ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 31 جولائی، 2014

مجھ سے ہوتا ہی نہیں ترکِ رہِ شوقِ سفر ۔۔ راشدہ ماہین ملک

راشدہ ماہین ملک
جس کا احساس رہے سوزِ دروں سے خالی
اُسکا ہر لفظ بھی ہوتا ہے فسوں سے خالی
مجھ سے ہوتا ہی نہیں ترکِ رہِ شوقِ سفر
سو مَیں کرتی ہی نہیں دل کو جنوں سے خالی
میری تشکیک دلیلوں سے کہیں آ گے ہے
کیا سے خالی کبھی ہوتی ہوں نہ کیوں سے خالی
شعلہء خواب ہوا سرد محبت جاگی
ہو گیا حال مرا حالِ زبوں سے خالی
یہ محبت ہے رعایت ہے وفا ہے کیا ہے
مجھ کو ہونے نہیں دیتا وہ سکوں سے خالی
یونہی ماہین مکیں ڈرتے نہیں طوفاں سے
کوئی تو چھت ہے جو رکھی ہے ستوں سے خالی

ظلمتیں کب روک پاتی ہیں فروغِ روشنی ۔۔ اطہر جعفری


آج منشی پریم چند کا یومِ پیدائش ہے


[ترتیب و پیش کش:سیدانورجاوید ہاشمی]
اُردو میں افسانہ و ناول نگاری کے حوالے سے اولّیت کے حامل منشی پریم چند 31جولائی1880ء کو پیداہوئے تھے۔ادبیات ہند میں حقیقیت نگارادیب کے طورپر اُن کی حیثیت مسلمّہ ہے۔روزانہ زندگی کے مسائل،بددیانتی،خیانت مجرمانہ،زمینداری،قرض،غربت،استحصال اُن کی افسانوی تحریروں کے اہم موضوعات رہے۔اگرچہ اُن کا تعلق ہندوگھرانے سے رہا تاہم انھوں نے ٹھیٹ سنسکرت یا ہندی زبان پر عوام کی بولی اور زبان کو ترجیح دی اور اس طرح اردو کے مایہ ناز عظیم فکشن نگار کہلائے۔جدید ہندی ادبیات میں اُن کو صف اول میں جگہ و مقبولیت حاصل رہی۔اپنے وقت کے معاشرتی و معاشی حالات و مسائل کے تناظر میں ان کی کہانیوں کو عوام و خواص دونوں نے سراہا۔سات برس کی کم سنی میں وہ ماں کی شفقت و محبت سے محروم ہوگئے 

اتوار، 27 جولائی، 2014

تُمہارے عشق کا اب تک خُمار اُترا نہیں ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
ابھی سرور ہے باقی غبار اُترا نہیں 
تُمہارے عشق کا اب تک خُمار اُترا نہیں
خزاں بہار بنی اور فصل گُل پت جھڑ 
مگر رُتوں کا ابھی تک شُمار اُترا نہیں
عجیب کیفیت ہے بے کلی کہیں جس کو
خیال تیری پناہ میں حصار اُترا نہیں
تمام رات رہا حبس وہ قیامت کا 
ہوا چلی نہ زمیں نم بُخار اُترا نہیں
میں بے قرار رہا عمر بھر تڑپنے کو 
کہ جیسے ایک سمندر قرار اُترا نہیں
دیا سا جلتا رہا گھر میں آخر شب تک 
تھا انتظار وہ جس کا کنار اُترا نہیں
بہت حکائتیں ہیں بیتے دنوں کی انور
بہت سی یاد رہیں پر نکھار اُترا نہیں

خود کو مٹی کی طرح بھی نہ بچھاؤ گوہر .. افضل گوہر راو

ورنہ رُکنا تھا کہاںہم نے ترے گاؤں میں
پیڑ نے کھینچ لیا خودہی ہمیں چھاؤں میں
وہ کسی روز سمندر بھی بنا ہی لے گا
جو ملا سکتا ہو دریاؤں کو دریاؤں میں
میں تو افلاک میں پرواز کیا کرتا ہوں
تیری دھرتی تو بہت کم ہےمرے پاؤں میں
آ اِسے بھی کسی دریا کے حوالے کر دیں
ریت کی پیاس تو بُجھتی نہیں صحراؤں میں
خود کو مٹی کی طرح بھی نہ بچھاؤ گوہر
روند ڈالے گا ہر اک شخص تجھے پاؤں میں

جمعہ، 25 جولائی، 2014

اعجاز گل کا گمان آباد

اعجاز گل نے گمان کی دنیا بسائی تو اسے گمان آباد کا نام دیا۔شاعر ی میں گمان آباد جیسے تجربے بہت کم ہوئے ہیں۔
خواجہ میر درد نے کہا تھا۔
ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے   
تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے؟
اعجاز گل نے اپنے گمان آباد کا  آغازہی ازلی تجسس سے کیا ہے،تجسس انسانی جبلت میں شامل ہے اور اسی تجسس نے اسے جنت سے جبری ہجرت پر مجبور کیا،

ذرا بتا،زماں کیا ہے؟ مکاں کے اس طرف کیا ہے
اگر یہ سب گماں ہے  تو گماں کے اس طرف کیا ہے
سنا ہے اک جہانِ رفتگاں ہے دوسری جانب
خبر کیا ہے؟جہانِ  رفتگاں کے اس طرف کیا ہے
اعجاز گل پھر سوال کرتے ہیں۔
کوئی گردش تھی کہ ساکت تھے زمین و خورشید
گنبدِ وقت میں دن رات سے پہلے کیا تھا
میں اگر پہلا تماشا تھا تماشا گہ میں 
مشغلہ اس کا مری ذات سے پہلے کیا تھا
گمان ہی گمان ہے چہار سو، سوچ کا ایک سمندر ہے موجزن اعجاز گل کی ذات میں۔
منتظر بعد فنا کیا ہے؟ کسے معلوم ہو
گردش ہفت آسماں، ہفت آسماں کے بعد بھی
کیا خبر کتنے جہاں ہیں اس جہاں کے بعد بھی
یا گماں اندر گماں ہے ہر گماں کے بعد بھی

منگل، 22 جولائی، 2014

اک دشت ہے مکان سے میرے ملا ہوا ۔۔۔سحرتاب رومانی کی شعریات پر رفیع اللہ میاں کی گفتگو

موسم کوئی بھی ہو، غزل اپنی بہار ضرور دکھاتی ہے۔ چھوٹے سے مصرعوں میں احساس اور تمنا کی اتنی شدت سمٹ آتی ہے کہ پس ِ نقطہ کائنات جیسی وسعت کا ادراک ہونے لگتا ہے۔ ایسے ہی چند اچھے اشعار کا تذکرہ ہے جو سحرتاب رومانی کے دو مجموعوں ’’گفتگو ہونے کے بعد‘‘ اور ’’ممکن‘‘ کی غزلوں میں جگمگاتے ملتے ہیں۔
اپنی ابتدائی شاعری کے آئینے میں سحرتاب ایک ٹھنڈے دل و دماغ کا آدمی ہے جو سماج اور سماجی رویوں کا مشاہدہ کسی درویش کی لاتعلقی جیسے انداز میں کرتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کی دنیا میں انھیں پرکھتا ہے اور پھر کسی موقع پر وہ شعری احساس کا روپ دھار کرشعر کی صورت میں ایک تبصرہ بن کر ظہور کرتا ہے۔ اس کے بہت سارے اشعار پر تبصرے کا گمان ہوتا ہے، درحقیقت یہ اس کے طرز ادا کا مظہر ہے۔

جمالِ عجز کو مرا شعار کر دیا گیا ۔۔ ڈاکٹر صغرا صدف

ڈاکٹر صغرا صدف
چہار سو غبار ہی غبار کر دیا گیا
یہ کیا ہوا کے دوش پر سوار کر دیا گیا
جھلک دکھا کے اس نے ہر سو تشنگی اچھال دی
وجودِ کائنات بے قرار کر دیا گیا
رخِ حیات پر مالِ ذات منکشف ہوا
فنا نصیب جسم باوقار کر دیا گیا
گھری رہوں میں ہر گھڑی ہی معجزاتِ عشق میں
جمالِ عجز کو مرا شعار کر دیا گیا
مجھے یقین آ گیا کہ تھا تری نگاہ کا
وہ تیر جوجگر کے آر پار کر دیا گیا
نفی ہوئی کبھی صدف جو مجھسے اپنی ذات کی
مجھے عجب ثبات سے دو چار کر دیا گیا

نہیں ہے رابطہ تم سے مگر ضروری ہے ۔۔ راشد نور

راشد نور

اتوار، 20 جولائی، 2014

تتلیاں ٹانگ کے آنچل کو سجایا مَیں نے ۔۔ راشدہ ماہین ملک

راشدہ ماہین ملک

جلتے سورج کو جو بجھنے سے بچایا مَیں نے
اُس پہ پڑنے نہ دیا رات کا سایہ مَیں نے
رک گئی سانس اُسے پھر سے بلایا مَیں نے
اس نے دیکھا تو بہت ناز دکھایا مَیں نے
خواب میں پھول کِھلا پھول میں خواہش جاگی
کتنی مشکل سے اسے ہاتھ لگایا مَیں نے
لوگ جس آگ سے لیتے ہیں لپک خوابوں کی
ہجر کا دکھ اُسی آتش سے اُٹھایا مَیں نے
دل کی آنکھوں سے اُسے دیکھ لیا ایک نظر
شاخ پر پھول نہیں خواب کِھلایا میں نے
گُھل نہ جائے کسی گرداب کے گدلے پن میں
نور کا چاند جو دریا سے اٹھایا مَیں نے
سرمئی تھال میں رکھا تھا ستاروں کا جمال
ٹھرے پانی سے نیا عکس اُٹھایا مَیں نے
رات بھر خواب میں اِک پھول صدا دیتا رہا
صبح اِک پیڑ کو سوتے سے جگایا مَیں نے
اِک مرا دل کہ مری انکھ سے ٹپکا آخر
اِک مرا اشک کہ مٹی میں ملایا مَیں نے
تیرے دامن کے سوا کون تھا محرم میرا
اپنا آنسو نہ کہیں اور بہایا مَیں نے
رکھ گئی خواب مری انکھ میں امیدِوصال
چل پڑی سانس اُسے پھر سے بلایا مَیں نے
ڈھانپ لے اس میں ستاروں کو بھی ماہین ملک
تتلیاں ٹانگ کے آنچل کو سجایا مَیں نے

دعائے خیر سمجھ کر وہ مانگتا مجھ کو ۔۔ ناھید ورک

ناھید ورک
ابھی سے طاقِ طلب پر نہ تُو سجا مجھ کو
ابھی تو کرنا ہے اس دل سے مشورہ مجھ کو
ابھی شبیہہ مکمل نہیں ہوئی تیری
ابھی تو بھرنا ہے اک رنگ ماورا مجھ کو
کوئی نہ کوئی تو صورت نکل ہی آئے گی
ذرا بتاؤ تو درپیش مرحلہ مجھ کو
یہ بات بات پہ تکرار و بحث کیا کرنا
کہ جیتنا ہے تمہیں اور ہارنا مجھ کو
میں اُس کی ذات میں شامل تھی، اُس کو مل جاتی
دعائے خیر سمجھ کر وہ مانگتا مجھ کو
میں جس میں دیکھ کے خود کو سنوار لوں ناہیدؔ
ابھی ملا ہی کہاں ہے وہ آئینہ مجھ کو

ہفتہ، 19 جولائی، 2014

لافانی ستارو ۔۔ (نظم) حقوق کے حصول کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں کے نام ۔۔ ڈاکٹر سعادت سعید


سعادت سعید


آج اردو کے نامور شاعر ساغر صدیقی کی چالیسویں برسی ہے ۔

ساغر صدیقی کا اصل نام محمد اختر تھا۔ وہ 1928ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے۔ اوائل عمر سے شعر و شاعری سے شغف تھا۔ ابتدا میں ناصر حجازی تخلص کرتے تھے۔ پھر ساغر صدیقی کا قلمی نام اختیار کیا اور اسی نام سے شہرت پائی۔
ساغر صدیقی اعلیٰ پائے کے شاعر تھے۔ وہ بڑے زودگو تھے۔انھوں نے کئی فلموں کے نغمات بھی لکھے جن میں دو آنسو، غلام، سرفروش، باپ کا گناہ، جبرو اور باغی کے نام سر فہرست ہیں۔
ساغر صدیقی عموماً کسی قبرستان میں یا کسی مزار پر مجذوبوں کی صورت میں پڑے رہتے تھے۔ اسی ماحول میں انہوں نے گھٹیا نشے بھی کرنا شروع کردیے جس کے باعث ان کی صحت بہت جلد جواب دے گئی اور وہ فقط 46 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔
ساغر صدیقی کی شاعری کے کئی مجموعے بھی شائع ہوئے جن میں خشت میکدہ، لوح جنوں‘ شب آگہی‘ شیشہ دل‘ غم بہار‘ مقتل گلی اور زہر آرزو کے نام شامل ہیں۔
ساغر صدیقی 19 جولائی 1974ءکو لاہور میں وفات پاگئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے ۔
ان کے مقبرے پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے
وہاں اب تک سنا ہے سونے والے چونک اٹھتے ہیں
صدا دیتے ہوئے جن راستوں سے ہم گزر آئے

جمعرات، 17 جولائی، 2014

لب و حرف سے مرا اعتبار ہی اُٹھ گیا ۔۔ شہزاد نیئر

شہزاد نیئر
مری اونچ نیچ سے آشنا نہیں ہو سکی
وہ حسیں ڈگر مرا راستہ نہیں ہو سکی
لب و حرف سے مرا اعتبار ہی اُٹھ گیا
ترے بعد مجھ سے کوئی دعا نہیں ہو سکی
مرا اشک چشمہ ء چشم میں کہیں گُھل گیا
کوئی روشنی تھی مگر دِیا نہیں ہو سکی
وہ عجیب رنگ کی بے کلی مجھے دے گیا
اِسے دل سے دور بہت کیا ، نہیں ہو سکی
ترا عکس دل میں جڑا رہا، سو پڑا رہا
تری شکل آنکھ پہ آئنہ نہیں ہو سکی
تری آنکھ سے مجھے اِذن ِحرف نہ مل سکا
مری آرزو مرا مُدّعا نہیں ہو سکی
مرے ہونٹ پر گُل ِ گفتگو نہیں کھل رہا
یہ بہار بھی مرا ماجرا نہیں ہو سکی
دل ِ شاعراں میں وہ پھانس بن کے چُبھی رہی
کوئی واردات جو واقعہ نہیں ہو سکی 

امجد جاوید کی امرت کور ۔تقسیمِ ہند کے تناظر میں لکھا گیا ایک خوبصورت ناول

کیا یہ ضروری ہے کہ وہی ادیب مسلمہ ادیبوں کی فہرست میں شامل ہو گا یا ہو سکتا ہے جو میڈیا سنٹروں کی حدود میں قیام پذیر ہو،ہمارے ہاں جب بھی کسی تصنیف کا تذکرہ ہوتا ہے تو چند گنے چنے نام ہی لئے جاتے ہیں خاص طور پر ناول نگاری میں۔اس صنف کا ذکر آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ناول لکھا ہی نہیں جا رہا اور اگر لیا بھی جاتا ہے تولے دے کر ایک انتظار حسین کا نام سامنے آتا ہے یا عبداللہ حسین ہیں،خواتین میں بانو قدسیہ ہیں،جمیلہ ہاشمی ہیں،اور بس لیکن کیا یہ درست ہے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا میں لکھنے والوں کی اپنی اپنی لابی ہے چند ناموں کی مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ ہمارے نقاد کی ناک کے نیچے اورنام نہیں آتے اور یہ نام بھی لکھنا ان کی مجبوری ہے کہ جب ناول کی تاریخ لکھی جاتی ہے تو یہ نام آتے ہی ہیں حالانکہ بے شمار نام لئے جا سکتے ہیں مثلاََ محمد حمید شاہد کا نام ہے مستنصر حسین تارڑ کا نام ہے  انیس ناگی کا نام ہے اور بہت سے نا م ہیں، میرا سوال تھوڑا مختلف ہے میڈیا سنٹرز سے دور ادب تخلیق ہو رہا ہے لیکن میڈیا سنٹرز کی حدود میں،کسی فورم پر کسی لیہ،ٹوبہ ٹیک سنگھ،ساھیوال،حاصل پور وغیرہ کے کسی ادیب کی تصنیف کا ذکر کیا نام لینا بھی پسند نہیں کیا جاتا،
وہ عکس بن کے میری چشمِ تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
ساھیوال جسے میڈیا سنٹر سے دور شہر میں مقیم  شاعرہ بسمل صابری کا یہ شعر جب سے میں نے ہوش  سنبھالا ہے انہی کی زبانی سنتا آیا ہوں لیکن ہوتے ہوتے یہ شعر بھی کسی اور شخص سے منسوب ہو گیا ہوا ہے،اس کا تو کیا کہنا مجید امجد کی معروف نظم کا چربہ جب میڈیا سنٹر کی حدود میں رہنے والا ایک نوجوان شاعر پیش کرتا ہے تو میڈیا سنٹروں کے بنائے ہوئے نقادوں نے خاموشی اختیار کرلی۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا اگر میڈیا سنٹرز کی حدود میں رہنے والا ناول لکھے تو وہ ناول ہوتا ہے ورنہ کہا جاتا ہے کہ ناول نہیں لکھا جا رہا۔مجھے یہ  سب کچھ لکھنے پر مجبور کیا حاصل پور میں مقیم امجد جاوید نے جن کے دو ناول،،امرت کور،، اور،،فیضِ عشق،، میرے زیرِمطالعہ ہیں،یہی  نہیں وہ اس کے علاوہ،،ذات کا قرض،،چہرہ،،جب عشق سمندر اوڑھ لیا،،عشق کا قاف،،عشق فنا ہے عشق بقا،،عشق کسی کی ذات نہیں،،عشق کا شین-2.عشق کا شین۔3،عشق سیڑھی کانچ کی،تاج محل،،روشن اندھیرے،، اس کے علاوہ ایک آپ بیتی اور چند شعری مجموعوں کے خالق امجد جاوید کا نام میں نے کسی نقاد کی فہرست میں نہیں دیکھا،اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہیئیے کہ ہم آنکھوں پر پٹی بندھے بیل کی مانند ایک دائرے میں گھومے چلے جا رہے ہیں یا شمیم حنفی کے بقول بہت کچھ لکھا جا رہا ہے،میرے پاس بوریوں کے حساب سے ڈاک آتی ہے اب کسے اتنی فرصت ہے کہ ان پیکٹوں کو کھولے،ہمارے سرہانے تو حوالے کے چند ادیبوں کی کتابیں پڑی رہتی ہیں جن سے ہم بوقت ضرورت استفادہ کر لیتے ہیں۔ نقاد کے اسی رویے کو محسوس کرتے ہوئے امجد جاوید جید نقادوں کا رخ نہیں کرتا،اس نے کالم نگار جاوید  چوہدری کی طرح  پبلیشر پکڑا ہوا ہے جو اس کی کتابیں اس لئے چھاپے چلا جا رہا ہے کہ جاوید چوہدری کی مانند اس کا نام بھی بکتا ہے کالم کا تو میں کہہ نہیں سکتا لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ آج کے اس کرب والم کے دور میں ذہنی سکون کے حصول کے لئے عشق کا عین ؒ ضرور بکتا ہے،اس کی کتابوں کے کئی کئی ایڈیشن اس بات کے گواہ ہیں۔
ساھیوال میں ہمارے ایک محترم شاعر یسینٰ قدرت مرحوم بہت زود گو شاعر تھے،ہمیں ان پر حیرت ہوتی تھی کہ وہ اتنی تیزی سے اور اتنی زیادہ غزلیں کیسے کہہ لیتے تھے۔یہ کوئی چایس پنتالیس سال پہلے کی بات ہے اس زمانے میں وہاں ہمارے گھر کے قریب قائم فرزانہ آنہ لائبریری سے ہر ڈائجسٹ اور ابنِ صفی کا ہر نیا ناول اس شرط پر سب سے پہلے لے آتے تھے کہ صبح کالج جاتے ہوئے واپس کر دیا جائے اور جس برق رفتاری سے ہم انہیں ختم کرتے تھے آج  سوچ کر حیرت ہوتی ہے ہمیں وہ زمانہ اس لئے یاد آ گیا کہ اتنے طویل عرصے کے بعد ہم نے امجد جاوید کا ناول امرت کور اور دوسرا ناول فیضِ عشق ایک ایک نشت میں پڑھ ڈالااور اس طرح پڑھا کہ پروف کی غلطیاں بھی ہماری نظر کی سکینگ سے نہ بچ سکیں۔ہمیں اس وقت بھی حیرت ہوتی تھی کہ ڈائجسٹ میں قسط وار کہانیاں لکھنے والے ہر ماہ اتنی لمبی قسط اتنے دلچسپ انداز میں کیسے لکھ لیتے ہیں،ہمیں آج بھی یہی تجسس ہے کہ امجد جاوید اتنے لمبے لمبے اور ضخیم ناول کیسے لکھ لیتا ہے۔ہم سے تو کسی کتاب پر مضمون /کالم لکھنا ہو تو عذاب لگتا ہے۔ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم کتاب پڑھے بغیر لفافے کا نفسِ مضمون بھانپنے کا فن نہیں جانتے کیونکہ ہم صرف تبصرہ نگار ہیں نقاد نہیں۔
امجد جاوید کا ناول امرت کور بظاہر تقسیمِ ہند کے تناظر میں لکھی گئی پریم کتھا ہے لیکن ناول پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ یہ اصل پریم کتھا نہیں ہے،پریم کہانی تو کوئی اور ہے امجد جاوید عشق کی عین پکڑ کر قاری کو اپنی گرفت میں لیتا ہے پھر اسے تقسیمِ ہند کی ہول ناکیوں اورکشت و خون کے سمندر میں سے گذارتا ہوا کتھارسس کی جانب لے جاتا ہے۔یہ ناول تقسیمِ ہند کے موقع پر سکھوں کی جانب سے قتل و غارت کے پس منظر میں لکھا گیا ہے لیکن امجد جاوید نے جلیانوالہ باغ کے ایک حوالے کے علاوہ تاریخ کی بساکھی نہیں پکڑی۔ناول رومانوی بھی ہے لیکن خون آلود ہے۔
اس ناول  کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں تاریخ کے اوراق ضرور پلٹنے پڑیں گے۔پریم چند کے کہانی بیاں کرنے کی تاریخ سے پہلے اردو افسانوں اور ناولوں کا جو رنگ تھا ان میں سوائے خیالی بایوں کے ایسی چیزیں کم نظر آتی ہیں جن کا تعلق تھوس حقیقتوں سے ہو زندگی کی ٹھوس حقیقتیں کیا تھیں اگر ہم زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کے عقب میں ژاں پال سارتر کی آواز سنیں تو منکشف حقیقت ہمیں نو آبادیاتی معاشرے کے ان رویوں تک لے جاٗئے گی جہاں شناخت لمحوں اور رشتوں کے انضباط سے بے کسی، بے بسی، بے جینی اور مایوسی جھلکتی ہے ایسے پر آشوب اور گماشتہ اور ابتلا میں زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کا ادراک
 اور پھر جرآتِ اظہار،فکر کے استعاروں کو فضیلت عطا کرتے ہیں۔پریم چند نے حقیقت بگاری کی جو بنیاد قائم کی ہمارا بعد کا آنے والا تمام ادب انہی بنیادوں پر کھڑا ہے۔میں یہاں پریم چند کے بارے میں اپنی بات روک کر بات آگے بڑھاتا ہوں کہ  ہر دور اپنے ساتھ اپنی پہچان کے رشتے،رنگ ڈھنگ،طور طریقے لے کر آتا ہے۔
لفظ کی صنعت گری ایک مشکل فن ہے یہ جہاں فن کے اظہار کا وسیلہ ہے وہیں فن کار کے مقام کا تعین بھی کرتا ہے۔ اسلوب فن کاری کی پہچان کا ایک وطیرہ بھی ہے چنانچہ تخلیقِ فن میں لفظوں کا چناؤ خیال کو صقیل کرتا ہے تو فن کار کوممیز کرلے حسِ ترتیب،سلاستِ بیان اور ہیت میں امتیاز بھی دیتا ہے۔امرت کور امجد جاوید کے اظہارِ فن میں لفظوں کے درست چناؤ اور حسِ ترتیب کا شاہکار ہے۔
کہانی ناول کا مرکزہ ہے جسے کرداروں نے سنبھالا ہوا ہوتا ہے۔یہ کردار کہانی یا پلاٹ کے ادبی تسلسل کا ایک حصہ ہوتے ہیں اورپلاٹ یا کہانی کی ارتقا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کسی ناول کے مقام کا تعین کرنے کے لئے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ مصنف نے کتنے جاندار کردار تخلیق کئے ہیں۔اور ان کرداروں کا محاورہ کیسا نظر آتا ہے۔کرداروں کے استعمال سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کہانی کی اٹھان کیسی ہے۔ڈاکٹر گیان چند جین کا کہنا ہے کہ داستان ایک یا چند کرداروں کی سرگذشت ہے جو بغیر کسی انقطاع کے مسلسل بیان کر دی جاتی ہے۔امرت کور کی داستان بیان کرنے میں امجد جاوید نے بلال کا کردار تخلیق کیا اس کی محبوبہ زویا کا کردار سامنے لایا گیا لندن میں ان کی محبت کو پروان چڑھایا۔ان کا وہاں ایک سکھ دوست بھان سنگھ دکھایا گیا۔ منظر نامے میں لندن،لاھور اور امرتسر کو پیش کیا گیاامرتسر کے ایک پسماندہ گاؤں اس لئے دکھایا گیا کہ ایک تو بھان سنگھ وہاں سے تھا پھر امرت کور بھی تو وہیں کی تھی۔
اس کہانی کا ہیرو بلال اپنے سکھ دوست کے مجبور کرنے پر اپنی محبت کو پانے کے لئے لندن سے امرتسر کے گاؤں اپنے دوست بھان سنگھ کے ساتھ پہنچتا ہے۔ کیونکہ اس کے دوست کا اعتقاد تھا کہ،،کاش تم میرے گاؤں کی اس پاگل عورت امرت کور سے مل سکتے۔یقین کرو یار تجھے تیری محبت یوں مل جائے کہ خود تجھے احساس نہ ہو،یہ جو درمیان میں رکاوٹیں ہیں نا،ان کے دور ہو جانے  کا پتہ ہی نہ چلے اور زویا تیری ہو جائے،،
امجد جاوید نے امرت کور کا کردار اسی انداز میں تخلیق کیا ہے۔بلا کا سکھ دوست  کہتا ہے کہ امرت کور اگر تیرے سر پر ہاتھ رکھ دے تو تجھے تیری محبت یوں مل جاٗے کہ خود تجھے احساس نہ ہو۔امرت کور جب بلال کو دیکھتی ہے تو اس کے وجود میں زلزلے آ جاتے ہیں اور برسوں کی چپ کا قفل ٹوٹ جاتا ہے۔وہ  بڑے جذب کے عالم میں کہتی ہے
،،آ گیا تو۔۔ تجھے آنا ہی تھا،، 
یہاں سے جذبہِ عشق کی ایک لازوال داستان کا انکشاف ہوتا ہے اور یہی اس کہانی کا کلائمکس ہے۔اس کلائمکس کو بیان کرنے کے لئے یہاں امجد جاوید نے دو اور کردار تخلیق کئے ہیں،جن میں سے ایک مرکزی کردار ہے نور محمد،گاؤں کا گبرو نوجوان جس پر امرت کور مر مٹی ہے لیکن وہ لنگوٹ کا پکا ہے وہ امرت کور کو دھتکار دیتا ہے،امرت کور اسے ایک ویرانے میں لے جا کر آخری بار ورغلاتی ہے انکار پر اسے بے ہوش کرکے رسیوں سے باندھ دیتی ہے۔امرت کور کے بعد دوسرا جاندار کردار جس کے گھر کا ہر فرد سکھوں کی نفرت کا شکار ہو کر فسادات میں جل گیا۔دوسرا کردار رگھبیر سنگھ جو مسلم سکھ فسادات کی جڑ تھا۔
نور محمد اور امرت کور کی داستانِ عشق،مذہب اور محبت کی کشمکش کی داستان ہے۔جسے امجد جاوید نے بڑی خوبصورتی سے نبھایا ہے۔ناول کے تمام لوازمات کو پورا کرتا ہوا ایک خوبصورت ناول امرت کور جسے علم وعرفان پبلیشرز،الحمد مارکیٹ،40اردو بازار لاھور نے بڑے سائز میں شائع کیا ہے

بدھ، 16 جولائی، 2014

دریا جیسی آنکھوں والے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی زیرک

علی زیرک
پیڑ کی ہر اک شاخ تو سایہ دیتی ہے
برف بدن کو دھوپ دلاسا دیتی ہے
اے میری خاموشی مجھ سے باہر آ
تو میری آنکھوں کو گِریہ دیتی ہے
آجاتی ہے خوشبو میرے کمرے میں
اور پھر میری نیند پہ پہرہ دیتی ہے
دریا جیسی آنکھوں والے اب تجھ کو
صحرا کی وحشت آوازہ دیتی ہے
ٹھنڈی آگ میں جلتے جسموں کی حدّت
پھلنے سے پہلے اک جھٹکا دیتی ہے

زندگی کٹ گئی ہے صحرا میں ۔۔ صغیر احمد جعفری



سوموار، 14 جولائی، 2014

آج اردو کے ممتاز شاعر جناب حمایت علی شاعر کی سال گرہ ہے

آج اردو کے ممتاز شاعر جناب حمایت علی شاعر کی سال گرہ ہے۔جناب حمایت علی شاعر14 جولائی 1926ء کو اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے ، قیام پاکستان کے بعد انھوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور۔سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ بعد ازاں وہ اسی جامعہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔
جناب حمایت علی شاعر کے چار شعری مجموعے آگ میں پھول ، مٹی کا قرض ، تشنگی کا سفر اورہارون کی آواز شائع ہوچکے ہیں جبکہ ان کتابوں کا انتخاب حرف حرف روشنی کے عنوان سے شائع ہواتھا۔ انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری مثنوی کی ہئیت میں تحریر کی جو آئینہ در آئینہ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ حمایت علی شاعر کی دو نثری کتابیں شیخ ایاز اور شخص و عکس بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اردو شاعری میں ان کا ایک کارنامہ تین مصرعوں ہر مشتمل ایک نئی صنف سخن ثلاثی کی ایجاد ہے ۔
جناب حمایت علی شاعر نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے جن میں تدریس ، صحافت، ادارت، ریڈیو، ٹیلیوژن اور فلم کے علاوہ تحقیق کا شعبہ نمایاں ہے۔ٹیلی ویژن پر ان کے کئی تحقیقی پروگرام پیش کئے جا چکے ہیں ،جن میں پانچ سو سالہ علاقائی زبانوں کے شعراء کا اردو کلام خوشبو کا سفر ،اردو نعتیہ شاعری کے سات سو سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام عقیدت کا سفر،احتجاجی شاعری کے چالیس سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام لب آزاد،پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام محبتوں کے سفیراور تحریک آزادی میں اردو شاعری کا حصہ نشید آزادی کے نام سر فہرست ہیں۔
جناب حمایت علی شاعر نے متعدد فلموں کے لیے گیت بھی تحریر کیے جنھیں نگار اور مصور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ان فلموں میں جب سے دیکھا ہے تمھیں، دل نے تجھے مان لیا،دامن،اک تیرا سہارا،خاموش رہو، کنیز، میرے محبوب، تصویر، کھلونا، درد دل اور نائلہ کے نام سر فہرست ہیں۔ انھوں نے ایک فلم لوری بھی پروڈیوس کی تھی جو اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم تھی۔ حمایت علی شاعر کے فلمی نغمات کا مجموعہ بھی تجھ کو معلوم نہیں کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔
جناب حمایت علی شاعر کی ادبی کاوشوں کے اعتراف پرانھیں متعدد اعزازات بھی دئے گئے ، جن میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ، نگار ایوارڈ، مصور ایوارڈ، آدم جی ادبی ایوارڈ، عثمانیہ گولڈ میڈل، نقوش ایوارڈ، مخدوم محی الدین عالمی ایوارڈ(دہلی)،علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ایوارڈ،ہندی اردو ساہتیہ ایوارڈ،ایوارڈ برائے اعلٰی کارکردگی ریڈیو پاکستان ،مو جد ثلاثی ایوارڈ (شکاگو)،وثیقہء اعتراف (ہمدرد ) لانگ لائف لیٹریری اچیومنٹس (نیو جرسی) کے علاوہ امریکا کی اعزازی شہریت بھی مل چکی ہے

اتوار، 13 جولائی، 2014

وہ شام بارشوں کی بھیگتے ہوئے جُگنو ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
ہوا چلی تو کھُلا در ترے دریچے کا
 تھا دلفریب وہ منظر ترے دریچے کا
 تبھی پرانے دنوں کی وہ بات یاد آئی
تھا خواب اور اک سفر ترے دریچے کا
 وہ شام بارشوں کی بھیگتے ہوئے جُگنو
حسین گھر تھا سجا در ترے دریچے کا
فلک پہ تاروں کی محفل زمین پر لیکن 
ستارہ وہ بھی ہمسفر ترے دریچے کا
 تلاش کرتا رہا خواب و خیال میں انور
 وہ چاند تنہا اور شجر ترے دریچے کا

ہفتہ، 12 جولائی، 2014

اک منبعِ شفا ہیں میرے مصطفےٰ کے ہاتھ ۔۔اوصاف شیخ

اوصاف شیخ
روشن ہیں دو جہان میں بدرالدجیٰ کے ہاتھ
پھیلے ہیں کائنات پہ خیرالوریٰ کے ہاتھ
فاراں کی وادیوں میں جہاں بھر کی ہے شفا
اک منبع ء شفا ہیں میرے مصطفےٰ کے ہاتھ
میری سبھی امیدوں کا محور تو آپ ہیں
ہاتھوں میں آپ کے یا نبی ہیں خدا کے ہاتھ
میرا شمار ان کے غلاموں میں ہو گیاّ
دیکھے تو مجھ کو نارِ جہنم لگا کے ہاتھ
مدحت اگر نہ لکھ سکیں میرے حضورکی
جی چاہتا ہے پھینک دوں ایسے کٹا کے ہاتھ
اوصاف کی بھی نعت کو آقا کریں قبول
ہر روز بھیجتا ہوں صدائیں صبا کے ہاتھ

جمعرات، 10 جولائی، 2014

احمد ندیم قاسمی کی برسی پر میرا خصوصی کالم ،،احمد ندیم قاسمی کی افسانہ نگاریِِ،،

  اردو افسانہ کی سو سالہ تاریخ کا جائزہ اپنے سفرمیں 1936کے اہم سال پر آکر ایک نیا موڑ لیتا ہے جب لاہور کے ماہنامہ رومان میں ایک نوجوان کا پہلا افسانہ۔بدنصیب بت تراش۔ کی عنوان لئے شائع ہوا۔
یہ نوجوان جس نے افسانہ نگاری کا اْغاز بدنصیب بت تراش سے کیا تھا اسے دنیا احمد ندیم قاسمی کے نام سے جانتی ہے۔یہی وہ زمانہ تھا جب ترقی پسند تحریک نے بھی جنم لیا جس نے ادب کا رخ حقیقت پسندی کی جانب موڑ دیا۔
احمد ندیم قاسمی کا ادبی سفر اس وقت شروع ہوا جب ترقی پسند تحریک ایام طفلیت سے دوچار تھی اور اسے بلوغت سے ہم کنار کرنے کے لئے ادب نوازوں کا ایک بڑا حلقہ فکری اور تخیلاتی

دور سے ہی گذر رہا تھا۔خواہ وہ سرمایہ کار مخالف صاحب قلم ہوں یا فیض احمد فیض جیسا غموں کو پینے والا شاعر، ہر کوئی ترقی پسند فکر کو برتنے کے حوالے سے لیت و لعل سے کام لے رہا تھا ایسے وقت میں احمد ندیم قاسمی نے سجاد ظہیر،علی سردار جعفری، خواجہ احمدعباس، معین احسن،فیض احمد فیض اور مجروح سلطان پوری جیسے اہم ناموں کے تعاون سے سالاری کا فریضہ انجام ویتے ہوئے اس فکر کو تحریک کی شکل دینے کی شعوری کوشش کی جس کے نتیجہ

احمد ندیم قاسمی کی برسی کے موقع پر سید انور جاوید ہاشمی کا تعارفیہ





بدھ، 9 جولائی، 2014

خواب کے دوران ہی تعبیر چوری ہو گئی ۔۔لیاقت علی عاصم

لیاقت علی عاصم
خواب کے دوران ہی تعبیر چوری ہو گئی
تُو نہیں بچھڑا مری تقدیر چوری ہو  گئی
کچھ نہیں معلوم دل کی ٹوٹتی دیوار سے
خود ہٹائی یا تری تصویرچوری ہو  گئی
اب تو کوئ دو قدم وحشت میں بڑھ جائےتو بس
ایسا لگتا ہے مری جاگیرچوری ہو  گئی
اول اول دل سے احساسِ سکونت چھن گیا
آخر آخر حسرتِ تعمیر چوری ہو  گئی
شہر کا کیا حال ہے میں جانتا ہوں دوستو
رات زنداں سے مری زنجیرچوری ہو  گئی

دیا گلاب تو کانٹے بھی تھے گلاب کے ساتھ ۔۔ رحمنٰ فارس

رحمان فارس
مجھے غرض ہےستارے نہ ماھتاب کے ساتھ
چمک رھا ہےیہ دل پوری آب و تاب کے ساتھ 
نپی تُلی سی محبت ، لگا بندھا سا کرم
نبھا رہےہو تعلق بڑے حساب کے ساتھ
مَیں اِس لیے نہیں تھکتا ترے تعاقب سے 
مجھے یقیں ہے کہ پانی بھی ہےسراب کے ساتھ
سوالِ وصل پہ اِنکار کرنے والے !!! سُن 
سوال ختم نہیں ہوگا اِس جواب کے ساتھ
خموش جھیل کے پانی میں وہ اُداسی تھی
کہ دل بھی ڈوب گیا رات ماھتاب کے ساتھ 
جتا دیا کہ محبت میں غم بھی ہوتےہیں 
دیا گلاب تو کانٹے بھی تھے گلاب کے ساتھ
مَیں لے اُڑوں گا ترے خدوخال سے تعبیر
نہ دیکھ میری طرف چشمِ نیم خواب کے ساتھ
ارے ! یہ صرف بہانہ ہےبات کرنے کا 
مری مجال کہ جھگڑا کروں جناب کے ساتھ ؟
وصال و ھجر کی سرحد پہ جھٹپٹے میں کہیں 
وہ بے حجاب ہوا تھا مگر حجاب کے ساتھ  
شکستہ آئنہ دیکھا ، پھر اپنا دل دیکھا  
دکھائی دی مجھے تعبیرِ خواب خواب کے ساتھ
وہاں ملوں گا جہاں دونوں وقت ملتے ہیں 
مَیں کم نصیب ترے جیسے کامیاب کے ساتھ
دیارِ ھجر کے روزہ گذار چاھتےہیں  
کہ روزہ کھولیں ترے اور شرابِ ناب کے ساتھ
تم اچھی دوست ہو ، سو میرا مشورہ یہ ہے
ملا جُلا نہ کرو فارسِ خراب کے ساتھ 

مجھ سے ہوتا ہی نہیں ترکِ رہِ شوقِ سفر ۔۔ راشدہ ماہین ملک

راشدہ ماہین ملک
جس کا احساس رہے سوزِ دروں سے خالی
اُسکا ہر لفظ بھی ہوتا ہے فسوں سے خالی
مجھ سے ہوتا ہی نہیں ترکِ رہِ شوقِ سفر
سو مَیں کرتی ہی نہیں دل کو جنوں سے خالی
میری تشکیک دلیلوں سے کہیں آ گے ہے
کیا سے خالی کبھی ہوتی ہوں نہ کیوں سے خالی
شعلہء خواب ہوا سرد محبت جاگی
ہو گیا حال مرا حالِ زبوں سے خالی
یہ محبت ہے رعایت ہے وفا ہے کیا ہے
مجھ کو ہوراشدہ شنے نہیں دیتا وہ سکوں سے خالی
یونہی ماہین مکیں ڈرتے نہیں طوفاں سے
کوئی تو چھت ہے جو رکھی ہے ستوں سے خالی

منگل، 8 جولائی، 2014

ہلکی سی حرارت پوروں کی، چن لیتی درد جہانوں کے ۔۔ اسلم کولسری

اسلم کولسری
ہلکی سی حرارت پوروں کی، چن لیتی درد جہانوں کے
ان ھونٹوں کی اک جنبش سے کھل جاتے بھید زمانوں کے
ملبوس پہ سو پیوند لگے اور کالی کملی کاندھوں پر
اس حال میں بھی مسمار کئے دربار کئی سلطانوں کے
ہر شخص پہ وحشت غالب تھی، ھر تیغ لہو کی طالب تھی
اس لہجے کی نرماھٹ نے دل موم کئے حیوانوں کے
انگلی کے ایک اشارے سے مہتاب اگر دو نیم کیا
پلکوں کی ذرا سی لرزش سے رخ پھیر دئے طوفانوں کے
اک ہول بھری تاریکی میں یوں شمع محبت روشن کی
پر کھول دئے پروانوں کے، دن پھیر دئے دیوانوں کے

اتوار، 6 جولائی، 2014

چُپ چاپ تجھے روئیں مری آنکھ کے دریا ۔۔ اقبال طارق

اقبال طارق
کہنا کہ مرے دل کے مضافات میں دیکھیں 
مجھ کو مرے اجڑے ہوئے حالات میں دیکھیں 
ماضی کے دریچے سے کوئی چاند اچھالے 
کب تک وہ ستاروں سے بھری رات میں دیکھیں 
چُپ چاپ تجھے روئیں مری آنکھ کے دریا 
جب عشق کی موجوں کو یہ جذبات میں دیکھیں 
اُس پار محبت ہے تو اس سمت وفا آج 
اور ایک گھڑا اپنی ہم اب ذات میں دیکھیں 

جمعہ، 4 جولائی، 2014

دل ہے سُوکھی زمیں کئی دن سے ۔۔ شکیل جازب

شکیل جازب
جس کو دیکھا نہیں کئی دن سے
وہ ہےدل میں مکیں کئی دن سے
.جانے کیسی نظر پڑی اُس کی 
مَیں وَہیں کا وَہیں کئی دن سے
.خشک دریا سے مجھ کو یاد آیا
مَیں بھی رویا نہیں کئی دن سے
.کر رہاہوں عبث نظر انداز
ایک رُوئے حَسیں کئی دن سے
منتظر اَبر ہیں سر ِ مژگاں
دل ہے سُوکھی زمیں کئی دن سے
.ہو رہا ہے گماں ثمر آور
پَل رہا ہےیقیں کئی دن سے

بدھ، 2 جولائی، 2014

ذکر اسؐ شہِ والا کا دیتا ہے سکوں دل کو ۔۔ جلیل عالی

جلیل عالی
وہ عشق ہے عرفاں ہے وہ عقل ہے برہاں ہے 
ہر فکر و عمل اسؐ کا آئینۂ قرآں ہے
سب چاند سبھی سورج پاتے ہیں ضیا اُسؐ سے
وہؐ رحمتِ عالم ہے وہؐ خواجۂ دوراں ہے
وصفوں میں کمالوں میں سوچوں کے اجالوں میں
سب خیر حوالوں میں فیض اسؐ کا فروزاں ہے
کوئی بھی زمانہ ہو وہؐ خُکق کا پیمانہ
اللہ کا بندوں پر کتنا بڑا احساں ہے
سانسیں ہیں رواں اسؐ سے سینے میں اذاں اسؐ سے
وہؐ روز و شبِ دل ہے وہؐ تاب و تبِ جاں ہے
ذکر اسؐ شہِ والا کا دیتا ہے سکوں دل کو
یاد اسؐ درِ دولت کی ہر درد کا درماں ہے
ہے دھیان مدام اسؐ کا ہونٹوں پہ ہے نام اسؐ کا
جو کچھ ہے تمام اسؐ کا اپنا تو یہ ایماں ہے

منگل، 1 جولائی، 2014

نکل کر آئینے سے مثلِ حیرانی تماشا کر ۔۔ سید انور جاوید ہاشمی

سید انور جاوید ہاشمی

ہمارے ذہن کو درٌاک کردے ۔۔ محمد سبکتین صبا

سبکتین صبا
دلوں کو خواہشوں سے پاک کردے
مرے مولا ہمیں بے باک کردے
ہماری آنکھ کو بے تاب کر کے
اسے تُو دیدہء نمناک کردے
ہماری فکر کو مہمیز دے دے
ہمارے ذہن کو درٌاک کردے
ہمارا حافظہ کر پھر سے زندہ
ہمیں پھر محرمِ افلاک کردے
تُو میری قوم کے ہر نوجواں کو
الٰہی صاحبِ ادراک کردے
ہمیں آپس میں ہو ایسی مُحبت
جو سینہ نفرتوں کا چاک کردے
مری اس آگ کو بُجھنے نہ دینا
بھلے مُجھ کو جلا کر خاک کردے
مرے اس دیس کی مٹٌی کو مالک
تُو میرے جسم کی پوشاک کردے
اسے بھی ڈوُب کر آئے اُبھرنا
صبا کو بھی ذرا تیراک کردے

آیا ہے یہاں تازہ ہوا کا کوئ جهونکا ۔۔ سیما غزل

سیما غزل
پهر آج یہ خوشبوئے بدن ٹوٹ رہی ہے
اور شام کے چہرے پہ تهکن ٹوٹ رہی ہے
آیا ہے یہاں تازہ ہوا کا کوئ جهونکا
کمرے میں جو پهیلی تهی گهٹن ٹوٹ رہی ہے
چاند اس کی ہتهیلی پہ اتر آیا ہے شاید
آنکهوں میں تبهی اس کے کرن ٹوٹ رہی ہے
عرصہ ہوامجھ کو کبهی گهر سے نہیں نکلی
کیوں پاوں میں کانٹے سی چبهن ٹوٹ رہی ہے

میں مگر آئینے کے اندر تھا ۔۔ افضال نوید

افضال نوید
یوں تو سارا شجر ثمرور تھا
شاخِ بالا پہ میرا ساغر تھا
شب جو اندوہِ شام سر پر تھا
شعلۂِ مہر سے برابر تھا
روزنِ اندروں کدھر تھا کہ مَیں
بھر کے بھی آہِ سرد دوبھر تھا
جھُک رہی تھیں نجوم کی ڈاریں
شام تھی اور مرا صنوبر تھا
کوئی آواز دے رہا تھا مجھے
میں مگر آئینے کے اندر تھا
کن جھروکوں سے دیکھتا رہا تُو
وہ جھروکا جو آسماں پر تھا
ریت میں مل رہے تھے ہم دونوں
تُو سمندر تھا اور میں پتھر تھا
شورشِ شب گذیدگاں سے مکاں
بام و در تھا کہ نقشِ محشر تھا
میں بگولہ سا چار سُو تھا نوید
دشتِ افلاک میرے اندر تھا
افضال نوید