ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


ہفتہ، 3 مئی، 2014

اعجاز گل کی کتاب ،، گمان آباد ،، سے ایک غزل

اعجاز گل
محور نے آفتاب کے رکھا مدار میں 
گردش رہی زمین کی لیل و نہار میں 
پہلے تو مجھ سے چھین لیا آئنے نے عکس
اب خود سے شرمسار ہے اَٹ کر غبار میں 
لاحاصلی کی بھیڑ میں کیا تذکرہ یہاں 
تُو ہے سرِ قطار یا پیچھے قطار میں 
ٓٓایسا گرا نشیب میں وقتِ زوال جسم
مسکن مرے غرور کا تھا کوہ سار میں 
لمحہ بہ لمحہ ٹوٹ رہا ہے یہ خاک داں 
معدوم ہو رہا ہوں میں اپنے غبار میں 
کترا کے اس طرف سے گزرتی رہی بہار
جو انتظار میں تھے، رہے انتظار میں 
خالی ہے اعتبار سے ہر ظرفِ اعتبار
بے اعتباریاں ہیں بہت اعتبار میں 
اس کو نہ دستیاب تھا وقفہ سکوت کا
میں تو خلل پذیر تھا آوازِ یار میں 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں