ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


منگل، 23 ستمبر، 2014

ساہیوال کی مختصر اَدبی تاریخ ۔۔ تحریرو تحقیق:۔شکیل قمر مانچسٹر

شکیل قمر
   ساہیوال کا علاقہ علمی،اَدبی اور شعری فضاؤں میں رچا بسا ہوا ہے،شروع  شروع میں ساہیوال،ایک
  عرصہ تک منٹگمری اور بعد میں پھر ساہیوال کے نام سے موسوم ہونے والے اس علاقے کے لوگوں کیلئے
  یہ بات باعثِ فخر ہے کہ انسان کے ہاتھ کی لکھی سب سے پہلی تحریر اِسی ضلع کے ایک شہر ہڑپہ کی مہروں 
  پر محفوظ ہے۔ساہیوال کو اس سعادت پر بھی فخر ہے کہ ابتدائی اُردو کے سب سے پہلے اشعار بابافریدؒکے
  دوھوں کی شکل میں اِسی ضلع کی ایک سابقہ تحصیل پاکپتن  (اجودھن)  میں لکھے گئے۔ساہیوال ضلع کے
  ایک قصبے ملکہ ہانس میں ایک ایسی ہستی کا قیام رہا ہے جن کا کلام اُردو زبان


کی تد ریجی ترقی میں ایک اہم
  سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اس ہستی کا نام مولانا عبدی ؔ تھا۔ساہیوال ضلع کی ہی ایک سابقہ تحصیل 
  (دیوپال پور)دیپالپورمیں امیر خسرونے سلطان بلبن کے بیٹے شہزادہ محمد کی وفات پر مرثیہ لکھا تھا۔
 ”ہیر وارث شاہ“ جیسے شہرہء آفاق کلام کے خالق حضرت وارث شاہؒنے اپنی عظیم تخلیق”ہیروارث شاہ“
  ساہیوال ضلع کے قصبے ملکہ ہانس میں قیام کے دوران لکھی۔سا ہیوال میں اُردو اَدب کے اس تاریخی پسِ
  منظر کی روشنی میں اس علاقے کی اُردو اَدب کے لئے گراں قدر خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
  اُردو کے ممتاز شاعر حضرت مجید امجد نے اپنی زندگی کے کم و بیش ستائیس برس اسی شہر میں گذارے ہیں 
  اور اُنہوں نے اپنے کلام کا زیادہ تر حصّہ اسی شہرمیں قیام کے دوران مکمل کیا ۔اس علاقے سے تعلق 
  رکھنے والے علم و اَدب کے عظیم علمبرداروں نے جو خدمات سرانجام دیں اُس کا فیض آج بھی جاری ہے
  زندگی کے بارے میں اُن کا نقطہء نظر آج بھی ساہیوال کے شعراء اور اُدباء کی تحریروں میں جھلکتاہے جو
  یقیناًساہیوال کے اَدب کا رنگ ہے۔ساہیوال میں اَدبی وشعری سرگرمیاں ہر دور میں جاری وساری 
  رہی ہیں کبھی کبھی کچھ عرصہ کے لئے اَدبی سرگرمیاں قدرے ماند پڑ جاتی رہیں لیکن زیادہ تر اس علاقے 
  میں شعرواَدب کے لئے کچھ نہ کچھ کام ہر دور میں جاری رہا ہے جب ساہیوال کو منٹگمری کا نام دیا گیا تو
  یہاں شعری واَدبی میدان میں ایک سکوت طاری تھا یہ سکوت ایک عرصہ بعد شیخ غلام جیلانی نے توڑا 
  اُنہوں نے یہاں ایک بزمِ مشاعرہ قائم کی شیخ غلام جیلانی کے علاوہ اُس دور میں مولوی میراں بخش،
  شیخ غلام قادر،بابو خداداد خان اور مولوی حکیم دین وغیرہ بھی شعری و اَدبی سرگرمیوں میں بھر پور حصّہ لیتے 
 تھے اُس کے بعد ۶۱۹۱ء اور ۷۱۹۱ء کا دور آتا ہے اس دور میں شعری و اَدبی سرگرمیوں میں قدرے اضافہ   
 دکھائی دیتا ہے ا س دور میں جن لوگوں نے ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اُن میں حفیظ جالندھری 
  نشتر جالندھری، شیخ علاء جنون،شیخ عطاء اللہ تبسم اور ڈاکٹر ماھلارام وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں اس کے
  بعد کچھ عرصہ ادیب میرٹھی نے بھی ساہیوال میں شعری و اَدبی سرگرمیوں میں حصّہ لیا،قیامِ پاکستان سے
  قبل تک یہاں شعری واَدبی سرگرمیاں وقفے وقفے سے جاری رہیں لیکن قیامِ پاکستان کے بعد بھارت
 سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے چند ایک عظیم شعراء کے ساہیوال میں مستقلاً رہائش اختیار کر لینے
 کی وجہ سے یہاں شعرو اَدب کی ایک اچھی خاصی بساط سج گئی، پہلے پہل اکرم خان قمرؔ کے ہاں مشاعروں 
 کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ اُن کی وفات کے بعد تک جاری رہا اس دور میں شعرواَدب کے لئے خدمات سر
انجام دینے والوں میں مولانا عزیزالدین عظامی تلمیذ،مولانا گرامی،خواجہ فیض کرنالی،مجیدقادری،مولانا
 جنون،مجید امجد،گوھرہوشیارپوری،طفیل نسیم،صابرکنجاہی،نسیم اخگر،حکیم تفضل حسین شاہ،منیرنیازی اور بشیر احمد بشیر کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔اسی دور میں ساہیوال میں بزمِ اُردو کے نام سے ایک تنظیم
  قائم کی گئی اور ۲۵۹۱ء میں بزمِ فکرواَدب کے نام سے ایک اور اَدبی تنظیم قائم ہوئی جسے بعد میں ڈپٹی کمشنر
  چوہدری نیاز احمد کی ذاتی کوششوں سے ساہیوال شہر میں ایک ایکڑ زمین بھی اَلاٹ کی گئی جہاں پر بزم کا
  نہایت ہی اعلی شان دفتر اور اَدبی تقریبات کے لئے ایک خوبصورت ہال تعمیر کیا گیا یہ عمارت آج بھی
  (ساہیوال ہال) کے نام سے موجود ہے۔گورنمنٹ کالج ساہیوال نے ہمیشہ ہی شعری واَدبی سرگرمیوں 
  کے لئے انتہائی سازگار ماحول مہیا کیا ہے ۷۵۹۱ء میں کالج کی بزمِ اَدب نے خاصی اہمیت حاصل کر لی
  تھی اس بزم کے تحت باقاعدہ اَدبی وشعری تقریبات کا انعقاد کیا جاتا،  جس میں ڈاکٹر الف دال نسیم،
  انور شمیم دل،غلام محی الدین مرزا،صوفی ضیاء الحق،صوفی بہاوالحق، مجید امجد، جعفر شیرازی،بشیر احمدبشیرؔ
  اکرم خان قمرؔ،جلیل نقوی،اشرف قدسی،طارق عزیز،ناصر شہزاد،سیّد مراتب اختر،صفدر سلیم اور اطہرندیم
   حصّہ لیاکرتے تھے۔بزمِ فکرواَدب کے زیرِاہتمام سرگرمیوں کے لئے بشیر احمد بشیر اور اسرار زیدی
  کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ساہیوال میں شعری واَدبی سرگرمیوں کا ایک ناقابلِ فراموش
  دور اُس وقت بھی شروع ہوا جب ممتاز شاعر سیّد مصطفیٰ زیدی ضلع کے ڈپٹی کمشنر مقرر ہوئے،اسی دور
  میں یہاں ساہیوال کی تاریخ کا سب سے بڑاکل پاکستان مشاعرہ بھی منعقد ہوا،مصطفیٰ زیدی کے
 جانے کے بعد ایک عرصہ تک ساہیوال میں شعری واَدبی سرگرمیوں کا سلسلہ ماند پڑے رہا اور مقامی
  ادیب اور شاعر بھی تقریباً گوشہ نشین دکھائی دئیے حتیٰ کہ ساہیوال میں اَدب کے اُفق پر تاریکی کا راج
  دکھائی دینے لگا یہ تاریکی ایک عرصہ تک چھائی رہی اُس دور میں نوجوانوں نے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس
  کیا اور ۴۷۹۱ء میں کنورشفیق احمد، رضاء الحق صدیقی،زاہد حسین رانا، اور نعیم نقوی نے اَدبی سناٹے میں 
  گونج پیدا کرنے کا فیصلہ کیا اور اس طرح مجلسِ فکرِنو کا قیام معرضِ وجود میں آیا،ساہیوال میں ایک مرتبہ
  پھر بزم آرائیاں شروع ہوئیں اور شعری واَدبی سرگرمیاں اپنے عروج پر دکھائی دینے لگیں۔۶۷۹۱ء
  میں جاوید عاشق کنول اور دین محمد دردنے حلقہء اربابِ قلم کی بنیاد رکھی یہ دور ساہیوال میں اَدبی وشعری
  سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لئے تنظیموں کے قیام کا دور تھا اس دور میں یارانِ اَدب،فکروفن،بزمِ تنویرِ
   اَدب،پنجابی اَدبی مجلس،ادارہء علم و فن،بزمِ بشیر،رائٹرزگلڈاور بے شمار دوسری اَدبی تنظیموں کا قیام عمل
  میں آیا لیکن ۰۸۹۱ء کے عشرے میں آکر ان تمام تنظیموں کی سرگرمیاں خاصی محدود ہوکررہ گئیں اس دور
  میں ایک مرتبہ پھر اُس وقت کے نوجوانوں نے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کیا اور اُنہیں کماحقہ طور پر پورا
  کرنے کے لئے ساہیوال اکیڈیمی کا قیام عمل میں لایا گیا،ساہیوال اکیڈیمی کی انتظامی کمیٹی میں کنور
  شفیق احمد، مفخرعالم، ارشد رضوی،نعیم نقوی، راقم اُلحروف شکیل قمر،مسرور زیدی،اور رضاء الحق صدیقی
  کے نام شامل تھے ساہیوال اکیڈیمی نے ساہیوال کی شعری و اَدبی سرگرمیوں میں بھر پور کردار ادا کیا۔
  اس کے علاوہ ساہیوال کی شعری واَدبی سرگرمیوں میں وقتاً فوقتاً بہت سے دوسرے لوگ بھی حصّہ لیتے 
  رہے ہیں جن کا ذکر کئے بغیر یہ تحریر نا مکمل رہے گی ایسے لوگوں میں مجھے جس قدر نام میّسرآسکے ہیں میں 
  نے کوشش کی ہے کہ وہ اس تحریر میں شامل کردوں مگراس خواہش کے ساتھ کہ اگرکسی بھی صاحب کو کوئی
  اور نام یاد ہو ں تو وہ بھی اس تحریر میں اپنا حصّہ ڈال سکتے ہیں۔میری معلومات کے مطابق ساہیوال کی 
 شعری واَدبی سرگرمیوں میں مختلف اوقات میں پیش پیش رہنے والے اُردو اَدب کے قدردانوں میں جو
  لوگ شامل ہیں اُن کے اسمائے گرامی ہیں،حاجی بشیر احمد بشیرؔ،گوہرہوشیارپوریؔ،جعفر ؔ شیرازی،محمود علی
  محمودؔ، راؤنواب   ؔعلی،آغاامجدؔعلی،اکرم خان قمرؔ،ذوالفقار فرخؔ،حمید عابدؔ،ظہور حسین ظہورؔ،ریاض نغمیؔ،غلام
  رسول آزادؔ، ملک ندیمؔ ایڈووکیٹ، ہارون ؔالرشید، طاؔہرمحمدخان، نوابزادہ اُصاف ؔعلی خان، ڈاکٹر اسرارؔ
  احمد، پروفیسر بھلیؔ،ارشدؔ میر، نذیر عادلؔ، مشتاق صوفیؔ، محمد حنیف فانیؔ، ذکی ؔالحسینی،ایم اے اشرفؔ،صبیحہ صباؔ،بسمل ؔصابری، رانا سردار پرویزؔ،نجمہ پروینؔ، حکیم محمودؔ رضوی، راجہ عبدالقادرؔ،نبیلہؔ کیانی، رفعت ؔکیانی
 شاھدہؔکیانی، شاہدؔ چوہدری، نزہتؔ شاہ، عذرا اصغرؔ، جمیلہ ؔہاشمی، سائرہؔ ہاشمی،فرخندہؔلودھی، سجاد میر، احمد
 رمیشؔ، شیخ فضل ؔکریم،رشیدؔ اکمل، نذیر ناجیؔ، منیر ؔنیازی، عباس اطہرؔ،ضیاء ؔشبنمی، مولانا رفیقؔ، رحمان فرازؔ
 مذاق ؔالعیشی، رفعت ؔسلطان، ممتازؔ مفتی، باباجوگیؔ،پروفیسر خورشید رضوی،امین رضا،فہیم جوزی،ظفر اقبال
اسلم کولسری،ڈاکٹر سلیم اختر،شیخ عبدالرشید،پروفیسرقیوم نظر،ساغر لودھی،ابرارترمذی،مظہر ترمذی،میاں 
لطیف،پروفیسرانجم رومانی،ناصر ترمذی،ناصر شہزاد،صفدر خان بلوچ،سید مراتب اختر،قیوم صباء،جاوید
قریشی،ایزدعزیز،ریاض نغمی، پرنس عنایت،میاں خان محمد،افتخار خاور ایڈووکیٹ،خواجہ ضیاء اُللہ نائیک، ارجمند قریشی،سبط الحسن،اشرف شگفتہ،ملک احمد حسن، شاہد ریاض،آئیون راجکمار،فضل محمد خان،ایم نعیم
 ایم،طاہرنسیم،ڈاکٹرسعادت نسیم،سید یٰسین قدرت،ڈاکٹر کاظم بخاری،آفتاب کاوش،طالب جتوئی،
  ارشاد ناز،قسور بٹ،وارث انصاری،وقاص بٹ،سلیم خان درانی،طفیل مزدور،میاں غلام محمد سیف،
 خواجہ عسکری حسن،غلام فرید کاٹھیہ،مرتضیٰ سکھیرا،شوکت زاہدی،مقبول کوثری،عباس تابش،رانا محمد اقبال ،راغب علی سید،طارق مرزا،جاوید عاشق کنول،نعیم کامران،عبدالرزاق شاہد،خالدمحمود،
سعیدآسی ،احمد خان جاوید،اعجاز شیرازی،نیّرسہاب،آصف شاہکار،قاضی بلال،بلال سعید،
  نیّراقبال،  مسرورسلطانہ چوہدری،احسن شیرازی،اے ڈی اعجاز، ساجد رانا،غازی رفیق،علی رضا احمدؔ،
  سیدسرفرازحسین شاہ،پروفیسرایس ایم اکبر،آغاصادق علی تصدق،منظوراعجاز،اعظم منہاس،حکیم شاہ
 نواز انجم،شکیل سروش،چوہدری ممتاز،متین یوسفی علامہ صلاح الدین،شیخ مظہر،عارف چوہدری،تاج محمد
 خان ایڈووکیٹ،میاں خان ایڈووکیٹ،علی اظہر،شیخ احسان الحق ایڈووکیٹ،اسلم طاہرالقادری،یٰسین
 وٹو،میاں صدیق کامیانہ،دین محمد درد،رانا ذوالفقار،مسعوداحمدپوسوال ایڈووکیٹ،تاج محمدایڈووکیٹ، سردارخالد ضیاء ایڈووکیٹ،میاں ولی محمد،چوہدری اسماعیل،٭٭٭
ؑE MAIL<<<
MOBILE<<<  07404352793            
     

1 تبصرہ: