ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعہ، 6 دسمبر، 2013

دو طرفہ سیکیورٹی معاہدہ۔ ضرورت کس کی؟

پاکستان کے امن سے جڑے محرکات میں ہمارے پڑوسی افغانستان کا نمبر سر فہرست ہے۔افغانستان کی بات کریں تو 80 کی دہائی کی روس افغان جنگ، 90 کی دہائی میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ نجیب اللہ حکومت کا خاتمہ،گلبدین حکمت یار کا پشاور اکارڈ سے انکار، افغان خانہ جنگی،شمالی اتحاد کے خلاف گلبدین حکمت یار کی ناکامی، طالبان کا زور پکڑنا، کابل پر قبضہ اور اسلامی امارات 


افغانستان کا قیام،9/11 کے بعد امریکہ کی افغانستان پر چڑھائی، طالبان کی 
حکومت کا خاتمہ، شمالی اتحاد کے بینر تلے حامد کرزئی حکومت کا قیام اور 
جمہوری سیاسی عمل کاآغاز جیسے تاریخی واقعات نے پاکستان کے معاملات خصوصاٌ امن، افغانستان سے جڑی 
، سرحدی در اندازی، دہشت گردی اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ افغانستان جو افغان روس عسکری وخارجہ پالیسی
جنگ کے بعد ایک جمہوری ملک کے طور پر اپنی شناخت قائم کر سکتا تھا بیرونی قوتوں کی دخل اندازی اور سٹریٹجک ڈیپتھ جیسے ایجنڈوں کی تکمیل کی خاطر اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت خانہ جنگی کا شکار منقسم، لاغر اور دہشت گردوں کی آماجگاہ بن کر ابھرا جس کے اثرات اب پاکستان بھی پچھلے کئی برسوں سے بھگت رہا ہے!
 2001 ء میں حامد کرزئی کے صدر بننے کے بعد سے لے کر اب تک افغانستان کے معاشی، معاشرتی،خارجی، عسکری و سیاسی حالات میں بتدریج تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔اپنے قریباٌ 12 سالہ دورِ اقتدار میں حامد کرزئی افغانستان کی پر اثر ترین سیاسی شخصیت بن کر ابھرے ہیں جو افغانستان کو ترقی کی راہ پر گامزن جمہوری قوم کے طور پر دنیا میں متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں افغانستان کی معیشت جو کہ محض پوست کی کاشت اور سمگلنگ پر منحصر تھی اب کسی حد تک آگے بڑھ کر صنعت کاری، تعمیر، سروسز، ٹرانسپورٹ اور ملکی قدرتی وسائل سے جڑتی جا رہی ہے حالانکہ اس وقت بھی یہ معیشت بیرونی سرمایہ کاری، امداد اور ڈالروں کی مرہونِ منت ہے مگر پھر بھی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے باعث درست راہ پر گامزن ہے اور اپنی عوام بمع غیر ملکیوں خصوصاٌ پاکستانیوں کو مختلف شعبوں میں روز گار مہیا کر رہی ہے۔
2001 ء سے جاری افغانستان میں امریکی جنگ اپنے اختتام پر ہے اور امریکہ 2014 ء میں افغانستان سے انخلاء کرنے جا رہا ہے۔ اسی انخلاء سے جڑا امریکہ اور افغانستان کا دو طرفہ سیکیورٹی معاہدہ افغانستان کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل اور اس کی معیشت، استحکام اور سیکیورٹی کے بہتر مستقبل کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یقینا حامد کرزئی جیسا زیرک و جہاں دیدہ سیاست دان اس معاہدے کی اہمیت سے بخوبی واقف ہے تو بظاہر اس معاہدے پر طالبان کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود لویا جرگہ کی مکمل حمایت اور اس معاہدے کو فوراٌ سے بیشتر مہر ثبت کرنے کی سفارش کے باوجود حامد کرزئی کی جانب سے معاہدہ پر دستخط کرنے کے معاملے کو طول دینا اور اسے اپریل 2014 کے صدارتی انتخابات تک موخر کرنے کی بات نے امریکہ سمیت شمالی اتحاد کے دیگر کرتا دھرتاؤں کو کافی حیرانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس معاہدے کو موجودہ شکل تک پہنچنے میں قریباٌ ایک سال کا عرصہ لگا ہے اور لویا جرگہ کے منظوری کے بعدحامد کرزئی کی طرف سے اس معاہدے کو لے کر اپنی شرائط میں مزید اضافہ کر دینا ایسا تاثر دیتا ہے کہ کرزئی صاحب ریٹ بڑھانے کے چکر میں ہیں! یوں محسوس ہوتا ہے کہ کرزئی صاحب اس معاملے کو جتنا طول دے سکتے ہیں وہ دیں گے اور یہ دیکھیں گے امریکہ سے مزید کیا کیا شرائط منوائی جا سکتی ہیں۔کرزئی صاحب نے پہلے لویا جرگہ کو ڈھال بنا کر معاہدے میں اپنی منشاء کے مطابق شقیں شامل کروانے کی سعی کرتے رہے اور اب صدارتی انتخابات کا بہانہ بنا کر امریکہ سے مزید مطالبات منوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔جس نقطہ پر ان کو امریکہ کی برداشت کی حد سجھائی دینے لگے گی وہاں یہ معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ کرزئی صاحب یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ سے زیادہ خود افغانستان کو اس معاہدے اور امریکہ کی حد درجہ ضرورت ہے۔اس کی ایک چھوٹی سی جھلک امریکہ نے دو ہی دن پہلے ان کو نیٹو سپلائی ایک دن کے لئے روک کر دکھلائی ہے جس پر کرزئی صاحب کی چیخیں آسمان تک بلند ہوئیں!! ایک دوسرا نظریہ جو ان کو یہ کھیل کھیلنے پر اکسا رہا ہے وہ یہ ہے کہ افغانستان کی صدارت کی کرسی چھوڑنے سے پہلے یہ اپنے لئے ایک ایسی شخصیت کا تاثر چھوڑنا چاہتے ہیں جو امریکہ جیسی قوت کے سامنے ڈٹنے اور اپنے مطالبات منوانے کی بھرپور ہمت رکھتا تھا۔اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس مسئلے کو طول دینے سے اندرونی طور پر سیاست دانوں،حکومتی اہلکاروں،فیصلہ سازوں، سیکیورٹی فورسز، تاجر برادری، معاشی ماہرین اور عوام کا پریشر اتنا بڑھ جائے گا کہ اس معاہدے کو قومی قبولیت اور اتفاق کا شرف حاصل ہو جائے گا۔امریکہ کے لئے اس معاہدے میں دلچسپی اس حد تک ہے کہ القائدہ کے خلاف 12سال کی طویل جنگ لڑنے اور اربوں ڈالر جھونکنے کے بعد وہ نہیں چاہیں گے کہ افغانستان سے یک مشت مکمل انخلاء کر کے افغانستان کو القائدہ اور طالبان کے آسرے چھوڑ دیا جائے اور یہ قوتیں پھر سے سر اٹھا لیں تا وقتکہ افغان سیکیورٹی فورسز اس قابل ہو جائیں کہ اپنا دفاع خود کر سکیں!!!
بات سیدھی سی ہے! افغان حکومت اور افغان آرمی اس وقت اتنی پیشہ ور اور مضبوط نہیں اور نہ ہی ان کا انٹیلیجنس کا دائرہ کار اتنا مربوط و وسیع ہے کہ تن تنہا طالبان اور القائدہ کا مقابلہ کر سکے۔افغان شمالی اتحاد حکومت 2001 سے صرف اس لئے اپنے پنجے گاڑھے رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے کہ امریکہ اور نیٹو افواج نے طالبان اور القائدہ کو عسکری اور لیڈر شپ کی سطح پر کاری ضربیں لگا کر دن بدن کمزور کر تے رہے اور یہ جماعتیں مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئیں۔ امریکہ کے زیرو آپشن پر عملدرآمد کی صورت میں افغانستان نہ صرف عسکری طور پر تنہا ہو جائے گا بلکہ جو معاشی جھٹکا اس کو سہنا پڑے گا وہ اس کے لئے ناقابلِ برداشت ثابت ہو گا۔ افغان معیشت بیٹھ جائے گی اور ملک ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا۔ فی الوقت افغانستان امریکہ سے 8 ارب ڈالر کی سالانہ امداد بھی وصول کر رہا ہے۔ عراق کی حالیہ مثال سب کے سامنے ہے جہاں اسی طرح کا سیکیورٹی معاہدہ امریکہ اور عراق کے درمیان طے نہیں پا سکا تھا اور امریکہ کے زیرو آپشن پر جانے کے بعد آج عراق بد ترین خانہ جنگی اور فرقہ واریت کا سامنا کر رہا ہے۔ افغانستان بھی عراق سے زیادہ الگ ثابت نہیں ہو گا کیونکہ یہاں ازبک، تاجک، پشتون، شعیہ، سنی، وہابی سبھی موجود ہیں، سونے پہ سہاگا کہ القائدہ جیسی بین الاقوامی دہشت گرد جماعتیں بھی سرگرم عمل ہیں۔
دوسری طرف پاکستان کے لئے بھی مستحکم افغانستان، ایک مضبوط جمہوری حکومت، قابل و طاقتور افغان آرمی ناگزیر ہیں اور ان اہداف کے حصول تک افغانستان میں امریکہ کی موجودگی پاکستان کے لئے اشد ضروری ہے۔ پاکستان اور افغانستان قریباٌ 2,600 کلو میٹر طویل کھلی سرحد کی شراکت داری کرتے ہیں اور غیر مستحکم افغانستان کا مطلب ہے کہ مغربی اطراف میں پاکستانی سرحدیں طالبان اور القائدہ کے رحم و کرم پر ہوں گی اوربے خوف و خطر اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے شر انگیزی کرتی پھریں گی! یہ وہ صورت ہے جہاں پاکستان کی افواج کو اپنی زیادہ توجہ اور وسائل مشرقی سرحد سے ہٹا کر مغربی جانب لگانا پڑیں گے۔ بے شک پاکستان طالبان اور القائدہ کو پاکستان اور افغانستان کے علاقہ جات ملا کر ریاست کے اندر ریاست تشکیل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا!!! اس ضمن میں نواز شریف صاحب کا ایک روزہ دورہ افغانستان یقینا انتہائی اہم تھا اور بلاشبہ میاں صاحب نے کرزئی صاحب کو دو طرفہ سیکیورٹی معاہدے کو دستخظ کرنے اور پاکستان و افغانستان کے معاشی و سیکیورٹی مستقبل کے حوالے سے مفید مشورے دیے ہوں گے۔یہ دو طرفہ سیکیورٹی معاہدہ افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لئے بھی تاریخی حیثیت رکھتا ہے!!!پاکستان اس معاشی نہج پر نہیں کہ مغربی سرحدوں پر غیر مستحکم ملک کی موجودگی کو برداشت کر سکے اور سیکیورٹی آپریشن کے تمام تر اخراجات خودسے برداشت کر سکے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں