ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعہ، 31 اکتوبر، 2014

وہ ماہ تاب ' لب ِ بام بھی نہیں میرا ۔۔ ظفر اقبال

ظفر اقبال
نمُود بھی نہیں کچھ ' نام بھی نہیں میرا
مقام ' خاص تو کیا ' عام بھی نہیں میرا
پَس ِ دریچہ ہے جو بھی ' نہیں ہے میرے لیے
وہ ماہ تاب ' لب ِ بام بھی نہیں میرا
فضول اُس سے تعلّق جَتاتا رہتا ہُوں 
جو دن کے وقت نہیں ' شام بھی نہیں میرا
قرار پایا ہے میری تباہیوں کا سبب
یہ تُو جو مُورد ِ اِلزام بھی نہیں میرا

یہ کربلا ہے، یہاں ہے حصارِ تشنہ لبی .. عارف امام

یہ کربلا ہے، یہاں ہے حصارِ تشنہ لبی
یہاں پہ آب ہُوا ہے شکارِ تشنہ لبی
یہاں کی خاک سے صیقل ہوئی طِلائے فلک
یہاں کی خاک ہوئی زرنگارِ تشنہ لبی
اٹھایا چلّو میں پانی، اٹھا کے پھینک دیا
کہ اب فرات پہ ہے اختیارِ تشنہ لبی
کسے مجال ترائی کو چھین لے ہم سے*
کسے مجال کہ ہو ذمہ دارِ تشنہ لبی

جمعرات، 30 اکتوبر، 2014

کوئی فلک سے کہے کہ ریگ ِتپاں پہ اُترے ۔۔ شہزاد نیئر

شہزاد نیئر
طریق ِصبر و رضا کِیا اختیار مولا
وگرنہ زخموں کا آپ کرلے شمار مولا
کوئی فلک سے کہے کہ ریگ ِتپاں پہ اُترے
زمیں پہ آتاہے اب مرا شہسوار مولا
 ھر ایک ساعت رہے گا بیدار بخت اِن کا
جو سو رہےہیں مرے یہ شب زندہ دار مولا
 سناں پہ سُورج ہی روشنی کا جواز کھولے
گھنیری ظُلمت میں گِھر گیا ہے دیار ، مولا

میں شب نژادوں میں صبحِ فردا کی آرزو ہوں ۔۔ پیرزادہ قاسم

پیرزادہ قاسم
مَیں کب سے اپنی تلاش میں ہوں 'مِلا نہیں ہوں
سوال یہ ہے کہ مَیں کہِیں ہوں بھی ' یا نہیں ہوں ؟
یہ میرے ہونے سے اور نہ ہونے سے منکشِف ہے
کہ رزمِ ہستی میں کیا ہوں میں اور کیا نہیں ہوں ؟
میں شب نژادوں میں صبحِ فردا کی آرزو ہوں
میں اپنے امکاں میں روشنی ہوں' صبا نہیں ہوں
گلاب کی طرح عشق میرا مہک رہا ہے
مگر ابھی اس کی کشتِ دل میں کِھلا نہیں ہوں

بدھ، 29 اکتوبر، 2014

مہک رہا تھا زمانے میں کُو بہ کُو ' تِرا غم ۔۔ مجید امجد

مجید امجد
برس گیا ' بَہ خراباتِ آرزُو ' تِرا غم
قدح قدح تِری یادیں' سبُو سبُو 'تِرا غم
تِرے خیال کے پہلو سے اُٹھ کے جب دیکھا
مہک رہا تھا زمانے میں کُو بہ کُو ' تِرا غم
غبارِ رنگ میں رَس ڈھونڈتی کِرن، تِری دُھن
گرفتِ سَنگ میں بَل کھاتی آب جُو ' تِرا غم
ندی پہ چاند کا پَرتَو ' تِرا نِشانِ قَدم
خطِ سَحَر پہ اندھیروں کا رقص' تُو ' تِرا غم
ہے جس کی رَو میں شگوفے' وہ فصل' تیرا دھیان
ہے جس کے لَمس میں ٹھنڈک' وہ گرم لُو ' تِرا غم
نخیلِ زِیست کی چھاﺅں میں' نَے بہ لب تِری یاد
فصیلِ دِل کے کلَس پر سِتارہ جُو ' تِرا غم
طلوُعِ مِہر ' شُگفتِ سَحَر ' سیاہئ شب
تِری طلب ' تجھے پانے کی آرزُو ' تِرا غم
نِگہ اُٹھی تو زمانے کے سامنے ' تِرا رُوپ
پلک جُھکی تو مِرے دِل کے رُو بَہ رُو ' تِرا غم

خونِ شبیر سے روشن ہیں زمانوں کے چراغ ۔۔ جلیل عالی

جلیل عالی
دامِ دنیا نہ کوئی پیچِ گماں لایا ہے
سوئے مقتل تو اُسے حکمِ اذاں لایا ہے
خونِ شبیر سے روشن ہیں زمانوں کے چراغ
شِمر نسلوں کی ملامت کا دھواں لایا ہے
گونج اِس گنبدِ گیتی میں ہے دَم دَم اُس کی
اک بیاں وہ جو سرِ اوجِ سِناں لایا ہے
فیصلہ حُر نے کیا اور حِرا نے دیکھا
جست بھرتے ہی اُسے بخت کہاں لایا ہے
آج بھی سر بہ گریباں ہے اُسی حُزن میں وقت
شامِ غربت سے جو احساسِ زیاں لایا ہے
وہ شہِ رنج و رِجا ہے سو یہ اُس کا شاعر
نذر کو چشمِ رواں ، قلبِ تپاں لایا ہے
(جلیل عالی)

کِھلتے تھے گلاب کھڑکیوں میں ۔۔ ایوب خاور

ایوب خاور
آ جائے نہ رات کشتیوں میں
پھینکو نہ چراغ پانیوں میں
اک چادر ِغم بدن پہ لے کر
پھرتا ہوں شدید سردیوں میں
دھاگوں کی طرح الجھ گیا ہے
اک شخص مِری برائیوں میں
اس شخص سے یوں ملا ہوں 'جیسے
گِر جائے ندی سمُندروں میں
لوہار کی بھٹّی ہے یہ دُنیا 
بندے ہیں عذاب کی رُتوں میں
اب اُن کے سرے کہاں ملیں گے
ٹوٹے ہیں جو خواب زلزلوں میں
موسِم پہ زوال آ رہا ہے
کِھلتے تھے گلاب کھڑکیوں میں
اندر تو ہے راج رَت جگوں کا
باہَر کی فَضا ہے آندھیوں میں
کُہرا سا بھرا ہوا ہے' خاور 
آنکھوں کے اداس جھونپڑوں میں 

منگل، 28 اکتوبر، 2014

میرے دل سے بھی گزرتی ہے کوئی نہر فرات ۔۔ عقیل عباس جعفری

عقیل عباس جعفری
کربلا کوئی فسانہ نہ فسوں ہے ، یوں ہے
یہ تو اک سلسلہ کن فیکوں ہے یوں ہے
میرے دل سے بھی گزرتی ہے کوئی نہر فرات
میری آنکھوں میں جو یہ موجہ خوں ہے ، یوں ہے
ذکر آیا تھا ابھی حضرت زینب کا کہیں
’’ تو نے پوچھا تھا نمی آنکھ میں کیوں ہے ، یوں ہے‘‘
قیمت خلد ہے اک اشک عزائے شبیر
اب کوئی لاکھ یہ کہتا رہے یوں ہے ، یوں ہے
ان کی کوشش غم شبیر فنا ہوجائے
اور یہ غم کہ فزوں اور فزوں ہے، یوں ہے
پھر ہوئے مجھ کو عطا حرف پئے مدح و سلام
ان پہ روشن مرا احوال دروں ہے ، یوں ہے
قبر میں ہوگی زیارت مجھے مولا کی عقیل
موت جو میرے لیے وجہ سکوں ہے ، یوں ہے
کربلا کوئی فسانہ نہ فسوں ہے ، یوں ہے
یہ تو اک سلسلہ کن فیکوں ہے یوں ہے
میرے دل سے بھی گزرتی ہے کوئی نہر فرات
میری آنکھوں میں جو یہ موجہ خوں ہے ، یوں ہے
ذکر آیا تھا ابھی حضرت زینب کا کہیں
’’ تو نے پوچھا تھا نمی آنکھ میں کیوں ہے ، یوں ہے‘‘
قیمت خلد ہے اک اشک عزائے شبیر
اب کوئی لاکھ یہ کہتا رہے یوں ہے ، یوں ہے
ان کی کوشش غم شبیر فنا ہوجائے
اور یہ غم کہ فزوں اور فزوں ہے، یوں ہے
پھر ہوئے مجھ کو عطا حرف پئے مدح و سلام
ان پہ روشن مرا احوال دروں ہے ، یوں ہے
قبر میں ہوگی زیارت مجھے مولا کی عقیل
موت جو میرے لیے وجہ سکوں ہے ، یوں ہے

ہفتہ، 25 اکتوبر، 2014

لکھنو سے ڈاکٹرانیس اشفاق ،انجمن ترقی اردو پاکستان کے مہمان


روداد و تصاویر۔۔سید انورجاویدہاشمی
تمھارے شہر میں ہم لکھنئو سے آ ئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محقق،شاعر،ناول
نگار،مترجم ڈاکٹر انیس اشفاق نے اُردو غزل میں علامت نگاری پر تحقیقی مقالہ لکھا اُن کی ڈاکٹریٹ کا مقالہ غالب کے سو سال،شعری مجموعہ،تحقیقی کتب اور آنے والا ناول اُن کے علمی و ادبی مقام کا تعّین کرتے ہیں۔ '' ڈاکٹر انیس اشفاق سے ایک مکالمہ'' کے عنوان سے انجمن ترقی ِ اُردو پاکستان کے تحقیقی مرکز گلشن اقبال کراچی میں آج صبح صدر انجمن [اعزازی] شیخ ا لجا معہ وفاقی جامعہ اردو 

کراچی ڈاکٹرظفراقبال کی صدارت میں تقریب کا انعقاد کیا گیاانجمن کی معتمد ڈاکٹرفاطمہ
حسن نے نظامت کی۔فراست رضوی،ڈاکٹرشاداب احسانی،زاہدہ حنا،پروفیسرسحر
انصاری نے زبانی اورمضمون کی صورت میں اظہار خیال کیا جب کہ سید انور جاوید ہاشمی نے منظوم خیرمقدمی کلمات پیش کیے۔آصف انصاری،ڈاکٹرجمال نقوی،
اوردیگرنے بھارت میں اُردو کے فروغ و رواج کے حوالے سے سوالات کیے جن کا جواب ڈاکٹرانیس اشفاق نے تفصیل سے دیا۔اُنھوں نے بتایا کہ بھارت کے ہر صوبے
میں اردو کی اکادمی اشاعت کتب اور تقاریب کا باقاعدہ اہتمام کرتی ہے جس کے لیے بھارت سرکار فنڈزمہیاکرتی ہے۔آندھراپردیش اردو اکادمی کا سالانہ بجٹ تیس ۳۰ کروڑ ہے۔دہلی میں اردو لسانیات،کمپوٹراوردیگرشعبوں کی تربیت کے لیے نصاب اور ادارے قایم ہیں۔اردواخبارات و رسایل کثیرتعداد میں شایع کیے جاتے ہیں وہاں شاعری سے زیادہ تحقیقی کام اور فکشن کا زور ہے۔اپنی کتاب میں ہم نے افتخار عارف سمیت،ظفراقبال،منیر نیازی،مجیدامجد،ناصرکاظمی احمد مشتاق اور بھارت کے ۴ اہم اردو شاعروں کے حوالے سے تحقیقی انداز میں نقطہ ء نظر پیش کیا ہے۔ناول نگار نسیم انجم نے اپنی ،آفتاب مضطرنے اپنا مجموعہ لاکلامی نسیم نازش نے اپنا مجموعہ،ہم نے عبدالصمدنورسہارن پوری،نصیرکوٹی،خلیل احمد خلیل،لیاقت علی عاصم کے مجموعے اوردیگر مصنفین و شعراء کے مجموعے بھی ڈاکٹرانیس اشفاق کو انجمن کی کتب کے ساتھ پیش کیے گئے۔نسیم نازش اور فراست رضوی نے مسلم شمیم ایڈوکیٹ،عابدرضوی اورغزل انصاری کے ساتھ مل کر مہمان اعزاز کو گل دستے پیش کیے۔مدیر قومی زبان ڈاکٹرممتاز احمد خاں،شہاب قدوائی،ناصر سوری و اراکین انجمن کے ساتھ ہی لندن سے آئی ہوئی نجمہ عثمان بھی تقریب میں شریک رہیں۔۔۔مہمانوں کی کتاب
اورڈاکٹرانیس اشفاق کی کتب کی پاکستان میں اشاعت کے معاہدے پر ڈاکٹرفاطمہ حسن نے تاثرات و دستخط لیے 


جمعرات، 23 اکتوبر، 2014

چھن گیا جو تھا مری تحویل میں ۔۔ سحر تاب رومانی

سحر تاب رومانی
چھن گیا جو تھا مری تحویل میں 
کچھ نہیں باقی بچا زنبیل میں
تیرگی چھاتی رہی ماحول پر 
روشنی جلتی رہی قندیل میں
چاند اب اس میں نہاتا روز ہے 
عکس دیکھا تھا ترا جس جھیل میں
کس نے روکا ہے مری تعمیر کو 
کون حائل ہے مری تکمیل میں
بات اسکی آخری تھی، آخرش 
لکھ رہا تھا وہ مجھے تاویل میں
ایک دھوکا ہے یہ ساری کائنات 
اور الجھا جو گیا تفصیل میں
زندگانی حکم تھا اسکا سحر 
سو گزاری ہے فقط تعمیل میں

بدھ، 22 اکتوبر، 2014

حسن کا رکھ رکھاو دیکھا ہے ۔۔ منظور قاضی

منظور قاضی
آؤ دیکھا نہ تاو دیکھا ہے
دل نے دل کا لگاو دیکھا ہے
میری انکھوں نے ساری دنیا میں 
حسن کا رکھ رکھاو دیکھا ہے
ہم نے ہر وقت نازنینوں سے 
عشق کا چل چلاو دیکھا ہے
انتخابات مین رقیبوں کا 
دھاندلی سے چناو دیکھا ہے
اپنی برگشتہ طالعی کے طفیل
دل پہ غم کا پڑاو دیکھا ہے 

سوموار، 20 اکتوبر، 2014

شور ِ محشر ہے بپا ، اب کے تری گلیوں میں ۔ عارف خواجہ

عارف خواجہ
دل کے قرطاس پہ تصویر ِ بُتاں کھینچی ہے
دیکھ نہ پائے جہاں کوئی ، وہاں کھینچی ہے
جرم ِ حق گوئی پہ ہر دور کے سلطانوں نے
کھال کھینچی ہے کبھی میری زباں کھینچی ہے
ایک اک کر کے کیا قتل وفا داروں کو
میرے سالار نے ؛ اب مجھ پہ کماں کھینچی ہے
مرشدی خیر ہو ! اِس بار عداوت کی لکیر 
وقتِ ظالم نے مرے تیرے میاں کھینچی ہے
داد دینے پہ مجبور عدو کہ ہم نے
اپنے سینے سے کچھ اِس طور سِناں کھینچی ہے
شور ِ محشر ہے بپا ، اب کے تری گلیوں میں
ایک بیمار نے زنجیر ِ گراں کھینچی ہے

جمعہ، 17 اکتوبر، 2014

کاغذ پہ کیسے ٹھہریں مصرعے مری غزل کے ۔۔ اسلم کولسری

اسلم کولسری
ھر چند بے نوا ھے کورے گھڑے کا پانی
دیوان میر کا ھے ، کورے گھڑے کا پانی
اپلوں کی آگ اب تک ھاتھوں سے جھانکتی ھے
آنکھوں میں جاگتا ھے کورے گھڑے کا پانی
جب مانگتے ھیں سارے انگور کے شرارے
اپنی یہی صدا ھے کورے گھڑے کا پانی
کاغذ پہ کیسے ٹھہریں مصرعے مری غزل کے
لفظوں میں بہہ رھا ھے کورے گھڑے کا پانی
خانہ بدوش چھوری، تکتی ہے چوری چوری
اس کا تو آئنہ ہے کورے گھڑے کا پانی
چڑیوں سی چہچہائیں ، پنگھٹ پہ جب بھی سکھیاں
چپ چاپ رو دیا ہے کورے گھڑے کا پانی
اس کے لہو میں شاید، تاثیر ہو وفا کی 
جس نے کبھی پیا ہے کورے گھڑے کا پانی
عزت ، ضمیر ، محنت ، دانش ، ہنر ، محبت
لیکن کبھی بکا ہے کورے گھڑے کا پانی؟
دیکھوں جو چاندنی میں ، لگتا ہے مجھ کو اسلم
پگھلی ہوئی دعا ہے کورے گھڑے کا پانی

بدھ، 15 اکتوبر، 2014

ڈھونڈنے نکلے تجھے خود کو گنوا کر آئے ۔۔ اوصاف شیخ

اوصاف شیخ
عشق میں ہار کے اب سارے ہنر بیٹھے ہیں
تجربہ ہم بھرے بازار میں کر بیٹھے ہیں
شائد اس بار تو رک جائے اٹھا لے ہم کو
ہم ترے راستے میں بار دگر بیٹھے ہیں
ڈھونڈنے نکلے تجھے خود کو گنوا کر آئے
تھام کے مٹھی میں اب گرد سفر بیٹھے ہیں
میں رہا ایک ستارے کے لیئے سرگرداں
کہکشائین ہیں یہاں شمس و قمر بیٹھے ہیں
ہم کہ خبروں کے تعاقب میں رہے سرگرداں 
اور اب یہ ہے کہ خود بن کے خبر بیٹھے ہیں
جس سے طوفان کی مانند وہ گزرا اوصاف
مل کے ہم آج بھی وہ راہگزر بیٹھے ہیں

سوموار، 13 اکتوبر، 2014

افکارِ جدید کی شاعری

یہ کیوں اندر کا موسم اور ہے باہر کے موسم سے
کہ جب رونق ہے ہر جانب تو ہم بیزار ملتے ہیں 
 صبیحہ صبا کا یہ شعر اعلان ہے کہ شاعری کی واحد اساس دکھ ہے۔دکھ ہی وہ مظہر ہے جو انسانوں کے مابین قابل عمل رشتوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہ رشتے ذات کے دکھ کے حوالے سے سماجی دکھ کی تفہیم میں معاون بنتے ہیں۔
شاعری کا موسم لکھنے والے کے اندر کا موسم ہے۔ جب  کبھی انسان کے اندر کا موسم معروضی  حالات کے تحت جسم و جاں میں شورش بپا کرتا ہے تو یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب شاعری جنم لیتی ہے اور یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب انسان کے اندر سے ایک  چیخ برآمد ہوتی ہے اور یہ لمحات ہوتے ہیں دکھ کے، اداسی کے۔

چہرے کا ہر کرب دکھائی دیتا ہے 
خاموشی کا شور سنائی دیتا ہے
چہرے پر ابھرنے  والی درد و کرب کی لکیروں کا اظہا تو کلاسک فارسی اور  اردو شاعری میں کئی انداز میں پہلے بھی استعمال ہوا ہے لیکن اس شعر کے مصرعِِ ثانی میں بالکل تازہ اور نئی بات آئی اور بہت سلیقے اور جمال کے ساتھ آئی،خاموشی کا شورمعنویت کے اعتبار سے وارداتِ  نو ہے،ایسا شعر کہنے والا اردو غزل کی پہلی صف میں بڑی قامت کا شاعر ہونے کا حق رکھتا ہے۔
میں نے صبیحہ صبا کے گذشتہ شائع شدہ مجموعوں کی غزلیں بہت شوق سے پڑھی ہیں۔اپنے بولتا کالم کے سلسلہ میں ڈیڑھ دو سو کے قریب شعرا۴ کا کلام میری نظر سے گذرا ہے۔ان میں اچھے اشعار بھی تھے لیکن ایسے افکارِ تازہ  اور ضرب  المثل بن جانے والے اشعار نظر نہیں آئے۔
خاموشی کا شور سننے کی کیفیت کا سچا باطنی تجربہ ایک پوری محسوس کیفیت بن کر سامنے آتا ہے اس میں جذب اور احساس کی صداقت بھی ہے اور بیان کی تازہ کاری بھی۔

وہی میری وجہِ عروج تھا وہی میری وجہِ زوال تھا
وہی وجہِ رنگِ طرب رہا، وہی وجہِ حزن و ملال تھا
چلے جب بھی درد کے قافلے میرے چارہ گر میرے دیدہ ور
وہ جو درد سہنا محال تھا وہ جو سہہ گئے تو کمال تھا  
کوئی بے حسی کے جہان میں کوئی درد ِدل کی اٹھان میں 
کوئی اپنی دھن میں مگن رہا کوئی اپنے غم سے نڈھال تھا
کسی سانحے سے گذر ہوا سبھی وحشتوں کا اثر ہوا
ذرا نسل نو کا خیال کر، دل غم زدہ کا سوال تھا
صبیحہ صبا کی شاعری کا ایک رنگ تو یہ ہے جس کا ذکر میں نے کیا لیکن ان کی شاعری کا دوسرا رخ اس حزن و یاس کے برعکس ہے جہان وہ انقلابی فضا کی عکاس نظر آتی ہیں،یہ وہی فضا ہے جسے فیض احمد فیض کی شاعری نے نمایاں تبدیل شدہ ادبی رحجان دیا جس کی تقلید اس وقت کے نوجوان شعراء نے کی لیکن اہم بات یہ ہے کہ کہ اس رحجان کی تقلید میں خواتین شعراء نظر نہیں آتیں ان کے ہاں رومانی شاعری کا عنصر زیادہ  ہوتاہے۔صبیحہ صبا جب یہ کہتی ہیں کہ

میرے لفظوں کی وہ گرفت میں ہے
اس کو اندر غزل کے دیکھ لیا
میرا چہرہ ہے آئینہ میرا
میں نے خود سے نکل کے دیکھ لیا

جب وہ خود  سے نکل کر دیکھتی ہیں تو معاشرے کے دکھ درد اور آلام انہیں بغاوت پر مجبور کر دیتے ہیں اور یہ وہی رحجان ہے  جو فیٖض احمد فیض،احسان دانش اور حبیب جالب کے ہاں پایا جاتا ہے۔
صرف ریشم نہیں تلوار بھی ہو سکتے ہیں 
یہ جو مظلوم ہیں خونخوار بھی ہو سکتے ہیں 
میرے شہروں میں قیامت سی مچانے والے
ہاتھ باندھے پسِ دیوار بھی ہو سکتے ہیں 
آج بے وقعت و بے در ہیں پریشان سے لوگ
کل یہی وقت کے سردار بھی ہو سکتے ہیں 
سفاکی کا زہر انڈھیلا جاتا ہے
انسانوں کے خون سے کھیلا جاتا ہے
اپنی سوچ سے کام نہ لینے والوں کو
پستی میں کچھ اور دھکیلا جاتا ہے
شاعری کے لئے بہت ہی متنوع خیالات اور معتدل نظریات کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعری خاص طور پرغزل ایک انتہائی لطیف صنفِ سخن ہے۔ تجربات و مشاہدات کے لئے ایک بہت پیارے اور غیر معمولی حد تک معتدل لسانی عمل کی ضرورت ہے۔ زندگی کی رعنائیوں، رنگینیوں اور شادمانیوں کو اپنے من میں ڈوب کر ان کو حقیقت کا سراغ پانے کی حد تک تلاش کرنا پڑتا ہے۔
شاعری پر کسی قوم یا علاقے کے اجتماعی مزاج کے اثرات چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی مرتب ہوتے ہیں۔تقسیمِ ہند سے پہلے کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو ساری شاعری کا آہنگ ایک جیسا نظر آتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر قوم اور ہر علاقے کے اجتماعی مزاج کا پرَتو اس علاقے کی شاعری میں نظر آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندی شاعری گیت کی مدھرتا کی لے پر رقص کرتی نظر آتی ہے جبکہ پاکستان میں شامل علاقوں میں عجز و انکسار، پیار اور محبت کی کھلی فضا کا رنگ ہے کشمیر اور سرحد کے پہاڑوں کا ترفع، پنجاب اور سندھ کے ریگستانوں کی وسعت کا عکس بھی ہے۔ دریاؤں کا ٹھاٹھیں مارتا جوش بھی ہے اورمیدانی علاقوں میں ان کا سست ر و ٹھہراؤ بھی۔پاکستان کی اردو شاعری مشاہدے، احساسات، تجربات اور کیفیات کو زبان کی ترتیب و تنظیم ایک جمالیاتی نظام کی ترکیب کا عنصر بنی دکھائی دیتی ہے۔
صبیحہ صبا کی شاعری کی اٹھان پنجاب کے شہر ساھیوال سے ہوئی۔ پنجاب کا خاص کلچر اور گھر کے ادب دوست اردو ماحول نے ان کی شاعری کو جہاں لطیف نازکی بخشی وہیں تجربات و مشاہدات کے معتدلانہ عمل نے پنجاب کے اجتماعی مزاج کی خوشبو کے رنگ ان کی شاعری میں بکھیر دئیے۔ان کے شریک حیات سید صغیر احمد جعفری کی ادب دوستی نے بھی ان کی شاعری کو جلا بخشی۔صبیحہ صبا آج کے دور کی حساس شاعرہ ہیں ان کی یہ حساسیت ان کی شخصیت اور شاعری دونوں میں جھلکتی ہے۔ان کی شاعری کے پس منظر میں ان کے ذھنی رویوں کا عکس نمایاں ہے۔

چپ چاپ فضا ہے کوئی ہلچل بھی نہیں ہے
کیا کوئی یہاں درد سے بے کل بھی نہیں ہے
بے حس ہیں یا ظالم کی حمایت میں کھڑے ہیں 
پیشانی پہ حیرت ہے کہ اک بل بھی نہیں ہے
سانسوں کو بھی چلنے کی اجازت نہیں دیتے
کیا جبرِ مسلسل کا کوئی حل بھی نہیں ہے
 صبیحہ صبا بات کرنے کا ہنر جانتی ہیں لیکن کبھی کبھی ان کا لب و لہجہ ان کے اندرونی کرب کی غمازی کرتا ہے
سفاکی کا زہر انڈھیلا جاتا ہے
انسانوں کے خون سے کھیلا جاتا ہے
اپنی سوچ سے کام نہ لینے والوں کو
پستی میں کچھ اور دھکیلا جاتا ہے
لوگ ذرا سی ہمدردی کر جاتے ہیں 
کرب کو اپنے خود ہی جھیلا جاتا ہے
اڑان خوب تر ہوئی جو پنچھیوں کی ڈار کی
تو گھیر گھار کر کسی نے زیر دام کر دیا
انتظارِ  محشر کیا  کیجئے یہاں   ورنہ
صبیحہ صبا کی شاعری میں ایک ایسی جاذبیت اور کشش ہے کہ پڑھنے والا اپنے من میں جہاں ایک کسک محسوس کرتا ہے وہیں اس دھرتی کی مٹی سے اٹھنے والی سوندھی سوندھی خوشبو کو بھی محسوس کرتا ہے۔ صبیحہ صبا نے اپنے اسلوبِ شعر کی تشکیل میں اپنے عہد کے مزاج کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے۔
صبیحہ صبا کی شاعری کا ایک موضوع وطن سے اظہارِ محبت بھی ہے جس کا اظہار وہ شاعرانہ حسن سے کرتی ہیں اور کہیں وہ محبت کے جذبات میں ڈوب جاتی ہیں۔
وطن سے مہر و وفا جسم و جاں کا رشتہ ہے
وطن ہے باغ تو پھر باغباں کا رشتہ ہے
وطن سے دور رہیں یا وطن میں بس جائیں 
یہ مہر باں سے کسی مہر باں کا رشتہ ہے
صبیحہ صبا کا سب سے اہم موضوع ہماری سیاسی، معاشی اور معاشرتی زندگی، اس کے مسائل و مصائب کے حوالے سے ہے یہاں بھی ان کا انداز ایک درد مند دل رکھنے والے ذی روح کا سا ہے۔
یقین رکھ سبھی منظر بدلنے والے ہیں 
قدم ملا کے سبھی ساتھ چلنے والے ہیں 
ستم کو سہہ کے کہاں تک رہے گی خاموشی 
یہی وہ لوگ جو طوفاں میں ڈھلنے والے ہیں 
انہیں تو دھوپ بھی پگھلا نہیں سکتی
کسی کی یاد کے صحرا میں جلنے والے ہیں 
ذرا سی ہمت و جرأت سے کام لینا ہے
ہمارے سر سے یہ طوفان ٹلنے والے ہیں 
صبیحہ صبا الفاظ سے تصویر کشی کرتی ہیں اور جس ماحول میں سانس لے رہی ہیں اور معاشرے کی جو تصویر دیکھتی ہیں اسے اپنے داخلی جذبات اور احساسات کی روشنی میں جلا دے کر قرطاس پر بکھیر دیتی ہیں۔
کسی بھی شاعر کا مطالعہ کیجئے اس کے ہاں ذات ہے یا کائنات، ہر شاعر نے اپنا کینوس خود بنایا ہے جو کہیں چھوٹا ہے کہیں بڑا۔اس قدر و قیمت کا انحصار شاعر کی فکر اور اس کے علم پر ہے۔صبیحہ صبا کو شروع سے ایک استوار فکر ملی۔مرد شاعری کرتے ہیں تو ان کو بھی اپنی ذات میں جھانکنا پڑتا ہے۔ صبیحہ صبا نے بھی من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا ہے۔

اتوار، 12 اکتوبر، 2014

تری علم سے دوستی ہے مسلّم ۔۔ ڈاکٹر سعادت سعید

ملالے! ملالے! ملا لے! ملالے!
تجھے مانتے ہیں وطن کے جیالے
ملا ہے تجھے یہ جو نوبل پرائز
کمالے' کمالے' کمالے' کما لے
تری علم سے دوستی ہے مسلّم
جلالت خیالے سراپا جمالے
ترے حوصلے کا ہے قائل زمانہ
تری عظمتوں کے بہت ہیں حوالے
تری تمکنت کی بَلندی ہے کے ٹو
ترے سامنے سرنگوں ہیں ہمالے
تری زندگی کی دعاؤں میں شامل
مساجد، منادر، معابد ' شوالے
پرانی صعُوبت کا مَحبس بُھلا کر
نئے موسِموں کی لہَکتی ہَوا لے

جمعرات، 9 اکتوبر، 2014

چھپا تھا سطرِ مبہم میں معانی کا خزانہ ۔۔ اعجاز گل

اعجاز گل
خرابی مُدّعا میں سب وضاحت سے ہوئی ہے
فضا انکار کی پیدا طوالت سے ہوئی ہے
خموشی تھی اُدھر جب تک کہاں میں بولتا تھا
مجھے جراؑت شکایت کی شکایت سے ہوئی ہے
خبر ہے غیبتِ دیگر ہے معمولاتِ دنیا
یہ بیزاری تو روزانہ سماعت سے ہوئی ہے
لکھا ہے داخلہ ممنوع دروازے پہ لیکن
کوئی آمد کہاں میری اجازت سے ہوئی ہے
نکالی اپنے اندر سے پہیلی نے پہیلی
سمجھ تازہ بجھارت کی بجھارت سے ہوئی ہے
چھپا تھا سطرِ مبہم میں معانی کا خزانہ
عیاں صدیوں کی دانائی کہاوت سے ہوئی ہے
نہ کار آمد رہی ہے گفتگوئے باالمشافہ
نہ کچھ امید افزائی وساطت سے ہوئی ہے
نہیں آئی قیامت بھی کہ حل ہوتا معمہ
نہ ظاہر بات ہی ردِّ قیامت سے ہوئی ہے
تدّبر اس میں شامل ہے کوئی کُن کے سوا بھی
یہ تعمیرِ جہاں ایسے مہارت سے ہوئی ہے
کرشمہ ایک عنصر کا نہیں ، تشکیل میری
کئی اجزا کی آپس میں شراکت سے ہوئی ہے

منگل، 7 اکتوبر، 2014

شام رات میں ڈھل رہی ہے پھر ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
رُت کو دیکھو بدل رہی ہے پھر
کس طرح لے مچل رہی ہے پھر
دیکھنا تو ہوا کے تیور تم
لہر سی چل رہی ہے پھر
صُبح کا سحر دلنشیں کتنا
جیسے مستی اُبل رہی ہے پھر
آرزووں کا پھیلا ساگر ہے
کوئی اُمید پل رہی ہے پھر 
دیپ روشن ہوئے مُنڈیروں پر
محفل شب اُجل رہی ہے پھر
شام کا اعتبار کیا انور
شام رات میں ڈھل رہی ہے پھر

اردو منزل ڈاٹ کام کی مدیراعلیٰ صبیحہ صبا کا پانچواں شعری مجموعہ،،دل درد آشنا،،


اردومنزل ڈاٹ کام کی مدیراعلیٰ صبیحہ صبا کا پانچواں زیرِ طبع شعری مجموعہ
 جو چند روز میں اردو شاعری کےصاحبِ ذوق قدردانوں کے ہاتھوں میں ہو گا

اتوار، 5 اکتوبر، 2014

حلقہ اربابِ ذوق (پاک ٹی ہاوس ) لاہور میں منعقد ہونے والا عید ملن مشاعرہ


 صغیر احمد جعفری،قائم نقوی، باقی احمد پوری، نجیب احمد،صبیحہ صبا
 اور سیکرٹری حلقہ ڈاکٹر غافر شہزاد،،شہزاد،

حلقہ اربابِ ذوق (پاک ٹی ہاوس ) لاہور میں منعقد ہونے والے عید ملن مشاعرہ 
 ، سٹیج پر محترمہ صبیحہ صبا ، نجیب احمد، باقی احمد پوری، قائم نقوی صاحب ،
 صغیر  احمدجعفری صاحب اور حکیم سلیم اختر ملک صاحب تشریف فرما ہیں
ڈاکٹر غافر شہزاد غزل سرا
نجیب احمد،صبیحہ صبا،ڈاکٹر غافر شہزاد اور احمد عدیل
صبیحہ صبا کلام پیش کر رہی ہیں
باقی احمد پوری غزل پیش کر رہے ہیں
صغیر احمد جعفری غزل سرا ہیں
قائم نقوی اپنی غزل پیش کر رہے ہیں

خدا کا بت تحریر: ڈاکٹر بلند اقبال

اور جب آگ کے شعلے ہوا میں اٹھنے لگے اور سیاہ دھوئیں کے مرغولے آزر کے جلتے ہوئے بدن کے گرد ناچنے لگے تو نہ جانے کیوں آسمان بلک بلک کر رونے لگا اور پھر وہ منہ برسا کہ جلتے ہوئے آزر کی لاش پانی سے بھیگ گئی۔ آگ تو بجھ گئی مگر پھر اور دھواں اٹھنے لگا۔ دھواں تو اٹھنا ہی تھا، دھواں.... جو جلے ہوئے دل کی راکھ سے اٹھے تو پھر مٹی کی جگہ راکھ ہی سے بت بنتے ہیں اور پھر..... آزر جیسے بت تراش زندہ جلا کرتے ہیں۔
ہاں.... آزر بت تراش تھا۔ ایک ایسا بت تراش جو زندگی کے بت بناتا تھا۔ اس کے خیالات کی گیلی مٹی جب بت کا روپ ڈھالتی تو زندگی اپنی بدنما شکل دیکھ کر رونے لگتی۔ آزر کی گوندھی ہوئی مٹی جب خشک ہوتی تو اس کے بنائے ہوئے ’’ماں‘‘ کے بت کی جگہ اس کوکھ کا بت بنتا جس میں ایک بلبلاتا بچہ دنیا کے جہنم میں آنے سے پہلے خوفزدہ ہوتا اور جب آزر ’’باپ‘‘ کا بت بناتا تو ایسے ہاتھ بن جاتے جو خود سہارا بننے کے بجائے محض کشکول ہاتھ میں تھامے ہوئے ہوتے اور یونہی ہوتا رہتا اور اس کے بنائے ہوئے بتوں کی شکلیں زندگی کی کرب ناک علامتوں میں ڈھلتی رہتیں۔ پھر اس نے ’’انسان‘‘ کا بت بنانے کے لیے مٹی گوندھی..... مگر یہ ہوا کہ جب مٹی خشک ہوئی جو جنگلی بھیڑیے کا بت بن گیا اور پھر.... اچانک ایک دن اسے یہ عجیب خیال آیا کہ کیوں نہ خدا کا بت بنایا جائے۔
اور پھر کتنے مہینے، کتنے سال گزر گئے اور آزر مٹی گوندھتا رہا۔ ایک عالم وجدان تھا جو اس پہ طاری تھا۔ وہ اپنے تحت الشعور کی ساری ہی منزلوں کو جانچنے نکلا تھا، وہ خلیوں میں چھپی توانائیوں کو ناپنے نکلا تھا۔ وہ کائنات کے ذرے ذرے کو حیرانگی سے سوچتا تھا۔ کبھی تو افق کے پار طلوع آفتاب کے منظر کو دیکھتا، تو کبھی سمندروں میں چھپے موتیوں کی سچائی کو سوچتا۔ کبھی رنگوں کی کہکشاؤں میں الجھتا تو کبھی تاریکیوں میں روشنیوں کے خواب دیکھتا مگر تحت الشعور کے تمام تر دروازے وا ہوکر بھی اسے لاعلمی کے گھور اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہ دے سکے..... تو وہ تھک ہار کر پھر سے زندگی کے سائے ہی میں سمٹ گیا۔ کچھ دیر کے لیے تو اسے لگا کہ خدا کہیں نہیں بس یہ زندگی ہی سب کچھ ہے۔ اور پھر ایک دن اس نے زندگی کے ارتقا کو خدا کے تصور سے جوڑ دیا۔ تو اسے یہ انہونا مگر تلخ خیال آیا اور پھر اس خیال کے آتے ہی وہ بلک بلک کر رونے لگا اور اس نے اپنے آنسوؤں سے اپنے دل کی مٹی گوندھی اور خدا کا بت تراش دیا۔
اور پھر جب سب لوگوں کو پتہ چلا کہ اس بار آزر نے خدا کا بت تراشا ہے تو وہ بہت چیخے چلائے، بہت غصے میں آئے۔ ان میں سے کچھ عبادت گاہوں میں جاکر گھنٹیاں بجانے لگے.... مارو، مارو.... اس بت تراش کو مارو..... کہ اس نے ہمارے خدا کی بے ادبی کی ہے۔ اسے زندہ جلادو کہ اس نے آج ہمارے خدا کا بت بنایا ے۔ تو پھر یہ ہوا کہ آزر کے گھر کو آگ لگادی گئی اور پھر اسے بھی زندہ جلا دیا گیا۔ آزر جلتا رہا اور لوگ تماشا دیکھتے رہے مگر کسی نے نہ دیکھا کہ اس کے راکھ ہوئے گھر میں ایک کچی مٹی کا بت بھی پک کر کندن ہو چکا تھا۔ آزر کا بنایا ہوا خدا کا بت..... ایک چھوٹے سے معصوم بچے کا بت.....
’’جو لاغر، کمزور اور ننگا تھا، جس کے ہاتھوں، پیروں کی ہڈیاں اور سینے کی پسلیاں سوکھی ہوئی تھیں، جس کی بھوکی آنکھوں میں آنسو تھے اور جس کے ہاتھ میں خالی پیالا تھا۔‘‘

جمعرات، 2 اکتوبر، 2014

سیپ‘‘ تہذیب و فن کے تسلسل کا ترجمان ۔۔۔۔ اقبال خورشید

خبر کا بھی عجیب مزاج ہوتا ہے۔ کبھی نیم جیسی کڑوی، کبھی شہد سی میٹھی۔ ایک خبر آپ کا تو دل بہلائے، پر اوروں کا جی جلائے۔ اب عمران خان کے لاہور جلسے ہی کو لیجیے۔ اُن کے حامیوں نے بغلیں بجائیں، تو مخالفین نے شرکاء کی تعداد دس ہزار ٹھہرائی۔ کوئی نئے صوبوں کے مطالبے پر جشن مناتا ہے، کوئی ہتھے سے اُکھڑ جاتا ہے۔
ہم ٹھہرے قنوطی، پھر شہرگریہ کے باسی۔ سفید کینوس ملے، تو اس پر تاریکی پینٹ کر دیں۔ وہ تو شکر ہے، صدیوں قبل کوئی نیک بخت کتاب ایجاد کر گیا۔ کچھ لوگ شعر کہنے، کچھ کہانی سنانے لگے، جو اس ایجاد کے وسیلے ہم تک پہنچیں، اور جینے کا امکان پیدا ہوا۔
کچھ ہی روز ہوئے، ایک اچھی خبر ملی۔ دو نسلوں کے ادبی ذوق کی آبیاری کرنے والا جریدہ ’’سیپ‘‘، آپ کا ہمارا ’’سیپ‘‘ اب 51 برس کا ہو گیا ہے۔ اس مناسبت سے پرچے کا خاص نمبر شایع ہوا۔ یوں ہمارے ہاتھ ایک خاص خبر لگ گئی۔ اور ہم، کم از کم اس بار، اپنے کالم میں اندھیرا قلم بند کرنے سے باز رہے۔

کنول کی کائنات مٹھی میں

میں تو خود کو تھی ڈھونڈنے نکلی
آ گئی کائنات مٹھی میں 
ربِ بزرگ و برتر نے چاہا کہ وہ پہچانا جائے تو اس نے کہا کن اور  فیکون ہو گیا، کائنات معرضِ  وجود میں آگئی لیکن یہ بے جان تھی،زمین تھی،اس پر سبزہ تھا،پہاڑ تھے،درخت تھے،ربِ کائنات کے فن کی خوبصورت تصویر،رنگ و نور سے بھری خوبصورت تصویر کی مانند لیکن بے نطق دنیا۔ پھر رب نے اس بے نطق دنیا کو زبان دی کہ انسان پیدا کیا،ساتھ ہی کائنات میں رنگ بھرنے کے لئے عورت کو پیدا کیا،ایک الجھی ہوئی جنس۔ یہی الجھی ہوئی جنس جب اپنی تلاش میں نکلتی ہے تو کائنات اس کی مٹھی میں آ جاتی ہے،وہی کائنات جسے ربِ بزرگ و برتر نے اپنی پہچان کے لئے تخلیق کیا۔ 
عورت نے تخلیق کے کرب سے تخلیق کار کو پہچان لیا۔
صحیفوں کی نظارت آب میں دیکھی نہ جاتی تھی
دیا ہے پھر کنول نے آبیانہ کن فیکن
،،کائنات مٹھی میں،، ایم زیذ کنول(مسرت زہرا کنول) کا شعری مجموعہ ہے جس کی شاعری استعارہ ہی استعارہ ہے،کہیں نام کا استعارہ کنول ہے جو اظہارِ ذات کا استعارہ ہے، کہیں کائنات ہے جو وسعت پذیری کا استعارہ ہے،خواب ہے جو افشا اور اشکار ہونے کا استعارہ ہے، ایم زیڈ کنول کہتی ہیں۔
کشتیاں ساری جلا آئی
لے کے اپنی ہی ذات مٹھی میں