ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


سوموار، 29 جون، 2015

نہ مَیں انکار نہ اثبات میں رکھا گیا ہوں ۔۔ اعجاز گل

نہ مَیں انکار نہ اثبات میں رکھا گیا ہوں
ذرا تشکیک کے شبہات میں رکھا گیا ہوں
طبعِ نازک پہ گراں بار نہ یکسانی ہو
کبھی دن میں تو کبھی رات میں رکھا گیا ہوں
دولتِ ہجر ہی آئی ہے مرے حصے میں
نہ ہی خوباں سے ملاقات میں رکھا گیا ہوں
نہ مسافر یہ ترے شہر میں ٹھہرایا گیا
نہ کہیں سیرِ مضافات میں رکھا گیا ہوں
جیسا تشکیل ہوا ہے یہ خرابہ میرا
ویسی دنیائے خرابات میں رکھا گیا ہوں
بحث مجھ خلق کے اسباب و علل کی بیکار
خاک تھا خاک کی اوقات میں رکھا گیا ہوں
میرے افعال کی پہلے سے خبر تھی اُس کو
سو یہاں دوزخِ حالات میں رکھا گیا ہوں
بے اماں شہر کا شہری ہوں خلاصہ اتنا
روز و شب مشقِ فسادات میں رکھا گیا ہوں
حرفِ تکرار ہوں ہر مجلسِ میثاق میں اور
وقتِ گفتار شروعات میں رکھا گیا ہوں
جھوٹ ہوں سلطنتِ نطق پہ قبضہ ہے مرا
اور انسان کی عادات میں رکھا گیا ہوں

ہفتہ، 27 جون، 2015

قصہ گو ! تو نے فراموش کیا ہے ورنہ/ اس کہانی میں تر ے ساتھ کہیں تھے ہم بھی ۔۔ افتخار شفیع

افتخار شفیع
تم نہیں ہو تو گماں ہے کہ نہیں تھے ہم بھی
ورنہ من جملہء ارباب یقیں تھے ہم بھی
قصہ گو ! تو نے فراموش کیا ہے ورنہ
اس کہانی میں تر ے ساتھ کہیں تھے ہم بھی
اب جو لوٹے ہیں پو حیران کھڑے سوچتے ہیں
یہ مکاں وہ تو نہیں جس کے مکیں تھے ہم بھی
یہ الگ بات کہ تجھ حسن کو منظور نہ تھا
ورنہ خوش فہم تو خود اپنے تیئں تھے ہم بھی
دل پہ لکھی تھی جو تحریر مٹاتے کیسے 
لاکھ کم فہم سہی آ ئینہ بیں تھے ہم بھی

محمد افتحار شفیع

جمعرات، 25 جون، 2015

نور کی انتہا محمد ہیں ۔ ۔ ۔ عقیل عباس جعفری

عقیل عباس جعفری
کیسے بتلائیں کیا مدینہ ہے
سوچ سے ماورا مدینہ ہے
سب سے اچھا ہے ذکر، ذکر رسول
سب سے اچھی دعا مدینہ ہے
نور کی انتہا محمد ہیں
خاک کی انتہا مدینہ ہے
کچھ نہیں اس میں ماسوائے رسول
یہ مرا دل ہے یا مدینہ ہے
باغ جنت بھی جس کے آگے ہیچ
نام اس شہر کا مدینہ ہے
زندگی کی تمام راہوں پر
ایک روشن دیا مدینہ ہے
میرے رب کی عطا مرے سرکار
اور ان کی عطا مدینہ ہے

بدھ، 24 جون، 2015

اک شکل تھی پھولوں کی طرح یاد نہیں ہے ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
اب یاد نہیں کس کو کہاں بھول گئے ہیں
دینی تھی دعا جس کو جہاں بھول گئے ہیں
اک شکل تھی پھولوں کی طرح یاد نہیں ہے
کیا پھول تھے کیا شکل سماں بھول گئے ہیں
اُڑتے ہیں پرندے جو فضا میں وہ کسی کے
کیا نام ہے اُن کا وہ زماں بھول گئے ہیں
انجان نگاہوں سے یوں تکتا ہے مجھے شھر
ہیں کون سی گلیاں وہ مکاں بھول گئے ہیں
موسم بھی یہاں پہلے کی مانند نہیں ہیں
یہ کون سی رُت ہے وہ یہاں بھول گئے ہیں
دُہراو گے تو یاد کہاں آئے گا انور
ہم یاد ہی کرنے کا نشاں بھول گئے ہیں

منگل، 23 جون، 2015

سہیل ثاقب کا نیا شعری مجموعہ ،،لمس ،، شائع ہو گیا

منفرد لہجے کے شاعر سہیل ثاقب کا نیا شعری مجموعہ جسے ناصر ملک نے پیار سے سنوارا ہے

اتوار، 21 جون، 2015

کتابیں بولتی ہیں ۔۔ متن سے قبل کتاب کا سرورق بولتا ہے۔ آپ اُسے آنکھوں سے سنتے ہیں۔ اور ایسی کتاب جس کا عنوان ہی ’’ کتابیں بولتی ہیں‘‘ ہو، چونکا دیتی ہے۔۔۔۔۔۔اقبال خورشید

(کتابیں بولتی ہیں (مضامین
مصنف: رضا الحق صدیقی، صفحات: 224، قیمت: 600 روپے، ناشر: بک کارنر، جہلم
(مصنف سے دستخط شدہ کتاب کے حصول کے لئے ان بکس میں رابطہ کیجئے
https://www.facebook.com/siddiqiraza)
تبصرہ : اقبال خورشید
متن سے قبل کتاب کا سرورق بولتا ہے۔ آپ اُسے آنکھوں سے سنتے ہیں۔ اور ایسی کتاب جس کا عنوان ہی ’’
کتابیں بولتی ہیں‘‘ ہو، چونکا دیتی ہے۔ تیار رہنے کا پیغام دیتی کہ وہ ضرور کچھ ایسا کہے گی، جو آپ کی سماعت پر خوش گوار اثرات چھوڑے گا۔
تو جاذب نظر ٹائٹل اور عمدہ کاغذ پر چھپی رضا الحق صدیقی کی یہ کتاب بہت کچھ کہتی ہے۔ بہ ظاہر دیکھیں، تو یہ نثری اور شعری تخلیقات پر اُن کے مضامین پر مشتمل ہے، مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ رضا صاحب بڑے دل چسپ آدمی ہیں۔
سمجھ لیجیے جدت پسند۔ انٹرنیٹ پر فروغ ادب کے لیے جو کام اُنھوں نے کیا، وہ قابل تقلید۔ اردو میں ویڈیو کالمز کا سلسلہ شروع کیا۔ نام دیا؛ بولتے کالم۔ یہ کوشش سوشل میڈیا پر بڑی مقبول ہوئی۔ سمعی اور بصری مواد میسر آیا، تو یار لوگوں کی توجہ بڑھی۔ کتابوں پر بات ہونے لگی۔ تو ایک معنی میں وہ ادبی منظر میں نئے اوزاروں کے ساتھ وارد ہوئے۔
ہمارے مانند رضا صاحب بھی والٹیر کے اس خیال سے متفق کہ جب سے دنیا بنی ہے، وحشی نسلوں کو چھوڑ کر دنیا پر کتابوں نے حکم رانی کی ہے۔ مطالعہ اُن کا وسیع۔ تنقیدی فلسفے کا بھی علم۔ مگر ادبی ویب سائٹ کے صارفین کا مزاج بھی خوب سمجھتے ہیں۔ ان کے بولتے کالم گاڑھے نہیں ہوتے، بھاری بھرکم نظریات سے آزاد، تاثراتی یا تعارفی نوعیت کے جائزے ہوتے ہیں۔
ادبی کتب کے فنی محاسن اجاگر کرتے یہ مضامین ایک روزنامے کے ادارتی صفحے پر بھی شایع ہو کر قارئین کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ رضا صاحب شستہ زبان لکھتے ہیں، جمالیاتی تقاضوں کی خبر رکھتے ہیں، بات کہنے کا ڈھب جانتے ہیں۔ اور ان جیسے سنیئر آدمی سے اسی کی توقع کی جانی چاہیے۔ کتاب کی فہرست پر نظر ڈالیں، تو جی خوش ہوتا ہے۔
احمد ندیم قاسمی، گلزار، زاہدہ حنا، محمد حمید شاہد، مشرف عالم ذوقی جیسے فکشن نگاروں کا تذکرہ، ادھر مجید امجد، خالد احمد، شہزاد احمد جیسے شعرا کا ذکر۔ جہاں پختہ لکھنے والوں پر مضامین، وہیں نئے لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی۔ کتاب کی خوبی یہ کہ اسے پڑھ کر زیربحث آنے والی تخلیقات پڑھنے کو من کرتا ہے۔ کتاب کے فلیپ پر درج مختلف حکما کے اقوال بھی بھلے لگتے ہیں کہ وہ کتاب کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔
ڈسٹ کور کے ساتھ شایع ہونے والی کتاب میں معیاری کاغذ استعمال ہوا ہے، چھپائی اور قیمت، دونوں مناسب۔

بہتے دریا کو آخر اک کنارہ چاہئے ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
اس سکوت وقت میں بس اک نظارہ چاہئے
ہاں یا ںاں کی اک صدا کا ہی اشارہ چاہئے
ایک مدت سے رہا طالب کسی اقرار کا 
بہتے دریا کو آخر اک کنارہ چاہئے
شام فرقت میں اُداسی رات سے دوچند ہے
رات گزرے گی بھلا کیسے سہارا چاہئے
ایک سناٹا ہے پھیلا صبح کاذب میں یہاں
اب سکوت شب میں شاید اک شرارہ چاہئے
شام غم کو سبز ہی رہنا ہے اب تیرے بنا
ایک رُت بارش کی اشکوں کا اشارہ چاہئے
رُوپ انر کس قدر تیرے رہے اے زندگی
آخری بہروپ کا بھی اک نظارہ چاہئے

اتوار، 7 جون، 2015

خالد احمد کی 72ویں سالگرہ،خالد احمد ایوارڈز کی تقسیم کی تقریب ،ادبستان کی جانب سے ادارہ بیاض اور ایوارڈ یافتگان کو مبارک باد

فرحت پروین ایوارڈ وصول کرتے ہوئے
پانچ  جون خالد احمد کا جنم دن ہے،ماہنامہ بیاض  کے منتظمین نے اپنے بانی مدیر کی 72ویں سالگرہ کا اہتمام الحمرا ہال میں کیا جہاں محبانِ خالد احمد کی ایک کثیر تعداد موجود تھی،اس موقع پر 2014کی بہترین کتابوں پر خالد احمد ایوارڈ تقسیم کئے گئے جبکہ ادب کی خدمت کے لئےلائف ٹائم اچیوومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔فرحت پروین کو ان کے افسانوں کے مجموعے "بزم ِ شیشہ گراں " اور شاھد 
شاہد ماکلی ایوارڈ لیتےہوئے

ماکلی کو ان کے شعری مجموعے "تناظر" پر "بیاض" کی جانب سے خالد احمد ایوارڈز جبکہ جناب ِ عطا الحق قاسمی کو لائف ٹائم اچیوومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ادبستان  فرحت پروین ،شاید ماکلی اور جناب عطاالحق قاسمی کو ایوارڈ دئیے جانے پر دل کی گہرائیوں سے مباکبادپیش کرتا ہے۔ ، 
عطاالحق قاسمی ایوارڈ وصول کرتے ہوئے

بیاض کی  انعامات کی تقسیم کے لئے منعقدہ اس بہت خوبصورت تقریب کی صدارت محترمہ ڈاکٹر ناہید قاسمی نے کی جبکہ مہمانان ِ خصوصی جناب ِ خورشید رضوی ، جناب ِ نجیب احمد اور جناب ِ امجد اسلام امجد تھے 
فرحت پروین اور شاھد ماکلی کے لئے بیاض کی طرف سے ایوارڈ کے ساتھ پچاس ، پچاس ھزار روپے اور قاسمی صاحب کے لئے 75 ھزار روپے کے چیک بھی پیش کئے گئے۔

تقریب میں جناب عطاالحق قاسمی،ڈاکٹر خورشید رضوی،نجیب احمد اور امجد اسلام امجد کی موجودگی میں ڈاکٹر ناہید قاسمی اور خالد احمد کے صاحبزادے جاہد احمد نے خالد احمد کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔

بدھ، 3 جون، 2015

کراچی میں ممتاز شاعرہ صبیحہ صبا کی ادبی خدمات کے اعتراف میں اعترافِ کمال ایوارڈ ، گولڈ میڈل اور توصیفی سند دئیے جانے کی تقریب

ممتاز شاعرہ محترمہ صبیحہ صبا کی ادبی خدمات کے اعتراف میں اعترافِ کمال ایوارڈ ، گولڈ میڈل اور توصیفی سند پیش کرنے کے لئےانڈس یونیورسٹی کے خوبصورت ایڈیٹوریم میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام انڈس ادبی فورم اور میٹرو۱ ادبی فورم نےکیا وائس چانسلر جناب خالد امین نے شاعرہ کی خدمات کو سراہا اور اعترافِ کمال ایوارڈ سے نوازا ۔ 

ممتاز افسانہ نگار اور شاعرہ فرحت پروین امریکہ سے  اس تقریب میں شرکت کے لئے کراچی آئیں اور صبیحہ صبا کو خراج تحسین پیش کیا ۔ مہمانِ خصوصی ممتاز شاعرہ ریحانہ روحی  نے صبیحہ صبا اور صغیر جعفری کی ادبی خدمات پر روشی ڈالی  اورصبیحہ صبا کو گولڈ میڈل پہنایا ۔
ممتاز شاعرصغیر احمد جعفری اور شاعرہ ریحانہ احسان نے منظوم خراج ِ تحسین پیش کیا ۔ ممتاز سماجی و ثقافتی شخصیت یاور مہد ی نے ایسی ادبی تقریبات کے زیادہ سے زیادہ انعقاد پر زور دیا اورمیٹرو ون ٹی وی کی ادبی خدمات کی تعریف کی ۔میٹرو ون کے عامر مسعود شیخ اورقیصر وجدی کی ادب کے فروغ کے سلسلے میں خدمات سے سب واقف ہیں ۔



سوموار، 1 جون، 2015

کتابیں بولتی ہیں سے ایک کالم ۔۔۔۔رضا صدیقی کا بولتا کالم

)آرزو ے وصال (ساجد پیرزادہ کا شعری مجموعہ
کہتے ہیں ہر تیسری نسل میں جنیاتی صفات کا کچھ نا کچھ حصہ منتقل ہو گیا ہوتا ہے،دادا سے پوتے تک جنیاتی صفات واضح طور منتقل شدہ نظر آتی ہیں۔ساجد پیرزادہ کی کتاب آرزوئے وصال کا مطالعہ کرتے ہوئے  اس بات کا شدت سے اندازہ ہوا۔ ساجد پیرزادہ نے لکھا ہے کہ ان کے دادا پیر حکیم غلام قادر اثر نوشاھی جالندھری اردو اور فارسی کے بلند پایہ شاعر اور نثر نگار تھے۔ انہوں نے 1929میں اسلامیہ ہائی سکول جالندھر میں علامہ اقبال کی آمد پر استقبالیہ کچھ یوں پیش کیا۔
مثردہ ایدل کہ ثنا گوئے نبی مے آید
عاشق زار رسول عربی مے آید
میرسد حضرت اقبال و باستقبالش
یک جہاں بیں کہ بصد مضطربی مے آید
علامہ اقبال نے شاعری میں میر کارواں کی جو صفات بیاں کی ہیں وہ ضرب المثل ہیں۔
نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے
ساجد پیرزادہ کے نزدیک میر کارواں سے زیادہ انسان کا باوصف ہونا ضروری ہے۔
نظر عمیق، خرد ہوشمند،با اخلاق
صفات بالا ضروری ہیں آدمی کے لئے
عمل درست اگر ہونگاہ ہستی میں 
تو فکر ہوتی ہے تریاق زندگی کے لئے
ساجد پیرزادہ کہتے ہیں۔
ناز ہم کیوں نہ کریں اپنے سخن پر ساجد
اپنا ہر شعر لب یار تک آ پہنچا ہے
یہ لہجہ روایت پسندوں کا مخصوص لہجہ ہے۔ ان کی شاعری احساس کی سطح پر روایت کے ساتھ ساتھ طریق حیات بھی ہے۔
ساجد پیرزادہ کی شاعری میں عشق تصوف کا دوسرا نام ہے۔عشق مجازی میں تصور کی آنکھ کیا جلوے دکھاتی ہے۔نشہ عشق خدا میں انسان کس طرح جھوم اٹھتا ہے،آئیے دیکھتے ہیں۔
آنکھیں ہیں مخمور نشے میں 
جھوم رہے ہیں چور نشے میں 
کعبہ اور بت خانہ ہم نے 
دیکھا ہے معمور نشے میں 
جلووں میں سرشار تھے موسی
جھوم رہا تھا طور نشے میں 
دیکھے ہیں فردوس میں ہم نے
جن و ملائک حور نشے ہیں 
ساجد پیرزادہ نے اپنی توانائیوں کا محور اپنے عشق کو قرار دیا ہے اور یہ وہ جذبہ ہے جو 
انسان کو عزم کا پیکر بنا دیتا ہے۔ان کی شاعری  کی ایک اور خصوصیت  غالب کی طرح تکرارِِلفظی سے شعر میں حسن پیدا کرناہے۔
ہم تو ہیں ساجدِ بقا،ہم سے بقا ہے جاوداں 
ہم ہیں وقار انجمن، ہم کویونہی یونہی نہ دیکھ
ساجد پیرزادہ کی شاعری کی ایک اور خوبصورتی یہ بھی ہے کہ کہ وہ اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی روشنی میں دنیا کو دیکھ کر اس کی تصویر بناتے ہیں اور جب یہ دنیا ان کے قاری کی دنیا بن جاتی ہے تو وہ حیرت سے تکنے لگتے ہیں۔
کراچی میں رہنے والے خارجی عناصر سے جو اثرات اخذکرتے ہیں اس سے ان کے ہاں، ان کی شاعری میں احساس جنوں حقیقت نگاری کے روپ میں نظر آتا ہے۔ساجد پیرزادہ کے ہاں حقیقت نگاری کچھ یوں نظر آتی ہے۔
یہ کیسے لوگ ہیں کیا دیس ہے یہ
ہے نفرت آدمی کو آدمی سے
اے ساجد انسان کے ہاتھوں 
مرتے ہیں انسان ابھی تک
........................
رضا صدیقی کا بولتا کالم
https://www.facebook.com/siddiqiraza/videos/vb.1436527629/10200406949483093/?type=3&theater