ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 6 اگست، 2015

بروک سائیڈ بوٹینیکل پارک کا سحر متاثر کن تھا۔۔ منظر نامے میں داخل ہونے والا شخص خود بھی منظر بن جاتا ہے۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔قسط۔ ۔ 4

 
بروک سائیڈ بوٹینیکل پارک

قدرت کے مناظر مجھے بہت متاثر کرتے ہیں،میری لینڈ،ورجینیا اور واشنگٹن قدرتی سرسبزخوبصورتی سے مالا مال ہیں۔یہ علاقے سیاہ فاموں کے  ہیں یہاں  سیاہ فام خاص طور پر میکسیکنز بڑی تعداد میں آباد ہیں۔امریکہ میں ورجینا نام کی دوریاستیں ہیں ایک ساؤتھ اور دوسری نارتھ۔ایک میں غالب اکثریت سیاہ  فاموں کی ہے اور دوسرے میں گورے۔میری لینڈ میں سیاہ فام زیادہ نظر آتے ہیں یہاں مساجد تو نہیں ہیں لیکن کیمونٹی سنٹر کے ایک ہال میں جمعہ کی نماز کا اھتمام کیا جاتا ہے جہاں نماز کے لئے آنے والوں کی زیادہ تعداد سیاہ فام باشندوں کی ہوتی ہے۔
میں جب سے آیا ہوں،جہاں بھی گیا، اکیلا نہیں تھا،میرے ساتھ ساتھ میری نصف بہتر چل رہی  ہوتی تھیں،ہم دونوں کے درمیان میری جان عنایہ جان ہوتی تھی،ہمارے آگے دنیا کا خوبصورت ترین جوڑا چل رہا ہوتا تھا
عدیل اور رابعہ ہمارے آگے آگے چل رہے تھے۔
کونسا باپ ایسا ہوگا جسے اپنا بیٹا اور بہو دنیا کا خوبصورت ترین جوڑا نہ لگتے ہوں۔ میرے بابا جی سرکار کے نزدیک میں اور لبینہ بھی حسین ترین مثالی جوڑا تھے۔
عدیل اور رابعہ ہمارے ساتھ بہت فرینک ہیں لیکن ہماری موجودگی میں یہاں کے جوڑوں کی طرح ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر نہیں چل رہے تھے حالانکہ ان کے درمیان جو رشتہ تھا وہ ان کی مسکراہٹوں اور ایک دوسرے کی قربت کے احساس سے پھولوں پر شبنم کے قطروں کی مانند ظاہر ہو رہا تھا۔
عدیل نیلی پولو ٹی شرٹ اور جین میں مجھے میری لینڈ بھر میں سب سے وجیح لڑکا لگ رہا تھا اور رابعہ سرخ مرچ جیسی تیزی والے کرتے اور سیاہ ٹائٹ میں سب سے پیاری لڑکی لگ رہی تھی۔
اس وقت ہم برو ک سائیڈ بوٹینیکل پارک جا رہے تھے،اس پارک میں درختوں کے خوبصورت پتوں کے ساتھ ساتھ پھولوں کی مسرور کن فضا انسان کو خود میں سمو لیتی ہے۔رنگ برنگے پھول جو برصغیر کی فضا میں نظر نہیں آتے لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہاں صرف ایسا ہی ہے  بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے یہاں درختوں کے پتوں کے بھی کئی رنگ ہیں۔ستمبر کے بعد جب خزان اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے تو یہاں درخت خوبصورتی کا نیا راگ الاپتے ہیں۔ موسمِ بہار کے  بعد خزاں آنے سے پہلے دور دور تک خوبصورتی اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے۔

پارک کے درمیان پکڈنڈی پر چلتے چلتے عدیل پچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ منٹگمری کاونٹی میں موجود یہ پارک   50ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں،امریکہ میں یہ ایوارڈ یافتہ ہیں،یہ  ایوارڈ ان پارکوں کو نہیں ملا ہو گا بلکہ یہ ایوارڈ شاید ان افراد کے لئے ہوگا جو ان کی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوں گے،عدیل کے بتانے پر میرے دل میں ایسا خیال آیا کیونکہ اس طرح کے پارک تو اس سب سے بڑے مصور کی تخلیق ہیں جس نے لینڈ سکیپ کے طور پر دنیا بنائی اس پر پہاڑ جمائے،درخت  و پھول بوٹے اگائے،ان پارکوں کے یہ حسین مناظراس کی ثنائی کر رہے ہیں،میں ان مناظر میں کھویا ہوا خود بھی ایک ایستادہ پودہ ہی لگ رہا تھا جس کا سایہ دوسرے درختوں کی مانند سورج کے مغرب کی جانب ڈھلنے کی بنا پر لمبا ہوتا جا رہا تھا اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا سایہ میرے بڑھتے سائے کو پکڑنے کی سعیِ لاحاصل میں سبزے کے قالینوں پر بھاگا پھر رہا تھا اور یہ  عنایہ تھی میری ننھی پوتی۔
ہاں میں سب سے بڑے مصور کی اس تخلیق میں دور تک اندر جا چکا تھا۔یہ  ایک سحر کا سفر تھا جو میرے اندر جاری تھا۔
ڈھلتے سائے، ہر سو خامشی، نجانے آج پرندے بھی نجانے کیوں خاموش تھے،ہلکے ہلکے بادلوں میں سے در کر آتی سورج کی  روشنی میں اس پارک کے سرو قد پودے زمین کو آسمان سے ملا رہے تھے۔
،،ابو،ابو، عنایہ کو پکڑنا وہ جھیل کی طرف بھاگ رہی ہے،،دور سے آتی رابعہ کی آواز مجھے منظرنامے سے باہر لے آتی ہے اور میں بے ساختہ عنایہ کے پیچھے بھاگتا ہوں کیونکہ آگے ڈھلوان ہے اور بچے اس عمر میں بے خطر بھاگتے ہیں۔
جھیل کے پانیوں میں قطار اندر قطار کھڑے درختوں کا عکس عجیب منظر پیش کر رہا تھا،بروک سائیڈ پارک  کے روشنی میں چمکتے سر سبز درخت، جھیل کے ساکت پانی میں دائرے بناتے چھوٹے چھوٹے کچھوئے،اس ہٹ سے بہت خوش نما لگ رہے تھے،اس جیسے منظر نامے میں داخل ہونے والا شخص خود بھی منظر بن جاتا ہے۔
مجھے ہر طرف خامشی لگ رہی تھی،نہ شہر میں سنائی دینے والا  شور تھا اور نا کسی پتے کے ہلنے کی صدا تھی، نا شہر میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے ہمہ وقت ہارنوں کی کوئی آواز، یہاں کا منظر بالکل ایک ساکت تصویر کی مانند تھا۔یہ پارک اتنا بڑا تھا کہ ہمارے ساتھ پارک  میں داخل ہونے والے افراد نجانے پیچھے کس سمت مڑ گئے تھے۔
اچانک سامنے ایک خوبصورت ہٹ نظر آیا جہاں ایک چینی یا شاید جاپانی جوڑا اپنی محبت کو امر کرنے میں مصروف تھا اور ایک تیسرا فرد ان کے اس محبت نامے کو کیمرے میں محفوظ کر رہا تھا،میں نے ادھر ادھر دیکھا لیکن بچہ لوگ اس منظرنامے سے پہلو تہی کرتے ہوئے ایک دوسرے راستے کی جانب مڑ کر آگے جا چکے تھے،میں اپنے پیر میں موجود 

 ویری کوز وینز میں کھچاؤ کی بنا پر پیچھے رہ گیا تھا،میں نے ایک اچٹتی سی نظر اس جوڑے پر ڈالی اور اسی راہ پر چل دیا جس پر میرے بچے گئے تھے۔
جھیل کا پانی ایک تنگ  راستےسے دوسری جانب جا رہا تھا اس رستے میں انتظامیہ نے زگ زیگ کی شکل میں پتھر رکھے ہوئے تھے جن پر پیر رکھ کر دوسری جانب اسی پکڈنڈی کے تسلسل پر ہمیں آگے جانا تھا،اس منظر کو دیکھ کر مجھے مصطفی زیدی کا شعر یاد آ گیا۔
انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
بعض اوقات ایسی باتیں ذھن میں در آتی ہیں جو پوری طرح منظر میں فٹ نہیں آتیں لیکن کوئی ایک  چیز  انسانی ذھن کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔
جھیل کے اس تنگ سے راستے کے دونوں جاب میموریل پتھر ایستادہ تھے یا یوں کہہ لیجئے کہ کتبے آویزاں تھے، بچہ لوگ وہیں موجود تھے اس سے پہلے ایک وسیع و عریض سا ڈھلوانی لان تھا جہاں عنایہ ڈھلوان پر نیچے کو بھاگی چلی جا رہی تھی اور عدیل اس کے تعاقب میں تھا۔
خاموشی کے سحر میں ڈوبی اس شام میں، میں نے ان میموریل پتھروں پر نظر ڈالی،یہ پتھر بولنے لگے کہ سن2002میں دو جنونی افراد کی تخریب کاری نے تیرہ معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ان میں سے 10مردوزن کو سنائپرز نے واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں موت کی نیند سلا دیا۔ دوسرا پتھر بتانے لگا کہ مجھ پر ان  دس افراد کے نام کنندہ ہیں جو 

اس 
حادثے میں مارے گئے۔یہاں یہ پتھر اس بات کی گواہی کے لئے لگائے گئے ہیں کہ یہ افراد ہم میں سے تھے اور ہمارے ساتھ کام کرتے تھے اور ان کے لواحقین تنہا نہیں ہیں،ان کی فیملیز کے ساتھ مہربانی کا اظہار کرنے والوں کی محبت کا اظہار بھی ہے۔
میرے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا،جنونیت اور وحشی پن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی کوئی مذہب  نہیں ہوتا،یہ ہر ملک و قوم موجود ہوتا ہے۔یہاں ایک محبت بھرا پتھر شاید لواحقین کے لئے کافی ہوتا ہو گا کہ کچھ مہربان ان کی کفالت کر  دیتے ہیں لیکن کیا کیجئے کہ ہمارے ہاں محبت بھرے پتھروں سے کام نہیں چلتا اور کتنے پتھر لگائے جائیں گے اور کون ان کے لواحقین کی اشک شوئی کرے گا۔جب تک بچہ لوگ آگے چلنے کے لئے تیار نہیں ہو گئے میں نے ان پتھروں پر پر کندہ اور اپنے وطن کے ایسے بے نشان افران کے احترام میں خاموشی اختیار کئے رکھی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں