ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 14 مئی، 2014

ارم زہرہ کی کتاب،، میرے شہر کی کہانی،، پر سید انور جاوید ہاشمی کا تبصرہ

سید انور جاوید ہاشمی ارم زہرہ سے  کتاب وصول کرتے ہوئے

دوشیزہ ڈائجسٹ،ماہ نامہ سچی کہانیاں،اردو نیوز جدہ،مختلف اخبارات و رسائل کی کالم نگار،کہانی کار،شاعرہ ارم زہرا نےا  پنی سچی کہانیوں کا مجموعہ میرے شہر کی کہانی عنایت کیا جسے رنگ ادب پبلی کیشنز کراچی کے شاعر علی شاعر نے ظفر اکیڈمی ۵۔کتاب مارکیٹ اردو بازار کراچی سے طبع کیا ہے۔ کتاب کا پیش لفظ، محمد ایوب صابر سیال کوٹ،منزہ سہام مدیرہ دوشیزہ ڈائجسٹ اور ناصررضا سابق مدیر سچی کہانیاں ڈائجسٹ کراچی کی تعارفی سطور و اعتراف فن کے بعد انتالیس ۳۹ کہانیوں میں کراچی شہر میں وقوع پذیر لرزہ خیز واقعات کو سچائی اور اچھائی کے ساتھ بیان کرکے ارم زہرا نے خود کو معتبر لکھنے والوں کی صف میں شامل کروالیا ہے۔گذشتہ دنوں ہمارے غریب خانے پراپنے والد کے ہمراہ  تشریف لائیں ۔
اس ملاقات میں انھوں نے بتایا کہ انگریزی ادبیات میں نجی مطالعے کے بعد ماسٹرز کی ڈگری لی۔ زمانہ ء طالب علمی سے تاحال شعر و افسانہ نگاری سے ان کی وابستگی ایک لگن اور سچائی کے جاری و ساری ہے لاہور سے ان کا ناول " چاند میرا منتظر' شایع ہوکے مقبول ہوچکا ہے جب کہ وہ کہانیوں کے ساتھ شاعری کا مجموعہ بھی مرتب کر رہی ہیں۔ کراچی کی ادبی محافل میں اُن کی عدم موجودگی پر انھون نے ہمیں وقت مقررہ پر تقریبات شروع نہ ہونے اور رات گئے تک گھر سے غیر حاضر رہنے کے باعث گھر والوں کا تشویش میں مبتلا ہونا گوارانہیں۔ کسی زمانے میں کیا ہماری سرگرمیوں کے آغاز سے سن ۲۰۰۰ نئے ہزاریے سے قبل مقررہ وقت پر تقریبات کا آغاز کردیا جاتا تھا اور بعد میں لوگ شریک ہوتے رہتے تھے البتہ مشاعرے میں اگر وقت مقررہ کے بعد کوئی شاعر بغیر پیشگی اطلاع تاخیر سے آتا تو پھر سامع کے طورپر شریک کیا جاتا یا ندامت اسے خود ہی محفل سے خارج کرنے پرمجبور کردیا کرتی تھی۔ کراچی شہر میں وقوع پذیر لرزہ خیز واقعات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لیتا شاعروں کے شہر آشوب،وکلاء سیاست دانوں،سماجی تنظیموں کے دھرنے،احتجاج ،گلی محلے میں لاشوں کے پہنچنے پرکہرام اور شوروغوغا،آہ و بکا کا خاتمہ ہوتا نظر نہین آتا۔ اہل قلم اپنی ذمے داریاں پوری کرتے چلے آرہے ہیں ان میں ہم ارم زہرا کا نام بھی شامل کررہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ دوشیزہ ڈائجسٹ یا کوئی سا بھی ڈائجسٹ نیز سچی کہانیاں جیسا رسالہ نہ تو ہمیں ملتا ہے نہ ہی اس کے پڑھنے کی مہلت و فرصت رہی ہے ہاں یہ کہانیاں جو قسط وار چھپ چکی ہیں یا غیرمطبوعہ بھی ہیں ان کو ضرور پڑھنے کی ہمت کریں گے اور سفارش بھی کریں گے کہ ارم زہرا کے قلم سے لکھی گئی سچی کہانیوں،لرزیدہ کرنے والے واقعات کو ضرور پڑھیے گا ۔ارم زہرا کی ان کہانیوں کو انٹرنیٹ پر [بطور ای بک بھی ] پیش کرنے کی سعی بھی کی جائے گی اور ہم ادارہ نگار ادب کے زیر اہتمام اس کی تقریب رونمائی و پذیرائی کا بھی اہتمام کروائیں گے جس میں ان کی قلم کاری کا اعتراف کیا جائے اور کتاب کی مناسب طور پر فروخت [مخئیر حضرات خریدیں اور کتب خانوں کو عطیہ کریں] کا بھی بندوبست کیا جاسکے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں