ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

منگل، 1 جولائی، 2014

میں مگر آئینے کے اندر تھا ۔۔ افضال نوید

افضال نوید
یوں تو سارا شجر ثمرور تھا
شاخِ بالا پہ میرا ساغر تھا
شب جو اندوہِ شام سر پر تھا
شعلۂِ مہر سے برابر تھا
روزنِ اندروں کدھر تھا کہ مَیں
بھر کے بھی آہِ سرد دوبھر تھا
جھُک رہی تھیں نجوم کی ڈاریں
شام تھی اور مرا صنوبر تھا
کوئی آواز دے رہا تھا مجھے
میں مگر آئینے کے اندر تھا
کن جھروکوں سے دیکھتا رہا تُو
وہ جھروکا جو آسماں پر تھا
ریت میں مل رہے تھے ہم دونوں
تُو سمندر تھا اور میں پتھر تھا
شورشِ شب گذیدگاں سے مکاں
بام و در تھا کہ نقشِ محشر تھا
میں بگولہ سا چار سُو تھا نوید
دشتِ افلاک میرے اندر تھا
افضال نوید

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں