ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 17 جولائی، 2014

لب و حرف سے مرا اعتبار ہی اُٹھ گیا ۔۔ شہزاد نیئر

شہزاد نیئر
مری اونچ نیچ سے آشنا نہیں ہو سکی
وہ حسیں ڈگر مرا راستہ نہیں ہو سکی
لب و حرف سے مرا اعتبار ہی اُٹھ گیا
ترے بعد مجھ سے کوئی دعا نہیں ہو سکی
مرا اشک چشمہ ء چشم میں کہیں گُھل گیا
کوئی روشنی تھی مگر دِیا نہیں ہو سکی
وہ عجیب رنگ کی بے کلی مجھے دے گیا
اِسے دل سے دور بہت کیا ، نہیں ہو سکی
ترا عکس دل میں جڑا رہا، سو پڑا رہا
تری شکل آنکھ پہ آئنہ نہیں ہو سکی
تری آنکھ سے مجھے اِذن ِحرف نہ مل سکا
مری آرزو مرا مُدّعا نہیں ہو سکی
مرے ہونٹ پر گُل ِ گفتگو نہیں کھل رہا
یہ بہار بھی مرا ماجرا نہیں ہو سکی
دل ِ شاعراں میں وہ پھانس بن کے چُبھی رہی
کوئی واردات جو واقعہ نہیں ہو سکی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں