ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعہ، 13 مارچ، 2015

تاریخِ ساھیوال،تاریخ، تہذیب و تمدن، لسانیات ا ور نسلیات کے طالب علموں کے لئے ایک مستند کتاب ہے

میں تو حرفِ تہجی بھی نہیں پڑھ سکتا
اسکی آنکھیں ہیں ریاضی کے سوالوں جیسی
انکساری کا یہ اظہار کرنے والا جب تاریخ کی ریاضی  کے سوالوں جیسی آنکھوں کی تلاش میں نکلا تو تاریخ ِ ساھیوال مرتب کر گیا۔
جی میں تاریخِ ساھیوال کے تحقیق کارایم اے اشرف(محمد اسلم شرٖف)کی 
ایم اے اشرف

بات کر رہا ہوں،وہ ہرفن مولا تھا،افسانہ نگار تھاکہ 1979میں افسانوی مجموعہ نئی دنیا چھپا،سری ادب میں طبع آزمائی کی اوربلینک چیک،شمبالو،مادامگریشی اور آپریشن پائرس جیسے مقبول جاسوسی تخلیق کئے،ڈرامہ نگاری کی،کالم نویسی کی۔دورانِ ملازمت کتابت بھی سیکھی اور پارٹ ٹائم اسے وسیلہِ روز گار بنائے رکھا۔

تاریخِ ساھیوال  کے ابتدائیہ میں ایم اے اشرف کے بارے میں راو شفیق احمد نے لکھا ہے کہ  
،،وہ ساھیوال  کا باسی نہ تھا،یہاں آیا،ٹھہرا اور ساھیوال کو اس کی مکمل پہچان عطا کرکے دنیا سے چلا گیا۔،،
اس عظیم الشان تحقیقی کام میں ہمارا بھی تھوڑا حصہ ہے وہ کچھ یوں کہ ایم اے اشرف کے گھر پر دوستوں جن میں راو شفیق احمد،نعیم نقوی،امین رضا،رووف عطی،ایزد عزیز،وارث انصاری،پروفیسر ارشد میر،پروفیسر اخلاق احمد اور راقم الحروف شامل تھے اکثر اس تحقیقی کام کے سلسلے میں تذکرہ ہوتا تھا،دوسرے میرے سمیت کچھ نہ کر سکے لیکن تحقیق کا یہ آئیڈیا ایم اے اشرف کے دل کو چھو گیا اور دس بارہ سال کی تحقیق و جستجو اور عرق ریزی سے تاریخ کے ریک پر ایک ضخیم اور مستند حوالہ رکھ کر 13جنوری2011کو اس دنیا سے چلا گیا۔

تاریخِ ساھیوال دراصل تاریخ ِ انسانی ہے اور تاریخِ خطہِ پاکستا ن بھی ہے۔تحقیق کا تقاضہ تو یہی ہے کہ بلا تبصرہ حقائق بیان کر دئیے جائیں اور نتیجہ اخذ کرنے کا کام قاری پر چھوڑ دیا جائے۔
ایم اے اشرف ساھیوال کا باسی تو نا تھا لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے،وہ خطہِ پاکستان کا باسی تو تھااس لئے اس نے خطہِ پاکستان کی تاریخ لکھی ہے بلکہ یہ خطہِ پاکستان کی بات بھی نہیں ہے یہ  تو دنیا کی تہذیبوں کی کہانی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ  پہلے انسان کی جائے تولید کی داستان بھی ہے۔
ایم اے اشرف لکھتے ہیں،، روسی عالم سالتھیکوف نے جب یہ کہا کہ سرزمینِ ہند اور پنجاب ہی انسان کی جنم بھومی ہے تو کسے خبر تھی کہ یہ آنے والے کل کا سب سے بڑا سچ ثابت ہو گا،قبل ازیں ماہرینِ نسلیات کا خیال تھا کہ سب سے پہلے انسان نے افریقی کی سرزمین پر آنکھ کھولی۔اس تحقیق میں 26اکھ سال پہلے کے وقت کا تعین کیا گیا تھا،پھر چین،جاوا اور وسطی ایشیا کا نام بھی لیا گیا،یہ سب اس دور کی باتیں ہیں جب پنجاب  کے پہاڑوں میں ماہرین ِ  ارضیات کی کاوشوں کے نتائج نہیں آئے تھے۔علمِ ارضیات نے پنجاب کو پہلے انسان کا مقامِ تولید قرار دینے میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان میں پہلا آدمی ان شمال مغربی پہاڑی دامنوں میں آباد تھا جنہیں سون اور دریائے ہرو سیراب کرتے تھے۔ماہرینِ نسلیات نے باشعور آدمی یعنی نیندرتھال کی عمر سوا لاکھ سال اور باشعور آدمی جدید انسان کرومیگنان کی عمرپینتیس ہزار سال بیان کی گئی ہے یہ وہی زمانہ ہے جب حضرت آدم کا ظہور ہوا۔
انسان کی معلوم تاریخ کا زمانہ صرف سات ہزار سال بیان کیا جاتا ہے اس سے پہلے لاکھوں برسوں پر محیط جدوجہد ایک طویل نامعلوم کہانی ہے۔پاکستان کی دھرتی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں نو ہزار سال قبل کی تہذیب کا انکشاف ہو چکا ہے جو ہڑپہ تہذیب کے پس منظر اور تسلسل کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔
ایم اے اشرف نے تہذیبوں کے ارتقا و زوال کی کہانی بیان کرتے کرتے تاریخِ ساھیوال بھی بیان کر دی ہے،یہ وہ علاقہ ہے جو نو ہزار سال پرانا تہذیبی تسلسل رکھتا ہے۔
ہڑپہ(ضلع ساھیوال)تہذیب اپنی ہم عصر تہذیبوں،وادیِ دجلہ و فرات(عراق) اور وادیِ نیل(مصر) کے پہلے تو ہم پلہ قرار دی گئیں لیکن جب تحقیق و جستجو کا دائرہ وسیع ہونے اور آثار و باقیات سامنے آنے سے ہڑپہ تہذیب کئی اعتبار سے اپنی ہم عصر تہذیبوں پر فوقیت کی حامل قرار دی گئی۔
ایم اے اشرف کی تحقیق و جستجو انہیں ہر کوچہ و قرینہ میں لئے پھری۔ ان کی اس تحقیق و جستجو نے  Anthopologyکے طالب علموں کے لئے ایک جامع  ریفرنس بک کی کمی کو دور کر دیا۔یہ ریسرچ ہماری دھرتی کے حوالے سے ہے۔1857کی جنگ ِ آزادی کے مزاحمتی ہیروز کی سرگرمیوں اور عملی جدوجہد کا تذکرہ اس انداز سے کیا گیا ہے کہ ساھیوال کی شان میں اضافہ ہوا ہے۔ ساھیوال میں آباد اقوام کا تذکرہ بھی ہے۔ رسوم و رواج بھی ہیں۔
کتاب کے اشاعت کار پنجاب لوک سجاگ کا کہنا ہے کہ اس ریفرنس بک کی اشاعت کا اول و آخر مقصد ریسرچ سکالرز کو  تاریخ  کے ریک پر ایک مستند حوالہ فراہم کرنا ہے۔
،،تاریخِ ساھیوال، قدیم اور جدید خطوط کی روشنی میں،، وہ کتاب ہے جس نے ناصرف ساھیوال کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کیا  ہے بلکہ اس خطے کی تاریخ کو مستند حوالوں سے یکجا کر دیا ہے۔تاریخ، تہذیب و تمدن، لسانیات ا ور نسلیات  کے طالب علموں کے لئے ایک مستند کتاب ہے۔
بڑے سائز  کے 496صفحات پر مشتمل یہ کتاب راو شفیق احمد کے ایم اے اشرف کے نقوشِ انفاس کے ساتھ پنجاب لوک سجاگ،برکت مارکیٹ،لاہور نے شائع کی ہے۔اس کی قیمت صرف300 روپے رکھی گئی ہے جو کتاب کے سائز اور صفحات کے اعتبار بہت کم ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں