ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


ہفتہ، 6 دسمبر، 2014

دانیال طریر کی تنقیدی کتاب ،، معا صر تھیو ر ی اور تعین ِ قد ر،،پر سیدانور جاوید ہاشمی کی تحریر

سید انور جاوید ہاشمی
معا صر  تھیو ر ی  اور  تعین ِ قد ر  
میں  ایک مضمون چاند پکھراج کا اور پشمینے کی رات والے گل زار کی غیر معمولی قوّت ِ متخئیلہ کے عنوان سے بہت ہی بھرپور تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب محمد حامد سراج صاحب نے دانیال طریر کی دیگر تصانیف و تالیفات کے ہمراہ بطور تحفہ عنایت کی۔معاصر تھیوری اور تعین قدر بیک وقت تحقیق و تنقید کی آ ئینہ دار کتاب ہے جس میں معاصر اہل قلم،شعراء بلوچی و  پشتو زبان و ادب نیز ناقدین ادب کے تنقیدی مضامین اور موضوعات  پر بھی عرق ریزی و جاں کاھی سے لکھے گئے مضامین شامل ہیں۔

گلزار کی غیر معمولی قوت متخئیلہ کے حوالے سے دانیال طریز لکھتے ہیں کہ ''گلزار غیر معمولی قوّت ِ متخئّیلہ کا شاعر ہے اورجیسا کہ میں کہہ چکاہوں کہ غیر معمولی متخئِّلہ کا اظہارزبان کے غیر معمولی استعمال سے ہوتا ہے۔جب ہم اُردو شاعری کا تسلسل سے مطالعہ کرتے ہوے گلزار تک آتے ہیں تو ہمارا سامنا ایک بدلی ہوئی لسانی فضا سے ہوتا ہے۔اس بدلی ہوئی لسانی فضا کو ہمارے ہاں روایت سے بغاوت کا نام دیا جاتا ہے۔حال آں کہ محض زبان کی تبدیلی روایت شکنی نہیں ہوسکتی کہ ہر معیاری شاعراپنی فکری ضرورت کے پیش نظرزبان کو بدلتا ہے۔ماسواے اُن شعراء کے جنھیں اپنی فکری احتیاج کا احساس تک نہیں ہوتا۔فکری سطح پر روایت کے تسلسل کو توڑنا  ناممکن ہے۔کیوں کہ زندہ روایت حال کے وجود میں تحلیل ہوتی ہے۔شاعر حال میں جیتا ہے لیکن اس کے حال میں ماضی اور مستقبل دونوں موجود ہوتے ہیں۔حال میں ماضی اور مستقبل کی موجودگی کا احساس ادراک کہلا تا ہے جو شاعراپنے عہد کا ادراک رکھتا ہے ا و ر  اپنا اظہار چاہتا ہے و ہ  کبھی  بنی  بنائی  زبان پر  اکتفا نہیں  کرتا۔۔گل زار کو بھی اپنے عہد کا ادراک ہے اس لیے اس نے بنی بنائی زبان پراکتفا نہیں کیا بل کہ اپنے عہد کے تقاضوں کو سمجھتے ہوے و ہ  ز با ن  تخلیق  کی ہے جس میں تا ز گی بھی ہے اور اثر انگیزی بھی""
لفظ  کا غذ  پہ  بیٹھتے  ہی نہیں
اُ ڑ تے پھر تے ہیں تتلیوں کی طرح
نامکمل نظم ،گھتن ،مشورہ وہ جو شاعر تھاریشم کا یہ شاعر،کھنڈر،عادت،جمود،قبرستان،گھر،وقتخدا،الائو،بے شہر،بے خودیاسکیچ،چل چلائو،ریفیوجی وغیرہ نظموں کے اقتباسات پیش کرکے دانیال طریر نے ترائیلے اور تروینیوں کا بھی جائزہ لیا ہے اور مضمون کے آخری حصے میں غزل کے چند اشعار بھی پیش کیے ہیں:
ا یک  گو لی  گئی  تھی  سوے  فلک
ا ک  پر ند ے  کے  با ل و پر  آ ئے
]لیاقت علی عاصم کا ایک شعر یاد آگیا۔۔گھنے شجر کے پرندوں کا حال مت پوچھو
بس ایک  شاخ  ہلی  تھی  ہزار جال  کھلے
چُھو  کے  د یکھا تو  گرم  تھا  ما تھا
د ُ ھو  پ  میں کھیلتا  ر ہا ہے  چا ند
اس چاند کو آپ ننھا منا معصوم کھلنڈرا بیٹا سمجھ لیں  یا بہ قول دانیال طریر گلزار کی غیر معمولی قوت متخئیلہ کا اظہار ۔۔جو بھی کہنا تھا بات کہہ دی ہے۔۔۔۔تم اسے رد کرو قبول کرو؟               
اور یہ مترنم شاعری جسے اپنانے ،ہتھیانے سرقہ کرنے کا ہمارا دل چاہتا ہے گلزار سے اجازت لیے بغیر
جس کی آ و ا ز  میں  سِلو ٹ  ہو  نگا  ھو ں  میں  شِکن
ا یسی  تصو  یر  کے  ٹکڑ ے  نہیں  جو  ڑ  ا  کر  تے
ہائے کیا کمال کی بات کہی ہے ذرا اس پری پیکر کو اپنی قوت متخئّیلہ کے بل بوتے پر مجسم تو کیجیے؟
کاغذ کا اک چا ند لگا کر  رات  ا ند ھیر ی  کھڑ کی  میں
دِ ل  میں  کتنے  خوش  تھے  ا پنی  فرقت  کی  آ رایش پر
دانیال طریر لکھتے ہیں کہ ''  ایسا نہیں ہے کہ گل زار کے ہاں [کلام میں]  خامیاں نہیں ہیں۔لیکن گلزار کی خوبیوں نے اس کی خامیاں بخشوالی ہیں'''''مجھے یقین ہے جب تک پشمینے کی راتپر  پکھراج کا چاند  چمکتا رہے گا گل زار  کی  شاعری تروتازہ، تا بندہ ا و ر  ز ند ہ   رہے  گی۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں