ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعہ، 28 اگست، 2015

پٹامک ریور،گریٹ فالز اورراک کریک پارک ۔۔دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط -6

پٹامک ریور،گریٹ فالز اورراک کریک پارک


انٹرنیٹ کی دنیا بھی بڑی عجیب ہے۔دور دراز جگہ پر بیٹھا ہوا شخص ایسا محسوس کرتا ہے کہ وہ دور ہوتے ہوئے بھی اپنوں کے ساتھ ہے،عدیل کے فلیٹ میں بیٹھ کر انٹرنیٹ دنیا بھر میں موجود احباب کو میرے رابطے میں رکھتا ہے۔ابھی کل ہی کی بات ہے قدیر پیرزادہ نے پاکستان میں ہنزہ ویلی اور اس کے گرد و نواح کے تفریحی مقامات پر اپنے دوستوں کے ساتھ تفریح کرتے ہوئے ویلی دیکھتے دکھاتے ہوئے،تصاویر  اور ویڈیوز لوڈ کی ہیں،یقین کیجئے،دل خوش ہوگیا،پاکستان واقعی دنیا میں اپنے تفریحی مقامات کے اعتبار سے جنتِ بینظیر ہے۔امریکہ میں ہم یہاں کی یاترہ کر رہے ہیں،روز کسی نا کسی مقام کی سیر۔
 گریٹ فالز ایک تفریحی مقام ہے جہاں دریائے پٹامک کا تیز بہتا پانی فال کی شکل میں تیزی سے گرتا بھلا لگتا ہے۔اردگرد جنگل نما پارک جس میں بورڈ واک کرنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ہمارے ہاں تفریحی مقامات پر انتظامات کا فقدان ہے۔امریکہ میں جگہ جگہ تفریحی مقامات پر وہ چاہے خوبصورت ہوں یا نہیں لیکن سیاحوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مقامات کے تحفظ کا بھی پورا پورا خیال کیا جاتا ہے۔دریائے پٹامک کے اردگرد جنگل نما پارک میں سے دریائے پٹامک کی فالز کے قابلِ دیدمقامات دیکھنے کے لئے لکڑی کی گذر گاہیں بنا رکھی ہیں جن کے دونوں جانب حفاظتی جنگلے نصب ہیں تاکہ کوئی شخص بھی ان جنگلوں  میں نا جا سکے۔
عدیل کے مطابق گریٹ فالز کے آس پاس جتنے جنگل ہیں وہاں انسان قدم نہیں رکھ سکتا،ان کے اندر جانا منع بھی ہے اور خطرناک بھی۔اندر جانا منع اس لئے بھی ہے کہ وہ قدیمی حالت میں جوں کے توں محفوظ رہیں اور وہاں سے ایک ٹہنی اٹھا 

کر لے جانا بھی جرم ہے۔امریکیوں کو اپنی سرزمیں سنبھالنے کا فن آتا ہے۔وہ اسے دھرتی ماں سمجھتے ہیں اور اس کی دل و جاں سے حفاظت کرتے ہیں۔انہیں خبط ہے اپنے جانوروں،پرندوں،جنگلوں،دلدلوں،ندیوں،آبشاروں اور قدیمی غاروں کو محفوظ کرنے اور سنبھالنے کا۔انہیں انسانوں سے بلند درجے پر فائز کرنے کا۔اصل میں یہ خصوصیت یہاں کے قدیمی آباد باشندوں کے خون میں تھی جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پھیل کر پورے امریکیوں میں پھیل گئی ہے۔
جن لوگوں کے پاس قدیم تاریخ ہے وہ اپنے ماضی کو سنبھالنے میں کمال کرتے ہیں۔پاکستانی ایسی ہی قوم ہے ہڑپہ اور مہنجوڈارو،جہاں کے عجائب گھر اس خطے کی سات ہزار سال قدیم تہذیب کی نمائیندگی کرتے ہیں۔ان کی بودوباش،تہذیبو تمدن،کیا کچھ نہیں ہے ان کے پاس۔پاکستان کے بعد امریکہ میں مجھے احساس ہوا کہ یہ قوم بھی ماضی سنبھالتی ہے۔پاکستان ایک پرانی دنیا ہے اس نے اپنا ماضی سنبھالنا ہے لیکن ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ہماری ثقافت کیا ہے اور ہماری تاریخ کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ہمارے پاس قدیم ثقافت بھی ہے اور شاندار سرزمین بھی یعنی ہمارے پاس دونوں کے شواہد ہیں،اپنی ثقاف اور سرزمین سے عشق تبھی ہوتا ہے جب آپ ایک قوم ہوں،اپنی دھرتی کے وارث ہوں اور اس کے باسی ہونے پر فخر کریں۔ہندوستان نے اردو کو ہندی کا نام دیا اور اسے اپنی دھرتی سے جوڑا،اسے ایک نیا رسم الخط دے کر اسے اپنا لیا۔ہم اردو کو عربی اسم الخط میں اپنانے کے باوجود اسے دھرتی سے جوڑ کر،،پاکستانی،، کا نام نا دے سکے۔

امریکہ اک نئی دنیا ہے جس کے پاس کوئی ماضی نہیں صرف حال ہے اور اسی حال میں جو کچھ اس کے پاس ہے امریکیوں کو اسی کو سنبھالنا ہے۔
دریائے پٹامک امریکہ کی چار ریاستوں،میری لینڈ،ورجینیا،مغربی ورجینیا اور واشنگٹن  کو سیراب کرتا ہے۔ اس کے ایک کنارے پر میری لینڈ اور واشنگٹن کی سرحد ختم ہوتی ہے تو دوسری جانب ورجینیا کی دونوں ریاستیں ہیں۔پٹامک گریٹ فالز کے قابلِ دید مقامات میری لینڈ کی جانب سے علیٰحدہ خوبصورتی رکھتے ہیں جبکہ ورجینیا کی جانب سے مناظر واقعی قابلِ دید ہیں۔یہ بات اپنی جگہ،لیکنہمارے پاکستان کے بالائی سرحدی علاقوں میں بہتے دریاؤں کے فالز اپنی مثال آپ ہیں۔
پٹامک دریا 405میل لمبائی کا حامل ہے،امریکہ میں بہنے والے دریاؤں میں یہ اکیسویں (21) نمبر پر ہے۔
دریائے پٹامک اپنے ساتھ نوح الاقسام تہذیبیں ساتھ لاتا ہے،مغربی ورجینیا کے بالائی بہاؤ کے علاقے میں بسنے والے کوئلہ کے کان کنوں سے لے کر زیریں شہری علاقے درالخلافہ کے رہائیشیوں کے علاؤہ شمالی ورجینیا کے مچھیروں تک۔
امریکہ کی تاریخ اور ثقافت میں اہمیت کی بنا پر پٹامک کو،،قوم کا دریا،، کا نام دیا گیا۔جارج واشنگٹن،امریکہ کے پہلے صدر،اسی علاقے میں پیدا ہوئے اور زندگی کا بیشتر حصہ پٹامک کے طاس میں گذارا،اسی علاقے میں امریکہ نے تین سول جنگیں سن1859،سن1861اورسن1862میں لڑیں۔سن1862میں ہونے والی سول وار میں جنرل رابرٹ ای لی نے اس دریا کو عبور کیا بالکل اسی طرح جیسے سکندرِاعظم نے دریائے سندھ کے دوسری جانب صف آرا راجہ پورس سے جنگ کے لئے  اس بپھرے ہوئے دریا کو عبورکیا تھا اور اسے شکست دی تھی۔اسی دریا کے گریٹ فالز کی خوبصورتی  دیکھتے تاریخ کا ایک بہتا دریا عود کر آیا تھا۔
امریکہ اورپاکستان کی تاریخ و ثقافت کے بارے میں سوچتے ہوئے جنرل رابرٹ کا تصور میری نظروں کے سامنے پھرگیا کہ کس طرح اس وقت دریائے پٹامک کے پانیوں پر کھوکھلے تنے والے کینٹؤ پر تیر کر دریا عبور کیا ہو گا۔جنرل اور ان کی فوج کے سرخ و سفید بدنوں پر سورج کی کرنیں پڑ رہی ہوں گی۔میں جس جگہ کھڑا تھا وہاں بادل میرے اور دھوپ کی راہ میں حائل تھے،اچانک بادل چھٹ گئے۔گرمی کے اچانک اس احساس نے محسوس کرایا کہ وہ بھی دھوپ چھاؤں کے اس کھیل سے گذرے ہوں گے۔سامنے سے بہہ کر آتا پانی بتا رہا تھا کہ معلوم تاریخ کے مطابق دریائے پٹامک کے بہتے پانی دس،بیس لاکھ سے ایسے ہی بہہ رہے ہوں گے بالکل اسی طرح جیسے سکندرِ اعظم نے دریائے سندھ کو عبور کرتے ہوئے محسوس کیا ہو گا۔
ایک سحر تھا جو مجھ پر طاری تھا،تاریخ کے ڈوبتے،ابھرتے اوراق اس علاقے  کی کہانی بیان کر رہے تھے۔
،،پاپا یہ آپ اچانک کہاں کھو جاتے ہیں،ابھی پیچھے آپ گرتے گرتے بچے ہیں،پیر پر چوٹ بھی لگ سکتی تھی،، عدیل نے فکرمندانہ لہجے میں کہا۔میں اسے کیا بتاتا کہ میں تاریخ کے کس دور میں پہنچ گیا تھا،میں نے کھسیانی سی ہنسی کے ساتھ اس کی جانب دیکھا،ایک ناقابلِ قبول سا جواز پیش کیا اور آگے چل دیا۔
میری لینڈ سے گریٹ فالز کی جانب جاتے ہوئے پٹامک دریا سے پہلے دائیں جانب سرسبز علاقہ راک کریک پارک  ہے۔اس ہائی وے پر اس علاقے سے گذرتے ہوئے میں دیکھ رہا تھا کہ وہاں ہائیکنگ کے رستے بنے ہوئے تھے جن پر لوگ جوگنگ کر رہے تھے۔ایک پونی ہلاتی لڑکی اپنے کتے کے ساتھ اسی ہائیکنگ ٹریک پر بھاگتی نظر آئی،گاڑی کی رفتار بحر طور ان کی جوگنگ کی رفتار سے تیز تھی اس لئے یہ منظر بھی تیزی سے گذر گیا۔
راک کریک پارک سن1890میں کانگرس کے ایک ایکٹ کے ذریعے معرض وجود میں آنے والا تیسرا نیشنل پارک تھا لیکن آج کل اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نیشنل پارک سروس کے پاس ہے۔امریکہ کے ایک صدر بنجمن ہیری سن نے کانگرس کے اس ایکٹ پر دستخط کئے۔نیشنل پارک سسٹم میں شامل یہ سب سے قدیم قدرتی شہری پارک ہے جس کی تعمیر سن1897میں شروع ہوئی۔یہ پارک تقریباََ 2000 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔

راک کریک پارک دوسرے جنگل نما پارکوں کی طرح ہی ہے لیکن اسے بڑا منظم کیا ہوا ہے۔ یہ امریکہ کا حال ہے،یہ کیا یہاں کا ہر پارک ہی ان کا حال ہے اوراپنے حال کو سنبھالنے کا فن امریکیوں کو خوب آتا ہے یہاں جنگل سے ایک ٹہنی بھی اٹھا کر لے جانا جرم ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ اتنا سرسبز نظر آتا ہے،ایک ہم ہیں کہ جنگل کے جنگل بیچ کھاتے ہیں اور کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا۔ٹمبر مافیا کی انہی حرکتوں کی وجہ سے حسین ترین پاکستا ن حسین ترین نظر نہیں آتا،بارشوں کے نا ہونے کی وجہ کم ہوتے جنگلات ہیں،بارشوں کے نا ہونے کی وجہ اور جنگلوں کی تعداد میں ہونے والی کمی نے ہمیں دنیا کی ان قوموں میں کرا دیا ہے جو پانی کی کمی کا شکار ہیں۔امریکہ کو اپنا ماضی،اپنا حال سنبھالنا آتا ہے،ہمیں یہی نہیں معلوم ہمیں 
 کرنا کیا ہے۔ 

بدھ، 26 اگست، 2015

کیسے بدلا یہ اچانک مرے اندر کا سما ں .. اسلم سحاب

پهر کسی یاد میں رویا ہوں میں بادل کی طرح 
ابر آلود فضا ہے ترے کاجل کی طر ح
کیسے بدلا یہ اچانک مرے اندر کا سما ں
آہنی شخص ہوا نرم جو ململ کی طر ح
اس کے پیروں سے اچهلتی ہے نزاکت ایسی
نرم ہونے لگے پتهر کسی مخمل کی تطرح
آو کعبے کی ہی دیوار کا سایہ ڈهونڈیں 
میر جیسے کسی دیوانہ و بے کل کی طرح
تیری نظروں کی حدوں میں ہی مقید ہے سحاب 
یہ تری ذات میں گم رہتا ہے پاگل کی طر ح

ایک خط تھا ثبوت چاہت کا۔۔ وہ بھی اس نے جلا دیا ہو گا ۔۔ الماس شیبی( پنج ریڈیو)

غم ہنسی میں چھپا دیا ہوگا
چشمِ نم نے بتا دیا ہو گا
بھول جانے کی اس کو عادت تھی
اس نے مجھ کو بھلا دیا ہوگا
ایک خط تھا ثبوت چاہت کا
وہ بھی اس نے جلا دیا ہو گا
رات چپکے سے لے اڑی تھی ہوا
راز دل کا بتا دیا ہو گا
ہجر کے مارے دل کو بھی اُس نے
جا نے کیسے سُلا دیا ہو گا
پھر بلایا ہے آج ناصح نے
گل کسی نے کِھلا دیا ہو گا
ہے یقیں مجھ کو ذکر پر میرے
و ہ فقط مسکرا دیا ہو گا
میں کہاں اور کیسی ہوں اُس کو
اسی غم نے گُھلا دیا ہوگا

بدھ، 19 اگست، 2015

ہم بھی چلتے ہیں چلو چاک گر یبا ں ہو کر ..سید انور جاوید ہاشمی



خود طلب گار ٍ مُحبّت لیے جام آ تے ہیں
جا د ہ ء عشق میں ایسے بھی مقام آتے ہیں
ہم بھی چلتے ہیں چلو چاک گر یبا ں ہو کر
یعنی جس ر ا ہ میں اُس کے د ر و با م آتے ہیں
کُو چہ ء 'میر' کہاں ؛ حجر ہ ء غا لب کیسا !
جا نے کیو ں پھر بھی ہمیں بس یہی نا م آتے ہیں
مشغلہ، خیر! مگر نا ن و نمک کی خا طر
صبح د فتر جو گئے لو ٹ کے شا م آ تے ہیں
ر فتگا ں سو نپ گئے کہہ کے یہی کا ر ٍ سُخن
د ا ر ٍ فا نی میں کہا ں لو گ مُد ا م آ تے ہیں
کا رٍ دُ نیا سے ا لگ فکر بھی ہے عُقبی ٰ کی
کا م صا حب نہ و ہا ں اُ ن کے غُلا م آ تے ہیں

وائلن بجاتی،سر بکھیرتی۔۔وہ لڑکی ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط۔5

وائلن بجاتی،سر بکھیرتی۔۔وہ لڑکی


میری لینڈ کے اوشن سٹی کا ساحلِ سمندر گوروں کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔شہروں کی رونقیں دیکھتے دیکھتے اچانک اوشن سٹی  کے تفریحی مقام پر چند روز گذارنے کا پروگرام بنا،اچانک تو یہ ہمارے لئے تھا لیکن عدیل اور رابعہ نے ہمارے پاکستان سے آنے سے پہلے ہی ہمیں گھمانے کا پورا پروگرام مرتب کررکھا تھا،یہی نہیں،عدیل نے اپنی سالانہ چھٹیوں میں سے دو ہفتے اسی سلسلے کے لئے بچا رکھے تھے۔
اوشن سٹی،میری لینڈ ریاست کا ایک جزیرہ ہے اور امریکہ میں اسے مڈ اٹلانٹک ریجن اور تعطیلات کے لئے اہم مقام گردانا جاتا ہے جہاں ہر سال 80لاکھ افرادتفریح کے لئے آتے ہیں۔ جسے ایک طویل پل نے باقی علاقوں سے جوڑا ہوا ہے۔اوشن سٹی جس جگہ آباد ہے اسے ایک لو کل امریکی سے ایک انگریز تھامس فنوک نے حاصل کیا۔سن1869میں ایک بزنس مین  اساک کوفن نے ساحلِ سمندر پر پہلے فرنٹ بیچ کاٹیج تعمیر کئے۔سن 1952میں چیسا پیک بے برج کی تعمیر نے اس علاقے کی رونق میں اضافہ کر دیایہ وہی طویل پل ہے جس کا میں نے ذکر کیا۔یہاں سیاہ فام تو یہاں کم ہی آتے ہیں لیکن گوروں کی یہ ایک جنت ہے۔گورے یہاں یا تو ساحلِ سمندرپر اوندھے پڑے سن باتھ لے رہے ہوتے ہیں یا پھر ساحل کے ساتھ ساتھ بورڈ واک کر رہے ہوتے ہیں۔

ساحلِ سمندر کے رتیلے حصے کے ساتھ ساتھ لکڑی کا میلوں لمبا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے جسے بورڈ واک کہتے ہیں جسے1902میں تعمیر کیا گیا جس کے آگے دکانوں کی ایک لمبی قطار ہے،اس سے پیچھے ہوٹل ہیں۔دکانوں ہیں کھانے پینے کی،کھیلوں کی جن میں کیچرز لگے ہوئے ہیں ان میں بہت قیمتی چیزیں پڑی ہیں،کیمروں،آئی پوڈز سے لیکر بہت اعلیٰ قسم کے سٹف ٹوائے تک،آپ ایک یا دو ڈالر ان مشینوں میں ڈال کر قسمت آزما سکتے ہیں۔یہ دکانیں کیسینو سے مختلف ہیں۔بورڈ واک کے آخری حصے میں طویل القامت فیزی ویل نصب ہے جس میں ہندولے لگے ہوئے تھے،بچوں نے ہمیں بھی اپنے ساتھ ہنڈولے میں بٹھا لیا۔جب ویل میں ڈولتا ہوا ہنڈولاہمیں لے کر بلندی پر پہنچا تو چاروں طرف عجیب منظر تھا،دور دور تک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر،ایک جانب ایک پل جس پر گاڑیا ں اس جزیرے سے اور پر مسافروں کو لاتی لے جاتی کھلونا گاڑیوں کی مانند نظر آ رہی تھیں۔

مجھے بلندی سے خوف آتا ہے لیکن اب جب بچوں نے ساتھ بیٹھا ہی لیا تھا تو مین ان پر اپنا خوف ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔چہرے پر مسکراہٹ اور ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرتی خوف کی سر سراہٹ کے ساتھ میں جبر کر کے بیٹھا ہوا تھا۔چار پانچ چکروں کے بعد ویل رک گیا تو میری ریڑھ کی ہڈی میں سرسراتی خوف کی لہر بھی تھم گئی۔خوف کا ایسا ہی احساس مجھے اس وقت محسوس ہوا تھا جب پاکستان میں واپڈا ایک ہی تھااور مجھے واپڈا کی سالانہ رپورٹ کے لئے تصاویر درکار تھیں اور مجھے پاور سٹیشنوں کی تصاویر بنوانے فوٹوگرافرز کے ساتھ کوٹ ادو اور مظفرگڑھ میں فوٹوگرافی کرانی تھی،پاور ہاوس کی سو فٹ اونچی چمنی کی فلمبندی کے لئے  ایک کرین مہیا کی گئی  جس کے ساتھ پنڈولیم کی طرح ایک پلیٹ فارم جھول رہا تھا ایسا پلیٹ فارم جس کی کوئی دیوار نہ تھی،اللہ بخشے مسعود ذوالفقار کو وہ پلیٹ فارم پر چڑھا کرین آپریٹر نے پلیٹ فارم کو اوپر اٹھانا شروع کیا،ابھی پلیٹ فارم پندر،ہ بیس فٹ ہی اوپر گیا تھا کہ مسعود زوالفقار نے اوپر سے کچھ کہا،میں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا،اس نے بھی ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ کرین کو نیچے کروائیں،میں سمجھا اسے ڈر لگ رہا ہے،کرین نیچے آئی تو مسعود ذوالفقار نے مجھے کہا،، سر آپ بھی ساتھ آئیں،میں اکیلا بنا تو لوں  لیکن  رضی صاحب کی ڈانٹ سے آپ ہی بچا سکتے ہیں کہ تصاویر آپ کی دی گئی ہدایت پر بنائی گئی ہیں،میں نے لاکھ کہا کہ میں کہہ دوں گا تم بنا و،لیکن وہ نا مانا،مجبوراََ مجھے اس کے ساتھ پلیٹ فارم پر کھڑا ہونا پڑا،ذرا غور کیجئے چارفٹ ضرب چار فٹ سائز کاڈولتا ہوا بغیر حفاظتی دیواروں کا پلیٹ فارم،میں،مسعود ذوالفقار اور علی کمال اس پلیٹ فارم پر سوفٹ کی بلندی پر ڈول رہے تھے اس وقت مسعود ذوالفقار اور علی کمال فوٹو گرافی میں مصروف تھے،ایسے میں خوف کی ایک لہر میرے تن بدن میں دوڑ گئی،اس سے پہلے کے میں چکرا کر گر جاتا میں کرین کی زنجیر پکڑ کر پلیٹ فارم پر بیٹھ گیا،ویل کے ہنڈولے میں خوف کی یہ کیفیت تو نا تھی لیکن اس سے اتر کر میں نے بچوں سے کہا کہ ایسے کسی اورکھیل میں مجھے حصہ نہیں لینا،بس تم ہی بیٹھنا۔
امریکہ کا کوئی بھی علاقہ ہو،اس کے ہر شہر میں کسی نا کسی سڑک پر،موسیقی کا مظاہرہ کرتے گروپس یا تنہا ڈرم،گٹار،وائلن،ٹرمپٹ بجاتا کوئی نا کوئی فرد نظر آ ہی جاتا ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ گروپوں جسے بچے بینڈ کہتے ہیں کی چیختی چنگھاڑتی انگلش موسیقی  مجھے کبھی پسند نہیں رہی۔بچہ لوگ پاکستان میں بھی اپنی دیسی موسیقی کے ساتھ اسے بھی سنتے ہیں لیکن میرے من کو یہ کبھی نہیں بھائی،ویسے بھی انگریزی کے حوالے سے میرا ہاتھ ہمیشہ ہولا رہا ہے،موسیقی کی چونکہ کوئی زبان نہیں ہوتی، نا اردو اور نا انگریزی اس لئے دھیمے سر بکھیرتی موسیقی روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔یہ موسیقی اگر کھلی فضا میں ہو تو سننے کا یہ تجربہ روح کی بالیدگی کا باعث ہوتی ہے۔جس طرح  صحرا میں دور سے ابھرتی،ڈوبتی کسی چرواہے کی صدا۔
اوشن سٹی کے اس بورڈ واک پر سیر کرتے کرتے وائلن کی دھیمی سی،مدھر سی،ابھرتی ہوئی آواز مجھے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ساحلِ سمندر کے کنارے کھلی فضا میں وائلن کی اس آواز میں سمندر کی لہروں کا شور بھی شامل تھا، بورڈ واک کرتے آپس میں باتیں کرتے افراد کی باتوں کا شور بھی تھا،اس معاشرے میں اظہارِ محبت میں سرِ عام بوسہ لینے کی دھیمی سی آواز بھی اس کھلی فضا میں سنی جانے والی وائلن کی آواز میں ہم آھنگ ہو کر زندگی سے قریب تر محسوس ہو رہی تھی۔
ہم دھیرے دھیرے قدموں سے چل رہے تھے اور آہتہ آہستہ وائلن کی آواز بلند ہو کردوسری آوازوں کو دبا رہی تھی پھر یوں ہوا کہ ایک موڑ پر وائلن نواز سامنے آ گیا،یہ وائلن بجاتی ایک لڑکی تھی،اپنی دھن میں مگن وائلن کے تاروں سے دل کو موہ لینے والی موسیقی تخلیق کر رہی تھی،آنکھیں بند کئے،سر کو جھکائے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں اتنی مگن تھی کہ شاید اسے اندازہ ہی نہ تھا کہ ایک خلقت نصف  دائرے کی شکل میں اس کے فن سے نا صرف محظوظ ہو رہی تھی بلکہ اس پر سکوں اور ڈالروں کی بارش کر رہی تھی۔ مجھے گذشتہ اتوار کو سلور سپرنگ کے ڈاؤن ٹاؤن  میں  کیمونٹی سنٹر  کے پختہ ایونٹ گراونڈ میں سٹیج پر وائلن بجاتا فن کار یاد آگیا،عمارتوں میں گھرا یہ یختہ ایونٹ گراؤنڈاور اس پر وائلن بجاتا تنہا فن کاروہ تاثر پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا جو یہ کھلی فضا میں وائلن بجاتیتنہا لڑکی کر رہی تھی۔
امریکہ کے ہر شہر میں کھیل تماشے ہوتے رہتے ہیں۔
کچھ آگے ایک اور لڑکی اپنے لچکیلے،تھرکتے بدن کے گرد روشنی سے جگمگ کرتا رِنگ گھمانے کا مظاہرہ کر رہی تھی۔وائلن بجاتی تنہا لڑکی تو اردگرد سے بے پرواہ تھی اور لوگ اس کے فن پر سکوں اور ڈالروں کی بارش کر رہے تھے لیکن رِنگ گھماتی لڑکی کے تھرکتے بدن کے لشکاروں کے باوجود اس کے سامنے پڑے ہیٹ میں ابھی چند ہی سکینظر آ رہے تھے شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو گی کہ لچکنا،تھرکنا ان کے معمولات اور ماحول کا حصہ ہے اور وہ اپنے روزمرہ کے محاورے میں اس کھیل تماشے کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے۔،یہ چند سکے بھی اس کے بدن کے گردگھومتے روشنی کے جگمگاتے رِنگ کی بدولت تھے،اس کے فن کایہی مظاہرہ اگرہمارے ملک میں ہو رہا ہوتا تو اس پر نوٹوں کی بوچھار ہو ہو جاتی۔اس لڑکی کے منہ پر مسکراہٹ سجی تھی لیکن اس کے چہرے پر آتے جاتے رنگ بتا رہے تھے کہ وہ خاصی مایوس ہے۔ہم تھوڑی دیر وہاں رکے،اس کی نظر چند لمحوں کے لئے ہم پر رکی اور پھر وہ دوسری جانب دیکھتے ہوئے تھرکنے لگی۔عدیل نے ایک سکہ عنایہ کو دیا کہ جاؤ اس ہیٹ میں ڈال آؤ،عنایہ کچھ جھجکی،پھر آگے بڑھی،ہیٹ میں سکہ ڈالا،واپس مڑی،بھاگتی ہوئی واپس آئی اور اپنے بابا کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھنے لگی۔بچے کتنے معصوم ہوتے ہیں۔
رات کی تاریکی گہری ہوتی جا رہی تھی لیکن روشنی سے منور بورڈ واک پر بھیڑ بڑھنے لگی تھی،سمندر کی سفید ریت پر دوپہر کو جسموں پر سن بلاک لوشن کا بھرپور سپرے کئے اوندھے پڑے سن باتھ لیتے گورے بھی اپنے ہوٹلوں میں شاور لے کر اب بورڈ واک پر آ گئے تھے،یہاں کھانے کی بہت سی دکانیں تھیں لیکن یہاں ہمارے لئے کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا کیونکہ یہاں کچھ بھی حلال نا تھا۔ہاں آلو کے فرائز تھے یا پاپ کورنز۔ ہم نے پہلے فرائز لئے جو عنایہ بھی کھا سکتی تھی پھر پاپ کورنز لئے اور چلتے چلتے کھانے لگے۔
کیچ اینڈ ون والی بہت سی دکانیں تھیں،وہاں کیچرز میں بیش قیمت چیزوں کو دیکھ کر میں کئی بار ان کے نزدیک گیا لیکن پھر واپس بچوں کے پاس آ گیا۔وہاں کھڑے ہو کر مجھے لاہور میں گلبرگ کا سٹی2000یاد آ گیا جہاں عدیل جب چھوٹا سا تھا تو اس کی ضد پر اکثر وہاں جانا ہوتا تھا،عدیل جی بھر کر رائیڈز کے مزے لیتا اور میں وہاں نصب کیچرز سے کھیلتا تھا اور ہر بار کوئی نا کوئی کھلونا نکال کر عدیل کی خوشی دوبالا کر دیتا تھا، اب جب میں چوتھی بار اس دکان پر جا کر کھڑا ہوا تو عدیل بھی میرے پاس آگیا اور کہنے لگا،،بچپن میں تو آپ بڑے ایکسپرٹ تھے کھلونے نکالنے میں،یہاں بھی کوشش کر کے دیکھ لیں عنایہ خوش ہو جائے گی۔
میں نے پچیس(25) سال بعد کوشش کی لیکن کھلونا کیچر سے اس وقت گر گیا جب اس کے ڈراپ بکس میں گرنے کی منزل دوگام رہ گئی تھی۔

سوموار، 17 اگست، 2015

تیرا چہرہ ہے یا ہے آئینہ : انور زاہدی


آخر شب میں پھر ہوا کیا ہے
کوئ تارہ فلک سے ٹوٹا ہے
شہر گلیاں مکان سب خاموش
جیسے آسیب کوئ اُترا ہے
 تیرا چہرہ ہے یا ہے آئینہ
جب بھی دیکھا ہے دن نکلتا ہے
ایک گھر مُنتظر ہے جو شاید
رات دن اک دیا سا جلتا ہے
آخری پہر ہو گیا شب کا
کوئ آتا ہے ایک سائہ ہے
کوئ تعویز اس بلا کے لئے
روگ یہ عشق کا لگا کیا ہے
چھپ گیا آسمان بادل میں
چاند پھر بھی کہیں نکلتا ہے
پاس جو بھی تھا کر دیا قربان
دیکھنے کو بھلا بچا کیا ہے
ایک آواز سُن سکو گر تم
کس طرح میرا دل دھڑکتا ہے


جمعرات، 6 اگست، 2015

بروک سائیڈ بوٹینیکل پارک کا سحر متاثر کن تھا۔۔ منظر نامے میں داخل ہونے والا شخص خود بھی منظر بن جاتا ہے۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔قسط۔ ۔ 4

 
بروک سائیڈ بوٹینیکل پارک

قدرت کے مناظر مجھے بہت متاثر کرتے ہیں،میری لینڈ،ورجینیا اور واشنگٹن قدرتی سرسبزخوبصورتی سے مالا مال ہیں۔یہ علاقے سیاہ فاموں کے  ہیں یہاں  سیاہ فام خاص طور پر میکسیکنز بڑی تعداد میں آباد ہیں۔امریکہ میں ورجینا نام کی دوریاستیں ہیں ایک ساؤتھ اور دوسری نارتھ۔ایک میں غالب اکثریت سیاہ  فاموں کی ہے اور دوسرے میں گورے۔میری لینڈ میں سیاہ فام زیادہ نظر آتے ہیں یہاں مساجد تو نہیں ہیں لیکن کیمونٹی سنٹر کے ایک ہال میں جمعہ کی نماز کا اھتمام کیا جاتا ہے جہاں نماز کے لئے آنے والوں کی زیادہ تعداد سیاہ فام باشندوں کی ہوتی ہے۔
میں جب سے آیا ہوں،جہاں بھی گیا، اکیلا نہیں تھا،میرے ساتھ ساتھ میری نصف بہتر چل رہی  ہوتی تھیں،ہم دونوں کے درمیان میری جان عنایہ جان ہوتی تھی،ہمارے آگے دنیا کا خوبصورت ترین جوڑا چل رہا ہوتا تھا
عدیل اور رابعہ ہمارے آگے آگے چل رہے تھے۔
کونسا باپ ایسا ہوگا جسے اپنا بیٹا اور بہو دنیا کا خوبصورت ترین جوڑا نہ لگتے ہوں۔ میرے بابا جی سرکار کے نزدیک میں اور لبینہ بھی حسین ترین مثالی جوڑا تھے۔
عدیل اور رابعہ ہمارے ساتھ بہت فرینک ہیں لیکن ہماری موجودگی میں یہاں کے جوڑوں کی طرح ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر نہیں چل رہے تھے حالانکہ ان کے درمیان جو رشتہ تھا وہ ان کی مسکراہٹوں اور ایک دوسرے کی قربت کے احساس سے پھولوں پر شبنم کے قطروں کی مانند ظاہر ہو رہا تھا۔
عدیل نیلی پولو ٹی شرٹ اور جین میں مجھے میری لینڈ بھر میں سب سے وجیح لڑکا لگ رہا تھا اور رابعہ سرخ مرچ جیسی تیزی والے کرتے اور سیاہ ٹائٹ میں سب سے پیاری لڑکی لگ رہی تھی۔
اس وقت ہم برو ک سائیڈ بوٹینیکل پارک جا رہے تھے،اس پارک میں درختوں کے خوبصورت پتوں کے ساتھ ساتھ پھولوں کی مسرور کن فضا انسان کو خود میں سمو لیتی ہے۔رنگ برنگے پھول جو برصغیر کی فضا میں نظر نہیں آتے لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہاں صرف ایسا ہی ہے  بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے یہاں درختوں کے پتوں کے بھی کئی رنگ ہیں۔ستمبر کے بعد جب خزان اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے تو یہاں درخت خوبصورتی کا نیا راگ الاپتے ہیں۔ موسمِ بہار کے  بعد خزاں آنے سے پہلے دور دور تک خوبصورتی اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے۔

پارک کے درمیان پکڈنڈی پر چلتے چلتے عدیل پچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ منٹگمری کاونٹی میں موجود یہ پارک   50ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں،امریکہ میں یہ ایوارڈ یافتہ ہیں،یہ  ایوارڈ ان پارکوں کو نہیں ملا ہو گا بلکہ یہ ایوارڈ شاید ان افراد کے لئے ہوگا جو ان کی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوں گے،عدیل کے بتانے پر میرے دل میں ایسا خیال آیا کیونکہ اس طرح کے پارک تو اس سب سے بڑے مصور کی تخلیق ہیں جس نے لینڈ سکیپ کے طور پر دنیا بنائی اس پر پہاڑ جمائے،درخت  و پھول بوٹے اگائے،ان پارکوں کے یہ حسین مناظراس کی ثنائی کر رہے ہیں،میں ان مناظر میں کھویا ہوا خود بھی ایک ایستادہ پودہ ہی لگ رہا تھا جس کا سایہ دوسرے درختوں کی مانند سورج کے مغرب کی جانب ڈھلنے کی بنا پر لمبا ہوتا جا رہا تھا اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا سایہ میرے بڑھتے سائے کو پکڑنے کی سعیِ لاحاصل میں سبزے کے قالینوں پر بھاگا پھر رہا تھا اور یہ  عنایہ تھی میری ننھی پوتی۔
ہاں میں سب سے بڑے مصور کی اس تخلیق میں دور تک اندر جا چکا تھا۔یہ  ایک سحر کا سفر تھا جو میرے اندر جاری تھا۔
ڈھلتے سائے، ہر سو خامشی، نجانے آج پرندے بھی نجانے کیوں خاموش تھے،ہلکے ہلکے بادلوں میں سے در کر آتی سورج کی  روشنی میں اس پارک کے سرو قد پودے زمین کو آسمان سے ملا رہے تھے۔
،،ابو،ابو، عنایہ کو پکڑنا وہ جھیل کی طرف بھاگ رہی ہے،،دور سے آتی رابعہ کی آواز مجھے منظرنامے سے باہر لے آتی ہے اور میں بے ساختہ عنایہ کے پیچھے بھاگتا ہوں کیونکہ آگے ڈھلوان ہے اور بچے اس عمر میں بے خطر بھاگتے ہیں۔
جھیل کے پانیوں میں قطار اندر قطار کھڑے درختوں کا عکس عجیب منظر پیش کر رہا تھا،بروک سائیڈ پارک  کے روشنی میں چمکتے سر سبز درخت، جھیل کے ساکت پانی میں دائرے بناتے چھوٹے چھوٹے کچھوئے،اس ہٹ سے بہت خوش نما لگ رہے تھے،اس جیسے منظر نامے میں داخل ہونے والا شخص خود بھی منظر بن جاتا ہے۔
مجھے ہر طرف خامشی لگ رہی تھی،نہ شہر میں سنائی دینے والا  شور تھا اور نا کسی پتے کے ہلنے کی صدا تھی، نا شہر میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے ہمہ وقت ہارنوں کی کوئی آواز، یہاں کا منظر بالکل ایک ساکت تصویر کی مانند تھا۔یہ پارک اتنا بڑا تھا کہ ہمارے ساتھ پارک  میں داخل ہونے والے افراد نجانے پیچھے کس سمت مڑ گئے تھے۔
اچانک سامنے ایک خوبصورت ہٹ نظر آیا جہاں ایک چینی یا شاید جاپانی جوڑا اپنی محبت کو امر کرنے میں مصروف تھا اور ایک تیسرا فرد ان کے اس محبت نامے کو کیمرے میں محفوظ کر رہا تھا،میں نے ادھر ادھر دیکھا لیکن بچہ لوگ اس منظرنامے سے پہلو تہی کرتے ہوئے ایک دوسرے راستے کی جانب مڑ کر آگے جا چکے تھے،میں اپنے پیر میں موجود 

 ویری کوز وینز میں کھچاؤ کی بنا پر پیچھے رہ گیا تھا،میں نے ایک اچٹتی سی نظر اس جوڑے پر ڈالی اور اسی راہ پر چل دیا جس پر میرے بچے گئے تھے۔
جھیل کا پانی ایک تنگ  راستےسے دوسری جانب جا رہا تھا اس رستے میں انتظامیہ نے زگ زیگ کی شکل میں پتھر رکھے ہوئے تھے جن پر پیر رکھ کر دوسری جانب اسی پکڈنڈی کے تسلسل پر ہمیں آگے جانا تھا،اس منظر کو دیکھ کر مجھے مصطفی زیدی کا شعر یاد آ گیا۔
انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
بعض اوقات ایسی باتیں ذھن میں در آتی ہیں جو پوری طرح منظر میں فٹ نہیں آتیں لیکن کوئی ایک  چیز  انسانی ذھن کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔
جھیل کے اس تنگ سے راستے کے دونوں جاب میموریل پتھر ایستادہ تھے یا یوں کہہ لیجئے کہ کتبے آویزاں تھے، بچہ لوگ وہیں موجود تھے اس سے پہلے ایک وسیع و عریض سا ڈھلوانی لان تھا جہاں عنایہ ڈھلوان پر نیچے کو بھاگی چلی جا رہی تھی اور عدیل اس کے تعاقب میں تھا۔
خاموشی کے سحر میں ڈوبی اس شام میں، میں نے ان میموریل پتھروں پر نظر ڈالی،یہ پتھر بولنے لگے کہ سن2002میں دو جنونی افراد کی تخریب کاری نے تیرہ معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ان میں سے 10مردوزن کو سنائپرز نے واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں موت کی نیند سلا دیا۔ دوسرا پتھر بتانے لگا کہ مجھ پر ان  دس افراد کے نام کنندہ ہیں جو 

اس 
حادثے میں مارے گئے۔یہاں یہ پتھر اس بات کی گواہی کے لئے لگائے گئے ہیں کہ یہ افراد ہم میں سے تھے اور ہمارے ساتھ کام کرتے تھے اور ان کے لواحقین تنہا نہیں ہیں،ان کی فیملیز کے ساتھ مہربانی کا اظہار کرنے والوں کی محبت کا اظہار بھی ہے۔
میرے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا،جنونیت اور وحشی پن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی کوئی مذہب  نہیں ہوتا،یہ ہر ملک و قوم موجود ہوتا ہے۔یہاں ایک محبت بھرا پتھر شاید لواحقین کے لئے کافی ہوتا ہو گا کہ کچھ مہربان ان کی کفالت کر  دیتے ہیں لیکن کیا کیجئے کہ ہمارے ہاں محبت بھرے پتھروں سے کام نہیں چلتا اور کتنے پتھر لگائے جائیں گے اور کون ان کے لواحقین کی اشک شوئی کرے گا۔جب تک بچہ لوگ آگے چلنے کے لئے تیار نہیں ہو گئے میں نے ان پتھروں پر پر کندہ اور اپنے وطن کے ایسے بے نشان افران کے احترام میں خاموشی اختیار کئے رکھی۔

ہفتہ، 1 اگست، 2015

منٹگمری کاونٹی میری لینڈ نے یادوں کے دریچے کھول دئیے ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط۔--3

منٹگمری کاونٹی۔ وڈ سائیڈ پارک


شام کو عنایہ پارک جانے کی ضد کرتی تو ہم سب پیدل ہی اسے سٹولر میں ڈال کر قریب کے پارک میں لے جاتے،یہ کوئی زیادہ بڑا پارک نہیں ہے لیکن اس تک جانے میں  میرے سیر کے کیڑے کو خوراک مل جاتی تھی۔ مجھے ابھی تک اس پارک کا نام معلوم نہیں تھا کیونکہ کئی بار پارک جانے کے باوجود کبھی پارک کے بورڈ پر نظر ڈالنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اس روز بھی عنایہ پارک جانے کے لئے بضد ہوئی تو ہم عنایہ کو لے کر پارک لے آئے۔ننھی عنایہ ایک جھولے سے دوسرے جھولے تک بھاگنے لگی،ماں باپ اور دادی بھی اس کے ساتھ ساتھ پھر رہے تھے،پارک میں ہر رنگ و نسل کے بچے اور ان کے پیچھے بھاگتی مائیں،میں اکیلا ہی ایک قدیم سے لکڑی  کے بینچ پر بیٹھ گیا۔میں نے نظر اٹھا کردیکھا تو آج پہلی باراس پارک کے نام کے بورڈ پر پڑی جو وہاں سڑک کے کنارے استادہ تھا،وڈ سائیڈ پارک،پارک کے نام سے ہوتی ہوئی میری نظر منٹگمری کاونٹی پر ٹک کر رہ گئیں۔
منٹگمری کاونٹی کی تاریخ منٹگمری(ساھیوال) سے اس طور مماثلت رکھتی ہےکہ منٹگمری کاونٹی کورچرڈ منٹگمری  نے جب کے منٹگمری(ساھیوال ) کو پنجاب کےلیفٹینٹ گورنر سر رابرٹ منٹگمری نے بسایا۔یہ بات اگرچہ متنازعہ ہے کہ امریکہ کس نے دریافت کیا لیکن مروجہ تاریخ کو ہی مان لیا جائے کہ کرسٹوفر کولمبس نے1493میں امریکہ دریافت کر لیا تھا۔ منٹگمری کاونٹی کی تاریخ 1776میں شروع ہوتی ہے  جبکہ  منٹگمری(ساھیوال) 1865میں لیفٹینٹ گورنر سر رابرٹ منٹگمری کی وفات کے بعد منٹگمری کہلایا لیکن یہ ہڑپہ 
کی  قدیم تہذیب کا نو ہزار سال قبل مسیح کا تسلسل لئے ہوئے ہے۔
بچوں کے لئے توشاید اس لفظ،،منٹگمری،، میں کوئی خاص کشش نا تھی لیکن میں لمحوں میں اپنے ماضی میں پہنچ گیا۔منٹگمری(ساھیوال) میری جنم بھومی جس سے میری یادیں جڑی ہیں،ماہی شاہ کے قبرستان میں میرے ماں باپ محوِ خواب   ہیں۔جہاں میں نے اپنے بابا جی سرکار،اپنے والد سے پہلا لفظ بولنا سیکھنے سے  لے کرقلم کی حرمت تک کا درس 
لیا،دوستوں کی صحبت میں کیفے ڈی روز  کے شب و روز۔بزمِ فکر وادب میں بیتا ایک ایک لمحہ،اسٹیڈیم ہوٹل پر مجید امجد کی صحبت میں گذرا ہوا وقت،شہر کے بیچوں بیچ بہتی نہر جو ہمیں دریائے ٹیمز لگتی تھی کے کنارے ٹہلنا،اسی نہر کے کنارے لگے ہرے بھرے چتناروں پر چلتے تیشوں پرمجید امجد کے قلم سے نکلی ایک کرب ناک چیخ جس نے ان کی حساسیت کو دنیا پر آشکار کر دیا۔
بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر،بانکے پہرے دار
کھنے،سہانے۔چھاؤں چھڑکتے،بور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
گری د ھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار
کٹتے ہیکل۔جھڑتے پنجر،چھٹتے برگ و بار
سہمی دھوپ کے رد و کفن میں لاشوں کے انبار
آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پہ بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل
یہ درخت جن کے کٹنے پرمجید امجد کے اندر ایک حساس انسان چیخ اٹھا تھا،یہاں امریکہ میں کسی شاعر کو چیخنے کا موقع نہیں ملتا کیونکہ یہ نیچر سے پیار کرنے والی قوم ہے،یہاں ہر طرف ہریالی بکھری ہے،درختوں کی بہتات ہے،لیکن یہاں کوئی ٹمبر مافیا نہیں ہے۔ہر طرف گھنے جنگل نما پارک بھی ہیں جہاں قدرتی طور پر عمر رسیدہ ہو کر گر جائے تو یہاں کی انتظامیہ سے گرا رہنے دیتے ہیں ما سوائے اس درخت کے جو سٹرک پر گر کر سڑک کو بلاک کو بلاک کر دے کیونکہ ان کا ماننا ہے کے یہ ایک نیچرل عمل ہے۔
منٹگمری(ساھیوال) کی نہر کے کنارے واقع کنعان پارک میں داخل ہوتے ہی ہمارے کانوں میں مجید امجد کی نظم توسیعِ شہرکی گونج  لاشعوری طور پر سنائی دیتی ہے۔کیفے ڈی روز پر منعقد ہونے والی مجلسِ فکر نو کی محفلیں،راؤ شفیق،نعیم نقوی،ارشد رضوی،رانا زاہد،کامران،وارث انصاری،ارشد چوہدری،اور بہت سے دوست،سنیئرز میں حاجی بشیراحمد بشیر،گوہر ہوشیار پوری،جعفر شیرازی،                                یسینٰ قدرت،اکرم کلیم،غلام فرید کاٹھیہ اور جانے کتنے لوگ تھے جو وہاں رونق افروز ہوتے تھے۔منٹگمری(ساھیوال) میری یادوں، میری انسپریشن کا مرکز و محور ہے۔یادوں کا ایک سلسلہ تھا جو بہتا چلا آ رہا تھا۔
اچانک بھاگتی ہوئی ننھی عنایہ زور سے مجھ سے ٹکرائی۔اور،،ابو،، کی آواز مجھے پھر پارک کے اس بینچ پر لے آئی جہاں میں بیٹھا تھا،میں نے عنایہ کی جانب دیکھا تو چڑھی ہوئی سانس کے ساتھ اس کے چہرے پر مسرت کے دھنک رنگ جھلملا رہے تھے۔ بچوں کی یہ عادت مجھے بہت پسند ہے کہ سیر حاصل کھیل کود کے باوجود ان کا دل نہیں بھرتا،عنایہ بھی اپنے باپ پر گئی ہے۔میں اور میری بیگم دونوں اپنے اپنے کام سے واپس آتے تو سارا دن کی تھکن چاہتی تھی کہ تھوڑا ریسٹ  کیا جائے لیکن عدیل کہیں نا کہیں جانے کے لئے تیار بیٹھا ہوتا تھا حالانکہ وہ بھی سکول سے آیا ہوتا تھا لیکن بچوں میں انرجی بھری ہوتی ہے،ہمارے آتے ہی جوائے لینڈ یاکسی اور جگہ جانے کا تقاضا شروع ہو جاتا اور ہم اسے لے کر نکل جاتے،جوائے لینڈ کی ساری رائیڈز پر دو،دو بار بیٹھنے کے باوجود اس کا دل نہیں بھرتا تھا،عنایہ بھی عدیل کی طرح دبلی پتلی سی ہے لیکن انرجی ہے کہ کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔
پارک سے واپسی کے لئے عدیل نے بڑی مشکل سے اسے سٹولر میں بٹھایا اور ہم واپسی کے لئے روانہ ہوئے۔راستے میں چلتے چلتے میں نے عدیل سے پوچھا،،یہ منٹگمری کاونٹی ہے؟،،
،،جی پاپا،میری لینڈ میں تین کاونٹیاں ہیں۔منٹگمری واحد کاونٹی ہے جہاں انگریزوں کی تعداد سب سے زیادہ  ہے ورنہ دوسری کاونٹیوں میں میکسیکنز نیگرو بھرے ہوئے ہیں۔بنیادی طور پر کاونٹی کو اگر پاکستان کے نظام میں دیکھا جائے تو یہ ڈویژن کی حیثیت رکھتا ہے۔