ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


اتوار، 15 مارچ، 2015

صغیر احمد جعفری کی شاعری ہماری تہذیبی زندگی کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے : رضاالحق صدیقی

زندگی کٹ گئی صحرا میں 
ایک دن ایسے کام پر نکلا
ہجرت،نقل مکانی یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ازل سے انسان کو ودیعت کر دی گئی۔
سب سے پہلی جبری ہجرت تخلیق کائنات کے فوراَ بعد ہوئی جب آدم نے اپنے خالق کی حکم عدولی کی جس پر آدم کو حکم ملا کہ،، اب تم سب یہاں سے اتر جاوٗ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین پر ٹھہرنا اور وہیں گذر بسر کرنا ہے۔ 
ہجرتِ دنیاوی ایک بار پھر وقوع پذیر ہوئی جب منکرینِ خدا کفار مکہ نے محبوبِ خدا پر عرصہء حیات تنگ کر دیا پس میشتِ خداوندی یہی تھی کہ محبوبِ خدا مکہ سے ہجرت کر جائیں سو مکہ سے حبشہ اور آخر میں مکہ سے مدینہ کے سفر میں نقل مکانی ہوئی۔
ہجرت کرنا ہر ذی روح میں عام طور پر اور مسلمانوں میں خاص پر ودیعت شدہ ہے۔ 
تقسیم ہند کے اعلان کے نتیجہ میں لاکھوں افراد کی نقل مکانی نے ہجرت کو نیا مفہوم بخشا۔ اس خون آلود ہجرت نے اردو ادب کو درد کی نئی کیفیات سے آشنا کیا۔
اردو شاعری انسان کے عقل و شعور کے اظہار میں سے ایک ہے۔ ہجرت کا یہ درد آج بھی اردو شاعری میں موضوع سخن ہے۔
،،خوابوں سے رشتہ ٹوٹ جائے گا،، کے خالق سفیر ادب سید صغیر احمد جعفری کے ہاں ہجرت کا استعارہ اپنی بھرپور معنویت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے۔
زندگی کٹ گئی ہے صحرا میں 
ایک دن ایسے کام پر نکلا
ہائے وہ دن کہ دھوپ اوڑہی تھی
پھر کہاں چھاؤں میں یہ سر نکلا
دوسرے شاعروں کی طرح صغیر احمد جعفری بھی زماں و مکاں کی ہجرت سے دوچار ہوئے مگر بنیادی فرق یہ ہے کہ انہوں نے ہجرت کے المیے کو فکری جلاوطنی کے طور پر قبول کرنے سے قابلِ استعمال بنانے کی فنکارانہ کوشش کی ہے۔ یوں ان کی شخصیت اور فن کا المیہ، خوبصورت رزمیے میں تبدیل ہوکرانہیں ہوس زر کے اس دور میں سکون اور کامیابی سے رہنے کا جواز مہیا کرتا ہے۔
مجھے بھی صحرا میں برسوں گزر گئے لیکن
زمیں اپنی مجھے پھر بھی یاد آتی ہے
ہجرتوں پر تو ہجرتیں کر لیں 
اے وطن تجھ سا دوسرا نہ ملا 
صغیر احمد جعفری کی شاعری ہماری تہذیبی زندگی کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے جس میں انہوں نے زندگی کے حقائق کو بہت قریب سے دیکھا، ان کا احساس کیا اور اپنے خالص روایتی شعری لہجے میں اس کا اظہار کیا ہے۔وہیں حیات و کائنات کے سب رنگوں معاشی، سیاسی، ثقافتی اور انسانی قدروں میں پڑنے والی دراڑوں اور اس سے پیدا ہونے والے دکھوں کو اپنا موضوع بنایا ہے۔
صغیر احمد جعفری کے یہاں محبت کا ایک نیا اسلوب تشکیل پاتا ہے جس میں محبت کا فطری جذبہ بھی ابھرتا ہے اور اساطیری جذبہ بھی۔ اور اساطیری جذبے میں صغیر احمد جعفری کی اپنی ذات کارفرما ہے۔ان کے اشعار میں زندگی کے سب ذائقے، سب دکھ، سارے سلسلے، سارے رابطے دکھائی دیتے ہیں۔
صغیر احمد جعفری کی شاعری میں تصورِ محبوب محض تخیلاتی پرچھائیں نہیں بلکہ وہ ایک جیتا جاگتا کردار محسوس ہوتا ہے۔
صغیر احمد جعفری نے حسن کی مصوری کی ہے اور جذئیات نگاری سے کام لیا ہے۔
شاعری میں الفاظ، لاشعور سے شعور میں سفر کرنے والے واقعات اور تصویر کشی بقول ٹی ایس ایلیٹ فنی اور تخلیقی سفر ہے۔ صغیر احمد جعفری کا ہنر انہی چیزوں کے گرد گھومتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں