ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


منگل، 28 اپریل، 2015

ساھیوال میں ایم اے اشرف کی کتاب ،، تاریخ ساھیوال ،، کی تقریبِ رونمائی(رپورٹ علی وارث انصاری)

رپورٹ : علی وارث انصاری
ایم اے اشرف مرحوم کی  کتاب "تاریخ ساہیوال قدیم اور جدید خطوط کی روشنی میں" کی تقریب رونمائی  آرٹس کونسل جناح ہال میں پنجاب لوک سجاگ 
مجید امجد اکیڈیمی ،پنجاب لوک رھس اور ساھیوال آرٹس کونسل   کے زیرِ اھتمام منعقد ہوئی ۔
کتاب میں  ہڑپہ کی تاریخ، منٹگمری سے ساہیوال تک کا سفر، ساہیوال کی تہذیب، انگریز کا زمانہ، ساہیوال کے آبی ذرائع، قومیں، سماجی و سیاسی اداروں اور حلقوں پر تاریخی لحاظ سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
تقریب کے مہمان خصوصی معروف ڈاکٹر 

پروفیسر مبارک علی نے کہا کہ تاریخ ساہیوال تاریخی حوالے سے ایک منفرد کتاب کی حیثیت رکھتی ہے جو کہ بڑے شہروں کی تاریخ رقم کرنے کی روایت کی نفی کرتی نظر آتی ہے۔
'ایم اے اشرف ایسا سپوت ہے جس رائج اطوار سے انحراف کرتے ہوئے ایک چھوٹے شہر کو اپنی توجہ کا مرکز بنانے کی ہمت کی۔'
سیاسی و سماجی تجزیہ کار ڈاکٹر پروفیسر مہدی حسن کے مطابق تاریخ ساہیوال میں ایم اے اشرف نے تاریخ کو اس کے درست سیاق و سباق کے ساتھ بیان کیا ہے اور اسے مشرق وسطی سے جوڑنے کی بجائے اس کی پانچ ہزار سالہ تاریخ کی شکل بگاڑنے بنا اسے پورے انصاف کیساتھ عوام تک پہنچایا گیا ہے۔
'تاریخ ساہیوال باقی شہروں کی ادبی شخصیات کے لیے عملی نمونہ اور مثال کی حیثیت رکھتی ہے جو کہ پاکستان میں چھوٹے شہروں کی علاقائی تاریخ کھوجنے اور محفوظ کرنے کی روایت کا سنگ بنیاد ثابت ہونے کی پوری قابلیت رکھتی ہے۔'
مہدی حسن نے کہا کہ تاریخ ساہیوال ایک قابل اعتماد کتاب ہے کیونکہ اس کے مصنف نے اپنی ذاتی رائے کو ثانوی اہمیت دیتے ہوئے ضروری شواہد اور ثبوتوں پر زیادہ زور دیا ہے۔

ڈاکٹر پروفیسر محمد رفیق مغل ستارہ امتیاز کا کہنا تھا کہ بلاشبہ تاریخ ساہیوال کو انسائیکلوپیڈیا کہا جا سکتا ہے کیونکہ مصنف نے اس میں ساہیوال کو ہر پہلو کو پوری ایمانداری کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔

'اس کتاب میں ان حقائق کو بھی ڈھونڈ کر لوگوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس سے لوگ اس سے پہلے روشناس نہ تھے۔
سید نعیم اختر نقوی نے ابتدا میں ایم اے اشرف سے اپنے تعلق اورخاص طور پر راو شفیق احمد اور رضاالحق صدیقی اور 
دیگر دوستوں کا ذکر کرتے ہوئے ساھیوال کی ادبی تاریخ کو تفصیل سے بیان کیا۔
ان کے بعد پوسٹ گریجویٹ کالج کے پرنسپل پروفیسر اخلاق احمد نے بھی موصوف کی شخصیت اور فن کے حوالے سے خراجِ عقیدت پیش کیا۔راقم الحروف(علی وارث انصاری) نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دئیے۔
تقریب رونمائی میں ایم اے اشرف کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے بیٹے ندیم اشرف کو اعترافی شیلڈ بھی پیش کی 

گئی۔
ایم اے اشرف کی کتاب پنجاب لوک سجاگ کے تعاون سے چھاپی گئی ہے ۔ تقریب رونمائی کا آغاز دن دو بجے ہوا جس میں پنجاب لوک سجاگ کی جانب سے ایم اشرف کی کتابٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ "تاریخ ساہیوال" کا سٹال بھی لگایا گیا تھا۔
تقریب میں صوبائی وزیر عشر و زکوۃ ملک ندیم کامران، عالمی شہرت یافتہ تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی، نامور دانشور ڈاکٹر مہدی حسن، ماہر آثار قدیمہ رفیق مغل، سابق ایم پی اے حفیظ اختر،ایڈیشنل کمشنر مرزا شفقت، انسان دوست ایسوسی ایشن، عمل فاؤنڈیشن، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، ڈویژن بھر کے ادبی، سیاسی، صحافی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی
شخصیات، طلبا و طالبات اور مختلف پیشہ ورانہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں