ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 27 مئی، 2015

کتابیں بولتی ہیں سے ایک کالم ۔۔۔۔ اور رضا صدیقی کا بولتا کالم


جگنوؤں کے قافلے

وطن عزیز میں ہر سو نئے الیکشن ہونے چاہییں کی ہاہا کار  مچی ہوئی ہے۔ اب تک ملک میں دو بڑی پارٹیوں کے ما بین الیکشن کی ریس تھی اب تیسری پارٹی بھی بھرپور سر اٹھا رہی ہے،دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
لیکن میرا ماننا ہے کہ
۔الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں 
انیس سو چھیالیس جیسے منصفانہ الیکشن ہوں تو پاکستان وجود میں آتا ہے۔
۔الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں 
اس سے جمہوریت کو فروغ ملتا ہے۔
۔الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں 
مہنگائی، بے رواگاری اور لاقانقنیت کے اس دور میں نئی امیدیں بندھتی ہیں۔ لاکھوں لاکھوں بے روز گاروں کو وقتی ہی سہی روزگار ملتا ہے، کاروبار میں اضافہ ہوتا ہے۔
قلم کار کی قوت متخیلہ اور مشاہدہ الیکشن جیسے سیاسی اور خشک موضوع سے بھی کہانی چن  لیتا ہے۔نیلم احمد بشیر ایسی ہی قلم کار ہے۔ان کی کتاب،،جگنوؤں کے قافلے،،کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کی کہانی،، کاغذ کے پرزےِِ،، میں انہوں نے میرے ٹیپ کے بند،،الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں،،پر کیا گرہ لگائی ہے آئیے دیکھتے ہیں۔
۔الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں 
ادھر آ؛ کہاں مر جاتا ہے؛ میرے ساتھ رہا کربوڑھی افغان دادی نے اپنے سات،آٹھ سال  کے پوتے کو کوڑے کے ڈھیر میں سے ایک  ٹوٹا ہوا کھلونا چنتے دیکھ کر آواز دی۔
آج کل کتنے اچھے دن ہیں تھیک تھاک دیہاڑی لگ جاتی ہے چالیس روپے من کے حساب سے بھی کاغذ چن کر لے جاؤ تو پچاس ساٹھ روپے تو بن ہی جاتے ہیں بوڑھی دادی نے دل ہی دل میں سوچا اور اپنے کھلنڈرے پوتے کی طرف دیکھنے لگی۔ صبح صبح کام کا وقت ہوتا ہے مگر یہ بچہ کہنا نہیں سنتا بس کھیلنے کی دھن سوار رہتی ہے اس پر۔
ِِ دادی ٹھیک ہے،،
اس کے میلے کچیلے ننھے پوتے نیگول چکر کے اردگرد  کے گھیرے پر لگے لال اور سبز پوسٹروں پر نظر ڈال کر اجازت مانگی۔
ِِ،، ٹھہر جا رے شیطان، تجھ سے اکیلے بھلا یہ کام کہاں ہوگا۔ میں بھی تیرے ساتھ لگوں گی تو کچھ بنے گا نا۔
دادی خوشی اور فخر سے اپنے پوتے کی نئی دریافت پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکی۔ اپنا بڑا سا جھولا لٹکا کر اس کے پاس چلی آئی اور دونوں مل کر گھیرے پر چپکے کاغذوں کے ٹکڑے نوچ نوچ کر اپنا جھولا بھرنا شروع کر دیا۔
وطن ِ عزیز کے سیاسی پس منظر کا پیش منظر بہت کچھ بتا رہا ہے لیکن مھر بھی
۔الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں 
یہ افسانہ  نیلم احمد بشیر کے افسانوی مجموعے،، جگنوؤں کے قافلے،، کا سب سے بھاری اور جاندار افسانہ ہے۔
 نیلم احمد بشیر کی کہانیاں مطالعے کی کوکھ سے پھوٹتی ہیں۔ انہوں نے روایات کی شکست و ریخت سے جنم لینے والے مسائل کو نمایاں کرنے کی شعوری کوشش کی ہے۔
مشرقی اور بولتاتہذیبوں کے تفاوت سے جنم لینے والی سوچ، بے حسی اورخود غرضی کن مسائل کو جنم  دیتی ہے۔
 نیلم احمد بشیر نے اپنی بیشتر کہانیوں میں بڑی بے رحمی سے حقائق کا نشتر چلایا ہے۔
مشرقی تہذیب کی روایات ایک خالص خوشبوکی مانند ہیں جسے دوسری خالص خوشبو یعنی مغربی تہذیب میں ملاوٹ کر دیا جائے تو جوخوشبو جنم لے گی وہ نامانوس سی ہوگی۔ نیلم احمد بشیر نے مغربی تہذیب میں ایک طویل عرصہ گذارنے کے دوران جو کہانیاں اپنے دماغ میں ترتیب دی ہیں انہیں مشرقی تہذہب کے احاطے میں لکھا ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے کہ یہ نئی خوشبو نامانوس سی محسوس ہو رہی ہے۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں جہاں مردوں کا  بھی اس علاقے میں جانا معیوب سمجھا جاتا ہے جہاں راتیں جاگتیہیں وہاں  نیلم احمد بشیر کی کہانی،،شریف،، کی کردار لڑکیاں مردوں کے ساتھ اس بازار میں مجرا دیکھتی ہیں۔ اگر ان کہانیوں کو ان کی اصل تہذیب میں لکھا جاتا تو نیلم احمد بشیر کی کہانیوں میں ڈی ایچ لارنس کی تحریروں کی جھملاہٹ  دکھائی دیتی۔
 نیلم احمد بشیر نے کیکٹس کا پھول،اپنی اپنی مجبوری، تھوڑی سی تنہائی، نئی دستک، تھوڑی کھلی اور تھوڑی بندآنکھوں کے نام دے کر ہمیں مغربی ماحول کی مشینی زندگی سے روشناس کرایا ہے۔
 نیلم احمد بشیر ایک ایسی داستان گو ہے جس نے تارکینِ وطن کے مکروہ راز و نیاز کے نشتروں سے زخم خوردہ حقیقت پسندی کو بے نقاب کیا ہے۔ اس نے اپنی کہانیوں میں مغربی تہذیب اور ماحول کی چکا چوند سے روایات کی بربادیکے منظرنامے بلکہ عبرتناک مرقعے رقم کئے ہیں۔
 نیلم احمد بشیرکے اسلوب اور بیانیوں میں تشبیہات اور استعاروں کا استعمال ایسا ہے کہ ضوں جوں میں ان کی تخلیقی دنیا میں گشت نوردی کرتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ اتنی سادہ فنکار نہیں ہیں جس قدر ان کی تخلیقات کا بیانیہ  ثابت کرنا چاہتا ہے۔ نیلم احمد بشیر کے ذھن تک رسائی کے لئے میں ایک اہم شاعر کی زبان سے کچھ یوں کہوں گا۔
تھا قیامت، سکوت کا آشوب
حشر سا اک، بپا رہا مجھ میں 
پسِ پردہ کوئی نہ تھا پھر بھی
ایک پردہ کھنچا رہا مجھ میں 
اور بقول انتظار حسین کہانی کو بہرحال کہانی ہونا چاہیے مگر ریڑھ کی ہڈی تو کہانی ہے اور  نیلم احمد بشیر کی کہانیوں میں ریڑھ کی ہڈی بڑی مضبوط ہے۔


رضا صدیقی کا بولتا کالم

https://www.facebook.com/siddiqiraza/videos/vb.1436527629/4754349583451/?type=3&theater

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں