ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

بدھ، 30 اپریل، 2014

غزل ۔۔ لیاقت علی عاصم

لیاقت علی عاصم
پھر وہی بے دلی، پھر وہی معذرت
بس بہت ہو چکا، زندگی! معذرت
خود کلامی سے بھی روٹھ جاتی ہے تو
اب نہ بولوں گا اے خامشی، معذرت
داد بے داد میں جی نہیں لگ رہا
دوستو! شکریہ، شاعری! معذرت
اب یہ آنسو دوبارہ نہیں آئیں گے
اب نہ ہوگی مری واپسی، معذرت
بے خودی میں خدائی کا دعوی کیا
اے خدا درگزر، اے خودی، معذرت
تجھ سے گزری ہوئی زندگی مانگ لی
ربِّ امروز و فردا و دی ،معذرت
دھوپ ڈھل بھی چکی، سائے اٹھ بھی چکے
اب مرے یار کس بات کی معذرت
اک نظر اس نے دیکھا ہے عاصم، چلو
دور ہی سے سہی، ہو چکی معذرت

سوموار، 28 اپریل، 2014

غزل ۔۔ حامد یزدانی

قفس میں اہتمام بال و پر اس نے نہیں رکھا 
کسی امکان کو پیش نظر اس نے نہیں رکھا 
جسے کہتے ہیں منزل وہ تو اک زخم مسافت ھے 
مجھے اس دشت میں گرم سفر اس نے نہیں رکھا
تو پھر کیوں میری دھڑکن کے شرارے بجھتے جاتے ہیں 
اگر یہ پاؤں میری سانس پر اس نے نہیں رکھا
میں سمجھوں گا رم سیارگاں بھی اتفاقی ھے 
بھرم میری دعاؤں کا اگر اس نے نہیں رکھا
میں بنتا جا رہا ہوں آئنوں پر رتجگے حامد 
مری پوروں میں خوابوں کا ہنر اس نے نہیں رکھا

سوموار، 21 اپریل، 2014

ضیا حسین ضیا کی تازہ غزل

ضیا حسین ضیا
نقش جاگے ، نہ کسی بھید کا سامان ہوا
رنگ سے اور بھی تصویر کا نقصان ہوا 
آج تاریخ نہیں ۔۔کوچہِ تخریب میں چل
کون بوسِیدہ زَمانوں کا قلم ران ہوا
کس کو دستار سے سولی کا سفر یاد نہیں
کون اس شہر ِ ملامت کا ثنا خوان ہوا
اب تو تعبیر بھی ملتی ہے تو چونک اٹھتا ہے
ایک ہی خواب جو مدت سے پریشان ہوا
اَب تو ہنسنےسے بھی موسم کا پَتا مِلتا نہیں
رَنج کی فصل کا اَب کون نگِہبان ہوا 
اَب لکیروں کا تماشا ہےگزرگاہ ِ صراط
کیا ہتھیلی پہ مِری حشر کا اِعلان ہوا
میرا تحریر سے اُٹھنے کا اِرادہ ہی نہیں
کون ہےوقت سے پہلے جو قلمدان ہوا 
خواب میں خواب کے اِحسان اٹھائے میَں نے
رَفتہ رَفتہ ہی تِرے ہجر میں آسان ہوا 
مَیں سر ِ بزم ضیاء خلوت ِ جاں پاتا ہوں 
راستہ کھونے پہ آیا ہےتو ، پہچان ہوا

سوموار، 14 اپریل، 2014

تقریبِ رونمائی:واصف ایک پختہ کار شاعر ہے اور اسے مصرع سازی اور شعر کا فن آتا ہے

 جواں سال شاعر عبدالرحمان واصف کی کتاب   ،، بجھی ہوئی شام ،،کی تقریبِ رونمائی و پذیرائی  
کہوٹہ کی مقامی لائبریری میں منعقد کی گئی۔ تقریب کا اہتمام  مقامی ادبی تنظیم “کہوٹہ لٹریری سوسائٹی نے کیا تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی  ڈاکٹر محمد عارف قریشی تھے ، محفل کے صدر نشین معروف شاعر جاوید احمد تھے جبکہ اعزازی مہمانان میں اسلام آباد سے تشریف لائی ہوئی ادیبہ، شاعرہ ، افسانہ نگار اور پروڈیوسر محترمہ فرحین چوہدری، معروف شاعر اور سنگر شیراز اختر مغل، محترم علی راز،