ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 27 مئی، 2015

کالے سُرمے سے بندھی آنکھ کی زنجیریں ہیں ۔۔ ثروت زہرہ

ثروت زہرہ
درد کے آوے میں چُولہا نہ جَلے ' تب کیا ہو ؟
زندگی رزم ِزمانہ میں گَلے ' اب کیا ہو ؟
میری پلکوں کے تلے چشمِ تماشا جاری
ھُو کی یلغار میں گم ہوگئی ' سو رب ! کیا ہو ؟
میرے انجام سے آغاز تلک تُو ہی تُو
موڑ کب' منزلیں کیوں ُاور کوئی ڈھب کیا ہو ؟
جلتی باتی میں جلے تاگ کی اب راکھ ہوں مَیں 
موم کے جسم کو انجام ملے' اب کیا ہو ؟
کالے سُرمے سے بندھی آنکھ کی زنجیریں ہیں
کیوں ادا اوڑھیے انداز ہو کیا ؟ چَھب کیا ہو ؟
نامیاتی کسی ترتیب سے نکلا ہُوا دن
سارے انداز سیاہی میں دُھلے ' شب کیا ہو ؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں