ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


ہفتہ، 28 جون، 2014

کہتا نہیں ہے کوئی بھی سچ بات اِن دنوں ۔۔ افتخار عارف

افتخار عارف
کہتا نہیں ہے کوئی بھی سچ بات اِن دنوں
اچھّے نہیں ہیں شہر کے حالات اِن دنوں
احباب کا رَویّہ بھی بدلا ہُوا سا ہے
کچھ تنگ ہوگیا ہے مِرا ہاتھ اِن دنوں
اُس کو بھی اپنے حُسن پہ اب ناز ہوگیا 
ٹھہرے ہُوئے ہیں میرے بھی جذبات اِن دنوں
اُلجھا دِیا ہے مُجھ کو غمِ روزگار نے 
مُمکن نہیں ہے تُجھ سے مُلاقات اِن دنوں
عارف! مُجھے بھی دُکھ تھا کبھی کائِنات کا
خود میں اُلجھ گئی ہے ، مِری ذات اِن دنوں

جمعہ، 27 جون، 2014

کڑی ہجرتوں کاحساب۔زیرآب چراغ

دبستانِ ساھیوال کے ایک منفرد اور یکتا شاعر گوہر ہوشیارپوری نے اب سے اٹھارہ سال پہلے زیرِ نظر کتاب،زیرِآب چراغ،کے خالق غضنفر عباس سید کی شاعری پر اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا کہ غضنفر عباس سید دنیائے شعر کا ایسا،،کولمبس،، ہے جس نے اس معاشرے کے تمام رنگ اور تمام پہلو،اقدار کی شکست و ریخت اور عصری چہرگی اور بے چہرگی کی جلوٹ نہ صرف آنکھوں سے دیکھی بلکہ دل سے محسوس کی ہے وہ اپنی اس بات کی تائید میں غضنفر عباس سید کا یہ شعر پیش کرتے ہیں۔
میرے بدن پہ میرے ہی غم کا لباس ہے
یہ پیرہن کسی کا اتارا ہوا نہیں ہے

ایک اور جگہ گوہر ہوشیار پوری کے حوالے سے  غضنفر عباس سید کے بارے ان کایہ فقرہ بھی پڑھنے کو ملا کہ غضنفر،بات کو پھول بنا دیتا ہے،
زیرآب چراغ میں غضنفر عباس سید نے ابتدائی ایک تہائی صفحات میں دبستانِ ساھیوال کے ہر اس قابلِ ذکر کی رائے درج کی ہے جو ادب کے میدان میں اہمیت کا حامل ہے۔یہ تمام رائے گذشتہ اٹھارہ سال میں دی گئیں ہیں جو اس بات پر دلیل ہے کہ اس مجموعے میں شامل شاعری اٹھارہ سال پہلے تک کی ہے۔
 غضنفر عباس سید نے گذشتہ اٹھارہ سال میں جو شاعری کی ہے کیا یہ رائے اس کی موجودہ زمانے کی اٹھان کا احاطہ کرتی ہیں؟
گذشتہ اٹھارہ سال میں ملکی سیاسی اور سماجیات نے کئی کروٹیں لی ہیں۔معیشت اور معاشرت میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں کیا  غضنفر عباس سیدنے ان کا احاطہ اپنی شاعری میں کیا ہے؟یہ وہ باتیں ہیں جن کا جواب ہمیں غضنفر عباس سیدکی شاعری میں تلاش کرنے ہیں۔

جمعرات، 26 جون، 2014

اس سکوت وقت میں بس اک نظارہ چاہئیے ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
اس سکوت وقت میں بس اک نظارہ چاہئیے
ہاں یا ناں کی اک صدا کا ہی اشارہ چاہئیے
ایک مدت سے رہا طالب کسی اقرار کا
بہتے دریا کو بھی آخر اک کنارہ چاہئیے
شام فرقت میں اُداسی رات سے دو چند ہے 
رات گزرے گی بھلا کیسے سہارا چاہئیے
ایک سناٹا ہے پھیلا صبح کاذب میں یہاں 
اب سکوت شب میں شاید اک شرارہ چاہئیے
شاخ غم کو سبز ہی رہنا ہے اب تیرے بنا 
ایک رُت بارش کی اشکوں کا اشارہ چاہئیے
رُوپ انور کس قدر تیرے رہے اے زندگی
آخری بہروپ کا بھی اک نظارہ چاہئیے

چراغ داغ ہوئے، روزن سحر نہ کھلا ۔۔ اسلم کولسری

اسلم کولسری
خیال خام تھا یا نقش معتبر، نہ کھلا
دلوں پہ اس کا تبسم کھلا، مگر، نہ کھلا
محیط چشم تمنا بھی تھا وہی، جس پر
کسی طرح بھی مرا نقطہ نظر نہ کھلا
عجیب وضع سے بے اعتباریاں پھیلیں
غریب شہر کی دستک پہ کوئی در نہ کھلا
نہیں کہ خندہء مفلس ہےباب شنوائی
کبھی کھلے گ اگر مدعی کا سر نہ کھلا
قدم قبول ہوئے، راستوں کی دہول ہوئے
سفر تمام ہوا، مقصد سفر نہ کھلا
بڑی طویل کہانی ہے دل کے بجھنے کی
کہ ایک شخص تھا اور قصہ مختصر، نہ کھلا
متاع شب تھے، سو، اسلم فگار آنکھوں کے
چراغ داغ ہوئے، روزن سحر نہ کھلا

خواب پر انحصار سے پہلے ۔۔ شہزاد نیئر

شہزاد بیئر
اختیاری ہےیا ضروری ہے
مرنے والو ! خدا ضروری ہے ؟ 
خواب پر انحصار سے پہلے
خواب کا تجزیہ ضروری ہے
  جتنا اونچا اٹھو زمیں والو
سانس لازم ، ہوا ضروری ہے
 رائیگانی کے اس تسلسل میں
زیست کا مرحلہ ضروری ہے؟
  ایک جیون میں کُھل نہیں پاتا
فالتو کیا ھے ، کیا ضروری ہے
  لوگ کترا کے چلتے آئے ہیں
اب ترا سامنا ضروری ہے
  تیری وحدت کو جاننے کے لئے
کوئی تیرے سوا ضروری ہے 
 اس لئے بھی میں بات کرتا ہوں
تیرگی میں دیا ضروری ہے 

سوموار، 23 جون، 2014

عورت ۔۔ رضیہ سبحان

رضیہ سبحان
میں اک پتنگ
ترے پاس ڈور الفت کی
جو اعتمادِ محبت کی ڈِھیل دے اِسکو
تو پھر ہواؤں کی سنگت میں خوب لہراؤں
جو بے رُخی سے یہی ڈور کھینچ لے تو اگر
تو بامِ عرش سے پھر میں زمیں پہ آجاؤں
جو تیری ڈور ہو مضبوط،پھر تومیں ہر دم 
ہر ایک مدِ مقابل کو مات دےجاؤں
بڑھاؤں مان ترا،جذبِ دل میں کھو جاؤں
مگر جو ڈورِ محبت ہوئی تری کمزور
تو پھر میں دُور
کسی چھت پہ
کٹ کے گر جاؤں

اتوار، 22 جون، 2014

کرنا نہیں تھا ہم نے یونہی رائیگاں سفر۔۔۔۔۔صبیحہ صبا

صبیحہ صبا

بارشوں کے موسم میں ۔۔ ڈاکٹر سعادت سعید

ڈاکٹر سعادت سعید
بارشوں کے موسم میں
دل کے مرغزاروں میں
ناگہاں مسرت کی کوکتی ہے خاموشی
پُرہجوم رستوں کی بھیگی ابتری مجھ کو
مشکبار لمحوں کی داستاں سناتی ہے
کوہسار دھلتے ہیں
سبزہ زار دھلتے ہیں
آبشار گاتے ہیں اختلاط کے نغمے
بے لباس پیڑوں کی کپکپاتی بانہوں میں
ابر پوش مدہوشی سرسراتی رہتی ہے
شاخسار دھلتے ہیں
پا کے بند میخانے بادہ خوار رُلتے ہیں
جب مجھے بھگوتی ہیں
آئینہ صفت بوندیں
میری سوئی رعنائی
جاگ جاگ اٹھتی ہے
بے نظیر فطرت کے خوشنما گہر ہر سو
جگمگاتے رہتے ہیں
حاسدوں کے سب ٹولے
میری مسکراہٹ پر عرق ریز ہوتے ہیں!
بارشوں کے موسم میں
چائے خانوں میں اکثر
دھوم دھام ہوتی ہے
الجھنوں کے افسوں گر
نفسیاتی حربوں سے
بے کلی جگاتے ہیں
عیش کام پریوں کو
آئینے دکھاتے ہیں
خوفِ عاقبت کے دیو
خوش خرام گھڑیوں کو
انتباہ کرتے ہیں
انبساط ِپیہم کو
داد خواہ کرتے ہیں

ہفتہ، 21 جون، 2014

سنگ آباد ۔۔ اوصاف شیخ

اوصاف شیخ
تیری بستی کے چاروں‌اور
پتھریلے پہاڑوں کا
ّّعجب اک سلسلہ پھیلا ہوا ہے
وفائے کوہکن کے لفظ سے نا آشنا
سنگلاخ چٹانیں
جو اندر سے بھی کالی
اور اوپر سے بھی کالی ہیں
نہ ان پہ گھاس اگتی ہے
نہی چشمے ابلتے ہیں
تیری بستی کے سارے لوگ
اور تم ایک جیسے ہو
وفائے کوہکن کے لفظ سے نا آشنا
سنگلاخ چٹانوں سے چہرے
اور آنکھیں پتھروں جیسی

جمعرات، 19 جون، 2014

کتاب ِعذاب کا سر ورق ۔۔ ڈاکٹر سعادت سعید

ڈاکٹر سعادت سعید
رات
ہولناکی میں اس زفیل جیسی ہے
جس سے کارواں ٹھہرے
جس سے گھونسلے اجڑے
ذات
کج کلاہی میں مست فیل جیسی ہے
جس پہ حملہ آو ر مُور
جس کی آنکھ ہے بے نُور
بات 
بے نوائی میں اس وکیل جیسے ہے
جس کے ہونٹ مل جائیں 
جس کے کان سل جائیں
مات 
بے گناہی میں اس قتیل جیسی ہے
جس سے روشنی زائل
جس سے زندگی گھائل
گھات 
بے ثباتی میں اسرافیل جیسی ہے
آدمی خس و خاشاک
خاک میں ملے افلاک

اسے تھی اس قدر جانے کی جلدی .. سحر تاب رومانی


مجھے لکھ کر مٹایا تو نہیں تھا 
ٹھکانے ہی لگایا تو نہیں تھا
فقط اک ساز ہی چھیڑا تھا اس نے 
کوئی نغمہ سنایا تو نہیں تھا
بڑی شدّت سے یاد آنے لگے ہو 
تمہیں ہم نے بھلایا تو نہیں تھا
ہوا کے ساتھ چل کر آ گئے ہیں 
ہمیں تم نے بلایا تو نہیں تھا
اسے تھی اس قدر جانے کی جلدی 
مگر پہلے بتایا تو نہیں تھا
سحر یہ روشنی پھیلی ہے کیسی 
دیا دل کا جلایا تو نہیں تھا

بدھ، 18 جون، 2014

پھر نہ وہ محفل سجی اور نہ لگا میلہ وہاں ۔۔ انور زاہدی


انور زاہدی
کیا طلسم شام تھا کہ دل نہیں بہلا وہاں
اُس نے آنکھوں کو اُٹھایا سحر تھا پھیلا وہاں
خُوشنُما چہروں کی رُت میں رنگ تھے بکھرے ہوئے
دل مگر بے چین تھا خوشیوں کا ریلہ تھا وہاں
ڈُوبتا دن اور گلے ملتی ہوئ کیا شام تھی
آرزووں کے جلو میں شوق کا ریلہ وہاں
کیا گرج تھی آسماں پہ بادلوں کے درمیاں
شام تھی پھیلی ہوئ میلے میں دل دہلا وہاں
اک دفعہ دیکھا تھا اُس خوش رو اک محفل میں بس
پھر نہ وہ محفل سجی اور نہ لگا میلہ وہاں

اتوار، 15 جون، 2014

حیدر علی ساحر کا مجموعہ ۔ دیوار میں دیوار۔


چھوٹی بحر میں لفظوں کی بندش سے خیال آفرینی قادرالکلامی کی دلیل ہے اس پر معنویت کا بھرپور ابلاغ سونے پر سہاگہ کا کام کرتا ہے۔حیدر علی ساحر  جرآت کے اظہار میں حیدر ہے  اور قاری کو مسخر کرنے میں ساحر ہے۔
حیدر علی ساحر کا قلم چھوٹی بحروں میں بڑی بات کہنے میں بڑی روانی سے چلتا ہے.
پہلے دریا بھی شور کرتا ہے
پھر سمندر میں ڈوب جاتا ہے
جون کیٹس نے کہا تھا کہ جدیدیت نت نئے استعارے اور علامتیں وضع کرنے کا نام نہیں بلکہ پرانی اور مروجہ علامتوں میں نئے معنی تلاش کرنے میں مضمر ہے۔حیدر علی ساحر کا یہ شعر اپنی معنویت کے اعتبار سے ایک بڑا شعر ہے۔احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا؛
کون کہتاہے  کہ موت آئی  تو مر جاوں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاوں گا
اب ذرا غور فرمایئیے اس حقیر سی چھوٹی سی زندگی کے بعد نا ختم ہونے والی ابدی زندگی کا تصور قاسمی صاحب نے کس خوبصورتی سے دو رِسشٹ۵میں بیان کر دیا لیکن اس کے لیئے انہوں نے طویل بحر استعمال کی ہے۔اب آیئیے حیدر علی ساحر کی جانب،وہ کہتا ہے
پہلے دریا بھی شور کرتا ہے
پھر سمندر میں ڈوب جاتا ہے
اس چھوٹی سی حقیر سی زندگی میں  زندہ رہنے کے لیئے انسان سو سو جتن کرتا ہے لیکن  اسے بل آخر ابدی زندگی کے سمندر میں ڈوبنا ہی پڑتا ہے۔
قاسمی صاحب نے زندگی کا فلسفہ کھول کر بیان کر دیا ہے جبکہ حیدر علی ساحر نے یہ بات قاری پر چھوڑ دی ہے کہ وہ خود اس مظلب پر پہنچے جس پر  میں پہنچا ہوں۔
حیدر علی ساحر کا ایک اور شعر دیکھیئیے
میرے مولا یہ التجا ہے مری
ناخداوں کو مت خدا کرنا
دیوار میں دیوار  کے مطالعہ سے حیدر علی ساحر کی شاعری سادہ کاری اور معنی کا ایک سمندر سمیٹے ہویئے محسوس ہوتی ہے۔ 
معنوی اولاد کے عنوان تلے حیدر علی ساحر کا کہنا ہے کہ ..شاعری فقط شاعری نہیں،،میں،، ہوں 
یہ ، میں، کیا ہے،یہ حیدر علی ساحر کے من کی دنیا ہے جس میں ڈوب کر باہر سے آنے والی  ہر چیز اس جیسی ہو جاتی ہے۔سارے جذبے اس کی سوچ کے مطابق ڈھلنے لگتے ہیں۔تھوڑی خوشیاں،تھوڑے غم،تھوڑی محبت، تھوڑی نفرت  اور تھوڑی جھنجلاہٹ،یہ سارے  جذبے ساحر کے اندر پھوٹتے رہتے ہیں۔ اسی لیئے وہ کہتا ہے۔
ایسے ہی رہے گھر کے یہ حالات تو اک روز
دے ماروں گا دیوار میں دیوار اٹھا کر
یہ وہ جھنجلاہٹ ہے جو اس کے اندر معاشرے  کی ناہمواریوں،ظلم، جبر اور استحصال کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔اسی جھنجلاہٹ کے جذبے پر اس نے دیوار میں دیوار بنایئی ہے تاکہ مواشرے کی بدصورتی دیوار میں ہی چنی رہے۔یہ اور ایسے ہی دوسرے جذبے اس کی ذات کا اظہار یہ ہیں۔
ساحر کی شاعری میں بے ساختہ پن کا اظہار دیکھئے  جو اس نے تکرارِ لفظی سے پیدا کیا ہے۔
پیار کے بارے پوچھو تو
کرنا کرنا کرنا ہے
الفاظ کا اس طرح استعمال اس کیفیت  کی منظر کشی ہے  جب عشق  بے اختیار بول اٹھتا ہے لیکن یہ مجنوں والا عشق نہیں ہے اس میں پاسباں ِ عقل بھی ساتھ ساتھ ہے۔
ہمیں اب موسمِ ہجراں میں فنکاری نہیں کرنی
کہ خود پر قیس ایسی کیفیت طاری نہیں کرنی
بہت سے خواب ہم نے اپنی آنکھوں میں سجائے ہیں 
کسی تعبیر کی لیکن طرف داری نہیں کرنی 
جیسا کہ حیدر علی ساحر  نے خود کہا ہے کہ شاعری فقط شاعری نہیں میں ہوں۔شاعری کی اسی زبان میں اس کا کہنا ہے۔
میں اپنے جسم  کے اندر کہیں روپوش تھا ساحر
مجھے بھی کھنچ کے لایا ہے کوئی پیار مٹی کا
پابند زمیں میں تو ساحر کی اٹھان غضب کی ہے، نظم میں بھی اس کا لہجہ غضب کا ہے۔
بھلا ہو اس محبت کا
کہ جس کے روٹھ جانے سے
سبھی کلیاں،سبھی گلشن
سبھی ندیاں، سبھی لہریں 
سبھی جگنو،سبھی تارے
بہت ہی شور کرتے ہیں 
بہت بے چین کرتے ہیں 
بڑا ہی درد دیتے ہیں 
مگر مجھ کو 
فقط اتنا ہی کہنا ہے
محبت روٹھ جائے تو
خدا بھی روٹھ جاتا ہے
خدا کے روٹھ جانے سے
محبت روٹھ جاتی ہے
دیوار میں دیوار، حیدر علی ساحر کا چوتھا مجموعہِ کلام ہے، محبت ساحر کے سر چڑھ  کر بولتی ہے، وہ طویل عرصے سے شاعری کے صحرا  میں تھوڑی خوشیاں، تھوڑے غم، تھوڑی محبت، تھوڑی نفرت لئے صدا لگا رہا ہے۔وہ کہتا ہے میں شعر کہتا ہوں بلکہ جب شعر ہو جائے تومیں آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر شعر گنگناتا ہوں، اک روشنی سی اترتی ہے اور میرے وجود میں سرایت کر جاتی ہے۔ اک نشہ سا مجھے اپنے وجود میں محسوس ہوتا ہے چونکہ مجھے سچے جذبوں کا اظہار کرنا ہے اس لئے میں خود کو اور قلم کو روک نہیں ِِ پایا۔
ساحر؛ اپنے من کی دنیا سے تھوڑی خوشیاں، تھوڑے غم، تھوڑی محبت، تھوڑی نفرت  سمیٹو اور اسے بھرپور جھنجلاہٹ بھرے لہجے میں دنیا کو لوٹا دو۔
آئینے کے سامنے مت کھڑے ہوا کرو
یہ نرگسیت کو جنم دیتی ہے،جو ایک نشہ ہے، خود پسندی ہے اور خود پسندی انسان کو شاعر تو رہنے دیتی ہے لیکن اس کے فن کو جمود کا شکار کر دیتی ہے۔وہ روشنی جو شاعر کو اس کیفیت میں خود میں سرایت کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے وہ دراصل سچے جذبوں کی موت ہے۔اپنی شاعری کو جمود کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے اس میں اور جھنجلاہٹ پیدا کرو۔
آخری بات یہ کہ دیوار میں دیوار جاندار اشعار کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے۔
تتلیاں خود بخود نہیں آتیں 
پھول بھی تو انہیں بلاتا ہے
چاندنی اوڑھ کے پھرتے ہوئے لوگوں سے کہو
دھوپ کو ہاتھ لگاو گے تو مر جاو گے

ختم ہی نہیں ہوتیں ہجرتوں کی تحریریں ۔۔ سہیل ثاقب

ہم نے دیکھ رکھی ہیں منصفوں کی تحریریں
اُڑ رہی ہیں رستوں میں فیصلوں کی تحریریں
چاہے وہ زمیں پر ہو یا ہو آسمانوں میں 
ہاتھ میں نہیں ہوتیں قسمتوں کی تحریریں
خواب لکھنے بیٹھا ہے سوچ لے مگر اتنا 
منہ چڑایں گی تیرا خواہشوں کی تحریریں
موسمی پرندوں کی داستاں کو کیا پڑھنا 
ختم ہی نہیں ہوتیں ہجرتوں کی تحریریں
پھر تو اپنا سایہ بھی اجنبی سا لگتا ہے
جب ہوا میں شامل ہوں سازشوں کی تحریریں
علم کے گلستاں میں کچھ نہیں بچا ثاقبؔ
کیا قلم کی رعنائی کیا گلوں کی تحریریں

نگاہ ِیار نہ ہوتو نکھر نہیں پاتا ۔۔ شہزاد نیئر

شہزاد نیئر
مرا نہیں تو وہ اپنا ہی کچھ خیال کرے
اُسے کہو کہ تعلق کو پھر بحال کرے
ملے تو اتنی رعایت عطا کرے  مجھ کو
مرے جواب کو سُن کر کوئی سوال کرے
کلام کر کہ مرے لفظ کو سہولت ہو
ترا سکوت مری گفتگو محال کرے
 نہ گزرے وقت کا پوچھے نہ آنے والے کا
کوئی سوال کرے بھی تو حسب حال کرے
 وہ ہونٹ ہوں کہ تبسم، سکوت ہو کہ سُخن
ترا جمال ہر اک رنگ میں کمال کرے
بلندیوں پہ کہاں تک تجھے تلاش کروں
ہرایک سانس پہ عمر ِرواں زوال کرے
 نگاہ ِیار نہ ہوتو نکھر نہیں پاتا
کوئی جمال کی جتنی بھی دیکھ بھال کرے
 میں اُس کا پھول ہوں نیر ! سو اُس پہ چھوڑ دیا
وہ گیسوؤں میں سجائے کہ پائمال کرے

جمعرات، 12 جون، 2014

کہاں ہو تم؟ ۔۔ عارفه شہزاد

عارفہ شہزاد

اگر ہم لفظ ہوتے تو
یہ سارے لوگ خود ہم کو
حسیں جملوں کی مالا میں پرو دیتے
کبھی ہم نظم کے مصرعوں میں ڈھلتے
یا غزل کا شعرہو جاتے
سبھی سے داد تو پاتے!
اگر ہوتے جو ہم سرگم کے دو میٹھے سریلے سر...
خوشی کے راگ میں ڈھل کر
سماعت میں ...
مدھر سا رس تو ٹپکاتے!
اگر ساگر کی ہوتے لہر ہم
اٹھکیلیاں کرتے ہواؤں سے
مبرا ہو گۓ ہوتے
ہر اک تعزیر سے، ساری خطاؤں سے
کبھی ہم تم...
شرارت سے بہم مل کر...
بہت سی سیپیاں ساحل په بکھراتے
اڑاتے جھاگ بے فکری سے...
مل کر شور کرتے
اور لپٹ کر ایک دوجے سے
کسی انجان ساحل تک بھی ہو آتے
سراغ زندگی پاتے!
مگر ہم کون ہیں؟
اور کیوں بھٹکتے پھر رہےہیں 
اس گھنے جنگل میں یوں گم سم
یہاں میں ہوں ...
کہاں ہو تم؟؟؟

ڈاکٹر سعادت سعید،ایک نظریہ ساز نقاد

سعادت سعید
تحریر: عابد حسین عابد
ڈاکٹر سعادت سعید ایک نظریہ ساز نقاد ہی نہیں بلکہ ان کا شمار ہمارے عہد کے چنیدہ نظم گو شعراء میں ہوتا ہے۔ آپ 1963 سے اردو ادب کے ساتھ منسلک ہیں۔ ان کا ابتدائی وقت مجید امجد کے ساتھ گزرا۔ 1967 میں ساہیوال سے لاھور تشریف لائے اور اس وقت کے جیٌد لکھاریوں پر تنقیدی مضامین لکھے اور اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے ڈاکٹر عزیزالحق کی رفاقت میں حلقہ اربابِ ذوق کے پلیٹ فارم پر ترقٌی پسند نظریات کی ترویج کے لئے بہترین خدمات سر انجام دیں۔ 

بدھ، 11 جون، 2014

منگل، 10 جون، 2014

زندگی ہے شاعری ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
زندگی ہے شاعری
تیرے بنا چائے کا کپ
بھیگتی بارش میں 
کاغذ پر اُدھوری ایک نظم
شام دن کے ختم ہونے پر 
اُداسی کا سماں
دھول میں رستے پہ 
قدموں کے نشاں
سوکھے پتوں پر کہیں
جاتی ہوئ مدھم سی چاپ
ریل کی پٹٹری 
اکیلی دور تک لیٹی ہوئ
جھینگروں کی خاموشی میں
کاٹتی ایسی صدا
دل پہ جُوں چلتی ہو آری
سانس ہو رُکتا ہوا
سرد چائے اور نظم
دونوں ویراں راہ جیسی
سرد ہیں اور نامکمل
جیسے کھوئ زندگی

ہفتہ، 7 جون، 2014

عزیز الحقّ کے لیے ۔۔ سعادت سعید

سعادت سعید

وہ میرا آشنا کہ تھا
عذاب ِ جاں میں مبتلا
کِھلی ہوئی تھی ذہن میں
کتاب رنگ چاندنی
کشادگی سے ہم کلام
زعفرانی آگہی
حیات ِ نَو کی اَبتری کے سامنے ڈٹا رہا
شعور کی فسُوں گری کا
سلسلہ بنا رہا
بصیرتوں ' بصارتوں کی
روشنی کا اِسم تھا
رفاقتوں کی حِیلہ جُو
شگفتگی کا اِسم تھا
وہ کُوے فکر ِ واجِبی کے
بوزنوں سے تنگ تھا
ہر ایک بَد مقال کی
عداوتوں سے تنگ تھا
وہ اِنتظار ِ مِیرٹھی کی
پَستیوں پہ نُکتہ چِیں
قیامتوں کی وِحشتوں پہ
مَستیوں پہ نُکتہ چِیں
ملاحتوں کی " بَستیوں " کی
ہَستیوں پہ نُکتہ چِیں
" چراغ ہاے سرد " کا دُھواؑں تھا
اور مَوت تھی
وہ ایک دَور ِ رایگاں کی بجلیاں تھیں
مَوت تھی
بس ایک اُجڑے کارواں کی ہچکیاں تھیں
مَوت تھی

جمعہ، 6 جون، 2014

غزل ۔۔ جلیل عالی

لہو کی لہر میں کیا کیا کمالتے رہے ہیں
جلیل عالی
حصارِ وقت سے رستے نکالتے رہے ہیں
سمے کی شکر دوپہروں جھلستی سانسوں کو
تمہاری یاد کے جھونکے بحالتے رہے ہیں
عَلم انا کے گراتی رہی ہے تیغِ عدو 
یہ سورما کہ فقط سر سنبھالتے رہے ہیں
دلوں میں کیسے اُترتی کرن بصیرت کی
جب اپنا سوچ اثاثہ مغالطے رہے ہیں
تو کیا یہ طے ہے کہیں شہر اُس مثال نہ ہو
کہ جس جمال اِسے ہم خیالتے رہے ہیں
کہا جو ساعتِ سر مست میں قلندر نے
شب اُس پہ دیر تلک دل دھمالتے رہے ہیں
لکھے ہیں گوندھ کے خوشبوئے خاک میں عالی
جو لفظ چاند ستاروں سے ڈھالتے رہے ہیں

جمعرات، 5 جون، 2014

خالد احمد کے لئے ۔۔ اعجاز گل


مکانِ     خاک      کا      اب      انہدام     ہو   گیا   ہے
مکیں     کا    جتنا   لکھا    تھا    قیام     ہو   گیا   ہے
روانگی  میں    کوئی    ردّ    و    کد    نہیں     باقی 
پیامِ     رخصت     و     حرفِ    سلام     ہو   گیا   ہے
نگہ    خموش    ہوئی    ہاتھ     کی    گرفت    نہیں
حیات         دیکھ         ترا       اختتام     ہو   گیا   ہے
وہ    گرم   جوش    بدن   ہے   نہ    اب   بغل   گیری
بچھڑنے     ملنے    کا    قصہ    تمام     ہو   گیا   ہے
گلی    میں    چھوڑ    کے    عشّاق    منتظر    اپنے
وہ     لا  پتا     پسِ     دیوار   و   بام     ہو   گیا   ہے
یہ   سامعین   کہ   بیٹھے    یہاں    ہیں    وہ   ناطق      
کسی   سے    اور    کہیں    ہمکلام     ہو   گیا   ہے
 خبر    یہی    ہے    کہ    اسکی    نئی   رہائش    کا
بہشت    میں   کسی    جا   انتظام     ہو   گیا   ہے

غزل ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
تم کہو شام تو پھر شام اُتر آتی ہے
دل پہ شب صورت انعام اُتر آتی ہے
 دن گزرتا ہے خد و خال کے ایوانوں میں
 رات پھولوں میں جوں گُلفام اُتر آتی ہے
 شام پڑتے ہی کھنکتے ہیں اچانک گھنگرو
 رات پازیب میں بسرام اُتر آتی ہے
 رات زُلفوں کی طرح چھاتی ہے کالی کالی
دل میں لے کے وہ ترا نام اُتر آتی ہے
 کچھ تصور میں نہِیں آتا محض تیرے سوا 
رات لے کے ترا پیغام اُتر آتی ہے
 صبح تک رہتا ہے پھر رقص محبت جاری
 عشق کی شکل بہ الہام اُتر آتی ہے

بدھ، 4 جون، 2014

غزل ۔۔ اقبال طارق

اقبال طارق
یہ جوسب آن بان ہے صاحب
یہ بھی اک امتحان  ہے صاحب
کب مری دسترس میں ماہ ونجوم 
یا کوئی آسمان  ہے صاحب 
کھل ر ہےہیں گلاب سوچوں کے 
وقت اب مہربان ہے صاحب
ٹمٹماتا یہ آرزو کا چراغ 
منزلوں کا نشان  ہے صاحب
خوفِ آسیب سے لرزتا یوں 
دل کا خالی مکان  ہےصاحب
حرف پتھر ہیں اور سینے میں 
آئنوں کا جہان  ہےصاحب
نطق میرا جو  ہےاسی سے  ہے
یہ جو اردو زبان  ہے صاحب

یہ تیرا کوفہء نا مہرباں بھی چھوڑ دوں گا ۔۔ قمر رضا شہزاد

قمر رضا شہزاد
غبار ہوتا ہوا یہ مکاں بھی چھوڑ دوں گا
میں اپنی آخری جائے اماں بھی چھوڑ دوں گا
عدو کے ساتھ بھی کر دوں گا ختم رشتہء جنگ
میں دوستوں سے وفاداریاں بھی چھوڑ دوں گا
بہت کیا ہے ترے ساتھ عشق اے دنیا
میں اب یہ سلسلہ ء رائیگاں بھی چھوڑ دوں گا
میں اپنے حرف ِ دعا بار یاب ہونے سے قبل
غرور ِ حسن ترا آستاں بھی چھوڑ دوں گا
میں لوٹ جائوں گا اپنی زمین کی جانب
یہ تیرا کوفہء نا مہرباں بھی چھوڑ دوں گا

منگل، 3 جون، 2014

غزل ۔۔ رضیہ سبحان

رضیہ سبحان
مکاں سے دُور کہیں لامکاں میں رہتی ہوں
زمیں پہ ہوتے ہوئے آسماں میں رہتی ہوں
ہے جسکے ہاتھ میں یہ باگ ڈور عالم کی
بہت سُکون سے اُسکی اماں میں رہتی ہوں
خبر جو لینے چلے ہو یہ حالتِ دل ہے
مجھے خبر ہی کہاں کس جہاں میں رہتی ہوں
ورق ورق پہ ہیں پھیلے حروفِ نا بینا
محبتوں کی ہر اِک داستاں میں رہتی ہوں
حصولِ عشق کی سب کاوشیں ہیں لا حاصل
میں دسترس سے پرے اک جہاں میں رہتی ہوں
ہر اک طلب سے ہوئی بے نیاز و بیگانہ
بسا کے دل میں اُسے آستاں میں رہتی ہوں
سفیر بنکے ہواؤں کی دُور تک جاؤں
میں مشتِ خاک ہوں موجِ رواں میں رہتی ہوں

سوموار، 2 جون، 2014

سیدانورجاویدہاشمی کا کلام

سید انور جاوید ہاشمی
زندگی اک سفر سے کم تو نہیں
و ہ گلی ر ہ گزر سے کم تو نہیں
بیش و کم جو ملے قنا عت کر
یعنی و ہ بیش تر سے کم تو نہیں
تجُھ کو شکو ہ ہے کم نگا ھی کا
د یکھ میری نظر سے کم تو نہیں
کب کہا تھا مُجھے شما ر کر و
میں بھی اہل -ہُنر سے کم تو نہیں
یہ تو شبنم ہے اُ س کی یا د و ں کی
د و ستو میری آ نکھ نم تو نہیں

اتوار، 1 جون، 2014

دن گزرتا نہیں ہے وحشت میں ۔۔ انور زاہدی

انور زاہدی
دن گزرتا نہیں ہے وحشت میں
رات کٹتی نہیں ہے ظُلمت میں
بے قراری سی ایک رہتی ہے
بات بھاتی نہیں طبیعت میں
شام کا ہجر ہے پہاڑ سا دن
دن سرکتا نہیں ہے فُرصت میں
صُبح ہوتی ہے شام آتی ہے
رات آتی ہے ایک فُرقت میں
صحن میں کون پھرتا رہتا ہے
رات کی بھیگی بھیگی صحبت میں
دل کی دھڑکن میں کوئ رہتا ہے
پہر چاروں ہی کوئ چاہت میں

بھولے بسرے شہر کے لئے ایک نظم ۔۔ افتخار شفیع

افتخار شفیع