ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

منگل، 30 ستمبر، 2014

فریبِ چشم تھا، وہ واہمہ خیال کا تھا ۔۔ زبیر قیصر

زبیر قیصر
اٹھا ہوں گر کے ، مرا حوصلہ کمال کا تھا
گو منتظریہ زمانہ مرے زوال کا تھا
قریب ِ مرگ کہیں راز قربتوں کا کُھلا
فریبِ چشم تھا، وہ واہمہ خیال کا تھا
تمام لوگ جو بولےتو میں بھی چیخ اٹھا
جواب جانے یہ کس شخص کے سوال کا تھا
گھٹا میں ،پھولوں میں ، پیڑوں میں ،چاند تاروں میں
جہان بھر میں ہی جلوہ ترے جمال کا تھا
یہ میرے دوست کسی طور میرے دوست نہیں 
عدو تھا ایک مگر کس قدر کمال کا تھا

کاروان قلم انٹرنیشنل کی محفلِ مشاعرہ

(رپورٹ: ادریس آزاد)
  پروفیسر راشدہ ماہین ملک چیئر پرسن "کاروان ِ قلم انٹرنیشنل"کے گھرایک محفلِ مشاعرہ
منعقد   ہوئی ،یہ ایک یادگار نشست تھی۔ کاروان ِ قلم کے زیر اہتمام ہونے والے اس مشاعرہ کے مہمان ِ خصوصی باکمال شاعر احمد حسین مجاہد تھے اور صدارت ڈاکٹر احسان اکبر کی تھی۔

 شرکأ میں، سرمد شروش، جاوید بخاری، دلاور علی آزر، عرفان عثمان، جنید آزر، وحید ناشاد، طاہر حنفی، ڈاکٹر عابد سیال، رانا سعید دوشی، اور مشہور شاعر حسن عباس شامل تھے۔

اتوار، 28 ستمبر، 2014

بیداری۔۔۔۔۔۔ رضیہ سبحان

رضیہ سبحان
وقت کے روز و مہ و سال گزرتے جائیں
اے مرے دل،مرے ہمرازِ محبت جاگو !!
لذتِ خواب سے مخمور نگاہیں کھولو
مستیء حسن میں ڈوبی یہ ادائیں چھوڑو
چشم، ویراں سے ذرا اشکِ ندامت تو بہیں
گردشِ وقت جو روٹھی ہے مناؤ تو اُسے
کرچیاں دیدہء حیران کی چنتے جاؤ
گونج اس نغمہء ماضی کی بھی سنتے جاؤ
غیض و غم درد و ستم روگِ محبت سہہ لو
ظرف قائم ہی رہے،حرفِ زباں سے نہ کہو

ہفتہ، 27 ستمبر، 2014

موجوں سے میں اثباتِ سفر بانٹ رہاہوں ۔۔ ضیا حسین ضیا

ضیا حسین ضیا
آندھی کے جو ہاتھوں پہ تماشا ہے کوئی اور
اس بار مری لوحِ ارادہ ہے کوئی اور
وہ کارِ تخیل میں نظر کا نہیں بستر
اس شخص سے ملنے کا بھی ، سوچا ہے کوئی اور
ہے بادِ نمو چرخہِ باطن سے گریزاں
اس خانقہہِ جسم میں رہتا ہے کوئی
ترتیب سے تقدیر بدلتی نہیں اکثر 
کرتب پہ جو آسان ہے ، دھوکہ ہے کوئی اور
موجوں سے میں اثباتِ سفر بانٹ رہاہوں
ساحل ہے کوئِی اور سفینہ ہے کوئِی اور

روشنی ہی روشنی ہو دور تک ۔۔ ناھید ورک

ناھید ورک
تجھ کو اپنی ذات سے آگے رکھوں
اپنی ہر اک بات سے آگے رکھوں
روشنی ہی روشنی ہو دور تک
تقش تیرے رات سے آگے رکھوں
خواہشِ یکجائی ہے بس، جس کو میں
حدّ امکانات سے آگے رکھوں
جن گھٹاؤں نے برسنا ہی نہیں
اُن کو بھی برسات سے آگے رکھوں
ہیں دھندلکے ہی دھندلکے چار سُو
اور نظر حالات سے آگے رکھوں

لاکھ تجھ سے ہے اختلاف مگر ۔۔ الماس شیبی

الماس شیبی
جب وہ مجھ سے کلام کرتا ہے 
دھڑکنوں میں قیام کرتا ہے
لاکھ تجھ سے ہے اختلاف مگر
دل ترا احترام کرتا ہے
دن کہیں بھی گزار لے یہ دل
تیرے کوچے میں شام کرتا ہے
ہاتھ تھاما نہ حال ہی پوچھا
یوں بھی کوئ سلام کرتا ہے
وہ فسوں کار اس قدر ھے شبی
بیٹھے بیٹھے غلام کرتا ہے.

جمعہ، 26 ستمبر، 2014

شام ڈھلتے ہی سجاتاہوں نگر خوابوں کا ۔۔ ناصر ملک

ناصر ملک
میں سنبھلتا ہوں، مرا یار مجھے توڑتا ہے
ہاں وہی لہجہءِ بیزار مجھے توڑتا ہے
شام ڈھلتے ہی سجاتاہوں نگر خوابوں کا
ہر نئی صبح کا اخبار مجھے توڑتا ہے
یہ زمانہ تو مجھے توڑ نہیں سکتا مگر
دل کہ اس کا ہے طرف دار، مجھے توڑتا ہے
کیوں سناتا ہے لرزتی ہوئی آواز میں گیت
خود بھی تھک جاتا ہے، بے کار مجھے توڑتا ہے
سوچ میں گم ہے طلسمِ غمِ دوراں کا عدو
کب تلک میرا سزاوار مجھے توڑتا ہے

جمعرات، 25 ستمبر، 2014

بے خودی میں خدائی کا دعوی کیا ۔۔ لیاقت علی عاصم

لیاقت علی عاصم
پھر وہی بے دلی، پھر وہی معذرت
بس بہت ہو چکا، زندگی! معذرت
خود کلامی سے بھی روٹھ جاتی ہے تو
اب نہ بولوں گا اے خامشی، معذرت
داد بے داد میں جی نہیں لگ رہا
دوستو! شکریہ، شاعری! معذرت
اب یہ آنسو دوبارہ نہیں آئیں گے
اب نہ ہوگی مری واپسی، معذرت
بے خودی میں خدائی کا دعوی کیا
اے خدا درگزر، اے خودی، معذرت

موج در موج اترتا ہے شب ہجر کا چاند ۔۔ سیما نقوی

سیما نقوی
رنج بڑھتا ہے سو یہ مسئلہ کم رکھتے ہیں
نہ ہمیں یاد وہ رکھتا ہے نہ ہم رکھتے ہیں
 صرف جلتا ہوا اک ہجر نہیں ان کا ملال
میرے خوابوں کے چراغ اور بھی غم  رکھتے ہیں
 عجز ایسا ہے در عشق پہ اے رعب جمال
ہم نظر کیا سر تسلیم بھی خم رکھتے ہیں
ہم گیا وقت سہی، پر ہمیں سایہ نہ کہو
ہم قدم ہو کہ نا ہو، نقش قدم  رکھتے ہیں
 موج در موج اترتا ہے شب ہجر کا چاند
ہم سمندر نہ سہی، دیدہ نم رکھتے ہیں

بدھ، 24 ستمبر، 2014

جادہء عشق راہِ طوری ہے ۔۔ علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
جادہء عشق راہِ طوری ہے
یہ محبت بھی رختِ نوری ہے
آپ کے ہاتھ سے ملے تو پھر
آبِ سادہ بھی مئے طہوری ہے
عالمِ کیف میں کیا ہر کام
لاشعوری بھی ہو،شعوری ہے
سرگرانی کو کیا سمجھتے ہو
یہ میاں حالتِ حضوری ہے
جامہء عشق ہے کڑکتی دھوپ
جس کو خورشید سے نہ دوری ہے


منگل، 23 ستمبر، 2014

ساہیوال کی مختصر اَدبی تاریخ ۔۔ تحریرو تحقیق:۔شکیل قمر مانچسٹر

شکیل قمر
   ساہیوال کا علاقہ علمی،اَدبی اور شعری فضاؤں میں رچا بسا ہوا ہے،شروع  شروع میں ساہیوال،ایک
  عرصہ تک منٹگمری اور بعد میں پھر ساہیوال کے نام سے موسوم ہونے والے اس علاقے کے لوگوں کیلئے
  یہ بات باعثِ فخر ہے کہ انسان کے ہاتھ کی لکھی سب سے پہلی تحریر اِسی ضلع کے ایک شہر ہڑپہ کی مہروں 
  پر محفوظ ہے۔ساہیوال کو اس سعادت پر بھی فخر ہے کہ ابتدائی اُردو کے سب سے پہلے اشعار بابافریدؒکے
  دوھوں کی شکل میں اِسی ضلع کی ایک سابقہ تحصیل پاکپتن  (اجودھن)  میں لکھے گئے۔ساہیوال ضلع کے
  ایک قصبے ملکہ ہانس میں ایک ایسی ہستی کا قیام رہا ہے جن کا کلام اُردو زبان

جنتِ گم گشتہ ۔۔ لیاقت علی بہاولپور

میں متوسط طبقے کا ایک قلیل آمدنی والا فرد ہوں اور اپنے طبقے کے بے شمار انسانوں کی طرح مجھے بھی اپنی بہت سی خواہشات کو آنے والے کسی اچھے وقت تک ملتوی کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ یہ بات اَب میں محض مشاہدے ہی نہیں تجربے کی بنیاد پر کر سکتا ہوں کہ یہ اچھا وقت ندی کے دومتوازی کناروں کی طرح پاس رہ کر بھی کبھی ہاتھ نہیں ملا پاتا۔
مجھے پہلے پہل جب ملازمت ملی تو میری تنخواہ دس ہزار روپے تھی۔ والدہ نے والد کی وفات کے بعد ذمہ داریوں سے سبکدوشی کی آخری کاوش کے طور پر میری شادی کر دی۔ گبِن نے رومن امپائر کے زوال کے اسباب کہاں سے شروع


سوموار، 22 ستمبر، 2014

جشنِ دیدار کا تبرّک ہے ۔۔ عارف امام

عارف امام
سیدھا سادہ ذرا الگ سا ہے
میرا لہجہ ذرا الگ سا ہے
جشنِ دیدار کا تبرّک ہے
ہاں یہ میوہ ذرا الگ سا ہے
دیکھتا ہوں درود پڑھتا ہوں
اس کا چہرہ ذرا الگ سا ہے
پی رہا ہوں وہی پرانی شراب
بس پیالہ ذرا الگ سا ہے

بیچ بازار کے ، گٹھڑی نہیں کھولی جاتی ۔۔ سلیم طاہر

سلیم طاہر
بیچ بازار کے ، گٹھڑی نہیں کھولی جاتی 
ہر ترازو میں تو خوشبو نہین تولی جاتی
آپ کے کہنے سے پہلے ہی سمجھ جائے کوئی
یہ زباں وہ ہے ، جو سب سے نہیں بولی جاتی
اک تبسم کے عوض اس نے خریدا ہے مجھے
تم بتاؤ ، کہ کہاں تک ، مری بولی جاتی
میری خواہش تھی معانی کی گرہ کھولتے آپ
کاش ہوتا کہ ، مری بات نہ تولی جاتی
گر ، مرے علم میں ہوتا ، کہ خریدار ہیں آپ
اک دکاں آپ کے کوچے میں بھی کھولی جاتی

اتوار، 21 ستمبر، 2014

انتظار حسین کے لئے فرانسیسی حکومت کا لٹریچر آرٹ اینڈ کلچر کا سب سے بڑا ایوارڈ

معروف افسانہ اور ناول نگارانتظار حسین کو فرانسیسی حکومت کا لٹریچر آرٹ اینڈ کلچر کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔ انتظار حسین یہ ایوارڈ پانے والے پہلے پاکستانی ہیں۔انتظار حسین کو آرڈر آف دی آرٹ اینڈ لیٹرز ایوارڈ دینے کی تقریب لاھور کے مقامی ہوٹل میں ہوئی۔فرانسیسی سفیر فلپ تھیبو نے انتظار حسین انداز میں ایوارڈ پیش کیا۔
فرانسیسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انتظار حسین جیسے لیجنڈ کو یہ ایوارڈ دینا ان کے لئے باعثِ فخر ہے۔

خوشیوں کے ساتھ ساتھ ہے رنج و ملال زندگی ۔۔ صبیحہ صبا کی آنے والی کتاب،،دل درد آشنا ،، سے ایک غزل

صبیحہ صبا
گردشِ ماہ و سال کا حسن و جمال زندگی
جیسے بھی جو گذار دے اُسکا کمال زندگی
کوئی ہماری راہ میں کانٹے اگر بچھا گیا
اپنی تو پھر گذر گئی گل کی مثال زندگی
اس کے ہیں دونوں ذائقے شیریں بھی اور تلخ بھی
خوشیوں کے ساتھ ساتھ ہے رنج و ملال زندگی
کیا کیا ہمیں برا لگا کیا کچھ ہمیں بھلا لگا
کوئی نہیں مگر رہی واقفِ حال زندگی
آتے ہیں اس کے فیصلے دھیرے سے سب کے سامنے
اپنی ادائے خاص سے چلتی ہے چال زندگی

پرندے جاتے ہیں پر لوٹ کر نہیں آتے ۔۔ الیاس بابر اعوان

الیاس بابر اعوان
چلے تھے ساتھ میں ، میں‌ نے سفر زیادہ کیا
وہ ایک عمر جسے ہم نے آدھا آدھا کیا
پڑا ہُوا تھا میں سوئے ہوئے محل کے دُروں
پری نے ہاتھ لگایا تو شاہزادہ کیا
تمہاری آنکھیں بھی روشن ہیں شہر بھر کی طرح
سو میرے خوابوں سے تم نے بھی استفادہ کیا!
اس ایک ڈر سے کہ سورج نکلنے والا ہے
میں اک چراغ اٹھایا اسے لبادہ کیا
اور ایک اسم سے پیکر بنانے لگتا ہوں
ذرا سی خاک اٹھائی ذرا ارداہ کیا
پرندے جاتے ہیں پر لوٹ کر نہیں آتے
ندی کے بیچ میں یہ کس نے در کشادہ کیا
الیاس بابر اعوان

آدمی بنا ہی اِس لیے ہے کہ پیار کرے ، فراق ؔگورکھپوری

(بشکریہ اقبال خورشید)
یہ انٹرویو اردو کے مایہ ناز شاعر فراق گورکھپوری کے انتقال سے چند روز قبل، الہ آباد میں اُن کی رہائش گاہ پر کیا گیا تھا۔ انٹرویو نگار، انیتا گوپیش الہ آباد یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ افسانہ نگاری اُن کی شناخت کا مستند حوالہ۔ اُن کے والد، گوپی چند گوپیش بھی الہ آباد یونیورسٹی میں روسی زبان پڑھاتے رہے۔ ہندی کے بہت اچھے شاعر تھے۔ اِس انٹرویو کو مشہور افسانہ نگار، اسرار گاندھی اور معروف شاعر اور ماہر نوبیلیات، باقر نقوی نے اِسے اردو روپ دیا۔ ہندی اخبارات اور جرائدنے اسے شائع کرنے میں دل چسپی ظاہر نہیں کی کہ فراق کے ہندی سے متعلق نظریات متنازع تھے۔ البتہ ہندوستان کے ایک اردو ادبی جریدے میں اس انٹرویو نے فراق کی موت کے بعد جگہ پائی۔ پاکستانی قارئین کے لیے یہ انٹرویو پیش کیا جارہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مارچ 1982 کو، اپنی موت سے کچھ روز قبل فراقؔ صاحب آنکھ کے آپریشن کے لیے دہلی لے جائے گئے۔ وہ بہت دنوں سے آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ 

ہم کلامی ۔۔ ستیہ پال آنند

ستیہ پال آنند
بہت دیر جاگا
میں کل رات جاگا، سحر پو پھٹے تک
کہاں تھا میں؟ کیا کر رہا تھا؟
مجھے یاد ہے سب!
میں اپنے ہی کمرے میں تھا اور اکیلا نہیں تھا
کوئی اور بھی تھا مقرّر، سخن گو
مرے ساتھ محو ِ تکلم
سحر، پو پھٹے تک، سماں رات کا یہ
سوالوں، جوابوں کے اک سلسلے میں
بہم گفتگو، ہم کلامی میں گذرا !
خدا جانے، کیسے چلی آئی تھی
میرے حجرے کی تاریک گہرائیوں میں
چمکتی ہوئی طور کی اونچی چوٹی!

ہفتہ، 20 ستمبر، 2014

کسی کے لب پہ چیخ تک نہ آئے گی ۔۔ قمر رضا شہزاد

قمر رضا شہزاد
یہ پیڑ ، راستے ، مکاں رہیں گے کیا؟
ہم اپنے بعد بھی یہاں رہیں گے کیا؟
کسی کے لب پہ چیخ تک نہ آئے گی
تمام لوگ بے زباں رہیں گے کیا؟
ہماری آگ کیا کہیں نہ جائے گی
ہمارے گھر دھواں دھواں رہیں گے کیا؟
تو کیا تمام راستے اسی کے ہیں
سفر میں اُس کے کارواں رہیں گے کیا؟
کوئی نہیں کسی کی سن رہا اگر
یہ دُکھ خدا سے بھی نہاں رہیں گے کیا؟

جمعہ، 19 ستمبر، 2014

نظم ۔۔۔۔ الٹا چکّر۔۔۔حمیدہ شاہین

عجیب چکّر کوئی چلا ہے
 جو شے جہاں سے اُٹھانا چاہی، اُٹھا نہ پائے
 جہاں جو رکھاّ، وہاں وہ رکھاّ نہیں رہا ہے
 جو لکھنا چاہا ، وہ لکھ نہ پائے  
جو لکھاّ، معنی بدل گیا ہے
  نصیب میں جو نہیں  تھا ، اس کی تلاش میں زندگی لگا دی 
جو ہاتھ میں تھا ، وہ بے خودی میں گنوا دیا ہے
  جو بات کہنی تھی اس کی ہمّت جٹا نہ پائے
 جو لب پہ آیا ، وہ حرف ہی غیر ہو گیا ہے
جو گیت ہم سننا چاہتے تھے
کسی نے اس کو کبھی نہ گایا ہماری خاطر
نہ تھی سماعت کو تاب جس کی
 قدم قدم پر وہی سنا ہے
 کسے سنائیں
،سفر ہے کیسا 
کسے دکھائیں 
تھکن کی جھولی میں کیا پڑا ہے
کسے  بتائیں
 ہماری آنکھوں میں کیا رُکا ہے
 جو دل کے اندر ٹپک رہا ہے
 بدن کے گنبد میں گونجتا ہے 
 ہمیں تو یہ بھی خبر نہیں ہے
 ہماری گٹھڑی میں کیا بندھا ہے 
جسے اُٹھائے  ہماری عمریں گزر گئی ہیں 
دعا ہے کوئی 
کہ بد دعا ہے

جمعرات، 18 ستمبر، 2014

جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ انتظام سہیل احمد لون کی کتاب ،، جلاوطن کی تقریبِ پذیرائی

 سیلابی ریلے کی تباہ کاریوں  کے باوجود زندہ دِلانِ لاہور نے ادبی محافل اسی جوش و خروش سے آباد کر رکھی ہیں جو اُن کا طُرہ ِامتیاز ہے۔ایسی ہی ایک تقریب کا انعقاد عِلمی، ادبی،سماجی و ثقافتی روایات کی حامل تنظیم جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام  باقر پبلیکیشنز،لاہور کے تعاون سے چوپال،ناصر باغ،لاہور میں برطانیہ سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر،ادیب، افسانہ نگار وکالم نگار اور لندن میں جگنو انٹر نیشنل کے سرگرم ممبر سہیل احمد لون کے اعزاز میں کیاگیا۔ صدارت  چیئرمین گلشنِ ادب پاکستان،معروف شاعر وادیب پروفیسر عاشق رحیل نے کی۔ 

مہمانِ خصوصی صاحبِ شام سہیل احمد لون ا ور معروف استادشاعر اقبال راہی تھے، جبکہ مہمانانِ اعزاز خواجہ فرید سنگت پاکستان کے صدر حکیم سلیم احمد ملک اورخوبصورت لب و لہجہ کی شاعرہ محترمہ شگفتہ غزل ہاشمی تھیں۔ 
تقریب میں پرائیڈ آف پرفارمینس آرٹسٹ ڈاکٹر اعجاز انور،شاہ اکبر لاہوری،نامور نوجوان صحافی آدم شیر کے علاوہ شعراء و ادباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز ربّ ِ ذوالجلال کے با برکت نام سے کیا گیا۔جس کی سعادت نامور عالمہ،حافظہ ناصرہ  اقبال نے حاصل کی۔ اس کے بعد اقبال کمبوہ  ایڈیٹر زنجیر نے 
سرکارِ دو عالم محمد ﷺ کی شانِ اقدس میں نذرانہ ئ عقیدت پیش کیا۔ نِظامت  کے فرائض نامورشاعرہ،ادیبہ،ایڈیٹراحساس،جرمنی،چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل ایم زیڈ کنولؔ نے سر انجام دیئے۔یہ خوبصورت اور یادگار تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔
پہلی نشست میں سہیل احمد لون کی کالموں پر مشتمل کتاب،جِلا وطن،کی تقریبِ پذیرائی کا اہتمام کیا گیا۔ نامور استاد شاعر مظہر جعفری،خوبصورت شاعر چیئرمین بزمِ غالب خالد نقاش، چیئرمین عظیم آراء فاؤنڈیشن ادبی سکاؤٹ مقصود چغتائی، اور فراست بخاری نے اپنی فراست بیانی کے جوہر دکھائے۔ 
دوسری نشست محفلِ مشاعرہ پر مشتمل تھی۔ پروفیسر عاشق رحیل،اقبال راہی،حکیم سلیم احمد ملک،شگفتہ غزل ہاشمی،احمد خیال،مظہر جعفری،عبدالماجد ملک،جاوید قاسم،اقبال کمبوہ،عمرانہ انعم،علی مراد،چیئرمین بزمِ چغتائی،طارق چغتائی،سلیم صابر،سہیل احمد لون،ایم زیڈ کنولؔ اور دیگر شعرا ء نے اپنا کلام پیش کیا۔تقریب کے آخر میں ایم زیڈ کنول نے اپنے خطاب میں دیارِ غیر میں رہنے والے ادب دوستوں اور تنظیموں سے وابستہ اہلِ قلم کی خدمات کو سراہا جو وطن سے دور رہ کر  بھی وطن کی محبت سے سرشار حُبّ الوطنی کی مشعلیں روشن کئے ہوئے ہیں۔اِس ضمن میں انھوں نے خاص طور پر شفیق مراد،چیف ایگزیکٹو شریف اکیڈمی جرمنی کی ساری دنیا میں فروغِ علم و ادب کے لئے کاوشوں کو سراہتے ہوئے انھیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیاکہ کس طرح وہ اپنے تن، من، دھن سے ادب کی آبیاری میں سرگرمِ عمل ہیں۔آخر میں مہمانوں کا شکریہ ادا کرنے کی روایت کے ساتھ یہ خوبصورت اور باوقار تقر یب اختتام کو پہنچی۔ 


منگل، 16 ستمبر، 2014

شہر کا شہر بغاوت کی سزا مانگتا ہے ۔۔ شہزاد نیئر

شہزاد نیئر
ایسے بے مہر زمانے میں وفا مانگتا ہے
دل بھی کیا سادہ ہے ظلمت سے ضیا مانگتا ہے
اُس سے ہم عشق پرستوں کا تقابُل کیسا
شیخ تو اپنی عبادت کا صلہ مانگتا ہے
جا کسی اور سے لے نسبتِ افلاک میاں
ہم زمیں زاد فقیروں سے یہ کیا مانگتا ہے
محتسب ! دامنِ تعزیر کشادہ رکھنا
شہر کا شہر بغاوت کی سزا مانگتا ہے
 خوف اتنا ہے کہ بازاروں کے سینے ساکت
قریہ قریہ کسی باغی کی صدا مانگتا ہے
 لاکھ سمجھاؤں، محبت کی جھلک پاتے ہی
دل وہ ترسا ہوا سائل ہے کہ جا مانگتا ہے
 کچھ نہ مل پائے تو مجبورِ طبیعت انساں
مسجد و دیر و کلیسا سے دغا مانگتا ہے
 میری آنکھیں تیرے چہرے کی تمازت چاہیں
میرا چہرہ ترے آنچل کی ہوا مانگتا ہے
 تجھ سے جینے کے جو اسباب طلب کرتا تھا
اب وہ جی جان سے مرنے کی دعا مانگتا ہے

سوموار، 15 ستمبر، 2014

پرندوں کے مقدر میں کبھی غم ہیں کبھی خوشاں ۔۔نذ یر اے قمر

نذیر اے قمر
فضا تبدیل ہوتی ہے تو ہر رشتہ بدلتاہے
ابھی تم دیکھتے جاؤ یہاں کیا کیا بدلتاہے
میں گر کر اٹھ نہیں پاتا کہ میری آہ کو سن کر
ذرا سی دیر میں احباب کا لہجہ بدلتا ہے
بڑھا کرتا ہے وہ بھی منزلوں کی آرزو لے کر
مگر کچھ دور چل کر آپ ہی رستہ بدلتا ہے
مجھے تنہائیوں میں جب اندھیرے گھیر لیتے ہیں
زمانہ اپنی فطرت بھی اسی لمحہ بدلتا ہے
پرندوں کے مقدر میں کبھی غم ہیں کبھی خوشاں
اسی خاطر یہاں دن رات ہر نغمہ بدلتا ہے
چمکتی دھوپ سے خود کو بچانے کے لئے اکثر
سلگ اٹھتی ہیں جب آنکھیں تو وہ چشمہ بدلتا ہے
گلستاں میں قمر تبدیل ہو جاتے ہیں ویرانے
بہار آتی ہے تو انداز ہر غنچہ بدلتاہے

اٹھایا اس نے چلّو میں تو دریا مختصر سا تھا ۔۔ عارف امام

عارف امام
بڑا دورانیہ تھا اور تماشہ مختصر سا تھا
مرا اتنا سا قِصّہ ہے کہ قِصّہ مختصر سا تھا
بس اک مٹی کی چادر تھی بدن کو جو میسر تھی
میں جب رخصت ہوا، میرا لبادہ مختصر سا تھا
زیادہ تھیں مری سانسیں، مگر اعمال تھوڑے تھے
بڑا تھا میرا گھر لیکن اثاثہ مختصر سا تھا
مرے خاکسترِ جاں سے ہَوا اٹھلا کے کہتی تھی
تجھے جس نے جلایا وہ شرارہ مختصر سا تھا
کسی مہتاب نے اپنے جلو میں لے لیا ورنہ
مرے برجِ مقدر کا ستارہ مختصر سا تھا
نظر اکب بار لپکی تھی، پلک اک بار جھپکی تھی
بڑی تفصیلی دعوت تھی، اشارہ مختصر سا تھا
قصیدہ لے کے میں دربار میں پہنچا تو کیا دیکھا
مرا طول سخن سارے کا سارا مختصر سا تھا
چھلک اٹّھا خجالت سے، سمٹ آیا ندامت سے
اٹھایا اس نے چلّو میں تو دریا مختصر سا تھا

جمعرات، 11 ستمبر، 2014

بابا دینہ ..افسانہ ۔۔ رضاالحق صدیقی

رضاالحق صدیقی
وہ سب سامنے سے بابا دینہ کو آتا دیکھ کرخاموش ہو گئے تھے۔جب وہ ان کے قریب سے گذرا تو سب نے اس کو سلام کیا۔بابا
دینہ کندھے لٹکائے،سر کو جھکائے منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے  آ گے بڑھ گیا۔نجانے وہ گالیاں دے رہا تھا یا سب کے سلام کا جواب۔
بابا دینہ کو  وہاں رہتے ہوئے نجانے کتنا عرصہ ہو گیا تھا۔اپنے حلئیے سے پاگل سا  لگتا تھا،سر اور داڑھی کے بال لمبے لیکن الجھے ہوئے،میلا کچیلا لباس،کندھے جھکے ہوئے،چلتے ہوئے الٹے ہاتھ کو بار بار جھٹکنا،ایک پیر پر وزن ڈال کر اس طرح چلتا تھا جیسے پنجوں کے نیچے زخم ہوں،چلتے چلتے رک کر آسمان کی جانب سر اٹھا کر دیکھنا کچھ بڑبڑانا جیسے شکوہ کر رہا ہو پھر آگے بڑھ جاتا۔کہنے والے کہتے ہیں کہ جب وہ اس بستی میں آیا تھا تو بڑا بانکا سجیلا جوان تھا، یہ پھولا ہوا سینہ،یہ پھڑکتی ہوئی مچھلیوں والے بازو،یہ لمبا قدچھلکتے خون رنگت چہرہ،جدھر نکل جاتا جوان جہان لڑکی بالیوں کے منہ سے حسرت بھری آہ نکل جاتی لیکن وہ تھا کہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا بھی نہیں تھا۔
یہ بابا دینہ کون ہے ابو،آج جب میں گھر آیا تو اپنے والد سے پوچھا۔
،،کیوں کیا ہوا،تمہیں آج بابا دینہ کا خیال کہاں سے آ گیا،، انہوں نے سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھا۔
کچھ نہیں بس ایسے ہی،میں دوستوں کے ساتھ آصف چوہدری کے گھر کے باہر  بیٹھا تھا کہ اتنے میں بابا دینہ وہاں سے گذرا، ہم نے سلام کیا تو کوئی جواب دئیے بغیر ہماری  طرف نظر ڈالنے کی زحمت کئے بغیربڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔
،، تم نے یا تمہارے دوستوں نے کوئی بدتمیزی تو نہیں کی اس سے یا کوئی پھبتی تو نہیں کسی اس پر،،ابو نے پوچھا۔
نہیں ابو،لیکن بڑی عجیب سی شخصیت ہے اس کی۔
ابو نے اس کے بارے میں بتانا شروع کیا،تمہیں پتا ہے لیکن تمہیں کیا یاد ہو گا  بہت چھوٹے تھے تم جب دین محمد تمہیں اٹھائے اٹھائے پھرتا تھا،بہت پیار تھا اسے تم سے،کسی روز وہ نا آتا تو تم اس کے پاس جانے کی ضد کرتے تھے،یہ جو گلی کے نکڑپر آخری مکان ہے جس میں بابا دینہ رہتا ہے یہی دین محمد کا مکان تھا،آج یہ مکان بھوت بنگلہ سا نظر آتا ہے اس وقت گلی کا سب سے خوبصورت مکان تھا۔دین محمد بہت محنت کرتا تھا اس کی دیکھ بھال میں،اپنی طرح سجا کر رکھتا تھا،ابھی ابو بتا ہی رہے تھے کہ نظام دین صاحب ملنے آ گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔     
بابا دینہ کا اصل نام دین محمد تھا،گھر سے نکلتا تو اپنی دھن میں سینہ پھلائے چلتا  جاتا تھا ادھر ادھر دیکھنا اس کی عادت نا تھی۔اس دن دین محمد تیار ہو کر اپنے کام کے لئے نکلا،حسبِ عادت کچھ سوچتا ہوا پنی ہی دھن میں چلا جا رہا تھا کہ کوئی اس سے ٹکرا گیا۔معاف کرنا کہہ کر اس نے بے دھیانی میں ٹکرا کر گرنے والے کوکندھوں سے پکڑ کر اٹھا تو لیا لیکن پھر وہ بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا،وہ پچھلی گلی کے ملک ریاض کی بیٹی رانو تھی،کیا جوانی پائی تھی اس نے، کسی کو خاطر میں نہ لاتی تھی لیکن اس ٹکر نے اسے بھی بھونچکا کر دیا تھا،ادھر دین محمد بھی بے خود اسے دیکھتا جا رہا تھا پھر رانو کو جیسے ہوش آ گیا ہو۔
،، چھوڑ مجھے، شرم نہیں آتی،اگر کوئی دیکھ لیتا تو کتنی بدنامی ہوتی میری،رانو ایک سانس میں بولتی چلی گئی۔دین محمد نے ہڑبڑا کر اس کے کندھے چھوڑ دئیے اور شرمندہ سا ہو کر اپنی راہ پر چل دیا۔
جانے کو وہ دونوں اپنے اپنے رستے پر چلے گئے تھے لیکن کیوپڈ اپنا تیر چھوڑ چکا تھا جس نے دونوں کو شکار کر لیا تھا۔دین محمد کی تو دنیا ہی بدل گئی تھی رانو اس کے دل میں اترتی چلی گٗی تھی،لڑکیوں پر دھیان نہ دینے والا دین محمد اب پچھلی گلی سے گذرنا شروع ہو گیا تھا کہ شاید رانو کی ایک جھلک ہی نظر آ جائے،دوسری جانب رانو کی بے تابی بھی دیدنی تھی پسند تووہ دین  محمد کو پہلے بھی کرتی تھی لیکن جب سے دین محمد نے اس کے جسم کو چھوا تھا اس کی بے تابی اور بڑھ گئی تھی۔گھر کے اندر کتابوں میں گم رہنے والی رانو اب اکثر گھر کے دروازے سے باہر جھانکتی رہتی تھی،ایک روز جب وہ دروازے میں کھڑی تھی اسی وقت گلی میں دین محمد داخل ہوا،دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا،مسکرائے اور دین محمد چند لمحوں کو ان کے دروازے کے سامنے رکا لیکن دور سے رانو کے بھائیوں کو آتا دیکھ کر گذرتا چلا گیا۔پھر وہ باہر روز ملنے لگے،کبھی کالج کے باہر،کبھی کسی پارک میں،دونوں کی سرگرمیاں رانو کے گھر والوں سے پوشیدہ نہ رہ سکیں اور ایک روز رانو کے بھائیوں نے دین محمد کو روک لیا بات تلخ کلامی تک ہی پہنچی تھی کہ محلے کے کچھ افراد نے جھگڑے کو پڑھنے سے روک دیا،دین محمد وہاں سے چلا گیا،محلے کے لوگوں نے رانوں کے بھائیوں سے جھگڑے کی و جہ در یافت کرنے کی کوشش کی لیکن وہ  کوئی  جواب دئیے بغیر گھر کے اندر چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الیکشن کا زمانہ تھا پیپلز پارٹی الیکشن کی تیاریوں  میں مصروف تھی،دین محمد الیکشن مہم میں بڑھ چڑھ کر  حصہ لے رہا تھا مختلف جلسوں میں اس کی شعلہ بیانی  اسے نمایاں رکھتی تھی،اس کی تقریریں حسبِ اختلاف  کی دکھتی رگ پر  ہاتھ رکھتی تھیں اس لئے اپنی پارٹی میں وہ نمایاں  تھا،پارٹی لیڈر اسے عزیز رکھتے تھے جبکہ وہ حسبِ اختلاف کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے الیکشن کا دن آ پہنچا،دین محمد کئی دنوں کا تھکا ہوا تھا لیکن آج اس کی اور پارٹی کی محنت کا پھل ملنے والا تھا،پارٹی کے مرکزی دفتر میں رزلٹ آتے جا رہے تھے،پارٹی نے بھاری اکثریت  حاصل کر لی  تھی۔اگلے ہی روز حسبِ اختلاف کی پارٹیوں نے دھاندلی کا بہانہ بنا کر  ہنگامہ آرائی شروع کر دی،تمام پارٹیاں اکھٹی ہو چکی تھیں۔حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے،ان مذاکرات کا آخری دور تھا اور رات گئے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کے تمام مطالبات مان لئے ہیں اور صبح معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے،یہ صبح طلوع تو ہوئی لیکن بوٹوں کی دھمک چار سو تھی،منتخب وزیراعظم کو حفاظتی حصار میں لے لیا گیا اور سہالہ ریسٹ ہاوس میں نظر بند کر دیا گیا،اسی دوران ایک قتل کے مقدمے  میں بھٹو کے خلاف کاروائی شروع کر دی گئی،پورے ملک میں ہنگامے شروع ہو گئے کارکنوں نیاحتجاجی جلسے جلوس شروع کر دئیے،دین محمد اس جلسوں میں آگ لگائے ہوئے تھا،اس سارے عرصے میں پکڑ دھکڑ ہوتی رہی لوگوں کو شاھی قلعے میں اذیتیں دی جاتی رہیں کوڑے برستے رہے،لیکن دین محمد کسی نا کسی طرح بچتا رہا۔  
بھٹو پر قتل کا مقدمہ اپنے عروج پر تھا،ہائی کورٹ میں مولوی مشتاق نے سزائے موت سنا دی تھی۔بھٹو کے وکلاء  نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی،پیپلز پارٹی کی جانب سے جلسے جلوسوں کا پروگرام تھا،لیاقت چوک میں ہونے والے جلسے میں دین محمد دھواں دار تقریر کر رہا تھا،جنرل ضیاالحق اس کی تنقید کی رد پر تھا،اچانک جلسے پر پولیس نے دھاوا بول دیا،لاٹھی چارج ہونے لگا،بہت سوں کے سر کھل گئے اسی بھگڈر میں پولیس نے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر پولیس کی لاری بھرنی شروع کر دی،پھرلاری پکڑے جانے والوں کو لے کر روانہ ہو گئی۔دیکھنے والوں نے حلفاََ کہا کہ ہم نے دین محمد کو تیزی سے سٹیج کے پیچھے  سے نکل کر گھر کی جانب جاتے دیکھا تھا،کچھ کا کہنا تھا کہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے پولیس کو دین محمد کو گرفتار کرتے دیکھا تھا۔
رانو کے گھر کہرام مچا ہوا تھا،اس کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ رانو بھی دین محمد کو سننے جلسہ گاہ میں گئی تھی لیکن گھر واپس نہیں آئی،رانو کے بھائیوں کا خیال تھا کہ رانو کو دین محمد ورغلا کر لے گیا ہے، ہم اسے نہیں چھوڑیں گے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو ابو کیا واقعی دین محمد نے ایسا کیا تھا،میں نے پوچھا
اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا ہوا تھا،ایک روز شور مچا کہ دین محمد واپس آ گیا ہے،میں بھی اسے ملنے گیا،میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ وہ دین محمد تو نا تھا  اپنی عمر سے کئی گنا بڑا لگ رہا تھا،اپنے حواسوں میں نا تھا، بخار میں تپ رہا تھا،اس کی گمشدگی کے چند سالوں میں اس کے سر کے بالوں میں سفیدی آ گئی تھی،نجانے کیا  بڑبڑا رہا تھا،میں نے اس کا علاج کرایا،ویسے تو وہ ٹھیک ہو گیا لیکن ذھنی حالت ٹھیک نہ ہو سکی۔اس وقت سے یہ ویسا ہی ہے۔ ابو یہ بتا کر اپنے کمرے میں 
 چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر ہم سب دوست باہر موجود تھے میں نے ابو کے کہنے کے بموجب سب دوستوں کو منع کر دیا تھا کہ کوئی بابا دینہ سے نہ الجھے،نجانے  بچارا اس حال کو کیسے پہنچا۔سب دوست مان گئے،اب جب بھی وہ سامنے سے آتا  ہم ایک طرف ہو جاتے،آج نجانے ریاض کس لئے غصے میں تھا کہ اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ڈنڈے کو زور زور سے کھمبے پر مارنا شروع کر دیا شاید گھر سے پڑنے والی ڈانٹ کا غصہ کھمبے پر نکال رہا تھا اتنے میں بابا دینہ گھر سے نکل کرسڑک پر آ گیا،ریاض کو کھمبے پر  ڈنڈے برساتا دیکھ کر آپے سے باہر ہو گیا۔برسوں کی خاموشی ٹوٹ گئی۔
:کتو
باندھ کر  مارتے ہو،میرے  ہاتھ کھول کر دیکھو۔لعنت ہے تم پر۔
بابا دینہ نے نادیدہ عناصر کو خلاؤں میں للکارتے ہوئے حقارت سے زمین پر تھوک دیا،تنا ہوا جسم ایک بار پھرجھک گیا اور آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔نجانے یہ آنسو ریاستی جبر کا نتیجہ تھے یا معاشرتی جبر کے۔

بدھ، 10 ستمبر، 2014

سیاسی صورت حال ۔۔ ثروت زہرا

ثروت زہرا
میرے خیال کو 
جدید سیاسی رویوں کے 
جراثیم لگ گئے ہیں 
اور پچھلے سیشن میں 
میرا دماغ ، دل کے خلاف 
عدم اعتماد کی تحریک پیش کرچکا ہے 
اگلی کارروائی کے لئے دماغ 
نفی اور جمع کے اندھے اصول 
تلاش کررہا ہے 
اور دل محبتوں کی انوکھی دستاویز 
پیش کرنا چاہتا ہے 
مگر ہوا کی زبان کو ، پچھلے کئی برس سے 
خوشبوؤں کا ذائقہ لگ چکا ہے 
میرے تمام اعضاءبظاہر تو 
دل و دماغ میں سے کسی ایک کے لئے 
اپنے اپنے موقف کے دفاع میں 
دھواں دھار تقاریر کررہے ہیں 
مگر میں جانتی ہوں کہ دراصل 
یہ حمایت کے نام پر 
اپنے معیار کی بولیوں کا انتظار کررہے ہیں 
اور زندگی اسمبلی ہال سے باہر 
میڈیا کی ہر ایک جنبش پر 
خوف سے تھرتھر ارہی ہے 
اور اپنی پھٹی ہوئی جیب میں 
اعتماد کی پرچی تلاش کررہی ہے 
مگر زندگی اور اُس کی دھڑکنیں جانتی ہیں 
کہ مزید کسی الیکشن کے لئے 
ان کی پرچیاں ناکارہ ہوچکی ہیں 
اور صورت حال آہستہ آہستہ 
میرے کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے

سوموار، 8 ستمبر، 2014

کہتے ہیں کوئی رات سے اس در پہ کھڑا تھا ۔۔ حمیدہ شاھین

حمیدہ شاھین
کہتے ہیں ستارے کہ گہن آن  پڑ اتھا.
 کہتے ہیں وہاں چاند اکیلا ہی لڑا تھا
 کہتے ہیں کہ دہلیز پہ سورج نکل آیا
کہتے ہیں کوئی رات سے اس در پہ کھڑا تھا
کہتے ہیں کوئی مؔیر دمکتا ہے ابھی تک
کہتے ہیں انگوٹھی میں نگینہ سا جڑاتھا
کہتے ہیں سدا بات جو کرتا رہا چھوٹی 
کہتے ہیں کہ اس کا بھی یہاں نام بڑا تھا
 کہتے ہیں  کوئی کیسری چوغے میں تھا ملبوس
کہتے ہیں کلائی میں مرے جیسا کڑا تھا
 کہتے ہیں کوئی میرے ترازو میں پڑا ہے
کہتے ہیں وہ کل تک مرے دشمن کا دھڑا تھا

خاموشی کا شور سنائی دیتا ہے ۔۔ صبیحہ صبا کے آنے والے مجموعہِ کلام ،،دل درد آشنا،، سے ایک غزل

صبیحہ صبا
چہرے کا ہر کرب دکھائی دیتا ہے 
خاموشی کا شور سنائی دیتا ہے
اندھا راج نہ ڈھائے ظلم زمانے پر
دل میرا ہر روز دہائی دیتا ہے
پھر سمجھے گا کیا کھویا کیا پایا ہے
جو دنیا کے نام برائی دیتا ہے
کون مقابل ٹہرے گا کب ممکن ہے
بیدردی سے وقت جدائی دیتا ہے
تعبیریں تو الٹی بھی ہو سکتی ہیں 
سیدھا سا اک خواب دکھائی دیتا ہے
رنج و غم سے دل میرا بھر جاتا ہے
جہاں کہیں بھی ظلم دکھائی دیتا ہے
ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا تو کیا ہوگا
لہجہ سب کا اور سنائی دیتا ہے

اتوار، 7 ستمبر، 2014

نامور شاعر سرشار صدیقی کراچی میں انتقال کر گئے

سرشار صدیقی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے اُن  کی نمازِ جنازہ آج اتوار 7 ستمبر 2014 بعد نمازعشاء مسجد دارالخیر عقب کانٹی نینٹل بیکری گلستان جوہر بلاک 15 کراچی  میں ادا کی جائے گی اُن کا گھر C-67 
بلاک 15 گلستان جوہر مسجد کے قریب ہی ہے۔

ہفتہ، 6 ستمبر، 2014

پاکستان میں اُردو نعت کا ادبی سفر ۔۔ سیدانورجاوید ہاشمی کا مطالعہ

جناب ڈاکٹر عزیز احسن [ڈاکٹرعبدالعزیز خاں] نے اپنی نئی تحقیق ۔۔پاکستان میں اُردو نعت کا ادبی سفر ۔۔مطبوعات نعت ریسرچ سینٹر [ مرکزِ تحقیق ِ نعت گوئی؟ترجمہ کیا جاسکتا ہے]گزشتہ شب  ہمیں نے عنایت کی ۔ڈاکٹر ریاض مجید نے اسے نعتیہ تبصرہ نگاری کے باب میں ایک ہم پیش رفت قراردیتے ہوئے بہت سی مفید اور قابلِ عمل گزارشات کے ساتھ محقق کی مناسب پیرائے میں توصیف کی ہے جب کہ تقدیم کے عنوان سے پروفیسر انوار احمد زئی کا مضمون بھی بہت محنت و توجہ سے لکھی جانے والی تحریرہے۔کیا بنے بات کے عنوان سے ڈاکٹرعزیز احسن لکھتے ہیں۔۔۔میں نے تو صرف صاحبِ کتاب اور نمایاں نعت گوشعراء کے تخلیقی میلانات کا خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے'میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل کا کوئی باہمت لکھاری ،اپنی تنقیدی بصیرت بروے کار لاکر مجھ سے بہترانداز میں پاکستان میں اردو نعت کے ادبی سفر کا احوال قلم بند کرسکے گا۔۔۔انشاء اللہ!!!محمدعاصم بٹ صاحب[مدیر سہ ماہی ''ادبیات'' اسلام آباد کی تحریک پر میں نے اپنی پرانی تحریر کو نئی شکل دی ہے اس لیے وہ میرے شکرئیے کے مستحق ہیں۔محترمڈاکٹرریاض مجید اور محبّی پروفیسر انواراحمدزئی نے میری کاوش کو سراہا،ان دونوں حضرات کا رسمی طور پر صرف شکریہ اداکرنا کافی نہیں ہوگا لیکن کیا کِیا جائے کہ لفظوں میں احساسات کی حرارت منتقل کرنے کی کوئی اور صورت بھی تو نہیں۔اللہ ان حضرات کو اجرِ عظیم عطافرمائیے[آمین]معراج جامی [کمپوزنگ کے لیے اعانت نیز صبیح رحمانی ناشر کا بھی موصوف نے شکریہ اداکیا ہے۔
(سیدانورجاوید ہاشمی کا مطالعہ)

بدھ، 3 ستمبر، 2014

لکھا، تو کہانی بن گئی۔۔عہد ساز فکشن نگار، انتظار حسین سے خصوصی مکالمہ ۔۔ اقبال خورشید

کہنے والے کہتے ہیں: ”غالب، غالب ہے، باقی سب مغلوب ہیں!“
یہ شعر ملاحظہ فرمائیں
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا
خیال کا برتاﺅ تو دیکھیے۔ ویسے غالب کا انداز بیاں تو رازداں کو رقیب بنا سکتا ہے، ہمارا یہ معاملہ نہیں۔ اگر ہمارے بیاں میں کچھ دم خم ہوا، تو سمجھئے، اُسی فسوں گر کے دم سے ہوگا، جو تحریر کا ماخذ بھی ہے، اور محرک بھی۔ قصّہ کچھ یوں ہے کہ گذشتہ دنوں، ساحل پر واقع ایک سرائے میں، جہاں بحیرہ عرب کے پانی آتے ہیں، جن پر سمندری پنچھی پرواز کرتے، اور تارڑ کے ناولوں کی یاد تازہ کر دیتے، ملاقات ہماری فکشن کے ایک فسوں گر سے ہوئی، جنھیں دنیا انتظار حسین کے نام سے جانتی ہے۔
ویسے تو بزرگ دعووں سے اجتناب کی نصیحت کرتے ہیں کہ اِس معاملے میں سبکی کا امکان قوی ہوتا ہے، مگر ایک دعوے کی جسارت کرنا چاہیں گے کہ آنے والے، اِس عہد کو ”انتظار حسین کا عہد“ کہہ کر یاد کریں گے۔

سوموار، 1 ستمبر، 2014

وہ مجھ سے محبت ہی نہیں عشق کرے گی ۔۔ علی اصغر عباس

عی اصغر عباس
مانے گا نہیں،کوئی نہیں ہے مرے دل میں
خود کو بھی وہ دیکھے گا،کہیں ہے مرے دل میں
اس کو تومیں بدلوں نہ کبھی اوج فلک سے
جو ایک تروتازہ زمیں ہے مرے دل میں
وہ مجھ سے محبت ہی نہیں عشق کرے گی
اس بات کا تو پورا یقیں ہے مرے دل میں
سچ بات تو یہ ہے جو ابھی جھوٹ کہوں گا
بس ایک وہی زہرہ جبیں ہے مرے دل میں
دیوار و دروبام اسے بھائے نہیں ہیں
اک شخص جو مدت سے مکیں ہے مرے دل میں
باہر میں نکالوں گا اسے سوچ سمجھ کر
برسوں سے جو اک گوشہ نشیں ہے مرے دل میں
جو پھول چنے تیری محبت سے کھلے تھے
یہ بات حقیقت کے قریں ہے مرے دل میں
اے طائر دل کون یہ پر نوچ رہا ہے
پھر پھینکتا جاتا بھی یہیں ہے مرے دل میں