ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


منگل، 27 جنوری، 2015

ساھیوال میں بیادِ مجید امجد تقریب


ساہیوال میں اکادمی ادبیات پاکستان کے تعاون سے مجید امجد اکیڈمی، ساہیوال اور مہکاں پنجابی ادبی بورڈِ ساہیوال کے زیر اہتمام مجید امجد کے صدسالہ یوم پیدائش کی مناسبت سے سیمینارمیںغلام فرید کاٹھیا، ڈاکٹر سعادت سعید چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ،شیراز لطیف،ڈاکٹر ناصر عباس نئیر

اتوار، 25 جنوری، 2015

شمس الغنی نے ادب میں انحطاط پذیری اور منافقت کو کوفہِ سخن کا نام دیا ہے ,رضا صدیقی کا بولتا کالم

جو دیکھتا ہوں دیکھا رہا ہوں زوالِ فردا کے آیئینے میں 
میں سرخ رنگوں سے آسماں پر لہو کے منظر تراشتا ہوں 
یہ شعر ہے شمس  الغنی  کا جو ساری عمر ہندسوں سے کھیلتے رہے اور اس سلسلے میں آخری عہدہ جو ان کے پاس تھا وہ حبیب بینک کے وائس پریذیڈنٹ کا تھا۔انہوں نے معاشیات اور مالیات پر 300 سے زائد مضامین تحریر کئے جو انگریزی جریدے پاکستان اینڈ گلف اکنامسٹ میں شائع ہوئے۔ابھی تقریبا دو سال قبل سن2012میں ان کا پہلا شعری مجموعہ،،سانپوں کا نگر،، اشاعت پذیر ہوا۔ان کا ایک انگریزی ناول زیرِ ترتیب ہے اس کے علاوہ اردو کے پانچ بڑے شعراء کے تقریبا 700اشعار کا انگریزی ترجمہ زیر، تکمیل ہے۔
کوفہِ سخن کے نام سے ان کا تازہ مجموعہ زیرِ استفادہ ہے۔ کوفہِ سخن بڑا معنی خیز نام ہے،کوفہ والوں کی منافقت نے واقعہِ کربلا کو جنم دیا۔تاریخ میں کوفہ علامت ہے منافقت کی،اسی مناسبت سے  شمس الغنی نے ادب میں انحطاط پذیری اور منافقت کو کوفہِ سخن کا نام دیا ہے۔شمس الغنی کتاب میں تحریر کردہ اپنے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں:،،کارِ منافقت حصہ دوم حاضر ہے۔اپنے پہلے شعری مجموعے،، سانپوں کا نگر،، میں، میں نے شاعری کو منافقت کہا تھا۔میں اپنے اس بیاں پر قائم ہوں۔،،
کتاب کا منافقانہ پن یہ ہے کہ شاعری کی کتاب کا سارا ابتدائیہ مالیاتی ریشہ دوانیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ابتدائیہ پڑھتے ہوئے کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ یہ ایک شعری مجموعہ ہے بلکہ یوں لگتا ہے جیسے علامہ محمد اقبال کی کتاب،،الاقتصادیات،، کا دیباچہ ہو،البتہ انہوں نے کمال مہربانی سے یہ ضرور تحریر فرما دیا ہے کہ ہمارے ادب اور غیر ملکی ادب کے درمیاں ایک واضح ڈس کنیکٹ موجود ہے۔ہم آج بھی انیسویں اور بیسویں صدی کا ادب لکھ رہے ہیں۔ پچھلے چار عشروں میں عالمی سطح پر جو ہولناک تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کا ادراک ہمارے اکثر لکھنے والوں کو نہیں۔آج کا با مقصد ادب لکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں دنیا کے معاشی،مالیاتی اور عمرانی مسائل کا علم ہو۔،،انہوں نے یہ فرما کر ہندوستانی  نقادوں کی اس سعی پر پانی پھیر دیا ہے کہ غزل مشکل ہے اوریہ ہر قسم کے مضامین کو خود میں سمونے سے قاصر ہے۔اپنے ابتدائیہ کے بعدشمس الغنی نے غزل میں ایک معیاری مواد پیش کیا ہے۔اردو غزل نے ہر دور میں غزل کی مخالفت کرنے والوں کی سہل پسندی کو منہ توڑ  جواب دیا ہے۔وسعتِ معنی اورتاریخی حوالے سے نظم میں جہاں اوراق درکار ہوتے ہیں،ان کا یہ شعر دیکھیئے اور نظرِ بینا سے دیکھیئے کہ شاعر کیا کہہ رہا ہے۔
ایک ہجرت کرو پھر میرے مدینے کی طرف
قومِ گمراہ کو تعلیمِ حرا دو سائیں 
واضح ہو ذہنِ عشق پر حدِ مکان و لامکاں 
ازروے حرفِ کن فکاں، مکتوبِ لوح تھا یہی
شمس الغنی نے زیادہ تر غزلیں غیر مانوس بحروں میں کہی ہیں،ہاں بعض جگہ  علامہ اقبال کی کامل مثمن سالم بحر،،کبھی ار حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں،، اور فیض احمد فیض،، وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا کیا،، والی بحر میں کمال شعر کہے ہیں۔
درِ حسن پر جو کشیدہ ہیں،وہ بدن نزار ودریدہ ہیں 
وہ جو حسنِ شامِ حریم تھے،وہ یہاں سے کب کے چلے گئے
ہیں نشانِ طائفِ بے اماں، یہ سوادِ کوفہ کی وادیاں 
وہ جو کربلا کے مقیم تھے،وہ یہاں سے کب کے چلے گئے
یہ ہے دشتِ دشنہِ خوں طلب،یہ ہے ارضِ فرقہِ بولہب
وہ رشکِ وصفِ کریم تھے،وہ یہاں سے کب کے چلے گئے
یہ ہجومِ چہرہِ بے نشاں، یہ نمود و فسق کی بستیاں 
وہ جو شانِ فقر و گلیم تھے،وہ یہاں سے کب کے چلے گئے
شمس الغنی کا شبستانِ غزل تہذیب و شائستگی، تکمیلِ ذات اور احترامِ آدمیت کے چراغوں سے فروزاں نظر آتا ہے۔ان کی غزل کثیرالموضوعات اور کثیر المضامین ہے۔ان کے ہاں عشق کے مضامین جذبے کی تقدیس کے وسیلے سے بیاں ہوتے ہیں،جسمانی اور مادی تلازموں کی جگہ غزک کا رشتہ جمالیاتی رویے سے استوار ہے۔ان کی غزل میں فرد کی الجھن،ذہنی اور نفسیاتی صورتِ حال، دکھ سکھ، چاہت، نفرت ایسے متنوع رنگ عکس پذیر ہیں اور یہاں فرد کے مسائل کی سچی تصویروں کے ساتھ ساتھ اجتمایت کے منظر نامے بھی ملتے ہیں۔
شمس الغنی کی غزک کی انفرادیت کا ایک بڑا عنصر تاریخ و تہذیب،روایات و اساطیر، مذہب و سماج کی روح کو شعر کے قالب میں سمونا ہے۔انکی نظر ماضی کے سرمئی بادلوں میں سے برق کی طرح گذرتی ہے،میں نے شروع میں معنی کی وسعت کے اعتبار سے چند اشعار درج کئے ہیں ان ماضی کے جھروکوں کو حال میں دیکھئییکہ وہ گزرے ہوئے لمحوں کو کیسے زنجیر کرتے ہیں اور کہیں خود گزرتے ہوئے لمحوں کے آشوب میں مبتلا فضاوں کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ شمس الغنی کے ہاں رومانی احساس کی چھاپ زیادہ گہری نہیں، تاہم زندگانی کی حقیقت کے چہرے کو بے نقاب کرنے اور اس کی روح کے پاتال میں اترنے کے لئے ان کی غزل میں ایک جمالیاتی رویہ ضرور ملتا ہے۔ان کے ہاں امیجز اور استعارے بھی عموما رنگین اور معطر نہیں ہوتے پھر بھی وہ اکثر جگہ بحر و آہنگ کی خوشگوار غنائی فضا اور الفاظ کے صوتی حسن سے شعر میں جمالیاتی رویے کو برقرار رکھتے ہیں۔
شعر کے وسیع مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ نظم کی نسبت غزل  کسی شاعر کی پرکھ کا زیادہ ٹھوس اور جامع وسیلہ ہے کیونکہ نظم کا موضوع شاعر کے اظہاری پیمانوں کو محدود کر دیتا ہے جبکہ غزل کے موضوعات کا تنوع شاعر کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا موقع دیتا ہے،نظم کا شاعر اکثر موضوعات کی اوٹ میں چھپ جاتا ہے جبکہ غزل کا شاعر نمایاں ہو کر سامنے آتا ہیاور غزل کے کینوس پر پورا شاعر نطر آتا ہے، غزل کا ہر شعر ایک نظم ہوتا ہے۔پوری غزل پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ہم کیف و سرور کے کن منطقون سے گذرے ہیں اور ہم نے بہت سے موسموں کا رنگ دیکھا ہے۔شمس الغنی کی غزل میں مجھے پورا شاعر نظر آیا ہے۔
نہیں کہ میر سا طرزِ نگارش چاہتے ہیں 
بس اک کوشش سخن کی ہے، ستائش چاہتے ہیں 





اتوار، 18 جنوری، 2015

اس نے دل باندھ کے اک آن میں بازی جیتی۔۔۔ ھم تو سمجھے تھے فقط ایک پیادہ باندھا ۔۔شہزاد نیئر

شہزاد نیئر
جب بھی چُپکے سے نکلنے کا ارادہ باندھا
مجھ کو حالات نے پہلے سے زیادہ باندھا
چلتے پھرتے اسے بندش کا گماں تک نہ رھے
اُس نے انسان کو اس درجہ کشادہ باندھا
کتنی بھی تیز ھوئی حِرص و ھوس کی آندھی
ھم نے اک تار ِ توکل سے لبادہ باندھا
یک بہ یک جلوہء تازہ نے قدم روک لئے
میں نے جس آن پلٹنے کا ارادہ باندھا
تو نے سامان میں جب باندھ ھی دی تھی منزل
کس لئے یار مرے پاؤں میں جادہ باندھا
اس نے دل باندھ کے اک آن میں بازی جیتی
ھم تو سمجھے تھے فقط ایک پیادہ باندھا
سادگی حسن کی شعروں میں بیاں کرنی تھی
لفظ آسان چُنے ، مصرعہء سادہ باندھا "

نصیر کوٹی کے مجموعہِ کلام،انتخاب،، پر۔رضاالحق صدیقی کا بولتا کالم

کتنی مشکل ہے کسی شعر کی تحلیل نصیر
کتنی دشوار ہے احساس کی گیرائی بھی
یہ شعر ہے دبستان کراچی کے اساتذہ میں شامل استاد شاعر نصیر کوٹی کی کلیات،،انتخاب،،سے۔بنیادی طور پر یہ ان کے پہلے مجموعہِ کلام،،لذتِ آزار،، کی تیسری توسیعی شکل ہے۔
نصیر کوٹی کی غزل ان کے نقطہِ نظر کی عکاس  ہے۔ان کی غزل میں فکر و احساس کی گہرائی ہے اور فہم وبصیرت کی رعنائی بھی۔
،،انتخاب،،کی شاعری  روایت سے جڑی ہوئی ہے لیکن نصیر کوٹی آج کے دور میں رہ کر آج ہی کی غزل کہتے ہیں ایسی غزل جس میں زندہ ہونے اور زندہ رہنے کی ساری علامات اور سارے امکانات موجود ہیں۔غالب نے کہا تھا:۔
وا حسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریصِ لذتِ آزار دیکھ کر
نصیر کوٹی نے اس روایت کو،اس لذتِ آزار کو اپنے سینے سے لگا لیا اور سن1982 میں،،لذت آزار،، کے عنوان سیان کا پہلا مجموعہِ منظر عام پر آیا۔
نصیر کوٹی کی شاعری کا دوسرا نام محسوساتی، واقفیت اور جذباتی صداقت ہے اور اس واقفیت اور صاقت کے نشانات ان کی شاعری میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔
رجائیت نصیر کوٹی کی غزل گوئی کا اساسی تصور ہے۔ظلمت کے بعد روشنی اور شب کے بعد سحر کی بشارت، فرد کی بہتر تشکیل اور معاشرے کی خوب تر فکری اور عملی تزئین ان کا مقصودِ شعری ہے۔
بلا سے عہدِ بہاراں نے دل کو زخم دئیے
نصیر صورتِ گلزار تو نکھر آئی
اس گلستاں کو نکھارا ہے لہو سے ہم نے
جیتے جی اس پہ کوئی وار نہ ہونے دیں گے
اس جیسے بے شمار اشعار ان کے مجموعہِ شعری،، انتخاب،، میں بکھرے پڑے ہیں۔اقدار کی شکست و ریخت پر نوحہ خوانی کے ساتھ ساتھ اقدار کی بحالی کے لئے  کوشش نصیر کوٹی کا خاص فکری رویہ ہے کیونکہ ان کے نزدیک شاعر صرف معاشرے کا عکاس ہی نہیں، نقاد اور فکری رہبر بھی ہوتا ہے۔
نصیر کوٹی کی غزل کے غائر مطالعے سے ایک بات جو کھل کر سامنے آتی ہے وہ ہے شاعر کا قادرالکلام ہونا،مضمون کسی بھی نوعیت کا ہو جب استاد نصیر کوٹی کے شعر میں آتا ہے تو سبک خرام محبوب کی طرح، غمز ہ و عشوہِواوا کے جلو میں آتا ہے۔نصیر کوٹی نے اکثر جگہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو جوڑ کر شعر کا پیکر تراشا ہے اور یہ منبت کاری اس مہارت سے کی گئی ہے کہ چمنِ غزل کے پھول ہر آنکھ کو حسین اور شاداب دکھائی دیتے ہیں ان پھولوں میں محض غزل کے روایتی محبوب ہی کی مہک نہیں بلکہ شاعر کی ذات مین رچی بسی ہر لطیف کیفیت کے رنگ نظر آتے ہیں اور اس مشکل تکنیک کو آسانی اور کامیابی سے برتنا نصیر کوٹی کی بے پناہ تخلیقی قوت کا مظہر ہے۔
خدا کا شکر محبت میں کاٹ دی ہم نے
ہماری عمر کے دن رائیگاں نہیں گذرے
نصیر کوٹی ارتقائے شعور کو ارتقائے غزل کی بنیاد بناتے ہیں ان کے خیال میں کاکل و رخسار کا خیال باندھنا ہی غزل کا منصب نہیں بلکہ  شعورِ فکر کو جلا دینا غزل کا مقصود ہے۔
عظمتِ شعر و سخن کیا ہو نصیر
کس قدر عام ہے یہ فن دیکھو
ڈاکٹر فرمان فتحپوری لکھتے ہیں،،شعر گوئی اور قابلِ توجہ شعر گوئی کئی باتوں سے مشروط ہے۔ لفظوں کے برتنے کا سلیقہ اظہارِ خیال پر قدرت، جذبے کی سچائی،احساس کی ندرت اور فکرونظر کی وسعت ایسی باتیں  جنہیں قابلِ ذکر شعری تخلیق کے لئے بنیادی شرائط قرار دیا جا سکتا ہے اور انہیں سامنے رکھ کر شاعری کے معیاری یا نا معیاری ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے۔تاہم اس سلسلے میں دو شرطیں اور بھی ہیں ایک یہ کہ شاعر موزوں طبع ہو یعنی حروصوت کی نغمگی سے اس کے مزاج کوطبعی مناسبت ہو،دوسرے وہ مذاقِ سلیم اور ذہنِ شائستہ کا مالک ہو۔نصیر کوٹی کی موزونی طبع اور خوش ذوقی کی صورت یہ ہے کہ اولالذکر انہیں عطیۂ الہی کے طور پر میسر آئی ہے اور آخرالذکر یعنی ان کی خوش ذوقی  تا دیر شعری فضا اور ادبی ماحول میں تربیت پانے کا انعام ہے۔نصیر کوٹی نے اپنی شاعری میں نہ دور کی کوڑی لانے کی کوشش کی ہے اور نہ آسماں سے تارے توڑ لانے کا دعویٰ کیا ہے بلکہ ان کے مشاہدے اور تجربے میں جو کچھ آیا اسے جس طرح محسوس کیا اسے نہایت سلیقے سے ہمارے سامنے پیش کر دیا،، 
ڈاکٹر فرمان فتحپوری کے علاوہ احسان دانش،محشر بدایونی،ساقی جاوید،شور علیگ،ماہرالقادری،شاعر لکھنوی اور ڈاکٹر اسلم فرخی نے بھی ان کی عظمتِ قلم کو سراہا ہے۔
نصیر کوٹی  کا شعری،،انتخاب،، پڑھنے کے بعدیہ حرفِ معتبر حاصل ہوا کہ یہ سارے کا سارا مجموعہ شاعر کی ذات کا پرتو ہے،شاعر کی شخصیت، ان کی غزل میں ہر جگہ جلوہ فگن ہے،ان غزلوں کا مزاج نصیر کوٹی کی سادہ دلی کا عکاس ہے،ان غزلوں کی روح نصیر کوٹی کی فقیری کی تصویر اور ان غزلوں کی فکر نصیر کوٹی کی حق پرستی کی تفسیر ے،ان 
غزلوں کا لمس نصیرکوٹی کی فن سے محبت کے جذبے کا انعکاس ہے۔

ہفتہ، 17 جنوری، 2015

گردش سحر فلک میں محو ہیں سارے نجوم ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
دیکھتی رہ جاو گی اور میں ہوا ہو جاوں گا
کچھ نہیں تم کو ملے گا میں رہا ہو جاوں گا
باغ میں باد صبا اور دشت میں باد سموم
میں سموم اور اس صبا میں لاپتہ ہو جاوں گا
گردش سحر فلک میں محو ہیں سارے نجوم
اس زمیں سے آسماں میں گُمشدہ ہو جاوں گا
برق کی بیتابیاں اور چار سُو روشن سماں
ایک لمحے میں اندھیرے میں نہاں ہو جاوں گا
پھر زمانہ مجھ کو انور ڈھونڈتا پھرتا رہے
میں زمانے سے چھپوں گا اور خفا ہو جاوں گا

انور زاہدی

جمعہ، 16 جنوری، 2015

تم آسماں طلب ہو زمیں چاہیئے مجھے ۔۔ نصیر کوٹی

نصیر کوٹی
مرّیخ و ماہتاب نہیں چاہیئے مجھے
تم آسماں طلب ہو زمیں چاہیئے مجھے
پھرتا ہوں کب سے گھر کا اثاثہ لیے ہوئے
ملتا نہیں ہے جیسا امیں چاہیئے مجھے
قصرِ بسیط دل کی طلب ہے ہوا کرے
میں جانتا ہوں کتی زمیں چاہیئے مجھے
جس پر کسی کا طنز نہ تضحیک ہو گراں
ایسی شکن سے پاک جبیں چاہیئے مجھے
غارت گرِ چمن یہ تلافی کی شرط ہے
جو شاخ جس جگہ تھی وہیں چاہیئے مجھے
جس سے مری انا پہ لگے ضرب اے نصیر
ایسا بھی التفات نہیں چاہیئے مجھے
بے خوف و بے ہراس ہراک گام پر نصیر
تعمیلِ حکمِ سرورِ دیں چاہیئے مجھے

وقار اپنے تو شعروں مین روایت ہی جھلکتی ہے۔۔۔۔وقار زیدی کراچی


سوموار، 12 جنوری، 2015

ز میں کو اس لیے چر خ کہن پہنا دیا ہے ۔۔ نقشبند قمر نقوی

نقشبند قمر نقوی
اسی سر و کشیدہ کو چمن پہنا دیا ہے
حسیں الفا ظ سے رنگ سخن پہنا دیا ہے
و ہی تھی منفرد شو کت کی دیرینہ روا یت
اسی تہذ یب کو سب نے کفن پہنا دیا ہے
بہت دشوا ر ہے مفہوم ہستی کا سمجھنا
وہی جس کو ز بر دستی بدن پہنا دیا ہے
کہیں ایسا نہ ہو انسا ں اسے ا غوا ہی کر لیں
ز میں کو اس لیے چر خ کہن پہنا دیا ہے
یہ دشمنِ وقت ا چھا تھا اگر عر یا ں ہی رہتا
اسے انسان نے ہی ما ہ سن پہنا دیا ہے
ر ہا تا عمر میں اس آ ر زو کے ہی تعا قب میں
جسے اہل جنو ں نے حسن ظن پہنا دیا ہے
اگر چہ نقشبند اب تک تھا یہ سا دہ تخیل
اسے میں نے لبا س فکر و فن پہنا دیا ہے

ہفتہ، 10 جنوری، 2015

کمالِ اوج پہ رکھتے ہیں بندگی کی سرِشت ۔۔ ڈاکٹر سعادت سعید

Add caption
دیارِ ہِند میں امن و سلامتی کی کِشت 
اُگا گئے ہیں بَہ صد شوق صوفیہ ء چِشت!
وہ ذات پات کی قسمت سے منحرِف درویش 
کہ جن کے واسطے کھولا گیا ہے بابِ بہِشت
بَہ قولِ حضرتِ اے ڈی نسیم یہ بندے
کمالِ اوج پہ رکھتے ہیں بندگی کی سرِشت
بَہ اِیں خیال فقط وحدۃُ الوجودی ہیں 
کہ نخلِ نور سے روشن ہوئے ہیں خوب و زِشت
فلاحِ آدم خاکی تو صلح کل میں ہے 
اکھاڑ پھینکیے ہر جا سے نفرتوں کی خِشت

بدھ، 7 جنوری، 2015

اردو منزل ڈاٹ کام کی مدیراعلیٰ معروف شاعرہ صبیحہ صبا اور زاہدہ پروین، ڈائریکٹر جنرل اکادمی ادبیات پاکستان ،، دل درد آشنا ،،کی رونمائی کرتے ہوئے


متحدہ عرب امارات میں مقیم معروف شاعرہ محترمہ صبیحہ صبا اور ادیب جناب صغیر احمد جعفری نے اکادمی ادبیات پاکستان کےدورہ کے  موقع پر محترمہ زاہدہ پروین، ڈائریکٹر جنرل اکادمی ادبیات پاکستان کو اپنا تازہ شعری مجموعہ،، دل درد آشنا،، پیش کیا۔اس موقع پر لی گئی ایک تصویر