ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

ہفتہ، 31 مئی، 2014

ذوالفقار نقوی کی غزل

ﻣﻮﺝ ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﻗﺎﺋﻞ ﮐﮩﺎﮞ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﮩﺎﮞ
ﻭﮦ ﻣﺮﯼ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﺬﺭﺍ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺮﺏ ﻭ ﺩﺭﺩ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﮩﺎﮞ
"ﻧﺮﮔﺴﯿﺖ" ﭼﮭﻠﻨﯽ ﭼﮭﻠﻨﯽ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺳﯿﻨﮧ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﻗﺎ ﺑﻞ ﮐﮩﺎﮞ
ﺍﭨﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺷﻮﺭ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﻢ
ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﮯ ﻓﮑﺮ ﮐﺎ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﮩﺎﮞ
ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺼﮯ ﭘﺮ ﻭﮦ ﻗﺎﺑﺾ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮐﮩﺎﮞ


جمعہ، 30 مئی، 2014

جمعرات، 29 مئی، 2014

غزل ۔۔ لیاقت علی عاصم

لیاقت علی عاصم
ہونٹ پتھرا سے گئے آنکھ نے جنبش نہیں کی
پھر بھی تجھ کو یہ گلہ ہے کہ ستائش نہیں کی
تجھ پہ لکھی تھی غزل بر سر- محفل نہ پڑھی
تری تصویر بنائ تھی نمائش نہیں کی
تُو نے کی ہوگی بچھڑنے میں کوئ کوتاہی
میں نے تجدید-ملاقات کی کوشش نہیں کی
تم تو بُت بن کے خدائ پہ اُتر آئے ہو
ہم نے تو صرف منایا ہے پرستش نہیں کی
اِس قدر ٹوٹ چُکا تھا مِرا پندار- صدا
پھر وہ آیا بھی تو رُکنے کی گذارش نہیں کی

ڈوبنے والے کی وحشت سے سبھی ڈرتے ہیں
دُکھ تو اِس بات کا ہے میں نے بھی کوشش نہیں کی
شعر جیسے بھی کہیں ہوں مگر اِس ناز کے ساتھ
میں نے شہرت کے لیے شہر میں سازش نہیں کی

اک شہرِ رنگ و نور اجڑنے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی

حامد یزدانی
اک شہرِ رنگ و نور اجڑنے کا دکھ بھی تھا
شاخِ نظر سے خواب کے جھڑنے کا دکھ بھی تھا
ہاتھوں کے آسماں پہ دھنک سی تو کِھل گئی
پَر دل میں تتلیوں کو پکڑنے کا دکھ بھی تھا
کچھ تو شکستِ آئینہ، وجہِ ملال تھی
کچھ اپنے خدّ و خال بگڑنے کا دکھ بھی تھا
سینےمیں ایک حبس اُترنے کی دیرتھی
پھر آندھیوں کے زور پکڑنے کا دکھ بھی تھا
حامد، کسی پُرانے شجر کی طرح ہمیں
دھرتی سے اپنے پاؤں اکھڑنے کا دکھ بھی تھا

سب جلتا ہے ..ابرار احمد

ابرار احمد
ہر جانب بارش ہوتی ہے
اور خواب اترنے لگتے ہیں
ٹھنڈک لے کر
دہلیز پہ دستک دیتی ہے
چاہت سے پاگل ہوا کوئی
اور دل میں خوشبو پھیلتی ہے
اور شام اترنے لگتی ہے
پھر اندھیارے کی خاموشی میں
آگ سلگنے لگتی ہے
کیوں آگ سلگنے لگتی ہے ؟
وہ آگ جو تیرے باہر ہے
وہ آگ جو میرے اندر ہے
سب جلتا ہے
آواز کے مخزن سے
ہر گوش سماعت تک
لفظوں کی شاخوں ، نظموں کے جنگل میں
اڑتے پرندوں تک
کہساروں سے میدانوں تک
بازاروں سے گلیاروں تک
فردا کے رخ سے تا بہ ابد 
 قبروں سے گھر تک
کپڑوں سے دروازوں تک
 ہر خواب سے
خوشبو کی چوکھٹ تک
جلتا ہے 
 کن دنوں کی راکھ ہے
کانٹے چبھے ہیں آنکھوں میں
اک آگ ہے
دل میں لگی ہوئی
اک آگ ہے ..دل میں بجھی ہوئی

بدھ، 28 مئی، 2014

غزل ۔۔ محمد علی ظاہر

محمد علی ظاہر
سرد ہوا تھی پر گرماہٹ جیسی تھی
تیری یاد بھی تیری آہٹ جیسی تھی
.خوف ، جھجک ، وحشت ، اندیشہ ، گھبراہٹ
پہلی محبت ، پہلے سگریٹ جیسی تھی
.اس نے جس انداز سے ہاتھ چھڑایا تھا
وہ جھنجھلاہٹ بھی شرماہٹ جیسی تھی
.دروازے پر وہ تھی ، یا پھر تیز ہوا
ایک صدا کل خواب میں "کھٹ کھٹ" جیسی تھی
.چند جلی ہڈیاں اور چٹخی کھوپڑیاں
مسجد بھی اس شہر میں مرگھٹ جیسی تھی
.

اتوار، 25 مئی، 2014

غزل ۔۔ حماد نیازی

حماد نیازی
کیا گھڑی تھی وه یار! کیا دن تھا
جب مرے پاس بس ترا دن تھا
شب کا کیا ہے گزر گئی، شب تھی
دن کا کیا ہےگزر گیا، دن تھا
وقت کی ٹہنیوں سے ٹوٹ گیا
ایک دن جوہرا بھرا دن تھا
داستاں تھی سمے کی اینٹوں میں
خواب میں کوئی خواب سا دن تھا
راکھ تھی منظروں کی سینے میں
دل میں بکھرا،بچا کچھا دن تھا
تیرے ہونے سے تھا مرا ہونا
رات کی وجه تسمیه دن تھا
بے سبب یونہی یاد آیا ہے
آج کا دن بہت برا      دن تھا
آنکھ کھلتے هی کھل اٹھے آنگن
صحن میں پھر نیا نیا دن تھا
پیارے بچو !کہانی ختم ہوئی
بھول جاؤ، که شب تھی یا دن تھا
کون شب مجھ سے کھو گیا حماد
کوئی دن تھا اگر مرا دن تھا

ہفتہ، 24 مئی، 2014

اے مِرے خواب! کہاں جائے گا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر
کون سی آنکھ ٹھکانہ ہے تِرا 
کون سی نیند بہانہ ہے تِرا 
کون سے دل میں اترنا ہے تجھے 
کون سا زخم نشانہ ہے تِرا 
کون سا جسم تِرا مرقد ہے 
کون سا لمس خزانہ ہے تِرا 
خواہشِ مرگ کے سناٹے میں 
کون سا اسم ترانہ ہے تِرا 
کس مداوے کی ہے ارداس تجھے 
کون سا روگ پرانا ہے تِرا 
کون سی سطر کہانی ہے تِری 
کون سا باب فسانہ ہے تِرا 
کون سی صبح تِری منطق ہے 
کون سا علم شبانہ ہے تِرا 
کون سی نسل تجھے دیکھے گی 
کون سا عہد زمانہ ہے تِرا ؟

جمعہ، 23 مئی، 2014

رحمان فارس کے اشعار

خواب کے روپ میں نہیں ، اشک میں ڈہل کے آوں گا 
اب کے مَیں تیری آںکھ میں بھیس بدل کے آوں گا !!
شعلوں بھرا سفر سہی ، آگ کی رھگذر سہی 
آپ بلائیں گے تو مَیں آگ پہ چل کے آوں گا
رنگ کھلے ھیں شام کے اور ترے پیام کے  
تھوڑا سا جھوم جھام کے ، تھوڑا سنبھل کے آوں گا
ہوں گی تمہارے ضبط کی ساری فصیلیں منہدم 
روگ نہیں سکو گے تم ، ایسے مچل کے آوں گا
ذات کا سنگ ہوں ، سو ہوں صبر کی آگ میں ابھی
شیشہِ عشق میں تو مَیں سارا پگھل کے آوں گا

ثبات اور بے ثبات کا شاعر۔سہیل ثاقب

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،غزل کوقافیہ پیماں ہونے کے ناطے ایک طبقہ نظم کے مقابلے میں محدودیت کا حامل قرار دے کر رد کرتا آیا ہے،کلیم الدین احمد جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں،نے ایک جگہ ایک جملے میں یہ کہا تھا کہ جو شعراء مغرب کی نظم نگاری سے واقفیت نہیں رکھتے یا اس جیسی صنف میں شعر نہیں کہتے وہ بے بضاعت شاعر ہوتے ہیں یا بے بضاعت شاعری کرتے ہیں اور پھر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہویئے غزل کی صنف کو ناقص قرار دے کر اس کے تمام شعرا کو بھی اس لٗے بے بضاعت قرار دیتے ہیں کہ وہ نیم وحشیانہ صنفِ ادب ہے۔
دنیا بھر  کی زبانوں  کی شاعری میں اصنافِ ادب،ان کی تخلیقی واردات کی نوعیت،ماہیت اور تجربے کے ایک مخصوص طرزِ عمل اور طرزِ احساس سے وجود میں آتی ہیں،ان کے پس منظر میں اس زبان و ادب کے تہذیبی و تخلیقی شعور اور اس کے فطری و قدرتی اظہار کے لیئے موزوں سانچے تلاش کرنے کا عمل پوشیدہ ہے جس سے وہ شاعری اپنے منوع موضوعات اور مواد کے باوجود خاص انداز کے سانچوں میں تشکیل پاتی ہے یعنی شاعری میں اس کی ہیت تخلیقی وجود کے بیرونی پیکر کے مانند ہوتی ہے اور  اس کی کتنی ہی قدیم و جدید شکلیں ہر زبان کی شاعری اور ادبیات میں رایئج ہیں،

کلیم الدین احمد  کے اس نکتہِ نظر کا پرچار ہمارے محترم مسلم شمیم نے سہیل ثاقب کے ایک مجموعہِ غزل،، سب کہنے کی باتیں ہیں،، میں کیا ہے،لکھتے ہیں 
،،سہیل ثاقب اگر نظم کے شاعر ہوتے تو ان کے شعری مجموعے میں سیاسیات کے موضوعات پر ان کا شاعرانہ ردِ عمل دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا، پھر بھی ان کے ہاں غزل کی محدودات کے باوجود نیئے تبدیل شدہ عالمی منظر نامے کے حوالے سے شعور و فکر اور کربِ احساس کا اظہار غزل کی زبان میں کم کمپایا جاتا ہے۔ مسلم شمیم نے،مولانا الطاف حسین حالی کے اتدو شاعری خاص طور پر غزل کو ہدفِ تنقید بنانے کوبنیاد بنا کر،کلیم الدین احمد کے   کے اسے نیم وحشی صنفِ سخن قرار دے کر مسترد کرتے ہویئے غزل میں خردہ فروشی یعنی غزل کا ہر شعرایک دوسرے سے نفسِ مضمون کے علاوہ کیفیت اور تاثر میں ہر اعتبار سے مختلف ہونے کو غزل کا عیب قرار دینے کے تناظر میں سہیل ثاقب کی غزلیہ شاعری کے بارے میں مندرجہ بالا تجزیہ رقم کیا، اس کے ساتھ ساتھ مسلم سلیم دوسری جانب کہتے ہیں کہ بیسویں صدی کی غزل نے کلیم الدیں احمد کے بیان کردہ عیب سے بہت حد تک دامن کشی کر لی اور یوں غزلِ مسلسل کی روایت ایک مضبوط اور مقبول روایت ٹہری ہے۔
سہیل ثاقب کے اب تک شایئع ہونے والے تینوں مجموعہِِ کلام،پہلا،،تیری میری آنکھوں میں،، دوسرا،، سب کہنے کی باتیں ہیں،، اور موجودہ تیسرا،، کل کی بات اور تھی،، چونکہ غزلیہ ہیں اس لیئے مسلم شمیم نے درمیانی راہ اختیار  کرتے ہویئے لکھا کہ سہیل ثاقب کے شعری مجموعہ میں غزلِ مسلسل کی بڑی تعداد پایئ جاتی ہے۔ ان غزلوں  میں کیف و کم کی ایک فضا اور ایک تاثر قاری کو اپنے دایئرہِ اثر میں دیر تک رکھتا ہے۔یہی وہ جواز ہے جو غزل کو مسترد اور نظم کے حامی پیش کرتے ہیں۔حالانکہ غزل کے ایک مضبوط شعر کا مقابلہ لفظوں کے زیاں پر منبی طویل نظم بھی نہیں کر پاتی،
ہمیں مسلم شمیم کی بین السطور کہی باتوں سے کچھ لینا دینا نہیں جو انہوں نے آتش لکھنوی کے شعر کی شکل میں سہیل ثاقب سے کہی ہے۔
شاعری کھیل نہیں ہے جسے بچہ کھیلے
ہم نے باون برس اس صنف میں پا پڑ بیلے
یہاں ہم سہیل ثاقب کی شاعری کا جایئزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں 
عصرِ حاضر مجھے کس موڑ پہ لے آیا ہے
زندگی اپنا ہی چہرہ نہیں پہچانتی ہے
سہیل ثاقب نے مسلم شمیم کو اس شعر میں بھرپور جواب دیا ہے کہ سیاسیات پر سہیل ثاقب نے بھرپور بات نہیں کی حالانکہ وہ سیاسیات کا طالب علم ریا ہے۔سہیل ثاقب کا یہ ایک شعر ہی سیاسیات کے حوالے سے کافی ہے۔
سہیل ثاقب، مثلِ موسیٰ طور پر کھڑے ہو کر رب سے ملتمس نہیں ہیں لیکن بندگی کی ضد پر ہیں 
ہٹا دے آسماں یارب ہٹا دے
جو ہے مابین، چلمن اٹھا دے
پھر اس کے بعد جو ہونا ہے ہو لے
یہ بندہ ضد پہ ہے جلوہ دکھا دے
سہیل ثاقب نے ان چار مصرعوں میں وہ سب کہہ دیا،وہ سب ابلاغ کرا دیا جو ایک واقعاتی نظمِ مسلسل نہیں کرا سکتی۔سہیل ثاقب کا خالقِ کائنات سے تخاطب کا انداز کچھ اور ہے لیکن محبوبِ خدا سے ان کی التجا اور ہی رنگ میں ہے۔
 مربوط کائنات ہے یہ ان کے نام سے
پڑھتے رہو درود  بہت احترام سے 
بس منتظر ہوں اپنے بلاوے کا آپ تک
آوں گا حاضری کو بڑے اہتمام سے
محبت کے  میٹھے اور رسیلے جذبے سہیل ثاقب کی شاعری کا ایک رخ ہیں۔ وہ محبت جو  دھیمے سروں میں دل و دماغ پر قبضہ کرتی ہے اور پھر فضائیں اسی محبت  میں گونج کر رہ جاتی ہیں۔ 
سہیل ثاقب  کے  اب تک تین مجموعہ کلام شائع ہو چکے ہیں۔ان مجموعہ ہائے کلام کی بنیاد گردوپیش کی چاہتیں ہیں، نفرتیں ہیں، اپپنے دکھ ہیں،اپنے سکھ ہیں،وقت کا جبر ہیں اور چکی کی مشقت ہے۔
کیا عجیب اپنا بھی مقدر ہے
پہلے صحرا ہے بعد میں گھر ہے
پھر بھی ہم اڑ نہیں پاتے
ہر پرندے کا ہاتھ میں پر ہے
سہیل ثاقب  جذبات و احساسات کا بیباک اظہار کرتے ہیں۔یہ لا شعوری فکر ہے جس نے محبت کے علاوٗہ زندگی کے ہر رخ کی بے رحمی کو بہت سادگی سے صفحہِ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔
بے ثمر اب ہے شجر ہم نے یہ مانا لیکن
یہ شجر ہو گیا بیکار غلط کہتے ہو
بیرون ملک جا بسنے والے افراد خاص طور پر ان افراد کے ہاں جو سچے شعری رویوں کا ادراک بھی رکھتے ہوں۔ ہجرت کا استعارہ بہر طور دکھائی دیتا ہے۔ میں نے کہیں کہا تھا کہ پہلی جبری ہجرت تخلیقِ کائنات کے فوراََ بعد ہوئی جب آدم نے ربِ کائنات کی حکم عدولی کی۔ہجرت کے اس تصور کو سہیل ثاقب  نے کیا خوب باندھا ہے۔
ابھی ہجرت کہاں پوری ہویئی ہے
میں رستے میں ذرا سستا رہا ہوں 
ہجرت کی وجوہات کچھ بھی ہوں ایک گہری فکر رکھنے والا شاعر جب اظہارِ ذات کرتا ہے تو اس کے لہجے کی تھکن اس کی طویل مسافرت کا پتہ دیتی ہے۔زندگی کے تجربوں نے سہیل ثاقب کو اس سوچ سے آشنا کر دیا ہے جو سچے شعری رویوں کی احساس ہے۔
جانا مشکل ہو جاتا ہے لوٹ کے آنے والوں سے
گھر کیا ہوتا ہے پوچھو پرگیس کو جانے والوں سے
شاعری کی زندہ روایات کو خود میں سموتے ہويے سہیل ثاقب نے اپنے اشعار میں وہ طرحداری پیدا کی ہے جو عصری شعور، جدید لہجے اور ادبی رحجانات اور میلانات سے ہم آہنگ ہے۔
اس لئے ہر کویئی دے جاتا ہے دھوکہ ثاقب
جھانک کے دل کے میں اندرنہیں  دیکھاکرتا
گھر کی اونچایئی پہ جاتی ہیں سبھی کی نظریں 
کویئی بنیاد کا پتھر نہیں دیکھا کرتا
شاعری میں وجدانِ سخن اور میلاناتِ فکری کے ساتھ ساتھ اسلوب اور لفظیات کا اظہار قادر الکلامی کا اظہار کرتی ہے۔ سہیل ثاقب کی بیشتر غزلوں میں قدیم اسلوب و لفظیات کی جگہ جدیدغزل کی ہمہ گیری، رمزیت اور حقیقت پسندی جلوہ گر ہے۔
 سہیل ثاقب کی شاعری میں کلاسیکی پختگی کے ساتھ ساتھ خیال و فکر میں ایک نیاپن اور جدیدیت ملتی ہے۔جون کیٹس نے کہا تھا کہ جدیدیت نت نئے استعارے اور علامتیں وضع کرنے کا نام نہیں بلکہ پرانی اور مروجہ علامتوں میں نئے معنی تلاش کرنے میں مضمر ہے۔
خواب تھے مرے جواں کل کی بات اور تھی
فصلِ گل تھی مہرباں کل کی بات اور تھی
دور وہ بھی تھا کہ جب ہر گماں یقین تھا
اب یقین بھی گماں  کل کی بات اور تھی
خوش خرامیِ غزل جس کو دیکھ دیکھ کر
جھک گیا تھا آسماں، کل کی بات اورتھی

جمعرات، 22 مئی، 2014

غزل ۔۔ شہزاد نیئر

شہزاد نیئر
 ایک ہم ہیں کہ جاں سے کہتے ہیں
سب محبت زباں سے کہتے ہیں
 دل نے ہم سے کہا ادھر دیکھو
درد والے یہاں سے کہتے ہیں
 کہنے سننے سے کچھ نہیں ہوتا
روز ہم آسماں سے کہتے ہیں
 کس کی مانوں کہ سب یقیں والے
اپنے اپنے گماں سے کہتے ہیں
 جو انہیں راہزن سے کہنا تھا
مُڑ کے وہ کارواں سے کہتے ہیں
جس کو سننا تھا وہ تو چھوڑ گیا
اب یہ قصہ جہاں سے کہتے ہیں
 حال ِ بے مہری ِ فلک نیر
ہم بھی کس مہرباں سے کہتے ہیں

غزل ۔۔ مسرور پیرزادو

 مسرور پیرزادو
میں تو ماضی بعید ہوں سائیں 
اس لیے ہی جدید ہوں سائیں
میرے من میں ہی میرا مرشد ہے
اپنے من کا مُرید ہوں سائیں
میں فقط خود میں ہی نہیں موجود
میں تو خود سے مزید ہوں سائیں
نا اُمیدی اُمید لگتی ہے
اس قدر پُر امید ہوں سائیں
میں ندی ہوں، ملوں گی ساگر سے
شوق کوئی شدید ہوں سائیں
موت مجھ کو نہ مار پائے گی
عاشقی کا شہید ہوں سائیں
اک پُرانے ہی پیار پہ لکھا
شعر کوئی جدید ہوں سائیں!

بدھ، 21 مئی، 2014

اۓ مرے دوست محبت میں فسوں ہوتا ہے ۔۔ عرفان صادق

عرفان صادق
تو  جو  ہر  بات پہ کہتا ہےکہ یوں ہوتا  ہے
اۓ مرے  دوست محبت میں فسوں  ہوتا ہے
جھیل  آنکھوں  میں جو اترے  ہیں تو معلوم ہوا
اس  قدر شہرِمحبت میں سکوں  ہوتا  ہے
میری اس  بات کی پنچھی بھی  گواہی دیں گے
کتنی  بے  دردی  سے اشجار کا خوں ہوتا ہے
آج جو  اشک ہیں  آنکھوں  میں  نہیں پہلے  سے
آج جو درد ہے  پہلے سے فزوں ہوتا  ہے
بادِصرصر  سے مچلتا  ہےبڑی  شدت سے
پرچمِ عشق بھی  عرفان نگوں ہوتا  ہے

تو پهر یوں ہوا کہ... عارفه شہزاد

عارفہ شہزاد
مسافر نے سامان باندھا
تو چاروں عناصر بهی گٹھڑی میں باندھے
اسے پیچهے ره جانے والوں کی سانسوں کی کوئی خبر ہی نہیں تهی
مگر پیچهے ره جانے والے بهی ہشیار تهے خوب
مانگے کے چند سانس نگلے
تو پهر زندگی کی
مسافر نے مڑ کے نہ دیکها
کہ اک نظم اس کے تعاقب میں
آنکهوں سے بہتی ہوئی آئی
لیکن خلا میں کہیں کهو گئی تهی
کہیں درمیاں میں
هوا جو نهیں تهی

نوشی گیلانی کی ایک تازہ غزل

نوشی گیلانی
عِشق دربار سجاتا ہے تو ہم  ناچتے  ہیں
پھر سرِ دار بُلاتا ہے تو ہم  ناچتے  ہیں
 ایک لہجہ کسی بھیگی ہویٔ خوشبو کی طرح
صبح کے ساتھ جگاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
 آخرِ شام  کویٔ عشق  کا  پاگل  لمحہ
جب ہمیں پاس بُلاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
 دُور تک پھیلی ہویٔ برف کا شفاف  بدن
دِل میں اِک آگ لگاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
 شب کی پازیب سے اُلجھا ہوا تنہا گُھنگرو
وصل کے گیت سُناتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
 گرمیٔ لمس کی شدت سے دہکتا آنچل
ایک دیوار اُٹھاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں

سوموار، 19 مئی، 2014

اقبال طارق کا کلام

اقبال طارق
ختم جو ہوتی نہیں اُن خواہشوں کا سلسلہ ۔۔
اس پہ طارق یہ ہماری ہجرتوں کا سلسلہ ۔۔
رات کے دامن میں کوئی چاند مولا ڈال دے ۔۔
دیکھ تاحدِ نظر ہے ظلمتوں کا سلسلہ ۔۔
درد کے بادل ہمارے سر پہ جب بڑھنے لگے ۔۔
دھیرے دھیر ے چھٹ گیا سب دوستوں کا سلسلہ ۔۔
جو کتاب و حرف سے رکھتا کوئی نسبت نہیں ۔۔
اُس نے شجرے میں لکھا ہے شاعروں کا سلسلہ ۔۔
رُک ہی جائے گا کسی دن دیکھنا تھک ہار کر ۔۔
چاند اور سورج کی ہے جو گردشوں کا سلسلہ ۔۔۔
زیست کی جلتی چتا آنکھوں سے تو بجھتی نہیں ۔۔
پھر بھی آنکھوں سے ہے جاری رحمتوں کا سلسلہ ۔۔

سفرِ بے مثال۔عقیدت کے سفر کی ڈائری

سفرِ بے مثال ایک ایسے سفر کی ڈائری ہے جس کے لفظ لفظ پر آنسوں کے نشان اور اورجس کی سطر سطر سے عقیدت جھلکتی ہے،ہر مسلمان کی طرح  سفرنگار منور جاوید کی مدنیہ اور مکہ کی سرزمین  میں جا بجا سجدوں کی تڑپ نظر آتی ہے،
اے کاش برس جائے نور کی بارش
ایمان کے شیشوں پہ بڑی گرد جمی ہے
اس کے گھر حاضری کی بے تابیاں مصنفہ  کے اس سفر نامے کے ورق ورق پر بکھری ہوئی ہیں
خطائیں دیکھتا بھی ہے عطائیں کم نہیں کرتا
سمجھ میں آ نہیں سکتا وہ اتنا مہرباں کیوں ہے
رب بزرگ و برتر نے کائنات کی تشکیل کی کہ وہ پہچانا جائے۔ سیارے اور ستارے۔چاند سورج پیدا کئے ان کو ایک خاص سمت میں حرکت دی۔ ان کی اسی حرکت سے موسموں نے جنم لیا، دن رات پیداہوئے۔ کائنات میں تغیرات اسی حرکت یا سفر کی بدولت ہیں۔
سفر کا سب سے قیمتی عنصر اس کی حرکت ہے اور زندگی چونکہ خود ایک مسلسل حرکت ہے اس لئے سفر بھی زندگی کا استعارہ ہے۔
زندگی ایک  ایسا سفر ہے جو ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔
قرآن کی تمثیلی مگر حقیقی کہانیاں سب سے ارفع کہانیاں ہیں ان کہانیوں کا مرکزہ بھی سفر ہی ہے۔
انسان کا پہلا سفر احکام ربی کی خلاف ورزی کی بنا پر وقوع پزیر ہوا جب۔ سیرو فی الارض۔ کا حکم خداوندی نافذ ہوا تو تجربات حیات نے سفر کو وسیلہ ظفر قرار دیا۔
جیسا کہ میں نے کہا قرآن کی تمثیلی مگر حقیقی کہانیاں سفر پر مبنی ہیں، اسی سلسلے میں قرآن حکیم کی ان کہانیوں پر ایک نظر ڈالی جائے تو سفر اور حیاتیات میں ایک تعلق نظر آتا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کا سفر کھلے پانیوں کا سفر تھا جب سیل عظیم نے بنی نوع انسان پر پانی کی وسیع تر چادر ڈال دی تو سفر نوح نے ہی سلسلہ حیات کا تسلسل برقرار رکھا۔حضرت موسی کو دنیا میں آتے ہی سفر درپیش آگیا۔ ان کی والدہ نے انہیں فرعون کے ظالمانہ عمل سے بچانے کے لئے لکڑی کے ایک تابوت میں بند کیا اوردریائے نیل کے سیل رواں پر رکھ دیا اور یہ سفر فرعون کے محلات میں اختتام پذیر ہوا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کنعان سے مصر تک کا سفر اپنے سوتیلے بھائیوں کی ستم رانی کی بنا پر کرنا پڑا۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے خشکی کا سفر اختیار کیا، اللہ کا گھر تعمیر کیا اور آج بھی اور ابد تک یہ مقدس مقام اپنی عبدیت کے اعتراف کے لئے سفر کا مرکز ہے۔
یہ تمام سفراپنی جگہ، لیکن مسلمانان عالم کے لئے سب سے زیادہ اہمیت ان سفروں کی ہے جورسول خدا  نے اللہ کے حکم سے کئے ان کا پہلا سفر تجارتی مقاصد کے لئے تھا، مکہ سے مدینہ کا سفر سیاسی نوعیت کا تھا، مدینہ سے پھر مکہ کا سفر ایک فاتح کا سفر تھا۔
واقعہ معراج کے روحانی سفر میں اللہ نے اپنے بندے کو تمام خلائی حدود پار کراتے ہوئے اپنے دیدار کے لئے بلایا اور حضور نے ایسے مقامات معلی کی سیاحت کی جہاں پہنچتے ہوئے فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں۔
دنیاوی معاملات میں شعور انسانی کی بدولت ۰۰۷۲ قبل مسیح میں جب پہیہ ایجاد  ہوا تو سفر میں آسانی کا ساماں ہوا اور زمینی فاصلے محدود ہو گئے۔
ڈاکٹر تارا چند نے تمدن ہند پر اسلامی اثرات۔ میں لکھا ہے کہ چھٹی صدی قبل مسیح تاریخ عالم کے حیرت ناک ادوار میں شمار ہوتی ہے۔ اس صدی میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں خیالات کی ترسیل کا سلسلہ براہ راست جاری تھا اور چین سے لے کر مصر،روم اور یونان تک اثرات پہنچتے تھے۔ ان خیالات کا مرکز تمدن کا گہوارہ بغداد تھا۔
سفرنامہ، سفر کے تاثرات، حالات اور کوائف پر مشتمل ہوتا ہے۔ فنی اعتبار سے سفرنامہ وہ بیانیہ  تحریر ہے جس میں سیاح اپنے سفر کے دوران یا سفر کے اختتام پر اپنے مشاہدے، دوران سفراپنی کیفیات کے احوال قلم بند کرتا ہے۔ سیاح کی آنکھ جتنی باریک بیں ہوگی سفرنامہ اتنا ہی جذئیات سے بھرپور اور معلوماتی ہوگا۔داستان اور مکالمہ کے استعمال کی آمیزش سے لکھا جانے والا سفر نامہ قاری کی توجہ خود میں سموئے رکھتا ہے۔ منور جاوید کا،،سفرِ بے مثال،،سادگی ِ بیان کا مرقع ہے جسے انہوں نے تاریخ وار ڈائری کی مانند لکھا ہے۔اس طرح سفرنامہ لکھنے کا قاری کو ایک فائیدہ یہ ہوا ہے کہ چالیس روزہ حج کے  ایک ایک دن کی تفصیل نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔مصنفہ کا کہنا بھی یہی ہے کہ اس سفرنامے کو تحریر کرنے کا ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس سے سفرِ مقدس کا ارادہ کرنے والوں کو راہنمائی مل سکے گی۔ابتدا میں مصنفہ نے  روایات بیان کی ہیں جن کے بارے میں تحفظات ہو سکتے ہیں مثال کے طور  پر مصنفہ  نے لکھا ہے،،میرے خالقِ کائنات کو جب کائنات کی تخلیق کا خیال آیا تو فرشتوں کو زمین سے مٹی لانے کا حکم دیا،زمین نے متعدد بار فرشتوں کو مٹی دینے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے عزرائیل یعنی ملک الموت کو مٹی لانے کے لیئے بھیجا،وہ سفید،سرخ اور سیاہ رنگ کی مٹی لے کر ربِ کریم کے سامنے حاضر ہوئے،چونکہ مٹی تین رنگوں کی تھی اس لٗے انسان گروہوں میں پیدا ہویئے اور اب بھی مختلف رنگوں میں بٹے ہوئے   ہیں،سفر نامہ یا کوئی بھی تحریر لکھتے ہویئے احتیاط سے کام لیا جانا چاہیئیے،روایات کے نام
 سے لکھی ہوئی یہ تحریر یہ ثابت کرتی ہے کہ شیطان کی طرح زمین بھی اپنے خالق کی نافرمان تھی،پھر اللہ نے انسان کوگروہوں اور قبیلوں میں پیدا کیا تاکہ ان کی شناخت ہو سکے،اس وجہ سے نہیں کہ بقول مصنفہ لائی جانے والی مٹی تیں رنگوں کی تھی اس لیئے انسان گروہوں میں پیدا ہویئے۔
سفرِ بے مثال، ان تحفظات سے قطع نظر،حرمین شریفین کے سفرکے لئے ایک بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے،زیارات کے حوالے سے مختلف مقامات کا تفصیلی جائزہ پیش کیاگیا ہے،جو پہلی بار حرمین کی زیارت کے لیئے سفر کرنے والوں کے لیئے مشعلِ راہ ہے۔
تصاویر والے صفحات جو128صفحات کے بعددئیے گئے ہیں ان میں صفحہ 7 پر ایک تصویر کے نیچے لکھا ہے  مسجد قبلتین،اس حد تو درست ہے لیکن بریکٹ میں لکھا ہے پہلا قبلہ جو درست نہیں ہے،ہماری درخواست ہے کہ ایسی غلطیاں قاری کو کنفیوز کرتی ہیں، انہیں درست کر لیا جائے ، پہلا قبلہ لکھنے کی ضرورت نہیں تھی،یا وہاں لکھ دیا جاتا کہ اس مسجد میں پہلا قبلہ تبدیل ہوا۔
ان تمام باتوں سے قطع نظر،سفرِ بے مثال، ربِ بزرگ وبرتر کی رحمتیں سمیٹنے والا واقعی سفرِ بے مثال ہے
تیری رحمتوں پہ منحسر،میرے ہر عمل کی قبولیت
نہ مجھے سلیقہِ التجا، نہ مجھے شعورِ نماز ہے
اللہ سے یہ دعا ہے کہ اس سفرِ بے مثال کو مصنفہ کے لٗے توشہِ آخرت بنا دے۔

اتوار، 18 مئی، 2014

کسی دن چلیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر
کسی دن چلیں گے
کراچی
سمندر میں آنکھیں بہا کر
اسے دیکھنے کی تمنا کریں گے
جو بچپن میں گھر سے چلا تھا
کہ شپ یارڈ دیکھوں گا
بحری جہازوں مں دنیا کے چکر لگاؤں گا
پیسے بناؤں گا
لیکن فلیٹوں، پلازوں کی دنیا میں
بجری اٹھاتے اٹھاتے
کسی ریت کے ڈھیر میں کھو گیا ہے ۔۔۔۔۔
کسی دن چلیں گے
سمندر کنارے
اسے پھینکنے کے لیے
شہر کے زیرِ تعمیر سارے مکانوں کا کچرا
مِرے دل میں بھرتا چلا جا رہا ہے

ہفتہ، 17 مئی، 2014

سُرخ گُلابوں کے موسم میں ۔۔ شہزاد نیئر

شہزاد نیئر
بہت بے رنگ سے دِن ہیں  
ترے گُلنار گالوں کے گُلابی پھول کِھلتے ہیں
نہ تیرے پُھول ہونٹوں سے
مِلن کی شوخ باتوں کے سُنہری رنگ میں لپٹی
کوئی تتلی ھی اُڑتی ہے
نہ دِن کے زرد کاغذ پر تری تصویر بنتی ہے
نہ شب کی کالی چادر پر تری آنکھیں چمکتی ہیں
نہ تیری مُسکراھٹ کی کِرن ملنے کو آتی ہے
رگوں کے سرد غاروں میں
اُداسی جمتی جاتی ہے !
ترے گُلنار گالوں کے گُلابی پھول کِھلتے ہیں
نہ تیرے چہرے کے پل پل بدلتے رنگ ملتے ہیں
حریم ِ ذات میں جاناں 
بہت بے رنگ سے دِن 

یہ بے خواب۔۔۔۔۔ سعادت سعید

ڈاکٹر سعادت سعید

جمعرات، 15 مئی، 2014

مجید امجد کی شاعری حیات و کائنات کے منطقوں کی دریافت سے عبارت ہے ۔۔۔حلقہ اربابِ ذوق میں مجید امجد پر خصوصی اجلاس

مجید امجد کی یاد میں حلقہ اربابِ ذوق کا موجودہ سال کا پہلا خصوصی اجلاس پاک ٹی ہاوس میں منعقد ہواجس کی صدارت معروف کالم نگار اور ساھیوال سے تعلق رکھنے والے سجاد میر نے کی جبکہ ڈاکٹر خواجہ زکریا مہمانِ اعزاز تھے،نظامت کے فرائض حلقہ کے سیکرٹری غافر شہزاد نے ادا کئے۔

حلقہ کے اس خصوصی اجلاس میں ڈاکٹر اورنگزیب نیازی،ڈاکٹر امجد طفیل،ڈاکٹرضیاالحسن،ڈاکٹر ناصر عباس نیئر،علی اصغر عباس اور ڈاکٹر سعادت سعید نے مجید امجد کے فنِ نظم نگاری اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی اور مضامین پڑھے جبکہ ننکانہ صاحب سے آنے والے مبارک اکبر اور موبینا اکبر نے اپنی خوبصورت آواز میں مجید امجد کا کلام پیش کیا۔
مجید امجد کے فن اور شخصیت پر ہونے والی گفتگو کا مجموعی تاثر یہ تھا کہ مجید امجد کی شاعری اپنے موضوع کے تناظر میں حیات و کائنات کے منطقوں کی دریافت سے عبارت ہے۔کائناتِ اکبر ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی ہے اور کائناتِ اصغر انسان کے اندر یعنی باطن کے مختلف مدارج پر محیط ہے۔
مجید امجد اپنی شاعری میں دونوں دنیاوں کی نامعلوم موجودات کی دریافت کرتے ہیں اور اس کی تفہیم کے لئے نئے زمان و مکاں کے تصور کو استعمال میں لاتے ہیں۔انہوں نے عربی و عجمی لغت سے دامن بچا کر موئن جو داڑو اور ہڑپہ کی تہذیب سے زبان و بیان کی حسیات تراشی ہیں اور یہی بات انہیں مروجہ شعری ضابطوں سے الگ اور ہمارے تربیت یافتہ قاری کے لئے غیرمانوس شعری فضا بناتی ہے جس کے سبب ان دونوں کائناتوں کے اندر خود کو جذب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

جہاں تک ان کے غیر مانوس شعری آہنگ کی بات ہے،غزل میں ان بحور کو زحاف کے ساتھ میر نے اپنی غزل میں برتا ہے۔چونکہ غزل کی خواندگی کی ہماری تربیت ہے اس لئے کوئی مشکل پیش نہیں آتی جبکہ نظم کے معاملے میں غیر مانوسیت قاری کو اپنے حصار میں داخل نہیں ہونے دیتی۔ان نظموں کا آہنگ ہندی بحور کے بھی بہت قریب ہے۔
اس خصوصی اجلاس میں سجاد میر اور ڈاکٹر خواجہ زکریا کے علاوہ ڈاکٹر سعادت سعید،قائم نقوی،زاہد مسعود،ڈاکٹر ناصر عباس نیئر،ڈاکٹر امجد طفیل،ڈاکٹر ضیاالحسن،علی اصغر عباس،رائے محمد ناصر،اختر ہاشمی،ڈاکٹر ریاض قدیر،ضمیل احمد عدیل،فرحت عباس شاہ،حسنین بخاری،محمد انور زاہد، ڈاکٹر سلیم سہیل،عابد فاروق،ڈاکٹر افتخار بخاری،شفیق احمد خان،ڈاکٹر شاہد مسعود،ڈاکٹر غافر شہزاد،اورنگزیب نیازی،ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ، کامریڈ شفیق احمد شفیق،جاوید قاسماور دیگر احباب شامل تھے۔
تقریب کے اختتام پر متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ مجید امجد کے حوالے سے سو سال پورے ہونے پر ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا جائے۔

بدھ، 14 مئی، 2014

لکھ کے جانا کہ کچھ لکھا ہی نہیں ۔۔ رضی الدین رضی

 رضی الدین  رضی
لکھ کے جانا کہ کچھ لکھا ہی نہیں 
ہم نے جو کچھ کہا ، کہا ہی نہیں 
ربط ایسا ہوا تھا دونوں میں 
پھر کوئی رابطہ رہا ہی نہیں 
چند لوگوں سے بات کرتا ہوں 
وہ بھی ایسے کہ بولتا ہی نہیں 
ہر قدم ساتھ ساتھ رہتا ہے 
دو قدم ساتھ جو چلا ہی نہیں 
قتل ہونا گناہ لگتا ہے 
قتل کرنا تو اب برا ہی نہیں 
اب تو میں جاگتا ہی رہتا ہوں 
پھر کہو گے کہ جاگتا ہی نہیں
اس کو میں کس طرح سے دیکھوں گا
جب مرے پاس آئینہ ہی نہیں 
مجھ کو ایسا دکھائی دیتا ہے 
جیسے اب میں نے دیکھنا ہی نہیں 
میری سانسوں میں بس وہ مہکا ہے 
میں نے جس کو رضی چھوا ہی نہیں 

سعادت سعید کی نظم۔ بدن خُمار

سعادت سعید

گھر سے مَیں اپنی زنبیل میں 
اپنے تخت ِ سلیمان و قاف ِ فلک مرتبت لے کے چلتا ہُوں 
بے چارگان ِ زمانہ مِری چال کی تمکنت سے ہیں نالاں 
وقار آفریں اور تناو رسیدہ نگاہوں کو ہر آدمی پست و کم تر دِکھائی پڑے
لوگ میرے لیے اجنبی ہو چکے
دُور دیسوں کی مخلُوق ٹھہرے
بدن کا خُمار اپنے جوبن پہ ہے کِس لیے ؟
عِلم مجھ کو نہیں 
اِس کا شاید کہیں ہو کوئی عامیانہ جواز 
ڈھونڈ پاؤُں تو مَیں اِکتفاوں گا بس ایک کُہنی پَہ
"دمڑی کی بڑھیا ' ٹکا سَر منڈائی "
مِرے دل کی نرمی کے دَر کُھل چکے ہیں 
ملایم ہین افکار
سارے گراں حادثے کَور ماضی میں آسُودگی پا چکے 
زخم تازائیں ایسے کہ جس سے اذیّت کے 
میرے ادراک میں جا گُزینیں !
تصوُّر تھکا دیتی محنت کی تکلیف دہ ہے مجھے 
ایسے ماحول میں سانس لینا ہے
جس میں غم خوب صورت لبادے میں مستُور
میرے شب و رُوز کا ترجماں بن گیا ہو
حقیقت پَرے روشنی ' دُور دیسوں کی خُوش بُو مجھے بھا رہی ہے
مِرا ذہن افسانوی پیکروں دِل لُبھاتے پری زاد گاں کی اسیری سے خوش ہے
مِری رُوح میں تازگی آ چکی ہے
حقیقت سراے میں لمحے بِتانے کا اِمکاں نہیں 
اپنے تخت ِ سلیمان و قاف ِ فلک مرتبت سے اتر کر
زمانے کو اِک آن دیکھوں تو چاروں طرف 
خوش نصیبی کے جمگھٹ ' مَسرّت کے لشکر ' قرینوں کے چوپال پاؤُں 
مَیں اپنی نفاست کو اپنے لیے اجنبی ہوتا دیکھوں 
دَما دَم بدن مست سُتھرائی بے کار و بے ہُودہ نکلے
اگر اِن کی رُوحوں میں جھانکیں تو شاید
خلفشار ِ قاف ِ فلک مرتبت ان میں شدّت سے ہو
اپنے تخت ِ سلیماں سے نیچے کی دُنیا کو دیکھیں تو جانیں 
کہ محرُومیاں آدمی کا مقدّر رہی ہیں 
اسے اپنے جوہر کے رازوں سے نسبت نہیں 
بکھری اشیاؑ کے ڈھیروں خزانوں کے اندر اُتر کر
حقیقت تلاشی کی محنت سے گزریں 
خُمار ِ بدن سے پرے کے زمانے الگ ہیں 
اِسی دُکھ مین اندر ہی اندر گُھلے
بشاشت بھی پائی تو غم آشنا
ایک پَے چیدہ رستہ تِرے سامنے 
ایک پَے چیدہ رستہ مِرے سامنے 
حقیقت تلاشی کا دریاے شیر 
کسی نے نہ پایا !
تعلُّق کی ندّی میں اترا ہو کون ؟
رشتوں کی دَلدل کو کس نے عبُورا ؟
تعلّق کے اِقرار میں اُس کا اِنکار مخفی رہا
اس کے اقرار میں تِشنگی 
بے خُودی میرے اِنکار مین 
اس کا تکت ِ سلیماں الگ
میرا قاف ِ فلک مرتبت مختلِف 
ایک پَے چیدگی ' سبز رو یئدگی
میرے چاروں طرف 
تیرے چاروں طرف 


ارم زہرہ کی کتاب،، میرے شہر کی کہانی،، پر سید انور جاوید ہاشمی کا تبصرہ

سید انور جاوید ہاشمی ارم زہرہ سے  کتاب وصول کرتے ہوئے

دوشیزہ ڈائجسٹ،ماہ نامہ سچی کہانیاں،اردو نیوز جدہ،مختلف اخبارات و رسائل کی کالم نگار،کہانی کار،شاعرہ ارم زہرا نےا  پنی سچی کہانیوں کا مجموعہ میرے شہر کی کہانی عنایت کیا جسے رنگ ادب پبلی کیشنز کراچی کے شاعر علی شاعر نے ظفر اکیڈمی ۵۔کتاب مارکیٹ اردو بازار کراچی سے طبع کیا ہے۔ کتاب کا پیش لفظ، محمد ایوب صابر سیال کوٹ،منزہ سہام مدیرہ دوشیزہ ڈائجسٹ اور ناصررضا سابق مدیر سچی کہانیاں ڈائجسٹ کراچی کی تعارفی سطور و اعتراف فن کے بعد انتالیس ۳۹ کہانیوں میں کراچی شہر میں وقوع پذیر لرزہ خیز واقعات کو سچائی اور اچھائی کے ساتھ بیان کرکے ارم زہرا نے خود کو معتبر لکھنے والوں کی صف میں شامل کروالیا ہے۔گذشتہ دنوں ہمارے غریب خانے پراپنے والد کے ہمراہ  تشریف لائیں ۔

نصیر احمد ناصر کا کلام

نصیر احمد ناصر
فاصلوں کے حصار میں رہنا 
عمر بھر رہگزار میں رہنا
یا دلوں میں گمان کی صورت 
یا کسی اعتبار میں رہنا
چاروں جانب ہوا کے پہرے ہیں 
اے پرندو! قطار میں رہنا
میں کسی روز لوٹ آؤں گا 
تم مِرے انتظار میں رہنا
دن گھنے پیپلوں کی چھاؤں میں 
شام جلتے چنار میں رہنا
پی کے ہر شام زہر خوابوں کا 
رت جگوں کے خمار میں رہنا
پھیل جانا دلوں کی نگری میں 
ایک ہو کر ہزار میں رہنا
اس میں وارا ہو یا خسارہ ہو 
عشق کے کاروبار میں رہنا
اپنی گنتی، حساب خود رکھنا 
آپ اپنے شمار میں رہنا
دکھ کے قصے طویل ہیں ناصر
بات کے اختصار میں رہنا

غزل ۔۔ الیاس بابر اعوان

الیاس بابر اعوان
آنکھ کھلے گی بات ادھوری رہ جائے گی
ورنہ آج مری مزدوری رہ جائے گی
جی بھر جائے گا بس اُس کو تکتے تکتے
کچی لسی میٹھی چُوری رہ جائے گی
اُس سے ملنے مجھ کو پھر سے جانا ہوگا
دیکھنا پھر سے بات ضروری رہ جائے گی
تھوڑی دیر میں خواب پرندہ بن جائے گا
میرے ہاتھوں پر کستوری رہ جائے گی
تم تصویر کے ساتھ مکمل ہو جاؤ گے
لیکن میری عمر ادھوری رہ جائے گی

منگل، 13 مئی، 2014

ارشد شاہین کی غزل

ارشد شاھین
سوئے افلاک اٹھا کر جو پلک دیکھتے ہیں
کتنی حیرت سے ہمیں حور و مَلَک دیکھتے ہیں
وسعتِ چشم عطا کی ہے وہ مالک نے ہمیں
ہم بہت دور ، بہت دور تلک دیکھتے ہیں
حسن ہے حسن تو پھر ایک نظارہ کافی
دیکھنے والے فقط ایک جھلک دیکھتے ہیں
صحبتِ عہدِ گزشتہ ہمیں یاد آتی ہے
چاند تاروں سے مزیّن جو فلک دیکھتے ہیں
رنگ کیا ہے پسِ مژگاں ، ہمیں معلوم تو ہو
اپنی آنکھوں سےکسی روز چھلک دیکھتے ہیں

غزل ۔۔ رحمان فارس


عشق سچا ہےتو کیوں ڈرتے جھجکتے جاویں
آگ میں بھی وہ بُلائے تو لپکتے جاویں 
کیا ہی اچھاہو کہ گِریہ بھی چلے ، سجدہ بھی
میرے آنسو ترے پیروں پہ ٹپکتے جاویں 
تُو تو نعمت ہے سو شُکرانہ یہی ہےتیرا
پلکیں جھپکائے بنا ہم تجھے تکتے جاویں
دم ہی لینے نہیں دیتے ہیں خدوخال ترے
دم بہ دم اور ذرا اور دمکتے جاویں ۔۔۔
توڑنے والے کسی ہاتھ کی اُمید پہ ہم
کب تلک شاخِ غمِ ہجر پہ پکتے جاویں ؟
شیرخواروں کے سے بےبس ہیں ترے عشق میں ہم
بول تو سکتے نہیں ، روتے بلکتے جاویں 
اب تو ٹھہرا ہےیہی کام ہمارا شب و روز
دُور سے دیکھیں تجھے اور بہکتے جاویں 
عشق زادوں سے گذارش ہےکہ جاری رہے عشق
بَکنے والوں کو تو بَکنا ھے ، سو بَکتے جاویں 
اُس کے رُخسار بھی شعلوں کی طرح ہیں ، یعنی
دہک اُٹھیں تو بہت دیر دہکتے جاویں 
فارس اک روز اِسی عطر سے مہکے گا وہ شخص
آپ چُپ چاپ فقط جان چھڑکتے جاویں 

ہفتہ، 10 مئی، 2014

آئینوں کا سمندر ۔۔ پروفیسر قیوم صبا

یوں تو آدمی کئی بارپیدا ہوتا ہے اور کئی بار مرتا ہے لیکن آدمی کی ہر ولادت اور مرگ حافظے کے اوراق پر لکھی نظر نہیں آتی۔وہ دن وہ صبح یا شام دو چار بار کی بات ہی ہوتی ہے۔جب آدمی اپنی نئی ولادت کے عمل کوپورے انسانی معنوں میں روشن ہوتے دیکھتا ہے اور یہ دید یاد کی کتاب میں کسی مقدس ور
ق پر ہمیشہ چمکتی نظرآتی ہے۔ 1957کی مٹیالی شام میں نے اپنی پہلی تخلیق، حیاتیاتی اور دنیوی نہیں روحانی اورمعنوی تخلیق ایک درد بھری پر یقین اور پر اسرار روشنی میں ہوتے دیکھی۔

میری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول ۔۔ حنیف عابد کی مجید امجد کی برسی کے حوالے سے تحریر


اپنی ذات کے بے حس لوگ

ایک جعلی پیر کے شر نے معصوم بچی کے پاؤں جھلسا دیے۔ میڈیا تک یہ خبر پہنچی تو میڈیا چیخ اُٹھا۔ جس نے خبر پڑھی، اسی نے جعلی پیر کی زبانی کلامی مذمت کر کے اپنا فرض ادا کر دیا۔ یہ کسی نے نہیں سوچا کہ جعلی پیر کون ہوتا ہے؟ وہی، جو پیر نہیں ہوتا مگر پیر بن کر انسانوں کو ڈس لیتا ہے۔اصلی پیر کون ہے؟ اس کا جواب ہر شخص کے پاس موجود ہے۔ وہ جس کو مان رہا ہے، اسی کو اصلی پیر قرار دے رہاہے۔
اتفاق سے بہ حیثیت مسلمان ہم نے آج تک ایسا کوئی پیمانہ ہی مقرر نہیں کیا جس پر کسی بھی شخص کو پرکھ کر پیر یا غیر پیر ہونے کی سند جاری کر سکیں۔ 
پیمانے تو ہم نے کسی بھی شعبہ ہائے زندگی کے مقرر نہیں کیے۔ مسلمانی کیا ہے، کفر کیا ہے، یہ ہمیں معلوم نہیں مگر کون کافر ہے اور کون مسلمان، یہ ادراک دن بہ دن ہماری گنتی کم کرتا جاتا ہے۔ 

بھٹکتی ہوئی انگلیاں ۔۔ شہزاد نیر کی تازہ کتاب ’گرہ کھلنے تک‘ سے ایک نظم


.....تو موڑ کاٹتے ہوئے ندی میں.....
حادثے کے زخمیوں .....
دکان میں رکھا گیا تھا....پھٹ گیا....
ہلاکتوں میں....خون کی اپیل ہے
 نمک حسبِ ضرورت ہو
پکائیں..... چھ منٹ کے بعد
موتی چھوٹے چھوٹے ہیں
کڑھائی میں.....نیا فیشن۔۔۔۔
نئے البم میں گیتوں کو..... نئے انداز میں
یہ سب معاشرتی برائیاں ہیں
دعا ہے دین کو سمجھیں۔۔۔
جہازوں نے مسلسل آٹھ گھنٹوں تک۔
۔گھروں میں آگ لگنے سے....
...کئی بچوں کو اغوا کر لیا..۔
۔گردے چرانے میں مسیحا بھی....۔....
۔ملوث لوگ...۔.....
 ۔اک لیموں کے رس.....۔چہرے کو دھو لیں....
چار گھنٹے ہی میں بس رنگت نکھر آئے
ہڑپا کے۔....۔بڑی ترتیب سے گلیاں
مکانوں کو۔.....الگ گودام
لمبی سانس لیں۔۔...۔گردن
کمر کی سیدھ میں لائیں۔
۔۔بڑا ریلا۔۔......
مکاں خالی کرائے جا۔۔۔۔
 وطن کی سیاسی فضا میں۔۔۔۔
۔ وڈیرےکرپشن۔۔۔۔۔۔ تسلسل۔۔۔۔...
۔میں ایکٹنگ کے شعبے میں اک جوش سے
یہ ارادہ۔۔.....۔ خدا کے کرم سے۔۔....۔خریدیں۔....۔۔
زیادہ منٹ بات۔۔۔۔بہتر کنکشن کہاں۔۔
بال سلکی.....۔ چمکتے ہوئے دانت .....گورا کرے۔۔
۔اتنی آسان قسطیں کہاں۔۔۔....
 عکس و آواز کا ایک جنگل ہے
جس میں مسلسل بھٹکتی رہیں
چار بٹنوں پہ دو انگلیاں
آنکھ ٹکتی نہیں
دل ٹھہرتا نہیں
وقت رکتا نہیں


منگل، 6 مئی، 2014

خواب ۔۔ ادریس آزاد

ادریس آزاد

جب شبِ غم میں بکھر جاتا ہے شیرازہ ء دِل
آنکھ میں چپکے سے کھُل جاتا ہے دروازہ ء دِل
ظرف اُمّید کی کرنوں سے چھلک جاتا ہے
راستہ لوٹ کے آتے ہی بھٹک جاتا ہے
گوشہء دِل سے ترا خواب اُمڈ پڑتا ہے
ایک سویا ہوا سیلاب اُمڈ پڑتا ہے
دیکھتا ہوں میں تجھے ٹوٹا ہوا ، پھوٹا ہوا
بال بکھرے ہوئے، سرمایہ ء تن لوٹا ہوا
تیرے چہرے پہ فسوں کاریء ایّامِ عدم
تیری آنکھوں میں بسی وحشتِ صحرائے ستم
تیری پوشاک کہ اوراقِ مقدس کا غلاف
جیسے درویش کے تن پر کوئی بوسیدہ لحاف
جس کی آہوں سے مہکتے ہیں خزاؤں میں گلاب
جس کے مضراب سے بج اُٹھتے ہیں جھرنوں میں رباب
جس کی سسکی سے لرزتا ہے شبستانِ وجود
طلبِ دشتِ جگر لذّتِ بارانِ وجود
جس کی جنبش ہے اترتے ہوئے سورج کا غروب
جو یہ کہتی ہے ذرا دیر کو رُک آج نہ ڈوب
نیند چُپ چاپ نگاہوں سے نکل جاتی ہے
پھر سےاِک ہارےہوئے خواب میں ڈھل جاتی ہے
میں ترے پاس کھڑا ہوں کسی ویرانے میں
ترے احوال پہ قربان سا، بے جان سا میں
حدتِ فکر میں جھلسی ہوئی پوشاکِ سخن
اور گردن میں ترا طوقِ جنوں پہنے ہوئے
دیکھتا ہوں میں تجھے وقت کے آئینے میں
تو کھڑی ہے مری محبوب بہت دور کہیں
اِس قدر دور کہ جوں شامِ اماوس کا شفق
اِس قدر دور کہ جوں شام کا دشتِ لق و دق
خواب میں خواب ہے اور خواب میں پھر خواب ہے اِک
وقت کی گود میں بہتا ہوا سیلاب ہے اِک
آنکھ کھلتی ہے تو اِک منظر ِ گرداب ہے پھر
اصل دُنیا ہے کہ چلتا ہوا اِک خواب ہے پھر؟
لگنے لگتا ہے کہ دِل نور کا دروازہ ہے
اور شبِ وصل کی لذت سے تروتازہ ہے

سوموار، 5 مئی، 2014

غزل ۔۔ علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
آنکھ سے آنکھ جو ملا دوں گا
نشہء خواب میں بڑھا دوں گا
رات کی رات تُو ملا تو کر
میں تجھے چاندنی بنا دوں گا
جب بھی تنویر_ آفتاب ملی
میں اُسے رات کا پتہ دوں گا
اک سحرتاب جب بھی یاد آئی
میں اُسے شام میں گنوا دوں گا
کھول کر روزن_ شباب کبھی
اپنے بچپن کو میں صدا دوں گا
درد_ دل خواب کا پڑوسی ہے
سوتے دم میں اسے جگادوں گا
حادثہ رفتگاں کے ساتھ گیا
سانحہ ایک دن بھلا دوں گا
کھینچ کر دیکھ انتظار کبھی
تجھ کو حیرانیاں سوا دوں گا
ایک جگنو شعار بن تو سہی
ہر طرف تیرگی بچھا دوں گا
ظلمت_ دہر کا گلہ مت کر
تجھ سے مل کر اسے مٹا دوں گا
سوزش_ جان ہے یہ تنہائی
میں اسے ہجر لا دوا دوں گا

اتوار، 4 مئی، 2014

غزل ۔۔ اعتبار ساجد

اعتبار ساجد
  رویے اور فقرے اُن کے پہلو دار ہوتے ہیں مگر میں کیا کروں یہ میرے رشتہ دار ہوتے ہیں مرے غم پر اُنہیں کاموں سے فُرصت ہی نہیں ملتی مری خوشیوں میں یہ دیگوں کے چوکیدار ہوتے ہیں دلوں میں فرق پڑ جائے تو اس بے درد ساعت میں دلیلیں، منطقیں اور فلسفے بے کار ہوتے ہیں جنہیں صبر و رضا کی ہر گھڑی تلقین ہوتی ہے وہی مظلوم ہر تکلیف سے دو چار ہوتے ہیں بہت قابو ہے اپنے دل پہ لیکن کیا کیا جائے جب آنکھیں خوبصورت ہوں تو ہم لاچار ہوتے ہیں غزل کے شعر خاصا وقت لیتے ہیں سنورنے میں یہ نخرے باز بچے دیر سے تیار ہوتے ہیں اُدھر کا رخ نہیں کرتا کوئی آسودہ دل ساجد جہاں بیٹھے ہوئے ہم نوحہ گر دو چار ہوتے ہیں

اعتراف ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

ڈاکٹر نگہت نسیم
اے میرے معبود 
یہ سچ ہے 
ارض و سماں 
ہر وقت 
تیرے در پر
سربجود رہتے ہیں
یہ بھی سچ ہے ۔۔۔ کہ 
ہر روز
میرا سایہ 
دائیں طرف سے نکلتا ہے 
اور 
بائیں طرف ختم ہو جاتا ہے 
اے میرے معبود
میں بہت رنجیدہ ہوں
تجھ سے شرمندہ ہوں
میرا سایہ
تو 
ہر روز
تیرے در پر 
سراپا سپاس
سربسجود رہتا ہے 
پر
میرا وجود 
خواہشوں کی چوکھٹ پر 
نا سپاس 
پڑا رہتا ہے ۔۔۔

نظم ،،، انحراف،، ۔۔۔ علی زیرک

علی زیرک

اور پھر یوں ہوا
پیش و پَس میں 
مری رائگانی کے باطن سے پھوٹے ہوئے نیلمیں واہمے
خالی پن کھا گئے
اور میں لاسمت کے دائرے میں دھڑکنے لگا
یہ جو اب گرد ہے پہلے آواز تھی 
جو مرے حلق میں اپنی تجسیم ِ نو پر خجالت اُٹھاتی ہوئی 
پھیلتی جارہی تھی
لہو میں سرکتی ہوئی خستگی، دم بہ دم زردآثار آنکھوں کو بہکارہی تھی
بدن ان دنوں سست و کم کوش تھا
ذہن مدہوش تھا
سات رنگوں کو میں نے اکائی کیا
اور ایندھن میں ڈھلتی تمناوءں کو قطرہ قطرہ جیا
تلملاتے ہوئے خوابچے
جن کی تشکیل پر زرد آثار آنکھوں نے گریہ کیا تھا 
چٹختی ہوئی ہڈیوں کے برادے میں گُم ہوگئے
اور میں 'بھیتر' کو بھرپور کرتا ہوا
اپنے' باہر' کے ہیجان سے 
منحرف ہوگیا

غزل ۔۔ نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر
بادل ہیں کہیں اور نہ اشجار نمایاں
منظر میں پرندوں کی ہے اک ڈار نمایاں
اس خوابِ تمنا سے گزر جانا ہی اچّھا
پھرتی ہے یہاں وحشتِ بیدار نمایاں
ہم اہلِ محبت ہیں فقط پیار کریں گے
تیروں کی نمائش ہو کہ تلوار نمایاں
ہر لمحہ کسی طالبِ خود کش کی طرح ہے
ہر لمحہ کسی مرگ کے آثار نمایاں
ٹک دیکھتے رہتے ہیں در و بام، دریچے
تقسیم میں ہو جاتی ہے دیوار نمایاں
اس بار علامت ہے نہ ہے متن میں ابہام
اس بار کہانی کے ہیں کردار نمایاں
ان کو بھی کسی کارِ محبت پہ لگا دو
کچھ لوگ یہاں پھرتے ہیں بیکار نمایاں

ہفتہ، 3 مئی، 2014

اعجاز گل کی کتاب ،، گمان آباد ،، سے ایک غزل

اعجاز گل
محور نے آفتاب کے رکھا مدار میں 
گردش رہی زمین کی لیل و نہار میں 
پہلے تو مجھ سے چھین لیا آئنے نے عکس
اب خود سے شرمسار ہے اَٹ کر غبار میں 
لاحاصلی کی بھیڑ میں کیا تذکرہ یہاں 
تُو ہے سرِ قطار یا پیچھے قطار میں 
ٓٓایسا گرا نشیب میں وقتِ زوال جسم
مسکن مرے غرور کا تھا کوہ سار میں 
لمحہ بہ لمحہ ٹوٹ رہا ہے یہ خاک داں 
معدوم ہو رہا ہوں میں اپنے غبار میں 
کترا کے اس طرف سے گزرتی رہی بہار
جو انتظار میں تھے، رہے انتظار میں 
خالی ہے اعتبار سے ہر ظرفِ اعتبار
بے اعتباریاں ہیں بہت اعتبار میں 
اس کو نہ دستیاب تھا وقفہ سکوت کا
میں تو خلل پذیر تھا آوازِ یار میں 

جمعہ، 2 مئی، 2014

غزل ۔۔ حمیدہ شاھین

گَڑے ہو ؤ ں نے تِرے بال و پَر سَہے ہوئے ہیں 
کہ تیرے دَم سے گلِستاں میں چہچہے ہوئے ہیں
ہماری گونج ہمیں شک میں ڈال دیتی ہے 
کہ اس جہان سے باہر بھی ہم کہے ہوئے ہیں 
حقیر ایسی نہ جانو یہ خانقاہِ بدن
قطب ، ولی و پیمبر یہاں رہے ہوئے ہیں 
کس اہلِ دل سے سند لوں کلامِ تازہ تِری
سخن ہوا ہے کہ بس غم کے قہقہے ہوئے ہیں 
بجا، کہ تُو نے بنایا تھا اپنی چاپ ہمیں 
گَہے نہ ہو سکے آوازِ پا ، گہے ہوئے ہیں 
تِری نگاہ کی لہریں نئی نہیں ہیں پسر!
کہ اس بہاؤ میں ہم بھی بہت بہے ہوئے ہیں

علی رضا خاں کے نعتیہ مجموعہِ کلام ،،ثنائے سرور،، کی تقریبِ پزیرائی6 مئی کو الحمرا ہال نمبر تین میں ہو گی

پی ٹی وی کے پروڈیوسر علی رضا خاں کے نعتیہ مجموعہِ کلام ،، ثنائے سرور،، کی تقریبِ پذیرائی6 مئی کو4 بجے دن الحمرا ہال نمبر تین میں منعقد ہو رہی ہے صدارت ڈاکٹر خورشید رضوی کریں گے

ایک عام سی ڈیٹ ۔۔ نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر

تمہارے لیے میں وہ سب کچھ کروں گا
جو دنیا میں اپنے لیے بھی نہیں کوئی کرتا
مگر میں کروں گا تمہارے لیے
پارک کے سارے پھولوں کو دیکھوں گا
توڑے بنا ان کی تعریف کرتا رہوں گا
گھنے بادلوں کو بھلا کون سر پر اٹھاتا ہے اتنی لگن سے
مگر میں اٹھائے پھروں گا
ذرا بھی نہ اکتاؤں گا بارشوں سے
سمندر کو بھرتا رہوں گا
میں آنکھوں کے نمکین پانی سے
ساحل پہ لہروں کی توشک بچھا کر
جزیروں کی جانب ہوائیں روانہ کروں گا
انہیں تھوڑا نزدیک آکر پسرنے کا پیغام بھیجوں گا
اونچے پہاڑوں کو ہموار رستوں کے دونوں طرف لا کے رکھ دوں گا
پیڑوں کو اترائیوں پر عمودی لگاؤں گا
دریا کو ایسے گزاروں گا پل کے تلے سے
کہ پانی کو اپنی روانی پہ خود پیار آئے گا،
پل کے ستونوں سے ٹکرانا اچھا لگے گا
کسی سرمدی خواب کی بارگہ میں
اگر باریابی ہوئی تو
تمہارے لیے میں مناظر سبھی مانگ لوں گا
طلسمی جہانوں کو کھوجوں گا
گزرے زمانوں سے گزروں گا
آگے کا سوچوں گا
سب کچھ کروں گا
کسی سے نہ ہر گز ڈروں گا
تمہارے لیے میں جیوں گا
تمہارے لیے ہی مروں گا
کسی اچھے ہوٹل میں کھانا بھی کھائیں گے
گپیں لگائیں گے
گھو میں پھریں گے
وہ سب کچھ کریں گے جو ایسی ملاقات پر لوگ کرتے ہیں
فی الحال لیکن
بڑی بھوک سی لگ رہی ہے
چلو سامنے کی دکاں سے " شاورما " ہی کھائیں