ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 29 جولائی، 2015

یو ایس کیپیٹل کی عمارت دو سو پندرہ سال پرانی ہے ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔۔قسط-2

اجنبی شہر میں عید

پاکستان سے ہم بائیس روزے گذار کر چلے تھے،باقی روزے یہاں بچوں کے ساتھ رکھے لیکن یہ روزے بڑے پھیکے پھیکے تھے،نا اذان کی آواز،نا نزدیک کوئی مسجد،بس فون پر سیٹ کی ہوئی واشنگٹن کے وقتِ سحرو افطار پرابھرنے والی اذان ربورٹ کی طرح سحری اور افطاری کرا دیتی تھی،سچ مانیں اپنا پاکستان بہت یاد آیا،یوں ایک ہفتہ اسی حالت میں گذرا اور پھر عید کا دن آ پہنچا۔پاکستان میں تو عیدبڑے اھتمام سے منائی جاتی ہے لیکن یہاں وہ نظارے کہاں،چاند رات کو دو آپشن تھے ایک تو یہ کہ چاند رات میلے میں چلے جاتے،جہاں کھانے پینے کے سٹال لگے ہوتے اور پاکستان یا ہندوستان کا کوئی تھکا ہوا گلوکار آپ کو بوریت کی انتہا کو پہنچا دیتا  دوسرا آپشن عدیل نے یہ ہمارے سامنے رکھا کہ چلیں واشگٹن ڈی سی چلتے ہیں جہاں امریکہ کے کچھ مقامات  دیکھ لیں گے،ہمیں چاند رات میلے میں تو کوئی دلچسپی نہیں تھی سو فیصلہ یہ طے پایا کہ واشنگٹن کی سیر کی جائے
واشنگٹن ڈی سی میں  عدیل نے موونومنٹ کے نزدیک پارکنگ ایریا تلاش کرکے گاڑی پارک کی۔ امریکہ کا کوئی بھی شہر 

ہو پارکنگ تلاش کرنا سب سے مشکل کام ہے۔  سڑک سے موونومنٹ تک خاصی چڑھائی ہے،وہاں پہنچ کر عدیل نے ہمیں ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس جانب امریکہ
کے ایک اہم صدر ابراہم لنکن کی سمادی ہے، 
میں
نے پوچھا کہ کیا وہ یہاں دفن ہے،اس نے بتایا کہ نہیں دفن تو وہ کسی قبرستان میں ہی ہو گا یہاں اس کا دیوقامت مجسمہ رکھا ہوا ہے،یہ اس کی یادگار ہے۔موونومنٹ سے چاروں جانب ایک ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر یادگاریں ہیں،ابراہم لنکن میموریل کے بالمقابل یو ایس کیپٹل ہے جسے غلط العام میں وائیٹ ہاوس سمجھا جاتا ہے لیکن یہ امریکی حکومت کے قانون ساز ادارے کانگرس کی اسمبلی ہے،یہ عمارت دو سو پندرہ سال پرانی ہے اس عمارت کی تعمیر 1793میں شروع ہوئی اورسن1800میں اسے استعمال کے لئے کھول دیا گیااسے روسل سینٹ آفس بلڈنگ بھی کہا جاتا ہے۔سن1800میں جب یہ عمارت مکمل ہوئی تو اس وقت اس عمارت کے اوپر نظر آنے والا گنبد تعمیر نہیں ہوا تھا بعد میں اس کے توسیعی منصوبے کے تحت اس میں ایک بڑے گنبد(ڈوم) کا اضافہ کیا گیا۔اس عمارت کو نیوکلاسیکل سٹائل میں سفید بیرونی منظر کے ساتھ تعمیر کیا گیا۔اس عمارت کے اگرچہ دو فرنٹ ہیں لیکن اس کا مشرقی فرنٹ ہی وفود کے استقبال کے لئے استعمال ہوتا ہے۔یہ عمارت گذشتہ دو سو سال میں کئی بار تباہ ہوئی لیکن اس کی ساتھ ساتھ مرمت  اور تزئین و آرائش کا کام جاری رہتا ہے۔اب بھی ایسا ہی کچھ کام ہو رہا ہے جس کے لئے اس کے گنبد کے ارد گرد سٹیل کے مچان اور سہارے لگائے گئے ہیں سن2014سے شروع ہونے والا یہ کام سن2017کے اوائل میں مکمل ہو سکے گا۔

عدیل کو یہاں آئے چار پانچ سال ہو گئے ہیں اس لئے اسے اب یہاں کے بارے میں کافی معلومات ہیں۔ جب وہ یہ سب کچھ مجھے بتا چکا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اگر یہ وائیٹ ہاوس نہیں ہے تو وائیٹ ہاوس کدھر ہے،موونومنٹ پر کھڑے کھڑے اس نے کہا کہ دو اطراف کا تو میں نے آپ کو بتا دیا اب وہ تیسری جانب دیکھئیے وہ رہا وائیٹ ہاوس،درختوں کی اوٹ سے ایک سادہ سی عمارت اپنی ہلکی سی جھلک دکھا رہی تھی ا ور چوتھی طرف امریکہ کے تیسرے صدر  جیفرسن کی سمادی نظر آ رہی تھی،مجھے وائیٹ ہاوس دیکھنے کا شوق تھا لیکن رات کافی ہو گئی تھی اور اگلے روز عید تھی اس لئے ہم نے واپسی کی راہ لی۔
گھر پہنچ کر ہمارا چائے کا مطالبہ زور پکڑ گیا اس لئے خواتین آتے ہی کچن میں چلی گئیں۔اور عدیل بتانے لگا کہ یہاں عید کی نماز کے تین ٹائم ہیں،ایک صبح سات بجے،دوسرا  ساڑھے دس بجے اور تیسرا ساڑھے گیارہ بجے۔اب ایسا ہے پاپا،عدیل نے کہا کہ آفس سے آنے کے بعد ابھی ہم واشنگٹن کا چکر لگا کر آئے ہیں۔ اور میں بہت تھک گیا ہوں سات بجے کے لئے پانچ بجے اٹھنا پڑے گا جو میرے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے ایسا کرتے ہیں ساڑھے دس بجے والی نماز پڑھ لیتے ہیں،میں نے کہا چلو ٹھیک ہے،کہاں ہوتی ہے نماز،مسجد کدھر ہے،یہاں مسجد تو نہیں ہے،مسلم کیمونٹی کوئی ہال کرایہ پر لے لیتی ہے اور وہاں نماز کی ادائی ہوتی ہے۔یہاں سے ایک گھنٹہ کی مسافت پر ورجینیا میں مسلم کیمونٹی والوں نے عید کی نماز کا انتظام کیا ہے،اور بھی ایک دو جگہ ہے لیکن ہم  وہیں پڑھیں گے وہاں احرار بھائی وغیرہ بھی آ جائیں گے،مجھے نام تو معلوم نہیں تھا میں نے پوچھا یہ احرار کون؟۔عدیل نے کہا آپ شازیہ باجی کو جانتے ہیں نارابعہ کی کزن جو یہاں ہی ہوتی ہیں،میں نے ہاں میں سر ہلا دیا،تو احرار بھائی ان کے میاں ہیں، اوہ اچھا،میں نے کہا۔
میری لینڈ،واشنگٹن اور ورجینیا،راولپنڈی اسلام آباد کی مانند جڑواں اسٹیٹس ہیں۔عدیل میری لینڈ کے شہر سلور سپرنگ میں واشنگٹن کے بارڈری علاقے میں رہتا ہے وہاں سے پہلے واشگٹن میں داخل ہوتے ہیں اسے کراس کرتے ہوئے ورجینیا پہنچ جاتے ہیں انٹرسٹیٹ ہائی نمبر495ان اسٹیٹس کو ملانے والی شاہراہ ہے۔
عید کے روز ہم تقریباََ ساڑے نو بجے گھر سے نکلے اور اس ہال میں پہنچ گئے جہاں نماز کا اھتمام تھاوہاں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا جس سے لگ رہا تھا کہ واقعی عید ہے،ایک بات جو میں نے محسوس کی کہ لوگ پکنک منانے کے سے انداز میں وہاں آئے ہوئے تھے،مرد،عورتیں،بچے سبھی وہاں تھے،زیادہ تر لوگ مغربی لباس میں ہی تھے لیکن بہت سی فیملیز پاکستان کے قومی لباس میں بھی تھیں جن میں ہم بھی شامل تھے،آٹھ دس دن کے بعد شلوار کرتے میں امریکہ میں بھرنا اچھا لگ رہا تھا
ہال کے اگلے حصے میں مردوں کا انتظام تھا درمیان میں ایسے افراد کے لئے جو بیٹھ کر نماز ادا نہیں کر سکتے،کرسیوں کا انتظام تھا پیچھے عورتیں نماز کے لئے موجود تھیں۔
یہ سب کچھ اپنی جگہ تھا لیکن عید کی نماز پڑھنے کا مزا اپنے پاکستان میں ہی آتا ہے یا ہمیں پاکستان میں ادا کی جانے والی نماز کا انداز پسند ہے،یہاں  جماعت کھڑی کرنے سے پہلے خطبے کی بجائے مسلم کیمونٹی کے لئے کام کرنے والے خواتین وحضرات کے تعار ف کا ایک سلسلہ ہوا،جو صفوں کے سامنے قطار میں کھڑے تھے،پھر مختلف  اعلانات کئے گئے اور پھر جماعت کھڑی کر دی گئی۔
پاکستان سے امریکہ آ بسنے والی اداکارہ ریما بھی خواتین والے حصے میں موجود تھی،جب ہم نماز کے بعد وہیں ایک حلال ریستوران میں لنچ کرنے جا رہے تھے تو ہماری بہو نے ہمیں بتایا۔بڑی سادہ سی لیکن اچھی لگ رہی تھی ریما اس نے بتایا۔
ریستوران میں احرار  اور شازیہ نے منع کرتے کرتے نجانے کیا کچھ منگو ا لیا۔
کھانے کے بعد سلفیوں کا ایک دور چلا،یہ سیلفی کلچر نجانے ہم میں کہاں سے آ ٹپکا ہے۔ 

جمعہ، 24 جولائی، 2015

ارے یار امریکہ کتنا سرسبز ہے ۔۔۔۔۔ دیکھا تیرا امریکہ؛ ۔۔۔ قسط-1



فڈلر لین،سلور سپرنگ۔ میری لینڈ



عدیل کے ساتویں منزل پر واقع فلیٹ کی دیوار گیرکھڑکی سے باہر کا منظربہت حسین لگ رہا تھا۔میں نے ایک نظر ادھر ڈالی،پاس کھڑے عدیل نے ہمارا سامان فرش پر رکھتے ہوئے کہا کہ پاپا وہ سامنے سڑک کے اس پار جوسفید سی بلڈنگ نظر آ رہی ہے  وہ دنیا کے مشہور ومعروف چینل ڈسکوری کا ہیڈ کوارٹر ہے،اس کے دائیں جانب والی بلڈنگ میں میرا دفتر ہے۔میرے اس فلیٹ سے چند منٹ کی دوری پر۔
سلور سپرنگ ایک بہت چھوٹا سا شہر تھا اب سے دس بارہ سال پہلے یعنی سن2003 تک پھر اسی سال جب ڈسکوری چینل نے اپنا ہیڈ کوارٹر یہاں بنانے کا فیصلہ کیا تواس کے چار ہزار ملازمین کو بسانے کے لئے رہائش گاہوں کی ضرورت بھی محسوس ہوئی یوں یہ شہر پھیلتا چلا گیا۔
میں نے بتیس(32) گھنٹے کے سفر کی تھکان سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ ایک بار پھر باہر کی جانب دیکھا اور اس کی ہاں میں ہاں ملا دی۔
میری بہو رابعہ نے تھکان میری آنکھوں میں پڑھ لی تھی اس نے کہا کہ ابو آپ تھوڑا آرام کرلیں،جیٹ لاگ سے نکلنے میں کچھ ٹائم لگے گا۔
---0---0--- 
جہاز کی رفتار کچھ کم ہونے لگی اور وہ بلندی سے نیچے آنے لگا، ساتھ ہی پہلے عربی اور پھر ساتھ ہی انگریزی میں اناؤنسمنٹ ہوئی کہ ہم چند منٹ میں ابوظہبی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے والے ہیں۔اسی کے ساتھ ہی جہاز میں ہلچل شروع ہو گئی۔لوگ اپنا اپنا سامان ہاتھوں میں پکڑنے لگے۔ اوپر والی کیبنٹوں سے بیگ،بریف کیس اور بنڈل اتارنے لگے،نجانے ہمارے لوگوں میں اتنا اتاولا پن کیوں ہے؟
اب جہاز ابوظہبی کے رن وے پر اتر گیا تھا اور تیزی سے دوڑ رہا تھا۔کچھ لوگ ابھی سے باہر نکلنے کی بیتابی میں اٹھ کھڑے ہوئے تھی جبکہ کچھ آرام سے بیٹھے جہاز کے رکنے کا انتظار کر رہے تھے۔
ابو ظہبی کا ہوائی اڈہ کافی بڑا ہے جگہ جگہ جہاز کھڑے تھے۔رن وے بھی خاصا بڑا لگتا تھا۔آج جہاز میں سے اس وسعت کا اندازہ ہو رہا تھا،اس سے پہلے متحدہ عرب امارات آنا ہوا تھا،دبئی سے میرا بھانجا اویس عزیز ہمیں ایک روز ابو ظہبی اپنے گھر لے گیا تھا،وہاں ابو ظہبی دیکھا تھا،لیکن ایئرپورٹ اب دیکھ رہے تھے۔
ابوظہبی، متحدہ عرب امارات کا آبادی کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا شہر اور ابوظہبی امارات کا دارالخلافہ ہے۔اس کے علاؤہ امارات میں شامل7ریاستوں میں سے سب سے بڑی ریاست بھی۔ابوظہبی ٹی شکل کے ایک جزیرے  پر پرشین گلف کے ایک سرے پر واقع ہے۔اس خطے میں یہ شہر چوتھا اور دنیا میں 68واں مہنگا ترین شہر ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بقول فارچون میگزین اور سی این این،ابوظہبی دنیا کا امیر ترین شہر ہے جس کی فی کس آمدنی 61ہزار امریکی ڈالر ہے۔یہاں تیل کی دریافت کا کام سن 1930میں شروع ہوا لیکن تیل کے کنوؤں کی کھدائی کا اصل کام1939 میں ایک 75سالہ معاہدے کے تحت ہوا۔یہاں کے ریگستانوں میں تیل کے ذخائر کی دریافت نے ابوظہبی کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔خلیج کے قیمتی پرلز/موتی یہاں کی مصنوعات ہیں جو دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی اور قیمتی ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔تیل کی دریافت سے پہلے ابوظہبی کی آمدن کا یہی ذریعہ تھا۔
یہاں موسم گرما مئی سے شروع ہو کر ستمبر تک جاری رہتا ہے جس میں درجہ حرارت40ڈگری سے42ڈگری تک رہتا ہے،ان دنوں کے علاؤہ موسم بہتر ہی رہتا ہے۔یہاں کی کرنسی درہم،زبان عربی اور مذہب اسلام ہے۔
ہمارا جہاز اب آہستہ آہستہ جیٹی کی طرف بڑھ رہا تھا۔جب جہاز کا دروازہ جیٹی کے دروازے میں فٹ ہو جاتا ہے تو جہاز کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔جیٹی اس ٹنل کو کہتے ہیں جس میں جہاز کا دروازہ کھلتا ہے اور مسافر اس ٹنل میں سے گذر کرلاؤنج میں پہنچتے ہیں۔
جہاز جب رن وے پر اتر کر جیٹی کی جانب بڑھ رہا تھا تو میں نے بھی اٹھ کر سامان نکالنے کے لئے اتاولا ہونے کی کوشش کی لیکن ساتھ بیٹھی ہماری بیگم نے ہمیں اٹھنے سے روک دیا کہ جہاز رک جائے تو اتاریں گے لیکن  تقریباََسارے ہی مسافراس وقت تک سامان اتار کر کھڑے ہو چکے تھیھالانکہ جہاز کے کپتان کی جانب سے بار بار اناؤنسمنٹ ہو رہی تھی کہ جب تک جہاز مکمل طور پر رک نا جائے مسافر اپنی سیٹوں پر ہی بیٹھے رہیں۔
جہاز رکنے پر ہم نے بھی سامان  اوپر کیبن سے اتارا اور لائن میں کھڑے ہو گئے،کچھ ہی دیر میں جہاز کا دروازہ کھول دیا گیا،ہمارے آگے لائن بنائے کھڑے لوگ آے کو چلے تو ہم بھی چل دئیے اور کچھ ہی دیر میں جیٹی سے ہوتے ہوئے لاؤنج میں آگئے۔ہمارا جہاز ابوظہبی کے وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے پہنچا تھا،وقت کی گنتی کے لحاظ سے اگلا دن شروع ہو چکا تھا۔
لاؤنج بہت بڑا زسر کافی لمبا تھا۔صاف ستھرا۔ہرچیز چمک رہی تھی۔ لاؤنج میں کافی چھوٹی بڑی ڈیوٹی فری شاپس تھیں،جہاں چاکلیٹس اور دیگر سویٹس  عام پڑی نظر آ رہی تھیں اس کے علاوہ ہر طرح کی اشیاء،گھڑیاں،کرسٹل کے ڈیکوریشن پیسز،الیکٹرونک کا سامان،کاسمیٹکس،غرضیکہ ہر قسم کا سامان اسٹوز میں موجود تھا،پرفیومز کی تو بہت ساری دکانیں تھیں۔میں کم اور ہماری بیگم دکانوں میں پڑی چیزوں کو بغور دیکھ رہی تھیں
میں نے پوچھا،،لبینہ،،
،، جی،،
،،کچھ خریدنا ہے،، میں نے پوچھا
،،نہیں کچھ نہیں،،
تو چلو گیٹ نمبر60کی طرف چلتے ہیں جہاں پری کلیرنس ہونی ہے۔ہم گیٹ 60کی تلاش میں چل دیئے۔
---0---0---
ابوظہبی کے ایئرپورٹ پر گذرے ساڑھے گیارہ گھنٹے بڑے بورنگ تھے۔بیٹے نے یہ سوچ کر آگے امریکہ تک کی فلائیٹ گیارہ گھنٹے بعد کی لی تھی کہ ابوظہبی ایئرپورٹ پر پری کلیرنس میں کہیں ہماری فلائیٹ چھوٹ نا جائے، ایک لحاظ سے ہماری عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے صحیح ہی سوچا تھا لیکن ابوظہبی ایئرپورٹ پر امریکی کسٹم اور بارڈر پروٹیکشن کے دفتر میں فلائیٹ کی روانگی سے تین سے چار گھنٹے سے پہلے چیکنگ شروع نہیں ہوتی۔اس چیکنگ کا ایک 

فائدہ ہوتا ہے کہ امریکی ایئر پورٹ پر کسی قسم کی چیکنگ نہیں ہوتی۔ہم رات ساڑھے بارہ بجے ابوظہبی پہنچے تھے جبکہ ہماری امریکہ کی فلائیٹ دن میں ساڑھے گیارہ بجے تھی،ہمارا بھی اور عدیل کا بھی یہی خیال تھا کہ پری کلیرنس سے فارغ ہو کر ہم لاونج میں وقت گذار لیں گے،اسی خیال کے تحت ہم گیٹ 60کے سامنے لگی لائن میں جا لگے،اپنی باری پر جب ہم اتحاد ایئرلائن کے ہیلپ کاونٹر پر پہنچے جہاں موجود افسر امریکی پری کلیرنس کی جانب رہنمائی کر رہا تھا،نے ہمارے بورڈنگ کارڈ دیکھتے ہی کہا کہ ہم صبح سات بجے کاونٹر پر آئیں۔میں اور میری اہلیہ واپس آ گئے اور گیٹ 60 سے تھوڑے فاصلے پر پڑے ایک صوفے پر دراز ہو گئے،نیند آنکھوں سے غائب تھی،رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹ کر ہم ساڑھے چھ بجے ہی ہیلپ کاونٹر پر جا کر کھڑے ہو گئے۔
---0---0---
  شیشے کے گھر میں براجما ن امریکی امیگریشن آفیسرنے ہم سے پاسپوٹ لے لئے اور اپنے کمپیوٹرمیں کھو گیا،اس کے اس انداز سے مجھے لوگوں سے سنے ہوئے ان کے رویے کی توقع ہونے لگی لیکن کچھ بھی نا ہوا،مسکراتے چہرے کے ساتھ اس نے چند سوال کئے۔
،،آپ کی عمر کیا ہے،،اس نے پوچھا
،،باسٹھ(62)سال
،،امریکہ کس لئے آئے ہیں،،اس نے سوال کیا۔
،،اپنے بیٹے سے ملنے جو امریکہ میں سافٹ ایئر انجینئر ہے،،میں نے بڑی رسانت سے جواب دیا۔
،،وہ کب سے یہاں ہے،،
،،تین،چار سال ہو گئے ہیں،میں نے جواب دیا۔
،،آپ کیا کرتے ہیں،،
،،میں ایک ریٹائرڈ افسر ہوں،،میرا جواب تھا۔
،،یہ سامان آپ کا ہے،،اس نے ہمارے سوٹ کیس سکرین پر دکھاتے ہوئے کہا۔
،،جی  ہاں،،یہ دو براؤن،ایک گرین اور ایک ریڈ سوٹ کیس ہمارے ہی ہیں،میں نے اپنے سامان کی تصدیق کی۔
،،یہ گرین سوٹ کیس میں کچھ بکس نما چیزیں نظر آ رہی ہیں یہ پیکٹس کیا ہیں؟اس نے پوچھا
،،یہ میری کالموں اور مضامین پر مبنی کتاب ہے،میں نے جواب دیا۔
،،اوہ، تو آپ رائیٹر ہیں،،
،،جی ایک چھوٹا سا لکھاری ہوں،،میں نے جواب دیا۔
،،اوکے سر،،میں آپ کے پاسپورٹ کسٹم آفیسر کو دینے جا رہا ہوں،آپ اس سامنے والے کمرے میں تشریف رکھیں،،

وہ ویٹنگ روم سادہ سا کمرہ تھا جس میں صوفے بچھے ہوئے تھے،پانی کی بوتلوں کے کریٹ پڑے تھے،اخبارات کا ایک ریک تھا اور ہم چند مسافر۔
سوال و جواب میں کچھ نہیں تھا لیکن ایک ڈر تھا،ایک امریکی امیگریشن افسر کے پاس بڑے اختیار ہوتے ہیں،وہ بغیر کسی وجہ کے باقاعدہ ویزہ  ہونے کے باوجود آپ کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک سکتا ہے،سوال و جواب کا یہ سلسلہ اگرچہ پانچ چھ منٹ سے زیادہ کا نہیں تھالیکن اس سوال جواب کے سلسلے نے میرا حلق خشک کر دیا تھا،میں نے پانی کی بوتل کھولی اور ایک ہی سانس میں پوری بوتل پی گیا۔
ابھی میں نے بوتل ختم کرکے خالی بوتل ڈسٹ بن میں ڈالی ہی تھی کہ کسٹم آفیسر نے اپنے کمرے میں بلا لیا۔وہ وہاں تنہا ہی تھا،ہمارے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے پوچھا،
،،کتنے عرصے کے لئے آئے ہیں،،
،،میں نے فوراََ کہا کہ تقریباََ دو ماہ رہیں گے،،
،،پکی بات،،
،،جی،، میں نے مختصر سا جواب دیا
،،سامان میں کھانے پینے کی تو کوئی چیز نہیں ہے،،اس نے پوچھا۔
،،جی نہیں،، میرا پھر مختصر سا جواب تھا
،،اوکے،، انجوائے یور سٹے ان یو ایس اے،،یہ کہتے ہوئے اس نے ہمارے پاسپورٹ ہمارے حوالے کئے اور دوسری جانب کا دروازہ کھول دیا جس سے گذر کر ہم ڈیپارچر لاؤنج میں آ بیٹھے۔
لوگوں سے بہت کچھ سنا تھا،ایئرپورٹ پر بدسلوکی ہوتی ہے لوگوں کے کپڑے اتروا کر تلاشی لی جاتی ہے لیکن میرا آج کا تجربہ تھوڑا مختلف تھا،شاید ہمارے ساتھ ان کا سلوک کچھ اس وجہ سے بھی بہتر تھا کہ انہیں چہرہ شناسی کا ملکہ حاصل ہے،تجربہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
اس پری کلیرنس کے بعد ہم ایک طرح سے امریکی حدود میں داخل ہو گئے تھے اگرچہ ابھی ہمیں پندرہ گھنٹے کا اورسفر کرنا تھا۔
---0---0---
جہاز ابوظہبی ایئرپورٹ سے بلندہوا تو مجھے باہر نیچے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا کیونکہ ہماری سیٹیں جہاز کے پر کے نزدیک والی تھیں،کھڑکی سے باہر جہاز کا طویل و عریض پر نظر آ رہا تھا،میں نے باہر سے نظر ہٹا کر جہاز کے اندر نظر ڈالی،میرے ساتھ والی سیٹ پر جو صاحب براجمان تھے انہوں نے جہاز کے اڑتے ہی اپنے سامنے لگی سکرین پر تلاش کر کے کوئی انڈین فلم لگا لی اور ہیڈ فون کانوں پر چڑھا لئے جس کا شاید یہ مطلب تھا کہ ڈونٹ ڈسٹرب۔میں نے تھوڑی دیر بعد ان کی جانب دیکھا تو وہ آنکھیں بند کئے نیند کی آغوش میں جا چکے تھے، فلم کے میوزک نے انہیں لوری دے کر سلا دیا تھا۔
کھڑکی کی جانب سیٹ پر ہماری بیگم آدھی سوئی آدھی جاگتی محسوس ہو رہی تھیں۔میں نے اپنے دائیں،بائیں ایک بار پھر دیکھا پھر سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی،سوچا تھا  دونوں جانب نیند کی دیوی اپنا اثر دکھا چکی ہے شاید مجھ پر بھی کر جائے لیکن نیند کی دیوی مجھ سے ناراض لگتی تھی گذشتہ ساری رات جاگنے کے باوجود نیند میری آنکھوں سے دور تھی۔

وقت تھا کہ گذرنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔میں نے بھی اپنے برابر بیٹھے ہمسائے کی تقلید میں کوئی پاکستانی ڈرامہ یا فلم تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود،وہاں فلم کے نام پر یا انگریزی فلمیں تھیں یا انڈین،مجبوراََ میں نے انڈین فلم لگا لی۔بڑے افسوس کی بات ہے اتحاد ایئر لائن ہمارے برادر مسلم ملک کی ایئر لائن ہے لیکن پاکستان کا وہاں کوئی اثر رسوخ نا تھا،یہ فلم بھی ختم ہو گئی،میں نے ہیڈ فون اتار کر پھرکوشش کی کہ نیند آ جائے لیکن بے سود۔
میں نے کھڑکی کی طرف تھوڑا آگے ہو کر باہر  پیچھے کی جانب دیکھا، ادھر جہاز کا پر حائل نہ تھا،نیچے نیلگوں سطح نظر آئی،اوپر کی جانب دیکھا تو وہاں بھی تقریباََویسا ہی منظر تھالیکن نیچے سے تھوڑا مختلف یعنی بادلوں سے آنکھ مچولی کرتی نیلگوں فضا۔میرے لئے اندازہ کرنا مشکل نا تھا کہ جہاز بحراوقیانوس پر سے گذر رہا ہے۔بحراوقیانوس کے پارنیویارک کے اوپر سے پرواز کرتا ہوا جہاز واشنگٹن ڈی سی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے  گا جہاں میرے بچے عدیل،رابعہ اور ننھی سی عنایہ ہمارے منتظر ہوں گے۔
جہاز دھیرے دھیرے نیچے آ رہا تھا،ایک خاص سطح پر آ کر ایسا لگا جیسے جہاز رک گیا ہو،میں نے گھڑی کی جانب دیکھا،ابھی بھی بیس منٹ باقی تھے۔
امریکہ کے تمام ایئرپورٹس پر جہازوں کا ایک سلسلہ لگا رہتا ہے اس لئے جہاز اپنی باری کے انتظار میں فضا میں منتظر رہتے ہیں۔
جہاز جوں جوں نیچے آ رہا تھا،زمین پر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے سبزے کے تختے بچھے ہوئے ہوں،انہیں دیکھ کر میں نے بیگم سے بے ساختہ کہا کہ یار امریکہ کتنا سرسبز ہے۔
جہاز سے نکل کر ہم دو منزل نیچے آئے،وہاں سے ٹرین میں بیٹھے جو ہمیں لگیج لاؤنج تک لے آئی۔سامنے متحرک بیلٹ کے ساتھ میرے بچے کھڑے تھے،ننھی عنایہ  ابو،دادی کی آوازیں نکالتی ہماری جانب بھاگتی چلی آ رہی تھی۔
عدیل نے مجھے گلے لگاتے ہوئے پوچھا،،پاپا سفر کیسا رہا،، عنایہ اپنی دادی سے لپٹ گئی اور میں ماضی میں کھو گیا۔عدیل پہلی بار سکول ٹرپ کے ساتھ مری گیا ہوا تھا رات گیارہ بجے ان کی واپسی تھی،میں اور اس کی ماں اسے لینے بہت پہلے سکول پہنچ گئے تھے،جب بس سکول پہنچی اور  عدیل بس سے باہر آیا تو میں نے اسے گلے لگاتے ہوئے یہی پوچھا تھا،، عدیل سفر کیسا رہا،، آج برسوں بعد منظر ویسا ہی تھا لیکن میں اسے نہیں،وہ مجھے لینے آیا تھا۔
---0---0--

بدھ، 15 جولائی، 2015

ہم پرورشِ لوح وقلم کرتے رہیں گے۔۔ رضا صدیقی کی کتاب ’کتابیں بولتی ہیں“۔۔ایم زیڈ کنولؔ، چیف ایگزیکٹو،جگنوانٹرنیشنل۔لاہور

کتاب اور انسان کا رشتہ اتنا ہی پرانا ہے جتناکہ خود انسانی تہذیب و تمدن کا سفر اورعلم و آگہی کی تاریخ۔تہذیب کی روشنی اور تمدن کے اجالے سے جب انسانی ذہن کے دریچے بتدریج کھُل گئے تو کتاب کے وسیلے سے اس کے ہاتھ ایسی شاہی کلید آ گئی جس نے اس کے سامنے علم و ہنر کے دروازے کھول دیئے۔ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے، سمندروں کی تہیں کھنگالنے  اور پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے کا شوق اس کے رگ و پے میں سرایت کر گیا۔علم و فن نے اس کی ذہنی نشوونما،مادی آسائشیں اور انقلابِ فکر و نظر کا سامان پیدا کیا۔غرض اس نے شخصیت سازی کا سامان ہی نہیں کیابلکہ زندہ قوموں کے عروج و کمال میں اس کی ہم سفر بن گئی۔زندہ قوموں کا  یہی شعاراور فطرتِ ثانیہ لئے رضا صدیقی بھی ”بولتے کالم “ کے ہمرکاب دبستانِ کتاب میں نئے باب کا اضافہ کرنے کا عزم لئے ہوئے ہیں۔وہ کتابوں کی گفتگو خود ہی نہیں سنتے بلکہ دوسروں کی سماعتوں کے در بھی وا کرنے کااہتمام کرتے ہیں۔ایسا کیوں نہ ہو بابا جی سرکارمرشدِ کامل، اپنے بابا ضیاالحق صدیقی کی محبتیں ان کی ہمرکاب ہیں جو شعور و آگہی کی منزلوں تک جانے کے لئے ان کے راستے کا چراغ ہیں۔’اپنی کتاب’کتابیں بولتی ہیں“کے آغاز میں ہی والٹیئر کی دل کو چھو جانے والی حکایت بیان کر کے انسان اور وحشی کے فرق کو آشکار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
”آپ کو اس حقیقت کا شعور ہونا چاہئے کہ جب سے دنیا بنی ہے، وحشی انسانوں کو چھوڑ کر دنیا پر کتابوں نے حُکمرانی کی ہے“
رضا صدیقی کو اس اَمر کا اِدراک ہے کہ لفظ بولتے ہیں، رقص کرتے ہیں۔اپنی بزم سجاتے ہیں۔ وہ اُن کی بزم میں ”بولتے کالم“ کا مسکن آباد کرتے  ہیں۔ وہیں جہانِ معنی کی سیپیاں  چنتے چنتے اُن پر یہ راز آشکارہوتا ہے کہ ’کتابیں بولتی ہیں“۔وہ ان کی گفتگو سننے کے لئے نظم و نثر کے آستانے کی قدم بوسی کرتے ہیں  تو ”آواز میں لِپٹی خاموشی“ سرحد پار سے ان کے”گلزارِ“ فکر کو معطر کرتی ہے اور پھرکہانیاں اپنی جبلت کے در وا کرتے کرتے ”حنا“بندی کرتی ہیں۔”میّا“اُن کا سواگت کرتی ہے تو اپنے گر دو پیش میں ”فرحت“ کا احساس ہوتا ہے۔اس دبستان میں ”جگنوؤں کے قافلے ان پر معنویت کے رموز آشکار کرتے ہیں تو اُن پر یہ عُقدہ کھُلتا ہے کہ ”مصر میرا خواب“ ہے۔جہاں ”فرشتے کے آنسو“ بھی ہیں،”لمحوں کی قید“ بھی ہے او پھر ”کوئی چور لمحہ“  ،”افسانوی دنیا“ سے ملاقات کا اہتمام کرتا ہے تو ”صبا“ کا جھونکا ”دلِ دردآشنا“ بن کرافکارِ جدید کا پتہ بتاتا ہے۔جہاں ”گمان آباد“ اعجازِ گل لئے  غزل کے روپ میں در آتا ہے اور ا نہیں یوں خراجِ تحسین پیش کرتا ہے،”تیرا احسان غزل ہے“لیکن ان لمحوں کو ابھی کشید کر لو کیونکہ ”موسم کا اعتبار نہیں“ اور”سرد موسم کی دھوپ میں“جلتی ہوا کا گیت“ گایا تو ”خوابوں سے رشتہ ٹوٹ جائے گا“ لیکن نہیں ’ یہ نہ کہنا ”میں آنکھیں بھول آیا ہوں ’‘  کہیں ”کاجل سے خفا آنکھیں“ تصورات کی تصویر کاری“ کرتے کرتے یہ دکھانے نہ بیٹھ جائیں،”تیرے شہرِ وصا ل میں‘‘ یہ حساب ہیں ماہ و سال کے“لیکن اس بات کی فکر دامن گیر نہ کرنا کیونکہ   ”ابھی گفتگو ہونے کے بعد”“آثارِ جنوں“ ظاہر ہوئے بھی تو  ”عشق آباد“سب سنبھال لے گا۔وہاں ”کچی کرن شبنم“ غروبِ شب“ میں ”نیلے چاند کی رات“ اوڑھے جب اُترے گی تو ”ہر سفر دائرہ“ بن کر ”زادِ عشق“ بنے گا۔جہاں ”گیلی چُپ یہ کہے گی،”تیرے دکھ بھی میرے دکھ ہیں“آرزوئے وصال“ اگر ہے  اور ”ایک سفر اندھیرے میں“  درپیش ہے  تو ”دیوار میں دیوار“ ”کوفہئ سخن“ میں لے گئی تو کیا ڈر” نیشِ عشق“سواگت کرنے کو”روحِ سخن“کی بارگاہ میں آیا تو   ”کائنات مٹھی میں“ آنے کو بیتاب ہو گی اور پھر  ”ثنائے سرور ﷺ“  بارگاہ ِ ”اقراء میں آکر“اَنا مدینۃالعلم و علی ؑ بابُھا“ کے طلسم سے شعور و آگہی کے نئے در وا کر کے زمان و مکان کی نئی وسعتوں کا پتہ دے گی۔
رضا صدیقی ان نئی منزلوں، نئے راستوں کے مسافر ہیں آن لائن ادبی ٹی وی دبستان ہو یا بولتا کالم وہ ہر جگہ جدت اور اسلوب کو نمایاں مقام دیتے ہیں۔ زیرِ نظر اس تصنیف کو مرتب کرنے کے لئے  وہ ساگرِ ادب سے نگینے چُن چُن کر لائے ہیں۔ یہاں احمد ندیم قاسمی کا افسانوی سفربھی ہے، گلزار کی گلزاریاں بھی،مشرف عالم ذوقی کی کہانیاں بھی ہیں اور زاہدہ حنا،،نیلم احمد بشیر، سلمیٰ اعوان،ڈاکٹر بلند اقبال، فرحت پروین، محمد حمید شاہد،لیاقت علی،غلام فرید کاٹھیہ،اسلم سحاب ہاشمی،،روحی طاہر،انوار زاہدی کی افسانوی دنیا کی سیر کا اہتمام بھی،جہاں نفسیات، روحانیت  اور قلبی کشمکش سے جُڑی عصری زندگی دھیرے دھیرے یہ کہتی سنائی دیتی ہے۔
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہِہِ شیشہ گری کا
اس بزمِ شیشہ گراں سے نکلتے ہیں تو مجید امجدکی شاعری زمین کی مہک لئے ہوئے، شاعر کے باطن کی دنیا کوخارج سے ہم آہنگ کرتی، دبستانِ نظم کو نیا آہنگ عطا کرتی دکھائی دیتی ہے۔یہاں خالد احمد کا فکری وجدان بھی ہے اور صبیحہ صباکی حساسیت کا چمنستان بھی،اعجاز گل کا اعجازِ گمان بھی ہے تو طاہر سعید کے دوہوں کا بادبان بھی ہے اورظہور الاسلام جاوید کا  جہانِ نکتہ دان بھی ۔یہاں صغیر احمد جعفری کی انفرادیت بھی ہے  اورڈاکٹرصباحت عاصم واسطی کی معرفت و علامت بھی،ڈاکٹر زبیر فاروق کی ایمائیت بھی ہے اورڈاکٹر ثروت زہرہ کی کلاسیکیت بھی،سحر تاب رومانی کی نرگسیت بھی ہے  اورعلامہ عطاء اللہ جنوں کی جدیدیت بھی ، یہاں سید کامی شاہ کی اساسیت بھی  ہے  اور زبیرقیصر کی یاسیت بھی، نوید ملک کی روایت بھی ہے، رخسانہ سحر کا سحرِ محبت بھی،یہاں ناہید وِرک کی رائیگانی بھی ہے، سعید آسی کی سادگی و بے ساختگی بھی۔عباس تابش کی ترکیب سازی بھی ہے  اورعرفان صادق کا حُسنِ تخلیق کاری بھی۔یہاں حامد یزدانی کی امیجری بھی ہے  اورناصر رضوی کی گیت نگاری بھی، زاہد عباس کی نغمگی بھی ہے اورافضال نوید کی وارداتِ قلبی بھی،جعفر شیرازی کی گونہ بے خودی بھی ہے  اور،بشیر احمدبشیر کی عروضی پختگی بھی، یہاں قمر رضا شہزاد کی یاد دہانی بھی ہے اورمحمود احمد محمود کی دوہا نگاری بھی، ناصر شہزاد کی گیت نگاری بھی ہیاور  ارشد ملک کی خود شناسی بھی یہاں واصف سجاد کا فہمِ سخن بھی ہے اور ڈاکٹراحمد علی برقی اعظمی کی روحِ سخن بھی،ایزد عزیز کا جنون بھی ہے تو افتخار شفیع کا ،فنون بھی  اوصاف شیخ کا بے ساختہ پن بھی ہے، ضیاء شاہد کا حُرمتِ فن بھی ہے اورساجد پیر زادہ کا احساسِ جنوں بھی۔ یہاں لیاقت علی عاصم کی غزل گوئی  بھی،یہاں حیدر علی ساحرکی ساحری بھی ہے اور ناصر ملک کی مکالماتی شاعری بھی،یہاں ایم زیڈ کنول ؔ کی کائنات مٹھی میں بھی ہے اورشمس الغنی کاوسعتِ معنی بھی،اور علی رضا کا فنِ نعت گوئی بھی،
رضا صدیقی صاحب! آج کے حبس زدہ دور میں آپ  نے ذہنوں کی طراوت کا جو سامان کیا ہے۔ امید ہے کہ اس کی خوشبو چار دانگِ عالم کو معطر کرنے کا سامان ضرور کرے گی۔ آپ  کا شبستانِ آرزو آباد رہے اور ہماری قوم بھی اس حقیقت کو جان لے کہ۔
”اِس قوم کو جوتوں کی نہیں کتابوں کی ضرورت ہے“ جب تک ہمیں یہ احساس نہیں ہو گا ہم نہ تو شرح خواندگی بڑھا سکتے ہیں، نہ مہنگائی کے جِن کو قابو میں لا سکتے ہیں، نہ دورِ حاضر کے تقاضوں میں اُن کا ساتھ دینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔اور نہ اقبال کے اس خواب کی تعبیر 
ذر انم ہو تو یہ مِٹی بڑی زرخیز ہے ساقی“ کو حرزِ جان جان کر نسلِ نو کی تربیت کا اہتمام کر سکتے ہیں۔
۔بلا شبہ  یہ ادیبوں اور شاعروں کا کام ہے۔آپ نے گروپ بندی کے حصار کو توڑ کر صرف لوح و قلم کی پرورش کا  جوسامان کیا ہے۔ صوت و آہنگ کی جو بزم بسائی ہے یہ دائم آباد رہے۔آمین!
تحریر۔۔ایم زیڈ کنولؔ، چیف ایگزیکٹو، جگنو انٹر نیشنل۔لاہور،ایڈیٹر احساس۔۔جرمنی

منگل، 14 جولائی، 2015

آج اردو کے ممتاز شاعر جناب حمایت علی شاعر کی سال گرہ ہے۔


آج اردو کے ممتاز شاعر جناب حمایت علی شاعر کی سال گرہ ہے۔جناب حمایت علی شاعر14 جولائی 1926ء کو اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے ، قیام پاکستان کے بعد انھوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور۔سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ بعد ازاں وہ اسی جامعہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔جناب حمایت علی شاعر کے چار شعری مجموعے آگ میں پھول ، مٹی کا قرض ، تشنگی کا سفر اورہارون کی آواز شائع ہوچکے ہیں جبکہ ان کتابوں کا انتخاب حرف حرف روشنی کے عنوان سے شائع ہواتھا۔ انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری مثنوی کی ہئیت میں تحریر کی جو آئینہ در آئینہ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ حمایت علی شاعر کی دو نثری کتابیں شیخ ایاز اور شخص و عکس بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اردو شاعری میں ان کا ایک 
کارنامہ تین مصرعوں ہر مشتمل ایک نئی صنف سخن ثلاثی کی ایجاد ہے ۔

سوموار، 13 جولائی، 2015

فضا اُ د اس ہے روشن نہیں کہیں بھی چراغ ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
چلی ہوا تو کوئی یاد آ گیا پھر سے
اُڑی جو خاک تو آ نسو رُلا گیا پھر سے
 ہوا کی طرح لہکتا تھا صحن گُل میں وہ
مہکتے سانس کو جھونکا بنا گیا پھر سے
ہر ایک دل میں تھا روشن چراغ جاں کیطرح
ہُو ا یہ کیا کہ دئیے سب بجھا گیا پھر سے
 یہ علم تھا کہ ہے پت جھڑ کی رُت بہت ظالم
اُ ڑے گی خاک خبر یہ سُنا گیا پھر سے
 فضا اُ د اس ہے روشن نہیں کہیں بھی چراغ
کہ جیسے شام غریباں لگا گیا پھر سے
 رہے گا یاد و ہ انور زماں مکاں کو بھی
اُ ٹھے گا جب کوئی طوفاں بتا گیا پھر سے

منگل، 7 جولائی، 2015

پنواڑی ۔۔۔۔ مجید امجد کی ایک نظم



بوڑھا پنواڑی، اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری
آنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری
نام کی اک ہٹّی کے اندر، اک بوسیدہ الماری
آگے پیتل کے تختے پر، اسکی دنیا ساری
عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری
چونا گھولتے، چھالیا کاٹتے، کتھّا پگھلاتے گزری
سگرٹ کی خالی ڈبیوں کے محل سجاتے گزری
کتنے شرابی مشتریوں سے نین ملاتے گزری
چند کسیلے پتوں کی گتھی سلجھاتے گزری
کون اس گتھی کو سلجھائے، دنیا ایک پہیلی
دو دن ایک پھٹی چادر میں دکھ کی آندھی جھیلی
دو کڑوی سانسیں لیں، دو چلموں کی راکھ انڈیلی
اور پھر اس کے بعد نہ پوچھو، کھیل جو ہونی کھیلی
پنواڑی کی ارتھی اٹھی، بابا اللہ بیلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
صبح بھجن کی تان منوہر جھنن جھنن لہرائے
ایک چتا کی راکھ ہوا کے جھونکوں میں کھو جائے
شام کو اس کا کم سن بالا بیٹھا پان لگائے
جھن جھن، ٹھن ٹھن، چونے والی کٹوری بجتی جائے
ایک پتنگا دیپک پر جل جائے، دوسرا آئے !!!

ہفتہ، 4 جولائی، 2015

پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ناول نگار عبداللہ حسین کئی ماہ کی علالت کے بعد انتقال کرگئے۔


گزشتہ ایک برس سے کینسر کے مرض میں مبتلا معروف ناول نگار عبداللہ حسین 84 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ عبداللہ حسین کے شہرہ آفاق ناول ’اداس نسلیں‘ کو نا صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی بے حد پزیرائی ملی، اداس نسلیں کا خصوصی سلور جوبلی ایڈیشن 2 سال قبل منظرِ عام پر آیا۔ عبداللہ حسین نے یہ ناول 25  برس کی عمر سے لکھنا شروع کیا اور اس کے لیے بھرپور تحقیق کی تھی۔ عبداللہ حسین ناول نگاری کو مشکل اور جبر سے تعبیر کرتے رہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول آج بھی  عوام میں بے حد مقبول ہیں۔
عبداللہ حسین کو حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی صلاحیتوں کے پیش نظر انھیں 2012 میں پاکستان کے سب سے بڑے لٹریچر ایوارڈ ’کمال فن‘ سے نوازا گیا جب کہ ان کے ناول ’اداس نسلیں‘ پر برطانوی نشریاتی ادارے نے ایک دستاویزی پروگرام بھی بنایا تھا جس پر انھیں آدم جی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 2002 میں انھیں رائل سوسائٹی آف لٹریچر کی فیلوشپ بھی دی گئی۔ عبداللہ حسین کے مشہور ناولز میں باگھ، فریب، قید، نشیب، نادار لوگ اور رات شامل ہیں۔