ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعرات، 31 دسمبر، 2015

نیا سال خوشیوں کا پیغام لائے ۔ ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی


ابھی تو رات کا پہلا پہر نہیں گزرا ۔۔ واجد امیر

واجد امیر
تو کیا عجب کہ ہم ایسے بھی خوار ہونے لگے
بھلے بھلے یہاں رزقِ غبار ہونے لگے
ابھی تو رات کا پہلا پہر نہیں گزرا
ابھی سے دن کے لیے بے قرار ہونے لگے
خدا کا نام لینا بھی جنھیں گوارا نہیں
خدا کی شان وہی تاجدار ہونے لگے
تلاشِ رزق یہ کن راستوں پہ لے آئی
ایک ایک کر کے جدا سارے یار ہونے لگے
تجھے بھی چاہیے دل جوئی ان کی تھوڑی سی
نثار تجھ پہ جو پروانہ وار ہونے لگے
گزرنے لگتی ہیں کترا کے گردشیں اُن سے
ترے اسیروں میں جن کا شمار ہونے لگے
چھپا لیا ہے گھٹاؤں نے مل کے سورج کو
ہوا کی رتھ پہ اندھیرے سوار ہونے لگے
مری تو اپنے مسائل سے جنگ ہے واجد
مری بلا سے کوئی شہریار ہونے لگے

بدھ، 30 دسمبر، 2015

فصل ہار، لالہ و گل، ابر وبرشگال ۔۔ انجم عثمان

انجم عثمان
جاں سوز تھا وہ عشقِ طرح دار! الوداع 
اے درد الوداع مرے! اے یار الوداع.
وارفتگی متاع_جنوں تھی کبھی مجھے 
دیوانگی مری! تجھے سو بار الوداع
عشرت گہہ_نگاہ تھا جلوہ ندیم کا 
باز آےء ہم! مشیعت_غمخوار الوداع
تُو تھا سخن وری کے لئے میرا انتخاب 
اے طالع_سخن! تجھے بسیار الوداع
جاں سوختہ رہے طلب_راہ و رسم میں 
سوز_دروں بصورتِ انگار! الوداع
فصل ہار، لالہ و گل، ابر وبرشگال 
راس آےء ہم کو، نرگس_بیمار! الوداع
ہم خاکسار، خاک نشیں، خاکیاں نہاد! 
ہفت آسماں نشیں مرے دلدار! الوداع
کچھ خواب منتظر ہیں ترے چشم_خوابناک 
اختر شمار دیدہء بیدار! الوداع
عشاق منتظر ہیں مرے، بہر_التفات 
ہوں منحرف، نصیحت_ابرار! الوداع
اک آرزو تھی حسرت و رنج ومحن سمان
اک عشق تھا کہ در پےء آزار! الوداع
اردو غزل سنائیے انجم، چنانچہ اب 
خامہ براےء کشور_افکار! الوداع

منگل، 29 دسمبر، 2015

ضربِ وحشت یہ کربِ تنہائی ۔۔ شہناز مزمل


شهر ' گلیاں اور مکاں ویرانیوں کا رنگ ہیں/ زرد چہرے سونی آنکهیں اک گماں ہوتی گئیں ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
بستیاں خالی ہوئیں اور بے زباں ہوتی گئیں
بدلی کچه ایسی رتیں رنگ خزاں ہوتی گئیں
آسماں پہ ابر چهایا اور ہُوا مہمیز فصل
بارشیں ایسی ہوئیں ہیبت نشاں ہوتی گئیں
شهر ' گلیاں اور مکاں ویرانیوں کا رنگ ہیں
زرد چہرے سونی آنکهیں اک گماں ہوتی گئیں
باتیں باقی رہ گئیں قصے پرانے ہوگئے
داستانیں قصہء پارینہ جاں ہوتی گئیں
ذکر انور بستیوں کا کیا کریں جو نہ رہیں
حصہ تاریخ میں عبرت زماں ہوتی گئیں

جمعرات، 24 دسمبر، 2015

اس کے معصوم سے چہرے پر خوبصور ت آنکھوں میں بے حیا سی چمک تھی۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔ قسط ۔21


ٹائمز سکوئر کی جھلمل روشنیاں 


نیویارک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 
The City which never sleeps
ٹائمز سکوئر پر دن سے رات کرتے ہوئے اس بات کا احساس کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔کھوے سے کھوا چھلتا دیکھنا اور محسوس کرنا ہو تو اس علاقے میں سیر کیجئے۔
ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ میں کافی وقت لگ گیا تھا شام کے جھٹ پٹے میں ہم باہر آئے۔عدیل کہنے لگا دوپہر کا کھانا تو ایمپائر اسٹیٹ کی نظر ہو گیااب کہیں کھانا کھاتے ہیں،یہاں ہلٹن ہوٹل کی ناک کے نیچے حلال برادرز کی ریڑھی ہے،وہاں سے پلیٹر کھاتے ہیں۔کہنے کو تو یہ ریڑھی ہے لیکن خریداروں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔ہلٹن ہوٹل والوں نے انہیں وہاں سے ہٹانے کی بڑی کوشش کی لیکن یہ وہیں کے وہیں ہیں بلکہ ان پر رش اور بڑھ گیا ہے۔وہاں کھانا کھانے کے بعد آج ہی ٹائمز سکوئر بھی گھوم لیتے ہیں۔آپ یہ نا کہیں کہ عدیل نے نیویارک کی بتیاں نہیں دکھائیں۔
حلال برادرز کی ریڑھی پر واقعی اتنا ہی رش تھا جتنا کہ عدیل نے بتایاتھا۔ہم نے چار پلیٹر لئے جن میں دو رول کی شکل میں اور دو پیالے کی شکل میں تھے۔یہ عجیب سا ملغوبہ تھا،کچھ چاول تھے،کچھ چکن کی باریک باریک بوٹیاں تھیں،کچھ سلاد تھا،کچھ ابلے ہوئے مسلے ہوئے چنے تھے اور مختلف قسم کی ساسز تھیں۔وہیں سڑک کے کنارے ایک بینک کے باہر اڑتے ہوئے باز کی شکل کے مجسمے کے اردگرد بنی ہوئی پتھر کی منڈیر پر بیٹھ کر اس کھانے نے بڑا مزا دیا۔

ٹائمز سکوئر کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ انٹرٹینمنٹ کی دنیا ہی یہاں روشنیوں کی چکاچوند ہے۔متحرک نیون سائن آنکھوں میں منعکس ہو کر ایک تھری ڈی تصویر بنائے چلے جاتے ہیں۔میں ایسے دیس سے آیا تھا جہاں بجلی کی کفائت شعاری پر زور دیا  جاتا ہے جہاں نیون سائن لگے تو ہوئے ہیں لیکن انہیں جلنے کی اجازت نہیں،ایسے میں میری مثال اس شخص کی سی تھی جسے اندھیرے کمرے سے ایکدم روشنیوں کے سیلاب میں چھوڑ دیا گیا ہو۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ روشنیوں کی بھی کوئی زبان ہوتی ہے،میوزک اور روشنی کے باہم اتصال سے جو تھل پیدا ہوتی ہے وہ کتنی ہیجان خیز ہوتی ہے۔
میں اپنے دیس میں جوہر ٹاؤن میں سے گذر کر ڈاکٹرز ہسپتال کے سگنل پر رکتا تھا تو سامنے سڑک کی دوسرے جانب ایک بل بورڈ نظر آتا تھا جس پر نیا نیا ڈٹرجنٹ پوڈر کے ڈبے کی تصویر کے ساتھ اسی پر کپڑے لٹکاتی عورت کے سائڈ پوز کی تصویر  کا اشتہار نظر آیا،اشتہار قابلِ توجہ تھا،دو تین دن تو بورڈ سلامت رہا تیسرے دن واپڈا ہاؤس جاتے ہوئے دیکھا تو اس بورڈ پر سیاہی پھینک کر لکھ دیا گیا تھا کہ عریانی فحاشی بند کرو کہ نسوانی چہرہ خواہ ماں کا ہی کیوں نا ہو فحاشی قرار پاتا ہے۔صرف نظر آتی زندگی سے بھرپورآزادی پر بھی خاموشی کے پہرے دیکھتے جوانی سے بڑھاپا آ گیا تھا۔
اپنے دیس کی ایسی زندگی سے ٹائمز سکوئر کی ان روشنیوں میں جہاں رات کو بھی سب کچھ  صاف صاف نظر آتا ہے کچھ ایسے مقامات بھی آئیکہ میں جھینپ کر رہ گیاخاص طور پر بچہ لوگ کے ساتھ چلتے ہوئے لیکن بچہ لوگ ایسے مناظر پر توجہ دئیے بغیر چلے جا رہے تھے عیسے بھی ان کی عینکوں میں جھانکنے سے بھی کوئی تاثر نظر نا آ پاتا کہ ان کی آنکھوں کو کچھ شیشوں اور کچھ عینک کے شیشوں پر پڑنے والے اشتہاروں کے عکس نے چھپا رکھا تھا۔ایک میں ہی تھا جو عینک کے بغیر تھا اور میرے لئے اپنے تاثرات چھپانا خاصا دشوار ہو رہا تھا۔یہ درست ہے کہ عمر خواہ کتنی ہی  کیوں نا ہو گئی ہو۔مرد کا دل راکھ میں دبی اس سلگتی چنگاری کی مانند ہوتا ہے جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے،ایک دوسری بات کا بھی تجربہ ہوا کہ شوبز کے لوگ اور ہماری نئی نسل ہر وقت عینک کیوں پہنے پھرتی ہے کہ دل کی زباں آنکھ ہوتی ہے جس سے اندر کے جذبات جھلک سکتے ہیں۔بچہ لوگ نے اگر کچھ محسوس کیا بھی ہو گا تو کسی کو نظر نہیں آیا،ویسے بھی وہاں یہ باتیں اتنی عام ہیں کہ کوئی کسی کی طرف آنکھ اٹھا نہیں دیکھتا،یہ شاید میرا ہی احساس تھا۔مجھے البتہ اپنی بزرگی اور سنجیدگی کا احساس دلائے رکھنا تھا کیونکہ میری آنکھ کی پتلیوں میں منجمد عکس تو ہر وقت منعکس ہونے کو تیار رہتا تھا۔
ٹائمز سکوئر،ایک زمانہ تھا کہ معززین کے جانے کی جگہ نا تھا،فحاشی اور عریانی کا مرکز تھا۔مختلف مافیا یہاں دنداناتے پھرتے تھے۔پھر یوں ہوا کہ سن1904کے لگ بھگ نیویارک کے دبنگ گورنر کی کاروائیوں اور  نیویارک ٹائمز کے ہیڈ کوارٹرز کی یہاں منتقلی نے ایک تبدیلی تو یہ کی کہ اس جگہ کا نام،،لونگ ایکر سکوئر سے ٹائمز سکوائر ہو گیا،دوسرے یہاں سے مافیا کا خاتمہ ہوا،اور شرفاء کی یہاں آمد و رفت شروع ہوئی۔
نیو ایئر کی آمد پر دنیا میں سب سے بڑا جشن ٹائمز سکوئر میں برپا ہوتا ہے جس میں لاکھوں لوگ شریک ہوتے ہیں۔اس جشن کا اہم ترین جزو،،بال ڈراپِِ ہے جوسن1907سے جاری ہے۔31 دسمبر کو رات گیارہ بج کر 59منٹ ٹائمز ٹاور یا ون ٹائمز سکوئر پر نصب 141فٹ بلند فلیگ پول سے ایک بہت بڑا گیند روشنیوں میں نہایا ہوا 60سیکنڈ میں نیچے کی طرف آتا ہے یہ نئے سال کو خوش آمدید کہنے کا سگنل ہوتا ہے۔اس گیند کے نیچے پہنچتے ہی رنگ و نور کی بارش کرتا ہوا فائیر ورکس شروع ہوجاتا ہے۔
یہ تو تھا ایک سرسری سا تعارف ٹائمز سکوئر کا۔
خیر
ٹائمز سکوئر میں اس وقت ایک خوبصورت جوڑا میرے آگے آگے چل رہا تھا اور ہمیں ان کو فالو کرنا تھا کیونکہ اجنبی جگہ پر جہاں کھوے سے کھوا چھل رہا ہو،وہاں گم ہو جانے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔کچھ ہی دور چلے ہوں گے کہ سڑک کے کنارے مجسمہِ آزادی کھڑا نظر آیا اور مزے کی بات یہ تھی کہ یہ مجسمہ ہل بھی رہا تھا اور دائیں بائیں جھک بھی رہا تھا اور وگ اسے گھیرے ہوئے تھے۔اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تصاویر کھنچوا رہے تھے۔میرا حسین جوڑا،رابعہ اور عدیل اس کے پاس جا کر رک گیا تھا،بس پھر کیا تھا بچہ لوگ کے پرزور اصرار پر ہم نے اس ہلتے جھلتے مجسمہِ آزادی کے ساتھ 

تصاویر 
بنوائیں لیکن یہ بلا معاوضہ نا تھیں اس کے لئے مجسمے کو معاوضہ دیا گیا۔ کیونکہ وہ اس کے بغیر تصویر کھنچوانے پر تیار ہی نا تھا جبکہ بچہ لوگ ماما پاپا کی ایک فنی سی تصویر بنانے پر مصر تھے۔
جس جگہ وہ مجسمہ کھڑا تھا اس کے دائیں جانب ڈزنی سٹور تھا،عنایہ ساتھ ہو اور ایسے سٹور میں نا جایا جائے یہ ممکن ہی نہیں تھا اس لئے سٹولر کا رخ اس سٹور کی جانب تھا یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں ہے کہ ہم بھی ساتھ تھے۔
یہ سٹور کئی منزلہ ہے جو کھلونوں اور لباسوں سے بھرا ہوا تھا،اوپری منزل بھی اسی طرح بھری ہوئی تھی فرق یہ تھا کہ وہاں بچوں کے کھیلنے کی بھی قابلِ توجہ کئی چیزیں تھیں۔اب مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس سٹولر تھا جو دوسری منزل پر نہیں جا سکتا تھا اور کسی نا کسی کو وہاں ٹھہرنا تھا۔عنایہ کی دادی کا خیال تھا کہ وہ  سٹولر کے پاس کحڑی ہوتی ہیں جبکہ میرا خیال تھا کہ دادی کو بچوں کے ساتھ اوپر کا چکر لگا لینا چاہئیے۔
میں دروازے کے بائیں جانب سٹولر کو دیوار سے لگا کر وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا،وہاں کئی دوسرے افراد بھی کھڑے تھے،ابھی مجھے وہاں کھڑے اور بچہ لوگ کو اوپر گئے چند ہی لمحے گذرے ہوں گے کہ میرے کندھے پرکسی نے بے تکلفی سے ہاتھ رکھ دیا۔میں نے چونک کر ادھر دیکھا ایک نوخیز سا، خوبصورت سا گورا چٹا سفید فام لڑکا میرے ساتھ چپک کر کھڑا تھا اور اس نے ہاتھ بی میرے کندھے پر ٹکا دیا تھا وہاں اور بھی لوگ کھڑے تھے لیکن کسی کی توجہ ہماری جانب نہیں تھی،اب اس لڑکے نے بڑی بے تکلفی سے پوچھا 
،،ایشین،،
،،یس،ایشین،،
اس نے پھر پوچھا
,,where you from,,
میں نے جواب دیا،،پاکستان سے،،
,,wow,do you want company of a young chap like me?i will entertain you batter than a girl,,
میں نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی دیکھ یا سن تو نہیں رہالیکن وہاں ہر کوئی اپنی دھن میں مگن تھا۔میں نے اپنے پسینے بھری پیشانی کے ساتھ اس کی جانب دیکھا،اس کے معصوم سے چہرے پر خوبصور ت آنکھوں میں بے حیا سی چمک تھی، میں نے کندھے پر آئے اس کے ہاتھ کو جھٹک کر پرے کیا اور اپنے اور اس کے درمیان سٹولر کھڑا کر لیا۔
امریکی قانون کے مطابق ہر شخص کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہے،جس طرح چاہے زندگی بسر کرے۔مرد عورت میں آزادانہ میل جول یا لڑکی لڑکے میں جنسی آزادی ہمارے معاشرے میں بری بات ہے لیکن امریکن معاشرے میں اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔کوئی جوڑا شادی کر کے گھر بسائے،بچے پیدا کرے یا شادی کے بگیر شوہر و شن کی طرح رہیں،بچے بھی پیدا کر لیں،تعلقات بھی نبھائیں یا توڑ دیں،حکومت کی طرف سے اس بات پر کوئی پابندی نہیں،چودہ،پندرہ سال کی عمر میں بچے ماؤں یا والدین سے الگ ہو جاتے ہیں۔ خود کماے ہیں،خود زندگی کا بوجھ اٹھاتے ہیں،لڑکے لڑکیاں جنسی بے راہ روی کااسی عمر میں شکار ہوجاتے ہیں ابھی حال ہی میں امریکی صدر نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کے بل ہر سائن کرکے اس شخصی آزادی کو اور بڑھاوا دیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ خوب رو لڑکا اپنی اسی شخصی آزادی کا اظہار کر رہا تھا۔
میں دعا کر رہا تھا کہ بچہ لوگ اوپری منزل سے جلدی نیچے آ جائیں لیکن عنایہ اوپر شاید کسی کھیل میں اٹک گئی تھی کہ وہ نیچے نہیں آ رہے تھے۔میں نے کن انکھیوں سے اس لڑک کی جانب دیکھا لیکن وہ اب اوپر جاتی سیڑھیوں کے پاس جا کر ایک ادھیڑ عمر اپنی نسل کے پاس کھڑا ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا پھر دونوں میرے سامنے سے ہوتے ہوئے سٹور سے باہر نکل گئے،شاید ان کے مابین سودا پٹ گیا تھا۔

سچی بات تو یہ ہے کہ جب امریکہ میں ہم جنس پرستی کو ایک لعنت اور غیر اخلاقی رویہ سمجھا جاتا تھا تو ہمارے مشرق میں اسی عطار کے لونڈے سے دوا لی جاتی تھی۔اردو شاعری لڑکوں کے گیتوں سے بھری پڑی ہے اور ہم اسے،،علتِ مشائخ،،کا نام دیتے تھے۔میں تو عطار کے انگریز لونڈے کے کندھے پر ہاتھ رکھنے سے ہی گھبرا گیا تھا لیکن پاکستان کے شمال مشرقی حصوں میں یہ سرگرمی تہذیب کا ایک حصہ ہے وہاں کے شرفا اس دھج کے ساتھ نکلتے ہیں کے ان کے ساتھ ان کا  محبوب بہت بنا ٹھنا ساتھ ہوتا ہے۔بندوق اور،،نڈا،، ان کی شان اور پہچان ہے،
بچہ لوگ کے نیچے آتے ہی ہم ڈزنی سٹور سے باہر آ گئے۔
ہماری بیگم کہا کرتی ہیں کہ آپ جھوٹ نہیں بول سکتے،آپ کا چہرہ آپ کا ساتھ نہیں  دیتا۔ڈزنی سٹور  سے تھوڑا آگے آ کر دائیں مڑتی سڑک کو پار کرنے کے لئے  ہم رک گئے کہ پیدل چلنے کا اشارہ بند تھا۔میرے  چہرے پر دھنک رنگ تھے اور بچہ لوگ میرے چہرے کو دیکھ رہے تھے جس پر سامنے لگے کوکا کولا کی بوتل کے  نیون سائن کی سرخ روشنی  دیارِ غیر میں اس غیر متوقع واقعہ کی بنا پر میرے پہلے  سے سرخ ہوتے چہرے کے راز کو افشا کرتی محسوس ہو رہی تھی۔ایسا  راز جو بن چکھی مے کی مانند تھا۔

منگل، 22 دسمبر، 2015

ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کو امریکن انجمن برائے شہری انجینئرز نے جدید دنیا کے7عجائبات میں سے ایک قرار دیا ہے۔دیکھا تیرا امریکہ ۔قسط۔ 20

ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ


اس روز  جب ہم برکلین سے مین ہاٹن کے لئے روانہ ہوئے تو ہمارا ارادہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ دیکھتے کا تھا۔ہمیں بتایا گیا تھا کہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ دیکھنے میں اتنا ٹائم نہیں لگتا جتنا ٹائم اس بلڈنگ میں داخلے کے لئے لمبی قطاروں میں دل تھام کر کھڑے ہونے میں ضائع ہوتا ہے۔
عدیل جب گاڑی میں بیٹھتا ہے تو اپنے آئی فون میں گوگل میپ اوپن کر لیتا ہے۔گوگل میپ میں بول کر بھی ہدایات دی جاتی ہیں۔گوگل کی ماسی(گائیڈ) وقفے وقفے سے بولنا شروع کر دیتی ہے۔آج جب عدیل نے ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کا پتہ فیڈ کیا تو برکلین سے مین ہاٹن تک کا راستہ نقشے کی صورت سامنے آ گیا،گوگل کی یہ ماسی اتنا لیفٹ رائیٹ کر رہی تھی کہ میرا سر چکرا گیا لیکن عدیل بڑے اطمینان اور خاموشی سے اس کی ہدایت پر عمل کر رہا تھا۔ہمم پہلے بھی برکلین سے مین ہاٹن آئے تھے لیکن اس بار یہ نیا ہی رستہ تھا۔میں نے عدیل سے پوچھا،
،،ہر بار نیا رستہ،اس طرح بھٹک نہیں جاتے، ہر دفعہ نئے راستے سے آنا،غلط بھی تو ہو سکتا ہے،،
عدیل ہنسنے لگا،پھر کہنے لگا یہ دو جمع دو چار کی طرح ہے،آپ کو میرے ساتھ پھرتے اتنے دن ہو گئے ہیں، کبھی اس نے بھٹکایا؟۔
میں نے کہا
،، ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا لیکن ہو تو سکتا ہے،،
عدیل کہنے لگا
،،پاپا،ایسا کبھی ہوا  تو نہیں،اس میں کسی جگہ پہنچنے کا ہر ممکنہ راستہ فیڈ شدہ ہے۔یہ ٹریفک کے حساب سے صاف راستوں کا تعین کر کے آپ کو منزل پر پہنچا ہی دیتے ہیں،اسی لئے ہر با رراستہ مختلف ہوتا ہے۔،،

باتوں ہی باتوں میں کافی سفر گذر گیا،، گوگل کی ماسی،، نے بیالسویں سٹریٹ اور میڈیسن ایونیو سے گذرنے کا لیفٹ یا شاید رائیٹ اشارہ کیا۔ایک قدیم سی بلڈنگ سامنے سے گاڑی کی طرف آتی محسوس ہوئی۔
،، ارے اس بار یہ ہمیں گرینڈ سنٹرل ریلوے اسٹیشن کے راستے سے لے آئی آپ کی گوگل کی ماسی،عدیل نے ہنستے ہوئے کہا
،،یہ دنیا کا سب سے بڑا ریلوے اسٹیشن ہے،یہ اسی کی عمارت ہے۔ہم اس کے بائیں طرف سے ہو کر گذریں گے،، عدیل نے بتایا۔
،،کمال ہے دنیا کی سب،سب سے بڑی چیزیں امریکہ میں پائی جاتی ہیں،، میں نے کہا۔
،،یہ بات کسی حد تک درست ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ اعزازات  امریکہ کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں لیکن گرینڈ سنٹرل ریلوے اسٹیشن کے بارے میں جو اعزاز اسے حاصل ہے وہ اب بھی امریلہ ہی کے پاس ہے،،عدیل نے میری بات کا جواب دیا۔
،،بڑی معلومات حاصل کر لی ہیں،،میں نے کہا۔
،،پاپا جب یہاں رہنا ہے تو معلومات تواکھٹی کرنی پڑتی ہیں نا،یہاں مختلف ٹیسٹوں کی تیاری کے لئے معلومات  درکار ہوتی ہیں۔بہت محنت کی ہے ریسرچ کرنے میں،، عدیل نے سامنے راستہ دیکھتے ہوئے کہا۔
،،وہ تو تیری باتوں سے لگ رہا ہے،،میں نے اس کی  طرف محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
،،یہ ریلوے اسٹیشن بھی دیکھنے کی چیز ہے، میں اسے دکھا تو دیتا لیکن پھر ہم ایپائر اسٹیٹ بلڈنگ نہیں دیکھ سکیں گے۔ اب کیا کہتے ہیں آپ یہاں رکیں یا چلیں؟،،عدیل نے کہا
،، چلو یار ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ دیکھتے ہیں،راستے میں اسٹیشن کے بارے میں تم معلومات شیئر کر دینا۔
ٹھیک ہے،کہہ کر عدیل نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
،، پاپا،یہ جو اسٹیشن ہے ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا اسٹیشن ہے، یہ تو میں بتا ہی چکا ہوں،اس میں 123ریلوے لائینیں ہیں،یہ دو منزلہ ہے۔اس کی اوپری منزل  پر 66جبکہ نیچے والی منزل پر57لائینیں ہیں۔یہ ریلوے اسٹیشن1913میں مکمل ہوا۔اس اسٹیشن پر رش کی وجہ سے قیامت کا سا سماں ہوتا ہے صبح اور شام کے وقت یہ ہجوم بہت بڑھ جاتا ہے۔تعلیمی اداروں میں آنے جانے والے طلباء ، دفتروں میں کام کرنے والے،ذاتی کاروبار کے لئے مختلف جگہوں پر آنے اور جانے والوں کے علاؤہ سیاحوں کا بھی تانتا بندھا رہتا ہے۔ہم گاڑی پر آئے ہیں میری لینڈ سے یہاں لیکن اگر ہم ٹرین  سے آتے تو ہم بھی انہی لوگوں میں شامل ہوتی جو ٹرین کو استعمال کرتے ہیں۔لاکھوں لوگ روزانہ اس ریلوے کے نظام کو استعما کرتے ہیں،عدیل اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا کیونکہ ہم اس جگہ کے قریب پہنچ گئے جہاں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ واقع ہے۔لیکن ہمیں پارکنگ بڑی تلاش کے بعد ملی۔سڑک کے کنارے ایستادہ مشین میں عدیل نے سکے ڈالے،اس مشین کا سرخ نشان سکے ڈالتے ہی سبز ہو گیا،امریکہ میں پارکنگ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اگر غلط جگہ پارکنگ کر دی تو گاڑی وہاں سے اٹھالی جاتی ہے اور جرمانہ بھی خاصا ہوتا ہے۔پاکستان کی طرح نہیں کہ جہاں جی چاہا گاڑی کھڑی کی اور چل دئیے۔
وہاں سے ہم ففتھ ایوینو کی تیتیسویں سٹریٹ پر جا پہنچے جہاں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ واقع ہے۔یہ زمین سے چھت تک1250فٹ اونچی عمارت ہے جسے امریکن انجمن برائے شہری انجینئرز نے جدید دنیا کے7عجائبات میں سے ایک قرار دیا ہے۔اتنی اونچی عمارت بنانے کا پلان امریکن پالیٹیشن الفریڈ سمتھ نے بنایا۔اس کا سٹیل فریم اتنا مضبوط ہے کہ 1945 میں ایک جہاز حادثاتی طور پر اس سے  ٹکرا گیا تھا جس سے اس کی صرف اوپر کی دو منزلوں کو نقصان کو نقصان پہنچا۔
سن1931میں اپنی تکمیل سے سن1973 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تعمیر تک یہ عمارت دنیا کی بلند ترین عمارت کا درجہ رکھتی تھی۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی 11ستمبر2001میں تباہی یہ ایک بار پھر نیویارک سٹی کی بلند ترین عمارت بن چکی ہے لیکن دنیا کی نہیں کیونکہ دنیا میں بہت بہت بلند عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں۔ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی102منزلیں ہیں۔
فلموں میں اس عمارت کو متعدد بار دیکھا تھا،میں نے سینما میں فلمیں دیکھنا بہت عرصہ ہوا چھوڑ دی تھیں لیکن کہا گیا کہ،، کنگ کانگ،، آئی ہے،بڑی تھرلنگ مووی ہے لیکن اسے دیکھنے کا مزا سینما میں ہی ہے۔سو ہم نے سینما میں کنگ کانگ دیکھی۔اس فلم کا اختتام اسی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی چھت پر فلمایا گیا ہے جہاں کنگ کانگ گوریلے کو مارا جاتا ہے۔آج وہی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ میرے سامنے تھی۔
ہم نے سڑک پار کی اور ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے اندر داخل ہو گئے۔ایک بلند چھت تلے سرخ پتھر سے آراستہ ایک راستہ تھا،ایک لابی تھی جس کے ماتھے پر اس بلڈنگ کی ایک شبیہ نقش تھی اور اس کی آخری منزل کے گرد روشنی کا ہالہ تھا ویسا ہی ہالہ جو گرجا گھروں میں ننھے فرشتوں کے سروں کے گرد روشن ہوتا ہے۔اس شبیہ کے نیچے ایک ڈیسک کے پیچھے ایک خاتون سیاحوں کو معلومات فراہم کر رہی تھی۔
اس کی معلومات کی روشنی میں ہم دوسرے منزل پر پہنچے جہاں ٹکٹ گھر تھا۔یہاں عدیل نے ٹکٹ خریدے اور ہم اوپر جانے کے لئے لفٹوں لی جانب بڑھے،ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ ایسے ہی ڈرایا ہوا تھا کہ بہت ٹائم لگتا ہے لیکن اتنی جلدی کام ہونے کی ہمیں توقع نہیں تھی،لیکن یہ ہماری  غلط فہمی تھی کیونکہ ہم سے آگے ایک طویل کیو تھی لفٹوں تک پہنچنے کے لئے اور کیوں نا ہوتی،اسی روزانہ کے رش کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ کوئی چالیس،پچاس لاکھ سیاح ہر سال اس عمارت کی سیر کو آتے ہیں،ہم نے اس طویل قطار کو دیکھ کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا،عدیل نے کندھے اچکائے کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے۔آئیں ہیں تو دیکھ کر ہی جائیں گے۔لفٹوں سے پہلے تلاشی کا ویسا ہی مقام آ گیا جیسا مجسمہِ آزادی پر جاتے ہوئے پیش آیا تھا۔کہتے ہیں ایسا پہلے تو نہیں ہوتا تھا لیکن جب سے اسلامک دہشت گردوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو تباہ کیا تھا اور ساتھ ہی امریکہ کی دیگر اہم تنصیبات کو بھی تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا اس وقت سے امریکہ کو بہانہ مل گیا اور انہوں نے اپنی تنصیبات کی حفاظت کے لئے سیر کے لئے آنے والوں کی تلاشی کا نظام رائج کر دیا۔ہمیں شاید ابھی اور وقت لگ جاتا لیکن عنایہ کے رونے  نے ہمارا کام آسان کر دیا اور تلاشی لینے والوں نے ہمیں پہلے بلا کر فارغ کر دیا۔سٹولر کو امریکہ میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔
وہاں سے ہم لفٹوں کی جانب بڑھے،ہم لفٹ میں داخل ہوئے تو اس کے چلنے کا انتظار کرنے لگے لیکن یہ کیا،لفٹ ایک ہزار پانچ فٹ کی بلندی  پر واقع 86ویں منزل پر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پہنچ گئی۔ہم اس منزل پر اتر گئے،وہاں ایک ریستوران،صاف ستھرا  ماحول،رنگ برنگی میزیں اور کرسیاں، سیاحوں کی ایک بڑی تعداد پہلے سے وہاں موجود تھی۔باہر کی جانب دیکھا تو آس پاس کچھ بھی نہیں تھادوسری عمارتیں بہت نیچے رہ گئیں تھیں۔سیاح  شیشے کے پار نیویارک کو دیکھ رہے تھے،ایک طرف ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، دور سٹیچو آف لبرٹی ایک ننھی سی گڑیا کی مانند نظر آ رہا تھا۔ 
مجھے بلندی سے خوف آتا ہے کسی آسمان سے باتیں کرتی عمارت کی انتہائی بلندی سے نیچے جھاک کر نہیں دیکھ سکتا،نیچے نظر ڈالت ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نظر کے ساتھ میں بھی نیچے گر رہا ہوں۔امریکہ کی اس پہلی یاترا میں بچہ لوگ نے مجھے آسمان سے باتیں کرتے برقی ہندولے پر تو ساتھ بیٹھا لیا تھا لیکن میں نے توبہ کی تھی کہ ایسی عمارتوں میں ایسی جگہ نہیں جاؤں گا جہاں اوپر سے نیچے جھانکنا پڑے۔ لیکن آج پھر اپنا وعدہ توڑ کر بچوں کے ساتھ پھر اتنی بلندی پر آ گیا تھا اور شیشے کی چار دیواری سے نیچے بھی جھانگ رہا تھا۔یہ الگ بات کہ خوف کے احساس سے میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور میری ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ بڑھ رہی تھی۔ 




جمعرات، 17 دسمبر، 2015

سنٹرل پارک ۔ بچہ لوگ نے میری طرف دیکھا پھر دور جاتی لڑکی کو اور کہا،،پاگل ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔ قسط ۔ 19

سکوٹی والی لڑ کی

سنٹرل پارک نیویارک میں



خاموشی کی آواز ہوا کے دوش پر سوار میرے کانوں سے ٹکرائی تو احساس ہوا کہ میں کسی اجنبی جگہ آ گیا ہوں۔یہاں نیویارک کی گہماگہمی اور ہجوم نہیں تھا،درختوں کی بہتات نے اس جگہ کو ساؤنڈ پروف بنا دیا تھا،یہاں کی ہوا بھی کثافت سے پاک اور ہلکی ہلکی محسوس ہو رہی تھی جس نے مجھے ایک لمبی سی سانس کھینچنے پر مجبور کر دیا اور میرے رگ و پے میں فرحت کی ایک لہر دوڑ گئی۔مین ہاٹن کے جزیرے کے اندر اونچی اونچی عمارتوں میں گھرے سرسبز جزیرے میں کھڑا تھا جسے امریکانوز سنٹرل پارک کہتے ہیں۔
مجھے انتہائیں بے چین کر دیتی ہیں،وہ چاہے میری لینڈ میں عدیل کے فلیٹ میں آتی فائر بریگیڈ کی کرخت آواز ہو یا سنٹرل پارک کا سناٹا۔
عدیل نے کہا یہ درخت اور یہاں کا ماحول کتنا سرسبز لگ رہا ہے،ذرا ایک دو ماہ گذر جانے دیں پھر یہی  منظر خزاں کے تکلیف دہ منظر میں بدل جائے گا۔پتے جب رنگ بدلتے ہیں تو وہ منظر بھی بڑا خوبصورت ہوتا ہے،یہی سبزرنگ پتے جب
جون بدل کر سرخ ہوتے ہیں تو منظر بڑا ہی دلکش ہو جاتا ہے۔

میں ہنس دیا کہ یہی سرخی،جوانی کی جوالا مکھی ہوتی ہے اور جب زردی پتوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے تو ا ناََ فاناََ موت پتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور پتے ڈالی سے ٹوٹ کر مٹی پہ آ گرتے ہیں،پھر یہی مٹی پتوں کو چاٹ جاتی ہے۔
آپ بہت مشکل مشکل باتیں کرنے لگتے ہیں کبھی کبھی ہم ذرا جھیل کی طرف جا رہے ہیں آپ آ جائیے گا آہستہ آہتہ۔
انسان جب پت جھڑ کے موسم میں پہنچ جاتا ہے تو گویا اکھاڑے سے باہر بیٹھا پہلوان ہو جاتا ہے۔اکھاڑے میں لڑتے،کسرت کرتے،بازوں کی مچھلیاں پھڑپھڑاتے نوجوان  پہلوانوں کو دیکھ کر استاد پہلوان کے ڈھلکے ہوئے تمام اعضاء بھی پھڑ پھڑانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
میں بھی اب اکھاڑے سے باہر بیٹھا ہوا پہلوان تھا جس کے گالوں کی سرخی میں تھوڑی تھوڑی زردی نظر آنے لگی تھی۔امریکہ میں جب درختوں پر خزاں اترتی ہے تو پہلے وہ سرخ ہوتے ہیں پھر زردی مائل اور پھر ہوا کا ایک جھونکا انہیں درختوں سے کہیں دور اڑا لے جاتا ہے۔
ہمارے ہاں نجانے درختوں کے پتوں میں سرخی کیوں نہیں دوڑتی؟
سنٹرل پارک بھی اتنا ہی سر سبز ہے جتنا سارا امریکہ۔میں اسی سبزے سے آنکھوں کو تروتازگی بخشتا دھیرے دھیرے جھیل کی جانب پڑھ رہا تھا،اچانک درمیانی راستے پر چلتے چلتے ایک جانب استادہ ایک مجسمہ دیکھ کر میں ٹھٹھک سا گیا کہ یہ ویسا ہی تھا جیسا نیویارک پبلک لائبریری سے ملحقہ یاد گار میں دیکھا تھا۔ میری یاداشت نے دھوکا نہیں کھایا تھایہ امریکہ کے معروف رومانوی شاعر اور ایوننگ پوسٹ(اب نیویارک پوسٹ)  کے ایڈیٹر ولیم کیولن برئینٹ کا ہی مجسمہ تھاجس نے امریکہ کے پہلے لینڈ سکیپ آرکیٹیکٹ انڈریو جیکسن کے ساتھ مل کر آواز بلند کی تھی کہ نیویارک کی آبادی کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیشِ نظر ایک پبلک پارک کی ضرورت ہے،ایک ایسی خوبصورت جگہ جہاں کھلی فضا میں سانس لے سکیں۔بالکل لندن کے ہائیڈ پارک کی مانند۔ ولیم کیولن برئینٹ کے اس مطالبے کی گونج تا دیر سنائی دیتی رہی حتیٰ کہ 1853میں نیویارک کے قانون سازوں نے سٹریٹ59سے سٹریٹ106کے درمیانی علاقے پر پارک کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ان سڑکوں کا درمیانی علاقہ 3.41کلومیٹر یعنی843ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔اس زمانے میں یہ ایک ایسا علاقہ تھا جہاں دلدلیں اور جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی۔اس علاقے کو پارک میں تبدیل کرنے کے لئے پارک کا تھیم پیش کرنے کا مقابلہ کرایا گیا۔یہ مقابلہ جیتنے پر حکومت نے فریڈرک اور کلورٹ نامی فرموں کو اس پارک کا آرکیٹیکٹ مقرر کیا۔ جنہوں نے اس علاقے کو ایک عظیم سیر گاہ میں تبدیل کر دیا جہاں پہاڑیاں ہیں کہ دلدلی زمین کو پتھر ڈال کر پرگیا گیا،مصنوعی جھلیں ہیں،جنگل نما علاقہ بھی ہے کہ امریکہ میں جتنے بھی پارک ہیں،وہ چھانگا مانگا کی طرز کے فارسٹ پارک ہیں،جہاں ندیاں اور گھنے جھنڈ ہیں۔جہاں چڑیا گھر ہے،مصنوعی قلعے  بنائے گئے ہیں،خوبصور ت پل بنے ہوئے ہیں کہتے ہیں 36پل بنائے گئے ہیں اس علاقے میں ربط رکھنے کے لئے۔رب نے دنیا بنائی اور پھر اس پر سب کچھ رکھ دیا۔یہاں بھی وہ سب کچھ ہے جو قدرت تخلیق کرتی ہے۔

عنایہ کی پریم دھکیلتے ہوئے  عدیل اور رابعہ دور چلے گئے تھے،ہماری بیگم بھی ان کے ہم رکاب تھیں کہ میں تھا جو ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دھیرے دھیرے چل رہا تھا،اور بھی جوڑے تھے جو بچوں کو پریم میں ڈالے ادھر ادھر چل رہے تھے۔
اس درمیانی راست کے دونوں جانب خوانچہ فروشوں نے اپنے سٹال سجا رکھے تھے۔ایک صاحب پورٹریٹ بنا رہے تھے،یہ بول کچھ نہیں رہے تھے کیونکہ تصویر بنانے میں مصروف تھے،لیکن لکھ کر بورڈ لگایا ہوا تھا 
،، آپ کا پورٹریٹ صرف دس ڈالر میں،،
اس نے کچھ تصویریں،چند تصویرِ بتاں اپنے سٹال پر آویزاں کر رکھی تھیں یہ تصاویر اس کے فن،اس کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت تھیں کہ یہ بوڑھا تصویروں کو بھی زبان دے سکتا ہے۔ایسی تصاویر کہ لگتا تھا ابھی بول اٹھیں گیئں،یہ تو نصیب نصیب کی بات ہے کے وہ اسٹوڈیو بنا کر مہنگے داموں نہیں بک رہا تھا  حالانکہ اس کی تصاویر کسی شاہکار سے کم نا تھیں۔ایسا لگتا تھا کی اس کے نصیب نے یاوری نہیں کی اور وہ سنٹرل پارک کی ایک سڑک کنارے سوت کی اٹی کے عوض اپنا آرٹ بیچ رہا تھا۔
ارے یہ کون ہے؟ یہ بھی آرٹسٹ ہی ہے لوگوں کی جانب دیکھ رہا ہے،کوئی اس کی جانب دیکھ لے تو کہنے لگتاہے۔،،اپنا کیری کیچر بنوائیے اور جان جائیے کہ آپ کتنے مخولیئے لگتے ہیں،ویسے کہا اس نے کارٹون تھا،اس سے کارٹون بنوانے سے بہتر تھا کہ ہم بھاگ لیتے،سو ہم نے اس سے آنکھیں چار کرنا مناسب نا سمجھا اور وہاں سے آگے چل دئیے۔
میری کوشش تھی کہ سڑک کے انتہائی کنارے پر چلوں اور اس میں کامیاب بھی تھا۔چلتے چلتے اچانک میرے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا،میرے پیر میں درد کی ایک ٹیس سی اٹھی اور میں گرتے گرتے بچ گیا کہ میرے دونوں ہاتھ ایک درخت سے ٹکرا چکے تھے۔اس ساری صورتحال میں جب میرے ہوش کچھ ٹھکانے آئے تو میں نے مڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے پیروں سے ایک عدد سکوٹی اپنے مالک سمیت ٹکرائی تھی۔اس سے پہلے کہ میں اپنے پاکستانی سٹائل میں اپنے غصے کا اظہار کرتا،وہ نوخیز سی لڑکی  سوری سوری کرتی ہوئی اپنی گرنے والی سکوٹی کوسنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک بار پھر مجھ سے ٹکرا گئی۔پاس سے گذرتے ہوئے ایک لڑکے نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے سیدھا کیا۔اس حسین ٹکراؤ کے پے در پے ٹکراؤمیں اپنی  زبان کی گالیاں بھول گیا اور انگریزی کی گالیاں مجھے آتی نہیں تھیں۔
میں لنگڑاتا ہوا تھوڑی دور چلا تو پیر کے کھنچاؤ میں کچھ کمی آگئی لیکن چلنے میں ابھی بھی تکلیف باقی تھی۔جھیل تک پہنچنے کے لئے سیڑھیاں اترنا پڑتی ہیں،اس لئے بچہ لوگ اوپر ہی میرا انتظار کر رہے تھے۔مجھے دور سے تھوڑا لنگڑا کر آتا دیکھ کر عدیل نے پوچھا کیا ہوا،میں نے کہا کچھ نہیں ایک سکوٹی مجھ سے ٹکرا گئی تھی۔
جھیل تک پہنچنے کے لئے دس،پندرہ سیڑھیاں اترنا پڑتی ہیں جہاں ایک خوبصورت فوارہ ہے اور اس کے بعد جھیل کا خوبصورت نظارہ ہے۔ہم سیڑھیاں اتر کر جھیل کنارے جا بیٹھے۔
جھیل کی گہرائیوں میں جھانکنے،اس کے پانیوں میں پیر مارتے،ان سے بنتے بھنوروں کو دور تک پھیلتے اورپھر پھر سامنے سے آتی کشتیوں سے ٹکرا کر ٹوٹتے دیکھتے خاصی دیر ہو گئی تو عدیل نے واپسی کا بگل بجا دیا۔
جھیل کنارے سے نکل کر سنٹرل پارک کے باہر سٹریٹ59کے قرب جوار میں پارک کی ہوئی گاڑی تک جانے کے لئے بالکل وہی رستہ اپنانا تھا جس سے آئے تھے۔
اچانک وہی نوخیز سی لڑکی ایک بار پھر ہمارے بہت قریب سے سکوٹی پر گذری،میری طرف دیکھ کر مسکرائیاور سوری کہتی ہوئی گذر گئی۔بچہ لوگ نے میری طرف دیکھا پھر دور جاتی لڑکی کو اور کہا،،پاگل،،

سوموار، 14 دسمبر، 2015

والٹ وہٹ مین کو امریکہ کا بابائے نثری نظم کہا جاتا ہے۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔قسط۔ 18

علم کا معبد

نیویارک پبلک لائبریری


ہم ایک بار پھر نیویارک میں تھے۔ہر روز بلا سوچے سمجھے برکلین سے نکل آتے تھے پھر کار کو کسی مناسب جگہ پارک کر کے جو بھی قابل دید مقام سامنے آتا اسے ایک نظر ضرور دیکھ لیتے اور اگر ٹائم ہوتا تو کسی اور مقام کی طرف چل دیتے تھے۔اس روز بھی یہی ہوا،کار پارک کرکے ہم پیدل ہی چل پڑے،چلتے چلتے کرسٹل پارک کے عقب میں جا نکلے۔وہیں ایک وسیع اور شاندار عمارت نظر آئی،جدید طرز کی اتنی بڑی عمارت دیکھ کر حیرت  بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ہم نے سوچا دیکھیں تو سہی کہ یہ عمارت کیا ہے۔اس جگہ بھی دوسری جگہوں کی طرح لوگوں کا ہجوم تھا،معلوم ہوا کہ یہی نیویارک کی پبلک لائبریری ہے۔اتنی بڑی لائبریری تو ہم نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھی تھی۔لائبریری کو دیکھنا تو تھالیکن ہمارا آج یہاں آنے کا پروگرام نہیں تھا۔عدیل کہنے لگا آپ نے یہاں آنا تو تھا ہی  اور اب جب کہ ہم آ ہی گئے ہیں تو 

آپ 
اندر چکر لگا لیں،عنایہ اندر، نا آپ کو کچھ دیکھنے دے گی اور نا ہمیں۔اس لئے آپ ہو آئیں ہم باہر ہی گھومتے ہیں آپ واپس آئیں گے تو کہیں اور چلیں گے۔
یہ لائبریری جدید آرٹ اور فنَ تعمیر کا عجوبہ ہے۔اونچے اونچے سفید ستون جنہیں ایک اونچے چبوترے پر کھڑا کر کے اور اونچا بنایا گیا ہے۔؛ائبریری تک جانے کے لئے بہت ہی کشادہ اور چوڑی سفید پتھر کی سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔اس عمارت کے سامنے دو بڑے بڑے شیر بنائے گئے ہیں۔مقصد تو ان شیروں کا معلوم نہ ہو سکا لیکن یہ شیر عمارت کے سامنے لگ خوبصورت رہے تھے لیکن یہ شیرپاکستان مسلم لیگ کے بالکل نہیں تھے،البتہ ہمارے دوست حکیم سلیم اختر ملک کے بھاٹی گیٹ میں حکیم صاحب کی شیراں والی بلڈنگ کے ضرور لگ رہے تھے کہ کچھ ادبی ادبی سے تھے۔
لائبریری کے باہر سیاحوں، طالب علموں اور دانشوروں کا بہت ہجوم تھا،کچھ لوگ اندر جا رہے تھے،کچھ باہر آ رہے تھے۔لڑکے،لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد کشادہ سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔کوئی دوستی کے تقاضے نباہ رہے تھے۔چند ایک سر سے سر جوڑے محبتوں  کے ابواب کھولے رازو نیاز کر رہے تھے۔پیار محبت کا کھلے عام اظہار معاشرتی تقاضوں کا حصہ ہے اس لئے کئی لڑکے لڑکیاں، جوان مرد،عورتیں ان خوبصورت،صاف شفاف سیڑھیوں پر بیٹھے ایسی حرکات میں مصروف تھے جن کے ہم لوگ عادی نہیں ہیں۔لیکن وہاں کوئی ان لوگوں کو دیکھ کر رکتا نہیں ہے اور نا ہی تجسس بھری نگاہ ڈالتا ہے۔وہاں ایک تو لوگ تیزی میں ہوتے ہیں دوسرا اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ہر طرح کی شخصی آزادی کے اس ملک میں کسی کو کسی پر اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

لائبریری کے بیرونی حصے میں ایک جگہ لکھا ہوا تھا کہ آپ علم پھیلانا چاہیں تو دو ڈالر یہاں ڈال دیں۔اسی جگہ ڈالر ڈالنے کی جگہ بھی بنی ہوئی تھی۔میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ قوم نفسیات کو کتنا سمجھتی ہے،کون ایسا شخص ہو گا جو علم کے فروغ اور کتاب بینی کی عادت ڈالنے کے لئے دو ڈالر ڈال کر اپنا حصہ نہ ڈالنا چاہے گا۔ہزاروں کی تعداد میں روزانہ لوگ یہاں آتے ہیں یقیناََ دو ڈالر ہر کوئی ڈالتا ہو گا۔یہ فنڈ لائبریری کے ہی کام آتا ہو گا،یہی سوچ کر میں نے بھی دو ڈالر نکاکے اور ڈالر ڈالنے کی جگہ میں ڈال دیئے۔
نیویارک پبلک لائبریری دنیا کی بڑی لائبریریوں میں سے ایک ہے،رینکنگ کے اعتبار سے ٖغالباََ دسویں نمبر پر ہے۔لائبریری کی عمارت بہت بڑی اور کئی حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔اس میں کروڑوں کے حساب سے کتابیں ہیں۔لائبریری کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ صرف نیویارک اور امریکی تاریخ کے بارے میں تقریباََ ساڑھے تین لاکھ(350,000) کتابیں اور پمفلٹ جبکہ دس ہزار نقشے اور اٹلس موجود ہیں۔یہاں آ کر مطالعہ کرنے والوں کے لئے بڑے بڑے ہال ہیں۔
عدیل وغیرہ عنایہ کا بہانہ کر کے باہر ہی رک گئے تھے اس لئے کہ شاید انہیں کتاب بینی کی عادت نہیں رہی یا انٹرنیٹ پر وہ دنیا جہاں کی ہر چیز کے بارے میں معلومات وہ منٹوں میں تلاش کر لیتے ہیں۔ہماری یہ حالت ہے کہ ہمیں چھپی ہوئی کتاب پڑھنے ہی میں مزا آتا ہے۔پی ڈی ایف میں آئی ہوئی کتاب ہم سے پڑھی نہیں جاتی۔
لائبریری میں ایک بہت بڑا شعبہ ریفرنس کا بھی تھا جہاں علوم تحقیقات، جغرافیہ، معاشیات،سیاسیات اور سائنس،غرضیکہ کوئی ایسا موضوع نہ تھا جس کے بارے میں ایک سے بڑھ کر ایک کتاب موجود نا ہو۔یہ لائبریری نہیں علم کا بیش قیمت خزانہ ہے جس سے ہر کوئی استفادہ کر سکتا ہے۔یہ لائبریری پبلک ہے اور پبلک اس سے مفت فائدہ اٹھاتی ہے۔مجھے ادب کے شعبے کی تلاش تھی خاص طور پر اردو کی کتب کی تاکہ ادب میں مختلف اصناف کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کر سکوں۔پھر مجھے ادب کا شعبہ مل گیا لیکن یہاں صرف انگریزی کی کتابیں ہی تھیں انگریزی کبھی میری مرغوب زبان نہیں رہی،شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ میرے والداردو،فارسی اور عربی کے ماہر تھے،اس لئے ان زبانوں میں کبھی مار نہیں کھائی،اسی لئے انگریزی لٹریچر کے اس شعبے میں ہم نے بڑی بے دلی سے ریک دیکھنا شروع کئے،نثری نظم  ہند و پاک میں قدم جماتی صنفِ شاعری ہے،غزل سے بیزار،پابند نظم سے الجھتے ادیب اسی صنف میں پناہ ڈھونڈتے نظر آتے ہیں،اسی سلسلے کی کی ایک کتاب نظر آئی۔نام تھا،، لیوز آف گراس،، اس کتاب کے شاعر تھے والٹ وہٹ مین۔ والٹ  وہٹ مین کو امریکہ کا بابائے نثری نظم کہا جاتا ہے۔نیویارک ہی اس کی جائے پیدائش ہے جس علاقے میں اس کی پیدائش ہوئی وہ پورے کا پورا علاقہ اس کے نام سے منسوب ہے،تعلیمی ادارے،لائبریریاں،سڑکیں،یہاں تک کہ اس علاقے میں بننے والا پلازہ کا نام بھی اس کے نام پر رکھا گیا ہے۔

والٹ  وہٹ مین ایک تشکیکی تھا اور خدا پر یقین بہیں رکھتا تھا۔وہ سمجھتا تھا کہ خدا کی کوئی ذات نہیں ہے اس کائنات میں جو علیحدا وجود رکھتی ہو۔ واٹ مین کو انسان دوست کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔وہ اس بات کا بھی قائل تھا کہ ادیب کو اپنے معاشرے  کے ساتھ جڑ کر رہنا چاہیئے۔والٹ  وہٹ مین نے چونکہ امریکہ سے غلامی کے خاتمے کی بھی حمایت کی تھی اس لئے اس حوالے سیاسے شاعرِ جمہوریت بھی کہا جاتا ہے۔والٹ وہٹ مین کی کتاب کے بارے میں پڑھتے ہوئے اس بات کا انکشاف بھی ہوا کہ یہ کتاب جب پہلی بار چھپی تو یہ شاعر کی اپنی کاوش تھی،یہ بات پڑھتے ہوئے ہمیں اپنے ایک افسانہ نگار دوست یاد آ گئے جنہوں نے ہمارے بولتا کالم میں ایک کتاب بارے کالم پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ بس واجبی سا افسانہ نگار تھا آپ نے ایسے ہی اسے چڑھا دیا ہے،یہاں تک تو ان کی بات درست کہی جا سکتی ہے کہ ہر شخص کا اپنا نکتہ نظر ہوتا ہے لیکن مجھے اعتراض جب ہوا کہ انہوں نے کہا ایسے لوگ اپنے پاس سے پیسے خرچ کرکے کتابیں کیوں چھپواتے ہیں اور ایسے ادب کا کیا فائدہ ہے اور کیا ایسے ادب کی ضرورت ہے؟اپنے اس دوست کی بات یاد کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ والٹ وہٹ میں نے پہلی بار اپنی شاعری خود نہ چھپوائی ہوتی تو کیا آج اس کا کوئی نام لیوا ہوتا؟ اور کیا وہ آج امریکہ کا بابائے نثری نظم کہلاتا؟
جس وقت ہم لائبریری کی طرف آ رہے تھے تو لائبریری سے متصل ایک اور عمارت نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا تھا،چند منٹ کے لئے ہم اس میں بھی چلے گئے تھے،یہ امریکہ کے بابائے نثری نظم والٹ وہٹ مین کی یادگار تھی۔امریکیوں کی یہ خاص عادت ہے کہ یہ اپنے اسلاف،اپنے ماضی کو یاد رکھتے ہیں۔
خیر
میں جب لائبریری کے وسیع ہال میں داخل ہوا تو کتا بوں پر جھکے افراد علم کے دیوتا کے حضور سربسجود نظر آئے،میں بھی اس کائنات نما لائبریری کے اس وسیع وعریض ہال کے ایک کونے میں لیوز آف گراس کھول کر بیٹھ گیا۔فال نکالنے کے سے انداز میں میں نے کتاب کو کھولا تو جو نظم سامنے آئی وہ تھی،،ایک بچے نے کہا۔۔گھاس کیا ہے،،
میں نے پہلی نظم تو پوری پڑھ لی،پھر مجھے یاد آیا کہ یہ کتاب تو شاید کتابوں کے انبار میں کہیں پڑی ہے شاید،اس زمانے کی یادگار کے طور پر جب زمانہِ طالب علمی میں ہم بھی شاعری کیا کرتے تھے،اللہ بخشے ہمارے انگریزی کے استاد دلدار پرویز بھٹی صاحب کو کہ جن کا کہنا تھا کہ نظم کہنی ہے تو والٹ  وہٹ مین کی شاعری ضرور پڑھنا،شاعری کا نیا نیا شوق تھا،عروض والد صاحب نے گھٹی میں پلا دیا تھا،شاعری میں انگریزی ادب کی  چاشنی ڈالنے کے لئے اور نظم کا صحیح اسلوب سیکھنے کے لئے،، لیوز آف گراس،، خریدی تھی،جیسا کہ میں نے عرض کیا انگریزی زبان میں کوئی اتنا شغف نہیں رہا سو اس وقت اسے پڑھا لیکن شاعری میں کوئی نکھار نا آ سکا سو اس بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑ دیا،آج کوئی چالیس سال بعد پھر وہی کتاب میرے سامنے تھی،اور جو نظم سب سے پہلے میرے سامنے آئی وہ آپ بھی پڑھیئے۔
A Child Said, What Is The Grass?
A child said, What is the grass? fetching it to me with full 
hands;
How could I answer the child?. . . .I do not know what it
is any more than he.
I guess it must be the flag of my disposition, out of hopeful
green stuff woven.
Or I guess it is the handkerchief of the Lord,
A scented gift and remembrancer designedly dropped,
Bearing the owner's name someway in the corners, that we
may see and remark, and say Whose?
Or I guess the grass is itself a child. . . .the produced babe
of the vegetation.
Or I guess it is a uniform hieroglyphic,
And it means, Sprouting alike in broad zones and narrow
zones,
Growing among black folks as among white,
Kanuck, Tuckahoe, Congressman, Cuff, I give them the 
same, I receive them the same.
And now it seems to me the beautiful uncut hair of graves.
Tenderly will I use you curling grass,
It may be you transpire from the breasts of young men,
It may be if I had known them I would have loved them;
It may be you are from old people and from women, and
from offspring taken soon out of their mother's laps,
And here you are the mother's laps.
This grass is very dark to be from the white heads of old
mothers,
Darker than the colorless beards of old men,
Dark to come from under the faint red roofs of mouths.
O I perceive after all so many uttering tongues!
And I perceive they do not come from the roofs of mouths
for nothing.
I wish I could translate the hints about the dead young men
and women,
And the hints about old men and mothers, and the offspring
taken soon out of their laps.
What do you think has become of the young and old men?
What do you think has become of the women and
children?
They are alive and well somewhere;
The smallest sprouts show there is really no death,
And if ever there was it led forward life, and does not wait
at the end to arrest it,
And ceased the moment life appeared.
All goes onward and outward. . . .and nothing collapses,
And to die is different from what any one supposed, and 
luckier.
مجھے اس نظم کوترجمہ کر کے پیش کرنا چاہیئے تھا لیکن میرے ترجمہ کرنے سے شاعرانہ ھسن غارت ہو جاتاجو میں بالکل نہیں چاہتا،ہاں بچے کے حوالے سے مجھے ایزد عزیز کی ایک نظم ،، ڈری ہوئی بازگشت،، یاد آ گئی۔
پیارے بچو
بچپن کوئی دیوار سے لگ کر لوٹنے والی گیند نہیں ہے
مجھ کو تو ان پکی،گلی ہوئی عمروں سے خوف آتا ہے
میں نے تو ان سارے بڑوں کو نا منظور پارسل کی طرح ٹھکرایا ہے
میرا چہرا مت دیکھو
میری روح توتم جیسی ہے
اجلے پھولو
میں نے ان کانٹوں سینکل کر خود کو تم میں گم پایا۔۔اور
تم سب کی پیاری باتوں سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آئے
لیکن جب ہم بہت سا کھیل کے لمبی گھاس پر گر جاتے ہیں 
تم میں سے کوئی بچہ
دور افق پر نظریں پھنکے
اک پکی،سنجیدہ بات سنا جائے تو
مجھ کو تم سے ڈر لگتا ہے۔۔پیارے بچو
علم کے اس معبد سے نکل کر جب میں برآمدے میں آیا تو ایک دیوار گیر تصویری نقش نظر آیا جس میں حضرت موسیٰ علیہالسلام کو کوہِ طور سے اترتے ہوئے دکھایا گیا ہے،وہ دس حکام کی لوح ہاتھوں میں تھامے ہوئے نیچے آ رہے ہیں،یہ مصوری اگر پاکستان کے کسی ادارے کی دیوار پر ہوتی تو اب تک فساد کھڑا ہو چکا  ہوتا بلکہ اب تک لائبریری ہی جلا دی گئی ہوتی۔لیکن اس تصویری نقاشی کو دیکھتے ہوئے مجھے میرے آقا کا تصور سامنے آ گیا کہ جنگِ بدر میں پڑھے لکھے قیدیوں سے فرما رہے ہیں کہ دس افراد کو وہ کچھ پڑھا دو جو کچھ تم جانتے ہو تو تم آزاد ہو۔میں نے اسی تصور میں آقائے نامدار صل اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی کہ میرے ملک کے عوام کو علم و تحقیق کی روشنی میں وہ سیدھا راستہ دکھا جو  یہ قوم بھلا بیٹھی ہے۔

