ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

ہفتہ، 22 فروری، 2014

ثروت زہرہ وقت کی قید میں


حقیقی شعورِ ذات، شعورِ شخصیت سے بالکل مختلف چیز ہے لیکن ہم شعورِ شخصیت کو ہی شعورِ ذات سمجھنے لگتے ہیں،ہم اپنی بات اور اپنی ذات کے بارے میں اپنے خیال کے درمیان تمیز نہیں کر سکتے،ہمارے لئے وہ ایک چیز بن جاتے ہیں۔اور یہ دھوکا ساری عمر قائم رہتا ہے۔ڈی ایچ لارنس نے کہیں لکھا ہے کہ ہم سب اپنی ذات کے بارے میں اپنے خیال کے زندان میں رہتے ہیں لیکن یہ احساس بہت کم لوگوں کو ہوتا ہے کہ وہ قید میں ہیں وہ اس زندان کو اپنا گھر سمجھ لیتے ہیں اور اس سے نکلنے کی بجائے اس کے درودیوار کو سجانے لگتے ہیں اور اس سے اس طرح مطمئن اور مسرور ہو جاتے ہیں جس طرح

لمز یونیورسٹی میں مجید امجد سیمینار


گورمانی مرکز علم و ادب لمز (لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز) میں یاسمین حمید نے مجید امجد سیمینار کا اہتمام کیا ، پہلی نشست مقالات پر مشتمل تھی اور دوسری نشست میں سات نظم نگاروں نے اپنی نظمیں سنائیں ۔ 
(دائیں سے) حارث خلیق،وحید احمد،حمیدہ شاہین،ابرار احمد،سرمد صہبائی ،نسرین انجم بھٹی،یاسمین حمید