہا ہے۔جس وقت یہ وقوعہ ہو رہا تھا میں کمرے سے ویڈیو کیمرہ لینے گیا ہوا تھا۔کیمرہ لے کر میں کمرے سے باہر آ رہا تھا کہ اچانک مجھے عنایہ کے رونے اور اس کی دادی کی چیخ سنائی دی،میں نے لان کی جانب دیکھا تو کتا ہٹ کی جانب لپک رہا تھا،دادی نے عنایہ کو اپنی باہوں میں سمیٹ رکھا تھا اور دونوں زور زور سے چیخ رہی تھیں۔ ان کی چیخیں سن کر کتے کی مالکن بھی کتے کے پیچھے بھاگنے لگی۔کیا،چیخیں سن کر ہٹ سے پہلے ہی رک گیا۔اتنے میں کتے کی مالکن نے وہاں پہنچ کر کتے کے گلے میں زنجیر ڈال دی اور کہنے لگی یہ حملہ کرنے نہیں،اس بچی سے کھیلنے آ رہا تھا،یہ بھی تو ابھی بچہ ہی ہے۔وہ  فیملی تو معذرت کر کے چلی گئی لیکن مجھے امریکہ کی گلی کوچوں میں گھومتے وہ تمام کتے یاد آ گئے جو کسی نہ کسی گوری کے ساتھ بڑی شان سے چل رہے ہوتے تھے یا کسی نہ کسی گوری یا کالی کی گود میں براجمان اپنی معصوم سی صورت کے ساتھ دنیا دیکھ رہے ہوتے تھے۔چلتے چلتے یہ گوریاں یا کالیاں بڑے پیار سے ان کتوں کا بوسہ بھی لے لیتی تھیں،ایک دو جگہ میں نے یہ بھی دیکھا تھا کہ کتے کا بوسہ لینے کے بعد اپنے ساتھ چلتے اپنے کسی پیارے کے ہونٹوں کا بوسہ لے کراسے کچھ کہہ رہی ہوتی تھی شاید یہ کہ پیارے تم برش اچھی طرح کیا کرو تمہارے منہ سے رات کی پی ہوئی شراب کی بو آ رہی ہے،حالانکہ کچھ دیر پہلے اپنے کتے کا بوسہ لیتے ہوئے اسے ایسی کوئی شکایت کتے سے نہیں ہوئی تھی۔
پاکستا ن میں برگر فیملیوں کے علاؤہ کتا پالنے کا ایسا کوئی خاص رواج نہیں ہے۔یہاں گلیوں کے آوارہ کتے خاصے خطرناک ہوتے ہیں۔ عنایہ کی دادی بلاوجہ نہیں چیخی تھیں،کتے کو لپکتے دیکھ کر انہیں عدیل کے بچپن کا وہ واقعہ یاد آ گیا تھا جب لاھور میں سمن آباد کی ڈونگی گراؤنڈ میں شارٹ کٹ کے چکر میں گراؤنڈ میں موجود آورہ کتوں کی ایک ٹولی میں سے ایک کتا عدیل اور اس کی ماں کو دیکھ کر ان پر لپکا تھا اور ماں نے عدیل کو بچانے کے لئے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا تھااور ساتھ ساتھ حسبی اللہ کا ورد کر رہی تھی،اس وقت بھی ایک لمحے کے لئے خوف  کے عالم میں چیخ اٹھی تھی آج کی طرح۔
یہاں امریکہ میں،کتا،انسانوں جیسے حقوق کا حامل ہے۔امریکہ میں جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں ہیں وہیں کتے کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھی متعدد سوسائیٹیاں ہیں جو انسانوں سے زیادہ ان کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔ان کی تنقید کا زیادہ تر نشانہ کوریا،چین اور ان ملکوں کے لوگ ہوتے ہیں جو ان کتوں کواپنے پیٹ کا ایندھن بنا لیتے ہیں۔
ہم پاکستان میں جس محکمے میں کام کرتے تھے وہاں کوریا اور چین نے بہت منصوبے مکمل کئے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں۔اپنے عرصہِ ملازمت میں متعدد بار ہم صحافیوں کی ٹولیوں کو ان منصوبوں پر لے کر گئے،وہاں کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں کتوں اور سوروں کی بہتات تھی،رات کے سناٹے میں کتوں کے بھوکنے کے علاؤہ کچھ سنائی نہیں دیتا تھا لیکن جب سے ان پروجیکٹوں پرغیر ملکیوں نے کام شروع کیا ہے کتوں نے بھوکنا بند کر دیا ہے اور نظر بھی نہیں آتے۔یہ بات ہمیں واجد نے بھی بتائی تھی جو چین میں 20 سال سے زائد وقت گذار کر واپس آئے تھے کہ چین، جاپان اور کوریا میں کتے،بلی،سور بلکہ ہر چیز کا گوشت کھا لیا جاتا ہے،یہ تو اس نے ہمیں نہیں بتایا کہ وہ یہ گوشت کس طرح کھاتے ہیں لیکن یہ ضرور بتایا تھا کہ ڈوگ پارٹی وہاں کی خاص پارٹی کہلاتی ہے اور پوڈل سوپ ان کی مرغوب غذا ہے۔
امریکہ کے کئی سٹوروں میں پیٹس کی دکانیں بھی ہوتی ہیں جہاں چھوٹے بڑے مختلف نسلوں کے کتے بلیاں ملتی ہیں۔جال دار پنجروں میں بند یہ جانور امریکیوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔انہی دکانوں سے ان جانوروں کی سیل بند ڈبوں میں خوراک بھی ملتی ہے۔ میں نیبہت سے سٹوروں میں جب رابعہ اور عنایہ کی دادی مختلف چیزیں دیکھ رہی ہوتی تھیں توہم نے ایک بار یونہی تجسس میں ایک سرخ و سہنری رنگ کا ڈبہ اٹھا کر دیکھا تھا۔امریکہ میں خوراک کے ڈبوں پر اندر موجود خوراک کے پورے اجزاء لکھے ہوتے ہیں۔یہ خوراک چاہے انسانوں کی ہو یا حیوانوں کی۔میں نے ڈبے پر لکھے اجزاء پڑھے تو حیران رہ گیا،وہ خوراک،کتوں کی خوراک، اتنی توانائی بخش تھی کہ پاکستان میں اتنی توانائی والی غذاانسانوں کو بھی میسر نہیں ہے۔اس سٹور سے جانوروں کے شیمپو،پٹے،زنجیریں اور برش بھی ملتے ہیں۔سردیوں میں کتوں کو گرم رکھنے کے لئے خوبصورت رنگوں کے جیکٹ نما لباس بھی تھے وہاں،جو ان کی کمر پر ڈال کر نیچے پیٹ پر کلپ کے ساتھ باندھ دئیے جاتے ہیں۔
امریکہ میں کتوں کے بیوٹی سیلون،انہیں نہلانے،دھلانے،شیمپو کر کے بال سنوارنے کی سہولتیں بھی دستیاب ہیں۔اب تو کتوں کے ماہر نفسیات بھی وہاں دستیاب ہیں جو کتوں کی نفسیاتی الجھنوں کو دور کرتے ہیں۔
یہ سب چونچلے مراعات یافتہ کتوں کے لئے ہیں۔ہمارے ہاں کے ڈونگی گراونڈ میں لوگوں پر بھونکنے اور کاٹنے کے لئے دوڑنے والے کتوں کے لئے نہیں ہیں،مراعات تو خیریہاں انسانوں کو بھی حاصل نہیں ہیں،فیض احمد فیض نے نقش فریادی ۔میں جو نظم کتے لکھی ہے شاید وہ ہمارے ہاں کے غیر تربیت یافتہ ہر قسم کے کتوں کی نمائندگی کرتی ہے
یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانہ کی پھٹکار سرمایہ ان کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب کو،نہ راحت  سویرے
غلاظت میں گھر،نالیوں میں بسیرے
جو بگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو
ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کر مر جانے والے
یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سرکشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں
یہ آقاؤں کی ہڈیاں چبا لیں
کوئی ان کو احساسِ ذلت دلا دے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے
خیر بات ہو رہی تھی لیورے موٹل کے باہر کتے کے لپکنے اور اس کی مالکن کے تاویلیں پیش کرنے کی۔ یہ انہی کتوں  میں سے ایک کتا تھاجن کے ماتھے پربقول بلھے شاہ لکھ دیا گیا تھا کہ کتے تیتھوں اتے۔جن کے خاموش ہونے پر،بات نہ کرنے پر،پاس سے گذرتی جوان کتیا کو دیکھ کر بھی دم نہ ہلانے پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے اور ماہرِ نفسیات کو بلایا جاتا ہے۔ ہم خاموش رہے کہ وہ امریکی کتا تھا جسے وہاں بہت سارے حقوق حاصل تھے اور اپنے گھر میں تو کتا شیر  ہی ہوتا ہے۔

سلا م و نذ ر ا نہ ء عقید ت ۔۔ سیّد انور جاوید ہاشمی

سید انور جاوید ہاشمی
سر ا پا صبر و رضا ز ند گی د و ا م لقب
سَلا م اِ بن ِ علی سیّد اُ لاَ نَا م لقب
سلَا م و ا د یء غُر بَت کے تا ج دَار سِلا م
سلَا م ر ا ہ ِ شہا د ت کے شہ سوارسلام
سُنی تو ہو گی فلَک سے صَدا سکِینہ کی
گوَ ا ہی د یتی ر ہے کر بَلا سکینہ کی!،
و ہ کر بلا کہ جہا ں آج بھی ہے نہرِفُرات
جہا ں پہ لُو ٹا گیا پہلا کا ر و ا ن ِ حیَا ت
مِثَا ل جس کی زما نہ کہیں سے لا نہ سکے
بتَا رہے ہیں سبھی اور کوئی بتا نہ سکے
و ہ یو مِ حَشر کا آ ثا ر کر بلا ہی تو ہے
سزَا جَزائوں کا معیا ر کر بلا ہی تو ہے
شبِیہ ِ نُو ر ِ مُحمّد تر ے تما م لقب
سلا م ا بنِ علی ، سیّد اُ لا َ نا م لقب

بدھ، 21 اکتوبر، 2015

لوح، لفظوں کی بچھی ہوئی بساط ہے

تحصیلِ علم کے لئے پوچھا گیا،، لوح ،، کیا ہے۔
 جواب ملا،اوراق کا ایک مجموعہ جس میں ادب کی ہر صنف پر اللہ کی احسن طریق پر تخلیق شدہ مخلوق کی تخلیقات درج ہیں۔اوراق کے اس مجموعے کو رسالہ کہتے ہیں۔
پوچھا گیا کہ یہ رسالہ کیسا ہے؟
 جواب ملا،، منفرد،خوبصورت،دیدہ زیب،شاندار،ادبی روایات کا امین،،
پوچھا گیا کہ یہ رسالہ کہاں سے چھپتا ہے؟
 جواب ملا راولپنڈی سے۔
پوچھا گیا کہ اس کے مدیر کون ہیں؟
 جواب ملا،وہی ادب کے دلدادہ،ادب کے خادم،ممتاز احمد شیخ


پوچھا گیا کیا راولپنڈی سے پہلے بھی ایسے جرائد چھپتے رہے ہیں؟
جواب ملا، جی ہاں تقسیم سے پہلے اور کچھ عرصے بعد پہاں سے شائع ہونے وا؛ا ادبی جریدہ،،ماحول،، تھا۔لیکن جدید طرزکا پرچہ،، بادبان،، تھا،پھر دستاویز تھا،پھر،،آثار نے اچھا آغاز کیا،نصیر احمد ناصر کا تسطیر،علی محمد فرشی کا سمبل،اگر لوح کی طرز کے جرائد کو ملکی سطح پر دیکھا جائے تو اس طرز کے چند ہی جرائد نظر آتے ہیں جن میں نیرنگِ خیال،نقوش  اور فنون کے نام لئے جا سکتے ہیں۔راولپنڈی سے جو جرائد شائع ہوتے رہے وہ چند اشاعتوں کے بعد اپنی اشاعت جاری نا رکھ سکے۔
پوچھا گیا ممتاز احمد شیخ سے اس وقت جب انہوں نے لوح کے پہلے شمارے کا اعلان کیا کہ کیا مہنگائی کے اس دور میں  لوح کی اشاعت جاری رکھ سکیں گے؟
جواب ملا،انشااللہ،

پھر پہلا شمارہ آیا اور ادبی حلقوں میں چھا گیا۔ایک جانب بہت مثبت ردِ عمل سامنے آیا تو دوسری جانب کہا گیا ادبی رسالہ سراسر خسارے کا سودا ہے،ایک شمارہ تو ممتاز شیخ نے نکال لیا،کڑاھی کا ابال ختم ہونے دو پھر دیکھتے ہیں۔
پہلے شمارے کی اشاعت کے فوراََ بعد ممتاز شیخ صاحب نے دوسرے شمارے کے لئے مسودات مانگ لئے۔اور لوح کا نقشِ ثانی مثلِ حسنِ یوسف ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ممتاز شیخ ادبی حلقں کا جانا پہچانا  اور معتبر نام ہے۔ان کے ذھن میں ایک معیاری ادبی جریدے  کا تصور تو پہلے سے ہی جسم و جاں میں راسخ تھا جسے مجسم  لوح کی شکل میں کیا ہے،یہ جسامت اپنے دامن میں ہمہ رنگ ادبی مواد  مہیا کر رہی ہے۔چھ سو چوالیس صفحات کا یہ جریدہ  ایک طلسمِ ہوش ربا ہے،پڑھتے جائیے اور سحر میں ڈوبتے جائیے۔
پوچھا گیا ممتاز احمد شیخ سے کہ یہ کیا سوجھی؟
جواب ملا،،کارِ دنیا و ادب میں بٹا اور بکھرا ہوا آدمی جو بے سروسامان بھی اور جس کے سر پر ادب کا سائبان بھی موجود نہ تھا۔نا کبھی ادب کی ہانک لگائی نا ادبی ٹھیلہ لے کر گلی گلی کوچہ کوچہ ادبی مزدوری کرنے کی خواہش ابھری۔تو میں سوچتا ہوں کہ،، لوح،،  کا معرضِ  وجود میں آنا کسی معجزے سے کم نہیں۔یہ محض خدائے بزرگ و برتر کی دی ہوئی تحریک اور قوت تھی کہ وہ دلوں میں حرف و لفظ سے محبت کی ارزانی عطا فرما دیتا ہے اور تخلیقی اور تجریدی خاکے وجود میں آتے ہیں۔یہ بھی ایک دھمال رنگ تجریدی مگر فرضی سا خاکہ تھا جو برسوں سے میرے دل کے نہاں خانے میں نمو پا رہا تھا۔یہ تو عشق و عاشقی کا قصہ ہے میی ادب سے تھوڑی بہت جتنی بھی وابستگی اورمحبت ہے اس میں،نیت میں کسی کھوٹ کا کوئی تصور موجود نہیں۔راستے واضح اور متعین ہوں تو منزل عشق کی طرف گام بہ  گام،قدم بہ قدم چلتے رہنا بہت دشوار نہیں رہتاجذبوں کا صادق ہونا شرطِ اولین ہے۔
 پوچھا گیا لوح  میں کیا ہے جو اسے منفرد جریدہ  بناتا ہے؟
جواب ملا،لوح، لفظوں کی بچھی ہوئی بساط ہے اور یہ کوئی تن آسانی کا کام نہیں تھا کہ جو چیز ہاتھ آئی قرطاسِ ابیض پر بکھیر دی۔اس بساط پر بچھنے والی ہر ہر تحریر کو موتیوں کی مالا سمجھ کر کسی ماہر جوہری کی طرح جانچا اور پرکھا گیا۔شامِ شہرِ ہول میں شمعیں جلا دیتا ہے تو میں حمدیہ کلام ہے۔جس کے حصہ دار ہیں،سلیم کوثر،نسیم سحر،پروین طاہر،نورین طلعت عروبہ اور حجاب عباسی۔کرم اے شہِ عرب و عجم کے تحت افتخار عارف،توصیف تبسم،احسان اکبراور سید انور جاوید ہاشمی مدح سرا ہیں۔
محبت جو امر ہوگئی کے عنوان تلے  مادرِ علمی کے لئے محبتیں جمع کی ہیں۔اس کے علاؤہ تکریمِ رفتگاں اجالتی ہے کوچہ و قریہ میں نصیر احمد ناصر نے عبداللہ حسین کو یاد کیا ہے،ڈاکٹر نزہت عباسی نے،،غزالاں تم تو واقف ہو میں ادا جعفری کو یا کیا ہے ساتھ ہی ادا جعفری کی چند غزلیں بھی شامل ہیں۔
پوچھا گیا اس کے علاوہ کیا جمع کیا ہے لوح میں؟ 
جواب ملا،یاد آتے ہیں زمانے کیا کیا میں خود نوشت کا ایک باب تحریر کیا ہے محمد اظہارالحق نے۔ساتھ ہی ہزار قصے سفر میں ملتے ہیں کے عنوان تلے سلمیٰ اعوان نے اپنے تاثرات تحریر کیئے ہیں۔سن تو سہی جہاں میں ہے ترا فسانہ کیا میں 18افسانے پیش کئے ہیں جن میں اسد محمد خان،رشید امجد،سمیع آہوجا۔اے خیام،ابدال بیلا، محمدالیاس،طاہرہ اقبال،محمد حامد سراج،غافر شہزاد،امجد طفیل،خالد فتح محمد،زین سالک،ڈاکٹر انور نسیم،محمد عاصم بٹ،سیمیں کرن،شائستہ فاخری،رابعہالربا اور سبین جسے لکھاریوں کے افسانے شامل ہیں۔
نظم لکھے تجھے ایسے کہ زمانے واہوں،لوح کا یہ حصہ نظموں پر مشتمل
ہے جسے آفتاب اقبال شمیم،کشور ناہید،افتخار عارف،توصیفتبسم،سرمد صہبائی،امجد اسلام امجد،نصیر احمد ناصر،ابرار احمد،ایوب خاور،سعادت سعید،علی فرشی،فرخ یار،سجاد بابر،مقصود وفا،جواز جعفری،سعود عثمانی،اقتدار جاوید،پروین طاہر۔احمد حسین مجاہد،نجیبہ عارف،حسین عابد،ارشد معراج،ثاقب ندیم،منیر فیاض،فہیم شناس کاظمی، رخشندہ نوید،جبار واصف،مصطفی ارباب،ناہید قمر،سعید احمد،الیاس بابر اعوان،شکیلہ شام،فاخرہ نورین،احمد شہر یار،حجاب عباسی،اشرف یوسفی،ثمینہ تبسم،طاہرہ غزل،اکرام بسرا،شازیہ مجید، سرمد سروش،ناز نٹ،بشریٰ سعید،منیر احمد فردوس،ناہید عزمیاور عاصمہ طاہرکی نظموں سے سجایا ہے،
 پوچھا گیااسی مناسبت سے غزلوں کا حصہ بھی ضخیم ہوگا؟ 
جواب ملا،غزل کے میدان میں بھی نئے ناموں کے علاؤہ پرانے لکھنے والے بھی شامل ہیں جیسے ظفراقبال،توصیف تبسم،سحر انصاری،افتخار عارف،سید نصرت زیدی،احسان اکبر،انور شعور،روحی کنجاہی،سرمد صہبائی،محمد اظہارالحق،محمود شام،امجد اسلام امجد،سجاد باہر،نثار ناسک،صابر ظفر،سلطان رشک،ایوب خاور،سلیم کوثر،خالد اقبال 

یاسر،اعتبار ساجد،لیاقت علی عاصم،سید انور جاوید ہاشمی،صغیر احمد جعفری،حمیدہ شاہین،نسیم سحر،اختر شمار،محمد سلیم طاہر،حسن عباس رضا،سعود عثمانی،قمر رضا زہزاد،اسلم گورداسپوری،اجمل سراج،جاوید احمد،ممتاز اطہر،سلمان باسط،مقصود وفا،احمد حسین مجاہد، افضال نوید،محبوب ظفر،شاہین عباس،ظفر علی راجا،زاہد شمسی،فاضل جمیلی،نجیبہ عارف،اشرف سلیم،شکیل جازب،خالد علیم،نرجس افروز زیدی،رضیہ سبحان،محمد ندیم بھابھہ،نشاط سرحدی،نصرت مسعود،اختر رضا سلیمی،حسام حر،افتخار حیدر،تیمور حسن تیمور،ثمینہ یاسمین،،جبار واصف، جنید آذر،شائستہ،حمیرا راحت،نزہت عباسی،کاشف حسین غائر،حماد نیازی،اوصاف شیخ،احمد خیال،شمشیر حیدر،سجاد بلوچ،فیضی،شگفتہ شفیق،اطہر جعفری،ذوالفقار نقوی،ناز نٹ،عاصمہ طاہر،ثبین سیف،سحر حسن،امر مہکی،سائمن ڈیوڈ ضیااور شائستہ سحر،یہ سب آج کے دور کے لوگ ہیں جن کا نیا رنگ،آہنگ اور نیا لہجہ احساس دلا رہا ہے کہ ہمیں  پڑھوہمارا استقبال کرو۔
پوچھا گیا کہ نظم اور غزل کا حصہ  کچھ زیادہ نہیں ہو گیا؟
 جواب ملا،نہیں کوشش یہ رہی ہے کہ نثر اور شاعری کا تناسب برابر رہے،دیکھئیے،18افسانے ہیں،14مضامین ہیں،جنہیں لکھنے والے ڈاکٹر معین الدن عقیل،ڈاکٹر رؤف پاریکھ،عکسی مفتی،ڈاکٹر ناصر عباس نیر،ڈاکٹر اختر شمار،ڈاکٹر اجے مالوی،ڈاکٹر محمد آصف اعوان،ڈاکٹر عابد سیال،ڈاکٹر ناہید قمر،ڈاکٹر عبدالواحد تبسم،ڈاکٹررابعہ سرفراز،سید کامران عباس کاظمی،ڈاکٹر رحمت علی شاد،ڈاکٹر شہاب ظفراعظی ہیں۔اس کے علاوہ نجیبہ عارف کے ناول گرد کے بگولے کی دوسری قسط کے علاوہ تراجم کا حصہ،ڈاکٹر امجد پرویز کا ملکہ ترنم نور جہاں پر مضمون،ایک خاکہ،جسے سلیمان باسط نے لکھا۔
آپ میرے اس کالم سے بور تو نہیں ہو گئے؟
ہم نے ممتاز احمد شیخ سے تو بہت کچھ پوچھ لیا،لیکن یہ تو ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی ہیں جو کہہ رہے ہیں آپ بور تو نہیں  ہو گئے؟ اس کے علاوہ ایک اعلان ہے جو ڈاکٹر صابر بدر جعفری کر رہے ہیں۔ادریس شاہجہانپوری نے لکھا ہے،،دلیری اور دیدہ دلیری،جسے ممتازشیخ صاحب نے مزاح کے زمرے میں شامل کیا ہے۔
لوح،ممتاز شیخ کے تصورات کی حقیقی تشکیل ہے،افسانوں کی ایک کتاب 8سے 10افسانوں پر مشتمل ہوتی ہے یہاں تو دو کتابوں کا مواد یکجا کر دیا گیا گیا ہے۔اس میں مضامین کی بھی ایک کتاب موجود ہے،ساتھ ہی ساتھ نظم و غزل کی بھی کم از کم ایک ایک کتاب موجود ہے،اس لحاظ سے پانچ کتابوں  جتنے مواد پر مشتمل اس شمارے کی قیمت صرف پانچ سو روپے رکھی گئی ہے۔

اتوار، 18 اکتوبر، 2015

سلام یا حسین ۔۔۔ عقیل عباس جعفری

عقیل عباس جعفری
کربلا کوئی فسانہ نہ فسوں ہے ، یوں ہے
یہ تو اک سلسلہ کن فیکوں ہے یوں ہے
میرے دل سے بھی گزرتی ہے کوئی نہر فرات
میری آنکھوں میں جو یہ موجہ خوں ہے ، یوں ہے
ذکر آیا تھا ابھی حضرت زینب کا کہیں
’’ تو نے پوچھا تھا نمی آنکھ میں کیوں ہے ، یوں ہے‘‘
قیمت خلد ہے اک اشک عزائے شبیر
اب کوئی لاکھ یہ کہتا رہے یوں ہے ، یوں ہے
ان کی کوشش غم شبیر فنا ہوجائے
اور یہ غم کہ فزوں اور فزوں ہے، یوں ہے
پھر ہوئے مجھ کو عطا حرف پئے مدح و سلام
ان پہ روشن مرا احوال دروں ہے ، یوں ہے
قبر میں ہوگی زیارت مجھے مولا کی عقیل
موت جو میرے لیے وجہ سکوں ہے ، یوں ہے

بدھ، 14 اکتوبر، 2015

صبیحہ صبا نے،دل درد آشنا، میں زندگی کے بے شمار رنگوں سے اپنی شاعری کو سنواراہے ۔۔ ڈاکٹر نزھت عباسی

صبیحہ صبا کا نام  ذہن میں آتے ہی  بادِ صبا کے خوشگوار، خوشبودار جھونکے کا احساس ہوتا ہے۔ وہ اپنے نام کی طرح صبیح بھی ہیں اور صبا بھی، لطافت و نفاست ان کی شخصیت کا خاصا ہے۔ 
وہ ایک خوش جمال، خوش خصال، خوش فعال، خوش مقال خاتون ہیں، شاعری ان کی فطرت میں رچی بسی ہے اور ان کی شخصیت کا تعارف اور بنیادی حوالہ قرار پاتی ہے۔ ان کی شاعری ان کی خوبصورت شخصیت اور خوبصورت فکر کا اثبات ہے۔ صبیحہ صبا صاحبہ ادبی لحاظ سے بہت فعال ہیں۔ اردو منزل ڈاٹ کام کی مدیرہ اعلیٰ ہیں۔ پانچ شعری مجموعے ان کی پختگیء فن کا شاہکار ہیں۔ ہر شعری مجموعے کا رنگ زندگی کے متنوع رنگوں کی طرح مختلف ہے۔ 
انہوں نے زندگی کے بے شمار رنگوں سے اپنی شاعری کو سنواراہے۔ 
ڈاکٹر نزھت عباسی

علامہ اقبال نے تو وجودِ زن کو تصویرِ کائنات کے لیے لازمی قرار دیا، اور آج جبکہ زندگی کے ہر شعبے میں خواتین نمایاں کام کررہی ہیں، آج کی عورت زندگی کے ہر شعبے میں اپنی لازمیت بغیر کسی نسائی تحریک کے درج کروا چکی ہے۔ 
تخلیقِ ادب اظہارِ ذات و کائنات و تشکیل و تعمیرِ ذات و کائنات ہے۔ اور جب ہم اس ضمن میں یعنی اردو کی نسائی شاعری کے حوالے سے بات کریں تو ادا جعفری، پروین شاکر سے لے کر عہدِ حاضر میں فہمیدہ ریاض، کشور ناہید،ڈاکٹر فاطمہ حسن، شاہدہ حسن سے لیکر صبیحہ صبا تک ،میں سمجھتی ہوں کہ سکہّ رائج الوقت کا درجہ پاچکی ہیں، فکر اور اسلوب سے انفردیت پیدا کی ہے۔ 
ہماری اردو شاعری کی تاریخ عورتوں کی شاعرانہ فکر سے آراستہ ہے۔ ہمارے استحصالی معاشرے میں جب بھی اسے موقع ملا اس نے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور میں سمجھتی ہوں کہ اکیسویں صدی کی عورت جتنی تعلیم یافتہ اور باشعور ہے اس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہیں تھی۔ صبیحہ صبا بھی ان خواتین میں ہیں جو آج کے زمانے کی عورت کی فکر کو سامنے لارہی ہیں۔وہ عورت کو ایک نسائی اور معاشرے کا  فرد سمجھتے ہوئے اس کے تشخص اور اسکی نفسی انفرادیت کو تسلیم کرواتی ہیں۔
             سو کھل جاتے ہیں سارے بھید مجھ پر
             میں جب دل کا دریچہ کھولتی ہوں 
ان کی شاعری کی عورت ایک ذہین اور باشعور عورت ہے جس کے اپنے تجربات اور مسائل ہیں، روحانی تنہائیاں اور احساسات و جذبات کی شکستگی بھی۔ 
             صلیبِ وقت پر لٹکی ہوئی ہوں 
                میں اپنا درد خود سے بانٹتی ہوں 

               یہ میرا وقت میرا آئینہ ہے 
               میں اس حیرت کدے میں جھانکتی ہوں  

              کسی کی ذات کی یہ کرچیاں ہیں  
               میں انسانوں کو ٹوٹا دیکھتی ہوں  
انہوں نے صرف  عورت ہی کے ذہنی اور روحانی کرب کو پیش نہیں کیا بلکہ وہ اپنے عہد کے حالات سے بھی بخوبی واقف ہیں، اپنی تہذیب، معاشرت، سیاست، قومی و بین الاقوامی معاملات و مسائل سے بھی آگاہ ہیں۔ ایک وسیع دنیا ان کے سامنے ہے۔ اور ان کی بصیرت و بصارت بہت گہری ہیں۔ 
               میرے ماحول میں جو تلخی ہے  
               اس کا سارا وبال غزلوں میں 
میں صبیحہ صبا کو اس لحاظ سے خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ انہیں اپنے شریکِ حیات صغیر احمد جعفری کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، ورنہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اگر ایک گھر میں شوہر کے ساتھ بیوی بھی ادب سے وابستہ ہو تووہ کوفت محسوس کرتے ہیں بلکہ  بیوی اگر شوہر سے اچھا لکھ رہی ہو تو وہ حسد محسوس کرتے ہیں بلکہ اس کی برتری تسلیم ہی نہیں کرتے، مرد بیوی کی ادبی آزادیوں کو پوری طرح قبول نہیں کرتے۔ ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ مگر دوسری طرف صبیحہ صبا اور صغیر احمد جعفری کی بھی مثال ہے۔

صبیحہ صبا کی فکر کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ صرف یہ نہیں کہ وہ عورت ہیں تو اسی حوالے سے بات کریں۔ وہ انسان اور انسانیت پر صدیوں سے رکھے جانے والے ظلم و ستم اور جبر و استحصال کے خلاف بھی آواز بلند کرتی ہیں۔

                جھلسی ہوئی اک درد کی ماری ہوئی دنیا
                اک درد کے آسیب سے ہاری ہوئی دنیا 
                قدرت نے سجایا تھا اسے لالہ و گل سے 
              کیا ہم نے دیا جب سے ہماری ہوئی دنیا 

              سفاکی کا زہر انڈھیلا  جاتا ہے 
              انسانوں کے خون سے کھیلا جاتا ہے 

             غریب  ِ شہر کی کیا داستاں ہے 
              وہ کھائے غربتوں کی مار خالی 

              اندھا راج نہ ڈھائے ظلم زمانے پر 
              دل میرا ہر روز دہائی دیتا ہے  
شاعرہ کے ان افکار سے پتہ چلتا ہے کہ وہ معاشرے میں صدیوں سے لاچار و مجبور انسانوں کا دکھ کتنی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ معاشرہ ہر کمزور اور بے بس انسان کو خون کے آنسو رلاتا ہے۔ ہر جگہ گھر، معاشرہ، ملک اور بین الاقوامی طور پر جابرانہ اور استحصا لی عنا صرانسانیت کو شکار کرتے ہیں، ان سے جینے کا حق چھین لیتے ہیں۔ ان حقیقتوں سے آشنائی ان کے دل کو درد آشنا کردیتی ہے۔ وہ اپنی ذات کے نہاں خانوں سے نکل کر دنیا کی وسعتوں سے ہم کنار ہوتی ہیں،دردِ انسانی نے ان کے دل کو کتنا وسیع کر دیا ہے۔آگہی کی یہ مسافت ان کی فطری حساسیت کے ساتھ آمیز ہوکربے حس معاشرے پر دل گرفتہ ہے۔وہ نہ صرف سماج کی جبریت،تہذیبی ومعاشرتی مسائل اور معاملات کو بیان کرتی ہیں۔بلکہ سامراجی قوتوں، منافقتوں، دہشت گردی،ریاکاری، فرقہ پرستی، اخلاقی اقدارکے زوال کا بھی نوحہ پڑھتی ہیں ان کی شاعری میں موضوعات کی وسیع فکری دنیاموجود ہے۔  عصرِ حاضر میں ہونے والے سارے واقعات  و حادثات پر ان کی گہری نظر ہے۔اور یہ ان کے شعور و وجدان کا تجربہ بن کر ان کے تخلیقی عمل میں جذب ہوکرشعر کی صورت  میں ہمارے سامنے آتے ہیں وہ اپنی تخلیقی شاعری میں نت نئے رنگ بھر رہی ہیں۔
کیا یہ دنیا برائے دنیا ہے
یا کوئی انتہائے  دنیا ہے
ان کا ٖغزلیہ آہنگ بہت مترنم ہے  چھوٹی اور طویل بحروں میں یکساں موسیقیت اور نغمگی ہے۔
جو سبھی کے دل پہ گذری وہ سبھی ہے اس میں لیکن
میری داستاں الگ ہے میری داستاں کے اندر
وہی میری وجہ عروج تھا وہی میری وجہ زوال تھا
وہی وجہ رنگ ِ طرب رہا۔ وہی وجہ رنگِ زوال تھا
وطن سے محبت کا اظہار بھی کئی جگہ موجود ہے۔یہ پردیس میں رہنے والوں کا ایک سچا جذبہ ہے۔جو صبیحہ صبا کے کلام میں بھی نظر آتا ہے
وطن سے مہر و وفا،جسم و جاں کا رشتہ ہے
وطن ہے باغ تو پھر باغباں کا رشتہ ہے
وطن سے دور رہیں یا وطن میں بس جائیں 
یہ مہر باں سے کسی مہر باں کا رشتہ ہے
وطن پرجان نثار کرنے والے شہیدوں کے بارے میں لکھتی ہیں 
وہ سرحدوں کے مسافر وہ آبروئے وطن
 وہ جاں نثار گئے،جاں نثار کرتے ہوئے
صبیحہ صبا کی شاعری احساس دلا رہی ہے۔ اور یہ باور کرا رہی ہے کہ اگر ہم اپنے بدلتے ہوئے گردو پیش، عالمی سطح پر وقوع پذیر ہونے والی انفرادی اور اجتماعی تبدیلیوں کو سمجھنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے انسانی ردعمل کو بھی پرکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں عورتوں کی جداگانہ تخلیقی آواز،ان کے طرز فکر اور طرز احساس کو بطور خاص اہمیت دینی ہوگی۔
  
       


منگل، 13 اکتوبر، 2015

روشنی کی تجلی نے کہا کہ ریاض ندیم نیازی نے نعت کے وسیلے سے نورِ اول کے مظاہر کو بڑی محنت اور احتیاط سے شعر کے قالب میں ڈھالا ہے


خود بھیجتا ہے آپ پہ اللہ بھی درود
لکھا ہوا ہے صاف خدا کی کتاب میں 
یہ شعر ریاض ندیم نیازی کی  ہدیہ ہایئے نعت کے مجموعے،،جو آقا کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں،، سے مآخذ ہے،جو اس بات کا اظہار بھی ہے کہ نعت  کہنے کا آغاز کب سے ہوا۔
نعت گوئی سنتِ خدا ہے،سب سے پہلے اپنے محبوب کی تعریف خود اللہ تعالیٰ نے کی۔روایات کی رو سے نعت کی روایت کا آغازاس وقت ہو گیا تھاجب حضرت آدم کی تخلیق ہوئی۔آدم نے نورِ محمدی کو دیکھ کر پوچھا کہ اے میرے رب یہ کیسا نور ہے تو ارشادِ باری ہوا کہ یہ نور اس نبی کا ہے جو تیری اولاد میں سے ہو گا۔

اس نور نے،اس روشنی نے دنیا کی ظلمتوں کو صبحِ درخشاں کا جمال بخشا۔اسی روشنی سے مہرو ماہ نے اکتساب کیا،اسی روشنی نے آیئنہ ِ کائنات کو آب بخشی،اسی روشنی میں کن فکان کا باب کھلا۔اسی روشنی سے تخلیق کے عمل کا آغاز ہوا  گویا نورِ اول ہی خدا،انسان اور کائنات کی معرفت کا وسیلہ ہے یہی نور شعور و آ گہی ہے۔
روشنی کے سب حوالے آپ سے ہیں منسلک
دن تو دن ہیں،نور سے راتیں درخشاں ہو گئیں 
ریاض ندیم نیازی کا نعتیہ مجموعہ،،جو آقا کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں،، نظر نواز  ہوا تو روشنی کی تجلی نے کہا کہ ریاض ندیم نیازی نے نعت کے وسیلے سے نورِ اول کے مظاہر کو بڑی محنت اور احتیاط سے شعر کے قالب میں ڈھالا ہے۔ وجہِ تخلیقِ کائینات کے معجزات و کمالات کو تخلیق کے کینوس پر اس طرح پینٹ کیا ہے کہ حسن،تقدس اور رفعت کے سارے معیار  بھی قائم رہیں اور مدحت کا حق بھی ادا ہو جائے۔ شاعر کا عقیدہ ہے کہ وہ نورِ اول کی مدح سراہوں  کی اس  صف میں کھڑا ہے جس کی ابتدا رب کریم نے خود کی پھر آنحضرت کے اس دنیا میں آنے سے ایک ہزار سال پہلے یمن کے بادشاہ تبع اول حمیری نے ثنا خوانی کی،حضور کے ایک بزرگ حضرت کعب بن لوی(حضور کی ولادت سے560سال قبل)نعتیہ اشعار کہہ گئے،آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ نے آپ کو حضرت حلیمہ سعدیہ کے سپرد کرتے ہوئے آپ کی تعریف کو شعر کی زبان دی۔اللہ اللہ کیا رتبہ ہے حضور کی مدحت کرنے والوں کا۔ورقہ بن نوفل جو انجیل کا جلیل القدر عالم تھا، جب نزول ِ وحی کا واقعہ سنتا ہے تو بے ساختہ حضور کی شان میں تیرہ اشعار کہہ دیتا ہے،مدحت رسول کہنے والوں میں کھڑے ریاض ندیم نیازی نعت کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
خود خدا کرتا ہے قرآن میں مدحت ان کی
اس لئے نعت کو تائیدِ خدا کہتے ہیں 
نعت وہ لفظ ہے جسے شیرِ خدا علیِ مرتضیٰ نے سب سے پہلے رسولِ خدا سے منسوب کیا۔
ریاض ندیم نیازی شعورِ نعت کو نورِ اول کی نظرِ کرم کا معجزہ سمجھتے ہیں۔
جب سے لفظوں میں بسایا آپ کا حسنِ خیال
ذکر ہوتا ہے زمانے میں مری تحریر کا
ایک اور خصوصیت اس مجموعے کی یہ ہے کہ غالباََ ریاض ندیم نیازی وہ تیسرے شاعر ہیں جنہوں نے دیوانِ غالب کی زمینوں میں پورا مجموعہ لکھ دیا۔بحروں کی حد تو یہ زیادہ مشکل کام نا تھا اس لئے انہوں نے اپنے موضوعاتِ فکر اور طرزِ اظہار کو ویسا ہی رکھا جو ان کے شعری مزاج کا حصہ ہیں البتہ  قوافی اور ردیف کا استعما ل ایک کٹھن مرحلہ تھاجسے ریاض ندیم نیازی نورِ اول کی نظرِ کرم سے نہایت آسانی سے نبھا گئے۔
ہے نعت ندیم آج یہ غالب کی زمیں میں 
اندازِ بیاں اس کا ان اشعار میں آوے
ان سے پہلے ایاز صدیقی جن کا تعلق ملتان سے ہے غالب کی زمینوں میں نعتیں کہہ گئے جو،،ثناٗے محمد،، کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئیں اس کے علاوہ بشیر حسین ناظم مرحوم نے غالب کی زمینوں میں ہدیہ ِ نعت کی سعادت حاصل کی جو،،جمال جہاں فروز،، کے نام سے کتاب بند ہوئیں۔
ممدوح سے محبت اور اس اس کی توصیف کے کئی محرکات ہو سکتے ہیں۔جناب رسالت مآب کے جمال کی مصوری کوئی آسان کام نہیں ہے۔جمالِ صورت ہو یا جمالِ سیرت،اسے شعر کی روشن سطح سے منعکس کرکے قاری کے دل کی سلیٹ پر اتارنا کمالِ فن کا مطالبہ کرتا ہے۔ریاض ندیم نے اپنے ممدوح کے جمالِ خفی و جلی کا بیان بڑے محتاط انداز اور دل پزیر اسلوب و پیرائیہ میں کیا ہے۔
کیا شان ہے رسولِ خدا کے جمال کی
وہ جس طرف گئے ہیں ہر اک شے نکھر گئی
دونوں جہاں کی جس میں سمائی تھیں وسعتیں 
ان کی نگاہِ لطف سے جھولی وہ بھر گئی
ریاض ندیم نیازی کے اس سے پہلے بھی نعتیہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں،،خوشبو تری جوئے کرم،، ہوئے جو حاضر درِ نبی پر،،اور بحرِ تجلیات،، شامل ہیں 
ان مجموعوں اور زیرِ مطالعہ مجموعے سے ان کی فکر کی گیرائی،سوچ کی گہرائی،خیال کی وسعت،تخیل کی بلند پروازی،خیال کو الفاظ کے گلدستے میں سجا کر پیش کرے کا سلیقہ سامنے آتا ہے۔نور ِ اول سے ان کی عقیدت نے ریاض ندیم کی نعتوں میں والہانہ پن پھر دیا ہے
ندیم اتنا بڑا اعزاز مجھ کو ہو گیا حاصل
خدا کا شکر،میں مداح ہوں ممدوحِ یزداں کا

منگل، 6 اکتوبر، 2015

ہم پاکستان میں مہذب کیوں نہیں ہوتے؟ ۔دیکھا تیرا امریکہ ۔۔قسط ۔ 8

 میسی اور دوسرے سٹورز


ہمیں امریکہ آئے پندرہ دن ہو گئے تھے۔عدیل آفس چلا جاتا تھا اور ہم اس کی واپسی تک گھر پر ہی ہوتے تھے زیادہ سے زیادہ ڈاؤن ٹاؤن کا چکر لگا آتے تھے۔عدیل کا آفس چونکہ گھر سے چند قدم کے فاصلے پر تھا اس لئے وہ پیدل چلا جاتا تھا۔گاڑی گھر پر ہی ہوتی تھی۔رات کے کھانے پر عدیل نے رابعہ سے کہا کہ تم امی پاپا کو گھمانے لے جایا کرو۔
رابعہ نے کہا،،امی ابو آپ تیار رہیئے گا کل گھومنے چلیں گے۔
صبح میں جلدی اٹھ گیا،دیکھا تو بیگم صاحبہ نماز پڑھنے میں مصروف تھیں،اوہ،میں نے اٹھ کر کھڑکی کا کرٹن ہٹا کر باہر دیکھا،فجر کا وقت ہو گیا تھا،باہر کے موسم سے کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا،شاید آئی پیڈ پر وہاں کے وقت کے مطابق آذان ہوگئی تھی۔میں نے بھی نماز پڑھنے کا سوچا اور باتھ روم میں چلا گیا،ناشتے کے بعد عدیل آفس چلا گیا۔آج ہمارا رابعہ کے ساتھ باہر جانے کا پروگرام تھا۔
،،آج میں آپ کو دو سٹوروں پر لے جاؤں گی،،
رابعہ نے کہا
،،ٹھیک ہے،،
میں نے عنایہ سے کھیلتے ہوئے کہا
،،پھر حلال سٹور بھی چلیں گے،گوشت اور چکن لانا ہے،عدیل واپسی پر روز لانا بھول جاتے ہیں،،
رابعہ نے پھر کہا
،،یہ حلال سٹور کیا ہے،،
میں نے پوچھا
،،ابو یہ دراصل کراچی کے دو بھائیوں کا سٹور ہے،تھوڑے فاصلے پر ہے،ایک تو وہاں سے ہمارے دیسی مصالحہ جات مل جاتے ہیں،دوسرے حلال مٹن اور چکن مل جاتا ہے۔اسی مناسبت سے انہوں نے سٹور کا نام حلال سٹور رکھا ہے۔یہاں دور دور رہنے والے مسلمان مہینے بھر کی گروسرییہاں سے لے جاتے ہیں،میں بھی گوشت مرغی اسی سٹور سے لاتی ہوں،،
رابعہ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا
یہاں امریکہ میں یہودی بھی بڑی تعداد میں ہیں۔یہودی حلال گوشت کھاتے ہیں،جسے کوشر کہتے ہیں۔مچھلی تو مارکیٹ سے عام مل جاتی ہے۔یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
،،چلو حرام حلال کا مسئلہ تو حل ہوا ورنہ مشکل ہو جاتی،،
میں نے ہنس کر کہا
امریکی سور کا گوشت کھاتے ہیں جسے پورک کہتے ہیں،بھینس اور بکرے کا گوشت کم ہی استعمال کرتے ہیں۔مارکیٹ میں گوشت کی دکانوں پر پورک عام پڑا ہوتا ہے۔بھینس اور بکرے کا گوشت ہو بھی تو حلال نہیں ہوتا جھٹکے کا ہوتا ہے کیونکہ ان میں ہماری طرح حلال حرام کا کوئی تصور نہیں ہے۔اس لئے مسلمانوں کو محتاط  ہونا پڑتا ہے۔اور اب حلال گوشت کی مسلمانوں کی دکانیں کھل جانے سے لوگوں کو کچھ سکون ہو گیا ہیکہ انہیں حلال گوشت مل جاتا ہے۔
میں نے رابعہ سے کہاکہ حلال سٹور تو جانا ہی ہے،موٹا کٹا ہوا قیمہ بھی لے لیں گے۔رابعہ کہنے لگی
،،ابو یہاں ایسے نہیں ملتا،وہ لوگ کہتے ہیں قیمہ کے لئے پوری ران لیں پھر قیمہ بنا کر دیں گے،،
میں نے کہا
،،تو ٹیلی فون پر کہہ دو،جب دوسرے سٹور جہاں تم لے جارہی ہو،وہاں گھوم لیں گے تو واپسی پر قیمہ لے لیں گے،،
رابعہ نے ٹیلی فون پر قیمے کا کہہ دیااور میری فرمائش پر اسے یہ بھی کہہ دیا کہ موٹے قیمے والے بلیڈ لگا کر قیمہ بنایئے۔آج نجانے کیوں کھڑے مصالحے کا قیمہ کھانے کا دل کر رہا تھا۔شاید پاکستان یاد آ رہا تھا۔
گاڑی اپارٹمنٹس کے نیچے پارکنگ ایریا میں کھڑی تھی لفٹ نے ہمیں نیچے پارکنگ ایریا میں پہنچا دیا۔
ہم باتیں کرتے ہوئے گاڑی کے پاس آگئے۔رابعہ نے گاڑی کھولی،پچھلی سیٹ پر نصب بے بی سیٹ پر عنایہ کو بٹھایا پھر اس کی سیٹ بیلٹ باندھی،اس کے ساتھ والی سیٹ پر اس کی دادی بیٹھ گئیں۔پھر رابعہ ڈرائیونگ سیٹ پر آن بیٹھی۔دوسری طرف کا دروازہ میرے لئے کھول دیا،میں بھی سیٹ پر بیٹھ گیا۔رابعہ اپنی سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے میری طرف دیکھ کر بولی
،،ابو سیٹ بیلٹ باندھ لیں،،
،،کیوں؟تم نے باندھ تو لی ہے،کیا ضروری ہے، میں بھی بیلٹ باندھوں،پاکستان میں تو نہیں باندھتے،،
میں نے کہا
،،ابو،آپ امریکہ میں ہیں،پاکستان میں نہیں۔یہاں بیلٹ باندھنا قانوناََ ضروری ہے،،
رابعہ نے وہی سبق دھرایا جو عدیل نے ائیرپورٹ پر ہمیں ریسو کر کے گھر لاتے ہوئے ہمیں پڑھایا تھا۔
،،یہ ٹوں ٹوں کی آواز کیوں آ رہی ہے گاڑی میں سے،،
میں نے رابعہ سے پوچھا
،،اس لئے کہ آپ نے ابھی تک بیلٹ نہیں باندھی،گاڑی میں جو سسٹم نصب ہے،وہ یاد دھانی کراتا ہے کہ بیلٹ پہن لیں،،
رابعہ نے ہنس کر کہا
میں نے کندھے کے اوپرسے بیلٹ لا کر سینے کے اوپر سے لے جا کر اس کا ہک لگا دیا اور گاڑی میں سے ابھرنے والی ٹوں ٹوں کی آواز بند ہو گئی اور ڈیش بورڈ پر بلنک کرتا سرخ نشان بھی بجھ گیا۔
،،یاد رکھیں جب بھی گاڑی میں بیٹھیں،یہ بیلٹ لگانا ضروری ہو گا،،
،،اچھا اچھا ٹھیک ہے،،
رابعہ نے گاڑی سٹارٹ کی، پارکنگ لاٹ سے نکالی۔یہ ٹوون ٹاور کا پارکنگ ایریا تھا جہاں پر ہر فلیٹ کے مکینوں کو جگہ مخصوص ر دی گئی تھی۔اس وقت ایک دو گاڑیاں ہی کھڑی تھیں کیونکہ لوگ اپنے اپنے کام اور اپنی اپنی نوکریوں پر جا چکے تھے۔ وقت کی پابندی یہاں لازمی امر ہے اور لوگ اس کی پاسداری کرتے ہیں۔
عدیل کا فلیٹ چونکہ ڈاؤن ٹاون کی میں سڑک پر واقع ہے اورنزدیک ہی فائر بریگیڈ کا آفس ہے اس لئے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ہر وقت شور مچاتی ہوئی گذرتی ہیں۔
ہم سڑک پر آگئے،بائیں جانب سے گھوم کر ہم مین سڑک پر آئے،سڑک کے دونوں طرف عمارتیں، کناروں پر چلنے کے لئے اینٹوں کے بنے خاصے چوڑے فٹ پاتھ،ترتیب سے بنے صاف ستھرے اپارٹمنٹس بڑے خوبصورت لگ رہے تھے،سڑکیں صاف ستھری جیسے دھلی ہوئی ہوں،فضا صاف شفاف،دھول نا مٹی،نا گاڑیوں کا دھواں اور نا ہی ہارنوں کی بے ربط آوازیں حالانکہ بیشمار گاڑیاں آ جا رہی تھیں۔
چھوٹی سڑکیں پار کر کے رابعہ ہائی وے پر آ گئی۔وہ ہمیں امریکہ کے مشہور سٹور میسی پر لے جا رہی تھی۔میسی سٹور،ویٹن مال میں واقع ہے جہاں کئی اور سٹور بھی ہیں۔

رابعہ نے گاڑی میسی کے سامنے ایک وسیع و عریض پارکنگ لاٹ میں لا کھڑی  کی۔میں گاڑی سے باہر نکل کر اس پارکنگ پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی۔صاف ستھرا پارکنگ لاٹ جہاں زمین پر سفید رنگ سے لائینیں بنی ہوئی تھیں۔دو لائینوں کے درمیان گاڑی کھڑی کرنا ہوتی ہے۔بے ترتیبی سے کوئی گاڑی کھڑی نہیں کر سکتا۔ہر کوئی سفید لائنوں کے درمیان چھوڑی جگہ پر گاڑی پارک کرنے کا پابند ہوتا ہے۔سٹوروں کے سامنے معذوروں کی گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ مخصوص ہوتی ہے وہاں صرف معذور لوگ جن کے پاس باقاعدہ سرٹیفیکیٹ ہو گاڑی کھڑی کر سکتے ہیں۔میں نے یہ بھی دیکھا کہ دور دور تک کہیں کوئی کاغذ کا ٹکڑا تک نظر نہیں آ رہا تھا،کہیں پاؤں سے مسلی ہوئی کوئی سگریٹ نہیں تھی،کوئی پھل،کوئیچھلکا،کوئی لفافہ،کسی چاکلیٹ کی ریپنگ،کچھ بھی نا تھا۔کہیں پھٹے ہوئے اخبار کے ٹکڑے نا تھے،کوئی مومی لفافہ ہوا سے ادھر سے ادھراڑ نہیں رہا تھا،کوئی کوک کا ٹن پیروں کی ٹھوکروں میں نہیں آ رہا تھا،کوئی جوس کا خالی ڈبہ پڑا دکھائی دے رہا تھا۔
معذوروں کی گاڑیون کے لئے مخصوص جگہیں اکثر خالی نظر آرہی تھیں کیونکہ یہاں کسی بھی حال میں عام آدمی گاڑی کھڑی نہیں کرتا چاہے پاکنگ لاٹ میں کتنا ہی رش کیوں نا ہو۔
میں وہاں کھڑا سوچ رہا تھاکہ ہمارے ملک میں ایسی بات کیوں نہیں ہے،گاڑیاں جہاں بھی کھڑی کی جاتی ہیں۔بے ترتیبی  سے کوئی آگے کھڑی کر دیتا ہے کوئی پیچھے۔بعض اوقات تو ایسے گاڑی کھڑی کی جاتی ہے کہ گاڑی نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ان گاڑیوں کے مالکان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ ان کی وجہ سے دوسروں کو کتنی تکلیف ہو رہی ہے۔
یہاں امریکہ میں کیا خوبصورت نظام ہے۔نا کسی کو تکلیف نا پریشانی۔گاڑی کھڑی کی،کام کیا،شاپنگ کی اور آرام سے بغیر کسی تکلیف کے گاڑی نکال کر لے گئے۔حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ لوگ،جو پاکستان میں قانون کو خاطر میں نہیں لاتے یہاں بلاچوں چرا وہی کرتے ہیں جو قانون کہتا ہے۔گاڑی سیٹ بیلٹ باندھے بغیر نہیں چلاتے۔حدِرفتار کاخیال رکھتے ہیں۔اشاروں پر رکتے ہیں چاہے اردگرد دیکھنے کوئی نا ہو۔ گاڑی پارکنگ لاٹ میں دو سفید لائینوں کے درمیان اس طرح کھڑی کرتے ہیں کہ سفید لائن پر گاڑی کا پہیہ نہیں آتا،یہ معمولی معمولی سی باتیں ہیں جن پر عمل کرنا مشکل کام بھی نہیں پھر بھی ہمارے ہاں لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے۔اصولوں کو توڑنا،قانون شکنی ہمارا شیوہ کیوں بن گیا۔بہ حیثیت قوم یہ کتنی معیوب بات ہے۔آخر یہاں بھی تو یہ لوگ ہیں۔ کس قدر شفاف نظام چلا رہے ہیں۔صفائی اور قانون کے احترام نے مجھے سوچنے پر مجبور  کر دیا تھا۔
،،ابو چلیں،،
رابعہ نے مجھے محو دیکھ کر کہا۔
رابعہ،بوٹ(پاکستان میں ڈکی) سے عنایہ کا سٹولر نکال کر عنایہ کو اس میں بیٹھا کر مجھ سے مخاطب تھی۔
،،ہاں ہاں چلو،،
میں نے محویت سے نکلتے ہوئے کہا
ہم میسی سٹور میں داخل ہوئے۔اتنا بڑا سٹور جو ایکڑوں پر محیط ہے میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔یہاں کیا کچھ نہیں تھا، مختلف چیزیں بڑے سلیقے سے سجی ہوئی تھیں۔ایک ایک حصہ ہمارے سنٹورس سٹور سے بڑا تھا۔کہیں کراکری تھی،قیمتی کرسٹل کے برتن، ڈیکوریشن کی جگمگاتی چیزیں،چمکتی دمکتی کٹلری،کوئی حصہ زنانہ لباسوں کے لئے مختص تھا،کہیں مردانہ قمیضیں اور سوٹ تھے،کوئی کھلونوں کا حصہ تھا تو کہیں ہر قسم کے جوتے ریکوں میں سجے تھے اور بے شمار چیزیں تھیں۔اوپر بھی اتنا ہی طویل و عریض علاقہ تھا ایسکیلیٹر سے لوگ اوپر جا رہے تھے،نیچے آ رہے تھے۔ایک طرف لفٹ بھی استعمال ہو رہی تھی جن لوگوں کے ساتھ سٹولر ہوتے ہیں وہ لفٹ ہی استعمال کرتے ہیں۔

لوگ شاپنگ میں مصروف تھے،کاؤنٹر پر زیادہ تر لیڈیز کھڑی تھیں،کمپئیوٹر سے قیمتیں لگائی جا رہی تھیں۔لوگ سامان خرید کر آ جا رہے تھے لیکنکیا مجال جو شور شرابہ ہو یا دھکم پیل ہو،کاونٹروں پر لوگ اپنا سامان اٹھائے قطاروں میں نظر آ رہے تھے۔باری آنے پر سیل گرل کے سامنے رکھ رہے تھے،بل ادا کر رہے تھے اور اپنی راہ لے رہے تھے۔
ہم نے میسی نے بیشتر حصے دیکھ لئے۔اوپری منزل پر فوڈ کورٹ بھی تھی،کھانے پینے کی دکانیں۔اتنا بڑا میسی دیکھتے دیکھتے بہت وقت لگ گیا۔رابعہ کہنے لگی فوڈ کورٹ سے کھانا کھا لیتے ہیں لیکن ہم نے کہا کہ عنایہ کو فرائز لے دو،کھانا ہم گھر چل کر کھائیں گے۔اس وقت تک عدیل بھی واپس آ گیا ہوگا۔
رابعہ نے کہا 
،،جیسی آپ کی مرضی،،
پھر رابعہ کہنے لگی کیوں نا اب ساتھ والے مآل میں چلیں۔لیکن ہم نے کانوں کو ہاتھ لگائے کیونکہ میسی اتنا بڑا مآل ہے کہ اس کا ایک چکر لگا کر ہی ہم تھک گئے تھے۔ہم نے رابعہ سے کہا،،آج نہیں پھر کسی دن آئیں گے،آج بہت تھک گئے ہیں،،۔
ہم باتیں کرتے کرتے باہر نکل آئے،چار بج گئے تھے،سٹور میں گھومتے پھرتے وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔وہاں سے ہم حلال سٹور آئے قیمے کا پیکٹ پکڑا اور گھر کو چل دئیے،گھر پہنچتے پہنچتے پانچ بج گئے۔میں خاصا تھک گیا تھا،گھر پہنچتے ہی صوفے پر نیم دراز ہو گیا۔ہماری بیگم اور رابعہ اپنی شاپنگ دیکھنے لگیں۔

اتوار، 4 اکتوبر، 2015

دهوپ کے سائباں میں رہتے ہوئے ، سایہء سائباں سے ڈرتے ہیں ۔۔ علی رضا خان

علی رضا خان
کب کسی بد گماں سے ڈرتے ہیں
مگر اس مہرباں سے ڈرتے ہیں
ایک لمحے کابهی زیاں ہے بہت
اور ہم اس زیاں سے ڈرتے ہیں
دهوپ کے سائباں میں رہتے ہوئے
سایہء سائباں سے ڈرتے ہیں
آب و آتش کا اعتبار ہی کیا
اپنے ہی جسم و جاں سے ڈرتے ہیں
کہیں اپنی نظر ٹهہرتی نہیں
وسعت بے کراں سے ڈرتے ہیں
جس میں ہونے کا ڈر نکل آئے
ایسے کنج اماں سے ڈرتے ہیں
پاوءں جن کے زمیں پہ ٹکتے نہیں
کیوں وه مجهہ خاک داں سے ڈرتے ہیں
ہم زمیں کے حصار میں رہ کر
جانے کیوں آسماں سے ڈرتے ہیں

لایا ہوں میں نکال کے چشمِ گماں سے اشک ۔۔ ڈاکٹر عاصم واسطی

عاصم واسطی
موجود بے وجود سے پیدا کرے کوئی
مانیں اُسے خدا اگر ایسا کرے کوئی
انبوہِ بیکراں ہے مقامِ حصول ہے
کتنا دراز دستِ تمنا کرے کوئی
لایا ہوں میں نکال کے چشمِ گماں سے اشک
اِس قطرۂ نہال کو دریا کرے کوئی
مانا کہ تو نے کی ہیں زمینیں ہزار خلق
دیکھیں کسی زمین کو دنیا کرے کوئی
جب تک نہ ارد گرد ہوں خود خیز آئنے
ممکن نہیں کہ اپنا تماشا کرے کوئی
وحشت میں ہو گریز جراحت سے کس لیے
ہے زخم، زخمِ عشق تو گہرا کرے کوئی
ممکن نہیں ہے وسعتِ بے حد سمیٹنا
کیونکر حسابِ تنگئی صحرا کرے کوئی
کارِ جہاں، عبادتِ کامل، نمازِ عشق
اِتنے قلیل وقت میں کیا کیا کرے کوئی
عاصمؔ نشاطِ اجر ہے احسان سے کشید
ہرگز بُرا نہیں اگر اچھا کرے کوئی

جمعہ، 2 اکتوبر، 2015

لیورے کیون دیکھ کر اللہ کی قدرت کا احساس بڑی شدت سے ہوتا ہے ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط ۔7

(Luray Caverns)قدرتی لینڈ مارک۔لیورے کیونز


امریکہ میں جانے کے ابتدائی ایام میں تو رمضان المبارک کی وجہ سے زیادہ نکلنا نہیں ہوا،لیکن پھر چل سو چل۔یہ ملک ایک عجائبات کا گڑھ ہے۔میری خواہش تھی کہ کم سے کم وقت میں یہاں چہار سو پھیلی حیرتوں کودیکھ کر خود میں سمیٹ لوں۔عدیل نے ہمارے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی  ان حیرتوں کو دکھانے کا پروگرام مرتب کر رکھا تھا اور ان حیرتوں میں سے ایک حیرت لیورے کیون ہے۔لیورے کیونز  امریکہ کی ریاست ورجینیا میں شینن ڈوا ویلی کے شہر لیورے میں سکائی لائن ڈرائیو اور نیشنل پارک کے نزدیک واقع ہیں۔لیورے کیون دیکھ کر اللہ کی قدرت کا احساس بڑی شدت  سے ہوتا ہے۔64ایکڑ رقبے پر مشتمل یہ کیون سن1878میں دریافت ہوئے۔ ان بڑے غاروں کی  ارضیاتی تاریخ بتاتی ہے کہ زیرِ زمین دریاؤں اور تیزاب ملے پانی کے چونے،پتھروں اور مٹی کی تہوں کی میں چالیس لاکھ سالہ رساؤ کے عمل نے ان غاروں کی تشکیل میں مدد دی۔وقت کے ساتھ ساتھ مٹی کی تہیں صاف ہوتی چلی گئیں اور صرف جونے اور پتھروں کے شیل(چھلکے) باقی رہ گئے۔کیورن بننے اور چونے کے پانی کے گرنے سے دھاتی ٹکڑوں کی تشکل و ترقی کے عمل کی مدت بعد یہ کیون(بڑے غار)برفانی مٹی سے بھر گئے۔تیزاب سے چارج ہونے والی مٹی نیان کو چھجوں میں کاٹ کر ان کی وضع قطع میں تبدیلی کر دی۔پھر جب بہتے پانی نے مٹی کو بہا دیا تو پرانے تراش خراش شدہ اور تبدیلیوں نے ایک معدنی شے(جو  غار  کی تہہ پر پانی کے قطروں کے قطروں کے ٹپکنے سے جم جائے)،ستونوں اور قلموں کو نئی شکلوں میں نمایاں کر دیا۔یہ کیون 30 سے140فٹ اونچے چیمبروں کے ایک گروپ پر مشتمل ہے جو بلاواسطہ لائیٹوں سے منور کئے گئے ہیں۔ان تمام جیمبرز کو کوریڈورں،سیڑھیوں اور پلوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک کیا گیا ہے۔

ہمارا پانچ رکنی وفد جب وہاں پہنچا تو ہمارے آگے ہمارے جیسے وفود کی ایک لمبی قطار تھی،ہمیں ٹکٹ لینے اور غار میں اترنے والی سیڑھیوں تک پہنچنے میں تقریباََِ ایک گھنٹہ لگ گیا۔کیون(بڑے غار) کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غار میں اترنے کیلئے ہمیں 178سیڑھیاں اترنی پڑیں،لیورے کیون میں سیڑھیاں اترتے ہی انتظامیہ کا ایک فرد کیون کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا تھا۔سیڑھیاں اترتے ہوئے عنایہ کا سٹولر عدیل نے فولڈنگ شکل میں اٹھایا ہوا تھا،نیچے اتر کر سٹولر کھول کر عنایہ کو اس میں بیٹھا کر ہم آگے بڑھنے لگے،ہمیں کسی جگہ بھی گھٹن کا احساس نہیں ہوا،ہواکس سمت سے اندر آ رہی تھی اس کا کوئی اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔کیون کے اندر درجہ حرارت خاصا کم تھا،بعض جگہ تو ٹھنڈک کا احساس ہو رہا تھا،ان کیون میں ایک پورا چکر تقریباََ ایک گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے،درمیان میں واپسی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ارضیاتی تغیر نے ان غاروں میں نوک دار ماربل کرسٹلز سے بے شمار شکلیں بنا دی ہیں۔پاکستان میں کھیوڑہ کی نمک کی کانوں  کی سیر کرنے والا یہاں کے تحیر کا معمولی سا اندازہ لگا سکتا ہے،ہم نے تو کھیوڑی کی کانیں بھی نہیں دیکھی تھیں اس لئے ہمارے لئے تو یہ بالکل نیا اور انوکھا تجربہ تھا،تحیر اور خوف کی ملی جھلی کیفیت ہم پر طاری تھی۔تحیر کا عالم کہتا تھا کہ،،اور تم اللہ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔خوف اس امر کا کہ جگہ جگہ سے پانی ٹپک رہا تھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سارا اسٹکچر اب گرا کے تب گرا،ہمیں اپنا تو اتنا کوئی خاص خیال نہیں تھا کہ زیادہ تر زندگی ہم گذار چکے،ہاں بچوں کا زیادہ خیال تھا خاص طور پر عنایہ کا۔بعض جگہ عنایہ رونے لگتی تھی ایسا لگتا تھا کہ وہ خوف زدہ ہے،اور خوف زدہ ہونا بھی چاہیئے کہ ابھی صرف تین سال کی ہے۔
ان کی خوبصورتی محسوس کی جا سکتی ہے،الفاظ میں بیان کرنا خاصا مشکل کام ہے،اس کی اندرونی خوبصورت کو تو کیپچر کرنے میں ہمارا ویڈیو کیمرا بھی ناکام ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ قدیم تہذیبوں کی ابتدا میں انسان غاروں کو اپنی بود وباش کے لئے استعمال کیا کرتا تھا،تاریخ دان کہتے ہیں کہ انسان کا قدیم ترین ڈھانچہ ساؤتھ افریقہ  کے غاروں کی کھدائی کے دوران برآمد ہوا۔
 تہذیب و تمدن میں غاروں کا بہت عمل دخل ہے۔زمانہِ قدیم میں جب انسان غاروں میں قیام پذیر تھا تو نوکیلے پتھروں سے شکار کرتا تھا اسی دوران چقماق پتھروں کے آپس میں رگڑ کھانے سے جو شعلہ برآمد ہوا اس نے جہاں آگ کا تصور دلایا اور انسان کچے گوشت سے خوراک کو بھون کر کھانے لگا،وہیں آگ کو دیوتا قرار دے دیا گیا اور زرتشت مذہب نے جنم لیا۔
اسلام میں غاروں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔اس لئے کے رب نے انسانیت کا پہلا درس ایک غار میں ہی دیا۔
مکہ سے چار کلو میٹر جنوب میں واقع جبل نور کی چوٹی پر واقع غار حرا میں ایک شخصیت عبادت میں مصروف ہے اچانک غار میں ایک آوازگونجی:
اقرا ِ َ ِ یعنی پڑھ
ایک دوسری آواز گونجی
”میں پڑھ نہیں سکتا“
یہ مکالمہ تھا خدا کے پیام رساں اور محسن انسانیت کے درمیان۔عرش اور فرش کے اس رابطے کے دوران خالقِ کائنات نے عبد کو معبود سے مانگنے کا سلیقہ سکھایا۔
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہِ کیمیا ساتھ لایا
اللہ کی جانب سے وحی کا آغاز ایک غار سے ہی ہوا۔حرا، کوئی کیون نہیں ہے،یہ ایک چھوٹا سا غار ہے،لیکن اپنی اہمیت کے اعتبار سے یہ غار بڑے سے بڑے کیون سے بڑا ہے۔کائنات کی سب سے بڑی تہذب کا آٖغاز اسی غار سے ہوا۔
لیورے کیون میں،میرے ذھن میں یہی ہلچل مچی ہوئی تھی،اسی سوچ اور تصور نے میرے دل سے خوف کا عنصر محو کر دیا،میرے دماغ میں ایک ندا گونجی کہ میرے آقا سرورِ کائنات بھی تو ایک غار میں ہی تھے جب اللہ ان سے ہم کلام ہوا،جب وہ بلا کسی خوف کے وہاں موجود تھے تو ایک امتی کی حیثیت میں مجھے بھی بلا خوف کیون کی سیر کرنی چاہیٗے کہ زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔
اس ذہنی کشمکش نے مجھے خوف سے آزاد کر دیا اور میں اللہ کی قدرت کو ایک نئے انداز میں دیکھنے لگا۔
لاکھوں سال کی قدرتی تخلیقی عمل نے ان کیونز کواللہ کی قدرت کا شاھکار بنا دیا ہے۔ماہرین اس قدرتی عمل کو چالیس لاکھ سال پر محیط قرار دیتے ہیں اللہ کی قدرت کا  یہ شاھکار اب سے 129سال پہلے اس وقت دریافت ہوا جب  ایک مقامی شخص اپنی بھتیجی اور چند اور افراد کے ساتھ اس مقام سے گذر رہا تھا تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کسی جانب سے آتے محسوس ہوئے انہوں نے کھوج لگایا تو پتہ چلا کہ پہاڑ کی ایک کھوہ سے یہ ہوا آ رہی ہے،ان کی کھدائی پر یہ غار دریافت ہوئے۔
دنیا بھر میں اب تک بے شمار کیونز دریافت ہو چکے ہیں۔صرف امریکہ میں 1104
بڑے اور چھوٹے غار دریافت ہو چکے ہیں جن میں وسعت کے اعتبار سے مامتھ غاروں کاسلسلہ سب سے بڑا ہے۔یہ سلسلہ 400میل پر پھیلا ہوا ہے جبکہ گہرائی لے لحاظ سے،،ہوئے ہوئے غار،، ہیں جو1623فٹ گہرے ہیں۔اس کے باوجود ان کیونز کا کوئی ثانی نہیں ہے۔یہ اپنی خوبصورتی اور مسخرکر دینے والی خصوصیات کی بنا پرشاندارقدرتی عجائبات میں سے ایک ہے اور ایک جادوائی عظمت کا نشان ہیں۔نیشنل جیو گرافک نے ان کیونز کو فیری لینڈ آف سٹون قرار دیا ہے۔
ہم سب نے اس سارے وقت ایسا محسوس کیا جیسے پتھروں کے اس عجائبات نے ہمیں اسیر کر لیا ہو۔


---0---0---