ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

بدھ، 17 دسمبر، 2014

نسیم سید کے افسانوں کے مجموعے "جس تن لاگے " کی ۔تقریب پذیرائی ، حرف کار کی سالانہ محفل مشاعرہ

حرف کار (عالمی ) کے زیر اہتمام خوبصورت اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا .تقریب کے پہلے حصے میں نسیم سید کے افسانوں کے مجموعے "جس تن لاگے " کی ۔تقریب پذیرائی تھی جبکہ  مختصر وقفے کے بعد دوسری محفل حرف کار کی سالانہ محفل مشاعرہ تھی .

جس تن لاگے " کی تقریب کی صدارت جناب امجد اسلام امجد نے کی.نظامت کے فرائض معروف سکالر اور منتظمہ حرف کار محترمہ عظمٰی سلیم نے بہت خوبصورتی سے ادا کیےحرف کار کے سینیر منتظم سعود عثمانی نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا ۔ افسانوں پر گفتگو کا آغاز معروف شاعرہ محترمہ حمیدہ شاہین نے کیا .ان کے مضمون کے بعد خوبصورت شاعر اور صاحب نظر نقاد جناب ضیا المصطفٰی ترک. جو حسن ابدال سے اس تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے اپنا خوبصورت مضمون پڑھنے کے لیے تشریف لائے.ڈرامہ نگار ناول نگار آمنہ مفتی نے کتاب پر اپنے مختصر تاثر کا اظہار کیا .ان کے بعد نامورنثر نگار کالم نگار اور نقاد جناب جمیل احمد عدیل نے اپنے تفصیلی مضمون میں افسانوں کا جائزہ لیا.نامور ماہر تعلیم اور دانشور جناب نعیم بیگ نے اپنا مختصر اور جامع مضمون پیش کیا اور جناب زبیر سیاف نے نسیم سید کو خراج تحسین ادا کیا ۔



صاحب کتاب نسیم سید نے صاحب صدر سے پہلے اپنا ایک پر تاثر افسانہ پڑھ کر سنایا اور اس کے بعد. سعود عثمانی اورحرف کار کے گھرانے سے اپنی اپنائیت کا اظہار کرتے ہوئے اظہار خیال کرنے والے دوستوں کا شکریہ ادا کیا 
صاحب صدر جناب امجد اسلام امجد نے نسیم کے فن و شخصیت اور ان کے افسانوں کو سراہا اور جس تن لاگے کوبہت عمدہ کتاب قرار دیا .
پہلے حصے کے اختتام پر چائے کے ایک مختصر وقفے کے بعد مشاعرے کا اہتمام تھا. اس محفل کی نظامت بہت خوبصورتی سے منتظم حرف کار اور عمدہ شاعر نوید غازی نے کی 
امجد اسلام امجد کی صدارت امجد اسلام امجد کی تھی اور مہمان خاص نسیم سید تھیں .مہمانان اعزازجناب ڈاکٹر ضیا الحسن اور جناب شاہین عباس تھے .


مشاعرے میں لاہور اور قریبی شہروں کے منتخب اور باکمال نامور شعراء نے شرکت کی .اسامہ ضوریز ، حسن ابدال سے 

آئے ہوئے نوجوان شاعر نیر سیف ۔ جناب عثمان ضیا ۔ تہذیب حافی ، گوجرانوالہ سے عمدہ شاعر جناب شاہد فیروز ، سرگودھا سے تقریب میں شرکت کے لیے تشریف لائی ہوئی سکالر شاعرہ ڈاکٹر عظمٰی سلیم ،جناب زاہد سعید ۔ معروف شاعرہ فرحت زاہد ۔ جناب ریاض رومانی ۔ سوہدرہ (وزیر آباد )سے جناب شیراز ساگر ،ماہر تعلیم جناب ڈاکٹر افتخار، حلقہ ارباب ذوق لاہور کے سیکرٹری جنرل جناب غافر شہزاد ۔ باکمال شاعر جناب نوید رضا ، حسن ابدال سے تقریب میں شرکت کے لیے آئیے ہوئے باکمال شاعرجناب ضیا ترک ۔ اعلٰی شاعر جناب واجد امیر ۔ اعلٰی شاعرہ حمیدہ شاہین ۔ سعود عثمانی ۔ شیخوپورہ سے باکمال شاعر جناب شاہین عباس ۔ منفرد اور خوبصورت شاعر ڈاکٹر ضیا الحسن نے اپنا کلام سنایا ۔ ان شعراء کے بعد باری تھی ٹورنٹو سے تشریف لائی ہوئی بہت اعلٰی شاعرہ اور ساحب شام نسیم سید کی جن سے ان کی کئی نظمیں اور غزلیں سنی گئیں ۔ آخر مٰں صاحب صدر جناب امجد اسلام امجد سے اپنا کلام عطا کیا ۔
درج بالا شعراء کے ساتھ ساتھ جن ادیبوں اور قلم کاروں نے شرکت کی ان میں چند نام درج ذیل ہیں ۔ 

نیلم احمد بشیر ۔ سلمٰی اعوان ۔ آمنہ مفتی ۔ جمیل احمد عدیل ۔جناب شہوار حیدر سی پی یو ریڈیو پاکستان لاہور ۔ جمیل احد صاحب (اکادمی ادبیات) مجتبٰی جعفری ۔ مطلوب الرسول ۔۔ کاظم جعفری ۔ ذوالفقار منہیس ۔ شیراز ۔ شاہد علی خان ( مدیر الحمرا )۔ ڈاکٹر نعیم بیگ ۔ قرب عباس ۔ پرویز سیاف ۔ محترم انیلا سعید ۔ ۔جناب جعفر حسن ۔ خالد محمود ۔ صلاح الدین ۔ جانب جمیل احمد عدیل اور دیگر شرکاء محفل 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں