ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 31 دسمبر، 2014

عکس کو آنکھ سے تھاما ہے سرِآبِ رواں ۔۔ شہزاد نیئر

شہزاد نیئر
جیسے دیکھا ھے، دکھایا بھی نہیں جا سکتا
خواب کا حال سنایا بھی نہیں جا سکتا
پھینکی جاتی بھی نہیں راہ میں یادیں اُس کی
اور یہ بوجھ اُٹھایا بھی نہیں جا سکتا
عکس کو آنکھ سے تھاما ہے سرِآبِ رواں
چاند پانی میں بہایا بھی نہیں جا سکتا
دو کنارے بھی یہ ہوتے تو ملا دیتا میں
دل کو دنیا سے ملایا بھی نہیں جا سکتا
ہوتے ہوتے وہ مجھے عشق نگر لے ہی گیا
میں نے سو بار بتایا بھی، نہیں جا سکتا
اُس جگہ رہ کے میں آیا ہوں تخیُّل والو
جس جگہ سوچ کا سایا بھی نہیں جا سکتا
نامرادی رُخِ قاتل پہ لکھی رہتی ھے
خون کا داغ مٹایا بھی نہیں جا سکتا
حالِ آئندہ سناتا چلا جاتا لیکن
ہنسنے والوں کو رُلایا بھی نہیں جا سکتا
ورنہ دن رات میں سر توڑ مشقّت کرتا
کیا کروں پیار کمایا بھی نہیں جا سکتا
اب میں کیا راہ نکالوں کہ جدائی جائے
اُس سے آیا بھی ، بلایا بھی نہیں جا سکتا
دل ہی مِسمار کریں اہلِ محبت نیّر
پورا ماحول تو ڈھایا بھی نہیں جا سکتا

سوموار، 29 دسمبر، 2014

صبیحہ صبا کے پانچویں مجموعہِ کلام ،، دل درد آشنا کا مطالعہ


متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ ثروت زہرہ اردو منزل ڈاٹ کام کی 

مدیراعلیٰ
محترمہ صبیحہ صبا کے پانچواں مضموعہِ کلام ،،دل درد آشنا ،، کا مطالعہ کرتے ہوئے
 

جمعہ، 26 دسمبر، 2014

بیتی رات کا قصہ اور اک کہانی بس ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
بیتی رات کا قصہ اور اک کہانی بس
عمر کس طرح گزری پوچھ نہ جوانی بس
یاد اب بھی آتی ہیں پچھلی بار کی باتیں
تیرے ساتھ وہ موسم اور رُت سُہانی بس
 وقت کس طرح بیتا روز و شب کٹے کیونکر
کون یاد رکھے گا کس نے ہے سُنانی بس
 عمر اس طرح گزری جُوں رواں دواں دریا
دیکھا بہتا دریا تو یاد تھی روانی بس
 کس طرح بلاو گے لوٹے وقت کو انور
دن جو رات میں ڈوبا رات تھی دیوانی بس

بدھ، 24 دسمبر، 2014

پروفیسر عبدالصمد نور سہارن پوری کا مجموعہ کلام پیکرِ خیال ۔۔۔ایک جائزہ

علامہ محمد اقبال نے عشق کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشا  ئے  لبِ بام ابھی
عشق میں عقل کا گذر نہیں ہوتا،محبت،عشق،چاہت ایک نازک اور غیر مرئی احساس کا نام ہے،اس خیال کے پیکر کو الفاظ میں ڈالنا اور تخلیقی لمس کے ساتھ منکشف کرنا معنی دارد۔نظم نگاروں کے لئے یہ خاصا مشکل کام ہے لیکن غزل وہ صنف ہے جس کی فضا،لفظیات اور ہیت، محبت اور عشق کی کیفیات بیاں کرنے کے لئے خاصی  موزوں ہے۔ علامہ اقبال تو قادرالکلام تھے وہ ایسا خیال آفرین شعر کہہ کرانسانی شعور کا ادراک کرا گئے۔ہمیں علامہ اقبال کا یہ شعر کراچی  کے شاعر کا مجموعہِ کلام پیکرِ خیال کا مطالعہ کرتے ہوئے یاد آ گیا کیوں کے اس کے خالق پروفیسر عبدالصمد نور سہارن پوری  جو اپنے نام کی قدامت کے برعکس ایک نوجوان  شاعر ہیں وہ اپنے مجموعہ،،پیکرِ خیال میں اپنی تازہ کاری 
کے ساتھ جدت پذیر ہیں۔

عشق کی تشریح کرتے ہوئے عبدالصمد نور لکھتے ہیں 
بادیہ پیما اگر ہو تو ہے مجنوں ترجماں 
دار تک پہنچے تو پھر منصور کہلاتا ہے عشق
جب بھی اپنے وصف کی تشریح فرماتا ہے عشق
مختلف اقسام کی تصویر بن جاتا ہے عشق
تیشہء فرہاد کی تفسیر جوئے شیر ہے
لیلیٰ و شیریں کی بھی تقدیر بن جاتا ہے عشق
انسان اور خالق کے مابین عشق جب عروج پر ہوتا ہے تو عقل محوِ تماشا رہ جاتی ہے اور عشق وجد میں آ جاتا ہے۔
ہوگی پیشانی  زمیں پر اور نگاہیں عرش پر
اس گھڑی ہوتا ہے جب خود وجد میں آتا ہے عشق
عشقِ حقیقی ہو یا عشقِ مجازی لفظ،عشق کی تعبیر دراصل محبت کے مختلف روپ ہیں  جو عبدالصمد نور کی شاعری سے آشکار ہیں جن سے  محبت آشنا ہر شخص کا پالا پڑتا ہے۔کبھی یوں ہوتا ہے کہ زندگی کے کسی حصے میں انسان کا کسی شخص سے معمولی سا تعلق،دل کی حساس پلیٹ پر دائمی نقوش  چھوڑ جاتا ہے۔عبدالصمد نور کی شاعری پڑھتے ہوئے یہ احساس اپنے آپ کو محسوس کرانے لگتا ہے۔
ترے خیال نے آ کر اسے سکون بخشا
وگرنا یہ دل غمگین اداس رہتا تھا
وہم ہے یا ہے یہ تیری آہٹ
سن رہا ہوں  نئی نئی آہٹ
جس کو چاہا ہے ٹوٹ کر چاہا
کتنی معصوم ہے خطائے دل
اشک ہوتے ہیں آنکھ سے جاری
عشق کے زخم جب چھپائے دل
تری دوری نے مجھ کو اس قدر بے چین رکھا ہے
تجھے ہی یاد کرتا ہوں تجھے ہی سوچتا ہوں میں 
پیکرِ خیال کا دوسرا عنصر لاحاصلی کا شدید احساس ہے انسان عمر بھر خواہشوں کے پیچھے بھا بھاگتے عمر بتا دیتا ہے۔بے ثمری اور لاحاصلی انسان کا مقدر بن جاتا ہے
کبھی ہے آب کی قلت کبھی نایاب ہے دانہ
کبھی محروم ہونے کے سبب سے رو پڑا ہوں میں 
عبدالصمد نور کی اپنے اردگرد کے ماحول پر گہری نظر ہے اور کیوں نا ہو ایک حساس ادیب اپنے ارد گرد کے ماحول سے نظریں نہیں چرا سکتا۔نور کی یہ خاصیت دکھائی دیتی ہے کہ جو کچھ وہ دیکھتا ہے اسے بڑی سادگی سے بیان کر دیتا ہے۔ 
اک روز انقلاب کے موجب بنیں گے وہ
بچوں کو اپنے آج جو دفنا رہے ہیں لوگ
جب سے رازق بن گئے بے رحم دنیا کے امیر
خود کشی کرتے ہیں انساں بھوک ہے ایسا مرض
آج کے معاشرے کا عکس نما بنتے ہوئے عبدالصمد نور نے کیا حقیقت بیانی کی ہے کہتے ہیں 
توڑ دیں شیشے نہ ایوانوں کے یہ مفلس کہیں 
لرزاہ بر اندام ہے اس ڈر سے سلطانی روش
ہر نیا لکھنے والا مشقِ سخن کرتے ہوئے معروف شعرا کی زمینوں کو تختہِ مشق ضرور بناتا ہے،یہی احساس پیکرِ خیال کو پڑھتے ہوئے بھی ہوتا ہے لیکن پیکرِخیال کے خالق نے  معروف شعرا کو خود پر طاری نہیں ہونے دیا۔آخر میں پیکرِ خیال سے ایک شعرپڑھنے والوں کی سماعتوں کی نظر ہے۔
مربوط ہے انھیں سے ہر اک شعر کا جمال
الفاظ ہی تو اصل میں ہیں پیکرِ خیال

منگل، 23 دسمبر، 2014

ڈیلس : ہندوستان کے معروف بزرگ شاعر پروفیسر کلیم عاجز کے ساتھ شام ۔ کلیم عاجز کی شاعری قدیم و جدید دونوں کا امتزاج ہے :کرامت گردیزی

 ڈیلس کی ادبی انجمنوں کے تعاون سے ہندوستان کے معروف  بزرگ شاعر پروفیسر کلیم عاجز کے ساتھ شام منائی گئی جس میں اُردو گھر ڈیلس کے بانی ڈاکٹر عامر سلیمان‘ النور انٹرنیشنل کے بانی و چیئرمین نور امرہوی‘ ڈیلس کے معروف شاعر سید یونس اعجاز‘ سعید قریشی‘ شاہ عالم صدیقی‘ ڈاکٹر شمسہ قریشی‘ مائیک غوث سمیت مقامی شعراء‘ سیاسی و سماجی‘ ادبی تنظیموں کے رہنماؤں اور مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔ مشاعرے کا اہتمام امریکہ میں مسلم ڈیموکریٹک کاکس کے شریک چیئرمین سید فیاض حسن نے کیا تھا۔ مشاعرے کی صدارت امریکہ کے معروف شاعر کرامت گردیزی نے کی جبکہ مشاعرے کی نظامت معروف شاعر نور امرہوی نے کی۔ مقامی شعراء نے مہمان خصوصی پروفیسر کلیم عاجز کو زیادہ سے زیادہ سننے کی وجہ سے ایک غزل پر ہی اکتفا کیا تاہم مقامی شعراء نے بھی اپنا کلام بھرپور طریقے سے پیش کیا اور حاضرین سے ڈھیروں داد وصول کی۔ پروگرام کے منتظم سید فیاض حسن نے پروفیسر کلیم عاجز کا مشاعرے میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ کلیم عاجز جیسی شخصیات برسوں میں پیدا ہوتی ہیں انہوں نے کہاکہ انڈیا کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے سامنے انہوں نے اپنے اشعارکے ذریعے اُن پر طنز کے تیر چلائے اور وہ کچھ کہہ دیا جس کی کوئی جرأت نہیں کر سکتا۔ النور انٹرنیشنل کے چیئرمین نور امرہوی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پروفیسر کلیم عاجز کی غزلوں کے حروف میں مروت کے موتی ہیں اور جب بھی یہ نوک قلم سے مسائل کردیتے ہیں تو ان کے قلم کی نوک مصور کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ معروف شاعر سید یونس اعجاز نے کہاکہ ایشین امریکن رائٹرز کے پلیٹ فارم سے وہ پروفیسر کلیم کاجز کو امریکہ آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ اُردو گھر کے بانی ڈاکٹر عامر سلیمان نے بھی پروفیسر کلیم عاجز کی خدمات کے بارے میں ان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ دور میں ان کی شخصیت آج کل کے شعراء کیلئے مشعل راہ ہے۔ مشاعرے کے صدارتی خطاب میں معروف شاعر کرامت گردیزی نے کہاکہ شاعری مسائل حیات کے اظہار اور اس کی ترجمانی کا نام ہے اور کلیم عاجز کی شاعری قدیم و جدید دونوں کا امتزاج ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم ایسی شخصیت کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو کچھ نہ کچھ سیکھ کر ہی اُٹھتے ہیں۔اس موقع پر پروفیسر کلیم عاجز نے اپنا کلام حاضرین کے سامنے پیش کیا تو ہر طرف سے واہ واہ اور مقرر مقرر کی صدائیں بلند ہوتی رہیں،ان کے چند اشعار کچھ یوں تھے:
جب کبھی عالم مستی میں غزل کہتے ہیں
آج کہہ دیتے ہیں ہم‘ لوگ جو کل کہتے ہیں
وہ بہاتا ہے لہو اور غزل سنتا ہے
ہم لہو گھونٹتے ہیں اور غزل کہتے ہیں
درد و غم جمع کیا میرؔ نے ہم نے بھی کیا
وہ بھی کہتے تھے غزل‘ ہم بھی غزل کہتے ہیں
آزمانا ہے تو آ بازو دل کی قوت
تو بھی شمشیر اُٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیں
محفل رات گئے تک جاری رہی اور ادب و سخن سے جڑے افراد پروفیسر کلیم عاجز اور دیگر شعراء کے کلام سے بے حد
محظوظ ہوئے۔
(رپورٹراجہ زاہد اختر خانزادہ):

ہمارا کام ہے شعروں میں اپنا درد بھر دینا ۔۔ محمود رضا سید

محمود رضا سید
مکیں کرتے نہیں لیکن مکاں محسوس کرتے ہیں 
در و دیوار گھر کے سسکیاں محسوس کرتے ہیں 
کسی کے ہجر کو ہم نے برابر وصل سمجھا ہے 
کسی کے وصل میں ہم دوریاں محسوس کرتے ہیں 
ہمارا کام ہے شعروں میں اپنا درد بھر دینا ........
یہاں کے لوگ ہی کم کم میاں محسوس کرتے ہیں 
تمہارے دھوپ کے اس شہر میں رہتے تو ہیں لیکن 
تمہارے ہجر کا یہ سائباں محسوس کرتے ہیں .....
ہماری چیختی روندی ہوئی اس زندگی کا درد ...
ہمارے عہد کے کب حکمراں محسوس کرتے ہیں ؟
بہت شیریں سی باتیں ہوں بہت ہی تلخ لہجے ہوں 
رضا ہر لفظ کو اہل- زباں محسوس کرتے ہیں ......

سوموار، 22 دسمبر، 2014

لیاقت علی عاصم کی،،نیشِ عشق،، عرفانِ عشق یا عرفانِ ذات کا مکمل جواز پیش کرتی ہے:

اس سے بہتر کوئی تصویر نہیں ہے مرے پاس
دیکھ سکتی ہے مجھے میری غزل میں دنیا
لیاقت علی عاصم نے دل آویز سوچ تصویریں اس اعلان کے ساتھ پیش کی ہیں کہ لفظوں کی بنت سے تخلیق کردہ اس سے بہتر کوئی تصویر ان کے پاس نہیں ہے۔لیاقت علی عاصم نے یہ اعلان اپنی تازہ ترین تخلیق،، نیشِ  عشق،، میں کیا ہے۔نیشِ عشق ان کی ساتویں تخلیق ہے۔
اس مجموعہ کلام میں سب سے پہلے ان کی اپنی ذات کے نقوش ابھرتے نظر آتے ہیں۔
قصرِ ہزار در میں مقفل ہوں ان دنوں 
اک فیصلے کی زد پہ مسلسل ہوں ان دنوں 
ایسا نزولِ شعر ہوا ہی نہیں کبھی
عاصم ہجومِ فکر سے پاگل ہوں ان دنوں 

میرے خیال میں شاعری دراصل  فن کار کی شخصیت سے آگہی ہے اسی عرفانِ ذات کے حوالے سے ہربرٹ  ریڈ کا کہنا ہے کہ،، یہ صرف فیضان ہی نہیں ہے جس سے کہ کوئی شخص شاعر بنتا ہے،بنیادی قوت، اپنی شخصیت کی آگہی ہے اور شخصیت کے خلقی ِ عمل اور حرکت کو، اندرونی بغاوت اور انتشار سے بچاتے ہوئے، پروان چڑہانے کی صلاحیت ہے،،
غزل کے کینوس پر جو تصویر بنتی ہے وہ ایک ایسے حساس فن کار کی تصویر ہے جسے عرفانِ آگہی ہے۔
دل پہ طاری تھا گریہِ اظہار
شعر کہنے لگا میں زاروقطار
حیرت بیان کی ہے تماشا نہیں لکھا
جیسا وہ ہے ابھی اسے ویسا نہیں لکھا
جو بات دل کے پاس آئی نہیں سنی
جو حرفِ درد سے نہیں گزرا،نہیں لکھا
شعر جیسے بھی کہے ہوں مگر اس ناز کے ساتھ
میں نے شہرت کے لئے شہر میں سازش نہیں کی
میرے خرمن کی شادابی ہے عاصم
حریفانِ سخن کی خوشہ چینی
عاصم بھی بن گئے تو جانئیے گا آپ
ہونا تھا جن کو غالب و اقبال، ہو چکے
عاصم ہنر شیشۂ گری کیوں چھوڑوں 
نقاد مرے شہر کے پتھر کے سہی
لیاقت علی عاصم کی شعری تصویروں میں مبالغہ آرائی نہیں ہے۔وہ جس طرح اپنی ذات کی سچی تصویر پینٹ کرتے ہیں اسی لمحہِ موجود کی مصوری بھی بڑی سادگی سے کرتے ہیں۔قابلِ تحسین بات یہ ہے کہ ماحول کی شبیہ کو پہلے اپنی ذات کی سیربین میں دیکھتے ہیں اور شعر کے کینوس پر منتقل کرتے ہیں۔
لفظ کا اتنا بھی معنی یاب ہونا ظلم ہے
خواب لکھتے لکھتے خود بھی خواب ہونا ظلم ہے
چند لہریں ساتھ بہتے اے مرے دریا مزاج
عین ساحل پر ترا گرداب ہونا ظلم ہے
لیاقت علی عاصم کی غزل کا بڑا وصف یہ ہے کہ اس میں خارجی اور داخلی ماحول کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں اور انسانی فطرت اور باطن کی نغمہ بار تصاویر بھی۔تصاویر کی یہ دونوں اقسام جب یکجا ہوتی ہیں تو عاصم کے آرٹ کی تاثیر بڑہاتی ہیں۔پہلے خارج کی چند تصویریں دیکھتے  ہیں؛۔
صاف دیوارِ محبت نہیں رہتی اکثر
کچھ نہ کچھ خلقِ خدا لکھتی ہے ایسا ویسا
روز پیروں تلے کچلتا ہوں 
پھر بھی سر پر سوار ہے دنیا
دارورسن پہ  جھول گیا تھا وہ بے گناہ
وہ دن ہے اور آج کا دن مر رہے ہیں ہم
نہ جانے کتنے سناٹے مجھے آواز دیتے ہیں 
نہ جانے کتنی آوازیں مجھے خاموش رکھتی ہیں 
کہاں کی شاعری کیا شاعرِ جدید ہوں میں 
بس ایک حرفِ محبت سے مستفید ہوں میں 
تمہاری طرح سے لکھتا تو مٹ چکا ہوتا
یہ میں جو ہوں یہ روایات کا ثمر ہے میاں 
جیسا کہ میں نے ابتدا میں کہا لیاقت علی عاصم کی،،نیشِ عشق،، عرفانِ عشق یا عرفانِ ذات کا مکمل جواز پیش کرتی ہے اسے اپنی تحریر کی جدت اور رفعت کا عرفان ہے۔ وجدانی بینائی کی نعمت سے مالا مال ہو کر جب شاعر عملِ تخلیق سے گزرتا ہے تو اسے تخیل کے زور پر بڑی بڑی باتیں کرنے سے کہیں زیادہ ذاتی تجربے کی بنیاد پر سچی اور کھری بات کہنا پسند ہے۔
عاصم کی غزل ایک آئینہ خانہ ہے اور ہر آئینے میں اس کی ذات ہے البتہ تصویریں دیکھنے والوں کو یکسانیت سے بچانے کے لئے لیاقت علی عاصم نے کمال مہارت سے ہر تصویر کا پسِ منظر بدل دیا ہے۔
کئی عکسِ ماہِ تمام تھے مجھے کھا گئے
وہ جو خواب سے لبِ بام تھے مجھے کھا گئے
وہ جو بکھرے بکھرے سے لوگ تھے مرے روگ تھے
وہ جو متصل دروبام تھے مجھے کھا گئے
میں تو پہلے ہی کھٹکتا ہوں دلوں میں عاصم
کیوں مجھے آپ گلِ شاخِ ابد کہتے ہیں 
لیاقت علی عاصم نے اپنے مجموعہِ کلام کا نام الطاف حسین حالی کے اس شعر سے اخذ کیا ہے۔
اک عمر چاہیئے کہ گوارا ہو نیشِ عشق
رکھی ہے آج لذتِ زخمِ جگر کہاں

جمعہ، 19 دسمبر، 2014

بزم ِ فیضان ِ رضا کراچی کا طرحی نعتیہ مشاعرہ ،صدارت ڈاکٹر جاوید منظر نے کی

سید انور جاوید ہاشمی بزمِ فیضاں، رضا میں ہدیہِ نعت پیش کرتے ہوئے
انجمن ترقی ء اردو پاکستان کراچی کے شریک معتمد ڈاکٹرجاوید منظر کی صدارت میں بزم ِ فیضان ِ رضا کا طرحی نعتیہ مشاعرہ پروفیسرعبدالصمدنورسہارن پوری کی قیام گاہ پر ہو جس کے مہمان خصوصی آصف رضا رضوی اور مہمان اعزازی جمال احمد جمال تھے۔ سید انورجاویدہاشمی،سیداخترعلی انجم،نعیم انصاری،خمار زیدی،شارق رشید،علمداراسلم،آسی سلطانی ،عبدالصمد نور سہارن پوری،عارف زیبائی،مہتاب عالم مہتاب،زاہد علی سیّد،اخلاق درپن مراد آبادی اور ناظم محفل عدنان عکس نے طرحی نعتیں پیش کیں۔ ڈاکٹر جاوید منظر نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ۱۹ موجود شعراء اور قمروارثی کی بھیجی ہوئی طرحی نعت سن کر خوشی ہوئی اس قسم کی نعت و حمد اور مناقب کی محفلوں کو انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ پھر وہی ہوگا جو تین روز قبل پشاور میں ہوا۔ ہم لوگ اسوہ ء حسنہ سیرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ہی صراط مستقیم پر گام زن رہ سکتے ہیں اللہ تعالی ِ نے بھی نعت کہی ،حسان بن ثابت اور سعدی و جامی ہی نہیں چودہ سو سال سے تواتر سے وجہ تخلیق کائنات کی توصیف و ثناء کی جارہی ہے اس کے باوجود آج یہاں کتنا اچھا کلام پیش کیا گیا پھر بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ کچھ کہا ہی نہیں گیا۔

بدھ، 17 دسمبر، 2014

نسیم سید کے افسانوں کے مجموعے "جس تن لاگے " کی ۔تقریب پذیرائی ، حرف کار کی سالانہ محفل مشاعرہ

حرف کار (عالمی ) کے زیر اہتمام خوبصورت اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا .تقریب کے پہلے حصے میں نسیم سید کے افسانوں کے مجموعے "جس تن لاگے " کی ۔تقریب پذیرائی تھی جبکہ  مختصر وقفے کے بعد دوسری محفل حرف کار کی سالانہ محفل مشاعرہ تھی .

جس تن لاگے " کی تقریب کی صدارت جناب امجد اسلام امجد نے کی.نظامت کے فرائض معروف سکالر اور منتظمہ حرف کار محترمہ عظمٰی سلیم نے بہت خوبصورتی سے ادا کیےحرف کار کے سینیر منتظم سعود عثمانی نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا ۔ افسانوں پر گفتگو کا آغاز معروف شاعرہ محترمہ حمیدہ شاہین نے کیا .ان کے مضمون کے بعد خوبصورت شاعر اور صاحب نظر نقاد جناب ضیا المصطفٰی ترک. جو حسن ابدال سے اس تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے اپنا خوبصورت مضمون پڑھنے کے لیے تشریف لائے.ڈرامہ نگار ناول نگار آمنہ مفتی نے کتاب پر اپنے مختصر تاثر کا اظہار کیا .ان کے بعد نامورنثر نگار کالم نگار اور نقاد جناب جمیل احمد عدیل نے اپنے تفصیلی مضمون میں افسانوں کا جائزہ لیا.نامور ماہر تعلیم اور دانشور جناب نعیم بیگ نے اپنا مختصر اور جامع مضمون پیش کیا اور جناب زبیر سیاف نے نسیم سید کو خراج تحسین ادا کیا ۔



صاحب کتاب نسیم سید نے صاحب صدر سے پہلے اپنا ایک پر تاثر افسانہ پڑھ کر سنایا اور اس کے بعد. سعود عثمانی اورحرف کار کے گھرانے سے اپنی اپنائیت کا اظہار کرتے ہوئے اظہار خیال کرنے والے دوستوں کا شکریہ ادا کیا 
صاحب صدر جناب امجد اسلام امجد نے نسیم کے فن و شخصیت اور ان کے افسانوں کو سراہا اور جس تن لاگے کوبہت عمدہ کتاب قرار دیا .
پہلے حصے کے اختتام پر چائے کے ایک مختصر وقفے کے بعد مشاعرے کا اہتمام تھا. اس محفل کی نظامت بہت خوبصورتی سے منتظم حرف کار اور عمدہ شاعر نوید غازی نے کی 
امجد اسلام امجد کی صدارت امجد اسلام امجد کی تھی اور مہمان خاص نسیم سید تھیں .مہمانان اعزازجناب ڈاکٹر ضیا الحسن اور جناب شاہین عباس تھے .


مشاعرے میں لاہور اور قریبی شہروں کے منتخب اور باکمال نامور شعراء نے شرکت کی .اسامہ ضوریز ، حسن ابدال سے 

آئے ہوئے نوجوان شاعر نیر سیف ۔ جناب عثمان ضیا ۔ تہذیب حافی ، گوجرانوالہ سے عمدہ شاعر جناب شاہد فیروز ، سرگودھا سے تقریب میں شرکت کے لیے تشریف لائی ہوئی سکالر شاعرہ ڈاکٹر عظمٰی سلیم ،جناب زاہد سعید ۔ معروف شاعرہ فرحت زاہد ۔ جناب ریاض رومانی ۔ سوہدرہ (وزیر آباد )سے جناب شیراز ساگر ،ماہر تعلیم جناب ڈاکٹر افتخار، حلقہ ارباب ذوق لاہور کے سیکرٹری جنرل جناب غافر شہزاد ۔ باکمال شاعر جناب نوید رضا ، حسن ابدال سے تقریب میں شرکت کے لیے آئیے ہوئے باکمال شاعرجناب ضیا ترک ۔ اعلٰی شاعر جناب واجد امیر ۔ اعلٰی شاعرہ حمیدہ شاہین ۔ سعود عثمانی ۔ شیخوپورہ سے باکمال شاعر جناب شاہین عباس ۔ منفرد اور خوبصورت شاعر ڈاکٹر ضیا الحسن نے اپنا کلام سنایا ۔ ان شعراء کے بعد باری تھی ٹورنٹو سے تشریف لائی ہوئی بہت اعلٰی شاعرہ اور ساحب شام نسیم سید کی جن سے ان کی کئی نظمیں اور غزلیں سنی گئیں ۔ آخر مٰں صاحب صدر جناب امجد اسلام امجد سے اپنا کلام عطا کیا ۔
درج بالا شعراء کے ساتھ ساتھ جن ادیبوں اور قلم کاروں نے شرکت کی ان میں چند نام درج ذیل ہیں ۔ 

نیلم احمد بشیر ۔ سلمٰی اعوان ۔ آمنہ مفتی ۔ جمیل احمد عدیل ۔جناب شہوار حیدر سی پی یو ریڈیو پاکستان لاہور ۔ جمیل احد صاحب (اکادمی ادبیات) مجتبٰی جعفری ۔ مطلوب الرسول ۔۔ کاظم جعفری ۔ ذوالفقار منہیس ۔ شیراز ۔ شاہد علی خان ( مدیر الحمرا )۔ ڈاکٹر نعیم بیگ ۔ قرب عباس ۔ پرویز سیاف ۔ محترم انیلا سعید ۔ ۔جناب جعفر حسن ۔ خالد محمود ۔ صلاح الدین ۔ جانب جمیل احمد عدیل اور دیگر شرکاء محفل 

جمعہ، 12 دسمبر، 2014

ہوں عکس آئینہ سویا نہیں ہوں ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
میں جیسا کل تھا اب ایسا نہیں ہوں
مجھے دیکھو کہیں بکھرا نہیں ہو ں
 مجھے غافل نہ کر اے زندگی تو
بھلایا ہوں میں خود بھولا نہیں ہوں
 پُرانے شہر کی گلیوں میں دیکھو
وہیں مل جاوں گا کھویا نہیں ہوں
 جہاں چاہو گے مجھ کو پاو گے تم
ہوں عکس آئینہ سویا نہیں ہوں
خیال یار گُم گشتہ کی طرح
کسی راہداری میں بھٹکا نہیں ہوں
 کبھی آجاوں تم کو یاد انور
ہوا سے پوچھنا بچھڑا نہیں ہوں



نقشبد قمر نقوی بھوپالی کی علمِ عروض پر ایک جامع کتاب ،، کتاب الشعرا،، دھلی سے شائع ہو گئی ہے

نقشبند قمر نقوی بھوپالی کی نئے سال کی پہلی کتاب آج نئی دلی سے ان کے پبلیشر نے ہمیں بھجوائی ہے۔یہ کتاب حماسہ کے بعد قمر نقوی صاحب کی اہم ترین کتاب ہے۔بنیادی طور پر یہ علمِ عروض پر ایک جامع کتاب ہے جسے آسان زباں میں تحریر کیا  گیا ہے۔کتاب کے نو(9 ) باب ہیں جن میں شاعری کی مختصر تاریخ بھی ہے اور بحور کا تذکرہ بھی  نقوی صاحب لکھتے ہیں شاعری کے بارے میں سب سے قدیم کتاب ،، پیری پوئیٹکس ،، یونان کے مشہور فلسفی اور دانشور ارسطو کی تالیف کردہ ہے۔ارسطو کا کہنا ہے کہ ،،ہم انہیں شاعر ان کی جبلت اتحاذ کے پیشِ نظر نہیں کہتے بلکہ ان کی تخلیق کی توازنی(میٹر) حالت اور بحر کے باعث کہتے ہیں،،
نقوی صاحب لکھتے ہیں،، خلیل،جس کا دور 103ہجری سے 171 ہجری تک ہے فنِ عروض کا موجد تھا اس کا شاعر ہونا ثابت نہیں ہوتا البتہ مغنی ہونا معلوم ہے۔ خلیل نے پندرہ بنیادی بحور مرتب کی تھیں، کچھ عرصہ بعد مزید چار بحور کا اضافہ کیا گیا اور بحور کی مجموعی تعداد اکس ہو گئی
نقوی صاحب نے شعر کی اقسام، اصنافِ شعری،،بحور،ان کے ارکان کی تعداد،بحور کے تحت شعروں کی تقطع وغیرہ،غرضکہ عروض پر سیر حاصل بحث کی ہے۔کتاب الشعر پڑھی جانے والی کتاب ہے اس لئے نہیں کہ نئی نسل کو عروض کا اپنی شاعری پر اظلاق کرنا چاہیئے بلکہ اس لئے کہ اسے پڑھنے سے ان کے ذھن میں شاعری کا جو میٹر نصب ہے وہ بہتر کام کرنا شروع کر دے گا۔انہیں عروضی شاعر نہیں بننا ہے،صرف سکتہِ خفیف کی موجودگی کو ختم کرنا ہے۔ عروض پر دستیاب کتب میں یہ ایک یہم اور اچھا اضافہ ہے کتاب کے بارے میںwww.ephbooks.com سے معلومات مل سکتی ہیں

بدھ، 10 دسمبر، 2014

روحی طاہر کا افسانوی مجموعہ،، چور لمحہ


روحی طاہر کے افسانوی مجموعہ،، چور لمحہ،، کا مطالعہ کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افسانہ نگار نے سیدھے سادے بیانیہ انداز میں کہانیاں لکھی ہیں،ایسی کہانیاں جن میں علامت نہیں،تجرید نہیں،کوئی بل چھل نہیں اور انہیں سمجھنے کے لئے کسی نفسیاتی تنقید کی  بھی ضرورت نہیں،اپنی سادہ کاری کے باوصف یہ کہانیاں دلکش ہیں،افسانوں کی یہ دلکشی ان کے موضوعات کی اہمیت اور توانائی کی وجہ سے ہے۔

ان کہانیوں کے موضوعات معاشرے کے مختلف طبقوں خصوصاََ خواتین اور بالخصوص ورکنگ وومین کی زندگی کے گرد گھومتے ہیں۔موضوعات کی اسی رنگا رنگی  اور دل آویزی نے روحی طاہر کے افسانوں میں اثرانگیزی پیدا کی ہے اور ان کے قلم کو اعتبار بخشا ہے۔
،،چور لمحہ،، روحی طاہر کی تیئس(23) کہانیاں نہیں ہیں بلکہ ربط سے نا آشنا ایک ہی کہانی ہے،یہ عورت کہانی ہے جو دائرے میں گھومتی ہے۔روحی طاہر نے چور لمحہ لکھ کر افسانے کی دنیا میں ایسا اضافہ کیا ہے جس میں نرم و نازک احساس کم اور کانٹوں کی چبھن زیادہ ہے ان میں نرم و نازک احساس کی خوشبو کم اور کڑواہٹ زیادہ ہے۔ ان افسانوں میں چبھتے کانٹے عورت کو حقیقت برداشت کرنے اور مقابلے کی طاقت عطا کرتے ہیں۔
پیشے کے اعتبار سے روحی طاہر ایک وکیل ہیں اس لئے عورت کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے انہوں  نے عورت کو ان کے حقوق تک رسائی کی امید دلائی ہے جو وومین ایکٹ2011میں دئیے گئے ہیں۔دفعات کی زبان میں بات کرنے والی روحی طاہر جب کہانی لکھتے ہوئے کردار تراشی کرتی ہیں تو کردار کے مطابق ماحول بھی تخلیق کرتی ہیں،دفتری ماحول کی عکاسی کرتے ہوئے وہ مردانہ فرسٹریشن کو بھرپور انداز میں نمایاں کرتی نظر آتی ہیں۔
،،چور لمحہ،، وہ افسانہ ہے جو اس مجموعے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور یہی افسانوی مجموعے کا عنوان  بھی ہے۔یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو زنانہ ڈائجسٹ پڑھتی ہے اور ہر خواہش پوری ہونے کے باوجود محبت کی لذت سے نا آشنا رہتی ہے۔شادی کے بندھن میں بندھنے کے باوجود سال ہا سال گذر جاتے ہیں پھر ایک لمحہ اس کی زندگی میں بھی آتا ہے۔ افسانے کی مرکزی کردار پونم کے لئے جو ایک مشرقی عورت ہے وہ لمحہ ایک چور لمحہ بن جاتا ہے۔
روحی طاہر کے افسانے حقائق کے فوارے کے پانی کی طرح اچھلتے ہیں جو سچ کی سطح سے ابھرتے ہیں  پھر اسی سطح پر آن گرتے ہیں اور یوں یہ سطح کبھی خشک نہیں ہوتی۔افسانہ نگار کے اندر کا سچ باہر آتے آتے کتنے روپ بہروپ بھرتا ہے یہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا،یہ بھی ہوتا ہے کہ دیکھنے  پرظاہر کے سچ کا رنگ اصل سے اتنا مختلف نظر آتا ہے کہ سچ کا ہر رنگ اندر ہی رہ گیا ہے،باہر محض تھکے ہوئے رنگ نظر آرہے ہیں۔روحی طاہر نے عورت کے خوابوں کو حقیقت کی ٹھوس  خوش رنگت بخشی ہے۔
روحی طاہر عورت ہے اور،،چور لمحہ،، ایک آئینہ ہے جس میں ہر طرف عورت کا عکس نظر آتا ہے مگر یہ عکس دھندلایا ہوا ہے مرد کی خود پرستی اور بدطینتی کی دھند سے۔
،،شہر کا رستہ،، کی کہانی بھی مرد کی بدطینتی سے دھندلائی ہوئی ہے جس کے آئینے میں ہوس ناچتی نظر آتی ہے۔افسانے کا ایک پیرا دیکھیئے:
،،بابو جی کئی بار اسے سلمیٰ کی مثال دے چکے تھے کہ  سلمیٰ کے بڑے افسران سے اچھے تعلقات ہیں اور صائمہ تو سلمیٰ کے مقابلے میں خوبصورت بھی ہے وہ چاہے تو اس کا تبادلہ گھر کے قریب بھی ہو سکتا ہے،اور اس بل پاس کروانے والے کلرک کو مٹھائی بھی نہیں دینی پڑے گی۔ بس بڑے افسر کی نگاہِ کرم چاہیئے اس کے ہر کام جادو کی جھڑی سے ہوں گے۔
اس نے سلمیٰ سے اس کا ریشمی برقعہ مستعار لیا اور بابو کے ساتھ جا کر بس کی سیٹ پر بیٹھ گئی۔بوبو نے سلمیٰ کی تنخواہ لانے کی حامی بھرتے ہوئے سلمیٰ کو آنکھ ماری اور بس فراٹے بھرتی شہر روانہ ہو گئی،،
افسانے میں روحی طاہر نے اکثر سوالیہ انداز کا استعمال کیا ہے اس طرح ایک طرف کہانی کا تاثر اور جاذبیت میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب روحی طاہر نے قاری کو افسانے کوسمجھنے میں مدد دی ہے:
،،پونم،نثار اور بیٹے  کے ہمراہ کہیں جا رہی ہوتی ہے اور کسی گاڑی کی آٹھ کے ہندسے والی نمبر پلیٹ دیکھتی تو اسے اپنے ماتھے پر تتلیاں سی اڑتی محسوس ہوتی ہیں ا۔ خواہ مخواہ ہی آنکھیں بھر آتی ہیں وہ کھڑکی کی طرف چہرہ کئے سوچتی ہے کہ وہ تمام زندگی اس،، چور لمحہ،، کے سہارے گزار سکے گی؟،،
،،وش کنیا،، کردار سازی کے حوالے سے ایک اہم افسانہ ہے۔ہم جنس پرستی کے حوالے سے سجاول کا کردار تحریر کرتے ہوئے عورت کے قلم سے جس مشاہدے کا مظاہرہ کیا  گیا ہے وہ حیران کن ہے۔
جیسا کہ میں نے کہا روحی افسانے میں سوالیہ انداز استعمال کرتی ہیں،افسانہ ہمزاد میں بھی ان کا سوالیہ انداز قاری کو چونکا رہا ہے۔
،،  جمعہ کا دن تھا ارشد صاحب کا عیاشی کا موڈ تھا۔ایک پارٹی سے لمبا مال ملا تھا۔وہ سرفراز کا انتظار کر رہے تھے۔سرفرازکمرے میں داخل ہوا،بجھا چہرہ، رتجگاہ آنکھوں میں،اس وجود جلا ہوالگتا تھا،ارشد صاحب  نے خیریت پوچھی تو وہ دھیرے سے بولا،سرجی دل چاہ رہا ہے اب گھر بسا ہی لوں۔ارشد قہقہہ لگا کر ہنسے،ایک بے ہودہ سی گالی بکی اور اس سے پوچھا ابے کون سی رانڈ بے تجھے قابو کر لیا ہے۔سرفراز کچھ دیر تو چپ رہا پھر آہستہ آہستہ بولا۔ارشد صاحب مجھے اپنی غلامی میں لے لیں میں آپ کی بیٹی کو خوش رکھوں گا۔ارشد صاحب کا سر ایک دم چکرا گیا، سوچ میں پڑ گئے کہ سرفراز جو کہ عورت کو بازار کی جنس سمجھنے والا بالکل ان جیسا ہے کیا ان کی بیٹی کو وہ پیار  دے گا جس کی وہ حقدار ہے؟،          
،، کمینی ہنسی،، ایک اچھی کہانی ہے۔ روحی طاہر نے اس کہانی میں درخت کو وقت کے طور پر استعمال کیا ہے، وقت جو ناصح ہے،وقت کے بدلنے سے انسان کے موڈ بھی بدلتے ہیں،کہانی کو دلچسپ موڑ دیتے ہوئے  روحی طاہر لکھتی ہیں 
،،میں نے پیچھے مڑ کر شکوہ بھری آنکھوں سے اپنے پیڑ کو دیکھا، کم بخت نے اپنا وصف،سایہ بن جانے کا، نہ جانے کب مجھ میں انڈیل دیا تھا اور خود ایککمنی ہنسی سے مجھے تک رہا تھا،،
ہراس منٹ ایکٹ،بیوہ کے حقوق،انسان کے قول و فعل کے تضاد کو اجاگر کرتے افسانے ہیں۔گملہ اور گلدان کالا کالی کی لعنت کے پس منظر پر لکھا ہوا افسانہ ہے،سیڑھیاں،غربت سے امارت کی سیڑھیاں چڑھنے والی ماہ جبیں کی داستان ہے جو نجانے کب ترقی کی سیڑھیاں  چڑھتے چڑھتے ساتھ ساتھ،،ایڈز،، جیسی بیماری کی منزلیں بھی طے کر رہی تھی۔
روحی طاہر نے حقیقی زندگی کی خوشیوں، حادثوں،خواہشوں اور پریشانیوں کی سچی تصویریں پینٹ کی ہیں۔جن کا تعلق ہماری زمین سے ہے،ہمارے اپنے سماج سے ہے،ہمارے اپنے دور سے ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں،سادہ زبان، بے تکلف اظہار اور بے ساختہ اسلوب افسانہ نگار کی پہچان ہے۔ وکالت میں چونکہ کھل کر بحث  کرنی پڑتی ہے یہی وجہ ہے کہ روحی طاہر نے وہ سارے نظارے جنہیں ہم دوسروں کے سامنے کہنے سے کتراتے ہیں،ہمیں دکھا دئیے ہیں  یہی وصف ان کی کہانیوں کی دلکشی اور تاثر کا بڑا سبب ہے اور میرے خیال میں روحی طاہر کو ایک اچھا کہانی کار ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔    

سہ ماہی کاروان بہاول پور کا سالنامہ شائع ہوگیا

سہ ماہی کاروان بہاول پور کا سالنامہ شائع ہوگیا
یہ شمارہ۲۷۲ صفحات پر مشتمل ہے جس میں مولانا الطاف حسین حالی اور مجید امجد کےصدی سال کے حوالے سے
خصوصی گوشے شائع کئے گئے ہیں۔
گوشہ حالی میں ڈاکٹر غافر شہزاد،ڈاکٹر ناصر عباس اور کارواں کے مدیر نوید صادق کا مضمون شامل ہیں
گوشہِ مجید امجد میں شاہد شیدائی،ڈاکٹر غفور شاہ قاسم،ڈاکٹر ضیاالحسن،ڈاکٹر ناصر سباس،افتخار شفیع،عارفہ شہزاد،شاہد ماکلی،اللہ یار ثاقب،شفیق الرحمنٰ اور رضاالحق صدیقی(راقم) کے مضامین شامل ہیں

ہفتہ، 6 دسمبر، 2014

دانیال طریر کی تنقیدی کتاب ،، معا صر تھیو ر ی اور تعین ِ قد ر،،پر سیدانور جاوید ہاشمی کی تحریر

سید انور جاوید ہاشمی
معا صر  تھیو ر ی  اور  تعین ِ قد ر  
میں  ایک مضمون چاند پکھراج کا اور پشمینے کی رات والے گل زار کی غیر معمولی قوّت ِ متخئیلہ کے عنوان سے بہت ہی بھرپور تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب محمد حامد سراج صاحب نے دانیال طریر کی دیگر تصانیف و تالیفات کے ہمراہ بطور تحفہ عنایت کی۔معاصر تھیوری اور تعین قدر بیک وقت تحقیق و تنقید کی آ ئینہ دار کتاب ہے جس میں معاصر اہل قلم،شعراء بلوچی و  پشتو زبان و ادب نیز ناقدین ادب کے تنقیدی مضامین اور موضوعات  پر بھی عرق ریزی و جاں کاھی سے لکھے گئے مضامین شامل ہیں۔

گلزار کی غیر معمولی قوت متخئیلہ کے حوالے سے دانیال طریز لکھتے ہیں کہ ''گلزار غیر معمولی قوّت ِ متخئّیلہ کا شاعر ہے اورجیسا کہ میں کہہ چکاہوں کہ غیر معمولی متخئِّلہ کا اظہارزبان کے غیر معمولی استعمال سے ہوتا ہے۔جب ہم اُردو شاعری کا تسلسل سے مطالعہ کرتے ہوے گلزار تک آتے ہیں تو ہمارا سامنا ایک بدلی ہوئی لسانی فضا سے ہوتا ہے۔اس بدلی ہوئی لسانی فضا کو ہمارے ہاں روایت سے بغاوت کا نام دیا جاتا ہے۔حال آں کہ محض زبان کی تبدیلی روایت شکنی نہیں ہوسکتی کہ ہر معیاری شاعراپنی فکری ضرورت کے پیش نظرزبان کو بدلتا ہے۔ماسواے اُن شعراء کے جنھیں اپنی فکری احتیاج کا احساس تک نہیں ہوتا۔فکری سطح پر روایت کے تسلسل کو توڑنا  ناممکن ہے۔کیوں کہ زندہ روایت حال کے وجود میں تحلیل ہوتی ہے۔شاعر حال میں جیتا ہے لیکن اس کے حال میں ماضی اور مستقبل دونوں موجود ہوتے ہیں۔حال میں ماضی اور مستقبل کی موجودگی کا احساس ادراک کہلا تا ہے جو شاعراپنے عہد کا ادراک رکھتا ہے ا و ر  اپنا اظہار چاہتا ہے و ہ  کبھی  بنی  بنائی  زبان پر  اکتفا نہیں  کرتا۔۔گل زار کو بھی اپنے عہد کا ادراک ہے اس لیے اس نے بنی بنائی زبان پراکتفا نہیں کیا بل کہ اپنے عہد کے تقاضوں کو سمجھتے ہوے و ہ  ز با ن  تخلیق  کی ہے جس میں تا ز گی بھی ہے اور اثر انگیزی بھی""
لفظ  کا غذ  پہ  بیٹھتے  ہی نہیں
اُ ڑ تے پھر تے ہیں تتلیوں کی طرح
نامکمل نظم ،گھتن ،مشورہ وہ جو شاعر تھاریشم کا یہ شاعر،کھنڈر،عادت،جمود،قبرستان،گھر،وقتخدا،الائو،بے شہر،بے خودیاسکیچ،چل چلائو،ریفیوجی وغیرہ نظموں کے اقتباسات پیش کرکے دانیال طریر نے ترائیلے اور تروینیوں کا بھی جائزہ لیا ہے اور مضمون کے آخری حصے میں غزل کے چند اشعار بھی پیش کیے ہیں:
ا یک  گو لی  گئی  تھی  سوے  فلک
ا ک  پر ند ے  کے  با ل و پر  آ ئے
]لیاقت علی عاصم کا ایک شعر یاد آگیا۔۔گھنے شجر کے پرندوں کا حال مت پوچھو
بس ایک  شاخ  ہلی  تھی  ہزار جال  کھلے
چُھو  کے  د یکھا تو  گرم  تھا  ما تھا
د ُ ھو  پ  میں کھیلتا  ر ہا ہے  چا ند
اس چاند کو آپ ننھا منا معصوم کھلنڈرا بیٹا سمجھ لیں  یا بہ قول دانیال طریر گلزار کی غیر معمولی قوت متخئیلہ کا اظہار ۔۔جو بھی کہنا تھا بات کہہ دی ہے۔۔۔۔تم اسے رد کرو قبول کرو؟               
اور یہ مترنم شاعری جسے اپنانے ،ہتھیانے سرقہ کرنے کا ہمارا دل چاہتا ہے گلزار سے اجازت لیے بغیر
جس کی آ و ا ز  میں  سِلو ٹ  ہو  نگا  ھو ں  میں  شِکن
ا یسی  تصو  یر  کے  ٹکڑ ے  نہیں  جو  ڑ  ا  کر  تے
ہائے کیا کمال کی بات کہی ہے ذرا اس پری پیکر کو اپنی قوت متخئّیلہ کے بل بوتے پر مجسم تو کیجیے؟
کاغذ کا اک چا ند لگا کر  رات  ا ند ھیر ی  کھڑ کی  میں
دِ ل  میں  کتنے  خوش  تھے  ا پنی  فرقت  کی  آ رایش پر
دانیال طریر لکھتے ہیں کہ ''  ایسا نہیں ہے کہ گل زار کے ہاں [کلام میں]  خامیاں نہیں ہیں۔لیکن گلزار کی خوبیوں نے اس کی خامیاں بخشوالی ہیں'''''مجھے یقین ہے جب تک پشمینے کی راتپر  پکھراج کا چاند  چمکتا رہے گا گل زار  کی  شاعری تروتازہ، تا بندہ ا و ر  ز ند ہ   رہے  گی۔۔۔

جمعرات، 4 دسمبر، 2014

سہ ماہی مجلہ لوح شائع ہو گیا

ممتاز احمد شیخ کی زیرِ ادارت سہ ماہی مجلہ لوح شائع ہو گیا ہے

سوموار، 1 دسمبر، 2014

ہر سمت رنگ و نُور کی برسات الاماں ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
اک دور طلسمات تھا کیسا ہوا ہوا
کیا سحر التفات تھا کیسا ہوا ہوا
 میں دیکھتا رہا طرف گرد کاررواں
سب حُسن و کرامات تھا کیسا ہوا ہوا
 ہر سمت رنگ و نُور کی برسات الاماں
کیا عہد کرشمات تھا کیسا ہوا ہوا
باتیں تری وہ قصے فسانے عجیب رنگ
اک کُنج خرابات تھا کیسا ہوا ہوا
 شمس و قمر نجوم کی وہ چیرہ دستیاں
عہد جمالیات تھا کیسا ہوا ہوا
انور گزرتی شام میں گر یاد آوں میں
اک برق کمالات تھا کیسا ہوا ہوا