میرے لفظوں میں جھوٹ شامل ہے ۔۔ آفتاب اکبر

آفتاب اکبر
جانے کیوں لوگ سچ سمجھتے ہیں
میں تو یوں ہی خیال لکھتا ہوں 
میرے لفظوں میں جھوٹ شامل ہے 
لوگ کہتے کمال لکھتا ہوں
زندگی کیا ہے خود بتاتا ہوں 
خود ہی اس کو سوال لکھتا ہوں 
ویسے اس پہ میں جان دیتا ہوں 
لیکن اس کو وبال لکھتا ہوں
جسے کہتا ہوں خود محبت میں
خود ہی اس کو زوال لکھتا ہوں
کبھی اسکو میں وآر کہتا ہوں 
کبھی اسکو میں ڈھال لکھتا ہوں
کبھی کہتا کہ مثل صحرا ہوں 
کبھی خود کو نہال لکھتا ہوں
کیوں سمجھتے ہو تم اسے اپنا 
جب بھی اپنا میں حال لکھتا ہوں ·

جمعہ، 11 دسمبر، 2015

نیویارک سب وے دنیا کا سب سے بڑا ریلوے کا نظام ہے جس پر روزانہ چالیس سے پچاس لاکھ افراد سفر کرتے ہیں ۔۔دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط ۔17

نیویارک یا نیونیدرلینڈ



عدیل نے گاڑی آئی95 پر ڈال دی،ساتھ ہی کہنے لگا یہ انٹراسٹیٹ ۔ہائی وے ہے۔  میری لینڈ سے نیویارک تک اس پر آئیں گی ان میں
پہلے واشنگٹن ڈی سی،ڈیلاویئر،پینسیلونیا،نیو جرسی اور پھر نیویارک۔ویسے تو اور بہت سی ریاستوں کے بائی باس رستے میں آئیں گے لیکن یہ وہ ریاستیں ہیں جن میں سے ہوتے ہوئے ہم نیویارک پہنچیں گے بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ببلی بھائی(شعیب پیرزادہ) کے پاس بروکلین،نیویارک پہنچیں گے۔
شعیب پیرزادہ، ہماری بیگم کا ماموں زاد بھائی ہے،ہم ابھی پاکستان سے چلے بھی نہیں تھے کہ اس کا فون آ گیا کہ اس بار  میرے پاس رہنے کے لئے زیادہ سا وقت نکال کر آنا،ہم نے وعدہ کر لیا تھا اور اسی وعدے کو ایفا کرنے اور گھومنے کی نیت سے نیویارک جا رہے تھے۔
نیویارک بہت بڑا شہر ہے، یہ دنیا کا سب سے بڑا شہر،اتنا طویل و عریض ہے یہ شہر کہ اسے کسی ملک کے برابر کہا جا سکتا ہے،صرف نیویارک سٹی ہی تقریباََ تین سو مربع میل پر محیط ہے،اضافی بستیاں اس کے علاؤہ ہیں،یہ شہر پانچ علاقوں،مین ہاٹن،بروکلین،دی برونکس۔کوئنز اور سٹیٹن آئی لینڈ پر مشتعمل ہے
سن1670میں لندن میں چھپنے والی ڈینل ڈین ٹن نے اپنی کتاب،، اے بریف ڈسکرپشن آف نیویارک میں اسے،، نیو نیدرلینڈ،، کے نام سے پکارا ہے۔وہ  لکھتا ہے۔
،،نیدر لینڈ کہلانے والا یہ خطہ، امریکہ کے شمالی حصوں،بسٹوکسٹ،نیو انگلینڈ اور ورجینیا میں میری لینڈ تک پھیلا ہوا تھا،یہ علاقہ اس وقت تک ابھی دریافت نہیں ہوا تھا لیکن اس کی وسعت کا اندازہ تین سو میل لگایا گیا تھا،اس خطے میں میں بہنے والے بنیادی  دریا،دریائے ہڈسن۔دریائے راریٹناور دریائے ڈیلے ور بے تھے۔اور اس علاقے کے مرکزی جزیروں میں مین ہاٹن کے ساتھ دو اور جزیرے شمال کی جانب لونگ آئرلینڈ اور مغرب کی جانب سٹیٹن آئر لینڈ متصل ہیں۔آج تقریباََ ساڑھے تین سو سال پہلے مورخ ڈینل ڈین ٹن  نے نیویارک کو نیدر لینڈ کے نام سے تین جزائر پر مشتمل بتایا تھاآج کا امریکہ پانچ  علاقوں پر مشتمل ہے،اس وقت جو گوشے بے نقاب نہیں ہوئے تھے وہ بھی سامنے آچکے ہیں،کسی زمانے میں یہ الگ الگ شہر تھے لیکن پلوں،سڑکوں اور ٹنلوں کے ذریعے ایک ہی شہر بنا دیا گیا ہے۔
نیویارک اپنی طرز کا انوکھا اور منفرد شہر ہے۔یہاں دنیا کے مختلف ممالک کے لوگ بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔اس کی آبادی اگر اضافی بستیوں کو بھی ملا لیا جائے تو دو کروڑ سے بھی زیادہ ہو گی۔یہ شہر عمودی بھی ہے،عروضی بھی۔۔
نیویارک سٹی کے بارہ ایونیو ہیں جنہیں متوازی سڑکیں کاٹتی چلی جاتی ہیں۔ایونیو بھی متوازی ہیں اور سڑکیں بے شمار۔۔۔یہاں پتہ تلاش کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ فلاں ایونیو کی سٹریٹ نمبرفلاں پر چلے جائیں۔ایونیوز اور سٹریٹس کے متوازی ہونے سے بہت بڑے بڑے چوراہے بن جاتے ہیں۔
سڑکوں پر ٹریفک بے تحاشہ ہوتی ہے،پیدل چلنے والوں کے لئے ٹریک  بنے ہوئے ہیں جہاں پیدل چلنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے،
نیویارک خوبیوں اور خامیوں کا مظہر شہر ہے۔یہ اپنی طرز کا انوکھا علاقہ ہے۔یہاں دولت بھی بے شمار ہے اور غربت بھی۔اکثر فٹ پاتھوں پر مرد،عورتیں بیٹھے نظر آئیں گے جنہوں نے پلے کارڈ پکڑے ہوتے ہیں یہ بھی مانگنے کا ایک ڈھنگ ہے۔
نیویارک کی سڑکیں میل ہا میل لمبی ہیں،اس کا ساحل سمندر تقریباََ اٹھارہ میل پر محیط ہے۔اس گنجان آباد شہر میں پارکوں کی بھی کمی نہیں۔کوئی گیارہ سو کے لگ بھگ پارک ہیں نیویارک میں۔سیکڑوں کھیلوں کے میدان ہیں،چار سو کے قریب تھیٹر،بے شمار میوزیم،آرٹ گیلریاں،ہزاروں سکول کالجز اور یونیورسٹیاں ہیں۔
شہر میں نئے پرانے تین چار ہزار گرجا گھر بھی ہیں۔نیویارک جتنا بڑا شہر ہے اس میں اتنی ہی بڑی بڑی چیزیں ہیں،سو سے زیادہ سکائی سکریپرز ہیں جو آسمان سے باتیں کرتے محسوس ہوتے ہیں۔انڈر گراؤنڈ سب وے کا جال بچھا ہے۔سب وے ریلوے شروع تو لندن سے ہوئی تھی۔لندن میں اس کا آغاز سن1863میں ہوا تھااور ٹرینیں سٹیم سے چلتی تھیں۔سن 1896 میں یہ ٹرینیں بجلی سے چلنا شروع ہوئیں۔نیویارک میں پہلی سب وے 1904میں چلائی گئیں۔اس وقت اس کا ٹریک صرف نو میل لمبا تھا،اس وقت نیویارک کا سب وے دنیا میں سب سے بڑا ہے۔ انڈر گراونڈ ریلوے ٹریک اب میلوں پر پھیلا ہوا ہے،یہ دنیا کا سب سے بڑا ریلوے کا نظام ہے جس پر روزانہ چالیس سے پچاس لاکھ افراد سفر کرتے ہیں۔ٹیکسیوں،بسوں اور کاروں سے آنے والے افراد کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیویارک کتنا بڑا اور کتنا مصروف شہر ہے۔
مین ہاٹن کا درمیانی علاقہ قابلِ دید مقامات کا مرکز ہے۔یہاں بڑے بڑے ہوٹل ہیں،اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر ہیں،گراؤنڈسنٹرل ریلوے اسٹیشن،نیویارک پبلک لائبریری،راک فیلرسنٹر،چینل گارڈن،واشنگٹن اسکوائر،ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ جیسی چیزیں دیکھنے ست تعلق رکھتی ہیں۔کسی زمانے میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر بھی دیکھنے کی جگہ تھی لیکن نائن الیون کے واقع کے بعد ٹریڈ سنٹر دوباہ بنانے کی بجائے اس جگہ کو میموریل پارک بنا دیا گیا ہے اور اس جگہ کو گراؤنڈ زیرو کا نام دیا گیا ہے۔
ٹائم سکوائر اور براڈ وے کے نام پوری دنیا میں مشہور ہیں۔یہ علاقے 42 سے47سٹریٹ کے درمیان ہیں۔ٹائم اسکوائر تھیٹر،سینمااور شو بز کے لئے مشہور ہے۔یہاں کی رات اتنی روشن ہوتی ہے کہ دن کی روشنی اس کے آگے شرماتی ہے۔
بڑے بڑے بینک،انشورنس کمپنیاں،پرشکوہ عمارتیں اور سکائی سکریپرز براڈوے کی وال سٹریٹ میں ہیں۔بڑے بڑے اخبارات کے دفاتر بھی یہیں ہیں۔یہ امریکہ کی مالیاتی شہ رگ ہے یہاں صنعت و تجارت اور کاروبار کے عالمی مراکز ہیں۔

اتوار، 6 دسمبر، 2015

امریکہ میں ایک سوال ۔۔کیا آپ کا ملک بہت بیک ورڈ ہے ۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔۔قسط ۔16

عدیل کے بنائے ہوئے پروگرام کے تحت سفر کرکر کے کمر تختہ ہو گئی تھی جس پر ہم نے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے کہ اب نیویارک جانے تک کوئی سفر نہیں چند روز آرام اور صرف آرام لیکن ایسا ہو نا سکا۔عدیل کے ایک امریکی دوست کو جب پتہ چلا کہ عدیل کے والدین پاکستان سے آئے ہوئے ہیں تو اس نے ہمیں ہی نہیں شازیہ اور احرار کے علاؤہ اپنی چند دوست فیملییوں کو بھی کھانے پر مدعو کر لیا۔
عدیل نے بتایا کہ اس کا یہ دوست  ورجینیا میں رہتا ہے،وہیں جانا ہے،تین کمروں کے کانڈو میں اس کی رہائش ہے،میں نے بہت انا کانی کی کہ یار ایک تو میری کمر دکھنے لگی ہے سفر کر کر کے،اوپر سے تمہارا یہ غیر مسلم گورا،بھوکا ہی آنا پڑے گا،بھئی میں وہاں کھانا نہیں کھا سکوں گا،پھر وہاں جانے کا کیا فائدہ وغیرہ وغیرہ۔لیکن وہ کہاں ماننے والا تھا ابھی میں کچھ اور کچھ کہنے والا تھا کہ رابعہ اور ہماری بیگم بھی تیار ہو کر آگئیں۔
،،کیا مسئلہ ہے،ابو اور عدیل اور ابو آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئے،،
رابعہ نے آتے ہی پوچھا۔
،،بیٹا  میں کہہ  رہا تھا کہ،،ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ رابعہ نے کہا 
،،ابو آپ تیار تو ہو جائیں پھر دیکھتے ہیں،احرار بھائی اور شازیہ باجی بھی تیار ہو کر نکلنے والے ہیں،ابھی فون آیا تھا ان کا،،
ان سب کو تیار دیکھ کر مجھے بھی تیار ہونا پڑا،ہم مسلمان بھی عجیب ہیں نجانے کیا کیا غیر اسلامی باتیں کرتے ہیں لیکن غیر مسلموں کے ہاں کھانا اس لئے نہیں کھا سکتے کہ وہ حلال حرام کی تمیز نہیں کرتے۔
ہم پونے گھنٹے بعدمائیکل کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے،مائیکل نے تین چار ہی فیملیوں کو مدعو کیا تھا،
مائیکل کے سیٹنگ روم میں خاصی گنجائش تھی کہ سارے گھر والے اور مہمان آسانی سے وہاں سما گئے۔کھانے میں ابھی کچھ دیر تھی کیونکہ کیٹرر ابھی کھانا لے کر نہیں آئے تھے،مائیکل نے بتایا کہ ہوٹل پر مدعو اس لئے نہیں کیا کہ گھر پر ایک مسلمان کیٹرر سے انتظام کرایا ہے ہماری وجہ سے۔یقین کریں دل ہی دل میں ہمیں بہت شرمندگی محسوس ہوئی کہ ہم کیسا گمان کئے ہوئے تھے اور یہاں معاملہ ہے دوسرا تھا۔
سیٹنگ روم میں کھانا لگنے تک گفتگو ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔اس گفتگو میں میں تقریباََ خاموش ہی رہا،عدیل،احرار،مائیکل زیادہ باتیں کر رہے تھے،خواتین علیحدہٰ بات چیت میں مصروف تھیں،کچھ دیر بعد سب ایک دوسرے سے بات چیت شروع ہو گئی،
مائیکل کے فادر نے مجھ سے بات چیت شروع کر دی،انہوں نے عدیل کی تعریف شروع کر دی کہ مائیکل بتا رہا تھا کہ عدیل والدین کا بہت کیئرنگ ہے،یہاں بہت کم ایسا ہوتا ہے۔
،،یہاں بچے والدین کی کیئر نہیں کرتے کیا،، میں نے پوچھا
،،آپ نے صحیح سنا ہے یہاں کے بارے میں۔۔ بچے ماں باپ سے اور والدین بچوں سے بیگانہ ہو جاتے ہیں۔ہر کوئی اپنی زندگی جیتا ہے،آزادی پسند کرتا ہے،یہ رشتوں کا بندھن یہاں ہم امریکیوں کو کم ہی بھاتا ہے۔لیکن مسٹر صادیقی سب لوگ ایک طرح کے نہیں ہیں،مگر الثریت ایسے لوگوں کی ہی ہے جیسا آپ نے سنا لیکن اب بھی یہاں کچھ فیصد لوگوں میں فیملی سسٹم  موجود ہے،،مائیکل کے فادر نے کہا
،،آپ بھی ان چند فیصد میں شامل ہیں،، میں نے ہنستے ہوئے پوچھا
،،آف کورس،،
،،شادی کے معاملے میں تو یہاں ہر کوئی آزاد ہے،، برسوں سے امریکہ میں مقیم احرار نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا
،، تو کیاآپ لوگ آزاد نہیں،، مائیکل کے فادر نے حیرانی سے پوچھا
،،ہمارے ہاں عام طور پر ارینجڈ میرج ہوتی  ہیں،، میں نے کہا
،،کیا مطلب،، مسز جینٹ جلدی سے بولیں 
،،مطلب یہ کہ پاکستان میں ماں باپ بچوں کے لئے رشتہ پسند کرتے ہیں اور بچے اگر اپنی پسند بتائیں  تب بھی رشتہ ماں باپ ہی طے کرتے ہیں،، میں نے کہا
میری بات سن کر سب حیرانی سے مجھے دیکھنے لگے کچھ دیر بعد مسز جینٹ بولیں 
،،کیا اس زمانے میں یہ بات ممکن ہے،،
،،بالکل ہماری شادیوں کی اکثریت ارینجڈ ہوتی ہے یہاں تک کہ لڑکی نے لڑکے کو اور لڑکے نے لڑکی کو دیکھا بھی نہیں ہوتا،وہ شادی کی رات کو ہی ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔
،،ڈونٹ سے دس،، مسز جینٹ نے سر پکڑ لیا،انہیں اس حالت میں دیکھ کر ہم سب ہنس دئیے۔
،،یہ کیسے ممکن ہے،، مسز جینٹ نے سر اٹھا کر ہماری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
،،ہو سکنے کا سوال نہیں،ایسا ہی ہوتا ہے،، میں نے کہا
،،پھر تو طلاقوں کا ریٹ آپ کے ہاں بہت زیادہ ہوگا،یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہاں ایسی شادیاں زیادہ دیر چل سکیں،،مائیکل کے والد جو کافی دیر سے چپ بیٹھے تھے اچانک بولے
ہم سب مسکرائے،پھر احرار نے کہا،،ہمارے ہاں بھی طلاقیں ہوتی ہیں لیکن بہت ہی کم نہ ہونے کے برابر،اس کی وجہ بھی ارینجڈ میرج نہیں ہوتی بلکہ اور کئی وجوہات ہوتی ہیں،،
،، وہ کیا،، مائیکل کے والد بولے
،،معاشی بدحالی،شوہر یا بیوی کا آوارہ ہونا،لڑکی کا بانجھ پن  وغیرہ،، ہماری بیگم نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے جواب دیا۔
،،سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،، مسز جینٹ نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا
انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔
کافی دیر یہ گفتگو چلی ہم سب نے اپنی اپنی مثالیں دیں اور کہا بھی کہ میاں بیوی کی باہمی رفاقت میں طویل عمری ہی خوشی کی تھیں لیکن وہ سب یقین کرنے کو تیار ہی نہ تھے۔
پھر مسز جینٹ کہنے لگیں،، کیا آپ کا ملک بہت بیک ورڈ ہے،،
،، ہر گز نہیں،، احرار نے جواب دیا،ہمیں حدود کے اندر ہر قسم کی آزادی حاصل ہے لیکن بے راہ روی کے ہم قائل نہیں،ہمارا فیملی سسٹم بہت مضبوط اور مربوط ہے۔ہمارے بچے اگر ماں باپ کے پاس ہیں تو ان کا ادب و احترام کرتے ہیں کمائی کرنے یا نوکری کرنے کہیں چلے جائیں پھر بھی یہ احترام باقی رہتا ہے اور بچے ماں باپ کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔بوڑھے ماں باپ کی خدمت تو عبادت ہے ہمارے نزدیک،،
ان سب نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔پھر ان کی بیٹی بولی
،،آپ کے ہاں بوڑھوں کے لئے اولڈ ہومز نہیں بنے ہوئے،تو پھر وہ اولڈ ایج میں کیا کرتے ہیں،،
،،اپنے بچوں کے پاس رہتے ہیں،بچے انہیں سنبھالتے ہیں،ان کی خدمت فرض سمجھ کر کرتے ہیں۔بزرگ بھی بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں،بچے بھی ان سے بہت مانوس ہو جاتے ہیں۔،، احرار نے جواب دیا
،، گھر میں امن و سکون رہتا ہے؟،، مسز جینٹ نے پوچھا
،، بالکل، میں سو فیصد کی بات نہیں کر رہا،لیکن اکثریت ایسی ہی ہے جیسی میں نے بیان کی،، میں نے کہا
،،پھر تو آپ کا ملک جنت ہوگا،، مسز جینٹ نے طنزیہ لہجے میں کہا
،، ہاں بالکل ہے،بہت خوبصورت،بہت پیارا، جس میں نباتات کی بھرمار ہے،اعلیٰ نسل کی اجناس اور پھل پیدا ہوتے ہیں،گندم اور چاول کاشت ہوتے ہیں،پاکستانی چاول جیسا تو دنیا میں چاول نہیں ہے۔اللہ نے ہرقسم کی نعمت عطا کی ہے،دنیا کے بلند ترین چھ پہاڑی سلسلے پاکستان میں ہیں،پاکستانی بالائی علاقوں کا حسن ایسا کہ سوئزرلینڈ کا حسن شرمائے،زرخیز زمین ہے،معدنیات ہیں،دریا ہیں،ندی نالے ہیں اور خاص بات لوگ دل والے ہیں،قدرت بہت مہربان ہے ہم پر،،
احرار خاصا جزباتی ہو رہا تھا اس وقت۔
،،تو پھر آپ کے لوگوں کی بڑی تعداد دوسرے ملکوں میں کیوں جا رہی ہے،،
مائیکل کے فادر نے بڑا چبھتا ہوا سوال کیا کہ ہم چند لمحوں کے لئے چپ ہو گئے،ندامت سی محسوس ہوئی 
لیکن
عدیل نے جلدی سے معاملہ سنبھالا
،،ہجرت تو ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے۔ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی انسانی فطرت ہے۔تعلیم اور رزق کے حصول کے لئے دنیا بھر میں پھیکنے کا حکم ہمیں ہمارے مذہب نے سکھایا ہے۔ہمارے ملک سے اگر لوگ باہر جا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں اپنا اتنا زرخیز اور شاداب ملک پسند نہیں ہے، عدیل کچھ دیر کو رکا
تو میں نے بات آگے بڑھائی،، بے شک ہمارا ملک نعمتوں سے مالا مال ہے لیکن ہم یہ کہتے ہوئے ندامت بھی محسوس کرتے ہیں اور دکھ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کا نظام درست نہیں ہے بلکہ بدتر ہوتا جا رہا ہے، پاکستان کی 68سالہ تاریخ میں ہمیں ایک بھی لیڈر نہیں ملا جو بگڑے سسٹم کو سنوا سکے،ایوب خان،بھٹو جیسے  چند آئے بھی تو انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا۔زیادہ تر لالچ اور خود غرض آئے جنہیں اندھا دھند پیسہ سمیٹنے کے علاؤہ  کچھ سوچنے کی فرصت ہی نا تھی۔ان کی دیکھا دیکھی اوپر سے کرپشن اور بدنظمی نیچے تگ آتی چلی گئی۔عوام جو اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں اور اس کی فلاح کی امید رکھتے ہیں،مایوسی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں،پاکستان میں مجبور ہوتے ہیں تو اچھے مستقبل کی امید پر دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں،،
اس سے پہلے کے بحث سیاسی رنگ اختیار کرتی عدیل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں کسی کا دل نہیں چاہتا کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے غیروں کو مستفید کرے لیکن ملک میں ہونے والی دہشت گردی نے خوف کی ایک فضا قائم کر دی ہے،عدم تحفظ کا احساس بھی ایک وجہ ہے نقل مکانی کی۔پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں مدت سے ہو رہی ہیں،
یہ بحث اور لمبی ہو جاتی کہ مسز جینٹ نے عدیل سے قطع کلامی کے لئے معذرت کرتے ہوئے سب کو کھانے پر بلا لیا۔
مسز جینٹ کو مائیکل نے خاص طور بتا دیا تھا کہ ہم لوگ حلال کے سوا کچھ نہیں کھاتے اس لئے انہوں نے کراچی کے حلال سٹور والوں سے کیٹرنگ کرائی تھی۔کھا بڑے مزے کا تھا اس لئے سب نے جی بھر کر کھایا۔
کھانے کے بعد پھر گفتگو کا سلسلہ وہیں سے شروع ہوگیا جہاں سے ٹوٹا تھا۔
احرار کہنے لگا میری یہاں بے شمار فیملیوں سے ملاقات رہتی ہے جن میں سے اکثر کے اپنے بچے ان سے علیحدٰہ ہو چکے ہیں اور اجنبیوں کا سا سلوک کرتے ہیں ماں باپ سے۔اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ماں باپ کو جب ان کی بہت ضرورت ہوتی ہے تو انہیں اولڈ ہومز میں داخل کرا دیتے ہیں۔ہمارے ہاں پاکستان میں کوئی ایسا سوچتا بھی نہیں بلکہ والدین جتنے بوڑھے اور کمزور ہوتے جائیں بچے ان کی اتنی زیادہ کیئر کرتے ہیں،
،، ان کے پاس اتنا ٹائم ہوتا ہے،، مائیکل کی بہن بولی
،، کیوں نہیں۔ہمارے ہاں عام طور پر عورتیں نوکری نہیں کرتیں، گھروں میں رہتی ہیں۔اس لئے بوڑھوں کی دیکھ بھال کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، جسے بچے گھر کا فرد ہوتے ہیں  ویسے ہی وہ بھی۔ہمارے مذہب میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ تمہارے ماں باپ اگر اس عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو۔۔،،
مائیکل کی بہن نے حیرانی کے تاثر کے ساتھ احرار کو دیکھا
اور
اپنی ہی رو میں بولی،،آپ کی عورتوں کو اپنا کچھ احساس نہیں۔۔وہ ارینجڈ میرج کر لیتی ہیں۔۔گھروں میں رہتی ہیں،بچے پالتی ہیں،بوڑھوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔۔ اوہ مائی گاڈ۔۔ وہ تو مر جاتی ہوں گی۔۔کوئی ان حالات میں کیسے جی سکتا ہے،،
 ہم اس کی بات پر ہنس دئیے۔
مسز جینٹ نے مداخلت کرتے ہوئے پوچھا،،آپ کے ہاں ایسی دعوتوں کے بعد پشاوری قہوہ پیا جاتا ہے،آپ پییئں گے؟،،
اب حیرت زدہ ہونے کی ہماری باری تھی۔
ضرور،ضرور،، ہم نے بیک زبان کہا لیکن ساتھ ہی پوچھا پشاوری قہوہ آیا کہاں سے۔
مسز جینٹ نے سوچتے ہوئے کہا،، مجھے یاد پڑتا ہے کہ مائیکل کے فادر کے ایک دوست نے ایک بار دیا تھا،اس میں الائچی بھی ہے،،
مسز جینٹ قہوہ بنانے کچن میں چلی گئیں اور جب قہوہ بن کر آیا تو الائچیوں کی مہک ہر سو پھیل گئی۔
قہوے کے اس دور کے بعد ہم نے واپسی کی راہ لی۔

ہفتہ، 5 دسمبر، 2015

جوش کی طرح نہیں کوئی غزل خواں آیا ۔۔ احمد علی برقی اعظمی

احمد علی برقی اعظمی


جوش کی طرح نہیں کوئی غزل خواں آیا
انقلاب آفریں اک صاحب دیواں آیا
زیب تاریخ ہے وہ ۵ دسمبر جس دن
جوش کی شکل میں اک نازشِ دوراں آیا
عمر بھر کرتا تھا الفاظ سے جو بازیگری
جس کے اسلوب سے ہر شخص تھا حیراں آیا
جس کے گلہائے سخن سے  تھا معطر گلشن
باغِ اردو میں وہی جان گلستاں آیا
بحرِ ذخار ادب کا تھا شناور ایسا
لے کے دریائے تخیل میں جو طوفاں آیا
شاعری مطلعِ انوار تھی اس کی ایسی
کرنے وہ بزمِ ادب جس سے فروزاں آیا
کرلے اشعار سے جو سب کے دلوں کو تسخیر
آک تک کوئی نہیں ایسا سخنداں آیا

منگل، 1 دسمبر، 2015

منیر نیازی کی یاد میں ۔۔ انور زاہدی


انور زاہدی
ا
کون دکھلائے گا اب حرف و معنی کے طلسم
جُوں خزاں آثار باغوں پر اُمڈتی ہو ہوا
جس طرح خالی صداوں سے ہوئیں سب بستیاں
جس طرح ٹھنڈی ہواوں میں شجر ہلنے لگے
جُوں لہو رنگ ہوگیا منظر نظر کے سامنے
سُرخ سے پھر سُرخ تر سارے نشاں ہوتے گئے
کس طرح سبزہ در و دیوار پر اُگنے لگا
کس طرح مُجھ کو ترے غم کی خبر نے ڈس لیا
کیوں فصیلیں خاک و باراں کی بنائیں ذات پر
کس طرح آخر مکان خاک میں گھر کر لیا
مُلک پر آسیب کا سایہ ہے بتلائے گا کون
کون تیرے بعد لفظوں کے جلائے گا چراغ
اب طلسم شاعری کا کون پھُونکے گا فسُوں

جمعہ، 27 نومبر، 2015

جگنو انٹر نیشنل لاہور کے زیرِ اہتمام ممتاز شاعر،ماہرِ علمِ عروض نسیم شیخ کی تصنیف ,,موجِ سخن“کی تقریبِ اجراء

جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام  شائع  ہونے والی نسیم شیخ کی  تصنیف ”موجِ سخن“ کی تقریبِ اجراء کے سلسلے میں  ایک بہت خوبصورت اور پُر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں شعراء، ادباء اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ صدارت کے منصب پراستاد شاعر باقی احمد پوری فائز تھے جبکہ مہمانانِ خصوصی کی حیثیت میں بھی استاد شعراء گلزار بخاری اور ناصر بشیر سٹیج پر رونق افروز تھے۔
خلیجی ممالک میں اردو زبان کی ترویج میں سر گرمِ عمل نوجوان لکھاری حسیب اعجاز عاشر مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے جلوہ گر تھے۔
 تقریب کا آغاز حسبِ روایت تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کی سعادت نوجوان صحافی نایاب علی کو حا صل ہوئی۔ بعد ازاں سید فراست بخاری نے انتہائی خوبصورت انداز میں نعت ِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔مقصود چغتائی میڈیا سیکرٹری جگنو انٹر نیشنل نے پروگرام کی رپورٹ پیش کی۔پروگرام کی نظامت  راقم الحروف (ایم زیڈ کنول ؔ)نے کی.
 ”موجِ سخن“ کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ نسیم شیخ ایک جدید لہجے کے خوبصورت شاعر ہیں۔شعر گوئی ان کا جنون ہے۔ فیس بک پر نو آموز شعرا ء کی مشق ِ سخن کے لئے ایک گروپ موجِ سخن کے نام سے تشکیل دیا ہے،جہاں ان کی سرپرستی میں ہر ہفتے فی البدیہہ مشاعرے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔یوں موج موج سفر نے نسیم شیخ کے ذوقِ جنوں کو ایسا دو آشتہ کردیاجو ”موجِ سخن“ کی تصنیف کا باعث بنا۔
  مظہر جعفری،شگفتہ غزل ہاشمی، مظہر قریشی،جاوید قاسم، آفتاب خان اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نسیم شیخ نے یہ کتاب لکھ کر خود کو امر کر لیا ہے۔ نسیم شیخ نے اس کتاب میں صرف مواد ہی مہیا نہیں کیا بلکہ اپنے اشعار  کے حوالوں سے تقطیع بھی کی ہے۔ یوں تقطیع کی مشق کے ساتھ ساتھ موصوف کی اپنی شاعری کا تجزیہ بھی ہو گیا ہے۔ حسیب اعجاز عاشر، بشریٰ سحرین  او ر شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیرنے نسیم شیخ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کتاب کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔پروفیسر ناصر بشیر نے عروض کے حوالے سے  ایسی جامع گفتگو کی، یوں لگتا تھاگویا کوئی ریسرچ تھیسس پیش کر رہے ہیں جس کے حوالہئ کتابیات  کے لئے وہ 30سالہ ریاضتوں کا اثاثہ ساتھ لائے ہیں۔ان کے اس اثاثہ کے لئے راقم نے ”تبرکات“ کی اصطلاح استعمال کی۔ جس پر تمام احباب بہت محظوظ ہوئے۔ صاحب ِ کتاب نسیم شیخ صاحب جو اس تقریب کے لئے خاص طور  پر تشریف لائے تھے انھوں نے تمام احباب اور  جگنو انٹر نیشنل کی تمام ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ گلزار بخاری، اختر ہاشمی اور باقی احمد پوری نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فنِ عروض کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے اپنی ذاتی یادداشتوں کو بھی دہرایا اور نسیم شیخ کو موجِ سخن سے بحرِ سخن تک کامیابی سے اُترنے پر مبارکباد دی۔ نسیم شیخ کی یہ کتاب جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہے۔ پنج ریڈیو یو ایس اے،سے جگنو انٹرنیشل کے زیرِ اہتمام اس کی آن لائن تقریبِ رونمائی کاانعقاد اس سے قبل ہو چکا ہے۔  جہاں ساری دنیاکے احباب سے سندِپذیرائی حاصل کر چکی ہے اور اتنا خیر مقدم ہوا کہ مبلغ  1000/ قیمت کے باوجود اس کو خریدنے میں مسرت محسوس کی ہے۔ناصر باغ، چوپال،لاہور میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں بھی نسیم شیخ کی بھر پور پذیرائی کی گئی۔ تمام احباب نے جگنو انٹر نیشنل کی ادب کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو بھی سراہا اور مبارکباد پیش کی۔تقریب میں شاعروں، ادیبوں، طلبہ، اور ممتاز ادبی و سماجی شخصیات نے شرکت کی جن میں مظہر سلیم مجوکہ، سعید اللہ قریشی (ٹیکسلا) سید محمود گیلانی  (میاں چنوں)،صفدر حسین صفی، علامہ عبدالستار عاصم،وارث علی رانا، عرفان گوہر وریاہ اور دیگر شامل تھے۔

اتوار، 22 نومبر، 2015

آزادی کی دیوی ٹارچ سے راستہ دکھا رہی تھی کہ میں تو اپنی مسند پر بیٹھی ہوں اگر میرا جلوہ دیکھنا ہے تو آ جاؤ۔۔دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط ۔16


آزادی کی یادگاراور امریکہ کا گیٹ وے


چھٹی کیا ہوتی ہے،اسے سے لطف اندوز کیسے ہوا جاتا ہے یہ کوئی امریکیوں سے پوچھے،میں نے کہیں ذکر کیا تھا کہ یہ لوگ پانچ روز سر جھکا کر کام کرتے ہیں لیکن ہفتہ،اتوار اس طرح گذارتے ہیں کہ ان سے عیاش شاید ہی کوئی قوم ہو۔
عدیل کو امریکہ میں رہتے ہوئے پانچ سال ہو گئے ہیں اور وہ بھی عادتوں کے اعتبار سے آدھا امریکی ہو چکا ہے۔آج کل ہمیں سیر کرانے کے لئے اس نے پوری ایک ہفتہ کی چھٹیاں لی تھیں تاکہ نیویارک کو اچھی طرح دیکھ لیا جائے۔اب وہ سات دن خود بھی گھومنا چاہتاتھا اور ہمیں بھی گھومانا چاہتا تھا،اپنے ایک ایک لمحے  کا پورا پورا استعمال کرنا چاہتا تھا۔
شعیب پیرزادہ،جو ہماری بیگم کے کزن ہیں اور برکلین میں  برائیٹن بیچ کے قریب رہائش پذیر ہیں،کے گھر پہنچے، ابھی کچھ ہی دیر گذری تھی کہ عدیل کہنے لگا ٹائم ضائع نہیں کرنا ہے،تیار ہو جائیں آج ہم  مجسمہِ آزادی دیکھنے چلیں گے۔
،،یار دم تو لے لینے دو،چلتے ہیں،،
میں نے جواب دیا
اور اب ہم مین ہاٹن جا رہے تھے،نجانے نیویارک کہاں تھا،یہاں مین ہاٹن تھا،برکلین تھا،کوئینز تھا،بروکس اور سٹیٹن تھا،نہیں تھا تو نیویارک نام کا کوئی شہر نہیں تھا،نیویارک ریاست انہی پانچ شہروں پر مشتمل ہے۔ امریکہ میں جب نیویارک سٹی کا ذکر ہوتا ہے تو مین ہاٹن کو ہی نیویارک کہا جاتا ہے۔

ہم باتیں کرتے ہوئے ایک سر سبز علاقے میں پہنچ گئے تھے عدیل نے بتایا کہ یہ بیٹری پارک ہے جو ایک وسیع و  عریض سیر گاہ ہے،یہاں سے دور سمندری جزیرے پر کھڑا مجسمہ آزادی نظر آتا ہے۔درمیان میں سمندر کا پتن حائل تھا اس لئے  فیری سے جانا ضروری ہو گیا تھااور اس لئے بھی کہ اپنے ہاتھ میں مشعل لئے کھڑی  خاتون  نا تو میری محبوبہ تھی کہ کچے گھڑے پر سوار ہو کر پتن کراس کرتی،وہ تو ٹارچ سے مجھے راستہ دکھا رہی تھی کہ میں تو اپنی مسند پر بیٹھی ہوں اگر میرا جلوہ دیکھنا ہے تو آ جاؤ۔
ہم اس وقت بحرا وقیانوس کے ساحل پر کھڑے تھے،یہاں لوگوں کا جمِ غفیر تھا،فیریاں آ اور جا رہی تھیں،لیکن ہمارے اور فیری کے درمیاں امریکی سماج حائل تھا،ایک طویل قطار ہمارے آگے موجود تھی جو دھیرے دھیرے آگے کھسک رہی تھی اور ساحل کے ساتھ بنی ایک عمارت میں داخل ہو رہی تھی،جب ہم اس عمارت میں داخل ہوئے تو ایسا لگاکہ ہم  ابوظہبی کے ہوائی اڈے کے پری کلیرنس  روم میں داخل ہو گئے ہوں،وہاں تو اتنی تلاشی نہیں لی گئی تھی جو یہاں لی گئی،جامہ تلاشی ہوئی،بیگ تلاشی اور پھر جیب تلاشی ہوئی،پینٹ کی بیلٹ اتروئی گئی،بوٹ اتروالئے گئے،سکینر سے گذارا گیابس کتوں سے سنگھوانا رہ گیا تھا،
آزادی کے مجسمے کو قریب سے دیکھنے کے چکر میں اپنی آزادی کا بینڈ بج گیا۔


وقت اچانک میرے کانوں میں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کے الفاظ گونجنے لگے جو انہوں نیاپنے شہرہ آفاق خطاب میں کہے تھے
،،میرا ایک خواب ہے کہ ایک دن آئے گا جب یہ قوم اٹھ کھڑی ہو گی اور اپنے عقائد کے حقیقی معنی سے باہر زندہ رہے گی کہ ہم تمام انسان ایک جیسے ہیں کی سچائی کو خود پر واضح کرنا ہے۔
میرا ایک خواب ہے کہ ایک دن آئے گا جب جارجیا کی سرخ پہاڑیوں پر غلام کسانوں کے بیٹے اور غلاموں کے آقاؤں کے بیٹے بھائی چارے کی فضا میں ایک میز پر بیٹھنے کے قابل ہو جائیں گے
میرا ایک خواب ہے کہ ایک دن آزادی اور انصاف کے لئے ترسی ہوئی مسیسپی جیسی صحرایی ریاست بھی آزادی اور انصاف کے نخلستان میں تبدیل ہو جائے گی۔
میرا ایک خواب ہے کہ میرے چار بچے ایک د ن ایک ایسی قوم میں زندگی بسر کریں گے جہاں انہیں رنگ و نسل کی بجائے ان کے کردار کی بنا پر پرکھا جائے گا،
I have a dream today
ڈاکٹر لوتھر کنگ نے امریکہ کی آزادی اور مجسمہِ آزادی کی تنصیب کے بہت بعد جب واشگٹن ڈی سی میں  ایک مارچ کے درمیان جب یہ خطاب کیا تھا تو شاید آزادی ملنے کے باوجود کالوں سے ایسا ہی ہتک آمیز سلوک روا رکھا جاتا ہو گا جیسا صرف آزادی کے مجسمے کو دیکھنے کے لئے جانے والے میرے جسے تمام افراد سے روا رکھا گیا تھا۔
یہ آزادی کا کون سا رخ تھا میں نہیں سمجھ پایا،شاید ڈاکٹر لوتھر سمجھ گئے تھے،میں فیری میں بیٹھا،مجسمہ ِآزادی کو قریب آتا محسوس کرکے یہی سوچ رہا تھا۔
فیری میں داخلے کے بعد ہم اوپری منزل عرشے پر پہنچ کر ریلنگ کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو گئے چاروں طرف پانی،ٹھاٹھیں مارتا غراتا لہراتا بحر اقیانوس اور دوسری جانب نیویارک کی اونچی اونچی پر شکو ہ عمارتیں کا نظارہ قابلِ دید تھا۔
فیری ایک جھٹکے سے آئرلینڈ کے بنے ہوئے ڈیک کے ساتھ لگا دی گئی اور ہم آزادی کے مجسمے کی ملکیت جزیرے کی سرزمین پر اتر گئے۔یعنی ہم نے بالآخر پتن کراس کر ہی لیا تھا۔
یہ مجسمہ ساز فیڈرک آگسٹی بر تھولڈی کا سوچا ہوا خیال،فرانس کی طرف سے دوستی کا تحفہ اور دو قوموں کے درمیان آزادی کیلئے کمٹمنٹ کا نشان ہے۔یہ ایک پر شکوہ وجود ہے جو نیلے آسمان میں بلندہوتا چلاگیا ہے اور اس کے شاندار ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔یہ مجسمہ ایک عورت کا ہے۔اسے شروع میں دنیا کی آزادی کی روشنی کا مجسمہ کہا جاتا تھا۔سن1924میں اس جزیرے اور مجسمہِ آزادی کو قومی یادگار بنا دیا گیا۔اس کا لباس لہراتے چوغے اور چادروں سے مشابہ ہے اس کے سر پرتاج ہے۔دائیں ہاتھ میں مشعل اور بائیں ہاتھ میں کتاب ہے جس پر 4جولائی 1776لکھا ہوا ہے جو امریکہ کا یومِ آزادی۔مجسمے کے پیروں میں پڑی زنجیریں ٹوٹی ہوئی ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ ظلم اور جھوٹ کو روند ڈالا گیا ہے۔
اس مجسمے کی اونچائی نچلے پیڈسٹل سے اوپر ٹارچ تک تقریباََ305فٹ ایک انچ ہے لیکن مجسمے کی بذاتِ خود پاؤں سے لیکر سر کی چوٹی تک اونچائی151فٹ ایک انچ ہے۔جبکہ جس  پیڈسٹل پر یہ استادہ ہے اس کی اونچائی 89فٹ ہے۔فرانس نے اس دیوقامت مجسمے کے لئے چار لاکھ ڈالر مہیا کئے  جبکہ89فٹ اونچے پیڈسٹل پر خرچ ہونے والی تقریباََ دو لاکھ ستر ہزار ڈالر کی رقم کے لئے ایک مہم چلائی گئی۔امریکی یہودی شاعرہ ایما لیزارس نے مجسمہ آزادی کو دنیا کے لئے راہبر مینارہِ نور قرار دیا۔ایک نظم جو اس نے پیڈسٹل کی تعمیر میں رقم اکھٹی کرنے کے لئے تخلیق کی تھی،وہ آج بھی مجسمہِ آزادی کے پیڈسٹل پر کندہ ہے۔
The New Colossus”،،
by Emma Lazarus
Not like the brazen giant of Greek fame,
With conquering limbs astride from land to land;
Here at our sea-washed, sunset gates shall stand
A mighty woman with a torch,
whose flame
Is the imprisoned lightning, and 
her name Mother of Exiles.
From her beacon-hand
Glows world-wide welcome; her mild eyes command
The air-bridged harbor that twin cities frame.
“"Keep, ancient lands, your storied pomp!"”cries she
With silent lips.“Give me your tired, your poor,
Your huddled masses yearning to breathe free,
The wretched refuse of your teeming shore.
Send these, the homeless, tempest-tost to me,
I lift my lamp beside the golden door!”
اس نظم میں اس نے مجسمے کے معنی کو بھی سمویا ہے۔
مشہوراور دیوقامت تو کئی اور مجسمے بھی ہیں جیسے روم میں نیرو کا دیوقامت مجسمہ،بدھا کا مجسمہ عقیدت اوربلندی کے لحاظ سے قابلِ ذکر ہے۔ شہرت کے اعتبار سے تو ابوالہول کا مجسمہ بھی کسی سے کم نہیں ہے،خوف اور ڈر کا نشان،لیکن عورت کی شباہت کے اس مجسمے کو کیا کہوں،اگر یہ آزادی کا مجسمہ ہے تو ڈاکٹر لوتھر کو 1963میں رنگ و نسل کے تعصب سے آزادی کے خواب کیوں دیکھنے پڑے۔
فیری سے اتر کر جب ہم  آزادی کی تلاش میں آگے کو چلے تو سامنے ایک ریسٹورنٹ نظر آگیا،عنایہ کو اب بھوک ستا رہی تھیاس لئے وہ کچھ کھانے کے لئے شور مچانے لگی،عدیل ریسٹورنٹ سے کچھ لینے چلا گیا،میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئیٹوائلٹ کا رخ کیا،کیا کروں شوگر کی بنا پر بار بار حاجت ہوتی ہے۔اتنی بارونق جگہ پر میرا خیال تھا کہ مشکل ہے کہ ٹوائلٹ صاف ملیں۔
لیکن
کمال کی  بات ہے، ٹوائلٹ اتنے صاف و شفاف تھے بلکہ چمک رہے تھے ایسے  جیسے کبھی استعماک ہی نہ ہوئے ہوں۔ٹشو پیپرکے سیٹ کورز ایک طرف لٹک رہے تھے۔رول دوسری طرف،ہاتھ دھونے کیلئے بیسن تھے،آٹومیٹک ٹیگ جن کو دبانے سے لیکوڈ سوپ نکل آتا ہے۔اوپر ہوا سے ہاتھ سکھانے والی مشین۔۔۔کیا انتظام تھا اور وہ بھی پبلک مقام پر۔
میں باہر آیا تو عنایہ آلو کے فرائز کھا رہی تھی،ایک آلو کا چپس اس نے میری جانب بھی بڑھا دیا۔ساتھ ہی عدیل نے لیموں پانی کا ایک کنگ سائزگلاس یہ کہتے ہوئے پکڑا دیا کہ یہاں کھانے کو تو بہت کچھ ہے لیکن شاید ہم نا کھا سکیں۔یہ لیموں پانی بہرطور حلال ہے۔
یہ دنیا کا مشہور ترین دیوقامت مجسمہ ہے لیکن کسی بے جان بت کوئی کتنی دیر دیکھ سکتا ہے اور اس کے سحر میں کتنی دیر اسیر رہ سکتا ہے۔آپ یہاں آتے ہیں کچھ سیر کرتے ہیں،تھوڑی دیر مجسمے کو سر اٹھا کر دیکھتے ہیں،اس کے گرد حیرت زدہ آنکھوں کے ساتھ پھرتے ہیں،لیموں پانی کا گلاس ختم کرتے ہیں،دوچار سلفیاں بناتے ہیں اور اگر کوئی ساتھ ہے تو اسے تصویر کھینچنے کے لئے کہتے ہیں،پھر واپسی کے لئے فیری میں آ بیٹھتے ہیں۔ اور بس، اتنا سا ہے مجسمہِ آزادی کے جزیرے کا سفر۔
اب دل یہ چاہ رہا تھا کہ فیری بس چل پڑے اور ہمیں نیویارک پہنچا دے تاکہ کچھ پیٹ پوجا کی جا سکے لیکن شاید ابھی کچھ اور دیر ہمیں بھوک برداشت کرنی تھی۔
فیری لبرٹی آئی لینڈ سے تو ہمیں لے کر رخصت ہو گئی تھی لیکن سیدھی مین ہاٹن نہیں گئی تھی بلکہ ذرا رخ بدل کر ایک اور جزیرے پر جا رکی۔یہ ایلس آئی لینڈ ہے،وہ جزیرہ جہاں کسی زمانے میں امریکہ میں مستقل ر ہائش کے لئے آنے والوں کا پہلا پڑاؤ ہوتا تھا  یعنی اسے گیٹ وے ٹو امریکہ کہا جا سکتا ہے۔تارکین وطن کی کشتیاں اور بحری جہاز یہیں لنگر انداز ہوتے تھے۔مہینوں کا دشوار گذرا سفر اسی ایلس آئی لینڈ پر ہوتا تھا لیکن یہ ان کا عارضی پڑاؤ ہوتا تھا۔کہتے ہیں سن 1820اور سن1920کے درمیان اندازاََ 34ملین افراد امریکہ میں داخل ہوئے جس میں سے تین چوتھائی وہاں مستقل رہائش کے لئے آئے۔ان نئے آنے والوں کے لئے امریکہ کی پہلی جھلک یہی مجسمہِ آزادی تھا۔
فیری اسی جزیرے پر دس منٹ کے لئے رکی تھی۔سامنے ہی ایک معمولی سی عمارت تھی جس میں فیری سے اترنے والے سیاح ذوق و شوق سے جا رہے تھے مجھے یہ عمارت پسند نہیں آئی تھی بالکل اسی طرح جیسے مجھے وائیٹ ہاوس کی معمولی سی عمارت پسند نہیں آئی تھی جس میں دنیا کا طاقت ور ترین شخص رہتا تھا اس کی اس رہائش گاہ سے تو مجھے باغِ جناح کی جناح لائبریری زیادہ پسند ہے۔
میرے پسند یا نا پسند کرنے سے کیا ہوتا ہے،یہ وہ عمارت تھی جہاں تارکینِ وطن کی شناخت ہوتی تھی،امریکہ میں داخلے اور قیام کے سرکاری کاغذات تیار کئے جاتے تھے اور ان کی تیاری میں جتنا وقت لگتا تھا اتنے وقت کے لئے یہ تارکینِ وطن کا عارضی پڑاؤ ہوتا تھا۔فیری میں بھی اور یہاں بھی عہدِ رفتہ کی بلیک اینڈ وائیٹ فلمیں دکھائی جا رہی تھیں۔دنیا بھر سے آزاد زندگی گذارنے کے نام پر غلاموں کی تازہ دم دستے یہاں ہر وقت پہنچتے رہتے ہیں،میں امریکہ کے اس گیٹ وے پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر واپس فیری پر آ گیا جہاں بچے میرا انتظار کر رہے تھے۔   

بدھ، 18 نومبر، 2015

نیاگرا آبشار سے گرنے والا پانی ایک مسخر کر دینے والا سحر رکھتا ہے ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔۔ قسط ۔ 15

نیاگرا آبشار


نیویارک جاتے ہوئے یہ خیال تھا کہ پہلے کینیڈا اور نیویارک کے سرحدی شہر بفیلو میں واقع دنیا کی خوبصورت ترین آبشار،،نیاگرا،، دیکھ لی جائے پھر راستے ہی میں ارادہ بد ل گیا کہ سفر زیادہ لمبا ہو جائے گا اور عدیل کا کہنا تھا کہ اتنی لمبی ڈرائیو کر کے تھکن ہو جائے گی۔نیویارک کی رونقیں دیکھ کر جس روز واپسی کے لئے

چلیں گے وہاں سے پہلے بفیلو چلیں گے،وہاں نیاگرا آبشار دیکھ کر واپسی کی راہ لیں گے۔واپسی کا سفر اگرچہ بہت لمبا ہو جانا تھا لیکن طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم عازمِ سفر ہوئے۔
آج ہم صبح جلدی تیار ہوئے،شعیب بھائی کو خدا حافظ کہا اور بفیلو کی طرف چل دئیے۔ بفیلو شہر ریاست نیویارک کا ایک شہر ہے،ہمیں شہر کا نام سن کر ہنسی آ گئی کہ یار یہ کیسا ملک ہے جنہوں نے اپنے شہر کا نام بھینس رکھا ہوا ہے،خیر جی ہمیں کیا وہ چاہے بھینس رکھیں یا مجھ،ویسے انگریزی میں بے وقعت چیز بھی بارعب لگتی ہے،بفیلو پہنچ کر پتہ چلا کہ ابھی سفر ختم نہیں ہوا ابھی 15 میل کا سفر باقی ہے سو ہم نے گاڑی نیاگرا شہر کی طرف موڑ لی۔
نیاگرا،ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی آبادی صرف پچاس ہزار کے قریب ہے،نیاگرا آبشار کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔


نیاگرا آبشار،براعظم شمالی امریکہ میں کینیڈا اورریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سرحد پر واقع دنیا کی یہ مشہور ترین آبشار حسنِ فطرت کا عظیم شاہکار اور دنیا کے قدرتی عجائبات میں سے ایک سمجھی جاتی ہے اوردنیا میں سیاحوں کی پسندیدہ ترین مقامات میں شامل ہے۔یہ آبشار کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو اور امریکہ کی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے۔اسے پہلی بار سن 1678میں فادر لوئس بپی پن نے دریافت کیا۔سن1759میں سیورڈی لاسالی نے یہاں ایک قلعہ،، فورٹ کاونٹی،، تعمیر کیا جس کا نام بعد ازاں،،فورٹ نیاگرا،، ہوگیا۔
دریائے نیاگرا کو سن1819میں امریکہ اور کینیڈا کے درمیان سرحد تسلیم کیا گیا۔سن 1848میں نیاگرا کو قصبے کا درجہ دیا گیا اوریہی قصبہ تقریباََ پچاس سال کے بعد سن1892میں شہر کا درجہ پا گیا۔
امریکہ اور کینیڈا سے نیاگرا تک ہوائی جہاز،ریل گاڑی یا سڑک کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان بذریعہ نیاگرا رابطہ ریل سے ہی ہے جہاں دریائے نیاگرا پر دو پل تعمیر کئے گئے ہیں جن میں سے،، قوس و قزح پل،، بہت مقبول ہے،یہ پل سن 1941میں قائم ہوا اور اس کا تعمیراتی حسن آج بھی برقرار ہے۔یہ پل امریکہ اور کینیڈا کے درمیان مصروف ترین گذرگاہ ہے۔
نیاگرا آبشار کا  بڑا اور زیادہ حسین حصہ کینیڈا کی سمت ہے جسے دیکھنے کے لئے قوس وقزح پل سے گاڑی یا پیدل کینیڈا میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔امریکہ اور کینیڈا کے لئے سرحد عبور کرنے کے لئے وزے کی ضرورت نہیں ہوتی،ہاں ہمارے جیسے غیر ملکیوں کے لئے ویزہ لازمی ہے۔
دریائے نیاگرا براعظم شمالی امریکہ کی دو عظیم جھیلوں،، ایری،، اور،،اونٹاریو،، کو ملاتا ہے۔اس دریا میں واقع جزیرہ،،گوٹ،، دریائے نیاگرا کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔جس سے نیاگرا کی عظیم آبشاریں جنم لیتی ہیں۔
نیاگرا آبشار کے تین حصے ہیں،سب سے بڑا اور متاثر کن حصہ کینیڈا کی طرف ہے اس کی شکل چونکہ گھوڑے کی نعل جیسی ہے  اس لئے اسے ہارس شوکا نام دیا گیا ہے۔اس آبشاری حصے کی چوڑائی 2600فٹ ہے۔
امریکہ کی جانب بہنے والی آبشار کو امریکی آبشار کہتے ہیں جس کی چوڑائی 1060فٹ ہے۔تیسرا حصہ یا تیسری آبشار نسبتاََ چھوٹی ہے جسے برائڈل ویل کا نام دیا گیا ہے۔یہ تیسری آبشار بھی امریکہ کی جانب واقع ہے۔
ان تینوں آبشاروں سے انتہائی سیزن میں فی سیکنڈ 225,000مکعب فٹ پانی نیچے گرتا ہے۔یعنی ایک منٹ میں تقریباََ ساٹھ لاکھ فٹ پانی کینیڈین سائیڈ پر 180فٹ کی بلندی سے گرتا  ہے۔جبکہ امریکن سائیڈ پر جہاں ہم موجود تھے تقریبا  100فٹ کی بلندی؎؎؎ سے گرتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال 40 لاکھ سیاح نیاگرا کا رخ کرتے ہیں۔
سیاح کروز کے ذریعے نیاگرا آبشار کا بہر قریب سے نظارہ کر سکتے ہیں۔آبشار کے پانی سے بننے والی قوس و قزح کا فضائی نظارہ کرانے کا بھی انتظام یہاں موجود ہے جس کے لئے ہیلی کاپٹر استعمال ہوتے ہیں،اس کے علاوہ ہیلیم غباروں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

نیاگرا آبشار کا علاقہ دونوں ممالک میں قومی پارک کا درجہ رکھتا ہے۔امریکہ میں نیاگرا ریزرویشن اسٹیٹ پارک کہلاتا ہے۔یہ پارک امریکہ کے قدیم ترین پارکوں میں سے ایک ہے جسے سن1885میں امریکی حکومت نے اپنے زیرِ انتظام لیا۔یہ پارک 107ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
اپنی خوبصورتی،اپنے حسن کی بدولت نیا آبشار دنیا بھر کے اہم ترین سیاحتی مقام کے علاوہ یہ پن بجلی کے بڑے وسیلے کا باعث بھی ہے۔
نیاگرا کے پانیوں کو پن بجلی  کے لئے استعمال کرنے کا پہلی بار سن1759میں سوچا گیا۔آج۔نیاگرا،ریاست بیویارک میں سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنی ہے جو2.4گیگاواٹس(ملین کلوواٹس) پیداواری صلاحیت کی حامل ہے۔
نیاگرا آبشار سے گرنے والا پانی ایک مسخر کر دینے والا سحر رکھتا ہے جس کے زیرِ اثر انسان گھنٹوں وہاں بیٹھ سکتا ہے۔ہمیں چونکہ واپسی کا لمبا سفر کرنا تھا اس لئے دو تین گھنٹے وہاں صرف کر کے ہماری واپسی کا سفر شروع ہوا،عدیل نے اگلے روز دفتر جانا تھا ورنہ دل چاہتا تھا کہ کم از کم ایک رات تو وہاں ٹہرا جاتا۔
راستے میں یہی گفتگو جاری تھی جس پر عدیل نے کہا کہ اگلی دفعہ دو ایک دن کے لئے صرف یہی علاقہ دیکھنے آئیں گے۔
میں نے کہا
،،یار عدیل اس کی خوبصورتی بلا شبہ بے مثال ہے لیکن تمہیں تربیلا ڈیم کی سیاحت یاد ہے،جب ہمارے سامنے ڈیم کا سپل 
تربیلا سپل وے

وے گھولا گیا تھااور پانی نے زمین سے ٹکرا کر جو اچھال پیدا کی تھی،اس کے سامنے نیاگرا کی یہ آبشار کچھ بھی نہیں ہے۔،،
عدیل کہنے لگا
ِِ،،پاپا، پاکستان میں بھی دیکھنے کے لئے بے شمار چیزیں ہیں،ہمارے پہاڑی علاقوں میں بھی بڑے بڑے گلیشیر ہیں خوبصورت آبشاریں ہیں،جھیلیں ہیں،تندوتیز دریا ہیں،اور یہ سب اتنے قدیم اور تاریخی ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی 
سجی کوٹ (ایبٹآباد) پاکستان واٹرفال

لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ منظم نہیں ہیں، ٹورسٹ کو کوئی سہولت مہیا نہیں ہے یہاں امریکہ میں معمولی سی چیز کو بھی اس طرح پیش کیا جاتا ہے اور اس طرح اس کا انتظام کیا جاتا ہے کہ ٹورسٹ کھنچا چلا آتا ہے۔نیاگرا فال تو پھر بھی ورلڈ فیم ہے۔،،
میں سوچ رہا تھا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کے قدرتی حس کو دیکھنے کے لئے سیاحوں کی لائنیں لگی ہوتی تھیں،اگرچہ سڑکوں کا سیاحتی علاقوں میں جال نہیں بچھا ہوا تھالیکن اس ملک کے حسن کا ہر سیاح شیدائی تھا،لیکن  سیاحوں کی آمد و رفت شاید ہم نے خود بند کر دی، کاش جنرل ضیاالحق نے امیرالمومینین بننے کا نا سوچا ہوتا اور طالبانی فتنہ نا پیدا کیا ہوتا تو سیاحت کی انڈسٹری ہی اتنی زیادہ ہوتی کہ ہم آئی ایم ایف کو کبھی کا دیس نکالا دے چکے ہوتے۔خیر میرے جیسے غیر سیاسی لوگوں کو سیاسی باتیں نہیں کرنی چاہیں۔