ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعہ، 12 دسمبر، 2014

نقشبد قمر نقوی بھوپالی کی علمِ عروض پر ایک جامع کتاب ،، کتاب الشعرا،، دھلی سے شائع ہو گئی ہے

نقشبند قمر نقوی بھوپالی کی نئے سال کی پہلی کتاب آج نئی دلی سے ان کے پبلیشر نے ہمیں بھجوائی ہے۔یہ کتاب حماسہ کے بعد قمر نقوی صاحب کی اہم ترین کتاب ہے۔بنیادی طور پر یہ علمِ عروض پر ایک جامع کتاب ہے جسے آسان زباں میں تحریر کیا  گیا ہے۔کتاب کے نو(9 ) باب ہیں جن میں شاعری کی مختصر تاریخ بھی ہے اور بحور کا تذکرہ بھی  نقوی صاحب لکھتے ہیں شاعری کے بارے میں سب سے قدیم کتاب ،، پیری پوئیٹکس ،، یونان کے مشہور فلسفی اور دانشور ارسطو کی تالیف کردہ ہے۔ارسطو کا کہنا ہے کہ ،،ہم انہیں شاعر ان کی جبلت اتحاذ کے پیشِ نظر نہیں کہتے بلکہ ان کی تخلیق کی توازنی(میٹر) حالت اور بحر کے باعث کہتے ہیں،،
نقوی صاحب لکھتے ہیں،، خلیل،جس کا دور 103ہجری سے 171 ہجری تک ہے فنِ عروض کا موجد تھا اس کا شاعر ہونا ثابت نہیں ہوتا البتہ مغنی ہونا معلوم ہے۔ خلیل نے پندرہ بنیادی بحور مرتب کی تھیں، کچھ عرصہ بعد مزید چار بحور کا اضافہ کیا گیا اور بحور کی مجموعی تعداد اکس ہو گئی
نقوی صاحب نے شعر کی اقسام، اصنافِ شعری،،بحور،ان کے ارکان کی تعداد،بحور کے تحت شعروں کی تقطع وغیرہ،غرضکہ عروض پر سیر حاصل بحث کی ہے۔کتاب الشعر پڑھی جانے والی کتاب ہے اس لئے نہیں کہ نئی نسل کو عروض کا اپنی شاعری پر اظلاق کرنا چاہیئے بلکہ اس لئے کہ اسے پڑھنے سے ان کے ذھن میں شاعری کا جو میٹر نصب ہے وہ بہتر کام کرنا شروع کر دے گا۔انہیں عروضی شاعر نہیں بننا ہے،صرف سکتہِ خفیف کی موجودگی کو ختم کرنا ہے۔ عروض پر دستیاب کتب میں یہ ایک یہم اور اچھا اضافہ ہے کتاب کے بارے میںwww.ephbooks.com سے معلومات مل سکتی ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں