ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 18 ستمبر، 2014

جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ انتظام سہیل احمد لون کی کتاب ،، جلاوطن کی تقریبِ پذیرائی

 سیلابی ریلے کی تباہ کاریوں  کے باوجود زندہ دِلانِ لاہور نے ادبی محافل اسی جوش و خروش سے آباد کر رکھی ہیں جو اُن کا طُرہ ِامتیاز ہے۔ایسی ہی ایک تقریب کا انعقاد عِلمی، ادبی،سماجی و ثقافتی روایات کی حامل تنظیم جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام  باقر پبلیکیشنز،لاہور کے تعاون سے چوپال،ناصر باغ،لاہور میں برطانیہ سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر،ادیب، افسانہ نگار وکالم نگار اور لندن میں جگنو انٹر نیشنل کے سرگرم ممبر سہیل احمد لون کے اعزاز میں کیاگیا۔ صدارت  چیئرمین گلشنِ ادب پاکستان،معروف شاعر وادیب پروفیسر عاشق رحیل نے کی۔ 

مہمانِ خصوصی صاحبِ شام سہیل احمد لون ا ور معروف استادشاعر اقبال راہی تھے، جبکہ مہمانانِ اعزاز خواجہ فرید سنگت پاکستان کے صدر حکیم سلیم احمد ملک اورخوبصورت لب و لہجہ کی شاعرہ محترمہ شگفتہ غزل ہاشمی تھیں۔ 
تقریب میں پرائیڈ آف پرفارمینس آرٹسٹ ڈاکٹر اعجاز انور،شاہ اکبر لاہوری،نامور نوجوان صحافی آدم شیر کے علاوہ شعراء و ادباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز ربّ ِ ذوالجلال کے با برکت نام سے کیا گیا۔جس کی سعادت نامور عالمہ،حافظہ ناصرہ  اقبال نے حاصل کی۔ اس کے بعد اقبال کمبوہ  ایڈیٹر زنجیر نے 
سرکارِ دو عالم محمد ﷺ کی شانِ اقدس میں نذرانہ ئ عقیدت پیش کیا۔ نِظامت  کے فرائض نامورشاعرہ،ادیبہ،ایڈیٹراحساس،جرمنی،چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل ایم زیڈ کنولؔ نے سر انجام دیئے۔یہ خوبصورت اور یادگار تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔
پہلی نشست میں سہیل احمد لون کی کالموں پر مشتمل کتاب،جِلا وطن،کی تقریبِ پذیرائی کا اہتمام کیا گیا۔ نامور استاد شاعر مظہر جعفری،خوبصورت شاعر چیئرمین بزمِ غالب خالد نقاش، چیئرمین عظیم آراء فاؤنڈیشن ادبی سکاؤٹ مقصود چغتائی، اور فراست بخاری نے اپنی فراست بیانی کے جوہر دکھائے۔ 
دوسری نشست محفلِ مشاعرہ پر مشتمل تھی۔ پروفیسر عاشق رحیل،اقبال راہی،حکیم سلیم احمد ملک،شگفتہ غزل ہاشمی،احمد خیال،مظہر جعفری،عبدالماجد ملک،جاوید قاسم،اقبال کمبوہ،عمرانہ انعم،علی مراد،چیئرمین بزمِ چغتائی،طارق چغتائی،سلیم صابر،سہیل احمد لون،ایم زیڈ کنولؔ اور دیگر شعرا ء نے اپنا کلام پیش کیا۔تقریب کے آخر میں ایم زیڈ کنول نے اپنے خطاب میں دیارِ غیر میں رہنے والے ادب دوستوں اور تنظیموں سے وابستہ اہلِ قلم کی خدمات کو سراہا جو وطن سے دور رہ کر  بھی وطن کی محبت سے سرشار حُبّ الوطنی کی مشعلیں روشن کئے ہوئے ہیں۔اِس ضمن میں انھوں نے خاص طور پر شفیق مراد،چیف ایگزیکٹو شریف اکیڈمی جرمنی کی ساری دنیا میں فروغِ علم و ادب کے لئے کاوشوں کو سراہتے ہوئے انھیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیاکہ کس طرح وہ اپنے تن، من، دھن سے ادب کی آبیاری میں سرگرمِ عمل ہیں۔آخر میں مہمانوں کا شکریہ ادا کرنے کی روایت کے ساتھ یہ خوبصورت اور باوقار تقر یب اختتام کو پہنچی۔ 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں