ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

اتوار، 31 اگست، 2014

کوئی اور ہے تجھے جی رہا ہے جو زندگی ۔۔ اوصاف شیخ

اوصاف شٰیخ
یہ نہیں کہ تیری طرف سفر نہیں کر رہا
یہ سفر میں راستہ دیکھ کر نہیں کر رہا
تیری فرقتوں میں وہ رنج دل نے اٹھائے ہیں
کہ علاج مجھ پہ کوئی اثر نہیں کر رہا
کوئی اور ہے تجھے جی رہا ہے جو زندگی
میری زندگی تجھے میں بسر نہیں کر رہا
تیرے بعد میرا جو حال ہے تجھے کیا خبر
تجھے جان بوجھ کے میں خبر نہیں کر رہا
تو قریب تھا تو عزیز تھے سبھی ضابطے
تیرے بعد کچھ بھی میں سوچ کر نہیں کر رہا

یہ آنکھ منتظر ہے کسی انقلاب کی ۔۔ سبیلہ انعام صدیقی


شعلے بھڑک رہے ہیں
ِ عنا د و فساد کے 
اس دورِ آگہی میں
تو جینا عذا ب ہے
مکر و فریب کا یہاں ہے
جال سا بچھا
سچ کا یہاں تورہنا ہی
مطلق حرام ہے
تازہ ہوا بھی کیسے ملے ؟
نسل ِ نو کو جب
آب و ہوا میں پھیلی بو
آلودگی سی ہو
منظر یہ سارے دیکھ کے
آنکھیں برس گئی
ہے جان کی اماں نہ ہی
محفوظ مال و زر
یارب دعا ہے رات کی
کالی گھٹا ہٹے
ہوجائیں بارشیں یہاں
انوار ِ سحر کی
صورت نظر میں آئے
کسی چارہ گر کی اب
یہ آنکھ منتظر ہے
کسی انقلاب کی

ہفتہ، 30 اگست، 2014

تعبیر نہ بھی ہو تو اشارہ تو دیکھنا ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
ٹوٹا ہے آسمان سے تارہ تو دیکھنا
کس جان پہ گرے گا ستارہ تو دیکھنا
میں منظر افلاک میں کھویا رہا یونہی
تم دیکھنا زمیں کا نظارہ تو دیکھنا
کل کا پتہ نہیں ہے یہی بات ہے بھلی
گذرا ہے آج کیسے ہمارا تو دیکھنا
اُس نے کہا تھا جاتے ہوئے ایک مرتبہ
خالی مکاں کے در میں سہارا تو دیکھنا
ہوتا ہے دلفریب بہت خواب دیکھنا
تعبیر نہ بھی ہو تو اشارہ تو دیکھنا
ملتی ہے روز روز صبا اس طرح کہاں
مل جائے تمہیں گر وہ ستارہ تو دیکھنا
دریا ہے ایک عمر کا انور نہیں رُکا
کرتے ہوئے عبور کنارہ تو دیکھنا


معروف استاد شاعر شمیم فاروقی ہندوستان میں انتقال کرگئے

معروف شاعر شمیم فاروقی کا آج پٹنہ میں انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی نماز جنازہ آج(30 اگست) کو بعد نماز ظہر نوری مسجد شریف کالونی، پٹنہ 
میں ادا کی جائے گی اور تدفین شاہ گنج قبرستان میں ہوگی۔

جمعہ، 29 اگست، 2014

طالب ِ منصب و جاہ بھی ہو سکتا ہوں میں ۔۔ قمر رضا شہزاد

قمر رضا شہزاد
طالب ِ منصب و جاہ بھی ہو سکتا ہوں میں
کبھی کبھی گمراہ بھی ہو سکتا ہوں میں
کر سکتا ہوں حملہ اپنے لشکر پر
دشمن کے ہمراہ بھی ہو سکتا ہوں میں
دے سکتا ہوں اصل بیان کٹہرے میں
ترے خلاف گواہ بھی بھی ہو سکتا ہوں میں
مجھ سے گریز نہ کر اے بھاگنے والے شخص
تری جائے پناہ بھی ہو سکتا ہوں میں
یہ بھیدوں سے بھری ہوئی دنیا شہزادؔ
کیا اِس سے آگاہ بھی ہو سکتا ہوں میں

منگل، 26 اگست، 2014

شارجہ میں ڈاکٹر ثروت زہرا کی رہائش گاہ پرعباس تابش کے ساتھ ایک شام


شارجہ میں مقیم خوبصورت لہجے کی شاعرہ ڈاکٹر ثروت
زہرہ اور سندهی ادب سے تعلق رکهنے والے معروف لکهاری پیر محمد کیلاش کے رہائش گاہ پر پاکستان سے آئے ہوئے معروف شاعر عباس تابش ،شفیق سلیمی اور انڈیا سے تشریف لائے ہوئے معرف شاعر محشر آفریدی کے ساتهہ ایک شام منائی گئی۔
 اس تقریب  میں امارات سے تعلق رکهنے والے معروف شعراء جناب ظہور اسلام جاوید. ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی.مقصود احمد تبسم.سرفرار علی نعیمی .ڈاکٹر ثروت 
زہرا.سلمان جازب .تابش زیدی. علی زیرک. آصف رشید اسجد اور بہت سے دوستوں نے شرکت کی ۔
۔محفل کے اختتام پر پاکستان سے آئے ہوئے گلوکار ظہیر صاحب نے عباس تابش کی غزل .دشت میں پیاس بجهاتے ہوئے مر جاتے ہیں سنا کے داد وصول کی بعد ازاںموجود تمام شعراء نے عمده کلام سنا کے شام کو یاد گار بنا دیا۔

سوموار، 25 اگست، 2014

آج احمد فرازکی برسی ہے

سید احمد شاہ علی نے کوہاٹ سرحد برصغیرمیں  12جنوری1931ء کو سید محمد شاہ برق کوہاٹی کے گھرانے میں جنم لیا تھا۔1950ء میں بطور اردو شاعر فنی کیریئر کا آغاز کیا اور فیض صاحب کی موجودی میں اپنے آ پ کو بطور شاعر منوایا۔  
پشاور ماڈل اسکول میں وہ پروفیسر شوکت واسطی کے شاگرد اور ہمارے بزرگ دوست معراج صاحب کے ہم جماعت رہے انہی کے گھر ہماری ملاقاتیں عرفان ستار،لیاقت علی عاصم،خواجہ رضی حیدر،اجمل سراج،صابر وسیم کے ہمراہ ہوتی رہیں۔ 25اگست 2008ء کو 77برس کی عمر میں فراز کا انتقال ہوا۔ ان کی اردو و فارسی میں ماسٹرز ڈگری بہت کام آئی نہ صرف ریڈیو،ٹی وی پر ان کو بطور اسکرپٹ رائٹر لیا گیا بلکہ ان کی شاعری بھی یہاں سے نشر ہوتی رہی۔مہدی حسن اور نورجہاں نے فلم میں ان کا کلام گایا۔۔وہ پاکستان نیشنل سینٹراسلام آباد کے ڈائرکٹر بھی رہے اور کئی غیر ممالک کے دورے کیے۔ ان کا جشن دبئی میں سلیم جعفری نے منایا۔عرب امارات،بھارت اور یورپ کے بہت سے ممالک میں مشاعرے پڑھے۔اُن کی رومانی شاعری نئی نسل کے نوجوانوں میں پسند کی گئی۔ احمد فراز کو ہلال امتیاز،ستارہ ء امتیازاور نگار فلمی ایوارڈز ملے۔۔ ان کے صاحب زادے سرمد فراز کے نام پر معراج صاحب نے اپنے پوتے کا نام سرمد رکھا۔ دوسرے دو بیٹے احمد فراز کے سعدی اور شبلی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔
یاد نگاری ۔۔۔سیدانورجاوید ہاشمی

جمعہ، 22 اگست، 2014

آج معروف شاعرہ ادا جعفری کی سالگرہ ہے

آج معروف شاعرہ ادا جعفری کی سالگرہ ہے۔
ادا جعفری 22 اگست 1924ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا خاندانی نام عزیز جہاں ہے۔ آپ تین سال کی تھیں کہ والد مولی بدرالحسن کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد پرورش ننھیال میں ہوئی۔ ادا جعفری نے تیرہ برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی ۔وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں۔ اس وقت ادبی رسالوں میں ان کا کلام شائع ہونا شروع ہوگیا تھا ۔ آپ کی شادی 1947ء میں نور الحسن جعفری سے انجام پائی شادی کے بعد ادا جعفری کے نام سے لکھنے لگیں۔ ادا جعفری عموماً اختر شیرانی اور اثر لکھنوی سے اصلاح لیتی رہی ۔ ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ایوارڈ ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی ‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز سے نوازا۔ آج کل کراچی میں رہائش پذیر ہیں ۔ 

جمعرات، 21 اگست، 2014

ہم بھی شہر ت مُدام چا ہتے ہیں ۔۔ سید انور جاوید ہاشمی

سید انور جاوید ہاشمی
ہم سُخن ہم مقا م چا ہتے ہیں
ہم سُخن سے کلا م چا ہتے ہیں
د ا ئم آ با د ہے ا گر د ُ نیا ؟
ہم بھی شہر ت مُدام چا ہتے ہیں
و ہ ہمیں نیک نا م ر ہنے د یں
ہم جنھیں نیک نا م چا ہتے ہیں
مثل ِ غ ا ل ب قلم ہے کان پہ اب
کا م کر تے ہیں کا م چا ہتے ہیں
قد ر جتنی ہما ر ے فن کی ر ہے
ہم فقط اُ تنے د ا م چا ہتے ہیں

ہفتہ، 16 اگست، 2014

قبل از تاریخ کی ایک رات (ازل سے جاری یاوہ گوئی سے ماخوذ) اقبال خورشید

اقبال خورشید
”میں تیرے کاموں کو جانتا ہوں کہ تو زندہ کہلاتا ہے، اور ہے مردہ!“
(یوحنا کا مکاشفہ،3/1۔ نیا عہد نامہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوائیں سیاہی کے رتھ پر سوار تھیں۔ اُن میں بارود کی بُو تھی۔ خون کی مہک تھی کہ وہ مشرق سے آتی تھیں۔ سمندر کی اُور سے۔ جہاں ایک مزار تھا، جس کے زینے نے آج صبح قربانی وصول کی تھی۔ 
ایک دھماکا، اور بیس انسان ٹکڑوں میں بٹ گئے۔ مٹ گئے۔ پر... وہ اب بھی وہیں تھے۔ ننھے مُنے چیتھڑوں کی صورت، زینے کے کونوں کھدروں میں۔ صفائی کے باوجود موجود۔ بُو پیدا کرتے ہوئے، جسے بارود کی تیزابی مہک مہمیز کرتی۔ 

جمعہ، 15 اگست، 2014

اقبال احمد قمر“ کے مجموعہ کلام ”شام کی زد میں“ کی تقریبِ پذیرائی اور عید ملن مشاعرہ

 رپورٹ :ریاض شاہدؔ۔ منامہ/بحرین
ہماری ادبی تاریخ اور روایت صدیوں پر محیط ہے، معاشرے کی عکاسی ہر دور میں اہلِ قلم نے اپنے اپنے طریقے سے بہت عمدگی سے کی ہے، نثر ہو یا شاعری، ادیبوں اور شاعروں نے معاشرے کی خوبیوں، برائیاں اور سچائیاں قلمبند کر کے معاشرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کے ساتھ ساتھ حاکمِ وقت کو آگاہ کیا ہے اور نشاندہی کرنے کے علاوہ ان کے اصلاحی افعال کی تعریف کرنے کے ساتھ غلطیوں پر سرزنش بھی کی ہے۔ شاعری ادب میں بہت حساس اور لطیف صنف ہے۔ شاعر آنے والے وقت کو محسوس کرتے ہوئے شعر تخلیق کرکے عوام الناس کو آگہی کا درس دیتا ہے۔

 شعرو سخن ہماری تہذیبی اور ثقافتی روایات کا ایک اہم جز وہے جسے ہمارے شعرائے کرام احسن طریقے سے ہمیشہ نبھا تے رہے ہیں۔علاوہ ازیں ماضی حال اورمستقبل میں رو پذیر ہونے والے حالات و واقعات کے مدّوجزر کو بیان کرنے کا سب سے میٹھا اور شفّاف جھرنا شاعری ہے۔اور شاعری چونکہ ایک آزاد عمرانی اور ارتقائی سفر کا نام ہے۔اور اسی ارتقائی سفر کے تسلسل کے لئے  گز شتہ دنوں پاکستان کلب بحرین نے ایک عید ملن مشاعرے کا اہتمام کیا جس میں منطقہ شرقیہ سعودیہ میں مقیم منفرد لہجے کے استاد شاعر ”اقبال احمد قمر“ کے مجموعہ کلام ”شام کی زد میں“ کی تقریبِ پذیرائی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

،غلام باغ“ خود کو دریافت کرنے کا وسیلہ بنا، اردو میں ”کومک رئیل ازم“ کی داغ بیل ڈالنے والے، مرزا اطہر بیگ سے اقبال خورشید کا خصوصی مکالمہ

نیلا رجسٹر ایک سحر ہے، اور یہ دنیا، جس میں آپ داخل ہونے کو ہیں، یا ہوگئے ہیں، اُس سحر کے سحر میں ہے۔
گھبرائیے نہیں۔ بلاشبہہ ہم ایک”کلیہ شکن“ مصنف کے، ایسے مصنف کے جو قاری کی تخیلاتی ترتیب کوتلپٹ کردیتا ہے، ملنے کو ہیں، مگر یہاں کلیے نہیں ٹوٹیں گے۔ سوال و جواب کا روایتی انداز برتا جائے گا، جس سے اگرچہ انٹرویو نگار، جو کہ میں ہوں، اوب چکا ہے، مگر ابلاغی نقطہئ نگاہ سے ہنوز کار آمد پاتا ہے۔
تو چلیں، کیفے غلام باغ میں چلتے ہیں، جس کے پہلومیں قدیم اور پراسرار کھنڈرات ہیں، اور جہاں اس سمے کبیر اور ڈاکٹر ایک پرپیچ، مگر تحیرخیز مکالمے کا آغاز کرنے کو ہیں کہ تخلیق کار، جسے ہم مرزا اطہر بیگ کے نام سے جانتے ہیں، ایسا ہی کرنے کا خواہش مند ہے۔

جمعرات، 14 اگست، 2014

نجیب احمد اور عباس تابش کو مبارک باد


ملک کے معروف شاعر جناب نجیب احمد کو حکومت پاکستان کی طرف سے شعرو ادب میں گرانقدر خدمات سر انجام دینے پر تمغہء حسن_ کارکردگی سے نوازا گیا ہے.نوجوان نسل کے محبوب ترین شاعر جناب عباس تابش کو بھی حکومت پاکستان نے تمغہ ء امتیاز سے نوازا ہے.ادارہ ادبستان اور تخلیقات کی جانب سے جناب نجیب احمد اور جناب عباس تابش کو دلی مبارک باد

بدھ، 13 اگست، 2014

فارسا ! مرجھا نہ جائے یار وہ نخلِ گلاب ۔۔ رحمان فارس

رحمان فارس
آنکھ کے شیشے پہ کیسا نقشِ حیرانی لگا
اُس کا آنچل سرمئی تھا ، اور مجھے دھانی لگا
حسنِ کامل کو نہ سہہ پائے کئی کم چشم لوگ
چودھویں کے چاند پر الزامِ عریانی لگا
شام ہوتے ہی تجھے تجھ سے چرا لے جاوں گا 
لاکھ اپنے آپ پر قفلِ نگہبانی لگا
شہر کی گلیوں میں پھیلا تھا کوئی بے نام خوف 
سایۂ جاناں بھی مجھ کو دشمنِ جانی لگا
اچھے وقتوں میں کہا تھا اچھی آنکھوں پر جو شعر 
آج یونہی سامنے آیا تو بے معنی لگا
دھیان کے آنگن میں شب بھر وہ اُداسی تھی کہ بس 
چاند بھی منجملۂ اسبابِ ویرانی لگا
تیری خوشبو آئی تو سب خوشبوئیں گھل مل گئیں 
موتیے کا پھول مجھ کو رات کی رانی لگا
بعد میں کیوں بیچ ڈالا سوت کی اٹی کے مول ؟
پہلے پہلے تو اُسے مَیں یوسفِ ثانی لگا
یوں گلے میرے لگے وہ آیتوں سے نین نقش 
جیسے سینے سے کوئی تعویذِ قرآنی لگا
تُو نے تو ھنستے ہوئے رد کردیا تھا میرا عشق 
تیری پیشانی پہ کیوں داغِ پشیمانی لگا ؟
پھر سُنی آواز کلُ من علیھا فان کی
پہلےپہلے حسن تیرا مجھ کو لافانی لگا
فارسا ! مرجھا نہ جائے یار وہ نخلِ گلاب
پیاس پودے کو لگی ہے ، جا اُسے پانی لگا 

وطن سے مہرو وفا، جسم وجاں کا رشتہ ہے ۔۔صبیحہ صبا


منگل، 12 اگست، 2014

ہم مسافر ہیں ہمیں لوٹ کے جانا بهی تو ہے ۔۔عائشہ صدیقی/ہما بجنوری

عائشہ صدیقی
ہم مسافر ہیں ہمیں لوٹ کے جانا بهی تو ہے
زندگی تجھ کو مگر پار لگا نا بهی تو ہے
میں تیرے عشق میں افسانہ بنی بیٹهی ہوں
تو جب آئے گا تجهے پڑهہ کے سنانا بی تو ہے
اُس طرف مجهہ کو بلاتی ہے محبت تیری
اِس طرف راه میں حائل یہ زمانہ بهی تو ہے
بس یہی سوچ کے دروازہ کهلا چهوڑ دیا
شام ہوتے تجهےگهر لوٹ کے آنا بهی تو ہے
جو تیرے ہجر میں ناسور ہوا جاتا ہے
دل کا وہ زخم مجهے تجهہ کو دکهانا بهی تو ہے
بس یہی سوچ کے سامانِ سفر باندھ لیا
وہ بُلائے گا اگر لوٹ کے جانا بهی تو ہے

اتوار، 10 اگست، 2014

حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کا ہفتہ وار تنقیدی اجلاس , صدارت محمد حمید شاہد نے کی

حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کا ہفتہ وار تنقیدی اجلاس  رائٹررز ہاوس اسلام آباد میں منعقد ہوا اجلاس کی صدارت محمد حمید شاہد نے کی ۔اجلاس میں فرحین چودھری نے اپنا افسانہ "نقب زن"  جبکہ شہزاد نیئر نے اپنی غزل تنقید کے لیے پیش کی۔ تمام احباب نے دونوں تخلیقات پر سیرحاصل گفتگو کی۔ صاحبِ صدارت نے صدارتی خطبے میں افسانے کے حوالے سے کہا کے افسانے کی زبان سنوار کے لکھنے کی کوشش کی گئی ہے، جنسی موضوع پر جب بھی لکھا جائے گا وہ اسی طرح ہوگا مگر اس افسانے کو جو تکنیک چاہے تھی وہ نہیں برتی گئی تاہم راوی اگر کہانی کا کردار ہوتا تو یہ کہانی پھرکچھ اور ہوتی اور زیادہ اُبھر کے سامنے آتی۔ 

غزل پرمجموعی گفتگو سے یہ بات سامنے آئی کے شہزاد نیئر بہت سنبھل کے شعر کہتے ہیں اور اُن کی اس غزل کو بھی کامیاب غزل قرار دیا گیا۔ 
اس کے بعد کراچی سے آئے ہوئے مہمان شاعرعلی ساحل نے اپنی نثری نظمیں جبکہ گجرات سے آئے ہوئے ملک عثمان اعوان نے انپی غزل احباب کی نذرکی ۔اجلاس میں محمدحمیدشاھد، فرحین چودھری،کرنل شرافت علی،
جواد حیس بشیر، محمد عثمان عالم، ملک عثمان اعوان ، علی ساحل، شاہنواز جنجوعہ، طاہر شہزاد، خرم الحسن، ذاکر رحمٰن، علی اکبر ناطق، پر تیا سیمیں،اکمل بٹ، ایم-مسعود اقبال ھاشمی، احمد لطیف، ڈاکٹر عبدالروف، سرمد سروش، شہزاد نیئر، آصف حسین شاہ، منظور علوی، اکرام الحق، سید مظہر مسعود اور جوادگل نے شرکت کی۔

ہفتہ، 9 اگست، 2014

کوئی لگا ہوا مجھ رائگاں کے پیچھے ہے ۔۔ اعجاز گل

اعجاز گل
ہوا عیاں نہ کبھی جو نہاں کے پیچھے ہے
کہ اصل واقعہ ہر داستاں کے پیچھے ہے
طویل مشق خسارے کی اس میں ہے درکار
اگرچہ سود میسّر زیاں کے پیچھے ہے
فرار کر نہیں پاتا ہوں رائگانی سے
کوئی لگا ہوا مجھ رائگاں کے پیچھے ہے
ڈراتا رہتا ہے آسیب ناگہانی کا
چھپا ہوا جو کسی ناگہاں کے پیچھے ہے
خَلا ملا ہے ابھی دوربین کو آگے
پتا چلا نہیں کیا آسماں کے پیچھے ہے
مرا دماغ ہے جس کے جواب سے قاصر
وہی سوال کہ ہر امتحاں کے پیچھے ہے
کہاں ٹھہرتا ہے جا کے یہ عمر کا دریا
سفینہ اپنا بھی آبِ رواں کے پیچھے ہے
عجب ہے حال مکینوں کی لا مکانی کا
ہجوم دوڑتا خالی مکاں کے پیچھے ہے
کبھی بہار گزرتی تھی درمیان کہیں
قیام اب تو خزاں کا خزاں کے پیچھے ہے

جمعہ، 8 اگست، 2014

ممتاز ناول نگار، مستنصرحسین تارڑ سے خصوصی مکالمہ ۔ اقبال خورشید

اُس کے سفید پروں تلے ریت تھی؛
تو یوں اُس قصّے کا آغاز ہوا، جس نے کنک کوٹنے کی عظیم دَھم دَھم کو جنم دیا۔
ایک شاہ کار قصّہ، جس نے ایک ہندوستانی نقاد کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ اردو ناول کا مستقبل اب لاہور سے وابستہ ہے۔ لاہور جہاں اِس قصّے کا خالق بستا ہے۔
مستنصر حسین تارڑ
مستنصر حسین تارڑ
لاہورتہذیب کا مرکز۔ علم و ادب کا گہوارہ۔ مگر میرے لیے لاہور فقط پرانے فیملی البم کی اُن بے رنگ تصاویر تک محدود تھا، جن میں شاہی قلعے، مینار پاکستان اور شالامار باغ کے سامنے میں خود کو موجود پاتا ہوں۔ اور اُن تصاویر میں اتنا کم سن ہوں کہ کچھ یاد نہیں رکھ سکتا جلد ان مناظر کو بھول جاﺅں گا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔
لاہور برسوں میرے لیے فقط بے رنگ، بے بو فیملی البم تک محدود رہا، مگر پھر ادب کی دنیا میں ایک واقعہ رونما ہوا۔ ایک انوکھی گھڑنت، جس سے تبدیلی کا پہیا چلا۔ لاہور نے یک دم نئی صورت اختیار کر لی۔ ایک نئی وابستگی کا میرے بھیتر جنم 
ہوا۔

آنکھوں سے پرے نیند کی رفتار میں رہنا ۔۔ سرمد صہبائی

سرمد صہبائی
آنکھوں سے پرے نیند کی رفتار میں رہنا
ہر پَل کسی نا دید کے دِیدار میں رہنا
کھو جانا اُسے دیکھ کے عُریاں کے سفر میں
چُھوتے ہی اُسے، حُجلۂ اَسرار میں رہنا
اِک خوابِ درِیدہ کو رَگِ حرف سے سِینا !
پھر، لے کے اُسے کوُچہ و بازار میں رہنا
خود اپنے کو ہی، دیکھ کے حیران سا ہونا
نرگِس کی طرح موسمِ بیمار میں رہنا
مرنا یونہی اب، ریشم و کمخواب ہوس میں !
دم توڑ کے زندہ کبھی دیوار میں رہنا
بادل، کبھی پُروا، کبھی پُھولوں سے لِپٹنا
ہر لمحہ، تِرے آنے کے آثار میں رہنا
حسرت سی لِیے خلقتِ معصُوم میں پھرنا
سازش کی طرح، گردشِ دربار میں رہنا
سرمد! تپشِ نار ، سُخن میں ہُوں کہ مجھ کو
گُل کرتا رہا، شعلہ و انگار میں رہنا

جمعرات، 7 اگست، 2014

وہ چاند چہرہ اُتر چُکا ہے ہتھیلیوں میں .. راشدہ ماہین ملک

راشدہ ماہین ملک
سنبھل کےبیٹھی ہوئی ہوں اپنی سہیلیوں میں
مِری پہیلی ہے سہل ساری پہیلیوں میں
یہ پھول میرے لبوں کی لالی سے مَس ہوئے ہیں
بسی ہوئی ہے عجیب خوشبو چنبیلیوں میں
اُسی کے جلوے سے میری آنکھیں بھری ہوئی ہیں
وہ چاند چہرہ اُتر چُکا ہے ہتھیلیوں میں
کہیں پہ بچپن گزر گیا ہے کہیں جوانی
ہماری عمریں ہی کٹ چلی اَن حویلیوں میں
مَیں راشدہ اُس کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں
وہ خواب آنکھوں سے آگیا ہے ہتھیلیوں میں

ہم آواز ادبی فورم کا عید ملن مشاعرہ


ہم آوازادبی فورم دمّام/ریاض/کراچی کی روحِ رواں محترمہ قدسیہ ندیم لالی نے
 چوبیس گھنٹے کے ہنگامی نوٹس پر عید ملن مشاعرہ  کا اہتمام کیا جس میں اُن کے فورم کے کراچی شاخ کے اراکین اور قریبی احباب نے شرکت کی ۔ صدر محفل 

سیدانورجاویدہاشمی اورمہمان خصوصی عقیل عباس جعفری جبکہ ناظمِ مشاعرہ زاہد حسین خاں تھے۔دیگر شرکاء میں
عزیزمرزا،اخترعبدالرزاق،سجّاد ہاشمی،سحرعلی،عظیم راہی،علی زبیر،سعدیہ بلوچ،ضیاشاہد،توقیر تقی،میم میم مغل 

 کے نام نمایاں تھے۔
یہ ایک عمدہ یادگار عید ملن مشاعرہ تھا جو لالی صاحبہ اور اہل خانہ کی دمّام سعودی عرب سے کراچی آمد پر منعقدکیا گیا۔جناب انجینئرندیم خان،اسدبٹ اور قدسیہ ندیم لالی کے بچوں نے تقریب میں سرگرمی سے حصّہ لیا اور مہمانوں کی خاطرمدارات کی۔

(رپورٹ:سید انور جاوید ہاشمی) 








بدھ، 6 اگست، 2014

بابِ علم و ہنر ،ڈھونڈتے ہی رہے ۔۔ رضیہ سبحان

رضیہ سبحان
بابِ علم و ہنر ،ڈھونڈتے ہی رہے
خُوب سے خُوب تر ،ڈھونڈتے ہی رہے
گردشِ روز و شب کے بھنور میں سدا
صرف اُسکی ڈگر ،ڈھونڈتے ہی رہے
زخم دے،اور زخموں پہ مرہم رکھے
ایسا اِک چارہ گر، ڈھونڈتے ہی رہے
رازِ دل تا دمِ مرگ قائم رہا
وہ عبث نامہ بر ،ڈھونڈتے ہی رہے
جسمیں فقدانِ خود اعتمادی رہا
راہ میں راہبر، ڈھونڈتے ہی رہے
وہ دیا ہو کہ جگنو کہ تارا کوئی
رات سے تا سحر ، ڈھونڈتے ہی رہے
تابہ حدِ نظر کوئی سایا نہ تھا
اِس شجر،اُس شجر ،ڈھونڈتے ہی رہے
کچھ تو چھو کے پلٹ آئے افلاک کو
اور کچھ بال و پر،ِ ڈھونڈتے ہی رہے
ہم کہ بیگانہ دستِ طلب سے رہے 
وہ دعا میں اثر ، ڈھونڈتے ہی رہے

منگل، 5 اگست، 2014

ناصر ملک ادبستان ڈاٹ کام کے مدیرِ اعلیٰ رضا صدیقی کو اپنا مجموعہ ،، ہتھیلی،، پیش کر رہے ہیں

معروف ادیب اور اردو سخن کے روحِ رواں اپنے دورہِ لاھور کے درمیان ادبستان کے مدیراعلیٰ اور بولتا کالم
کے روحِ رواں رضا صدیقی کو اپنا ۔۔ مجموعہ ہتھیلی پیش کر رہےہیں۔درمیان میں سلیم اختر ملک بھی موجود ہیں

سوموار، 4 اگست، 2014

کشید ہوتا خسارہ نہیں خسارے سے ۔۔ اعجاز گل

اعجاز گل
رجوع      جب     بھی    کیا     عشق     کے      سپارے     سے
  قیام        ہجر         کا         نکلا       ہے          استخارے     سے
   جدائیوں      کا     سبب      بھی       ہے      خاک       پر     پانی
ملا       رہا       ہے        کنارا         بھی      یہ       کنارے     سے
اُڑائے      پھرتا      ہوں      خود       کو       مگر        ہے     اندازہ
کہ    گھٹ    رہی    ہے      ہَوا     بھی     مرے     غبارے     سے
          کہاں     کا    سود     کہ     اس     عمرِ    سودمند    سے    اب
    کشید          ہوتا         خسارہ        نہیں          خسارے     سے
 کیا       گیا     تھا       جسے      طے       پھلانگ      کر  ،    زینہ 
 ٹھہر     ٹھہر      کے      اترتا      ہوں       اب      سہارے     سے
 ہوا          نہیں          ابھی          انکارِ          مدّعا    ،      شاید
الجھ       رہا        ہے        وہ        ہشیار         استعارے     سے 
 پتا       بتایا      ہے      سردی      نے       اپنی      شدّت       کا
پڑھا    ہے    درجہ    حرارت    کا     مَیں     نے      پارے     سے
 زمین      ہوتی    ہے     گردش     سے     رات      میں     تبدیل
تو      آفتاب          بدلتا        ہے           چاند          تارے     سے

آج منظر ایوبی،امجد اسلام امجد،راشد مفتی اور مظہرالاسلام کی سالگرہ ہے


آج معلّم،شاعر،نقاد،منظرایوّبی (1932)ڈ راما نگارشاعرپروفیسرامجداسلام امجد(1944 )،شاعرراشدمفتی (1945)اورافسانہ    ۔
نگارمظہرالاسلام (1949).کی سال گرہ ہے۔
(یاد نگاری: سید انور جاوید ہاشمی)

اتوار، 3 اگست، 2014

نہ فکر نیند کی ہمیں نہ جاگنے کی آرزو ۔۔ افراسیاب کامل

افراسیاب کامل
کہاں چلیں کہ دوستو ہر ایک گام رات ہے
کہیں پہ دام دن کا ہے کہیں پہ دام رات ہے
یہ زر نگار روشنی شراب کی شباب کی
یہ چاندنی سے کھیلتی سیاہ فام رات ہے
کشید دن کروں گا میں کسی افق سے پھر کہیں
مرے خیال کی تپش میں ہی تمام رات ہے
یہ کون پی گیا ہے سب شرابِ زر میں چاندنی
یہ کون مے کدے میں ہے یہ کس کا جام رات ہے
ابھی سے نیند آ گئی چراغ شب تجھے مگر
ابھی تو ایک ان کہی مری تمام رات ہے
نہ فکر نیند کی ہمیں نہ جاگنے کی آرزو
عجب مقام دن یہاں عجب مقام رات ہے
دبیز تہہ دھویں کی ہے یہاں پہ دن کے وقت بھی
میں اس دیار میں رہا جہاں مدام رات ہے
یہ چاندنی ہے فرش پر کسی حسیں کے پاوں کی
غزل چھڑی ہوئی ہے اور یہ ہم کلام رات ہے
زمین دوز دل جہاں کہ روزنِ حواس تک
اسی کا نام دن یہاں اسی کا نام رات ہے

ہفتہ، 2 اگست، 2014

محسن اسرار کے مجموعہ ، تاثیر ، پر نصیرکوٹی کا اظہار خیال( گوگل ترجمہ ان کے لیے جو بھارت میں اردو نہیں پڑھ سکتے)

'' تا ثیر ' ' محسن اسرار کا دوسرا مجموعہ ء غزل ہے جو 2009ء میں منظر-عام پر آیا اس سے قبل غزل کا ایک مجموعہ2007ء میں '' شو ر بھی ہے سنّا ٹا بھی ' ' کے نام سے بھی آچکا ہے۔
اگرچہ محسن اسرارنے سنہ60ء کی دہائی میں بحیثیت شاعر خودکومتعارف کرایا لیکن کلام کی اشاعت میں انھوں نے عجلت سے کام نہیں لیا بلکہ جب اُن کی مشق اور مطالعے نے اس کی اجازت دی اُس کے بعد وہ اشاعت کے لیے رضامند ہوے۔
اسی مجموعہ ء کلام میں '' رُ و بر و '' کے عنوان سے انھوں نے اپنے تاثّرات بیان کیے ہیں وہ طلسماتی اندازکے ہیں اور اُن کے گوناگوں رنگ ہیں۔
شعر تاثیر کے بغیرکوئی حیثیت نہیں رکھتابقول حسرت موہانی "-
شعر در اصل ہے و ہی حسر ت
سُنتے ہی دل میں جو اُتر جا ئے

دل میں بغیر تاثیر کے شعر نہیں اُترتا۔

جمعہ، 1 اگست، 2014

ذوالفقار نقوی ؔ کے قلم کا سفر ”اُجالوں کا سفر“ ہے ۔ نذیر قریشی

شاعر ی فکری الہام ہے۔ ادیب اور شاعر اپنے عہد کا فطری ترجمان، مصلح، نباض و جراح ہوتا ہے۔ اپنے گردو پیش، اپنے دور کی سماجی شکست و ریخت، معاشرتی نا ہمواری اور سیاسی حسن و قبح اور معلوم و نا معلوم حوادث شاعر کی محسوسات کی دنیا میں ہلچل مچا دیتے ہیں۔ ایک ارتعاش پیدا کر دیتے ہیں اور اس کے اظہار اور ترسیل کے لئے شاعرانہ فکر ِ فلک رس اور ذہن رسا گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اُجالوں کے قمقمے فروزاں کر کے”اُجالوں کے سفر“ کی راہ ہموار کرنے کا حوصلہ جٹاتا ہے۔اس سفر کا زاد ِ راہ قلم و قرطاس کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔
 بقول  ِفیض ؔ
متاع ِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون  ِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
ذوالفقار نقوی ؔ  کے قلم کا سفر ”اُجالوں کا سفر“ ہے۔ اُجالے اندھیروں کی ضد ہیں۔ اُجالے اندھیروں کے مسافر کی ضرورت ہیں۔ اُجالے شب ِ دیجور