ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعرات، 30 اکتوبر، 2014

کوئی فلک سے کہے کہ ریگ ِتپاں پہ اُترے ۔۔ شہزاد نیئر

شہزاد نیئر
طریق ِصبر و رضا کِیا اختیار مولا
وگرنہ زخموں کا آپ کرلے شمار مولا
کوئی فلک سے کہے کہ ریگ ِتپاں پہ اُترے
زمیں پہ آتاہے اب مرا شہسوار مولا
 ھر ایک ساعت رہے گا بیدار بخت اِن کا
جو سو رہےہیں مرے یہ شب زندہ دار مولا
 سناں پہ سُورج ہی روشنی کا جواز کھولے
گھنیری ظُلمت میں گِھر گیا ہے دیار ، مولا


 بدن کے پنجرے کو توڑ ، تیرے حضور پہنچوں
بس ایک ساعت کا ہے مجھے انتظار ، مولا
 ثنائے آل ِعبا کا ریشم لپیٹتا ہوں
دُعا میں چُنتا ہوں گوہر ِ اعتبار مولا
 تری حضوری میں باریابی کی منتظر ہے
جو بھیج رکھی ہےآنسوؤں کی قطار مولا


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں