ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 26 نومبر، 2014

تانیثیت،مشرقی نسائی مزاج اور ہماری شاعرات ۔۔ محمد حمید شاہد کا ایک اہم مضمون

ہ
بہتر پڑھنے کے لئے درج ذیل لنک پر کلک کیجیئے
http://e.jang.com.pk/11-26-2014/karachi/pic.asp?picname=16_01.jpg

منگل، 25 نومبر، 2014

ہجر کی مسافت میں ،چاند ساتھ چلتا ہے .. ساحرہ محمود

 ساحرہ محمود
رات کے اندھیرے میں ،اک دیا سا جلتا ہے
ہجر کی مسافت میں ،چاند ساتھ چلتا ہے
ان گھنے درختوں کی ،خامشی بتاتی ہے
کوئی اک نیا طوفاں ،راستے بدلتا ہے
سردیوں کے موسم میں ،سرد سرد جھونکوں سے 
زخم پھر سے رِستا ہے ،درد پھر سے پلتا ہے
یہ کسی کو کیا معلوم ایک قطرهِ نایاب
کتنے مرحلوں کے بعد ،روشنی میں ڈھلتا ہے
ظرف پہ یہ ممکن ہے،چوٹ سب کو لگتی ہے
کون ٹوٹ جاتا ہے ،کون پھر سنبھلتا ہے
ریت سوکھی بنجر سی ،دھوپ تیز شدت کی
اور وجود دہقاں کا ،موم سا پگھلتا ہے
ہاتھ سے گرا لقمہ دے رہاہے عندیہ پھر
کوئی تھر کے صحرا میں بھوک سے مچلتا ہے
کتنے سال لگتے ہیں دل کا خون دےدے کر
خواب کوئی سجتا ہے،پھول کوئی کھلتا ہے

تخریب ہے سحر کہیں تعمیر ہے سحر ۔۔ سحر تاب رومانی

سحر تاب رومانی
جس سمت میرے خواب کی تعبیر  ہے سحر 
اس سمت قید خانہ  ہے زنجیر  ہے سحر
اس تیرگی میں روشنی کے رنگ ہیں ہزار 
دامن پہ شب کے دیکھئیے تحریر  ہے سحر
حیرت  ہے رخ پہ شب کی سیاہی لئے ہوئے 
وہ شخص اپنے شہر کی توقیر  ہے سحر
ہر ایک بات  ہے کہاں دیوار پر لکھی ! 
جو ہونے والا  ہے کہیں تحریر  ہے سحر
میرے شعور و فکر کی تجسیم کا سبب 
میرے جہان_ شوق کی تصویر  ہے سحر
حالات و واقعات کی ترتیب  ہے یہی 
تخریب  ہے سحر کہیں تعمیر  ہے سحر
اک عمر ھو گئی وہ زمانہ گزر گیا !
لیکن سنا  ہےآج بھی دلگیر ہےسحر

اتوار، 23 نومبر، 2014

نامور ادیب ،کالم نگار،شاعر احمد عقیل روبی انتقال کر گئے

نامور ادیب ،کالم نگار،شاعر احمد عقیل روبی انتقال کر گئے

جمعہ، 21 نومبر، 2014

مصیبت میں ہوئی ہے عقل کی اوقات ظاہر ۔۔ اعجاز گل

اعجاز گل

کہانی       پن        ذرا       بھی       اب       کہانی     میں    نئیں    ہے
اٹک     کر     چل     رہی      ہے       اور       روانی     میں    نئیں    ہے
 مصیبت       میں      ہوئی     ہے      عقل      کی       اوقات        ظاہر  
سیانے     پن     سی      شے     کوئی     سیانی     میں    نئیں    ہے
 مری         لاحاصلی      نے         کی          ادا         رسمِ       خسارہ            کہ          چھوڑی            رائگانی              رائگانی     میں    نئیں    ہے
 ہوئی     ہے      جیب     خالی      اب      بہت      آرام       سے      ہوں
طلب      اشیائے        ارزاں          کی         گرانی     میں    نئیں    ہے

جمعرات، 13 نومبر، 2014

پَس ِ حجاب ' گزاری ہے زندگی مَیں نے ۔۔ ڈاکٹر خورشید رضوی

خورشید رضوی
کسی کے دل میں سمانا ' کبھی نہ چاہتا تھا
مَیں اِس عذاب میں آنا ' کبھی نہ چاہتا تھا
پَس ِ حجاب ' گزاری ہے زندگی مَیں نے
جو دیکھتا تھا ' دِکھانا ' کبھی نہ چاہتا تھا
یہ کیوں تمام چراغوں کی لَو بڑھائی گئی؟
مَیں بزم میں ' نظر آنا ' کبھی نہ چاہتا تھا

سوموار، 10 نومبر، 2014

نوشی گیلانی ،سعید خاں اورقاضی حبیب الرحمٰن کے اعزاز میں سعود عثمانی کی تقریب


  سعود عثمانی نے لاہور تشریف لائے ہوئے مہمانوں جناب قاضی حبیب الرحمٰن صاحب (عارف والا) ، سعید خان اور نوشی 

گیلانی (آسٹریلیا ) سے دوستوں کی ملاقات کا اہتمام کیا ۔ لاہور جم خانہ کلب میں منعقدہ اس یادگار محفل میں مہمانوں سے 

اتوار، 9 نومبر، 2014

ظفر علی خان کے قلم میں مصطفی کمال کی تلوار کا با نک پن ہے ۔۔ تحریر شکیل قمر(برطانیہ)

                                                            ہر سال نومبر کے مہینے کے آخری دس دن میرے انتہائی کرب وملال میں گذرتے ہیں ان دس دنوں میں مجھے زیادہ سے زیادہ بابائے صحافت 
مولانا ظفر علی خان ؒکی قومی،ملی،اَدبی وصحافتی خدمات پر اُن کو   خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے شب و روز مصروف رہنا پڑتا ہے اور اس کام کے لئے مجھے مولانا ظفر علی خانؒ کی زندگی اور ان کے تخلیقی   کام کے بارے میں انتہائی جستجو سے ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے،اس ساری جستجو سے میرے سامنے مولانا کی زندگی کے نئے سے نئے باب کُھلتے چلے جاتے ہیں اور اس طرح میرے دکھ اور ملال میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے کہ ہم نے اردو ادب اور صحافت کی ایک بہت بڑی ہستی کی کوئی

جمعرات، 6 نومبر، 2014

صبیحہ صبا ایک صاحبِ اسلوب شاعرہ ہے ، دل درد آشنا کی شاعری سماجی شعور کی عکاس ہے: کنور شفیق احمد

کنور شفیق احمد دبستانِ ساھیوال کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ان کی تمام زندگی درس و تدریس میں گذری ہے۔اردو ادب پر ان کی گہری نظر ہے۔محترمہ صبیحہ صبا کے پانچویں شعری مجموعہ ،، دل درد آشنا،، پر ان کا تبصرہ ادبستان کے قارئین کے لئے پیش کیا جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو شاعری سے دلچسپی رکھنے والے باذوق قارئین کے 
لئے صبیحہ صبا کا نام بہت معروف و معتبر ہے۔ صبیحہ صبا کی جائے پیدائش ساہیوال ہے۔ ان کے والد ضیا ء الحق صدیقی  مدرس تھے اور ان کا شمار اردو  فارسی کے جید اساتذہ میں ہوتا تھا۔ گھر کے علمی و ادبی ماحول نے صبیحہ صبا کی شاعرانہ  طبع کی خوب آبیاری کی اور یوں  1979  میں ابھی اوائل عمری تھی کہ پہلا شعری مجموعہ ،،لفظوں کا شہر،، منصہ شہود پر آیا۔ کتاب کی تقریبِ رونمائی و پزیرائی قابلِ رشک تھی جسے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

بدھ، 5 نومبر، 2014

یہ رہگذارِ گذشتہ بھی اک تحیر ہے ۔۔ علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
یہ رہگذار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
زماں دیار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
طلوع_ فردا کی ترقیم_ آفرینش میں 
ظہور_ کار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
حیات و موت کا یہ فلسفہ سمجھنے کو
صلیب_ دار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
جو باغبان_ ازل کا ہے بوستان_ ابد
یہاں بہار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے

منگل، 4 نومبر، 2014

پیروی آل محمد کی ہے معراج حیات ۔۔ یعقوب تصور(ابوظہبی)

یعقوب تصور
معجزہ حضرت شبیر نے کر رکھا ہے
خوں سے اسلام کا سر سبز شجر رکھا ہے
حشر تک زندہ و تابندہ رہیگا اسلام
جسم پر دین کے شبیر سر رکھا ہے
ظالموں نے تو یہ چاہا تھاکہ قرآں مٹ جائے
نوک نیزہ کی بلندی پہ مگر رکھا ہے
دھر تی شبیر کے غم کی نہیں ہوگی بنجر
اشک بارانی کا آنکھوں نے ہنر رکھا ہے

سوموار، 3 نومبر، 2014

سیّد انور جاوید ہاشمی کی شاعری .. ڈ ا کٹر عبداللہ جاوید

سید انورجاویدہاشمی اپنے ہم عصر شاعروں سے قدرے مختلف یوں ہے کہ دوسرے شاعروں اور متشاعروں کے مقابلے میں اس کی شخصیت اور شاعری دونوں میں انانیت،توانائیت،خوداظہاری،خودنمائی اورخودنمائندگی ے عناصر شاذ شاذ ملتے ہیں۔ان کے ہاں خود کو منوانے Self Assertion کا جذبہ بھی نہیں پایا جاتا۔اس طرح کی بات کہ ٖ کر میں اس کے ہم عصر شعرا کی عیب جوئی اور اس کی توصیف نہیں کررہا ہوں صرف سید انورجاویدہاشمی کی شناخت اجاگر کرنا مقصود ہے۔ جب میں یہ کہٖتا ہوں کہ اس کے ہاں سیلف ایسرشن (خود کو منوانا)نہیں ملتا تو ہرگز میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ انور جاویدہاشمی سیلف نیگیشن(خود کی نفی کرنا)کرتا ہے۔اگر کوئی یہ کہے ’ رات نہیں ہے‘ تو اس کا یہ مطلب سمجھنا کہ وہ یہ کہٖ رہا ہے ’’ اس سمے دن ہے‘‘ غلط بھی ہوسکتا ہے۔عین ممکن ہے کہ اس سمے شام کا جھٹ پٹا ہو۔نہ تو رات ہو اور نہ ہی دن ہو۔سیدانورجاویدہاشمی(انور ہاشمی؍جاوید ہاشمی)کی شخصیت


اتوار، 2 نومبر، 2014

بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھے ۔۔ جلیل عالی

جلیل عالی
بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھے
اور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھے
چاند پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ ، اور تھا
چور چہروں پہ ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر ، اورتھے
سب جبینیں وہاں رات دن تھیں زمیں بوسیوں میں مگن
کٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے مگر وہ جو سر،اور تھے

نام ہی سے ہم نے پہچانے ۔۔ ڈاکٹر سعادت سعید

ڈاکٹر سعادت سعید

نام ہی سے ہم نے پہچانے 
حیات بے کراں کے سلسلے 
رشتہ ہائے بندگی 
بے چارگی کے زاویے 
خشکیوں اور پانیوں کے رزمیے 
آسماں کے حاشیے
نام دے کر دہر کی اشیا کو ہم نے 
ان سے چھینی 
ان کے 
روز و شب کی خوشبو