ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 29 اکتوبر، 2014

خونِ شبیر سے روشن ہیں زمانوں کے چراغ ۔۔ جلیل عالی

جلیل عالی
دامِ دنیا نہ کوئی پیچِ گماں لایا ہے
سوئے مقتل تو اُسے حکمِ اذاں لایا ہے
خونِ شبیر سے روشن ہیں زمانوں کے چراغ
شِمر نسلوں کی ملامت کا دھواں لایا ہے
گونج اِس گنبدِ گیتی میں ہے دَم دَم اُس کی
اک بیاں وہ جو سرِ اوجِ سِناں لایا ہے
فیصلہ حُر نے کیا اور حِرا نے دیکھا
جست بھرتے ہی اُسے بخت کہاں لایا ہے
آج بھی سر بہ گریباں ہے اُسی حُزن میں وقت
شامِ غربت سے جو احساسِ زیاں لایا ہے
وہ شہِ رنج و رِجا ہے سو یہ اُس کا شاعر
نذر کو چشمِ رواں ، قلبِ تپاں لایا ہے
(جلیل عالی)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں