ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


اتوار، 31 مئی، 2015

ایک خواہش رہی بے نام انور ۔۔انور زاہدی

انور زاہدی
شام میں دن نکلتے دیکھا ہے
چاند کو بھی پگھلتے دیکھا ہے
اُس کی آنکھوں میں رات دن پیہم
ایک سورج اُجلتے دیکھا ہے
جنگلوں میں ہوا کو ر وتے سُنا
ساحلوں پہ مچلتے دیکھا ہے 
نیم شب بے نوا مکانوں میں
آرزووں کو پلتے دیکھا ہے
ایک خواہش رہی بے نام انور
دل کو لیکن سنبھلتے دیکھا ہے


جمعرات، 28 مئی، 2015

کتابیں بولتی ہیں‘ بلاشبہ بنیادی و اولین طور پر فن پاروں کے تجزیاتی مضامین پر مشتمل کتاب ہے۔۔جاہد احمد

(جاہد احمد)
رضا الحق صدیقی صاحب کی تازہ مطبوعہ ’کتابیں بولتی ہیں‘ ہاتھ لگی تو فوری اثر تو یہ ہوا کہ دماغ غیر ارادی طور پر آس پاس پھیلے ہیجان، افراتفری، چیخ و پکاراور قنوطیت کے چنگل سے راہ فرار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
کتاب کا بہترین سرورق اور اس قدر خوبصورت عنوان کسی بھی کتاب دوست کی توجہ کھینچنے کے لئے کافی ہے۔ کتاب کی بولی کتاب سے شغف رکھنے والے خوب سمجھتے ہیں کیونکہ کتاب بولتی بھی ہے اور چہچہاتی بھی، یہ اپنی باتوں سے اداس بھی کر جاتی ہے اور زندگی کے رنگ بھی بکھیرتی ہے، یہ استاد بھی ہے اور اٹکھیلیاں کرتا نادان بچہ بھی۔ یہ لوری بھی دیتی ہے اور ساری ساری رات جگا بھی سکتی ہے!!! اب ایسا عنوان تخلیق کرنے والا خود کیسا ادب شناس اور کتاب دوست ہوگا عنوان پڑھنے کے بعد اس کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں رہ جاتا۔ واہ! کیا بات ہے!’ کتابیں بولتی ہیں‘۔
رضا الحق صدیقی صاحب اردو ادب کا وسیع تر مطالعہ رکھتے ہیں اور اُن کی ’کتابیں بولتی ہیں‘ اس علم و فہم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو اپنے عنوان کی طرح یہ کتاب واقعی دل و دماغ میں بولتی محسوس ہونے لگی۔ تجزیاتی و ادبی مضامین پر مشتمل یہ کتاب قاری کو جہاں متعدد جانے پہچانے تخلیق کاروں کے فن کے حوالے سے رائے قائم کرنے یا پہلے سے قائم شدہ رائے کا تقابلی جائزہ لینے میں مدد دیتی ہے وہیں یہ کتاب ایسی تخلیقی شخصیات کے فن سے بھی روشناس کراتی ہے جو ادب کی دنیا میں نووارد ضرور ہیں لیکن ناتواں نہیں اور مستقبل میں اپنا لوہا منوانے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔
’کتابیں بولتی ہیں‘ تخلیق کاروں کے نثری و شعری فن پاروں کے تجزیاتی مطالعہ جات پر مبنی سچے اور کھرے ادبی تجزیہ نگار کی ایسی سچی کاوش ہے جس میں تنقید کا عنصر تضحیک اور ہتک عزت کے زہر سے پاک ہے، ایسا متوازن تجزیہ جو تتلی کی اڑان کی طرح غیر محسوس انداز میں خامی کی نشاندہی بھی کرتا ہے اور مثبت پہلوئوں پر رنگ بھی بکھیرتا چلا جاتا ہے یوں کہ تخلیق کار کا حوصلہ بھی بلند رہے اور خامی بھی در پردہ نہ رہے۔ یہی خوبی رضا الحق صدیقی صاحب کو تنقید نگار کہلائے جانے والے دیگر قلمکاروں سے ممتاز کرتی ہے! رضا صاحب ادبی سطح پر طے شدہ اصولوں کے تحت پُر مغز تجزیہ کرتے ہیں۔ محض تنقید برائے تنقیدنگاری نہیں!!
رضا الحق صدیقی صاحب کی ’کتابیں بولتی ہیں‘ قاری کا ہاتھ پکڑ کر ایک ایک کرتے ہوئے مضمون با مضمون ادبی شخصیات سے ملاقات کراتی اور اس کے فن بارے بات چیت کرتی ہولے ہولے آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ احساس بھی نہیں ہوتا کہ ملاقات اور بات چیت کا سلسلہ کب شروع ہو کر ختم بھی ہوگیا۔ بہرحال ملاقات وہی اچھی جس میں ملاقات کے بعد بھی کچھ کسک کچھ کمی کچھ تشنگی رہ جائے۔ تاکہ دوبارہ ملنے کی تڑپ کم از کم برقرار رہے۔ یہی اس کتاب کی خوبی ہے کہ یہ اپنے لئے مزید طلب کی خواہش پیدا کرتی ہے۔
’کتابیں بولتی ہیں‘ بلاشبہ بنیادی و اولین طور پر فن پاروں کے تجزیاتی مضامین پر مشتمل کتاب ہے! لیکن احمد ندیم قاسمی، خالد احمد، شہزاد احمد، مجید امجد، گلزار، مشرف عالم ذوقی جیسے افراد پر لکھے گئے ادبی و توصیفی مضامین ان نابغہ روزگار تخلیق کاروں کے فن کی نئی جہتوں سے آگاہی بخشتے ہوئے کتاب کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ اسی طرح کتاب کا ابتدائیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو ان جائزاتی مطالعہ جات کی بنیاد یا اپروچ یا اصولوں کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تجزیہ کار اپنی ذاتی پسند و نا پسند کو بھی کسی معیار یا طے شدہ اصولوں کی کسوٹی پر پرکھے بغیر رائے دینے پر تیار نہیں۔ کتاب کی بنیاد گہری اور مضبوط ہے، لکھنے والا باذوق باشعور باخبر با علم باکردار اورزمانہ و ادب شناس شخص ہے، کتاب ادبی محاسن پر صفحہ با صفحہ موقع محل کی مناسبت سے پُر اختصارمگر مدلل و مکمل گفت و شنید کرتی ہے۔ اس کتاب کا ہر ہر صفحہ ادبی گیان کی بولی بولتا ہے ۔ ایسی خوبصورت بولتی کتاب کو سامعین قارئین کی صورت مل جائیں تو لکھاری کی محنت ٹھکانے لگ جائے گی۔باقی اس کتاب کے بارے میں حتمی رائے تو قارئین خود پڑھ کر ہی قائم کر یں گے!!!
اختتام میں آغاز سے متعلق کہنا ضروری ہے کہ کتاب کا انتساب ایک ایسا جز ہے جو محض چند سطروں پر مشتمل ہونے کے باوجود مصنف کے لئے ہمیشہ انتہائی اہم رہتا ہے اور کسی خاص شخصیت سے اس کی جذباتی وابستگی کامہر ثبت ثبوت بھی ہوتا ہے۔ رضا صاحب نے یہ کتاب اپنے بابا ضیا الحق صدیقی صاحب کے نام کی ہے جنہیں وہ بابا جی سرکار اور مرشدِ کامل کہہ کر کتاب کے آغاز میں آواز دے رہے ہیں۔ رضا صاحب کے بابا جی یقینا بہت خوش ہوں گے کہ ان کے رضا نے ’کتابیں بولتی ہیں‘ کو ان کے نام سے منسوب کر کے اس کتاب کے ساتھ زندہ جاوید کر دیا ہے جو کہ اردو کے تنقیدی ادب میں منفرد مقام کی حامل تجزیاتی کتاب کے طور پر جانی پہچانی جائے گی۔ یقینا رضا الحق صدیقی صاحب اور ان کی اہلیہ اعلی معیار کی اس کتاب کی اشاعت پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔
’کتابیں بولتی ہیں‘ کے ناشر گگن شاہد اور امر شاہد ہیں جبکہ یہ کتاب بک کارنر جہلم سے بھی خریدی جا سکتی   ہے۔مصنف کو فیس بک پر ان بکس کرکے دستخط شدہ کاپی حاصل کی جا سکتی ہے۔https://www.facebook.com/siddiqiraza

بدھ، 27 مئی، 2015

کتابیں بولتی ہیں سے ایک کالم ۔۔۔۔ اور رضا صدیقی کا بولتا کالم


جگنوؤں کے قافلے

وطن عزیز میں ہر سو نئے الیکشن ہونے چاہییں کی ہاہا کار  مچی ہوئی ہے۔ اب تک ملک میں دو بڑی پارٹیوں کے ما بین الیکشن کی ریس تھی اب تیسری پارٹی بھی بھرپور سر اٹھا رہی ہے،دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
لیکن میرا ماننا ہے کہ
۔الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں 
انیس سو چھیالیس جیسے منصفانہ الیکشن ہوں تو پاکستان وجود میں آتا ہے۔
۔الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں 
اس سے جمہوریت کو فروغ ملتا ہے۔
۔الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں 
مہنگائی، بے رواگاری اور لاقانقنیت کے اس دور میں نئی امیدیں بندھتی ہیں۔ لاکھوں لاکھوں بے روز گاروں کو وقتی ہی سہی روزگار ملتا ہے، کاروبار میں اضافہ ہوتا ہے۔
قلم کار کی قوت متخیلہ اور مشاہدہ الیکشن جیسے سیاسی اور خشک موضوع سے بھی کہانی چن  لیتا ہے۔نیلم احمد بشیر ایسی ہی قلم کار ہے۔ان کی کتاب،،جگنوؤں کے قافلے،،کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کی کہانی،، کاغذ کے پرزےِِ،، میں انہوں نے میرے ٹیپ کے بند،،الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں،،پر کیا گرہ لگائی ہے آئیے دیکھتے ہیں۔
۔الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں 
ادھر آ؛ کہاں مر جاتا ہے؛ میرے ساتھ رہا کربوڑھی افغان دادی نے اپنے سات،آٹھ سال  کے پوتے کو کوڑے کے ڈھیر میں سے ایک  ٹوٹا ہوا کھلونا چنتے دیکھ کر آواز دی۔
آج کل کتنے اچھے دن ہیں تھیک تھاک دیہاڑی لگ جاتی ہے چالیس روپے من کے حساب سے بھی کاغذ چن کر لے جاؤ تو پچاس ساٹھ روپے تو بن ہی جاتے ہیں بوڑھی دادی نے دل ہی دل میں سوچا اور اپنے کھلنڈرے پوتے کی طرف دیکھنے لگی۔ صبح صبح کام کا وقت ہوتا ہے مگر یہ بچہ کہنا نہیں سنتا بس کھیلنے کی دھن سوار رہتی ہے اس پر۔
ِِ دادی ٹھیک ہے،،
اس کے میلے کچیلے ننھے پوتے نیگول چکر کے اردگرد  کے گھیرے پر لگے لال اور سبز پوسٹروں پر نظر ڈال کر اجازت مانگی۔
ِِ،، ٹھہر جا رے شیطان، تجھ سے اکیلے بھلا یہ کام کہاں ہوگا۔ میں بھی تیرے ساتھ لگوں گی تو کچھ بنے گا نا۔
دادی خوشی اور فخر سے اپنے پوتے کی نئی دریافت پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکی۔ اپنا بڑا سا جھولا لٹکا کر اس کے پاس چلی آئی اور دونوں مل کر گھیرے پر چپکے کاغذوں کے ٹکڑے نوچ نوچ کر اپنا جھولا بھرنا شروع کر دیا۔
وطن ِ عزیز کے سیاسی پس منظر کا پیش منظر بہت کچھ بتا رہا ہے لیکن مھر بھی
۔الیکشن تو اچھے ہوتے ہیں 
یہ افسانہ  نیلم احمد بشیر کے افسانوی مجموعے،، جگنوؤں کے قافلے،، کا سب سے بھاری اور جاندار افسانہ ہے۔
 نیلم احمد بشیر کی کہانیاں مطالعے کی کوکھ سے پھوٹتی ہیں۔ انہوں نے روایات کی شکست و ریخت سے جنم لینے والے مسائل کو نمایاں کرنے کی شعوری کوشش کی ہے۔
مشرقی اور بولتاتہذیبوں کے تفاوت سے جنم لینے والی سوچ، بے حسی اورخود غرضی کن مسائل کو جنم  دیتی ہے۔
 نیلم احمد بشیر نے اپنی بیشتر کہانیوں میں بڑی بے رحمی سے حقائق کا نشتر چلایا ہے۔
مشرقی تہذیب کی روایات ایک خالص خوشبوکی مانند ہیں جسے دوسری خالص خوشبو یعنی مغربی تہذیب میں ملاوٹ کر دیا جائے تو جوخوشبو جنم لے گی وہ نامانوس سی ہوگی۔ نیلم احمد بشیر نے مغربی تہذیب میں ایک طویل عرصہ گذارنے کے دوران جو کہانیاں اپنے دماغ میں ترتیب دی ہیں انہیں مشرقی تہذہب کے احاطے میں لکھا ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے کہ یہ نئی خوشبو نامانوس سی محسوس ہو رہی ہے۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں جہاں مردوں کا  بھی اس علاقے میں جانا معیوب سمجھا جاتا ہے جہاں راتیں جاگتیہیں وہاں  نیلم احمد بشیر کی کہانی،،شریف،، کی کردار لڑکیاں مردوں کے ساتھ اس بازار میں مجرا دیکھتی ہیں۔ اگر ان کہانیوں کو ان کی اصل تہذیب میں لکھا جاتا تو نیلم احمد بشیر کی کہانیوں میں ڈی ایچ لارنس کی تحریروں کی جھملاہٹ  دکھائی دیتی۔
 نیلم احمد بشیر نے کیکٹس کا پھول،اپنی اپنی مجبوری، تھوڑی سی تنہائی، نئی دستک، تھوڑی کھلی اور تھوڑی بندآنکھوں کے نام دے کر ہمیں مغربی ماحول کی مشینی زندگی سے روشناس کرایا ہے۔
 نیلم احمد بشیر ایک ایسی داستان گو ہے جس نے تارکینِ وطن کے مکروہ راز و نیاز کے نشتروں سے زخم خوردہ حقیقت پسندی کو بے نقاب کیا ہے۔ اس نے اپنی کہانیوں میں مغربی تہذیب اور ماحول کی چکا چوند سے روایات کی بربادیکے منظرنامے بلکہ عبرتناک مرقعے رقم کئے ہیں۔
 نیلم احمد بشیرکے اسلوب اور بیانیوں میں تشبیہات اور استعاروں کا استعمال ایسا ہے کہ ضوں جوں میں ان کی تخلیقی دنیا میں گشت نوردی کرتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ اتنی سادہ فنکار نہیں ہیں جس قدر ان کی تخلیقات کا بیانیہ  ثابت کرنا چاہتا ہے۔ نیلم احمد بشیر کے ذھن تک رسائی کے لئے میں ایک اہم شاعر کی زبان سے کچھ یوں کہوں گا۔
تھا قیامت، سکوت کا آشوب
حشر سا اک، بپا رہا مجھ میں 
پسِ پردہ کوئی نہ تھا پھر بھی
ایک پردہ کھنچا رہا مجھ میں 
اور بقول انتظار حسین کہانی کو بہرحال کہانی ہونا چاہیے مگر ریڑھ کی ہڈی تو کہانی ہے اور  نیلم احمد بشیر کی کہانیوں میں ریڑھ کی ہڈی بڑی مضبوط ہے۔


رضا صدیقی کا بولتا کالم

https://www.facebook.com/siddiqiraza/videos/vb.1436527629/4754349583451/?type=3&theater

کالے سُرمے سے بندھی آنکھ کی زنجیریں ہیں ۔۔ ثروت زہرہ

ثروت زہرہ
درد کے آوے میں چُولہا نہ جَلے ' تب کیا ہو ؟
زندگی رزم ِزمانہ میں گَلے ' اب کیا ہو ؟
میری پلکوں کے تلے چشمِ تماشا جاری
ھُو کی یلغار میں گم ہوگئی ' سو رب ! کیا ہو ؟
میرے انجام سے آغاز تلک تُو ہی تُو
موڑ کب' منزلیں کیوں ُاور کوئی ڈھب کیا ہو ؟
جلتی باتی میں جلے تاگ کی اب راکھ ہوں مَیں 
موم کے جسم کو انجام ملے' اب کیا ہو ؟
کالے سُرمے سے بندھی آنکھ کی زنجیریں ہیں
کیوں ادا اوڑھیے انداز ہو کیا ؟ چَھب کیا ہو ؟
نامیاتی کسی ترتیب سے نکلا ہُوا دن
سارے انداز سیاہی میں دُھلے ' شب کیا ہو ؟

ہفتہ، 23 مئی، 2015

ﺑﻮﻝ ﺍﻧﻤﻮﻝ۔۔ ﻣﺠﯿﺪ ﺍﻣﺠﺪ

مجید امجد
ﺍﺏ ﯾﮧ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﻃﮯ ﮬﻮ، ﺍﮮ ﺩﻝ، ﺗﻮُ ﮬﯽ ﺑﺘﺎ
ﮐﭩﺘﯽ ﻋُﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﭩﺘﮯ ﻓﺎﺻﻠﮯ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮬﯽ ﺻﺤﺮﺍ
ﭼﯿﺖ ﺁﯾﺎ، ﭼﯿﺘﺎﺅﻧﯽ ﺑﮭﯿﺠﯽ، ﺍﭘﻨﺎ ﻭﭼﻦ ﻧﺒﮭﺎ
ﭘﺖ ﺟﮭﮍ ﺁﺋﯽ، ﭘﺘﺮ ﻟﮑﮭﮯ۔۔۔۔۔۔۔ﺁ! ﺟﯿﻮﻥ ﺑﯿﺖ ﭼﻼ
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻣُﮑﮫ ﭼُﻮﻡ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺩُﻧﯿﺎ ﻣﺎﻥ ﺑﮭﺮﯼ
ﺩﮐﮫ ﻭﮦ ﺳﺠﻦ ﮐﭩﮭﻮﺭ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺭﻭُﺡ ﮐﺮﮮ ﺳﺠﺪﺍ
ﺍﭘﻨﺎ ﭘﯿﮑﺮ، ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﯾﮧ، ﮐﺎﻟﮯ ﮐﻮﺱ ﮐﭩﮭﻦ
ﺩُﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﺟﺐ ﺳﻨﮕﺖ ﭨﻮُﭨﯽ، ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ
ﺷﯿﺸﮯ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺯﻣﺎﻧﮧ، ﺁﻣﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮬﻢ
ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﮬﻦ، ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺟﺴﻢ ﺟُﺪﺍ
ﺍﭘﻨﮯ ﮔِﺮﺩ ﺍﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﮔُﮭﻠﺘﯽ ﺳﻮﭺ ﺑَﮭﻠﯽ
ﮐِﺲ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﺩﺷﻤﻦ! ﺳﺐ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ
ﺭﺍﮬﯿﮟ ﺩﮬﮍﮐﯿﮟ، ﺷﺎﺧﯿﮟ ﮐﮍﮐﯿﮟ، ﺍِﮎ ﺍِﮎ ﭨﯿﺲ ﺍَﭨﻞ
ﮐﺘﻨﯽ ﺗﯿﺰ ﭼﻠﯽ ﮬﮯ ﺍﺏ ﮐﮯ ﺩﮬُﻮﻝ ﺑﮭﺮﯼ ﺩُﮐﮭﻨﺎ
ﺩُﮐﮭﮍﮮ ﮐﮩﺘﮯ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣُﮑﮭﮍﮮ، ﮐِﺲ ﮐِﺲ ﮐﯽ ﺳُﻨﯿﮯ
ﺑﻮﻟﯽ ﺗﻮ ﺍِﮎ ﺍِﮎ ﮐﯽ ﻭﯾﺴﯽ، ﺑﺎﻧﯽ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺟُﺪﺍ

اتوار، 17 مئی، 2015

سحر مجھ کو مرے شوقِ جنوں نے / حسیں جذبوں کی طغیانی میں رکھا : سحر تاب رومانی

سحر تاب رومانی
جہاں رکھا پریشانی میں رکھا 
مجھے اس دل نے نادانی میں رکھا
جسے انمول کر ڈالا ھے میں نے 
اسی نے مجھ کو ارزانی میں رکھا
نگل جائے گا دریا کی روانی 
کسی صحرا کو گر پانی میں رکھا
کہیں اک رات ھےچپ کا سمندر 
کہیں اک خواب ویرانی میں رکھا
کسی نے سنگ کو آئینہ کر کے 
سدا آنکھوں کو حیرانی میں رکھا
بدن باہر سے ھے ملبوس کتنا 
مگر باطن ھے عریانی میں رکھا
سحر مجھ کو مرے شوق_ جنوں نے 
حسیں جذبوں کی طغیانی میں رکھا


معروف،شاعر،ادیب ،نقاد اور براڈکاسٹر اعزاز احمد آزر انتقال کر گئے

اعزاز احمد آزر
معروف،شاعر،ادیب ،نقاد اور براڈکاسٹر اعزاز احمد آزر انتقال کر گئے

جمعہ، 15 مئی، 2015

کتابیں بولتی ہیں ۔۔۔ رضاالحق صدیقی کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اِنٹرنیٹ پر سنجیدہ ادبی مکالمے کی فضا بنانے میں اپنا لائق اعتنا حصہ ڈالا ہے: محمد حمید شاہد

کتاب : کتابیں بولتی ہیں(تنقیدی کالم/مضامین)
مصنف : رضاالحق صدیقی
مصنف سے دستخط شدہ کتاب حاصل کرنے کے لئے مصنف کو ان بکس کریں
https://www.facebook.com/siddiqiraza
قیمت : 600 روپے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک کہاوت ہے؛”بہو نویلی گؤ دودھیلی“،اور اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ نئی
دلہن کی خدمت یوں کی جاتی ہے جیسے دودھ دینے والی گائے کی۔ تو یوں ہے صاحب کہ ہمارے ہاں ای ٹیکنالوجی آئی تو اس کی آؤ بھگت اور ٹہل سیوا بھی نئی نویلی دلہن کی طرح ہوئی۔پھر یہ ٹیکنالوجی بھی تو کچھ اداروں کے لیے دودھیل گائے نکلی کہ انہوں نے اپنا سارا لین دین اسی میں منتقل کیا اوراس میں بہت زیادہ افرادی مداخلت کے مواقع ختم کرکے نہ صرف اپنے کنٹرول کو مستحکم کیا، اخراجات کو بھی کم کر لیا تھا۔ سو یہ ان کے لیے تو ایسی گائے تھی جوخوب دودھ دیتی تھی،مسلسل دے رہی تھی اور خشک بھی نہ ہوتی تھی۔ اور ہاں یہیں کہتا چلوں کہ گائے چاہے جتنی اعلی نسل کی ہو،ہمیں بچھڑے اور دودھ سے نوازتی رہے،وہ جتنی بھی خوش نظر، چست اور ہوشیار ہو،ان امکانات کے ساتھ موجود ہوتی ہے کہ اسے اڈیما،منہ کھر، واہ، موک، چیچک، گل گھوٹو،اسقاط، بخار اور سو طرح کے دوسرے عارضے ہو سکتے ہیں۔ تو یوں ہے کہ ہماری انڈسٹری کو اس گائے کا دودھ دوہنے کے ساتھ ساتھ اس کے عارضوں سے بھی نپٹنا پڑ رہا ہے ۔
اچھا، جن کے لیے یہ دلہن تھی، وہ بھی اس کے ناز اُٹھائے نہ تھکتے تھے، جن کے پاس گھروں میں سہولت نہ تھی ان کے لیے انٹرنیٹ کیفے کھل گئے، پہلے پہل تو یوں لگا جیسے یہ دلہن نہ تھی کوٹھے والی تھی، کہہ لیجئے جنس کی گڑیا، کہ سب اس سے وہی حظ اور لذّت اُٹھانا چاہتے تھے جو بس کوٹھے والیاں ہی عطا کر سکتی ہیں۔ سو یہاں دیسی عربی اور ولایتی مجرے دیکھنے سے لے کر ننگی فلموں اور بے ہودہ تصویروں والی سائٹس پر ہمارے ہاں اتنی ٹریفک بڑھی کہ ہم اس باب میں سب سے اوپر والے ملکوں میں شمار ہونے لگے۔ 
یہ تو بہت بعد میں ہوا ہے کہ ہمارا مسلسل لذت والے شیرے کو چاٹنے میں کُھبا ہوا دِل ہلنے لگا ہے۔ جس تہذیبی ورثے کے ہم اپنے آپ کو دعوے دار کہتے آئے ہیں اور اس پر اِتراتے ہیں اس کا تقاضا تو یہ تھاکہ ہم اِس جانب جاتے ہی نہ، اور اگر سہو نظر والا معاملہ ہو جاتا تو پہلی بار ہی متلی آ جاتی۔ خیر متلی تو اُسے آتی ہے جس کا پہلے سے ایک مزاج بنا ہو، ورنہ تجسس آگے کی جانب پھسلتے چلے جانے پر اُکساتا ہے، یہاں تک کہ یہ تجربہ خود اِس پھسلن سے منہ پھیردے۔  بہ ہر حال، یوں لگتا ہے کہ کچھ عرصہ سے تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے۔ میری مراد اس تبدیلی سے نہیں ہے جس کا ڈھنڈورا ہمارے سیاستدان پیٹا کرتے ہیں اور وہ بعد ازاں منٹو کے افسانے”نیا قانون“ کی سی نکلتی ہے، بلکہ میرا اشارہ اِس تبدیلی کی جانب ہے کہ اب ہم اِس ٹیکنالوجی سے سماجی سطح پر رابطے کا کام بھی لینے لگے ہیں۔  تحریر اسکوائر والے انقلابی اقدام کی حد تک نہ سہی مگر اس حد تک ضرور کہ اب یہ ہمارے مزاجوں کا حصہ بننے لگی ہے۔  فیس بک ہو یا ٹیوٹر اور دوسرے بلاگ اور سماجی رابطے کی سائیٹس،اِن کامنفی استعمال بھی عام سہی، مگر وہاں ایسے گروپس، ادارے اور اشخاص ضرور نظر آنے لگے ہیں جو ادب کے مطالعہ کے چلن کو عام کر رہے ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ بانجھ سیاسی گفتگوؤں اور مذہبی فرقہ ورانہ جھگڑوں سے اوب کر اِس ٹیکنالوجی کے استعمال کنندگان بہت جلد مثبت سرگرمیوں کو عام کرنے والی ان سائیٹس کی طرف آ جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ یہاں ٹھہرے رہتے ہیں۔ 
میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سماجی رابطے کی سائیٹس اب محض اُچٹے ہوئے رابطوں اور اُتھلی گفتگو ؤں کا نشان نہیں رہے کہ یہاں سنجیدہ مکالمہ بھی فروغ پانے لگا ہے۔  رضاالحق صدیقی کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اِنٹرنیٹ پر سنجیدہ ادبی مکالمے کی فضا بنانے میں اپنا لائق اعتنا حصہ ڈالا ہے۔ اس باب میں انہوں نے تحریر اور تصویر دونوں سے کام لیا ہے۔”کتابیں بولتی ہیں“ میں جمع کردی گئی یہ تحریریں ان کی ایسی ہی سنجیدہ اور تعمیری کو ششوں کا ثبوت ہیں۔ صدیقی صاحب نے یوں کیا ہے اپنے ذوق اور ترجیحات کے مطابق شاعری یا نثر کی کوئی کتاب اُٹھائی، اُسے پڑھا، سمجھا اوراس مطالعہ میں اوروں کو شریک کرنے کے لیے ایک ویڈیو تیار کی جس میں وہ خود اُس کتاب کا تعارف کراتے نظر آتے ہیں۔ ایسی ویڈیوز کو انہوں نے انٹر نیٹ پر اپنی سائٹ پر اَپ لوڈ کر دیا اور اس کے لنکس سماجی رابطوں کی سائٹس پر بھی فراہم کر دیے۔ ان بولتے کالموں میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ بات طویل نہ ہو، اپنے موضوع سے جڑی رہے اور سامع کو بھی اپنی گرفت میں رکھے۔  میں سمجھتا ہوں کہ اس باب میں وہ بہت کامیاب رہے ہیں۔
اب ان ادبی کالموں کو کتابی صورت میں فراہم کر دیا گیا ہے۔ اس مجموعے میں شامل تحریروں سے دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ خود ادب کے بہت سنجیدہ قاری ہیں اورنثر اور نظم دونوں ان کے مرغوب علاقے ہیں۔ کسی بھی کتاب کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کوشش کی ہے کہ صاحب کتاب کے دیگر کام کو بھی دیکھ لیا جائے۔  نثر کے حوالے سے اگر ان کی ترجیحات میں احمد ندیم قاسمی،محمد حامد سراج، زاہدہ حنا، فرحت پروین، نیلم احمد بشیر، سلمی اعوان، گل شیر بٹ، بلند اقبال، لیاقت علی، غلام فرید کاٹھیا،اسلم سحاب ہاشمی جیسے نئے پرانے تخلیق کار رہے ہیں تو شاعری میں مجید امجد،شہزاد احمد، خالد احمد،صبیحہ صبا،طاہر سعید ہارو ن، ظہورالاسلام جاوید،یعقوب تصور،صغیر احمد جعفری ،صباحت عاصم واسطی، زبیر فاروق، ثروت زہرا،سحر تاب رومانی،علامہ عطا اللہ جنوں، عباس تابش، عرفان صادق،حامد یزدانی، ناصر رضوی، زاہد عباس، افضال نوید،جعفر شیرازی اور بشیر احمد بشیر،لیاقت علی عاصم اور بہت سے دیگر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر ان کا نقطہ نظر مثبت رہا ہے۔ انہوں نے جہاں صاحب کتاب، کتاب اور اس کے مندرجات کاتعارف اپنے سامعین(اور اب قارئین) کے سامنے رکھا وہاں وہ تخلیقات پر بات کرتے ہوئے سیاسی اور سماجی حوالوں کو بھی نشان زد کرتے چلے گئے ہیں جس سے ا ن کالموں کی افادیت دوچند ہو جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے  کہ ان کے اس تنقیدی کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ 

محمد حمید شاہد 
اسلام آباد        

تحریک نفاذ اردو ۔۔ پاکستان اور ہماری آئندہ نسل کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے اردو کا نفاذ ضروری ہے : سلیم آذر

یہ مضمون سید عارف مصطفیٰ نے بھی کہیں شیئر کیا ہے۔سلیم آذر صاحب کا کہنا ہے کہ نفاذِ اردو کے لئے پوائنٹ ایک جیسے ہیں لیکن اس مضمون میں ضذبات ان کے ہیں۔بات اتنی سی ہے کہ اس گونگی قوم کو زبان ضرور ملنی چاہیئے
رضاالحق صدیقی،مدیراعلیٰ ادبستان اور تخلیقات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نفاذ اردو کا مقدمہ سپریم کورٹ میں ہے، حکومت نے نفاذ اردو کی تعمیل کا جواب دینے کےلیےعدالت عظمیٰ سے3 دن کی مہلت لے لی ہے۔ آئندہ سماعت بدھ 20 مئی کوہوگی۔ سوال یہ ہے کہ نفاذ اردو کے لیے ان تین دنوں میں حکومت ایسا کیا کارنامہ سرانجام دے سکتی ہے جو قیام پاکستان سے اب تک نہیں کیا جاسکا! لہٰذا لگتا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام بھی معاملات کو طول اورٹالنے کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے، حکومت نے نفاذ اردو کے لیے مطلوبہ تکنیکی امور و ضروری تیاریاں تاحال نہیں کی ہیں جب کہ مقتدرہ قومی زبان و متعلقہ ادارے اپنا اپنا کام مکمل کرچکے ہیں۔ نفاذ اردو کے لیے لازم ہے کہ سپیریئر سول سروس یعنی مقابلے کے امتحانات کے پرچے اردو میں بھی حل کرنے کی فوری اجازت دی جائے جس کے حوالے سے جسٹس خواجہ نے کہا کہ موجودہ سسٹم میں جان بوجھ کر یہ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے کہ 95 فیصد لوگوں کو اردو میڈیم ہونے کی بنا پہ محکوم ہی رکھاجائے اور ہمیشہ انگریزی میڈیم طبقے کا راج رہے-جسٹس جواد خواجہ نے یہ بھی کہا کہ نفاذ اردو کا کام اتنا مشکل بھی نہیں اور عدالتی امور میں تو میں نے اسے متعدد بار آزمایا ہے اور اپنے کئی فیصلے بھی اردو ہی میں لکھے ہیں۔ 
خدشہ ہے کہ حکمراں طبقہ وزیراعظم کے طلب کردہ اجلاس کو غیرموثر بنانے کے لیے تمام حربے و ہتھکنڈے استعمال کرے گا، اجلاس میں اردو کے ایسے جعلی خادمین بھی شریک ہوں گے جو اردو کا کھاتے اور انگریزی کا گاتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ایسے جعلی ماہرین اردو کو اور اردو کی مخالف بیوروکریٹ کو روایتی کھیل کھیلنے کا موقع نہ دیا جائے 
چنانچہ ادیبوں، شاعروں، کالم نگاروں اور صحافی وکلا برادری سے ہماری اپیل ہے کہ وہ نفاذ اردو کے لیے حکومت پر اپنا دبائو بڑھائیں‌بلکہ 20 مئی کوآئندہ سماعت کے موقع پہ اپنے احباب کے ساتھ سپریم کورٹ پہنچیں اور حکومت پر‌واضح کردیں اب ہم حکمرانوں کو اردو 
کے ساتھ یہ بوسیدہ کھیل نہیں کھیلنے دیں‌گے اور یہ کہ نفاذ اردو کے لیے ہم پاگل ہیں، جعلی دیوانے نہیں نفاذ اردو کے لیے اصلی پاگل!
یہ کیس اب تاریخی مرحلے پہ ہے، میری اہل قلم ساتھیوں سے التجا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی تخلیقات کو سامنے لائیں اور ایک زبردست ذہنی فضاکی تشکیل کرنے میں معاونت کریں۔ اردو ایک مکمل زبان ہے،بی بی سی اور یونیسکو کی رہورٹ کے مطابق سنی جانے والی دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے جو دنیا کے ہر خطے می بولی اور پڑھی جاتی ہے ان میں اسرائیل ، جرمنی جنوبی افریقہ جیسے ممالک بھی شامل ہیں ۔ ایک دور تھا جب حیدر اباد کی عثمانیہ یونیورسٹی سے طب اور انجینئرنگ کی تعلیم بھی اردو میں دی جاتی تھی۔ یہ تو ہمارے حاکم طبقے کا بیڑا غرق ہو جس نے اردو کو راندہ درگاہ بنا دیا ورنہ تہذیب، شائستگی، لطافت، فصاحت وبلاغت کے اعتبار سے شریں زبانیں تین بیان کی جاتی ہیں، ایک عربی، دوسری فارسی اور تیسری اردو، اردو ان دو زبانوں سے اس لیے بہتر ہے کہ اس میں دیگر زبانوں کو اپنے اندر سمو کر اپنا بنا لینے کی زندہ صفت سب سے زیادہ موجود ہے، انگریزی اکھڑ لیکن علمی زبان ہے، اگریزی ہم پر ٹھونسی بلکہ جبراً مسلط کی جارہی ہے جو ہماری تخلیقی صلاحیتوں، اعتماد، عمل اور علمی ترقی کو دیمک کی طرح کھائے جارہی ہے۔ 
میں اپنی سطح پر نفاذ اردو کی مہم کا آغاز کرتا ہوں اور اگر ہم سب اپنی اپنی سطح پر میڈیا پراردو کے حق میں آواز بلند کریں تو امید ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسل کے لیے حصول علم کی وہ آسانی چھوڑ جائیں جس سے ہم محروم رہے۔

بدھ، 13 مئی، 2015

مجید امجد کی نظم میں اشیا سے ربط کی صورتیں ۔۔ ناصر عباس نیر کی تحریر

ناصر عباس نیر
مجید امجد(29؍جون1914۔11 ؍مئی 1974) کی برسی کے حوالے سے خصوصی تحریر

مجید امجد ان اشیا اور مظاہر کو اپنی نظم میں بطور خاص اور خصوصی جگہ دیتے ہیں جنھیں ادبی اشرافیہ حاشیے پر دھکیلتی ہے۔ وہ عام معمولی، حقیر اور کم
تراشیا کو اپنی نظم کے قلب میں لاتے ہیں۔ بذاتہِ یہ کوئی کارنامہ نہیں، اس لیے کہ نظیر اکبر آبادی سے خوشی محمد ناظر تک کئی شعرا اس روش پر گامزن رہ چکے ہیں۔ جو بات اسے غیر معمولی اور کارنامہ بناتی ہے، وہ یہ ہے کہ مجید امجد کی نظم میں شامل ہونے کے بعد یہ اشیا معمولی، حقیر اور کم تر نہیں رہیں۔ اشیا کا معمولی یا حقیر ہونا ان کا جوہری وصف نہیں، انھیں تاریخی عمل، سیاسی ترجیحات یا مقتدر ادبی شعریات کے دیے گئے مفاہیم ہیں۔ مجید امجد کی نظم اشیا کے یہ مفاہیم بدل دیتی ہے، بغیر سیاسی ترجیحات اور مقتدر شعریات کوبلند بانگ انداز میں چیلنج کیے!
’طلوعِ فرض‘، ’ پنواڑی‘ ، ’بن کی چڑیا‘، ’ جاروب کش‘، ’ پکار‘، ’ ہڑپے کا کتبہ‘ ،’ توسیعِ شہر‘ ، ’سفرِ درد‘، ’بارکش‘، ’ ہوٹل میں‘، ’ ایکسیڈنٹ‘ اور’ گوشت کی چادر‘ جیسی نظموں میں اشیا و مخلوقات سے ہمدردی ہی کا رشتہ استوار ہوا ہے۔ ان تمام نظموں میں پہلی مشترک بات یہ ہے کہ ان میں ظاہر ہونے والی اشیا و مخلوقات ’عام اور معمولی‘ ہیں، جنھیں عام طور پر شاعری کا موضوع نہیں بنایا گیا ۔مجید امجد کی نظموں کا متکلم اپنے باطن کی گہری سطحوں میں ان سب کے لیے دردمندانہ جذبات کو موجزن محسوس کرتا ہے اور جب یہ جذبات اپنے کلائمکس کو پہنچتے ہیں تو متکلّم بے اختیار کَہ اٹھتا ہے:
آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک ، اے آدم کی آل
(توسیعِ شہر)
لیکن تیری ابلتی آنکھیں، آگ بھری پُرآپ
سارا بوجھ اور سارا کشٹ ، ان آنکھوں کی تقدیر
لاکھوں گیانی، من میں ڈوب کے ڈھونڈیں جگ کے بھید
کوئی تیری آنکھوں سے دیکھے دنیا کی تصویر
(بارکش)
مجید امجد کی مندرجہ صدر تمام نظموں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان میں ظاہر ہونے والے دردمندی کے جذبات کہیں بھی نمائشی ہیں نہ سطحی۔ ان کی نظموں کا متکلم شے کی حالتِ درد سے گہری باطنی سطح پر خود کو جڑا ہوا محسوس کرتا ہے اور اس دوران میں نہ تفاخر محسوس کرتا ہے نہ مصنوعی ترحم!
’بارکش‘ مجید امجد کی ہی نہیں اردو کی انوکھی نظم ہے۔ یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہیں کہ ہمدری کے موضوع پر اس سے بہتر نظم اردو میں موجود ہی نہیں ہے۔ خود مجید امجد اس نظم میں اشیا و مخلوقات سے ہمدردی کے رشتے کو جو سطح تقویض کرنے میں کام یاب ہوئے ہیں، وہ سطح کسی دوسری نظم میں نظر نہیں آتی۔ ہرچند ’توسیع شہر‘ میں بھی وہ دردمندانہ جذبات کو ایک ارفع سطح پر محسوس کرانے میں کام یاب ہوئے ہیں، جہاں اس نظم کا متکلم درختوں کے ساتھ کٹ مرنے کی خواہش کرتا ہے، مگر ’بارکش‘ میں ہمدردی انتہا کو مَس کرتی ہے۔ ہمدردی کے باقی تمام رشتوں میں ہمدردی کرنے والا خود آگاہ رہتا ہے، وہ دوسرے کے درد کو اپنا درد بناتا بھی ہے تو اس عمل اور اپنی وجودیاتی شناخت سے برابر آگاہ رہتا ہے اور اسے قائم رکھتا ہے، مگر ’بارکش‘ میں متکلّم اپنی وجودیاتی شناخت کو ترک کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ مجید امجد کی یہ نظم اس متھ کو اجتماعی انسانی نرگسیت قرار دینے کا شائبہ ابھارتی ہے ،اس لیے کہ گیانی اپنے من میں ڈوبتا ہے تو ہر طرف سے آنکھیں بند کرلیتا ہے،یہ سوچ کر کہ جو کچھ ہے ،اسی کے درون کی دنیا میں چھپا ہے،یہاں تک کہ پورے جگ کے بھید بھی ،لیکن اس جگ میں کتنے ہی مورکھ ،دکھیاروں کاخیال تک نہیں پایا جاتا ۔مجید امجد کی نظم میں اشیا سے ربط کی ایک سطح کو ’جمالیاتی سطح‘ کا نام دیا جا سکتا ہے۔
جمالیاتی ربط کی سطح مجید امجد کی ان نظموں میں بالعموم ظاہر ہوئی ہے، جو فطرت، مناظر یا موسموں سے متعلق ہیں۔ ان میں’گاڑی میں۔۔‘،’ بہار‘،’ صبح کے اجالے میں‘،’ بھادوں‘ اور’ صاحب کا فروٹ فارم‘ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ان نظموں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں فطرت کو کسی انسانی جذبے کا ترجمان بنا کر پیش نہیں کیا گیا ہے، نہ انھیں کسی ایسی جذباتی حالت میں گرفتار دکھایا گیا ہے، جو اصل میں انسانی حالت ہوتی ہے،یا اس کا انعکاس ہوتی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں فطرت کو انسانی اور شاعرانہ مقاصد کے تحت بروے کار لایا جاتا ہے۔اس بنا پران کی اصل اور روح پر پردہ سا پڑا رہتاہے۔ دوسرے لفظوں میں فطرت کو ایک لسانی نشان متصور کیا جاتا ہے اور اس کے لغوی معنی سے گریز کرکے، اس کو استعاراتی اور علامتی معانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ فطرت کو مقصودِ بالذات کے بجائے ذریعہ خیال کیا جاتا ہے، مگر جمالیاتی فاصلہ قائم کرکے، فطرت بطور لسانی نشان کی لغوی حرمت کا احترام کیا جاتا ہے، اس کو مقصودِ بالذات سمجھا جاتا ہے اور اس کی اصل اور روح تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مجید امجد نے فطرت کے ظاہر(appearance)اور اس کے غیاب کو یکساں اہمیت دی ہے ۔فطرت کا ظاہر حسن سے عبارت ہے ،اورغیاب قوتِ نمو سے ،اور ان دونوں میں نہ ثنویت ہے ،نہ ان میں سے کوئی ،دوسرے پر فضیلت رکھتا ہے۔جمالیاتی تعلق کی بنیادی رمز ہی یہی ہے کہ اشیا کی شئیت کو کاملاً قبول کیا جاتا ہے؛اس کے حصے بخرے نہیں کیے جاتے۔یہ تجربہ نشاط انگیز ہے۔ ان کی نظم میں بین الّسطور یہ اصرار ملتا ہے کہ فطرت کی روح سے دوری انسان کے لیے ایک بڑی محرومی ہے:
یہ بیکراں فضائیں جہاں اپنے چہرے سے
پردہ الٹ دیا ہے نمودِ حیات نے
شاداب مرغزار کہ دیکھی ہے جس جگہ
اپنے نمو کی آخری حد ڈال پات نے
گنجان جھنڈ جن کے تلے کہنی سال دھوپ
آئی کبھی نہ سوت شعائوں کا کاتنے
(گاڑی میں)
تمام چاندی جو نرم مٹی نے پھوٹنے بور کی چٹکتی چنبیلیوں میں انڈیل دی ہے
تمام سونا جو پانیوں ٹہنیوں شگوفوں میں بَہ کے ان زرد سنگتروں میں ابل پڑا ہے
تمام دھرتی کا دھن جو بھیدوں کے بھیس میں دور دور تک سردڈالیوں پر بکھر گیا ہے
رتوں کا رس ہے۔ سبو میں بھر لو
(صاحب کا فروٹ فارم)
مجید امجد کے اشیا سے جمالیاتی تعلق کے سلسلے میں دوایک باتیں مزید توجہ طلب ہیں۔ انھوں نے انگریز رومانوی شعرا کی طرح فطرت کو کسی مابعد الطبیعیاتی سچائی کی علامت نہیں بنایا؛ امجد جنگلوں، پرندوں ، پھولوں ،شام ، صبح ،بہار وغیرہ کو ایک ماورائی دنیا کا ظل نہیں سمجھتے،بلکہ زندگی کی بنیادی قوتِ نمو کا بے محابا اظہار سمجھتے ہیںفطرت سے متعلق امجد کی یہ نظمیں اس عمومی رائے کی تردید کے لیے کافی ہیں کہ مجید امجد کے یہاں محض یاسیّت اور زندگی کی مسرتوں سے گریز موجود ہے۔اگرچہ وہ بعض مقامات پر یاسیّت کو اس لیے پیش کرتے ہیں کہ ایک طرف انسانی زندگی کا انجام ان کے پیشِ نظر رہتا ہے، جو الم ناک ہے اور دوسری طرف یاسیّیت بھی زندگی کا حصّہ ہے، انسان لاکھ کوشش کے باوجود اس سے بچ نہیں سکتا۔ یاسیت خواہ کتنی ہی خوفناک اور تباہ کن ہو انسانی دنیا کی حقیقت ہے ؛کوئی التباس اور فریب نہیںاور اتنی ہی بڑی حقیقت جتنی رجائیت ہے۔ بعض اوقات رجائیت کھوکھلی اور یاسیت حقیقی ہوتی ہے؛بلکہ یہ کہنا بھی کچھ غلط نہیں کہ ہمیں رجائی بننا پڑتا ہے ،جب کہ یاسیت ہم پر غالب آتی ہے۔اصل دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا مجید امجد یاسیت کے غلبے کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں ،یا اسے ایک ناگزیر حقیقت سمجھتے ہوئے، انسانی وقار کا لحاظ رکھتے ہوئے قبول کرتے ہیں،اور اس کے مقابل زندگی کا غیر یاسیت پسندانہ نقطہ ء نظر بھی پیش کرتے ہیں یا نہیں؟اس کے جواب میں مجید امجد کا بس ایک شعر کافی ہے۔
طلوعِ صبح کہاں ہم طلوع ہوتے گئے
ہمار اقافلہ بے دراروانہ رہا

جمعہ، 8 مئی، 2015

لیاقت علی کے پہلے افسانوی مجموعے،،پلیٹ فارم اور کہانیاں،، سے ایک افسانہ۔۔۔ کرم داد دھی

لیاقت علی
”ڈاکٹرحیدرمحض اک شخص کا نہیں عہد کا نام ہے۔ اِک چراغ جو روشن ہوتا ہے تو ہرسُو روشنی پھیل جاتی ہے۔ وہ خیال کو لفظ، لفظ کو معنی اور معنی کو ابلاغ کا وقار عطا کرنا جانتا ہے۔ وہ سچ! وہ کڑوازہر، جوہم میں سے اکثر پینے سے کتراتے ہیں، اُس کا پسندیدہ مشروب ہے…!
سقراط پر نئی نسل کو بگاڑنے کا الزام تھا،سو اُسے زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ ڈاکٹرحیدرنئی نسل کو سنوارنے کا مرتکب ہوا ہے دیکھئے اُس کے حصے میں کون سا جام آتا ہے!“
ڈاکٹرحیدرجو عین اُسی لمحے اپنے سامنے سجی خوب صورت طشتری میں سلیقے سے سجے منرل واٹر کے گلاس پر سے باریک کور ہٹانے کے لئے ذرا سا اپنی نشست سے آگے کو جھکے ہوئے تھے، چونکے۔ خاموش حاضرین میں سے کسی کی دبی دبی ہنسی نکلی تو صاحبِ مقالہ نے شعوری طور پر ذرا سا وقفہ لیا۔
”ہاں تو معزز حاضرینِ محفل میں کہہ رہا تھا کہ اسے ہماری خوش قسمتی کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ انہیں ہمارے شہر کی سب سے بڑی درس گاہ کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔ وہ محض بڑے اُستاد ہی نہیں انسان بھی ہیں۔ ایسا انسان جو اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھتا ہے۔ ایسے باخبر آدمی سے متعلق کیا یہ قیاس بھی کیا جاسکتا ہے کہ اُسے اس عظیم درس گاہ کے اندرونی مسائل سے بخوبی واقفیت نہ ہوگی؟
وہ یقینا جانتے ہیں کہ معمارانِ وطن کا یہ کارواں کن کن مشکلات سے دوچار ہے۔ اُنہیں یہ بتانے کی بھی قطعی کوئی ضرورت نہیں کہ ایک مطمئن دماغ ہی سودمند دماغ ثابت ہوسکتا ہے۔ وہ ہم ایسوں کی سفیدپوشی اور تنگ دستی سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ جو مقابلے کے اِس دَور میں خود تو ایک نسل کو بہتر سے بہتر مستقبل مہیا کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں لیکن ہمارے اپنے بچے آج بھی دوسرے درجے کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ ہم اُمید رکھتے ہیں کہ وہ اس یونیورسٹی کے سابقہ سربراہ کی بہت سی کوتاہیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اُس شاندار حکمتِ عملی کو یہاں بھی متعارف کروائیں گے کہ جو انہیں یہ اعلیٰ اعزاز بخشنے کا سبب بنی۔ آپ میں سے چند معزز اصحاب کے چہروں پر پھیلنے والی مسکراہٹ یقینا اس سوال کو جنم دے رہی ہے کہ ہم نے تو سابقہ وائس چانسلر کی دُوراندیشی اور نیک نیتی کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا تھا؟“
مسٹرحیدر نے غیرمحسوس طریقے سے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑائی۔
تقریر جاری تھی۔
”یقینا! یقینا یہ خراج پیش کیا گیا تھا کیونکہ ہم تو بجھتے ہوئے چراغوں میں بھی روشنی کی آخری موہوم اُمید کو تلاش کرنے کے قائل ہیں۔لیکن افسوس کہ ہم اور آپ اُس روشنی سے محروم رہے۔ مگر یقین رکھئے اور مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹرحیدر ایسی علم دوست ہستی میری اس گفتگو میں چھپے معنی کے اُس جہان کو یقینا سمجھ رہی ہوگی کہ جنہیں میرے الفاظ ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ کیونکہ وہ لفظوں کے اس گورکھ دھندے سے بخوبی واقف ہیں اور یہ آپ اور ہم سب جانتے ہیں کہ یہ سب باتیں کسی اُمید پرست کی خام خیالی نہیں بلکہ وہ اٹل حقیقت ہے کہ جسے جھٹلانا شاید مشکل ہوگا۔“ 
ڈائس کے ایک کونے سے ایک چھوٹی سی چٹ صاحب ِمقالہ کی طرف منتقل ہوئی۔ غیرمحسوس طریقے سے کلائی کی جانب اُٹھنے والی ڈاکٹر حیدر کی نگاہیں یقینا کسی نظرشناس کی نظروں میں تھیں۔
”جی ہاں! تو میں اپنی بات کو مزید پھیلا کر آپ اور اُن میں زیادہ دیر حائل نہیں رہنا چاہتا۔ بس اپنے اور اپنے شعبے کے تمام سٹاف ممبران کی طرف سے انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے یہ اُمید رکھتا ہوں کہ وہ ان مسائل پر خصوصی دھیان دیں گے کہ جو ہمارے بچوں کے بہتر مستقبل اور سودمند شہری ہونے میں ایک دیوار بنے ہوئے ہیں۔“
صدرِشعبہ، ڈاکٹرراؤ کی استقبالیہ تقریر ختم ہوئی تو حاضرین کی پُرتکلف اور احتیاط سے بجائی گئی تالیوں کی ہلکی سی گونج نے ہال کے سکوت کو کچھ دیر کے لئے توڑا۔ سیکرٹری صاحب نے دوبارہ سٹیج سنبھالا اور ڈاکٹرحیدر کو ڈائس پر آنے کی دعوت دی کہ جن کی تقریر انتہائی غیرمحسوس انداز میں پہلے ہی ڈائس پر پہنچا دی گئی تھی۔ 
(۲)
ڈاکٹرحیدر نے جس روز سے سبزنمبرپلیٹ کی گاڑی، قومی پرچم والی عمارت، عالی شان سرکاری بنگلے اور کشادہ دفتر کا راز پایا، اُن کے لئے بہت سی حیرتوں، حقائق اور انکشافات کا در بھی جیسے اچانک وا ہوگیا۔
وہ ساری باتیں جو ماضی میں بطور طالب علم این۔ایس۔ایف کے پلیٹ فارم پر پُرجوش لفظوں اور بامعنی نعروں میں کی جاتی تھیں، بے معنی سی ہو کر رہ گئیں۔ انسان کا وہ استحصال کہ جس پر بھوک ہڑتالی کیمپ لگتے اور خودسوزی کی دھمکیاں دی جاتی تھیں، اب اچانک بے کار اور احمقانہ سا لگنے لگا۔ ایک ”کیوں“ نے اُن کے اندر بھی سر اُٹھایا۔
”آخر لوگ اتنے جذباتی اور بے صبرے کیوں ہیں؟“
”کیوں منصب پر بیٹھے آدمی کو ہمیشہ غلط ہی تصور کیاجاتاہے؟“
”کیوں زمینی حقائق کھلی آنکھوں کے باوجود لوگوں کو دکھائی نہیں دیتے؟“
”کیوں؟……آخرکیوں؟“
یہ وہی ’کیوں‘ تھا کہ جس کا جواب وہ کل تک لوگوں میں دلائل کے ساتھ دیتے نہ تھکتے تھے۔ وہ ساری باتیں جو اس ”کیوں“ کے جواب میں اُن کے قلم سے نکل کر مضامین اور کتابوں میں بند ہوئی تھیں، آج یوں چھپائے پھرتے تھے جیسے کوئی بیوروکریٹ اپنے دیہاتی ماں باپ کو چھپائے پھرتا ہے۔ پھر بھی کوئی سرپھرا منہ پھٹ اِن نظریات سے انحراف کا سبب پوچھ ہی لیتا تو پہلے تو ماضی کے اس قابلِ شرم عمل پر ان کا رنگ اُڑتا، پھر نہایت خوبصورتی سے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ پھیلتی اور آخر آدھے راستے میں ٹھُس ہو جانے والے پھیکے قہقہے کے بعد کہتے:
”چھوڑیئے صاحب!
آپ بھی کن زمانوں کی بے وقوفیوں کو لے بیٹھے۔ان دنوں نجانے کیا کیا الابلا پڑھتے اور لکھتے رہتے تھے۔ انقلابی کہلوانے یا کوئی منفرد بات کہنے اور کر گزرنے کی دُھن سوار رہتی تھی۔ عجب بچپنا اور ناپختگی کا عالم تھا، جب سوچ ابھی ترتیب پانے کے عمل سے گزر رہی ہوتی ہے۔ ایسے میں کوئی بھی جذباتی بات، نعرہ یا اشتعال انگیز بیان اپنی جانب کھینچتا ہے اور انسان بنا سوچے سمجھےاس پر ایمان لے آتا ہے۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھوں تو صرف ہنسی آتی ہے۔ صرف ہنسی!“
ڈاکٹر حیدر کی سوچ میں یہ تبدیلی وقت کی طرح کوئی غیر محسوس عمل نہ تھا بلکہ یہ تو سکول میں بجنے والی اُس گھنٹی کی مانند تھی جو پہلے اور دوسرے پیریڈ میں ایک واضح حدِ فاصل کا اعلان کرتی ہے۔ اچانک آنے والی اس تبدیلی نے جہاں اُن کے عملی زندگی میں بظاہر ناکام مگر نظریاتی دوستوں کو چونکایا وہیں اُن کی بیگم بھی اس تبدیلی پر زیادہ خوش نہ تھیں۔
دوستوں سے تو خیر الگ ہونے اور ایک مناسب فاصلہ رکھنے کے لئے حیدر صاحب کو خود ہی یہ آسان حیلہ مل گیا کہ جس کسی نے ذرا بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بدلی ہوئی روش پر فقرہ کسنے کی کوشش کی،وہ فوراً یوں سیخ پا ہوئے کہ پھر باوجود معذرت کے اس کوتاہی کو معاف کرنے پر رضا مند نہ ہوئے، مگر بیوی کا معاملہ قدرے مختلف تھا۔ یہ بیوی اُن کی پچیس برس پرانی رفیق تو تھیں ہی تین بچوں کی ماں بھی تو تھیں۔ اور یہ تینوں بچے حیدر صاحب کی شاید واحد کمزوری تھے۔ بچے نہ صرف اس بات سے باخبر تھے بلکہ بدلے ہوئے ان حالات میں اُن کا جھکاؤ بھی اپنی ماں کی جانب تھا۔ یوں ایک اینٹی حیدرخاموش تحریک اُن کے اپنے گھر میں بھی جڑیں پکڑ چکی تھی۔
مسز حیدر کو افسوس تھا کہ وہ شخص جس نے تمام عمر انسانی استحصال کے خلاف آواز اُٹھائی، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور آمروں کے خلاف سچ بولنا سکھایا اور بعض اوقات اپنے شاگردوں میں مشکوک کر دینے والی محبت بانٹی، آجDo not disturb کی تختی لگائے، بالواسطہ فون، سیاہ شیشوں کی بند گاڑی، پرہیزی کھانے اور منرل واٹر کا ایسا رسیا ہوا کہ اپنے سبھی آدرش بھول گیا؟
آج کا ڈاکٹر حیدر انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر منعقد ہونے والی این۔جی اووز کی پرتعیش تقریبات میں چیف گیسٹ تو بن سکتا تھا مگر اُسے عملی طور پر اس تذلیل سے کوئی غرض نہ رہی تھی۔ اب آئے روز اخبارات میں چھپنے والی اپنی تصاویر، ہر محفل کی کرسیئ صدارت، فائیو سٹار ہوٹلز کے ڈائننگ رومز میں غربت دُور کرنے والی تجاویز پر اظہارِ خیال، سرکاری ائیرٹکٹس پر لمبی فلائٹس، دانستہ محفل میں دیر سے جانا اور جلد واپس آجانا اُسے مزہ دینے لگا تھا۔
نجانے کیا تھا کہ ایک عجیب طرح کی عُجلت، مختصر بات سننے کی عادت، دوحرفی گزارش اور کمپوزڈ بیان اُسے بھانے لگے تھے۔حالانکہ وہ تو شاگردوں سے گھنٹوں بامعنی ہی نہیں بے معنی اور لاحاصل موضوعات پر گفتگو کرتے بھی نہ تھکتا تھا۔ اِن گھنٹوں کی طویل اور بے معنی گفتگو کے بعد بھی اُس کے لہجے میں تھکاوٹ کے بجائے توانائی محسوس کی جا سکتی تھی۔ ایسی توانائی جو کسی حقیقی مسرت کی دین ہوتی ہے۔ اس کا ماننا تھا کہ سوال کی عادت ڈالئے۔ سوال غیر متعلق ہی کیوں نہ ہو ایک اعتماد اور سیکھنے کی خُو پیدا کرتا ہے۔ احمقانہ سوال سوائے اُس کے کوئی نہیں ہو سکتا کہ جو پوچھا نہ جائے۔ وہ دانستہ اپنے لیکچرز میں سوال پر اُکسانے والے پہلو چھوڑتا چلا جاتا اورپھر اپنی اس خوبصورت شرارت کو پہچاننے والے طالب علموں کو تلاش کرنے لگتا۔ جو نہی کوئی ہاتھ سوال کو بلند ہوتا اُسے اُس شکاری کا سا اطمینان محسوس ہوتا جس کا نشانہ عین ہدف پر لگا ہو۔ پھر اس سوال کی تفہیم شروع ہوتی اور یہ پتہ ہی نہ چلتا کہ کب وہ اگلے پیریڈ کا بھی آدھا وقت لے چکا ہے۔
مگر آج وہی ڈاکٹر حیدر اتنا اختصار پسند ہو گیا تھا کہ اسے چائے کا پورا کپ اور طالب علم کا مکمل سوال بھی گراں گزرنے لگا تھا۔ کل تک جس کی پرسنل فوٹوالبم شاگردوں میں گھلتے ملتے، اُٹھتے بیٹھتے، گھومتے پھرتے اور اُن کی نجی خوشیوں میں بھی شرکت کی تصاویر سے بھری ہوئی تھی، آج ربن کاٹتی قینچیوں، نقاب کشائی کرتی تختیوں، اعلیٰ حکام کو کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتی فائلوں اور مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں سے ملتے اعزازات کے خوش کن لمحوں سے سجتی جا رہی تھی۔
مگر یہ سب تصویر کا ایک رُخ تھا۔ معلوم رُخ۔ ایک دوسرا رُخ بھی توتھا جہاں شہر سے دور بستی کے سرکاری سکول کے ٹاٹ پر پیوند لگے کپڑوں میں ملبوس حیدری اپنی تختی لکھتا تھا اور اُسے اپنے باپ کو دی جانے والی نمبردار بہاول خاں کی وہ گالی کبھی نہ بھولتی تھی جو وہ بنا کسی وجہ کے یونہی زبان کراری کرنے اور اپنی حاکمیت کے احساس کی یقین دہانی کے لئے دیا کرتا تھا۔
”اوکر م داد دھی……حُقّہ گرم ہوا کہ نہیں؟“
اور اُس کا باپ جیسے اس دھی……کو اپنے نام ہی کا کوئی اعزازی حصہ سمجھتے ہوئے ہاتھ باندھ لیتا۔
”مجال ہے سائیں۔“
حیدری تختی پر گاچنی رگڑتے، موٹے کپڑے کالمبا بستہ گلے میں لٹکائے نہر کنارے چلتا جاتا اور سوچتا جاتا آخر یہ دھی۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوتا ہے؟
”ابّا یہ نمبردار تجھے دھی……کیوں کہتا ہے؟ تمہارا نام تو کرمو ہے تو پھر یہ دھی…… کا مطلب کیا ہے؟“
ایک روز اس نے غصّے سے باپ سے اس مخمصے کا حل جاننا چاہا جو بہت دنوں سے وہ حل نہ کر سکا تھا۔
”بس پُتر اس کا مطبل کچھ اچھا نہیں ہوتا۔ پر تو کیوں پوچھتا ہے؟“
”پتہ نہیں ابّا پر مجھے اچھا نہیں لگتا۔“
”اومیرا شیر! اتنی سی عمر میں ایسی باتیں نہیں سوچتے۔ تو پڑھ اور خوب محنت کر کہ کل کو حیدری دھی…… نہ کہلوائے بلکہ اُچا افسر بنے اور ”حیدرخان“ کہلوائے…… حیدرخان!“
”ڈاکٹر حیدر خان۔“
میز پر رکھے دعوت نامے پر مہمانِ خصوصی کے سامنے جلی حروف میں لکھا اپنا نام پڑھتے ہوئے ڈاکٹر حیدر کو جیسے باپ کی نصیحت یاد آگئی، جو اُس کی فطری ذہانت سے ملی تو وہ وظیفے لیتا اگلی سے اگلی جماعت میں پڑھتا چلا گیا۔
اس سے پہلے کہ اُسے باپ کی تذلیل کا شعور ہوتا باپ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ نمبردار بھی کہیں مرکھپ گیا۔
حیدری کی بچپن سے یہ خواہش تھی کہ وہ پولیس کا کوئی افسر بنے۔ اس وقت جب اس کا باپ نمبردار کے ڈیرے پر جھاڑو پھیرے، چارپائیاں بچھائے حقّہ بخانے کی تیاری کررہا ہوتا اور اچانک علاقے کا S.H.O المعروف صاحب بہادر اپنی جیپ سے اُترتا تو نمبردار بھی ریشمی گاؤ تکیے کی ٹیک چھوڑتا تیزی سے چارپائی سے اُترتا اوربھاگ کر اُس کے استقبال کو جیپ کی طرف لپک جاتا۔ صاحب بہادر کی اس اچانک آمد پر اکیس توپوں کی سلامی وہ بھاری بھر کم دوچار گالیاں ہوتیں جو نمبردار بہاول خان کرم داد کو اُس انجانی سستی پر دیتا کہ جس کا علم کرم داد تو کیا خود نمبردار کو بھی نہ تھا۔ یہ موٹی موٹی قہقہوں میں ڈوبی گالیاں تیز دھار چھریوں کی طرح باپ کا ہاتھ بٹاتے حیدری کے دل میں پیوست ہو جاتیں اور اُس کا بدن خوف اور غصّے سے کانپنے لگتا۔
پھر یونہی صاحب بہادر کے خوشگوار مزاج کو تفریح کامزید سامان مہیا کرنے کی خاطر نمبردار ہنستے ہوئے کرم داد کو مخاطب کرتا:
”کرم داد دھی…… کیا خیال ہے مہمان خانے بھجواؤں تجھے صاحب بہادر کے ساتھ؟“
تھانے کا یہ نام خاص طور پر نمبردار نے اُن تمام کمّیوں کے لئے وضع کر رکھا تھا جو مطلوبہ نمک حلالی پر پورا نہیں اُترتے تھے۔
کرم داد جو اس لمحے زمین پر اکڑوں بیٹھا صاحب بہادر کے ہاتھ پیر دھلوانے میں مگن ہوتا خوف سے کانپ اُٹھتا اور پھر ایک شدید خوشامدانہ مسکراہٹ اُس کے چہرے پر پھیل جاتی۔ جیسے وہ یہ یقین چاہ رہا ہو کہ یہ بات نمبردار اُس سے محض مخول کی خاطر کر رہا ہے۔
”مالک ہو سائیں!“
اُس کی ہتھیلیاں جُڑ جاتیں۔
ہر بار دہرائے جانے والے اس معمول میں ایک مرتبہ اُس کے کانپتے ہاتھوں سے پانی کا مگہّ یوں پھسلا کہ پانی کے چند چھینٹے اُڑ کر صاحب بہادر کی پتلون پر گرے تو وہ ایک دم چونکے۔
”کرمو دیکھ تو سہی!“ 
صاحب بہادر کے منہ سے محض اتنا ہی نکلا تھا کہ نمبردار نے جیسے اس گستاخی کے فوری ازالے کے طور پر ایک زور دارٹھُڈّا وہیں چارپائی پر بیٹھے بیٹھے کرم داد کے منہ پر مارا اوروہ سنبھلتے سنبھلتے پیچھے جا گرا۔ اُس کی دونوں ٹانگیں فضامیں آدھی بلند ہوئیں اور دھوتی کے دونوں پلّو دائیں بائیں ایسے گرے کہ اس کی رانوں سے کولہوں تک بے ترتیب گھنے گچھّوں ایسے بالوں کا ایک کریہہ منظر آس پاس بیٹھے مہمانوں کے لئے کوئی پُر لطف لطیفہ بن گیا۔ ہنستے ہنستے اُن کے پیٹ دوہرے ہو گئے اور جب ذرا خاموش ہوئے تو دیکھا کہ کرم داد تیزی سے اپنی چادر سنبھالتا کچھ ایسے سرپٹ اپنے گھر کی جانب دوڑتا جا رہا تھا جیسے آج واقعی صاحب بہادر اُسے مہمان خانے لے جائیں گے۔ حیدری جواب تک خاموشی سے اس سارے منظر کو دیکھ رہا تھا، یوں باپ کے پیچھے دوڑا جیسے خوف سے بدکی کسی گائے کے پیچھے اس کا بچھڑا بھاگتا ہے۔ گھر پہنچنے پر چٹخنی چڑھائے کرم داد بہت دیر تک موٹی رضائی میں دبکا رہا، جیسے اُس پکار کو سننے سے ڈر رہا ہو جو ابھی کچھ ہی دیر میں ہتھکڑی تھامے دروازے کے باہر سپاہی دے گا۔
”کرمو دھی……چل تجھے بتائیں کہ پانی کہاں کہاں اور کیسے کیسے ڈالا جاتا ہے۔“
حیدری کے دل میں اُسی روز سے جہاں ان دو چیزوں یعنی جاگیر اور وردی سے نفرت پیدا ہوئی وہیں اس کے حصول کی ایک انجانی تڑپ بھی سرمارتی رہی۔ اُس کا جی چاہتا کہ وہ بھی کسی کرم داد دھی…… کو ٹھڈا مارے یا کوئی کرمو اُس کے پاؤں دھلواتا یونہی کمر کے بل جا گرے تو وہ اُس کی رانوں اور کولہوں پر الجھے ہوئے گھنے سیاہی مائل کریہہ منظر کو دیکھ کر ہنس سکے۔
لیکن شاید قسمت نے اُس کے لئے کچھ اور ہی منتخب کیا تھا۔ وہ گاؤں سے شہر آیا اور ٹیوشن پڑھاتا، پڑھتا پہلے سکول پھر کالج اور بالآخر یونیورسٹی میں بطور استاد تعینات ہوا۔ قابلیت تو اُسے فطرت کی طرف سے ودیعت کی گئی تھی۔ ماحول بھی نسبتاً بہتر ملا تو دنوں ہی میں اُس نے اپنا ایک حلقہ اثر بھی پیدا کر لیا۔ بطور طالب علم بھی انقلابی سوچ رکھتا تھا۔ اب بطور استاد بھی طبقاتی کشمکش اور انسانی استحصال پر مزاحمت کرتا دکھائی دیا اور شاگردوں ہی کے لئے نہیں دوستوں کے لئے بھی جیسے کوئی رول ماڈل بن گیا۔
آہستہ آہستہ وہ اپنے ماضی کی ہر شے جیسے کسی بند صندوق میں ڈال کر کسی گہرے دریا میں پھینک آیا مگر وہ نقوش کہ جو کرم داد نے بنا اجازت اپنے چہرے سے اُتار کر اُس کے چہرے پر جڑ دیئے تھے، وہ کیونکر فراموش کر سکتا تھا؟ 
ہاں جہاں تک ممکن تھا اس نے ان نقوش کو جدت ضرور بخشی۔ لیکن اب بھی کبھی کبھار اگر وہ چھٹی والے دن ان جدت بخشتے وسائل سے بے نیاز تہمد بنیان اور بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ اچانک سوتے سے اُٹھ کر آئینے کے سامنے آن کھڑا ہوتا تو ایک لمحے کو اُسے محسوس ہوتا جیسے آئینے کے اُس پار کھڑا کرم داد، اچانک ہاتھ باندھ کر کہے گا:
”مالک ہو سائیں۔“
ایک روز تو اُس میں ماضی میں از سرِ نو جھانکنے کی خواہش نے یوں سراُٹھایا کہ اس نے بیڈروم کی چٹخنی چڑھائی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکھے بیڈ پر ٹانگیں اِدھر اُدھر پھیلائے اس طرح کمر کے بل گرا کہ سامنے آئنے میں اُسے وہ رانوں اور کولہوں پر اُگے سیاہ بالوں کا کریہہ منظر دیکھنے میں ذرا دُشواری پیش نہ آئی کہ جسے دیکھتے ہوئے صاحب بہادر اور نمبردار بہاول خان ہنستے ہنستے دوہرے ہو گئے تھے۔ پھر اچانک اسے اپنے اس احمقانہ فعل پر ندامت محسوس ہوئی تو وہ یکسر سنجیدہ ہو گیا۔
اب جب اُسے یونیورسٹی کا نیا وائس چانسلر منتخب کیا گیا تو اُسے اس کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں شاگردوں، مدّاحوں اور دوستوں کے مبارکباد کے فون، پھول اور کارڈز موصول ہوتے رہے۔ دعوتوں اور خوش آمدیدی تقریبات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا اور اسٹیٹس میں آنے والے اس یُوٹرن نے جیسے سیلف میڈ حیدر خان کو یہ پیغام بھی پہنچایا کہ جاؤ اب وہ منزل آگئی ہے جہاں تم اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا کا کچھ تو ازالہ کر سکتے ہو!
حیدری جن ناخنوں کو نمبردار بہاول خان کی انگلیوں سے کاٹنے میں ناکام رہا تھا، آج وہی ناخن جب اُس نے حیدرخان کی انگلیوں پر اُگے دیکھے تو اس پر ان کا عقدہ بھی کھل گیا۔ زندگی میں پہلی بار اس کے دماغ میں یہ خیال پیدا ہوا کہ نمبردار شاید ٹھیک کرتا تھا۔ نمبردار کیا دنیا کے کسی بھی صاحبِ طاقت کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔
یہ نوکر پیشہ عام آدمی شاید نرمی کا حق دار ہی نہیں۔ اب یہی دیکھ لیجئے، بھلا کیا ضرورت ہے یونیورسٹی کے بجٹ پر بوجھ بنتے اس بے کار سٹاف کی؟ اور پھر اگلے ہی روز اپنے منصب اور آمد کی اطلاع یونیورسٹی کے بہت سے عارضی ملازمین کی برخواستگی کے نوٹیفیکیشن سے دی گئی۔ خوشامدیوں، اچھی خبریں سنانے والوں اور من بھائے لوگوں کا ایک مخصوص گروہ اس کے گرد بھی اکٹھا ہوا۔ کئی ایک مشاورتی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور اچانک کئی انکشافات وقوع پذیر ہونے لگے۔ طلباء تنظیموں کی ہٹ دھرمیاں، اساتذہ یونین کی بے کار فرمائشیں اور اس نوع کے کئی انکشافات تو چند ہی روز میں اپنی اصلی صورت میں سامنے آگئے۔ باقی خارجی نوعیت کے مسائل، انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے مقاصد، سوشل ویلفیئر کے سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی اہمیت، سیاسی سماجی حالات کی نئی توجیہات اور تاریخی شعور نے بھی جو نئی کروٹ لی تو یہ انکشاف بھی ہوا کہ بیضوی میز کے اِرد گرد منرل واٹر کی بوتلیں سجائے، ٹھنڈے یخ کمروں میں بیٹھنے والے یہ سرد مزاج لوگ تو ایک الگ ہی وژن رکھتے ہیں۔ ایسا وژن کہ جس تک عام آدمی کا دیگچی میں اُبلتے انڈے ایسا دماغ رسائی حاصل کر ہی نہیں سکتا۔ یہ سبھی گرمی، جنس اور معیشت کے ہاتھوں مفلوج ذہن بھلا معروضی تجزیئے اور زمینی حقائق کو سمجھنے کے اہل کیونکر ہو سکتے ہیں؟
اس نئے شعور کا نتیجہ تھا کہ اُسے اپنے ماضی پر عجب ملال سا رہنے لگا۔ وہ ماضی کہ جو اُس نے بے کار میں بائیں بازو اور دائیں بازو کی گردان رٹتے، فیض کی انقلابی شاعری پڑھتے اور چے گویرا کی تقاریر سنتے اور اُسے نقل کرتے گزار دیا۔ اب اُسے احساس ہوا کہ یہ انقلابی اور فکر انگیز مفکرین، شاعر اور سیاستدان تقلید کے لئے نہیں ہوتے بلکہ یہ تو وہ اسٹیٹس سمبلز(Status Symbols) ہیں جو
ایک خاص طبقے کی جمالیات کی غمازی کرتے ہیں۔ یہ سب ڈرائنگ رومز کی سجاوٹ اور خوبصورت بک شیلفوں میں سجائی جانے والی اشیاء ہیں۔ ہاں اگر وقت اور حالات اجازت دیں تو اِن لوگوں کے افکار، اقوال اور نظریات آپ کے باشعور اور دانشور ہونے کا ثبوت بھی فراہم کر سکتے ہیں۔
ایسے میں ایک نئے حیدر خان کا جنم ہوا۔ پچاس سالہ شیر خوار حیدر خان، جو سونے کا چمچ اگر ماں کے پیٹ سے لے کر نکلتا تو شاید اتنا خطرناک نہ ہوتا۔ مگر اب جب اُسے یہ چمچ چھیننے میں پچاس برس صرف کرنا پڑے،سرکاری دفاتر کے کلرکوں کو چائے پلوا پلوا کر وظیفے کی رقم نکلوانا پڑی، شہر میں اپنی بقاکی جنگ لڑنا پڑی، بڑے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کے لئے علم، دانشوری، چاپلوسی، خدمت، عقیدت اور اس نوع کے نجانے کتنے سہارے تلاش کرنا پڑے تو اُس کا خطرناک ہو جانا ایسا بعید بھی نہ تھا!
وہ جسے نوکری کے لئے عمر اور بیوی کے لئے شناخت بدلنی پڑے،بھلا نارمل بی ہیو (Behave)کیسے کر سکتا ہے؟
کرم داد دھی…… مر گیا مگراُس کے اس عکس، اس پینٹ کوٹ میں پھنسے نکٹائی لگائے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر انگریزی اخبار پڑھتے حیدری نے آج وہی پالیا کہ جس کے خلاف اُس کا دل نفرت سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے ماضی کی ہر ہر تلخ یاد سمیٹ کربند صندوق میں دریا برد کر دی مگر یہ چہرہ! یہ چہرہ جو اُس کی پرسنل الماری کی ایک تاریک دراز میں رکھی سر پر پگڑی اور کندھے پر صافہ ڈالے ایک شخص کی کلرڈ فوٹوسٹیٹ کاپی تھا،بھلا کیونکر بدلا جا سکتا تھا؟
کئی بار وہ سوچتا رہ جاتا کہ یہ چہرہ کیا اُس کے لئے کسی تفاخر کا سبب ہے کہ جس کی متانت، شوخی اور علم نے لوگوں کو سحر میں لے رکھا ہے یا محض اُسے اپنے ماضی کی تلخ یادوں کو ہر ہر لمحہ اپنے چہرے پر سجائے رکھنے کا وہ وسیلہ کہ جسے اچانک کسی میٹنگ ہال میں بیٹھا کوئی نمبردار بہاول خان پہچان کر کہے گا:
”کرم داد!…… اوکرم داد دھی…… تو یہ کیا بہروپیا بنا پھرتا ہے؟ اتنا عرصہ کہاں تھا؟ چل اُٹھ حقّہ بخا صاحب بہادر آنے والے ہیں۔“