ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعہ، 6 دسمبر، 2013

دو طرفہ سیکیورٹی معاہدہ۔ ضرورت کس کی؟

پاکستان کے امن سے جڑے محرکات میں ہمارے پڑوسی افغانستان کا نمبر سر فہرست ہے۔افغانستان کی بات کریں تو 80 کی دہائی کی روس افغان جنگ، 90 کی دہائی میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ نجیب اللہ حکومت کا خاتمہ،گلبدین حکمت یار کا پشاور اکارڈ سے انکار، افغان خانہ جنگی،شمالی اتحاد کے خلاف گلبدین حکمت یار کی ناکامی، طالبان کا زور پکڑنا، کابل پر قبضہ اور اسلامی امارات 

بدھ، 4 دسمبر، 2013

معروف شاعر محبوب خزاں انتقال کر گئے

کم کہنے، اچھا کہنے اور اپنا کہنے کی ہدایت دینے والے تنہائی پسند ممتاز شاعر محبوب خزاں کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 83 سال تھی۔
محبوب خزاں کااصل نام محمد محبوب صدیقی تھا۔ وہ ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے ضلع بلیہ کے ایک موضع چندا دائر کے ایک معزز 

گھرانے میں یکم جولائی 1930ء کو پیدا ہوئے۔
12 برس کی عمر میں ان کے والد انتقال کر گئے اور ان کی تعلیم و تربیت بڑے بھائی محمد ایوب صدیقی نے کی۔ انھوں نے 1948 میں الہ آباد یونی ورسٹی سے گریجویشن کیا اور پاکستان آگئے، یہاں انھوں نے سول سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کیا۔
پہلی تقرری لاہور میں اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ جنرل کی حیثیت سے ہوئی پھر ڈھاکہ بھیج دیے گئے جہاں ڈپٹی اے جی پی آر کے عہدے پر فائز رہے، بعد ازاں کراچیلوٹے اور پھر تہران کے سفارتی مشن میں متعین کیے گئے۔
تہران میں قیام کے دوران معروف شاعر نون میم راشد سے ان کی خاصی قربت رہی۔ بعد میں وہ کراچی میں اے جی پی آر رہے اور یہیں سے ریٹائر ہوئے۔

معروف شاعرہ نیما ناہید درانی کی والدہ انتقال کر گئیں


معروف شاعرہ نیلما ناہید درانی کی والدہ، 2دسمبر کو ناروے میں انتقال کر گئیں۔میت پاکستان آ گئی ہے۔نمازِ جنازہ جمعرات کو بعد نمازِ عصر 30 رچنا بلاک،علامہ اقبال ٹاون پر ہو گا جبکہ مرحومہ کی تدفین مومن پورہ قبرستان نزد لکشمی چوک ہو گی۔

سوموار، 2 دسمبر، 2013

ایم زیڈ کنول کے اعزاز میں میانوالی میں شاندار تقریب مشاعرہ

معروف شاعرہ ایم زیڈ کنول کے اعزاز میں شاندار تقریب اعتراف اور مشاعرہ دی ایجو کیٹرز سکول زکریا کیمپس میا نو الی کے وسیع و عریض لان میں کیا گیا ۔ تمثیل رائیٹرز فورم اور سہ ماہی۔تمام۔ کا تعاون بھی اس تقریب کے انعقاد میں شا مل رہا ۔ تقریب کی صدارت نامور شاعر جناب خرم خلیق نے کہ جو اسلام آ باد سے خصو صی دعوت پر تشریف لا ئے ۔ تقریب کا با قاعدہ آ غاز عمران حفیظ کی تلا وت کلام پاک سے ہوا۔ ابتدائی کلمات لبنی مہر نے ادا کئے ۔ اس تقریب میں نظامت کے فرائض معروف کالم نگار اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک انوار حسین حقی نے سر انجام دیے ۔ تقریب میں میانوالی اور اس کے گردو نواح سے تشریف لانے والے اہل علم و ادب اوراہل ذوق خواتین و حضرات نے نہایت جوش و خروش سے شرکت فرما ئی ۔ تقریب کے پہلے حصے میں معروف شاعرہ ، مدیرہ، مقررہ، ایم زیڈ کنول کی ادبی خدمات نا قابل فراموش اور اردو کے فروغ میں گران قدر حصہ ہیں ۔ وہ شریف اکیڈمی کے تحت نکلنے والے ادبی مجلے \” سہ ماہی احساس \” کی اڈیٹر ہیں ۔ اور اس کے زریعے دنیا بھر میں پھیلے ہو ئے ادیب اور شا عروں کو ایک لڑی میں پرونے میں کو شاں ہیں۔ ایم زیڈ کنول کو اردو دنیا سے وابستہ کئی اداروں اور تنظیموں نے ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کئی ایوارڈ سے نوازا۔امسال انہیں عالمی علمی ادبی تنظیم شریف اکیڈمی جرمنی کی جانب سے ’’اردو ادب کے گوہرِ انمول ‘‘کے خطاب سےنوازاگیا۔
مشاعرے کا آغاز نواجوان شاعر نور تری خیلوی کے کلام سے ہوا۔ دیگر شعراء میں اکرم زاہد، شفیق ناصر، عمران حفیظ ، ضیا ء اللہ قریشی، میاں ظہیر شاہ، علی عرفان ، زیشان حیدر، جاوید فیروز ، میاں آفتاب احمد، محمد محمود احمد، علی اعظم بخاری، مظہر نیازی ، ڈاکٹر آصف مغل، محترمہ شاہدہ نیازی، 
۔وفیہ بانو، ڈاکٹر لبنی اور ڈاکٹر عالیہ قیصر ، راحیلہ جبیں، مہمان شاعرہ ایم زیڈ کنول اور صدر محفل خرم خلیق نے نے عمدہ کلام سامعین کی نذر کیا ۔

اتوار، 1 دسمبر، 2013

غزل ۔ عطا تراب


جو ہوا یار وہ ہونا تو نہیں چاہیے تھا
خوب کہتے ہو کہ رونا تو نہیں چاہیے تھا
اے خدا ایک خدا لگتی کہے دیتے ہیں
تو ہے جیسا تجھے ہونا تو نہیں چاہیے تھا
کیوں دھڑکتی ہوئی مخلوق سسکتی ہی رہے
بے نیازی کو کھلونا تو نہیں چاہیے تھا
سلک _ ہستی سے اگر روٹھ گیا در _ جمال
سنگ _ دشنام پرونا تو نہیں چاہیے تھا
تو تو بچھتی ہی چلی جاتی ہے اے سادہ نگار
ڈھانپ خود کو کہ بچھونا تو نہیں چاہیے تھا
خود کشی بنتی ہے لیکن ہمیں بزدل ہیں کہ زیست
بار _ بے کار ہے ڈھونا تو نہیں چاہیے تھا
تو تو سچ مچ میں غزل کی کوئی انگڑائی تھی
تجھے آغوش میں ہونا تو نہیں چاہیے تھا
حیف ہے سلسلہ ء جبر میں شامل ہوں میں
تخم _ ہستی مجھے بونا تو نہیں چاہیے تھا
کم نگاہی میں سماتی ہی نہیں قامت _ خوش
اے زمانے تجھے بونا تو نہیں چاہیے تھا
عشق کا داغ کہاں چھوڑ کے جاتا ہے تراب