ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


اتوار، 29 مارچ، 2015

قوسِ قزح کی زنجیریں (نظم) ایم زیڈ کنول،لاھور

ایم زیڈ کنول
فِطرت کے اُجیارے
رنگوں کی سنگت میں
میں نے لکھنا سیکھا تو
سب طائر میرے لفظوں کو
سُن سُن کر چہکا کرتے تھے
اُن کی اِس چہکار پہ سب
اشجار بھی مہکا کرتے تھے
جھومتے جھومتے خوشیوں کی
بانہوں میں جھولا کرتے تھے
پھر اُن خوشیوں کے آنگن میں
خوشبوئیں یوں درآئیں

ہفتہ، 28 مارچ، 2015

اُردو و فارسی کے ممتاز شاعر ڈاکٹر برقی ؔاعظمی کے اوّلین شعری مجموعہ ”رُوحِ سخن“ کی رسم ِرُونمائی

اُردو گلڈ جموں و کشمیر نے دہلی سے تشریف لائے ہوئے اُردو و فارسی کے ممتاز شاعر ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کے اوّلین شعری مجموعہ ”رُوح سخن“ کی رسم رُونمائی کے لیے ایک سادہ لیکن پُر وقار تقریب کا انعقاد جموں میں عمل میں لایا جس میں اُردو گلڈ کو ریاست کی سرگر م عمل ٹریڈ یونین ٹیچرس گلڈ کے لٹریری سیل کا اِشتراک بھی حاصل رہا۔ اُردو گلڈ کے صدر دفتر پر منعقدہ اِس باوقار تقریب کی صدارت اُردو کے معروف افسانہ نگار‘ محقق‘ناقد 

سوموار، 23 مارچ، 2015

ہمارا خود سے تعلق بحال ہو گیا ہے ۔۔ افتخار شفیع

افتخار شفیع
کمال اے دمِ وحشت کمال ہو گیا ہے
ہمارا خود سے تعلق بحال ہو گیا ہے
یہ کس دیار میں آ کر بسے ہیں ہم کہ جہاں
سفر کا ذکر بھی وجہِ ملال ہو گیا ہے
حصارِ ریگ میں برسوں جلا تھا مرا وجود
سو ایک دشت مرا ہم خیال ہو گیا ہے

یہ بے دریغ زمانہ ہے سو کہیں کس سے
بچھڑ کے اُس سے ہمارا جو حال ہو گیا ہے
یہ کیسی تیز ہوا چل رہی ہے گلیوں میں
چراغ لے کے نکلنا محال ہو گیا ہے

جمعہ، 20 مارچ، 2015

اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر اور ادیب ماجد صدیقی انتقال کر گئے۔اناللہ و انا الیہ راجعون

گیا تو باغ کا رشتہ فنا سے جوڑ گیا
وہ پیڑ پیڑ پہ آکاس بیل چھوڑ گیا
اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر اور ادیب   ماجد صدیقی 19 مارچ کی شب رضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں. اناللہ و انا الیہ راجعون

منگل، 17 مارچ، 2015

ہے فصل عشق تو لازم ہے رقص میں ہو ہوا ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
قفس کھُلا تو بہاروں کا سا سماں دیکھا
فضا میں نُور کا بہتا ہوا جہاں دیکھا
طلسم خواب سے راہ نجات میں پہنچا 
نظر کے سامنے اک بحر بیکرا ں دیکھا
کمال رُت تھی گھنے بن تھے ہرے بیلے تھے
ہرے زمردیں رنگ میں رنگا جہاں دیکھا
صدا پہ مُڑ کے جو دیکھا عجیب منظر تھا
نہ کوئی شخص وہاں نہ کوئی مکاں دیکھا
تری صدا بھی نہیں آئی نہ دیکھا تُجھ کو
مگر یہ لگتا ہے تُجھ کو یہاں وہاں دیکھا
ہے فصل عشق تو لازم ہے رقص میں ہو ہوا
اُسے میں دیکھوں جسے پہلے لامکاں دیکھا

اتوار، 15 مارچ، 2015

صغیر احمد جعفری کی شاعری ہماری تہذیبی زندگی کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے : رضاالحق صدیقی

زندگی کٹ گئی صحرا میں 
ایک دن ایسے کام پر نکلا
ہجرت،نقل مکانی یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ازل سے انسان کو ودیعت کر دی گئی۔
سب سے پہلی جبری ہجرت تخلیق کائنات کے فوراَ بعد ہوئی جب آدم نے اپنے خالق کی حکم عدولی کی جس پر آدم کو حکم ملا کہ،، اب تم سب یہاں سے اتر جاوٗ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین پر ٹھہرنا اور وہیں گذر بسر کرنا ہے۔ 
ہجرتِ دنیاوی ایک بار پھر وقوع پذیر ہوئی جب منکرینِ خدا کفار مکہ نے محبوبِ خدا پر عرصہء حیات تنگ کر دیا پس میشتِ خداوندی یہی تھی کہ محبوبِ خدا مکہ سے ہجرت کر جائیں سو مکہ سے حبشہ اور آخر میں مکہ سے مدینہ کے سفر میں نقل مکانی ہوئی۔
ہجرت کرنا ہر ذی روح میں عام طور پر اور مسلمانوں میں خاص پر ودیعت شدہ ہے۔ 
تقسیم ہند کے اعلان کے نتیجہ میں لاکھوں افراد کی نقل مکانی نے ہجرت کو نیا مفہوم بخشا۔ اس خون آلود ہجرت نے اردو ادب کو درد کی نئی کیفیات سے آشنا کیا۔
اردو شاعری انسان کے عقل و شعور کے اظہار میں سے ایک ہے۔ ہجرت کا یہ درد آج بھی اردو شاعری میں موضوع سخن ہے۔
،،خوابوں سے رشتہ ٹوٹ جائے گا،، کے خالق سفیر ادب سید صغیر احمد جعفری کے ہاں ہجرت کا استعارہ اپنی بھرپور معنویت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے۔
زندگی کٹ گئی ہے صحرا میں 
ایک دن ایسے کام پر نکلا
ہائے وہ دن کہ دھوپ اوڑہی تھی
پھر کہاں چھاؤں میں یہ سر نکلا
دوسرے شاعروں کی طرح صغیر احمد جعفری بھی زماں و مکاں کی ہجرت سے دوچار ہوئے مگر بنیادی فرق یہ ہے کہ انہوں نے ہجرت کے المیے کو فکری جلاوطنی کے طور پر قبول کرنے سے قابلِ استعمال بنانے کی فنکارانہ کوشش کی ہے۔ یوں ان کی شخصیت اور فن کا المیہ، خوبصورت رزمیے میں تبدیل ہوکرانہیں ہوس زر کے اس دور میں سکون اور کامیابی سے رہنے کا جواز مہیا کرتا ہے۔
مجھے بھی صحرا میں برسوں گزر گئے لیکن
زمیں اپنی مجھے پھر بھی یاد آتی ہے
ہجرتوں پر تو ہجرتیں کر لیں 
اے وطن تجھ سا دوسرا نہ ملا 
صغیر احمد جعفری کی شاعری ہماری تہذیبی زندگی کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے جس میں انہوں نے زندگی کے حقائق کو بہت قریب سے دیکھا، ان کا احساس کیا اور اپنے خالص روایتی شعری لہجے میں اس کا اظہار کیا ہے۔وہیں حیات و کائنات کے سب رنگوں معاشی، سیاسی، ثقافتی اور انسانی قدروں میں پڑنے والی دراڑوں اور اس سے پیدا ہونے والے دکھوں کو اپنا موضوع بنایا ہے۔
صغیر احمد جعفری کے یہاں محبت کا ایک نیا اسلوب تشکیل پاتا ہے جس میں محبت کا فطری جذبہ بھی ابھرتا ہے اور اساطیری جذبہ بھی۔ اور اساطیری جذبے میں صغیر احمد جعفری کی اپنی ذات کارفرما ہے۔ان کے اشعار میں زندگی کے سب ذائقے، سب دکھ، سارے سلسلے، سارے رابطے دکھائی دیتے ہیں۔
صغیر احمد جعفری کی شاعری میں تصورِ محبوب محض تخیلاتی پرچھائیں نہیں بلکہ وہ ایک جیتا جاگتا کردار محسوس ہوتا ہے۔
صغیر احمد جعفری نے حسن کی مصوری کی ہے اور جذئیات نگاری سے کام لیا ہے۔
شاعری میں الفاظ، لاشعور سے شعور میں سفر کرنے والے واقعات اور تصویر کشی بقول ٹی ایس ایلیٹ فنی اور تخلیقی سفر ہے۔ صغیر احمد جعفری کا ہنر انہی چیزوں کے گرد گھومتا ہے۔

جمعہ، 13 مارچ، 2015

تاریخِ ساھیوال،تاریخ، تہذیب و تمدن، لسانیات ا ور نسلیات کے طالب علموں کے لئے ایک مستند کتاب ہے

میں تو حرفِ تہجی بھی نہیں پڑھ سکتا
اسکی آنکھیں ہیں ریاضی کے سوالوں جیسی
انکساری کا یہ اظہار کرنے والا جب تاریخ کی ریاضی  کے سوالوں جیسی آنکھوں کی تلاش میں نکلا تو تاریخ ِ ساھیوال مرتب کر گیا۔
جی میں تاریخِ ساھیوال کے تحقیق کارایم اے اشرف(محمد اسلم شرٖف)کی 
ایم اے اشرف

بات کر رہا ہوں،وہ ہرفن مولا تھا،افسانہ نگار تھاکہ 1979میں افسانوی مجموعہ نئی دنیا چھپا،سری ادب میں طبع آزمائی کی اوربلینک چیک،شمبالو،مادامگریشی اور آپریشن پائرس جیسے مقبول جاسوسی تخلیق کئے،ڈرامہ نگاری کی،کالم نویسی کی۔دورانِ ملازمت کتابت بھی سیکھی اور پارٹ ٹائم اسے وسیلہِ روز گار بنائے رکھا۔

تاریخِ ساھیوال  کے ابتدائیہ میں ایم اے اشرف کے بارے میں راو شفیق احمد نے لکھا ہے کہ  
،،وہ ساھیوال  کا باسی نہ تھا،یہاں آیا،ٹھہرا اور ساھیوال کو اس کی مکمل پہچان عطا کرکے دنیا سے چلا گیا۔،،
اس عظیم الشان تحقیقی کام میں ہمارا بھی تھوڑا حصہ ہے وہ کچھ یوں کہ ایم اے اشرف کے گھر پر دوستوں جن میں راو شفیق احمد،نعیم نقوی،امین رضا،رووف عطی،ایزد عزیز،وارث انصاری،پروفیسر ارشد میر،پروفیسر اخلاق احمد اور راقم الحروف شامل تھے اکثر اس تحقیقی کام کے سلسلے میں تذکرہ ہوتا تھا،دوسرے میرے سمیت کچھ نہ کر سکے لیکن تحقیق کا یہ آئیڈیا ایم اے اشرف کے دل کو چھو گیا اور دس بارہ سال کی تحقیق و جستجو اور عرق ریزی سے تاریخ کے ریک پر ایک ضخیم اور مستند حوالہ رکھ کر 13جنوری2011کو اس دنیا سے چلا گیا۔

تاریخِ ساھیوال دراصل تاریخ ِ انسانی ہے اور تاریخِ خطہِ پاکستا ن بھی ہے۔تحقیق کا تقاضہ تو یہی ہے کہ بلا تبصرہ حقائق بیان کر دئیے جائیں اور نتیجہ اخذ کرنے کا کام قاری پر چھوڑ دیا جائے۔
ایم اے اشرف ساھیوال کا باسی تو نا تھا لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے،وہ خطہِ پاکستان کا باسی تو تھااس لئے اس نے خطہِ پاکستان کی تاریخ لکھی ہے بلکہ یہ خطہِ پاکستان کی بات بھی نہیں ہے یہ  تو دنیا کی تہذیبوں کی کہانی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ  پہلے انسان کی جائے تولید کی داستان بھی ہے۔
ایم اے اشرف لکھتے ہیں،، روسی عالم سالتھیکوف نے جب یہ کہا کہ سرزمینِ ہند اور پنجاب ہی انسان کی جنم بھومی ہے تو کسے خبر تھی کہ یہ آنے والے کل کا سب سے بڑا سچ ثابت ہو گا،قبل ازیں ماہرینِ نسلیات کا خیال تھا کہ سب سے پہلے انسان نے افریقی کی سرزمین پر آنکھ کھولی۔اس تحقیق میں 26اکھ سال پہلے کے وقت کا تعین کیا گیا تھا،پھر چین،جاوا اور وسطی ایشیا کا نام بھی لیا گیا،یہ سب اس دور کی باتیں ہیں جب پنجاب  کے پہاڑوں میں ماہرین ِ  ارضیات کی کاوشوں کے نتائج نہیں آئے تھے۔علمِ ارضیات نے پنجاب کو پہلے انسان کا مقامِ تولید قرار دینے میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان میں پہلا آدمی ان شمال مغربی پہاڑی دامنوں میں آباد تھا جنہیں سون اور دریائے ہرو سیراب کرتے تھے۔ماہرینِ نسلیات نے باشعور آدمی یعنی نیندرتھال کی عمر سوا لاکھ سال اور باشعور آدمی جدید انسان کرومیگنان کی عمرپینتیس ہزار سال بیان کی گئی ہے یہ وہی زمانہ ہے جب حضرت آدم کا ظہور ہوا۔
انسان کی معلوم تاریخ کا زمانہ صرف سات ہزار سال بیان کیا جاتا ہے اس سے پہلے لاکھوں برسوں پر محیط جدوجہد ایک طویل نامعلوم کہانی ہے۔پاکستان کی دھرتی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں نو ہزار سال قبل کی تہذیب کا انکشاف ہو چکا ہے جو ہڑپہ تہذیب کے پس منظر اور تسلسل کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔
ایم اے اشرف نے تہذیبوں کے ارتقا و زوال کی کہانی بیان کرتے کرتے تاریخِ ساھیوال بھی بیان کر دی ہے،یہ وہ علاقہ ہے جو نو ہزار سال پرانا تہذیبی تسلسل رکھتا ہے۔
ہڑپہ(ضلع ساھیوال)تہذیب اپنی ہم عصر تہذیبوں،وادیِ دجلہ و فرات(عراق) اور وادیِ نیل(مصر) کے پہلے تو ہم پلہ قرار دی گئیں لیکن جب تحقیق و جستجو کا دائرہ وسیع ہونے اور آثار و باقیات سامنے آنے سے ہڑپہ تہذیب کئی اعتبار سے اپنی ہم عصر تہذیبوں پر فوقیت کی حامل قرار دی گئی۔
ایم اے اشرف کی تحقیق و جستجو انہیں ہر کوچہ و قرینہ میں لئے پھری۔ ان کی اس تحقیق و جستجو نے  Anthopologyکے طالب علموں کے لئے ایک جامع  ریفرنس بک کی کمی کو دور کر دیا۔یہ ریسرچ ہماری دھرتی کے حوالے سے ہے۔1857کی جنگ ِ آزادی کے مزاحمتی ہیروز کی سرگرمیوں اور عملی جدوجہد کا تذکرہ اس انداز سے کیا گیا ہے کہ ساھیوال کی شان میں اضافہ ہوا ہے۔ ساھیوال میں آباد اقوام کا تذکرہ بھی ہے۔ رسوم و رواج بھی ہیں۔
کتاب کے اشاعت کار پنجاب لوک سجاگ کا کہنا ہے کہ اس ریفرنس بک کی اشاعت کا اول و آخر مقصد ریسرچ سکالرز کو  تاریخ  کے ریک پر ایک مستند حوالہ فراہم کرنا ہے۔
،،تاریخِ ساھیوال، قدیم اور جدید خطوط کی روشنی میں،، وہ کتاب ہے جس نے ناصرف ساھیوال کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کیا  ہے بلکہ اس خطے کی تاریخ کو مستند حوالوں سے یکجا کر دیا ہے۔تاریخ، تہذیب و تمدن، لسانیات ا ور نسلیات  کے طالب علموں کے لئے ایک مستند کتاب ہے۔
بڑے سائز  کے 496صفحات پر مشتمل یہ کتاب راو شفیق احمد کے ایم اے اشرف کے نقوشِ انفاس کے ساتھ پنجاب لوک سجاگ،برکت مارکیٹ،لاہور نے شائع کی ہے۔اس کی قیمت صرف300 روپے رکھی گئی ہے جو کتاب کے سائز اور صفحات کے اعتبار بہت کم ہے۔ 

منگل، 3 مارچ، 2015

سخن کیا کہہ نہیں سکتے،، غالب اور گلزار کی جمالیاتی روایات کی توسیع محسوس ہوتی ہے ۔۔ رضاالحق صدیقی

واصف سجاد کی کتاب کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر
 ساھیوال میں اظہارخیال کرتے ہوئے
واصف سجاد کی کتاب کی تقریبِ رونمائی کے موقع پرپڑھا جانے والا رضاالحق صدیقی کا  بولتا کالم 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واصف سجاد،دبستانِ ساہیوال کا وہ شاعر ہے جو تعلیم تو انگریزی زبان میں دیتا ہے مگر شعر اردو میں کہتاہے اوربے ساختہ پن میں کہتا ہے۔
مرا وجود چمکتا ہے اس میں حیرت کیا
یہ چند روز رہا ہے ترے  خیال کے ساتھ
غالب کے شعر سے ماخذِ، سخن کیا کہہ نہیں سکتے،، کے نام سے اپنے پہلے مجموعہِ کلام کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
ڈاکٹر اجمل نیازی کے خیال  میں واصف سجاد کی شاعری کسی نظر نہ آنے والے محبوب کے ساتھ ہم سخنی کا حاصل ہے اور ساتھ کے ساتھ لاحاصلی بھی ہے، اس حاصل اور لاحاصلی کی کشمکش نے اسے شاعر بنا دیا،وہ اپنے اندر کسی بستی کی تلاش میں ہے جہاں وہ ہجرت کر سکے۔ ابھی وہ کسی ہجر کے جہاں میں ہے۔وہ سوچتا ہے اور جانتا ہے کہ ہجر اور ہجرت میں کیا فرق ہے۔وہ انوکھا درویش شاعر ہے۔ لوگ تو سوچ کر بولتے ہیں مگر وہ سوچتا  تو ہے مگر بولتا نہیں ہے جب کہ  اسے سب خبر ہے، وہ باخبر سے زیادہ اہلِ خبر میں سے ہے اور دل کی خبر دینے کے لئے شاعری سے بڑھ کر کوئی سلیقہ نہیں ہے۔
درویش کو سب خبر ہے واصف
کچھ سوچ کے بولتا نہیں ہے
ہم کسی دوسرے کے بیان کو اپنی تحریر کے اثبات میں پیش نہیں کرتے اور آج بھی نہیں کر رہے لیکن کیا کریں کہ درویش کی صفات  اور باخبر ہونے کی صفت دو مختلف ہستیوں سے منسوب ہیں،باخبر ہونے کی صفت صرف ہر چیز کو تخلیق کرنے والے سے منسوب ہے اسے کسی بھی درویش سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ پھر واصف  سجادنے یہ دعویٰ کیا بھی نہیں ہے۔ واصف اور درویش دو مختلف شخصیات ہیں انہیں یکجا کرنا اچھا نہیں ہے۔ واصف سجاد کا شعری افق اس سے کہیں وسیع ہے جتنا ڈاکٹر اجمل نیازی نے اندازہ لگایا ہے۔اس کا فلسفہ۔۔ ہجر اور ہجرت کا فلسفہ نہیں ہے کیونکہ وہ تو کہہ رہا ہے:
کچھ سمجھ آتا نہیں کیسے ہیں دونوں ساتھ ساتھ
جسم کے اپنے تقاضے، روح کی اپنی طلب
او ر پھر درویش کی تو دنیا ہی کوئی اور ہے۔ انسانی جبلت اور روح کی طلب کی یکجائی، یہ کسی اور ہی دنیا کی سیر ہے۔ یہ فکر و فن کی نئی جہت ہے، کلاسیکی کہانیوں میں دونوں سمتیں جھلک دکھاتی ہیں انسانی جبلت بھی اور روح کی طلب بھی،عشق کے نیارے یہ رنگ پنجاب کے انہی علاقوں کی دین ہیں،راوی کے اس پار یا راوی کے ادھر لیکن مٹی کی خوشبو اور پنجاب کی ہریالی عشق کو کئی رنگ دے گئی ہے۔جس میں  نہ ہجر ہے نہ ہجرت۔
واصف سجاد نے،،دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گیئں،،کے عنوان تلے دل کی باتیں کرتے ہوئے دیوانِ غالب سے لے کر دبستاں ِ ساھیوال  کے ہر شاعر کا ذکر کیا ہے۔  ہمارا اس وقت  شعر ی مجموعے،، سخن کیا کہہ نہیں سکتے،، کے حوالے سے واصف کی یہ گفتگو تحریر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ واصف پر غالب کے علاوہ کس کس کے اثرات نظر آتے ہیں، لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ واصف سجادکی شاعری کی پختہ کاری میں غالب اور بشیر احمد بشیر کا ہاتھ تو ہے اورواصف سجاد کا لا شعورغالب سے تعلیم یافتہ بھی ہے،اسی غالب سے کہ جس کے تصوراتِ عشق کے اہم لوازم میں غم،تصوف،جسم،داخل اور خارج،نیرنگیِ دوراں، انسان دوستی،بے باکی،انا،عشق،شکستگی شامل ہیں۔غالب نے غمِ جہاں کے لئے غمِ روز گار کی اصطلاح استعمال کی اور بظاہر اسے غمِ یار سے جدا کرنے کی کوشش کی لیکن حقیقت  یہ ہے کہ انہوں نے دونوں کو ملا کر ایک کر دیا۔وہ عشق کو اجتماعیت سے یوں جوڑ دیتے ہیں کہ داخل اور خارج کا فرق مٹ جاتا ہے اور شعر کا رشتہ محبوب کے ساتھ سیاستِ دنیا سے بھی جڑ جاتا ہے،
دردِ دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلاؤں 
انگلیاں فگار اپنی،خامہِ خونچکاں اپنا
قد و گیسو میں قیس و کوہکن کی آزمائش ہے
جہاں ہم ہیں وہاں دارورسن کی آزمائش ہے
لکھتے رہے جنوں کی شکایاتِ خوں چکاں 
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
یہ سب اشعار عاشقانہ تلازمات کے باوجود سیاسی مفہوم بھی رکھتے ہیں۔
اب ہم آتے ہیں سخن کیا کہہ نہیں سکتے کے شاعر واصف سجاد کی طرف۔غالب کے اس تصورِ عشق کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں یہ بات کہنے میں کوئی تردد نہیں ہے کہ واصف کی شاعری کی پختگی اور لاشعوری تعلیم میں غالب کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔وہ کہتا ہے۔
کیا غضب لوگ تھے جو لکھتے رہے
موت کے سامنے سطورِ حیات
رہنمائی جنوں نے کی واصف
تب مقامِ شعور تک پہنچے
واصف کی شاعری میں اگرچہ عشق کی مستیاں تو ہیں لیکن اس کا کہنا  ہے۔
 سخن دیار میں شاداب موسموں کے لئے
ہوائے درد سے وابستگی ضروری ہے
 درد سے وابستگی یعنی اداسی واصف سجاد کی شاعری کا ایک بلیغ استعارہ  ہے۔یہ استعارہ پھیلتا ہے تو واصف کے ہر شعر کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔واصف نے غزل کی روایت کے پیشِ نظر یوں تو سینکڑوں مضامین اپنے شعروں میں پیدا کئے ہیں لیکن اس کی انفرادیت یہ ہے کہ ان سب پر اداسی کی چھاپ بہت گہری ہے۔جب شاعرانہ خیال کی روشنی اداسی کے پرزم سے ہو کر گذرتی ہے تو دھنک رنگ مضامین سامنے آتے ہیں لیکن ان رنگوں کو پرزم کے وجود سے علیحٰدہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ان موضوعات کی رنگا رنگی کے پیچھے سب سے دقیع حوالہ اداسی ہی بنتا ہے۔وہ اداس موسم سے محبت کرتا ہے کہ یہی موسم اسے تخلیقِ شعر پر آمادہ کرتا ہے اسے دل کی اداسی کا شدید احساس ہے لیکن وہ اس احساس کو حد سے بڑھی ہوئی قنوطیت  میں تبدیل نہیں ہونے دیتا۔واصف سجاد اداسی کو زندگی کا لازمی جزو سمجھ کر قبول کرتا ہے۔اداس موسم اسے وحشت نہیں بخشتے بلکہ اس کے تخیل کے گیسو سنوارتے ہیں۔
معجزہ ہے مل جائیں اگر آسودہ و خنداں چہرے
ورنہ تو ہر شخص دکھوں سے بھری کتاب ملے گا
پیرہن گہری اداسی کا تھا اس کے جسم پر
رنگ خال و خد پہ تھا ٹھہرا ہوا صدمات کا
کیا تھیں اداسیاں جو رہیں ساتھ عمر پھر
کیا نغمہِ طرب تھا جو گایا نہیں گیا
ترے بغیر شبوں کی اداسیاں گہری
ترے بغیر دنوں کا بجھا ہوا چہرا
نہیں ہے بچوں کے چہروں پہ بھی ہنسی اب تو
کچھ ایسی پھیل گئی ہے وبا اداسی کی
 غزل کی صدیوں پرانی داستان کو نئی طرز سے سنانا بڑا مشکل کام ہے اور واصف سجاد نے یہ کام نہایت آسانی اور مہارت سے کر دکھایا ہے۔
،،سخن کیا کہہ نہیں سکتے کی غزلیں فلسفیانہ تصورات سے الجھے بغیر دعوتِ فکر
 دیتی ہیں۔یہ غزلیں ہماری روح کو تغزل کی لذت سے آشنا کرتی ہیں۔غزلوں کی روانی، تازگی اور سحر کاری کو ان چند اشعار میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔
کیا کہیں کتنی دور تک پہنچے
دیکھنے تجھ کو طور تک پہنچے
کیا غضب لوگ تھے جو لکھتے رہے
موت کے سامنے سطورِ حیات
تمام شہر کے آئینے تو نے توڑ دئیے
دکھائی دے گا تجھے کس طرح ترا چہرا
ترا غرور بجا ہے جمالِ یار تجھے
مری نگاہ کی زیبائیاں میسر ہیں 
لفظوں سے چلو اتار پھینکیں 
برسوں کا پھٹا ہوا لبادہ 
سارا تیرا  عکس ہے
دیکھ میرے دیوان میں 
آخر میں اتنا کہوں گا کہ واصف سجاد  اردو شاعری کی سلطنت میں ایک نئے  دور کا آغاز ہے جس کی غزل جدید اور قدیم روایات کا امتزاج ہے اورہمارا ذاتی خیال ہے کہ وہ غالب اور گلزار کی جمالیاتی روایات کی توسیع  ہے۔